Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارے میں کیوں چپ ہوں دیکھ لو منشی تم بھی اپنے آنکھوں سے اس بد کردار لڑکی کو جبھی تم لوگوں کو ساتھ لائی میں کہتی تو سب کہتے بن ماں باپ کی بچی پر الزام لگا رہی ہوں،چاچی نے اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو دیکھ کے کہا جو نفرت سے دعا کو دیکھ رہا ہمیں تو ہاتھ بھی پکڑنے نہیں دیتی تھی اتنی نیک بنتی تھی،اس آدمی نے نفرت سے سوچا،
لفظ لڑکی پر بلال نے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا کوئی لڑکی تھی کالی چادر میں جس نے اب اپنا چہرا چادر سے ڈھاکا ہوا تھا یہ لوگ اس پر الزام کیوں لگا رہے بلال نے اپنے چاروں اور دیکھا میں اس وقت اپنے روم میں ہوں یہ لوگ کہاں سے آگئے،بلال کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا،
حیدر احمد اور صمد نے ان لوگوں کو بہت مشکل سے چکما دیا اور گھر کی طرف آئے،شکر ہماری شکلیں نہیں دیکھی ان لوگوں نے احمد نے حیدر کی طرف دیکھا،حیدر نے انہیں ساری بات بتائی کے ان لوگوں کا کیا ارادہ ہے،
اگر ایسا تھا تو سالو کو وہی پکڑ کے جان سے مار دیتے بھاگے کیوں احمد نے حیرت سے حیدر سے سوال کیا،کیوں کے سر کے آرڈر نہیں ہے ہمیں بس ان پر نظر رکھنی تھی میں نے ان کو یہ وڈیو بھیج دی ہے،اب دیکھے ان کا کیا جواب آتا ہے آگے کیا کرنا حیدر ان سے بات کرتے ہوئے گھر کی طرف جا رہا،
پورا دن گزر گیا سورج بھی اپنے گھر کو جا چکا ایک ہم ہی گاؤں کی گلیوں میں اب تک گھوم رہے صمد نے بھی گھر کی طرف جاتے ہوئے کہا،
ہاں یار اندازا نہیں تھا اتنی دیر ہو جائے گی اوپر سے بلال کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،احمد نے صمد کی طرف دیکھا جب انہیں اپنے گھر کے باہر بہت سے لوگ نظر آئے،
احمد نے حیدر کو دیکھا حیدر نے بھی ان کی طرف دیکھا کہی بلال کو تو کچھ اس سے زیادہ وہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہ تیزی سے لوگوں کو سائڈ میں کر کے اندر بڑھے،سامنے ہی روم میں بلال کھڑا تھا جس کا چہرا اس وقت غصے سے سرخ ہو رہا تھا،
بلال تو ٹھیک ہے حیدر جلدی سے اس کے پاس آیا اور یہ سب لوگ یہاں کیا کر رہے احمد نے سب کی طرف دیکھا ایسا لگتا تھا اس وقت پورا گاؤں ان کے گھر میں موجود ہے،
ارے یہ کیا بتائے گا میں بتاتی ہوں یہ لڑکا میری بھتیجی کے ساتھ ایک کمرے سے پکڑا گیا ہے اس بات کا گواہ پورا گاؤں ہے چاچی نے اپنے پان کی پیپ سائڈ میں تھوکتے ہوئے کہا،
آپ زرا زبان سنبھال کر بات کرے آپ کو معلوم ہے آپ کس کے بارے میں بول رہی ہیں صمد نے غصے سے چاچی کو دیکھا،کس سے بات کر رہی ہوں بولو ہو گا امیر باپ کا بیٹا اپنے گھر میں پر اس گاؤں میں شریف لوگ رہتے ہیں،
اگر میں نے بتا دیا تو تم سب یہاں نظر نہیں آؤ گے احمد کی بات پر حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑا جس کا صاف مطلب تھا جو بول سوچ سمجھ کے بول،
جب میں نے کہہ دیا میں نہیں جانتا اس لڑکی کو کون ہے کہاں سے آئی ہے تو یہ عورت مجھ پر کیسے الزام لگا سکتی بلال نے چیختے ہوئے کہا اس کو دیکھ کے صاف معلوم ہو رہا تھا کے چاچی کی جگہ کوئی آدمی ہوتا تو بلال اس کی جان لے لیتا،
منشی بول تو نے دیکھا ہے اپنی آنکھ سے چاچی نے بلال کو گھور کر منشی کو دیکھا،ہاں ہاں چاچی ہمارے پاس آئی بہت پریشان تھی کے صبح سے دعا نہیں مل رہی اوپر سے بن ماں باپ کی بچی،میں اور چاچی اسے سب جگہ دیکھ رہے جب چاچی نے کہا کے ایک لڑکے کے ساتھ وہ اکثر گھومتی ہے وہ یہاں رہتا ہے ایک بار یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں،
ہم جب یہاں آئے طوبا طوبا یہ لڑکی بے حیا اس پر جھکی ہوئی اس سے آگے وہ بولتا حیدر نے ایک دم اس کا گریبان پکڑا میرے دوست کے اور اس لڑکی کے خلاف بکواس بھی کی تو جان لے لوگا حیدر نے دھاڑتے ہوئے کہا منشی بچارے کے تو پیر بھی کانپنے لگے،
منحوس لڑکی دیکھ لے تیری وجہ سے کیا کیا ہو رہا جہاں امیر لڑکا دیکھا تیری نیت خراب چاچی نے اپنی زبان سے زہر اگلنا بند نہیں کیا دعا کو ایسے لگا اس کے پیر میں جان نہیں چادر سے چہرا چھپائے وہ مسلسل رو رہی تھی وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کے تھک گئی پر چاچی چپ نا ہوئی،
وہ اپنی صفائی کیسے دے کیسے سب کو بتائے وہ بے قصور ہے،اگر تو نے اب میرے گھر میں اپنے گندے قدم رکھے تو تجھے جان سے مار دوگی چاچی نے نفرت سے کہا،اصل میں تو چاچی خود اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی،
آج صبح جب چاچی یہاں سے گزی اس نے تین دوستوں کو باہر جاتے ہوئے دیکھا اندر آکر اس نے دیکھا ایک سو رہا ہے اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا اس نے دعا کو جان کرکے یہاں بھیجا وہ اچھے سے جانتی تھی کسی بیمار کو دیکھ کے ہو ہی نہیں سکتا دعا اس کی خدمت نا کرے،
دعا کے جانے کے وہ تھوڑی دیر بعد آئی جب دعا سوپ لے کے اندر روم میں جا رہی تھی،وہ جلدی سے
منشی کے پاس گئی اس کے سامنے جھوٹا ناٹک کیا کے صبح سے دعا غائب ہے اس گونگی لڑکی سے جان چھڑوانے کا اتنا اچھا موقع ملا تھا وہ ہاتھ سے کیوں جانے دیتی،
دعا نفی میں سر ہلانے لگی اس نے چاچی کے پیر پکڑ لیے وہ کہاں جائے گی وہ تو کسی کو بھی نہیں جانتی چاچی کا گھر جیسا بھی تھا وہاں اس کی عزت تو محفوظ تھی چاچی نے اسے پیر سے ٹھوکر ماری،
اور تم لوگ بھی میرا گھر خالی کرو ایسے لوگوں کو میں اپنے گھر میں رہنے نہیں دوگی چاچی نے غصے سے سب کو دیکھا دعا تو زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا،
چلا یہاں سے اب مری رہے تو یہی چاچی نے دعا کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا،دعا نے دیکھا وہ اب تک ذندہ ہے اتنا سب ہو گیا اور وہ زندہ ہے کیسے،
رکو،سب گاؤں والے موڑ کے جانے لگے جب حیدر کی تیز آواز پر سب کو رکنا پڑا ہم یہاں سے جائے گے لیکن اس سے پہلے صمد اور احمد جاؤ مولوی کا انتظام کرو گواہ یہاں موجود ہیں حیدر نے سب کی طرف غصے سے دیکھا اگر اس وقت ان کے ہاتھ میں یہ مشن نا ہوتا تو وہ ان سب کو سیدھا کر دیتا،
احمد صمد اور بلال نے حیرت سے حیدر کو دیکھا تو مشعل کو بھول گیا جو ایسی لڑکی سے نکاح بلال نے نفرت سے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو زمین پر بیٹھی تھی جس کی وجہ سے اس پر الزام لگا تھا یقیناً پیسوں کے لیے یہ سب بلال نے دعا کو گھور کر حیدر کی طرف دیکھا،
نکاح میرا نہیں تیرا ہے جاؤ تم دونوں تیاری کرو احمد اور صمد فوراً باہر چلے گئے سب گاؤں والے حیرت سے اسے دیکھ رہے کون تھا یہ جس نے ایک جھٹکے میں اتنا بڑا فیصلہ کیا تھا بلال نے حیدر کو ایسے دیکھا جیسے اس نے غلط سنا ہو،
*************
تم بول کیوں نہیں رہی بولو نا تم مجھے چھوڑ کے نہیں جاؤ گی نا آنکھوں میں جنون لیے وہ اس سے سوال کر رہا تھا وہ تو روہان کا یہ روپ دیکھ کے اب تک حیران تھی،
لیلہ نے روم میں آکے اسے کھانا دیا اور چلی گئی جب اسے برابر والے روم سے کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی پہلا خیال ہی روہان کا آیا وہ ٹھیک تو ہیں اسی کو دیکھنے وہ یہاں آئی تھی پر روہان کے اس روپ کے بارے میں تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا،
میں تمہیں کہی جانے نہیں دونگا تم صرف میری ہو صرف روہان کی کھینچ کے وہ اسے اپنی بانہوں میں بھر چکا تھا حیا تو اب تک سدمے میں تھی پر روہان کی دل کی دھڑکن تیز تیز چلتی ہوئی وہ صاف سن سکتی تھی،
حیا نے ایک لفظ نہیں کہا روہان کی پکڑ سخت سے سخت ترین ہوتی گئی اس کی بانہوں میں وہ سلو سلو کانپنے لگی حیا کچھ بھی بول کے اسے اور تکلیف نہیں دے سکتی تھی میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دونگا کبھی نہیں اس کے بالو منہ دیے وہ بہت آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا پر اس کی پکڑ بہت سخت تھی،
اہ!!!!!حیا کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکل گئی اتنی زیادہ شدت برداشت کرنا اس جیسی نازک لڑکی کے بس کی بات نہیں تھی،کیا ہوا روہان نے ایک دم دور ہوکے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں درد کے آثار تھے وہ سلو سلو کانپ رہی تھی،
حیا نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا وہ اپنی تکلیف بتا کر اسے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی پر روہان اس کے چہرے پر درد کے آثار دیکھ سکتا تھا اسے اس معصوم سی لڑکی پر اور زیادہ پیار آیا،
روہان نے بغیر کچھ کہے اسے واپس اپنی بانہوں میں لے لیا پر اس بار بہت پیار سے بہت آرام سے حیا کا چہرہ سرخ ہو گیا اسے کہا عادت تھی روہان کے اس جان لٹانے والے انداز کی،
چھو____چھوڑے حیا نے سرخ چہرے کے ساتھ نظرے جھکائے کہا چھوڑے__مجھے بھوک___لگی ہے کافی دیر تک روہان نے اسے نہیں چھوڑا تو آخر حیا نے اسے اپنی بھوک کا بتایا اصل میں تو اسے یہاں سے بھاگنا تھا روہان کی اتنی شدت اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی،
روہان نے آرام سے اسے خود سے الگ کیا تم جاؤ فریش ہو جاؤ میں کھانا لاتا ہوں حیا نے حیرت سے اسے دیکھا یہ کیا بول رہے،ہاں جاؤ ایسے کیا دیکھ رہی،پر کھانا تو میرے روم میں رکھا ہے،
ہاں تو وہ ٹھنڈا ہوگیا میں دوسرا گرم کروا کر لاتا ہوں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے روم سے باہر لایا اور دوسرے روم میں اسے چھوڑ کے کھانے کی ٹرے اٹھائے باہر چلا گیا جب کے حیا اب تک حیرت سے دروازے کو دیکھ رہی تھی،
******************
یہ تو کیا بول رہا ہے نکاح وہ بھی میں کیا تجھے مجھ پر یقین نہیں ہے اس نے افسوس سے حیدر کی طرف دیکھا حیدر اس پر یقین نہیں کرے گا یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا،
اس وقت وہ اور حیدر کمرے میں موجود تھے دعا کو حیدر نے گاؤں کی عورتوں کے ساتھ دوسرے روم میں بھیجا تھا اور گاؤں کے سب مرد حضرات باہر بیٹھے تھے چاچی روم کے باہر یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی اس نے تو سوچا تھا اس لڑکی کو سب ذلیل کرے گے پھتر مار کے گاؤں سے نکال دے گے پر یہاں تو کچھ اور ہی ہو رہا ہے،
کس نے کہاں مجھے تجھ پر یقین نہیں ہے حیدر نے پاس آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،یقین اگر ہوتا تو اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرتا بلال نے غصے سے حیدر کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا اس وقت بخار اور غصے کی زیادتی سے اس کا چہرا سرخ ہو رہا تھا،
ماحول کو دیکھ کر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا تجھے پتا ہے جس مشن کی وجہ سے ہم یہاں آئے اس کے بارے میں ہمیں معلوم ہوگیا ہے یہ ویڈیو دیکھ حیدر نے موبائل میں ویڈیو لگا کر اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑایا،
یہ کیا یہ لوگ کیا کرنے والے ہے بلال نے ویڈیو دیکھنے کے بعد حیدر کی طرف دیکھا یہ لوگ جو بھی کرے گے بہت غلط ہونے والا ہے اس سے پہلے ہمیں اس کو روکنا ہے پر آج جو ہوا اس کی وجہ سے ہمیں گاؤں سے جانا ہوگا اور اگر ہم گئے تو انہیں کیسے پکڑے گے ہمیں کچھ بھی کرکے ایک دن اور یہاں رکنا ہے جنرل صاحب کے آرڈر ہے ہمیں کل تک ان لوگوں کو پکڑنا ہے حیدر نے ساری تفصیل بلال کو بتائی،
یہ سب ٹھیک ہے ہم کچھ اور بھی سوچ سکتے تھے یہاں رکنے کے لیے ضروری ہے میں اس لڑکی سے نکاح کروں جسے میں جانتا تک نہیں ہوں بلال کے چہرے پر ایک دم واپس غصّہ آیا سکون سے وہ لوگ مشن پورا کرکے یہاں سے چلے جاتے پتا نہیں کہاں سے یہ لڑکی اس کی زندگی میں ٹپک گئی،
ہاں نکاح ضروری ہے اگر ایسا نا ہوا وہ لوگ ہمیں تو یہاں سے نکالے گے ہی پر اس لڑکی کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گے،تو نے دیکھا نہیں کس حقارت سے وہ لوگ اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے حیدر نے بھی اس بار تھوڑا غصے سے کہا،
تو کس نے کہا تھا اسے کے میرے کمرے میں آئے کیا اسے نظر نہیں آیا میں اکیلا ہوں یہ شہر نہیں گاؤں ہے اس نے خود کچھ نہیں سوچا غلطی تو اس کی ہے،بلال نے بھی غصے میں کہا اس وقت وہ کہی سے بھی ہسنے ہنسانے والا بلال نہیں لگ رہا تھا،
وہ دیکھ وہ یقیناً تجھے سوپ پلانے آئی وہ برتن نہیں دیکھ رہے تجھے جو صبح تک یہاں نہیں تھے اور تجھے تو انڈا بھی ابالنا نہیں آتا اس لڑکی نے ہی بنایا ہوگا سوپ،حیدر کی تیز نظروں سے وہ برتن چھپے نہیں تھے،
تو نے بس وہ برتن دیکھے اور فیصلہ کردیا ہو سکتا ہے وہ لڑکی بھی اس عورت کے ساتھ ملی ہوئی ہو آج کل لوگ پیسے کے لیے کچھ بھی کرتے اس کی چاچی کو دیکھا اگر وہ ایسی تو یہ لڑکی بلال کی آواز میں اس وقت نفرت تھی اور پھر بھی تجھے اس لڑکی کی فکر تو احمد اور صمد میں سے کسی کے ساتھ کردے،غصے میں بلال جب بولنے لگا تو سب بھول گیا وہ کیا بول رہا ہے وہ اور بھی کچھ بولتا اگر پیچھے سے اسے حیدر کا تھپڑ نہیں لگتا تو اس نے پلٹ کے حیرت سے حیدر کو دیکھا،
شرم کر!!! ایسی بات کرنے سے پہلے سوچ ہی لیتا وہ لڑکی ان دونوں کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں سوالیہ نشان نہیں بنی تیرے وجہ سے بنی اب نکاح بھی اس کا تجھ سے ہوگا،
دیکھ حیدر ایسے تو،بلال اور بھی کچھ کہتا اس سے پہلے احمد اور صمد اندر آئے مولوی صاحب آگئے احمد نے حیدر کی طرف دیکھا
حیدر نے بلال کی طرف اشارہ کیا جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا،تیری شادی یے اور تو خوش ہونے کی جگہ غصے میں کھڑا ہے احمد نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اسے چھیڑا،
ہاں مجھے پتا ہے سب سے زیادہ تو ہی خوش ہو رہا ہوگا بلال نے اس کے کندھے پر مکا مارا ایسے موڈ میں اسے احمد کا مزاق حزم نہیں ہوا،
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتا ہے دل میں تیرے لڈو پھوٹ رہے ہیں احمد نے بھی اسے دھکا دیتے ہوئے کہا،تو کھالے یہ لڈو اتنا شوق تجھے بلال نے بھی اسے دھکا دیا،
جب کرنا بکواس کرنا اس بار احمد نے اس کے چہرے پر مکا مارا مطلب مزاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،صمد کو حیدر نے اشارہ کیا اور وہ دونوں باہر چلے گئے جب کے اندر ان کی لڑائی جاری تھی،
**************
دعا مسلسل رو رہی تھی اس وقت اسے اپنے ماں باپ بہت یاد آرہے تھے،سب گاؤں والے اسے حقارت سے دیکھ رہے تھے وہ اب تک زندہ کیوں ہے وہ مری کیوں نہیں دعا ان ہی سب سوچو میں تھی جب اس کے سر پر کسی نے ہاتھ رکھا،
رو نہیں !!!! مجھے اپنا بھائی سمجھو حیدر نے دعا کی طرف دیکھا یہ لڑکی بلکل اس کی حیا جیسی تھی اس لڑکی کو دیکھتے ہی اسے لگا یہ معصوم ہے اور معصوم لوگوں کے ساتھ غلط نہیں ہونا چاہیے
دعا نے نظر اٹھا کے دیکھا اس وقت مولوی صاحب کے علاؤہ ایک دو آدمی اور ساتھ تھے،مجھے اپنا بھائی سمجھو میں جانتا ہوں تم بے قصور ہو جیسے بلال کو میں جانتا ہوں وہ کتنا اچھا ہے،
دعا نے نا سمجھنے والے انداز سے حیدر کو دیکھا اس وقت رو رو کے اس کی ہچکی بندھ چکی تھی،
وہ اس کمرے میں جس کو آپ نے سوپ پلایا وہ بلال ہے میں حیدر اور یہ صمد ہم دونوں کو آپ اپنا بھائی سمجھو حیدر نے صمد کی طرف اشارہ کیا جو مولوی صاحب اور باقی سب سے باتوں میں مگن تھا،
ابھی آپ کا نکاح ہوگا بلال سے آپ کو اپنے بھائی پر یقین ہے نا حیدر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا اس وقت اس کی آواز میں شفقت اپنائیت کیا نہیں تھا،
نکاح کے لفظ پر دعا کی دونوں آنکھیں حیرت سے کھول گئی اس نے نا میں سر ہلایا اور ہاتھوں سے بتانے لگی اس نے کچھ نہیں کیا حیدر نے اس کا یہ انداز تھوڑا عجیب طریقے سے دیکھا،
کیا تم بول نہیں سکتی حیدر کے ایک دم سوال پر وہ چپ ہوگئی اس نے اپنے ہاتھوں کو نیچے کیا اور ہاں میں سر ہلایا،
اف حیدر نے ایک دم اپنے ہاتھ بالو میں پھیرے یہ لڑکی بول نہیں سکتی وہ اب تک صدمے میں تھا سر نکاح پڑھایا جائے صمد کی آواز پر حیدر اپنی سوچ سے باہر آیا اس نے اس لڑکی کو دیکھا جو اس کی گڑیا کی طرح معصوم تھی،
ہاں مولوی صاحب آپ نکاح پڑھائےحیدر نے دعا کے سر پر ہاتھ رکھا جب مولوی نے دعا سے سوال کیا اس نے نم آنکھوں سے حیدر کی طرف دیکھا حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب تھا میں تمہارے ساتھ ہوں دعا نے آنسوؤں سے بھرے چہرے سے ہاں میں سر ہلایا،
اب وہ لوگ بلال کے کمرے میں موجود تھے بلال کا چہرہ اس وقت سرخ تھا اور ایک دو جگہ سے سوجھا ہوا شاید یہ احمد کی مہربانی تھی،
بلال نے غصے میں ہی نکاح نامے پر سائن کیے اور وہاں سے اٹھ کے گھر سے باہر چلا گیا،
حیدر نے سب کو رخصت کیا ہم لوگ کل یہاں سے چلے جائے گے اب آپ جا سکتی ہو حیدر نے چاچی کی طرف سخت نظروں سے دیکھ کر کہا،اور دعا اب ہمارے ساتھ جائے گی کل اس کا سامان بھجوا دینا،
ہاں ہاں مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے ایسی لڑکی کو اپنے ساتھ رکھوں کہی بھی لے کر جاؤ میری بلا سے غصے میں کہتی ہوئی وہ گھر سے باہر چلی گئی حیدر نے اس کے پیچھے سے گیٹ بند کیا،
*****************
روہان کا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا کبھی اتنا غصہ کرتے ہیں کبھی اف حیا کو سوچ کے ہی جھرجھری آگئی،اس نے خود کو آئینے میں دیکھا میرے گال اتنے سرخ کیوں ہورہے اس نے اپنے گالوں کو ہاتھ لگایا ابھی وہ اپنے روم میں ہی تھی روہان نے اس کے ساتھ کھانا کھایا پھر اسے ایک کال آئی وہ کہی چلا گیا،
وہ بیڈ پر آکے لیٹی پتا نہیں وہ ایسے کیوں کر رہے تھے اس کے زہن میں اب تک روہان کا رویہ ہی گھوم رہا تھا جو ہر روز اپنے بھیا کو یاد کرتے کرتے سوتی تھی آج اس کے ذہن میں صرف اور صرف روہان تھا اسے پتا نہیں لگا کب وہ اسے سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں چلی گئی،
ضروری کام ختم کرکے وہ گھر آیا تو کافی دیر ہوگئی تھی اس نے اپنے روم میں قدم رکھا خالی روم نے اس کا استقبال کیا اس نے چاروں اور دیکھا وہ کہی نہیں تھی روہان کے ماتھے پر بل آئے فریش ہو کر وہ خود کو کافی بہتر محسوس کر رہا تھا،
اس نے آرام سے حیا کے روم میں قدم رکھا لائٹ جل رہی تھی اسے پتا تھا یہ لڑکی آندھیرے سے ڈرتی ہے،وہ قدم قدم چل کر بیڈ کے پاس آیا اس نے بیڈ کی طرف دیکھا چہرے پر معصومیت لیے وہ گھری نیند میں تھی،
آرام سے وہ اس کے پاس بیٹھا کیا تھی یہ لڑکی جسے کل تک کسی کی فکر نہیں تھی کسی کا خیال نہیں تھا اب وہ ہر وقت اسے سوچنے لگا تھا اسے کھونے سے ڈرنے لگا تھا اس نے آرام سے حیا کے چہرے سے بال ہٹائے پر شاید اس کی نیند بہت گھری تھی وہ تھوڑا سا بھی نا ہلی روہان نے اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا
یو ار مائن!!!! روہان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی وہ اسے کہی نہیں جانے دے گا پاکستان تو بلکل نہیں جہاں اس کی ایسی بھابھی ہے روہان اس کے چہرے کو پیار سے دیکھ رہا تھا جب حیا نے آرام سے کروٹ لی روہان کی نظر ایک دم اس کے بالوں پر گئی،
لمبے بال جو حیا کی کمر سے بھی نیچے تک آتے تھے اس وقت تکیے کے اوپر بکھرے ہوئے تھے اس نے آرام سے حیا کے بالوں کو ہاتھ لگا اتنے لمبے بال تو اس نے شاید کسی لڑکی کے اب تک نہیں دیکھے تھے جو بھی تھا اسے حیا کے یہ بال بہت اچھے لگے،
اس نے آرام سے کانچ کی نازک گڑیا کی طرح اسے اپنی بانہوں میں لیا اور اب اس کا رخ اپنے روم کی طرف تھا اس نے آرام سے واپس اسے اپنے بیڈ پر لٹایا پر مجال ہے حیا کی آنکھ کھلی ہو،
لائٹ اوف کے کے وہ خود بھی اس کے پاس لیٹ گیا،اور اسے اپنے پاس کرکے گھیرا تنگ کیا،میں جانتا ہوں میں نے بہت بار تم پر غصہ کیا ہے تم پر شک کیا ہے پر میں کیا کرتا جس ماحول میں رہا ہوں وہاں یہ سب عام بات ہے
تمہاری معصومیت تمہاری پاکیزگی تمہارا بھولا پن سب مجھے نظر آتا ہے آج سے نہیں پہلے دن سے جب میں نے تمہیں مال میں دیکھا تھا اور میں جانتا ہوں میری لٹل گرل جیسی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے یو ار مائن میں تمہیں خود سے کبھی دور نہیں کروں گا اس کے بالوں میں منہ دیے وہ بہت آرام سے سرگوشی کر رہا تھا اسے پتا تھا اس کی لٹل گرل سو رہی ہے اور وہ نیند کی بہت پکی ہے،
اب وہ اسے خود سے جدا نہیں کرے گا کہی نہیں جانے دے گا یہ سب سوچتے سوچتے اسے کب نیند نے گھیرا اسے معلوم نا ہوا،
***************
جو بھی ہوا بہت غلط ہوا اپنا بلال آج سے پہلے کبھی اتنا غصے میں نظر نہیں آیا جتنا کے آج احمد نے بولتے ہوئے حیدر کی طرف دیکھا جو اپنے سر کو دونوں ہاتھوں پر گرائے بیٹھا تھا،
وہ لڑکی کہاں ہے میرا مطلب ہے بھابھی صمد نے جلدی سے اپنے جملے کو درست کیا،حیدر نے ایک نظر اسے دیکھا اور ساتھ والے روم کی طرف اشارہ کیا،
میں باہر سے کھانا لایا ہوں آجاو کھائے صمد نے ان دونوں کو دیکھا جو کسی گھری سوچ میں گم تھے مجھے بھوک نہیں ہے پہلا جواب احمد کی طرف سے آیا،
تم اس روم میں بھابھی کو دے آو کھانا حیدر نے صمد کی طرف دیکھا جو نیچے بیٹھ چکا تھا تو رک میں دے کر آتا ہوں ایک دم احمد کھڑا ہوگیا،حیدر نے اسے دیکھا اور اشارہ کیا کے لے جا کھانا،
احمد دروازا نوک کرکے اندر آیا وہ نماز کی طرح دوپٹہ باندھے جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کی صورت اٹھائے ہوئے تھے احمد نے گلا کھنکھارا دعا نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے اور کھڑی ہوگئی ہے،
احمد نے کھانا ٹیبل پر رکھا پھر اس کی طرف دیکھا جو نظرے جھکائے کھڑی تھی پر احمد کو صاف معلوم ہو رہا تھا یہ اس سے ڈر رہی ہے،
میں احمد ہوں بلال کا دوست،آپ بیٹھے مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے احمد کے کہنے پر دعا تھوڑا جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی،
اس دن کیا ہوا تھا آپ مجھے بتا سکتی ہیں احمد نے دعا کی طرف دیکھا، دعا نے ہاں میں سر ہلایا،آپ بتائے کیا ہوا تھا سب گاؤں والے کیسے گھر میں آئے جو جو آپ کو معلوم ہے احمد نے ایک کے بعد ایک کئی سوال کر لیے،
دعا نے نظرے اٹھا کے بیچارگی سے احمد کو دیکھا وہ اتنے سارے جواب کیسے دے گی، جی بتاؤ میں سن رہا ہوں آپ مجھے اپنا بھائی سمجھے احمد نے خلوص سے کہا اسے لگا یہ لڑکی اس سے ڈر رہی ہے،
دعا نے کھانے کی طرف اشارہ کیا پھر اپنی طرف،کیا تمہیں بھوک لگی ہے احمد نے ایک دم کہا جب کے دعا جو اسے بتا رہی تھی وہ یہاں کھانا دینے آئی تھی ایک دم رک گئی،اور نفی میں سر ہلانے لگی احمد نے نہ سمجھی سے دیکھا یہ لڑکی کچھ بول کیوں نہیں رہی،
تم منہ سے کہوں جو بات ہے احمد کے ایک دم سے کہنے پر دعا نے نظرے اٹھا کے اسے دیکھا،کیا انہیں معلوم نہیں کے میں بول نہیں سکتی اس نے حیرت سے دل میں سوچا،
دعا کے گلے میں گٹلی سی ڈوب کے ابھری اس کی آنکھوں میں آنسوں جما ہوگئے اس کا مطلب یہ بات انہیں بھی نہیں پتا جس سے میرا نکاح ہوا ہے اگر انہیں معلوم ہوگیا وہ مجھے چھوڑ دے گے ایک دم سے دعا کے دل میں ایک انجانا سا ڈر پیدا ہوا،
کچھ بول کیوں نہیں رہی تم احمد نے اس بار جانچتی نظروں سے دعا کو دیکھا دعا نے ہمت کر کے اپنے گلے پر ہاتھ رکھ کے نفی میں سر ہلایا اور نیچے نظرے جھکالی احمد ایک دم دو قدم پیچھے ہوا،دعا نے نظرے اٹھا کے دیکھا احمد کی آنکھوں میں حیرت تھی،
وہ ایک دم موڑ کے کمرے سے چلا گیا دعا نے نم آنکھوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور اپنے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *