Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
روہان سو کر اٹھا تو حیا بستر پر نہیں تھی اس نے مندی مندی آنکھوں سے روم کا جائزہ لیا جو خالی تھا،لٹل گرل روہان نے بیٹھ کے اسے آواز دی تھوڑی دیر میں واشروم کا گیٹ کھول کر وہ باہر آئی، دھولا ہوا چہرا ہونٹ پر اب زخم بہت ہلکا تھا جب کے سر پر بینڈج لگی ہوئی تھی،روہان نے گھڑی میں ٹائم دیکھا صبح کے سات بج رہے تھے اس واقع کو دو دن ہو گئے تھے اب حیا کافی بہتر تھی،
تم صبح ہی صبح کہاں جارہی ہو روہان نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اسے دیکھا،وہ یونیورسٹی کی دو دن سے چھٹی ہو رہی ہے اس لیے اب میں جانا چاہتی ہوں پھر ہم پاکستان جائے گے نا تو بھیا بولے گے اتنی چھٹیاں کیوں کی اس لیے مجھے کچھ دن یونیورسٹی جانا ہے ویسے بھی آپ نے کہا ہے جب تک میرے سر کی یہ چوٹ بلکل ٹھیک نہیں ہو جاتی آپ مجھے کہی جانے نہیں دو گے اس لیے کیوں نا میں کچھ دن یونیورسٹی چلی جاؤں،آئنے میں اپنے بال سلجھاتے ہوئے وہ اپنے ہی دھیان میں بولی جارہی تھی جب اس کی نظر روہان پر پڑی جو مسکرا رہا تھا،
آپ مسکرا کیوں رہے ہیں آئنے میں سے ہی اس نے روہان کو دیکھ کر پوچھا، یہاں آؤ روہان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا،حیا برش نیچے رکھ کے اس کے پاس آئی اور اس کی طرف دیکھا یہاں بیٹھوں روہان نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا،
حیا آرام سے بیٹھ گئی روہان اب بھی مسکرا رہا تھا مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے ایک منٹ کے لیے بھی جدا نہیں ہوئی تھی،جب سے میں نے پاکستان کا نام لیا ہے میری لٹل گرل خوش رہنے لگی ہے اگر مجھے معلوم ہوتا اس میں تمہاری خوشی ہے تو میں تمہیں وہاں پہلے ہی لے جاتا روہان نے حیا کی طرف دیکھتے ہوئے پیار سے اس کے بالوں کی ایک لٹ اس کے کان کے پیچھے کی حیا نے نظرے جھکا لی،
ہمیشہ ایسے ہی بولتی رہو تم میں یہ چاہتا ہوں حیا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے وہ پیار سے بول رہا تھا حیا نے جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچے کیا اور کھڑی ہوگی اس کے بال اب بھی کھولے ہوئے تھے،ویسے مجھے اب معلوم ہوا کے تم اپنے بال اسکاف میں کیوں چھپا کر رکھتی ہو روہان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا جس پر اسکاف باندھتی حیا نے اسے ایک نظر دیکھا پر ان نظروں میں سوال تھا،
کیونکہ یار اتنے حسین بال ہے تمہارے اگر میں پہلے دیکھ لیتا تو ___روہان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا حیا نے جلدی سے اپنی نظرے پھیر لی اور اسکاف باندھنے لگی،روہان نے قریب آکر اس کے بالوں کو پیار سے اپنے ہاتھ میں لیا روہان کی نظرے اسے کنفیوژ کر رہی تھی،
میری ایک بات مانوں گی ویسے تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں پھر بھی کہنا چاہتا ہوں روہان کی بات پر حیا نے اسے دیکھا جو اس کے بالوں کو اپنے چہرے کے قریب کیے ان کی خوشبو محسوس کر رہا تھا،
میرے علاؤہ کبھی ان بالوں پر کسی کی نظر نا پڑے روہان نے پیار سے حیا کی طرف دیکھا اور اس کی بال چھوڑ کے واشروم کی طرف چلا گیا،حیا نے اپنے ننھے سے دل پر ہاتھ رکھا جو تیز تیز دھڑک رہا تھا، جب یہ غصہ کرتے تھے جب اتنے خطرناک نہیں تھے حیا نے خود کو آئنے میں دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا ہاہاہا پر واشروم میں جاتے ہوئے روہان کا قہقہہ اسے صاف سنائی دیا،اف اس نے جلدی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کے ایک چور نظر واشروم پر ڈھالی جو بند تھا،
************
گاڑی کو لاک کر کے وہ لفٹ کر زریعے اوپر آیا فلیٹ کا دروازا بند تھا،اس نے جیب سے چابی نکالی وہ دروازا بجا بھی سکتا تھا پر شاید وہ سو رہی ہو یہ سوچ کر اس نے دروازا کھول کر اندر قدم رکھا رات کا وقت تھا پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا،
بلال اندر آیا جب اس کی نظر ٹیبل پر رکھے جگ گلاس کی طرف گئی روم میں جانے کی جگہ وہ یہاں آگیا پانی بھر کے ابھی اس نے دو تین گھونٹ ہی لیے تھے جب اسے کچھ عجیب محسوس ہوا،ایک دم پیچھے موڑ کے اس نے ڈنڈا پکڑا جو اس کے سر پر لگنے والا تھا،
بلال نے ڈنڈا پکڑ کے سامنے دیکھا کانپتے ہاتھوں سے دعا ڈنڈا پکڑے کھڑی تھی آنکھوں کو اس نے میچ رکھا تھا،پاگل لڑکی ابھی میرا سر پھٹ جاتا (وہ تو شکر ہے میں فوجی ہوں) بلال نے دل میں کہا بلال کی آواز پر دعا نے آنکھیں کھولی ڈنڈا نیچے پھینک کر وہ بلال کے سینے سے لگ گئی بلال جو غصّہ کرنے والا تھا ایک دم چپ ہو گیا،
دعا پوری کانپ رہی تھی بلال کے سینے میں منہ چھپائے وہ رونے لگی اس کے دل کو کچھ ہوا بلال نے آرام سے اسے اپنے حسار میں لیا وہ سمجھ گیا وہ ڈر گئی تھی اسے لگا کوئی اندر گھس آیا ہے کیونکہ وہ اسے بول کر گیا تھا وہ کل آئے گا اور یہ لڑکی چپ چاپ مان گئی تھی اس سے کوئی ضد نہیں کی تھی،
دعا کو جب احساس ہوا وہ بلال کے حسار میں ہے وہ جھجھکتے ہوئے پیچھے ہوئی اس نے اپنی نظرے نیچے کی ہوئی تھی بلال نے اسے کرسی پر بیٹھا کر پانی کا گلاس بھر کے اس کے ہونٹوں سے لگایا دعا نے بغیر اس کی طرف دیکھے پانی پی لیا،
یہ لائٹ کیوں بند ہے پورے فلیٹ کی بلال نے بولتے ہوئے دیکھا سب بٹن اون تھے شاید لائٹ گئی ہوئی تھی وہ واپس دعا کے پاس آیا جو اب بھی نیچے منہ کیے بیٹھی تھی،میرے ساتھ چلو بلال کی آواز پر دعا نے اسے دیکھا،
میرے گھر!!!بلال نے اس کی آنکھوں میں موجود سوال دیکھ کر خود ہی جواب دیا دعا نے پورے فلیٹ کی طرف دیکھا یہ میرا گھر نہیں ہے دوست کا ہے میرا گھر وہاں ہے جہاں میرے مما پاپا ہے بلال کی بات پر دعا نے اسے دیکھا اور کھڑی ہوگئی،
گاڑی میں بھی وہ کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی اب جب بلال نے گھر کے اندر قدم رکھا تو وہ اس کے پیچھے چھپ گئی،دعا کہاں ہے بیٹا علی صاحب نے بلال کو اکیلا دیکھ کر پوچھا صائمہ بیگم بھی سوفے سے کھڑی ہوگئی،
بلال نے اپنے پیچھے اشارہ کیا اور خود سائڈ میں ہوگیا دعا جو اس کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ایک دم سامنے موجود لوگوں کو دیکھ کر کنفیوژ ہو گئی صائمہ بیگم نے اسے دیکھا گرین کلر کی آئیز صاف رنگت چہرے پر گھبراہٹ ایک نظر میں وہ لڑکی انہیں بہت معصوم اور پیاری لگی صائم بیگم آگے آئی،دعا نے ایک نظر انہیں دیکھا اور بلال کے پیچھے چھپ گئی صائمہ بیگم کے قدم وہی رک گئے انہوں نے بلال کی طرف دیکھا،
بلال نے اسے اپنے سامنے کیا یہ میری مما ہے اور یہ میرے پاپا ان سے نہیں ڈرو میری مما بہت اچھی ہیں یہ بلکل تمہاری چاچی جیسی نہیں ہے بلال نے آرام سے اس کی طرف دیکھ کر کہا دعا نے اسے دیکھا وہ کیسے سمجھ جاتا تھا اس کے دل کی بات،
صائمہ بیگم نے آگے بڑھ کر دعا کو پیار سے گلے لگایا دعا کے جو آنسوں رکے ہوئے تھے صائمہ بیگم کے گلے لگتے ہی وہ واپس بہنے لگے علی صاحب نے مسکراتے ہوئے دعا کے سر پر ہاتھ رکھا،
اب یہ آپ کا بھی گھر ہے بیٹا ہمیں پہلے پتا ہوتا یہ بندر آپ کو وہاں چھوڑ آیا تو ہم کب کے اس کے کان کھینچ لیتے صائمہ بیگم نے پیار سے دعا سے کہا دعا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
بندر کہنے پر بلال کا منہ بن چکا تھا پر دعا کی مسکراہٹ کو اس نے حیرت سے دیکھا کتنی پیاری تھی اس کی مسکراہٹ،
بیٹا وہ اندر گئی آجاؤ ہم یہاں بیٹھے علی صاحب کی آواز پر بلال نے سامنے دیکھا جہاں اب صائمہ بیگم اور دعا نہیں تھی بلال نے اپنے پاپا کو دیکھا جو اپنی مسکراہٹ دبا رہے تھے وہ میں تو ایسے ہی کچھ سوچ رہا تھا بلال سر کھجاتا ہوا سوفے پر بیٹھ گیا ہاہاہاہا علی صاحب کے قہقہے سے وہ اور کنفیوژ ہو گیا
**************
اپنا خیال رکھنا اگر وہ گروپ پھر سے پریشان کرے تو مجھے بتانا روہان نے حیا کی طرف دیکھ کے کہا،جی ٹھیک ہے حیا نے اس کی طرف دیکھا اور گاڑی سے نیچے اتر گئی، ابھی وہ چند قدم ہی دور گئی تھی جب اس نے پلٹ کر دیکھا روہان اب بھی وہی گاڑی میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا،
حیا نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹاٹا کیا روہان کے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ آگئی اس نے بھی ہاتھ ہلایا اور گاڑی اسٹارٹ کردی
حیا کہا تھی تم دو دن سے ابھی وہ اپنی کلاس کی طرف ہی جا رہی تھی جب بریل کی آواز پر اس نے بریل کو دیکھا،وہ میں حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے،
یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں بتاؤ بریل نے اس کے ماتھے پر بینڈج دیکھ کر سوال کیا،وہ میں گر گئی تھی اس نے نیچے نظرے کیے جواب دیا جھوٹ بولنا بھی آسان کام نہیں تھا،
اچھا ٹھیک ہے جاؤ تمہاری کلاس شروع ہونے والی ہے بریل نے کلاس کی طرف اشارہ کیا اور پلٹ کر چلا گیا،حیا نے ایک نظر اس کی پشت کو دیکھا اور اپنی کلاس کی طرف چل دی،
کلاس لے کر ابھی وہ باہر آئی تھی ارادہ لائبریری میں جانے کا تھا جب اچانک براڈ نے اس کا رستہ روکا،یایا ہم تمہارا دو دن سے انتظار کر رہے تھے تم کہا تھی براڈ نے آنکھوں میں فکر لیے سوال کیا حیا نے ایک نظر اسے دیکھا اس وقت وہ اکیلا تھا کیری اور میری اس کے ساتھ نہیں تھی حیا سائڈ میں سے گزر کر جانے لگی جب براڈ پھر سے اس کے آگے آیا،
یایا یار پوری بات تو سن لو حیا نے گھبرا کے یہاں وہاں دیکھا اگر روہان یہاں ہوتے تواب تک اس کی ہڈیاں سلامت نہیں ہوتی حیا نے دل میں سوچ کر براڈ کی طرف دیکھا،
وہ اس دن کے لیے سوری ہمیں پریشان نہیں کرنا تھا تمہیں آئی ایم سوری براڈ کے معافی مانگنے پر حیرت سے حیا نے اسے دیکھا براڈ اور معافی بات کچھ ہضم نہیں ہوئی،
اٹس اوکے حیا بول کے جانے لگی جب کیری اور میری بھی پہنچ گئی،ہمیں بھی معاف کر دو حیا دونوں نے ایک ساتھ کہا ____اس نے ان تینوں کو دیکھا کیا اس کے کانوں نے ٹھیک سنا ہے یا یہ بھی ان کی کوئی چال ہے___کوئی بات نہیں ___حیا نے ان کی طرف دیکھ کے آرام سے کہا معصوم حیا کے لیے یہی بہت تھا کے وہ لوگ اپنے کیے پر شرمندہ ہے،
کیا ہم دوست بن سکتے کیری نے اپنا ہاتھ آگے کیا حیا کچھ دیر تو کنفیوژ سی اس کے ہاتھ کو دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ ملا لیا میری نے بھی اپنا ہاتھ آگے حیا نے اس سے بھی ہاتھ ملایا،
براڈ تم لوگ پھر اسے تنگ کر رہے بریل نے پاس آکر کہا اس نے دور سے حیا کو ان تینوں کے قریب کھڑے دیکھا تو وہ بھی یہی آگیا،
ہم کیوں تنگ کرے گے یایا کو ہم تو اس دن کے لیے سوری کر رہے تھے ہے نا یایا براڈ نے معصومیت سے بول کے حیا کی طرف دیکھا، حیا نے بریل کو دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا،
براڈ ایسے ناٹک میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں چلو یہاں سے حیا بریل نے حیا کو وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا حیا نے ایک نظر ان تینوں پر ڈھالی اور بریل کے ساتھ آگے بڑھ گئی،ان تینوں کے مقابلے وہ بریل پر زیادہ یقین کرتی تھی،
اب آگے کیا کرنا تھا تمہارے کہنے پر ہم نے اس بہن جی ٹائپ لڑکی سے سوری کرلی کیری نے ببل گم چباتے ہوئے براڈ کو دیکھا جس کی پر سوچ نظرے اب بھی وہی تھی جہاں سے بریل اور حیا گئے تھے،
بس تم دیکھتی جاؤ کیری اس بریل اور حیا کو ایک ساتھ سبق سکھائے گے دو دن بعد جو یونیورسٹی میں نیو ئیر پارٹی ہے تم دونوں کو حیا کو وہاں پر لانا ہے باقی کام میرا ہے براڈ نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی بات پر کیری بھی مسکرا دی،
****************
آپ نہیں آئی اپنی بھابھی سے ملنے بلال نے سارا کے روم میں آکر کہا جو ہاتھوں میں کلر لیے کوئی ڈرائنگ کر رہی تھی،
کون سی بھابھی سارا نے معصومیت سے بلال کی طرف دیکھا ارے میری بیوی یار اور کون بلال نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا سارا نے بلال کی طرف دیکھا کلر اس نے سائڈ میں رکھ دیے، آپ نے شادی کر لی اور بتایا بھی نہیں سارا کی آنکھوں میں آنسوں آگے ارے آپ رو کیوں رہی ہو گڑیا شادی تو کرنی تھی نا یار،
نہیں آپ کی شادی میں اپنی آپی سے کرواتی آپ نے کسی اور سے شادی کیوں کی بلال جو اس کے رونے پر مسکرا رہا تھا لفظ آپی پر اس نے سارا کو دیکھا جو اب رونے میں مصروف تھی کون سی آپی سارا کیا آپ کی کوئی آپی ہے آپ بتاتی کیوں نہیں اپنی فیملی کے بارے میں بلال نے پیار سے سارا کی طرف دیکھا،
اس نے ایک دم اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ لیے میں آپ کو کچھ نہیں بتاؤ گی سارا نے آنکھوں میں خوف لیے بلال کو دیکھا،
گڑیا دیکھوں مجھے بتاؤ گی میں آپ کی مدد کروں گا آپ مجھے سب بتاؤ بلال نے اس کر ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاکر پیار سے پوچھا وہ جب جب اس کی فیملی کے بارے میں پوچھتا ہے اس کی آنکھوں میں خوف آ جاتا ہے،
بلال بیٹا یہاں آؤ صائمہ بیگم کی آواز پر بلال نے دروازے کی طرف دیکھا میں کچھ دیر میں آتا ہوں ٹھیک ہے سارا کے ماتھے پر پیار کر کے وہ باہر چلاگیا،
کیا ہوا مما بلال نے کچن میں موجود اپنی مما کو دیکھا بیٹا یہ کھانا لے جاؤ اسنے کچھ نہیں کھایا تم بھی کھالو اور اسے بھی کھانا کھلاؤ صائمہ بیگن نے ٹرے آگے کی،
مما یار اسے آپ دے دو کھانا بلال نے ٹرے کی طرف دیکھتے ہوئے صائمہ بیگم کی طرف دیکھا،تم لے کر جا رہے کھانا یا میں بیلن اٹھاؤ صائمہ بیگم کی دھمکی پر بلال نے جلدی سے ٹرے اٹھائی اور روم کی طرف چلا گیا صائمہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی بدمعاش،
بلال نے ٹرے بیڈ پر رکھی پورا روم خالی تھا اب یہ کہاں گئی ابھی بلال سوچ ہی رہا تھا جب دعا واشروم سے باہر آئی،بلال کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا،
لائٹ پنک کلر کی فروک میں گیلے بالوں سے وہ کوئی پری لگ رہی تھی اس نے اپنی گرین آنکھیں اٹھا کر دیکھا سامنے بلال اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا دعا نے جلدی سے بیڈ پر رکھا اپنا دوپٹہ اٹھا کر اوڑھا،
اب تک بلال نے اسے اس کالی چادر میں دیکھا تھا اس کے بال اتنے لمبے اور حسین تھے یہ اسے اب معلوم ہوا صاف ستھرے لباس میں اس کا حسن سہی طرح سامنے آیا تھا بلال کی نظرے اب اسے کنفیوژ کر رہی تھی،
بلال نے اپنا سر جھٹکا اف یہ تو مجھے پاگل کر دے گی بلال بیٹا تو گیا کام سے خود سے بولتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا،آجاو کھانا کھالو بلال نے کھانے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اب وہ اس لڑکی کی طرف نہیں دیکھے گا کیا کوئی اتنا بھی حسین ہوتا ہے دعا نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئی،
بھیا!!!بلال کھانا کھانے میں مگن تھا جب اسے سارا کی آواز آئی دعا کا منہ میں جاتا ہاتھ ایک دم رک گیا،بھیا!!!ایک بار پھر آواز آئی بلال نے دروازے کی طرف دیکھا اس کی نظر دعا پر گئی جس کی آنکھیں حیرت سے کھولی ہوئی تھی چہرے پر عجیب سی بیچینی تھی بلال اٹھتا اس سے پہلے ہی دعا دروازے کی طرف بھاگی،اب اسے کیا ہوا بلال بھی کھانا چھوڑ کے اس کے پیچھے گیا
دعا دروازا کھول کے سامنے کی طرف بھاگی یہ اس کی گڑیا کی آواز تھی وہ ہزاروں آواز میں بھی اپنی گڑیا کی آواز پہچان سکتی تھی صائمہ بیگم سامنے سے آرہی تھی جب دعا کی ان سے ٹکر ہوئی سمبھل کر بیٹا صائمہ بیگم نے جلدی سے دعا کو پکڑا پر دعا ان کو نہیں یہاں وہاں کسی اور کو ڈھونڈ رہی تھی،
صائمہ بیگم نے بلال کی طرف دیکھا جو اسی کے پیچھے تھا،اب آواز آنا بند ہوگئی تھی دعا نے صائمہ بیگم کو دیکھ کے اشارہ کیا(چھوٹی بچی ) صائمہ بیگم نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا دعا کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا دعا نے پھر سے اشارہ کیا،پر صائمہ بیگم کو اس کی بات بلکل سمجھ نہیں آئی،
کیا تم سارا کے بارے میں پوچھ رہی بلال کی آواز پر دعا نے پلٹ کر اسے دیکھا اور جلدی سے ہاں میں سر ہلایا، بلال نے بغیر کچھ کہے ایک روم کی طرف اشارہ کیا دعا اس طرف بھاگی علی صاحب بھی جب تک آگے تھے وہ لوگ بھی اس کے پیچھے گئے،
دعا نے ایک دم روم کا دروازا کھولا سارا بیڈ پر بیٹھی ڈرائنگ کرنے میں مگن تھی،بھیا آپ آگئے آپ ویٹ بول کے گئے تھے میں جب سے آپ کا ویٹ کر رہی ہوں اپنے کام میں مگن سارا نے بغیر سر اٹھائے کہا،
دعا اس کے پاس آئی اسے دیکھا یہ اس کی گڑیا تھی اس کی سارا دعا ایک دم نیچھے گٹھنے کے بل بیٹھ کر بے آواز رونے لگی سارا نے نظرے اٹھا کے دیکھا سامنے ہی اس کی آپی تھی سارا نے اپنی آنکھوں کو کھول کر غور سے دیکھا ہاں یہ اس کی آپی تھی،
سارا جلدی سے بیڈ سے نیچے اتر کے اس کے گلے لگ گئی دعا اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لے کر چومنے لگی کبھی گال پر کبھی ماتھے پر اسے یقین نہیں آرہا تھا اس کی گڑیا ٹھیک ہے بلکل ٹھیک بلال نے دروازے میں کھڑے ہوکر یہ منظر حیرت سے دیکھا حیران تو صائمہ بیگم اور علی صاحب بھی تھے،
دعا نے روتے روتے اس سے اشارے سے پوچھا(وہ یہاں کیسے)سارا نے اپنی آپی کے آنسو صاف کیے دعا کا ہاتھ پکڑ کے اس نے اسے بیڈ پر بیٹھایا،دعا نے اس کے ماتھے پر پیار کیا آنسوں اس کی آنکھوں سے رک نہیں رہے تھے،
آپی اس دن جب آپ کو ماں نے کام سے بھیجا تھا ایک آدمی آیا تھا آپی اور ماں نے اس سے بہت سارے پیسے لیے تھے اور مجھے اس کو دے دیا تھا آپی میں بہت روئی میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھی آپی پر ماں نے کہا اگر میں ان کے ساتھ نہیں گئی یا میں نے کسی سے کچھ کہا تو وہ آپ کو اس آدمی کے ساتھ بھیج دے گی، سارا نے دعا کے گود میں سر رکھے بولنا جاری رکھا دعا کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے اس نے پیار س سارا کے سر میں ہاتھ پھیرا صائمہ بیگم کی بھی آنکھیں نم ہوگئی،
آپی اس آدمی نے مجھے ایک جگہ بند کر دیا وہاں اور بھی میرے جیسے بچے تھے آپی وہ لوگ بہت برے تھے آپی دو دو دن تک ہمیں کھانا بھی نہیں دیتے تھے ہچکیوں کے درمیان ننھی سی سارا اپنی تکلیف بتا رہی تھی دعا نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اس کی گڑیا اتنی تکلیف میں تھی اور وہ کچھ نہیں کر سکی،
آپی ایک دن ان میں سے ایک آدمی مجھے بہت بڑے گھر میں لایا اور دوسرے نے مجھے مارا میرے بال بھی پکڑے آپی وہ مجھے اور مارتے پر بھیا آگے یہ ہیرو ہیں آپی بہت اچھے ہیں سارا نے دعا کی گود میں سے سر اٹھا کر بلال کو دیکھا جو دروازے کے ٹیک لگائے بہت سریس کھڑا تھا،
دعا نے نظرے اٹھا کے بلال کو دیکھا جس کی آنکھوں میں درد تھا آپی بھیا نے بہت سارے بچوں کو سیف کیا آپ کو پتا ہے بھیا فوجی بھی ہیں اور ان کے ساتھ اور بھی بھیا تھے سب بہت اچھے ہے آپی میں ان کے ساتھ یہاں آگئی اگر میں آپ کا ان کو بتا دیتی تو ماں آپ کو بھی ایسے ہی کسی کو دے دیتی نا پھر آپ کو بھی وہ لوگ بند کر دیتے سارا نے دعا کے آنسوں صاف کرتے ہوئے اتنے پیار سے کہا کے دعا کی آنکھیں پھر سے نم ہوگئی،
علی صاحب نے آگے بڑھ کے دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا،یہ آپ کی آپی ہے ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا علی صاحب نے ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے مسکرا کر کہا،
جی یہ بس میری آپی نہیں ہے مما پاپا سب ہے میں جب چھوٹی سی تھی نا دعا آپی ہمارے گھر آگئی تھی ماں سے ہمیشہ مجھے بچاتی تھی میرے سارے کام بھی کرتی تھی میرا بہت خیال رکھتی تھی سارا نے دعا کے گال پر پیار کیا دعا نم آنکھوں سے مسکرا دی،
پر آپی آپ یہاں کیا کر رہی ہو سارا نے اپنی سب کہانی سنائی تو اسے یاد آیا اس کی آپی تو گاؤں میں تھی،دعا کچھ بتاتی اس سے پہلے بلال آگے آیا اس نے سارا کو اپنی گود میں بیٹھایا،کیوں کے آپ کی آپی اب میری بیوی ہے بلال کی بات پر سارا نے حیرت سے اسے دیکھا،
مطلب آپ نے آپی سے شادی کی ہے واو بھیا سارا نے بلال کے دونوں گال چوم لیے بلال اور باقی سب بھی مسکرا دیے،بھیا آپ بہت اچھے ہے بہت سارا نے بلال کے گلے لگتے ہوئے کہا،
اچھا گڑیا اب آپ اپنی آپی سے باتیں کرو ہم باہر جاتے ہیں بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا دعا ایک دم اٹھی اور بلال کے پیر پکڑ لیے بلال جو باہر جانے لگا تھا دعا کے اس عمل سے سکتہ میں آگیا،
بلال نے جھک کے اسے اٹھایا دعا کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے پیار فخر عزت وہ سب دیکھ سکتا تھا__ یہ میرا فرض تھا بلال نے آرام سے کہا اور باہر چلا گیا صائمہ بیگم اور علی صاحب پہلے ہی باہر جا چکے تھے،
بلال باہر آیا علی صاحب نے اسے گلے لگا لیا مجھے تم پر بہت فخر ہے بیٹا جیسے تم سب نے ان بچوں کو بچایا دعا بیٹی کو اس چاچی سے سیف کیا ہم دونوں کو تم پر فخر ہے کے تم ہمارے بیٹے ہو بولتے بولتے علی صاحب کی آنکھیں نم ہوگئی،
اف پاپا آپ ایموشنل کر رہے ہو بلال نے دور ہوتے ہوئے کہا اور اپنی آنکھیں صاف کی چلو یار مما کھانا تو دو میں نے سہی نہیں کھایا بلال بولتا ہوا صائمہ بیگم کو لیے کچن میں آگیا،
دو گھنٹے گزر گئے تھے دعا اب تک روم میں نہیں آئی تھی بلال کی نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی پتا نہیں کیوں وہ بار بار دعا کے بارے میں سوچ رہا تھا اور دل میں اس نے پکا ارادہ کیا وہ اب کبھی اسے رونے نہیں دے گا،
مجھے نیند کیوں نہیں آ رہی اس مس میوٹ نے تو میری نیندیں اڑا دی بلال بولتے ہوئے سارا کے روم میں آیا روم میں زیرو بلب چل رہا تھا، بلال نے بیڈ پر دیکھا،سارا اور دعا دونوں گھری نیند میں تھی
دعا کا ایک ہاتھ سارا کے بالوں میں تھا ایک سارا کے اوپر بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے آگے بڑھ کر دونوں کے اوپر کمبل ٹھیک کیا،سارا کے ماتھے پر پیار کر کے وہ دور ہونے لگا جب اس پری کی طرف اس کی نظرے گئی بلال نے جھک کے پیار سے دعا کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی اس کے بال کان کے پیچھے کیے اور روم سے باہر آگیا،
***************
دو دن کیسے گزرے کچھ پتا ہی نہیں چلا اب حیا پہلے سے کافی بہتر تھی براڈ اور کیری میری نے اس کی پڑھائی میں ہلپ بھی بہت کی تھی اب حیا کو وہ لوگ اچھے لگنے لگے تھے جب کے بریل اب بھی اسے ان لوگوں سے دور رہنے کی تاکید کرتا رہتا،
آج رات کو تم آرہی ہونا کیری کی بات پر حیا نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا،رات کو کیوں میں سمجھی نہیں،
رات کو پارٹی ہے نیو ئیر کی اور تم آرہی ہو میری نے حیا کی طرف دیکھا،نہیں میں نہیں جاتی پارٹی میں بلکے رات میں تو بلکل کہی نہیں جاتی حیا نے ان کے ساتھ چلتے ہوئے آرام سے کہا،
یار تم آؤ گی ورنہ ہم دونوں تم سے ناراض ہو جائے گے میری نے منہ بنا کر کہا اور تم نہیں آئی تو ہم بھی نہیں جائے گے کیری نے بھی ناراض ہو کر منہ دوسری طرف کر لیا،
حیا نے دونوں کو دیکھا جو اس سے ناراض ہوگئی تھی معصوم حیا کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی،اچھا میں ان سے بات کر کے بتاؤ گی کیری نے اس کی طرف دیکھا کون سے ان سے،
میرے ہسبنڈ سے حیا نے اسے جواب دے کر سامنے دیکھا اسے روہان کی گاڑی نظر آئی یہ لو رات کی پارٹی کا کارڈ براڈ نے کارڈ حیا کے آگے کیا میرا آنا مشکل ہے میں ایسے رات میں کہی نہیں جاتی حیا نے براڈ کو دیکھ کر کیری میری کو جواب دیا،
یایا تم بھی نا بہت سوچتی ہو تمہیں اکیلی کو نہیں آنا اپنے ہسبنڈ کے ساتھ آنا ہے ان کے ساتھ تو آسکتی نا براڈ کی بات پر حیا کے چہرے پر اسمائل آگئی ہاں ان کے ساتھ آسکتی ہوں حیا نے کارڈ ہاتھ میں لے لیا،
پھر رات کو ملتے ہیں حیا نے مسکرا کر ان سب کو بائے کہا وہ ایسے پارٹی میں کہی نہیں جاتی تھی پر روہان کے ساتھ وہ جا سکتی تھی،وہ روہان کے ساتھ کہی باہر جانا چاہتی تھی
اب آج رات آئے گا مزا حیا کے جاتے ہی براڈ نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا ان کے شاطر دماغ میں کیا چل رہا تھا معصوم حیا اس بات سے بلکل انجان نجان تھی.
جاری ہے
