Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
روہان جو کچھ بولنے لگا تھا غصے میں سنانے لگا تھا سامنے موجود چہرا دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے معصوم چہرا گلابی رنگت ہولے ہولے کانپتے ہوئے لب وہ اسے اسمان سے اتری ہوئی حور لگی،
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری گڑیا کو ہاتھ لگانے کی بلال نے حیا کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوا کر اسے دور دھکا دیا،حیا نے آنکھیں کھول کے آواز کی طرف دیکھا بلال بھیا یہاں تو یہ اس نے سامنے دیکھا ،
روہان جو حیا کے چہرے میں اتنا کھویا ہوا تھا کے اسے احساس بھی نہیں ہوا جب اسے کسی نے دھکا دیا تو وہ ہوش میں آیا اور غصے میں بھی،
بلال اسے مارنے کے لیے آگے بھڑا پرحیا نے اسے کونی سے پکڑ لیا نہیں بھیا نہیں یہ تو حیا کچھ بولنے لگی بلال نے اسے سائڈ میں ہٹایا اور اس کی طرف ہارجانہ تیور لیر بھڑا روہان نے بھی آگے بھڑ کے اس کی کالر پکڑ لی تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے دھکا دینے کی بلال نے اس کے ہاتھ اپنی کالر پر سے ہٹا کر ایک بار پھر اسے دھکا دیا جس سے وہ گرتا گرتا بچا تیری ہمت کیسے ہوئی میری گڑیا کو ہاتھ لگانے کی بلال کی آنکھوں میں اس وقت خون نظر آرہا تھا وہ اسے مارتا اس سے پہلے حیا جو منہ پر ہاتھ رکھے سب دیکھ رہی تھی بیچ میں آگئی،
بھیا وہ—وہ لڑکے حیا نے روتے ہوئے کہا بلال جو اسے مارنے کے لیے آگے بڑھ رہا حیا کی بات پر رک گیا کون لڑکے گڑیا وہ___وہ بھ__یا بھاگ__گے ان__کی وجہ سے حیا نے پیچھے کی طرف اشارہ کر کے کہا،
روہان نے کھڑے ہوکے اپنی شرٹ سہی کی وہ بلیک بیلڈ تھا اس کا ارادہ اس لڑکے کو دھونے کا تھا کے حیا کے معصوم لہجے نے اس کے قدم روک دیے،
بس بھیا __لڑائی __نہیں ___کرو__ حیا نے روتے ہوئے کہا اور ڈر کے بلال کے ہاتھ سے چپک گئی، گڑیا ریلیکس اوکے ہم نہیں لڑ رہے سوری بلال نے دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے روہان سے سوری کہا،
جگہ جگہ لوگوں کو مارنے سے بہتر ہے اپنی گڑیا کو شوکیس میں رکھو روہان نے غصے میں کہا حیا کی طرف آخری نظر ڈھالی اور اپنا سامان اٹھا کے گاڑی کی طرف بڑھ گیا،
بلال نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اس سب سے حیا بہت ڈر گئی بلال اسے لیے گاڑی تک آیا،حیا کہا تھی تم جب میں بیگ لے کر آئی بلال بھائی اکیلے تھے ،حیا کوئی جواب دیے بغیر بس رورہی تھی مشعل نے اسے اپنے کندھے سے لگایا اور بلال کی طرف دیکھا،بلال نے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا حیا اور مشعل پیچھے بیٹھی حیا نے مشعل کو ایسے پکڑا ہوا جیسے چھوڑے گی تو مشعل غائب ہو جائےگی،
بلال نے گاڑی اسٹارٹ کی اب ان کا رُخ گھر کی طرف تھا
************
بات کی تم نے برہان سے فون میں سے انور کی آواز آئی،ہاں کی تھی پر برہان نے حیا کی شادی پہلے ہی کسی سے تے کردی حنا نے غصے سے کہا،
شادی تے کردی کس سے تم نے کہا تھا حیا تو صرف میری ہے پھر ایسے کیسے اس کی شادی کسی اور سے تے کردی میں نے کیا کیا سپنے دیکھے تھے حیا کے ساتھ کے اور تم کہہ رہی اس کی شادی کسی اور سے تے کردی انور کی آواز میں دبا دبا غصہ تھا،
تو مجھے کیا پتا تھا اندر ہی اندر کب اس منحوس کی شادی تے کردی وہ بھی لندن جیسی جگہ، میں بھی دیکھتی ہوں کیسے جاتی ہے یہ لندن حنا نے نفرت سے کہا،
کیا لندن میں ہو رہی اس کی شادی اب میرا کیا ہوگا تم نے ہی مجھے آسرا دیا تھا اب تمہیں ہی کچھ کرنا ہوگا انور نے غصے سے کہا،ابھی ذیادہ نہیں بولو پانی سر سے نہیں گزرا ابھی بھی وقت ہے وہ چڑیا اپنے جال میں آسکتی،
کیسے آسکتی اب تو وہ شادی کر کے لندن جارہی ہے میں نے کیا کیا سوچا تھا اس سے اپنی بہن کے بدلے لوگا اسے اتنا ٹارچر کروگا کے تمہارے دل کو ٹھنڈک مل جائی گی پر سب پلین دھرے کر دھرے رہے گئے اُسے تو کوئی اور لے کر جارہا انور نے اپنی باتو سے حنا کو اور بھڑکایا،
ایسے کیسے لے جائے گا کوئی اور ابھی شادی فکس ہوئی ہے شادی نہیں ہوئی میرے پاس ایک پلین ہے اس چڑیا کو کابو کرنے کا حنا نے اپنی آواز کو حد درجہ سرگوشی میں بدل دیا،
کیا __کیا پلین ہے انور کو ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئی،اب دھیان سے میری بات سنو تمہیں کیا کرنا،حنا اسے بتاتی گئی اور انور کے چہرے پر حنا کا پلین سن کے شاطرانہ مسکراہٹ آتی گئی
**************
عجیب لوگ ہیں یہاں کے!!!!بات بعد میں کرتے ہیں لڑائی پہلے روہان غصے سے بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھا،ہوٹل چلو ڈرائیور کو حکم دے کے ایک بار پھر وہ یہی سب سوچنے لگا،اس نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگایا کے اس کی آنکھوں کے سامنے وہ پری سا چہرا آگیا،
آج تک اس نے بہت سے حسین چہرے دیکھے تھے پر اتنا معصوم چہرہ پہلی بار دیکھا،اس نے واپس آنکھیں کھول لی یہ میں کیا سوچ رہا ہوں روہان نے اپنا سر جھٹکا جب اس کی نظر ہاتھ میں موجود رنگ پر گئی جو وہ کچھ دیر پہلے لے کر آیا تھا،
ایک بار پھر اس کے چہرے پر سرد تاثرات آگئے اس نے رنگ سائڈ میں رکھی اس نے آج تک حیا کو نہیں دیکھا پر اس کا باپ بار بار کسی اور کی تعریف کرے اس چیز نے اسے حیا سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا،اسے حیا یا کسی بھی لڑکی میں کوئی انٹریس نہیں تھا کیوں کہ اسے شادی کے نام سے ہی نفرت تھی
ہوٹل پہنچ کے اس نے ڈرائیور کو کل کی ہدایت دی اور لفٹ کے ذریے اپنے روم میں آگیا رنگ اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھی اور فریش ہوکے بیڈ پر لیٹ گیا،
اس نے ہاتھ بڑھا کے اپنا موبائل اٹھایا ارادہ فاروق صاحب کو کال کر کے بتانے کا تھا کے وہ ان کی بہو اور اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے رنگ لے آیا پر جب اس نے اپنا موبائل دیکھا اسے پھر سے وہ منظر یاد آیا اس نے اپنے زھن کو جھٹکا اور واپس موبائل سائڈ پر رکھ دیا اس کا موبائل بھی ٹوٹ چکا تھا اب کل اسے اپنے لیے نیا موبائل بھی لینا تھا یہی سب سوچتے ہوئے وہ گھری نیند میں چلاگیا،
****************
شکیل نامی بندہ ہمارے ہاتھ آجائے تو اس راجا صاحب کی گردن تک پہنچنا مشکل کام نہیں ہے احمد نے سامنے بیٹھے حیدر سے کہا جو فائل میں منہ دیے بیٹھا تھا آج صبح ہی احمد واپس آیا تھا اور اسے یہ خبر سننے کو ملی جسے سن کے احمد کا بس نہیں چلا وہ کیا کر دے ان انسان کی خال پہنے بھڑیوں کو عبرت ناک انجام تک پھنچا دے،
احمد والے دو بہن بھائی تھے احسان صاحب احمد کے والد صاحب تھے ان کی ولدہ کی ڈیتھ بچپن میں ہی ہو گئی احمد سے پانچ سال چھوٹی ایک بہن تھی جس کا نام تھا نور ،احمد کی بلال اور حیدر سے ملاقات ان دنوں ہوئی جب وہ آرمی کی ٹریننگ کے لیے آیا تھا،
اسے آج بھی وہ دن یاد تھے جب سب الٹے کام بلال کرتا تھا اور اس کا روم میٹ ہونے کی واجہ سے سزا ہمیشہ احمد کو ملتی تھی،
ہاں اس کا اسکیچ تو بن گیا ہے وہ جلد ہی ہمارے ہاتھ میں ہوگا حیدر کی بات پر احمد اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر آیا،
کیا ہوا تو مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا احمد کے کہنے پر حیدر نے اس کی طرف اسی انداز سے دیکھا چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، حیدر کھڑا ہوکے کھڑکی کے پاس آگیا باہر آرمی کے جوان کڑک دھوپ میں ٹرینگ کر رہے تھے،
میں جانتا ہوں ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مجھے اللّه کے بعد اپنی ٹیم سے پوری امید ہے کہ ہم باقی سبھی بچوں کو بچا بھی لیں گے پر پری کا میں جب سے چہرا دیکھ کے آیا یوں اس کا معصوم چہرا میری آنکھوں کے آگے سے نہیں جارہا وہ بلکل گڑیا جیسی تھی حیدر نے دور خلاوُ میں دیکھتے ہوئے بہت آہستہ آواز میں کہا،
ہم اب ایک اور پری کو ان کے حیوانیت کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گے احمد بولتے ہوئے اسی کے پاس آگیا اس کی نظر بھی نیچے گئی جہاں ایک ٹرینڈ آفسر جوانوں کو ٹرینگ دے رہا تھا
حیدر وہ دیکھ__احمد نے کھڑکی سے نیچے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک نارمل قد کا لڑکا ہر ایک کو سلام کر رہا تھا___کچھ یاد آیا احمد نے حیدر کی طرف دیکھ کے کہا مقصد حیدر کا موڈ ٹھیک کرنا تھا___حیدر کو بھی وہ دن یاد آیا
ماضی
آجا یار کچھ کھاتے ہیں ان سینئر آفسر نے تو ہمیں مینڈک سمجھ لیا ہے یار کتنا اچھلواتے ہیں حیدر اور بلال دونوں ابھی اچھل اچھل کے پورا گراونڈ کا چکر لگا کے آئے تھے ان کی غلطی یہ تھی کے بلال نے چلتے ہوئے ایک سینئر آفسر کو روک کے سلام کیا تھا__
ہمیشہ الٹے کام تو کرتا سزا مجھے بھی ملتی حیدر بھی فُل غصے میں تھا اسے صرف اس لیے سزا ملی تھی کے اس وقت وہ بھی بلال کے ساتھ تھا،
اچھا غصہ نہ ہو یار میری تو بھوک بھی بڑھ گئی آجا پہلے کچھ کھاتے ہیں بلال بولتے بولتے آرہا تھا کے سامنے سے آتے احمد سے اس کا ٹکراو ہوا،احمد کے ہاتھ میں جو جوس تھا وہ سب بلال کے اوپر گر گیا،
یہ تم نے کیا کر دیا میرا ڈریس خراب کر دیا اب تمہیں اس کی سزا ملے گی بلال نے پیچھے ہاتھ باندھے بلکل آفسر کے انداز میں کہا_
احمد جو اسے اپنے جیسا ہی سمجھ رہا تھا اس کا لہجا دیکھ کے اس کے چاروں طرف گھنٹیا بجنے لگی، احمد کا یہاں آج پہلا دن تھا جب کے ان دونوں کا بھی پہلا ہی دن تھا پر بلال کی وجہ سے صبح سے اب تک ان کے ساتھ جو جو ہوچکا تھا انہیں ایسا لگ رہا یہاں آئے ہوئے صدیا بیت گئی،
آپ___کون، احمد تو اس کے لہجے سے ہی ڈر گیا اس نے آج تک صرف قصے ہی سنے ہوئے تھے کے زرا سی غلطی پر سینئر بڑی بڑی سزا دیتے ہیں اور اس سے تو پہلے دن ہی اتنی بڑی غلطی ہوگئی جوس گر گیا،
میں کون اپنے ایک سینئر سے پوچھ رہے وہ کون بلال فُل غصے میں آگیا تھا جب کے حیدر یہ سب بیزاری سے دیکھ رہاں تھا ،
چل بلال بھوک لگ رہی تھی نہ تجھے حیدر نے بیچارے احمد کا ڈرا ہوا چہرا دیکھا تو اسے اس پر ترس آگیا اس لیے بلال جیسے بلا کو یہاں سے لے جانا چاہا،__
ایسے کیسے چلا جاوُ اس شخص نے اتنی بڑی گستاخی کی ہے اسے سزا ملے گی بلال نے بلکل آفسر کے سٹائل میں بول کے پاس رکھی ٹیبل کرسی کو دیکھا اور ان میں سے ایک کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گیا،
سر___سوری غلطی سے ہوا احمد نے اپنی جان بچا کے یہاں سے بھاگنا ہی بہتر سمجھا پر بلال تو اسے دینے کے لیے سزا سوچ رہا تھا____
سر !!!!!آپ بولے سر کو غلطی سے گر گیا احمد نے حیدر کی طرف دیکھ کے بیچارگی سے کہا___حیدر کچھ بولتا اس سے پہلے بلال نے اسے ہاتھ پکڑ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھا دیا،
یہاں جو سامنے میرا دوست کھڑا ہے اسے جاکے سلام کر کے آوُں بلال نے کنٹین کے دروازے کی طرف اشارہ کیا جہاں واقی ایک سینئر آفسر کھڑا تھا،__
کیا میں واقی___احمد جو سوچ چکا تھا اسے کوئی بہت بڑی سزا ملے گی یہ بات سن کے خوش ہوگیا سر ابھی بول کے آتا ہوں احمد نے خوشی سے کہا اور جانے لگا رکو بلال کی آواز پر اسے رکنا پڑا،
جی سر !!!سلام کے علاوہ میرے دوست سے اس کی طبعیت بھی پوچھ کے آنا،وہ کیا ہے نہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں میں بہت تھک گیا ہوں اس لیے تمہیں بھیج رہا احمد کے حیرت سے دیکھنے پر بلال نے جلدی سے وضاحت دی
شکر کرو یہ میں ہوں___اتنا اچھا سینئر___ اس نے سینئر کو لمبا کہنچا کوئی اور ہوتا میری جگہ اس سے بھی بہت بڑی سزا دیتا،_____بلال کے اس طرح کہنے پر واقی احمد کو لگا اسے اتنی خاص سزا نہیں ملی میں ابھی پوچھ کے آیا سر احمد پلٹ کر فوراً بھاگا کہی سر سزا بدل نہ دے، پاس بیٹھے حیدر نے افسوس سے احمد کو دیکھا،
کیوں کیا ایسا___ حیدر نے اس کی طرف دیکھ کے پوچھا،یار جو مزا آپن دونوں چکھ کے آئے ہیں وہ اسے بھی چکھنے دے بلال نے ہنستے ہوئے کہا،
احمد کے سلام پوچھنے پر جو جو اس کے ساتھ ہوا وہ الگ کہانی ہے نہ صرف اسے مینڈکوں کی طرح اوچھلنا پڑا بلکے صبح سے رات تک ہر گزرنے والے کو سلام بھی کرنا پڑا وہ تھک ہار کے روم میں آیا،
السلام وعلیکم بولتے ہوئے وہ نیچے منہ کیے اندر آیا دروازہ بند کر کے وہ پلٹا تو سامنے بلال بیٹھا اپنے بیگ سے کچھ نکال رہا تھا جب اس کی نظر احمد پر پڑی___تم یہاں__ احمد کی آنکھوں میں فوراً غصہ آگیا،
مجھ سے سلام نہیں کیا بلال نے چڑانے والے انداز میں کہا ابھی کرتا ہوں سلام سالے کمینے احمد اس پر ٹوٹ پڑا حیدر جو واش روم میں تھا باہر آکے جب اس نے باہر کا منظر دیکھا اسے کوئی دوکھ نہیں ہوا احمد صاحب بلال پر بیٹھے اسے دھو رہے تھے
حیدر میرے بھائی مجھے بچا!!!!!!!!بلال نے حیدر کو دیکھتے ہی اسے پکارا پر حیدر نے اسے ایسے دیکھا (جیسے تو اسی کے لائق ہے بیٹا )اور جا کے راضائی تان کے سوتا بنا اور جب صبح اٹھا تو وہ دونوں لڑتے لڑتے زمین پر ہی سوئے پڑے تھے جسے دیکھ کے حیدر کو بہت ہنسی آئی
ہال
ہاہاہاہاہا کیسے بھول سکتا ہوں اپنی پہلی ملاقات حیدر کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آگئی اور احمد کو وہ سب یاد کرکے ایک بار پھر بلال کو دھونے کا من کیا،پر وہ جو حیدر کا موڈ ٹھیک کرنا چاہ رہا تھا اس میں کامیاب ہوگیا تھا
اچھا یار ٹائم بتاوُں مجھے کسے سے ملنے جانا ہے ایک دم یاد آنے پر حیدر نے کہا__ پانچ بج رہے ہیں احمد کے کہنے پر حیدر نے اپنا سامان اٹھایا اچھا یار میں چلتا ہوں اللّه حافظ حیدر بولتے کر ساتھ ہی باہر چلا گیا اسے روہان سے چھ بجے ملنا تھا
***************
روہان نے صبح ہی نیو موبائل لے لیا تھا اور ایڈریس بھی معلوم کر لیا اس نے گھڑی کی طرف دیکھا پانچ سے اوپر ٹائم ہو رہا تھا
وہ تیار ہوا آج اس نے بلیک سوٹ پہنا بلیک کورٹ پنٹ ٹائی بس شرٹ سکین کلر کی تھی بالو کو جیل سے سیٹ کیے ہاتھ میں برینڈڈ واچ پہنے وہ جانے کے لیے ریڈی تھا،
اس نے سوچ لیا تھا اسے حیدر سے اچھے سے بات کرنی تھی تاکہ یہ شادی کا معملہ بھی جلد ہی ختم ہو اور شادی جلدی ہو فاروق صاحب کے باتوں سے اسے اتنا اندازہ ہوگیا تھا کے سب حیدر کے ہی ہاتھ میں ہے،
ڈرائیور کو کال کر کے گاڑی ریڈی کرنے کو کہا اور خود پر آخری نظر ڈھال کے باہر آگیا
**************
اس نے گاڑی گھر کے پاس روکی جاوُ مشعل گڑیا کو روم میں چھوڑ آوُں پھر میں تمہیں گھر چھوڑ کے آجاوُ گا ویسے بھی کافی رات ہوگئی بلال کے کہنے پر مشعل نے ہاں میں سر ہلایا, حیا تو اب تک اس سے چپکے سو رہی تھی اور یہ لو حیا کی چیزے اندر رکھ دینا بلال کا اشارہ شوپنگ بیگ کی طرف تھا مشعل نے اسے جگا کر گاڑی سے باہر نکالا اور بلال سے بیگ لیے گھر کے اندر چلی گئی،
مشعل نے اسے بیڈ پر لٹایا سب شوپنگ بیگ سوفے پر رکھے اور حیا کو رضائی اوڑائی حیا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہلکی ہلکی آنکھیں کھول کر نہ میں اشارہ کیا جیسے اسے جانے سے انکار کر رہی ہو مشعل اس کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے بالو میں پیار سے ہاتھ پھیرا اسے اپنی یہ معصوم سی دوست بہت عزیز تھی حیا تھوڑی دیر میں ہی واپس نیند میں چلی گئی مشعل نے آرام سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور لائٹ اوف کردی،
سو گئی گڑیا بلال کے کہنے پر مشعل نے ہاں میں سے ہلایا اور اس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھ گئی،بلال نے گاڑی سڑک پر دوڑا دی اب بتاوُں کیا ہوا تھا مشعل نے بلال کی طرف دیکھ کے کہا، بلال نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اسے اب کی سب بات بتادی جو جو وہاں ہوا تھا،تو آپ نے ایسے بندے پر ہاتھ اٹھایا جس نے حیا کو سیف کیا مشعل نے منہ پر ہاتھ رکھ کے حیرت سے کہا،
تو مجھے تھوڑی پتا تھا میں نے بس اس کے ہاتھ میں حیا کا ہاتھ دیکھا تو غصہ آگیا اور یہ تو شکر کرو میں تھا اگر حیدر یوتا تو اس کی جان ہی لے لیتا بلال نے مسکرا کر کہا،ہاں اس آرمی کے بندے کو آتا بھی کیا ہے لوگوں کی جان لینے کے علاوہ مشعل نے حیدر کے نام پر فوراً منہ بنایا،
ہاہاہا تم اتنا جلتی کیوں ہو میرے دوست سے اس کے جیسا گبرو جوان تمہیں پورے خاندان میں نہیں ملے گا بلال نے ہاتھ کے اشارے سے ایسے کہا جیسے بہت کام کی بات بتائی ہو،
تو میں کیا کروں تمہارے اس دوست کا وہ آرمی کا بندہ ایک ہی بہت ہے اس جیسا ڈھونڈ کے کیا کروں گی ہر وقت ایسے گھورتا ہے جیسے کھا جائے گا،ہاہاہا یعنی تم ڈرتی ہو میرے دوست سے یہ لو بھئی تمہارا گھر آگیا بلال نے گاڑی روکتے ہوئے کہا،
میں نہیں ڈرتی اس آرمی کے بندے سے مشعل نے گاڑی سے نکلتے ہوئے کہا،اچھا چلو وہ تو پتا چل جائے گا جلد ہی بلال کا انداز مزاق اڑانے والا تھا دونوں دوست کو دیکھ لوگی ڈرتی نہیں ہوں کسی سے مشعل نے گاڑی کا دروازا تیز بند کیا اور اندر چلی گئی،ہاہاہا پیچھے سے اسے بلال کا جاندار قہقہ صاف سنائی دیا،
**************
ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے یہاں وہاں نظرے دوڑائی، پھر ہاتھ میں پہنی گھڑی پر اس نے وقت دیکھا چھ بجنے میں پانچ منٹ تھے وہ جب یہاں آکے بیٹھا تو چھ بجنے میں دس منٹ تھے اس نے روہان کو چھ بجے بلایا تھا اور اب رسٹورینٹ میں بیٹھا اس کا ویٹ کر رہا تھا،
وہ سیدھا کیمپس سے آرہا تھا اس لیے یونیفارم چینج کرنے کا ٹائم نہیں ملا اس کیس پر ساری توجہ جبھی جاسکتی جب حیا کو ایک اچھا لائف پاٹنر مل جاتا یہی سوچ کر آج وہ ٹائم نکال کر روہان سے ملنے آیا تھا اس نے پھر سے گھڑی میں ٹائم دیکھا چھ بجنے میں ایک منٹ تھا،
ہائے آر یو میجر حیدر!!!سامنے سے با روب آواز آئی،حیدر نے گھڑی سے نظر ہٹا کے سامنے دیکھا جہاں ہنڈسم سا لڑکا آنکھوں میں شناسائی لیے اسے دیکھ رہا تھا ،
یس آئی ایم!!حیدر نے کھڑے ہوکے ہاتھ ملایا اور سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا،آپ نے مجھے کیسے پہچانا حیدر نے ایک آئیبرو اٹھا کے سامنے موجود شخص کی طرف دیکھا،
آپ آرمی میں ہوکے بچوں جیسا سوال کر رہے ہیں روہان نے سیٹ سے ٹیک لگا کر کہا،ویٹر نے آکے کافی کے دو کپ ٹیبل پر رکھے اور چلا گیا،حیدر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی،
آپ کب سے انتظار کر رہے ہیں روہان کی اردو ذیادہ صاف نہیں تھی پرگزارے لائک تھی،
جب آپ آئے میں بھی اس وقت آیا حیدر نے آرام سے جواب دیا،جب میں یہاں آیا تو آپ پہلے سے یہاں تھے اور گھڑی میں ٹائم دیکھ رہے تھے اس کا مطلب آپ مجھ سے پانچ یا دس منٹ پہلے آئے ہیں روہان نے اپنی ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھ کے اندازا لگایا
جی بلکل ٹھیک کہا میں دس منٹ پہلے آیا تھا اور آپ بھی اس وقت ہی آئے ہو،
اور یہ آپ کو کیسے پتا کے میں بھی دس منٹ پہلے آیا ہوں روہان نے حیرت سے حیدر کو دیکھا وہ ہمیشہ ہر میٹنگ میں ٹائم سے پہلے جاکر اگلے انسان کی ہر حرکات نوٹ کرتا پھر اسے اسی حساب سے ڈیل کرتا جبھی تو آج تک وہ ہر میٹنگ میں کامیاب رہا اور بزنس کی دنیا میں اپنا نام بنا لیا،
اس بار آپ بچوں جیسے سوال کر رہے ہو حیدر نے مسکرا کے کہا جیسے آپ نے میرے یونیفارم سے پہچانا میں میجر حیدر ہوں تو ظاہر ہے میں میجر حیدر ہوں جس کی نظر ہر جگا ہوتی حیدر نے کندھے اُچکا کر کہا اور کافی پینے لگا
اس بار روہان کے چہرے پر بھی ہلکی سے مسکراہٹ آگئی پہلی بار زندگی میں اسے کوئی سخص اپنے ٹکر کا لگا اب روہان کا موڈ پہلے سے بہتر ہو گیا تھا مجھے یہ تو نہیں پتا کے آپ کو میں کیسا لگا پر مجھے آپ واقی اچھے لگے روہان کی آواز میں سچائی تھی
آپ پہلے آکے اپنے سامنے موجود شخص کو پرکھتے ہیں اس حساب سے اسے ڈیل کرتے ہیں آئی ایم رائٹ حیدر نے اس کی طرف دیکھا اور کافی کا ایک اور گھونٹ بھرا
جی آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے تو کیا میں کامیاب ہوا روہان نے کافی کے کپ کے اوپر انگلی گھوماتے ہوئے پوچھا،
اس کافی کو بننے میں دس منٹ لگتے ہیں اور مجھے یہی کافی پسند ہے میں بار بار گھڑی دیکھ رہا مطلب میں ٹائم کی قدر کرتا ہوں آپ ٹھیک چھ بجے آئے آپ جب آئے کافی بھی ساتھ آئی مطلب آپ نے مجھے جلدی پرکھ لیا اور کافی آرڈر بھی کردی آئی ایم امپریس حیدر نے کافی کا آخری گھونٹ بھر کر کہا اور کپ ٹیبل پر رکھ دیا،
اس کا مطلب میں اس بار بھی کامیاب ہوا روہان کے چہرے کر تاثرات ڈھیلے پڑے اپنے جیسے آدمی کو ڈیل کرنا آسان کام نہیں تھا اور اسے حیدر کو کنوینس کرنا تھا فاروق صاحب کا احسان اتارنے کا یہی طریقہ تھا،
مجھے آپ کی زہانت پسند آئی اور آپ فاروق صاحب کے بیٹے ہو تو دل کے بھی اچھے ہوگے آپ کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا حیدر کے چہرے پر پہلے والے تاثرات نہیں تھے جس میں وہ اپنی نظروں سے اگلے انسان کے اندر تک گھوس جاتا تھا
جی میں سن رہا ہوں روہان نے اب تک ایک گھونٹ بھی نہیں بھرا تھا،حیا کا خیال رکھنا اسے خوش رکھنا اسے دکھ دیا تو حیدر معاف نہیں کرے گا اس بار حیدر نے جب اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں اپنی بہن کے لیے پیار فکر کیا نہیں تھا،
وعدہ نہیں کرتا وعدے ٹوٹ جاتے ہیں پر میں اپنے سے جڑے ہر انسان یا ہر چیز کا خیال ضرور رکھتا ہوں روہان کی بات میں سچائی تھی جبھی حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
مجھے آپ سے ایک اور بات کرنی روہان کے کہنے پر حیدر نے اس کی طرف دیکھا،میرا سارا بزنس رکا ہوا ہے کیوں کے میں کل سے یہاں ہوں میں ایک ہفتے کے لیے آیا ہوں کیا اس بیچ یہ شادی نہیں ہو سکتی مجھے وقت کا ضائع ہونا پسند نہیں روہان کی بات پر ایک پل کے لیے حیدر خاموش ہوگیا،
اسے اس میشن پر فوکس کرنا تھا اور وہ جبھی ہو سکتا تھا جب گڑیا کی طرف سے وہ بےفکر ہوتا پر حیا مانے گی اتنی جلدی شادی پر__میں بات کروگا تو مان جائے گی اور جتنا لیٹ جائے گی پڑھائی کا بھی اتنی زیادہ حرج ہوگا،
اگر آپ کو کوئی مسلئہ ہے تو آپ بتا سکتے ہیں روہان کی آواز پر حیدر اپنی سوچ سے باہر آیا___نہیں مجھے کوئی مسلئہ نہیں میں اس بارے میں برہان بھائی سے بات کر کے آپ کو بتادوگا حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا، اب مجھے جانا ہوگا بہت سے کام میرا انتظار کر رہے،
روہان بھی کھڑا ہوگیا جی ٹھیک ہے آپ مجھے بتا دینا میرا نمبر لکھ لیں روہان کی بات پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنے موبائل میں نمبر نوٹ کیا،
اور ہاں مجھے امپریس کرنے کے چکر میں آپ نے ایک کافی ضائع کردی کیوں کے آپ کافی نہیں پیتے حیدر نے ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا کے کہا اور رسٹورینٹ سے باہر چلا گیا،
روہان نے بھی کافی کی طرف دیکھا اسے واقی کافی پسند نہیں تھی تو اس کا مطلب میرے سالے صاحب بہت انٹیلیجنٹ ہیں روہان نے خود ہی سوچا اور اپنا سامان اٹھایا اب اسے بھی جانا چاہیے حیدر کو منانے کا کام وہ کر چکا تھا اب باقی کام فاروق صاحب کا تھا،
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *