Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بیٹا اٹھ گئے صائمہ بیگم نے روم میں آکر کہا پر سامنے بلال کا چہرا دیکھ کر ان کو ہنسی آگئی ہاہاہا یہ کیا بنایا ہوا ہے فیس پر صائمہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا،
ماما یہ سارا کے کام ہیں بلال نے بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے کہا اس نے میرے چہرے پر ڈرائنگ کی ہے اب بتاؤں کیسا لگ رہا میں بلال نے صائمہ بیگم کے سامنے آکے سٹیچو بن کر کہا،
ہاہاہا بلال بہت برے لگ رہے ہو جاؤں نہاں کے آؤ میں ناشتا بناتی ہوں میں نے سارا کو تمہیں جگانے بھیجا پر اب مجھے لگ رہا ہے وہ بھی بلکل تم جیسی ہے صائمہ بیگم ہنستے ہوئے روم سے چلی گئی،
بلال بھی مسکراکے واش روم میں آ گیا واقعی وہ بھی سب کو ایسے ہی تنگ کرتا ہے،
بلال نہاں کے تیار ہوکے نیچے آیا سارا سامنے ہی ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتا کر رہی تھی،جن سب بچوں کو ان لوگوں نے بچایا سب ہی اپنے ماں باپ کے پاس جاچکے تھے پر سارا کو لینے کوئی نہیں آیا تھا نا کسی نے سارا کے لیے رابتا کیا تھا،
بلال نے پیار سے سارا کو دیکھا اتنی پیاری بچی کس کی ہوسکتی ہے بلال اس کے پاس بیٹھ گیا،بلال کے بیٹھتے ہی سارا نے اپنے دونوں کان پکڑ لیے،
سوری بھیا!!!!!سارا نے اتنے پیار سے کہا بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی انٹی نے کہا اچھے بچے تنگ نہیں کرتے میں نے آپ کو تنگ کیا نا اس لیے بلال کے ایک ٹک دیکھنے پر سارا نے اپنے سوری بولنے کی وضاحت دی،
کوئی بات نہیں چھوٹی گڑیا آپ سے کچھ سوال پوچھوں گا اس کے آپ جواب دوگی نا بلال نے پیار سے سارا کے گال کھنچتے ہوئے کہا،سارا نے فوراً ہاں میں سر ہلایا،
گڑیا آپ کا نام سارا ہے پر آپ کا پورا نام کیا ہے بلال نے ناشتا کرتے ہوئے پوچھا،میرا پورا نام سارا ہی ہے،
اچھا میرا مطلب ہے بیٹا آپ کے پاپا کا کیا نام ہے بلال نے ایک اور سوال کیا،پاپا کا نام تو مجھے نہیں پتا سارا نے عام سے لہجے میں کہا اور ناشتا کرنے لگی،
اچھا بیٹا ماما کا پتا ہے سارا نے نفی میں سر ہلایا بیٹا کسی کا نام تو پتا ہوگا نا آپ کو کوئی تو ہوگا جس کے ساتھ آپ رہتی ہوگی بلال نے سارا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
سارا کا ناشتا کرتا ہاتھ رک گیا اس نے جب بلال کی طرف دیکھا تو بلال کو اس کی آنکھوں میں خوف صاف نظر آیا،نہیں مجھے کسی کا نام نہیں پتا سارا بولتے کے ساتھ ہی اٹھ کے اندر بھاگ گئی،
بلال نے حیرت سے اسے دیکھا بلال کو صاف نظر آرہا تھا سارا جھوٹ بول رہی پر سارا جھوٹ کیوں بول رہی ہے بلال نے خود سے سوال کیا،
ٹرن___ٹرن بلال نے ہاتھ بڑھا کے فون اٹھایا بلال تیار ہوجا کہی جانا ہے فون میں سے حیدر کی آواز آئی،
ابھی کہاں جانا یونیفارم پہن کر آؤ بلال نے اس سے پوچھا،نہیں عام لباس میں اور سن کچھ چیزے ساتھ لے لینا کچھ کپڑے وغیرہ باقی سب ڈٹیل مل کے بتاؤ گا حیدر نے بول کے فون رکھ دیا،
اب اسے تیاری کرنی تھی اس نے جلدی سے ناشتا ختم کیا اور سارا سے کبھی اور بات کرے گا سوچ کر اپنے روم میں چلا گیا
************
ایک دم سے دروازا کھولنے پر دعا اپنے پلنگ سے اٹھ کے بیٹھ گئی،اس نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں چاچی کھڑی تھی،
اے لڑکی تجھے میں نے کرایا لینے بھیجا تھا تو یہاں کمرا بند کرکے آنسوں بہاں رہی ہے چاچی نے اندر آتے ہی دعا کے بال مٹھی میں پکڑے جس سے دعا کے چہرے پر درد کے آثار نمایا ہوئے،
دعا نے اپنے بال چھوڑواتے ہوئے سامنے کی طرف اشارہ کیا،چاچی نے اس کے اشارہ کرنے پر وہاں دیکھا تو اسے نوٹ بوک نظر آئی،
اے لڑکی تجھے پتا ہے مجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا تیرے چاچا نے تجھے دس جماعت کیا پڑھا دی خود کو پڑھی لیکھی سمجھنے لگی،چاچی نے اس کے بال چھوڑتے ہوئے اسے دور دھکا دیا
دعا جلدی سے نوٹ بوک کے پاس آئی اس میں سے سو سو کے کچھ نوٹ نکال کے چاچی کے آگے کیے،آئندہ اگر کرائے کے پیسے لائے تو سیدھے میرے کمرے میں دے کے جانا دعا سے نوٹ جھپٹ کے چاچی کمرے سے باہر چلی گئی،
دعا نے نم آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا اب وہ کیا بتاتی کے وہ جب پیسے دینے آئی تو چاچی سو رہی تھی اگر چاچی کو نیند سے اٹھا دیتی تب بھی یہی سب ہوتا جو اب ہوا تھا،پر وہ تو وضاحت بھی نہیں دے سکتی تھی
***************
حیا گرین ٹی بنا کے کشماکش میں شکار تھی اندر جائے یا نہیں اس نے ہمت کرکے اندر قدم رکھا،پر خالی روم دیکھ کے اس کی جان میں جان آئی لگتا ہے واشروم میں ہیں حیا نے واشروم کے گیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے گرین ٹی سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا
ان کے آنے سے پہلے باہر چلی جاتی ہوں یہ سوچتے ہی اس کا رُخ دروازے کی طرف تھا،کہاں جارہی ہو
جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچی روہان کی بھاری آواز اس کے کان میں پڑی اس نے ڈرتے ڈرتے موڑ کے دیکھا،وہ—روم میں حیا نے انگلی سے برابر والے روم کی طرف اشارہ ایسے کیا جیسے کوئی بچا شرارت کرتا ہوا پکڑا گیا ہوں
آج اسی روم میں سوجاؤ کل اس روم میں بیڈ لگوا دونگا روہان نے نارمل سے انداز میں کہا اور بیڈ پر بیٹھ کر گرین ٹی پینے لگا پر سچ تو یہ تھا کے اسے بھی حیا کا خیال تھا،کیا ہوا اب تک کیوں کھڑی ہو روہان نے حیا کی طرف دیکھا جو اب بھی حیرت میں تھی،
وہ__میں کہاں پر سوں۔۔۔۔۔ حیا نے آدھی بات بول کے سر جھکالیا،کیوں کے روہان بیڈ پر بیٹھا تھا،اور اس روم میں ایک سوفا تک نہیں تھا،
روہان نے چارو اور نظر دوڑائی پھر اسے کل رات کا منظر یاد آیا جب اس نے حیا کو سوفے پر سونے کو کہا تھا کل کی نسبتاً آج روہان کا موڈ ٹھیک تھا،اس نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ شادی بھی کرے گا شادی سے ہمیشہ اسے نفرت رہی ہے پر فاروق صاحب کے اسرار پر اسے شادی کرنی پڑی جس کا غصہ اس نے آدھی رات کو گھر سے نکل جانے پر نکالا اس لیے اب وہ کافی حد تک ٹھیک تھا،
یہاں سو گی اور کہاں روہان نے بیڈ کی طرف اشارہ کرکے تھوڑے سخت لہجے میں کہا اسے پتا تھا حیا اس کے غصے سے ڈرتی ہے،
حیا آرام سے چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آکے بیٹھ گئی کہی روہان غصہ ہی نہ کردے جب تک روہان گرین ٹی پی کر خالی کپ سائڈ ٹیبل پر رکھ چکا تھا،
کیا دیکھ رہی ہو مجھے سوجاؤ روہان نے حیا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے ٹوکا،حیا نے نظرے جھکاکے جلدی سے بیڈ کے دوسری طرف لیٹ کے آنکھیں بند کرلی روہان نے حیرت سے حیا کی یہ حرکت دیکھی اسے یہ لڑکی پل پل حیران کرتی تھی،
روہان نے سر جھٹک کے روم کی لائٹ اوف کی،پلزلائٹ بند نہیں کریں حیا ایک دم ڈر کے اٹھ کے بیٹھ گئی،
مجھے نیند نہیں آتی لائٹ بند کیے بغیر اب تم سوجاؤ روہان بول کے کروٹ بدل کے لیٹ گیا،پر حیا کو آندھیرے میں کچھ نظر نہیں آیا اوپر سے ڈر سے برا حال تھا،
حیا ڈرتے ڈرتے واپس لیٹ گئی پر اس کا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا،اس نے کروٹ بدل کے روہان کو دیکھا جو شاید سوچکا تھا،وہ تھوڑا سا سرک کے روہان کے پاس ہوگئی پر روہان اب بھی نیند میں تھا،
وہ ڈرتے ڈرتے تھوڑا پاس ہوئی اور روہان کے ہاتھ پر سر رکھ کے اس نے آنکھیں موند لی اس وقت روہان کے غصے سے ذیادہ اس پر آندھیرے کا ڈر غالب تھا،
حیا کے آنکھیں بند کرتے ہی روہان نے آنکھیں کھول لی وہ آنکھیں بند کیے حیا کی ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا،حیا گھری نیند میں سوچکی تھی پر روہان کی نیند اب اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی،
روہان چاہ کر بھی حیا کو خود سے دور نہیں کر سکا حیا کی معصومیت اس کا بھولا پن اس کی معصوم حرکتیں،حیا کے چہرے کی طرف دیکھتے دیکھتے روہان کی کب آنکھ لگی اسے معلوم نہ ہوسکا،
******************
ہم ٹرین سے جائے گے بلال نے اسٹیشن پر پہنچ کر حیدر سے پوچھا حیدر نے اسے سیدھا یہی بلا لیا تھا،
ہاں جس گاؤں میں ہمیں جانا وہاں پہلے ٹرین سے جانا ہوگا حیدر نے بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا بلیک کلر کی پینٹ شرٹ پہنے ماتھے پر بکھرے بال چہرے پر سنجیدگی بلال نے رشک سے اپنے دوست کو دیکھا،
اس کے بعد پھر ایک بس میں بیٹھنا ہوگا تب جاکے وہ گاؤں آئے گا صمد نے اپنا بیگ کندھے سے نیچے رکھتے ہوئے کہا،
یہ بھی جائے گا بلال نے مسکرا کر صمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا،ہاں بھئی جب گاؤں گھومنے کا پلین ہے تو میں کیوں نہیں جاؤں گا صمد نے بھی مسکرا کے جواب دیا،
ٹرین کے بعد بس سے بھی سفر کرنا ہے بلال نے بیزاری سے کہا، ہاں ہو سکتا ہے اس کے بعد بیل گاڑی میں بھی بیٹھنا پڑے احمد نے ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے سامنے سے آتے ہوئے کہا،
اب یہ بھی جائے گا بلال نے احمد کو دیکھ کے فوراً منہ بنایا، کیوں تجھے کیا لگا تو اکیلا جائے گا حیدر کے ساتھ احمد نے پانی کی بوتل حیدر کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا جو وہ کچھ دیر پہلی لینے گیا تھا،
پر تو بیمار تھا نا کندھے پر سے گولی چھو کے گئی تھی بلال کی نظر اس کے کندھے کی طرف تھی جو جیکٹ سے ڈھکا ہوا تھا،ہاں اب میں ٹھیک ہوں معمولی سا زخم ہے یہ تو شیر کو کچھ نہیں ہوتا احمد نے اپنی کالر کھڑی کرتے ہوئے کہا،
ہاں بس بخار ہو جاتی ہے بلال نے فوراً اس پر طنز کیا کیوں کے دو دن سے اسے تیز بخار تھی، وہ تو شیر کو بھی ہو جاتی ہے احمد نے جلدی سے کہا ہاہاہا پر صمد اپنا قہقہ نہیں روک سکا،
تجھے بڑی ہنسی آرہی ہے احمد نے صمد کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی،لڑائی بعد میں کرنا ٹرین آگئی اب چلو حیدر نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا،
صمد نے بھی اپنا بیگ کندھے پر لیا صمد اور حیدر آگے بڑھ گئے بلال نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے احمد کو دیکھا جو ایک ہاتھ سے بیگ اپنے کندھے پر ڈھالنے کی کوشش کر رہا تھا پر اسکے چہرے پر درد کے آثار تھے،
لا مجھے دے بلال نے ایک کندھے پر اپنا بیگ ڈھالا دوسرے پر احمد کا بیگ،میں اٹھا لوگا مجھے واپس دے بیگ احمد نے بلال کے پیچھے آتے ہوئے کہا جو بیگ پکڑے آگے جارہا تھا،
شیر بیگ نہیں اٹھاتے بلال نے اسے چھڑتے ہوئے کہا جب کے اس کی بات پر احمد کا منہ بن گیا اب کیا وہ شیر جیسا نہیں تھا جو بلال اسے بار بار چھیڑ رہا تھا،
میں شادی کروگی تو بس فوجی سے بلال اور احمد ٹرین میں چڑھ رہے جب ان کے کان میں ایک لڑکی کی آواز آئی،
کیوں فوجی میں کیا بات خاص ہوتی اس کے مقابل بیٹھی لڑکی نے پوچھا،احمد اور بلال کے کان ان دونوں کی باتوں پر ہی تھے،
یہاں رکھ دو سامان حیدر کی آواز پر جلدی سے بلال اپنی سیٹ کے پاس آیا احمد بھی فوراً اس کے پیچھے آیا،بس یار مجھے نہ فوجی بہت اچھے لگتے اپنی ملک کے لیے ہر وقت لڑنے مرنے کو تیار اس لڑکی کی آواز آنا اب تیز ہوگئی،
بلال نے احمد کی طرف دیکھا احمد نے برابر والی سیٹ کی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو آواز وہاں سے آرہی ہے،اچھا کس ٹائپ کا فوجی پسند ہے تجھے دوسری لڑکی نے اس سے پھر سوال کیا،
یار اونچا لمبا قد ہو سمارٹ ہو خوبصورت ہو،وہ لڑکی جیسے جیسے بول رہی بلال کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ آگئی جسے احمد نے حیرت سے دیکھا اب اسے کیا ہوا،حیدر اور صمد آپس میں بات کرنے میں مگن تھے ٹرین چل چکی تھی،
تجھے کیا ہوا احمد نے بلال کو دیکھ کے پوچھا یار احمد تو میرا بھائی ہے نا جا میرے رشتے کی بات کرکے آ اس لڑکی سے بلال نے تھوڑا شرماتے ہوئے کہا،
تو پاگل ہے کیا خود تو پیٹے گا مجھے بھی پٹوائے گا احمد نے اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا،
اچھا سیلری کتنی ہونی چاہیے مقابل بیٹھی لڑکی کو سوالوں کا بہت شوق تھا اس نے ایک اور سوال کر ڈھالا بلال کے کان بھی کھڑے ہوگئے،
یار پانچ لاکھ تو ہو کم سے کم اس لڑکی نے بلکل آرام سے کہا،احمد نے بلال کی طرف دیکھا بلال نے احمد کی طرف،
ہاہاہا احمد ہنستا ہنستا سیٹ سے نیچے گر گیا تجھے کیا ہوا حیدر نے حیرت سے احمد کو دیکھا جو سیٹ سے نیچے گرے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس رہا تھا،
اسے کیا ہوا ہے اب حیدر نے بلال سے پوچھا جو منہ بنا کے بیٹھا تھا،میں بتاتا ہوں احمد ایک دم کھڑا ہوگیا اور اپنے ہونٹوں کو بھینچ کے اپنی ہنسی کو روکا،رشتا ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا،احمد بولتے کے ساتھ ہی واپس ہسنے لگا بس بلال کی برداشت یہاں تک ہی تھی،
بہت ہنسی آرہی ہے تجھے بلال نے رکھ کے ایک مقہ اس کے چہرے پر مارا اب حال یہ تھا دونوں ایک دوسروں کو مار رہے تھے حیدر نے بیزاری سے دونوں کو دیکھا یہ نہیں سدھرے گے جب کے صمد ان کی لڑائی انجوئے کرتے ہوئے نارے لگا کر کبھی بلال کی تو کبھی احمد کی حوصلہ افضائی کر رہا تھا،
حیدر نے صمد کو گھورا اس کے بعد ان دونوں کو الگ کیا مطلب سب پاگل میرے ساتھ حیدر دل میں سوچ کے رہ گیا،
******************
حیا کی آنکھ کھولی تو وہ اب تک روہان کے حسار میں تھی حیا نے مندی مندی آنکھوں سے دیکھا روہان گھری نیند میں تھا اس کا ایک ہاتھ حیا کے سر کے نیچے تھا اور ایک حیا کے اوپر،
اللّٰه جی اتنا بھاری ہاتھ حیا نے روہان کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی پر روہان کا بھاری ہاتھ اُٹھانا حیا جیسی نازک لڑکی کے بس کی بات نہیں تھی،
روہان نے آنکھیں کھول کے دیکھا حیا اپنی پوری جان لگا کر بھی روہان کا ہاتھ نہیں ہٹا پارہی تھی نیندوں میں روہان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی،
روہان نے واپس آنکھیں بند کرکے ہاتھ ہٹا کے دوسری طرف کروٹ ایسے لی جیسے گھری نیند میں ہو،اوف شکر ہاتھ ہٹا لیا ورنہ میری نماز نکل جاتی حیا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے سوچا،
نماز پڑھ کے حیا واپس آئی اب روم میں رات کی نسبت آندھیرا کم تھا سورج طلوع ہوگیا تھا پر کھڑکیوں پر گرے پردے اب بھی رات کا منظر پیش کر رہے تھے،
اب مجھے واپس نیند نہیں آئے گی کیا کروں حیا کو نماز کے بعد روز صبح چائے پینے کی عادت تھی چائے کا خیال آتے ہی حیا دروازے کے پاس آگئی اس نے آرام سے دروازا کھولنا چاہا پر یہ کیا یہ تو لاک ہے حیا نے پریشانی سے دروازے کو دیکھا،
اوف یہ کیسے کھولے گا حیا نے ہر طریقہ آزما لیا پر لاک تھا کے کھول ہی نہیں رہا تھا کیا پتا اس کی کوئی چابی ہو جو ان کے پاس ہو یہ سوچ کے وہ روہان کے پاس آئی،
اس نے آرام سے روہان کے برابر والی دراز کھولی پر اس میں بھی چابی نہیں تھی اب اس نے آرام سے روہان کے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈھالا،
کیا کر رہی ہو روہان نے ایک دم حیا کا ہاتھ پکڑا،وہ__وہ دروازا نہیں کھول رہا حیا نے جلدی سے دروازے کی طرف انگلی کرکے کہا اس کی آنکھوں میں پانی آگیا روہان کے غصے کے خوف سے اس کے ہاتھ بھی کانپنے لگے،
اچھا تو یہاں کیا کر رہی ہو روہان نے اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ محسوس کرکے اس بار تھوڑا آرام سے کہا،حیا جب سے اٹھ کے گئی نیند اسے بھی نہیں آئی تھی کیونکہ وہ خود جلدی اٹھتا تھا اسے اس ٹائم جوگنگ پر جانا ہوتا ہے پر وہ اٹھنے کی جگہ لیٹے لیٹے حیا کی ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا،
آپ ڈانٹوں گے تو نہیں حیا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے روہان کی طرف دیکھا ہاتھ اس کے اب بھی کانپ رہے تھے،جو اب تک روہان کے ہاتھ میں تھے،
روہان بس یک ٹوک حیا کو دیکھ رہا تھا روہان کی طرف سے جواب نا پاکے حیا نے پھر بولنا اسٹارٹ کیا،وہ__میں باہر جارہی تھی اس ٹائم روز میں چائے بناتی ہوں اس لیے حیا نے بول کے چہرا جھکا لیا،
روہان نے بغیر کچھ کہے حیا کا ہاتھ چھوڑا اور جاکے دروازا کھول دیا حیا نے حیرت سے روہان کو دیکھا جس نے کسی بھی چابی کےبغیر آرام سے دروازا کھول لیا تھا،
یہ آپ نے کیسے کھولا آپ مجھے بھی سکھاؤ گے حیا نے ایک دم دروازے کو ہاتھ لگا کے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا،روہان نے حیرت سے اسے دیکھا اس بار حیا نے بغیر رکے چہک کے کہا تھا،ورنہ اب تک وہ جس طرح روہان کے سامنے بولتی تھی روہان کو یہی لگا یہ اٹک اٹک کر بولتی ہے،
نہیں تمہیں جانا ہے نا نیچے جاؤ ورنہ میں واپس بند کر دونگا روہان نے سخت لہجے میں کہا پتا نہیں اس لڑکی کے ساتھ رہ کے اسے کیا ہوتا جا رہا تھا کیا یہ لڑکی اس پر جادو کر رہی تھی،روہان کے واپس روڈ انداز میں کہنے پر حیا بغیر روہان کی طرف دیکھے باہر کی طرف بھاگ گئی،
حیا جیسے ہی روم سے باہر آئی اسے اپنے پیچھے سے تیز دروازا بند کرنے کی آواز آئی اس نے نم آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا،
جب وہ لندن آرہی تھی اس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا کے روہان اس کے ساتھ پتا نہیں کیا کرے گا پر صبح جب اس کی آنکھ کھُلی روہان کے حسار میں اس نے خود کو ہر طرح سے محفوظ پایا،پر روہان کا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا
********
ہائے تھک گیا میں تو بلال نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا پہلے ٹرین کا سفر پھر بس کا اب جاکے وہ لوگ گاؤں پہنچے تھے،
کیوں تو خود گاڑی چلا کر لایا ہے کیا جو تھک گیا احمد نے اپنے شوز کھولتے ہوئے کہا اس وقت بلال اور وہ ایک ہی روم میں موجود تھے،
تو ایسا کر جاکے سب کے لیے چائے بنا بلال نے کونی بیڈ پر رکھ کے ہاتھ پر تھوڑی کو رکھتے ہوئے تھوڑا اونچا ہوتے ہوئے احمد کی طرف دیکھا،
تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے میں بھی تیرے ساتھ ہی سفر کر کے آیا ہوں احمد کا دل کیا یہ جوتا اٹھا کے اس کے سر پر مارے جو مزے سے بیڈ پر لیٹ کے اس پر حکم چلا رہا تھا،
اچھا جی تو آپ تھک گئے کیونکہ آپ میرے ساتھ آئے ہو تو کیا میں نہیں تھکا جس نے تیرا بیگ بھی اٹھایا بلال نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے مصنوعی غصے سے کہا،
میں نے کہا تھا میرا بیگ اٹھا تجھے خود شوق ہوا تھا بیگ اٹھانے کا احمد نے سوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے مزے سے کہا،اور اپنے بیگ کھول کے کچھ ڈھونڈنے لگا،
بلال نے غصے سے اسے گھورا اور واشروم میں فریش ہونے چلا گیا،احمد نے ایک نظر اسے دیکھا اور واپس اپنے کام میں مشغول ہوگیا،
اوے میرے بیگ میں سے وہ غائب ہے جلدی بتا کہا ہے بلال کے واشروم سے آتے ہی احمد اس کے سر پر جاکے کھڑا ہوگیا،
کیا وہ مجھے کچھ نہیں پتا تو کس بارے میں بات کر رہا بلال نے بلکل معصوم چہرا بنا کر کہا ،تو جھوٹ بول رہا مجھے پتا ہے تیرے پاس ہی ہے سچ بتا کہا ہے کہی تو اسے__ اس سے آگے احمد بول نا سکا بلال کا نظر چرا کر وہاں سے جانا صاف بتا رہا تھا کے یہ اسی کا کام ہے،
تو ایسا کیسے کر سکتا احمد کا مانوں سدمے سے برا حال تھا،بلال بتا کہا ہے احمد نے غصے میں اس کا بازوں پکڑا،
مجھے نہیں پتا جب بول دیا ایسے ہی الزام لگا رہا ہے تجھے اپنے دوست پر یقین نہیں ہے بلال نے اپنا ہاتھ چھوڑوا کر غصے سے کہا،
کیوں لڑ رہے تم دونوں حیدر نے اندر آتے ہوئے دونوں کو دیکھا،دیکھ حیدر اس نے میرے بیگ سے ___ایک منٹ ایک منٹ صمد نے اندر آتے ہوئے احمد کی بات بیچ میں کاٹی اور جلدی سے اندر آکے سوفے پر بیٹھ گیا ہاں اب بولوں اس نے چہرا اپنے ہاتھ پر رکھتے ہوئے احمد کو دیکھ کر کہا،
یہاں اتنا سریس ٹاپک چل رہا اور تو مزا لینے آیا ہے یہاں چل باہر جا احمد نے غصے سے کھا جانے والی نظروں سے صمد کو دیکھا،
یہ کہی نہیں جائے گا یہی بیٹھے گا اور دیکھے گا اس کے بھائی پر کیسے کیسے الزام لگائے جارہے ہیں بلال نے صمد کو واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا جو کھڑا ہوچکا تھا،
تم دونوں بعد میں لڑ لینا ابھی وجہ بتاؤ کیوں بھث کر رہے ہو حیدر نے بیزاری سے کہا ان کے روز روز کے جھگڑے سے وہ تنگ ہو گیا تھا،
حیدر اس نے میرے بیگ میں سے وہ نکالا اور مان بھی نہیں رہا احمد نے غصے سے بلال کو دیکھا حیدر نے اب بلال کی طرف دیکھا،
حیدر یہ جھوٹ بول رہا میرا معصوم چہرا دیکھ کیا میں ایسا کر سکتا بلال نے احمد کو دیکھتے ہوئے بولتے بولتے واپس حیدر کی طرف دیکھا،جو اسے ہی گھور رہا تھا،
احمد اب چپ چاپ کھڑا تھا اسے پتا تھا اس کا فیصلہ سہی بندے کے پاس گیا ہے اسے انصاف ضرور ملے گا، حیدر تو ایسے کیوں دیکھ رہا کیا میں ایسا کر سکتا بلال نے معصوم شکل بنا کر کہا پر حیدر بغیر کچھ بولے اب بھی اسے گھور رہا تھا،صمد کبھی حیدر کو دیکھے کبھی بلال کو اب تو اسے بھی بلال پر ترس آرہا تھا،
حیدر تو ایسے نہیں دیکھ بلال نے تھوڑا ڈرتے ہوئے کہا،حیدر نے اپنے ہاتھ آگے کی طرف باندھ کے اسے دیکھنا جاری رکھا،ہاں ہاں میں نے نکالا تھا بس بلال بول کے بیڈ پر بیٹھ گیا صمد کا سدمے سے منہ کھولا کا کھولا رہے گیا،
تو بتا کہا پر ہے میرا چپس کا پیکٹ احمد نے ایکدم بلال کو پکڑ کے کھڑا کیا جب کے حیدر نے حیرت سے احمد کو دیکھا چپس کا پیکٹ واقعی،
ہاں چپس کا پیکٹ پچاس والی لیز کا پیکٹ تھا پورا بتا کہا ہے احمد حیدر کو جواب دے کر واپس بلال سے پوچھنے لگا،
میرے پیٹ میں ہے جب ٹرین میں تو سو گیا تھا تب مجھے بھوک لگ رہی میں نے کھالی بلال نے بیچارگی والا چہرا بنایا،
حیدر تو اسے کچھ بول نہیں رہا احمد نے بول کے حیدر کی طرف دیکھا جو دونوں کو غضب ناک طریقے سے دیکھ رہا تھا،حیدر نے آگے بڑھ کے بلال کو مکا مارا،
یہ ہوئی نا بات حیدر شاباش اور کھا چپس کسی اور کی احمد تو خوش ہی ہوگیا حیدر نے احمد کی طرف دیکھا پھر ایک مکا رکھ کے اسے مارا احمد نے منہ پر ہاتھ رکھ کے حیرت سے حیدر کو دیکھا مجھے کیوں مارا،
صمد ہنس ہنس کے سوفے سے نیچے گر چکا تھا پر دونوں کو مکا پڑتے دیکھ اس نے اپنے ہونٹ بھینچ کے اپنی ہنسی کو روکا،حیدر دنوں کو مار کے جاچکا تھا،
ہاہاہا اور بول حیدر کو پڑی نا مار بلال نے چڑانے والے انداز میں ہنستے ہوئے کہا اسے خود کو پڑنے والے مکے کے غم سے ذیادہ احمد کو پڑنے والے مکے کی خوشی تھی،
پر مجھے کیوں مارا احمد نے حیرت سے بولتے ہوئے صمد کی طرف دیکھا جو احمد کی شکل دیکھ کے اپنا قہقہ نہیں روک سکا ہاہاہا صمد ہنستا ہوا واپس باہر چلا گیا،
بلال ہنستے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا تھا اب اسے نیند کی ضرورت تھی،مجھے کیوں مارا احمد اب بھی خود سے یہی سوال کر رہا تھا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *