Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
تقریباً آدھی رات ہو رہی تھی وہ دونوں لاونچ میں ہی بیٹھے تھے کل کے پلین کے لیے اپس میں بات کر رہے تھے جب دیوار پھلانگ کے کوئی اندر آیا احمد ایک دم الرٹ ہوگیا جب کے حیدر اب بھی مزے سے بیٹھا تھا،
حیدر تجھے آواز نہیں آئی گارڈن میں کوئی کودا ہے تیرے کان تو ہم سب سے تیز ہیں احمد نے آرام سے کہا اور پاس پڑا گلدان اٹھا لیا جب کے حیدر اب بھی پیپر پر کچھ لکھ رہا تھا،وہی نمونہ ہوگا اور کون حیدر نے بغیر نظرے اٹھائے کہا،
یار تجھے ہر بار کیسے پتا لگ جاتا ہے کہ میں آیا ہوں بلال جو چپ چاپ چھوپ چھوپ کے آراہا تھا حیدر کی بات سن کے سامنے آگیا جب کے احمد تو حیرت سے اس نمونے کو دیکھ رہا تھا،
اگر تجھے آنا تھا تو گیٹ سے آجاتا یہ بندروں کی طرح دیوار سے پھلانگ کے کیوں آیا احمد نے اپنی حیرت کو قابوں پاکر سوال کیا،
اسے عادت نہیں ہے گیٹ سے آنے کی ہمیشہ ایسے ہی آتا ہے نئی بات نہیں ہے حیدر نے نظر اٹھا کے احمد کو دیکھا،
یہ سب چھوڑو یہ بتاوُں تم دونوں اس وقت یہاں کیا کر رہے ہوں اور یہ کیا ہے بلال نے حیدر کے سامنے رکھے ہوئے کاگز کا ڈھیر دیکھا،
کل ہمیں کہی جانا ہے اسی کی تیاری ہے احمد نے بیٹھتے ہوئے کہا،اچھا وہ بس مجھے نیند نہیں آرہی تھی سامنے سے دیکھا لاونچ کی لائٹ اون ہے تو میں آگیا،
کیوں تجھے کل ڈیوٹی جوائن نہیں کرنی جو جاگنی رات منا رہا ہے احمد نے اس پر طنز کیا،
وہ تو مجھے دن میں جانا ہے جب تک میں فری ہوں اگر تمہارا کام ہوگیا تو آجاوُ چھکا دانی کھیلے بلال نے مزے سے سوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا، کیا تیرے ساتھ لیڈو کھیلوں سالا چیٹنگ خور احمد کو اچھے سے پتا تھا یہ کتنی چلاکی سے ہر بار اس سے جیت جاتا تھا،
حیدر نے اپنے تمام پیپر سمیٹے تم دونوں کھیلوں میں تو سونے جا رہا صبح چار بجے اٹھا تھا اب واپس چار بج رہے حیدر نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اور کھڑا ہوگیا،
آجا ہم ڈرائنگ روم میں کھلتے ہیں احمد کے نہ نہ کرنے پر بھی بلال اسے ذبردستی اندر لے گیا حیدر تمام پیپر اندر رکھنے کی نیت سے وہاں سے چلا گیا،
***************
اس کی آنکھ کھولی تو مانوں گلے میں کانٹے چب رہے ہوں اس نے پاس پڑا جگ اٹھایا یہ تو کھالی ہے افف اب باہر سے لانا ہوگا پانی مشعل سوچ کے بیڈ سے نیچے اتری پاس ہی حیا دنیا جہان سے بے خبر مزے سے سوئی ہوئی تھی،
یہ لائٹ کس نے کھولی چھوڑ دی کچن سے پانی پی کر وہ واپس روم میں جارہی کہ اسے سٹور کی لائٹ کھولی ہوئی نظر آئی بند کرنے کی نیت سے وہ سٹور کی طرف چل دی،
اس نے باہر کھڑی ہوکے اندر دیکھا اسے کوئی نظر نہیں آیا شاید غلطی سے کسی نے کھول دی ہو لائٹ یہ سوچ کے مشعل نے باہر کھڑے کھڑے ہی اندر ہاتھ کر کے جیسے ہی لائٹ بند کی اس کا ہاتھ کسی نے پکڑ کے اندر کھینچ لیا اس سے پہلے کے وہ چیخ مارتی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا خوف سے مشعل کی آنکھیں پھیل گئی آندھیرے کی وجہ سے اسے کچھ نظر نہیں آیا،
*************
حیدر جو سٹور کے پیچھے بنی اپنی سیف میں وہ پیپر رکھ رہا تھا کے اسے سٹور کے باہر قدموں کی آواز آئی جیسے جیسے قدموں کی آواز قریب آئی حیدر دروازے کی اوٹ میں چھوپ گیا اتنے میں ایک ہاتھ اندر آیا حیدر نے اسے پکڑ کے اندر کہنچا پر ہاتھ پکڑتے ہی اسے اندازا ہوگیا یہ کوئی لڑکی ہے،
اس سے پہلے وہ چیختی حیدر نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا دونوں میں فاصلہ نہ کے برابر تھا اس نے دوسرے ہاتھ سے لائٹ جلائی سامنے ہی ڈری ہوئی آنکھوں میں خوف لیے مشعل اسے ہی دیکھ رہی تھی،
اتنے قریب سے آج پہلی بار حیدر نے اسے دیکھا بڑی بڑی آنکھیں گلابی رنگت تیکھے نین نقوش بلا شبا وہ بہت حسین تھی،حیدر اس کے چہرے میں کھو سا گیا،
حیدر کو سامنے دیکھ کے اس کا دل جو ایک دفع کے لیے انجانے خیال کے تہت ڈر گیا تھا واپس اس کا خوف کم ہوگیا اس نے حیدر کا ہاتھ ہٹانا چاہا پر حیدر تو کسی اور ہی دنیا میں تھا حیدر نے آرام سے خود ہی اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹایا،
حیدر بھائی وہ میں سمجھی یہ لائٹ جل رہی بند کر دو مشعل نے نیچے نظرے کیے ڈرتے ہوئے کہا مبادہ حیدر غصہ ہی نہ کردے اتنی رات میں ایسے گھر میں گھومنے پر حیدر کی طرف سے جواب نا پاکے اس نے نظر اٹھا کے حیدر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا حیدر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال کی ایک لٹ کان کے پیچھے کی،حیدر کی اس حرکت پر مشعل لانپنے لگی
حیدر بھائی!!! مشعل کے ایک بار اور پکارنے پر حیدر نے مشعل کے چہرے سے نظرے ہٹائی،جاوُ حیدر نے دور ہوتے ہوئے بس اتنا کہا اور پیٹھ موڑ کر کھڑا ہوگیا،
مشعل تو ویسے بھی حیدر کے ایسے دیکھنے پر گھبرائی ہوئی تھی فوراً وہاں سے روم میں بھاگ گئی اور منہ تک کمبل اوڑ کر ایسے سو گئی کے اب کبھی باہر نہیں نکلے گی،
یہ مجھے کیا ہوگیا تھا حیدر نے خود کے بالو میں ہاتھ پھیرا لڑکیوں کو چھونا تو دور وہ تو ان کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا پھر اس پاگل لڑکی کو دیکھ کے مجھے آج کل کیا ہو جاتا ہے حیدر خود سے باتیں کرتے ہوئے اپنے روم میں چلا گیا،
*******************
بلال تو دن میں چلا گیا احمد اور حیدر اپنی تیاریوں میں لگے تھے رات سے مشعل اس کے سامنے نہیں آئی حیا سے اس نے سرسری سا پوچھا تھا مشعل کے بارے میں تو اسے پتا چلا وہ صبح اس کے اٹھنے سے پہلے بلال کے ساتھ گھر چلی گئی،
ایسے کیسے چلی گئی کہی مجھ سے ڈر کر تو نہیں گئی یہ مجھے کیا ہوگیا تھا رات کو اب اس سے مل کے سوری کرنا ہوگا اففف ،
لگتا ہے بھائی تو بھی پاگل ہوگیا خود سے باتیں کر رہا ہے احمد جو اس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھا تھا اسے خود سے باتیں کرتے دیکھ تنگ ہوگیا تھا،
میں بھی سے کیا مراد ہے اور کون پاگل ہے حیدر نے اپنے خیالوں کو جھٹک کر اس سے پوچھا،ہاہاہا اب یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے احمد خود ہی اپنی بات کہ مزے لے کر ہسنے لگا،
جب تم دونوں کی بنتی نہیں تو ایک دوسرے کو انگلی کیوں کرتے ہو مجھے سمجھ نہیں آتی حیدر نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کہا،میں نہیں کرتا ہمیشہ وہ ہی پہل کرتا ہے احمد نے سارا الزام بلال کے سر ڈھالا،
ہاں دیکھ رہا ہے ابھی کون انگلی کر رہا ابھی وہ یہاں ہوتا تو تم دونوں کی لڑائی پکی تھی حیدر نے ایک دم گاڑی روکی چل منزل آگئی سامنے ہی وہی ڈسکو تھا جہاں سے انہیں شکیل کو پکڑنا تھا،
دونوں نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی حیدر نے کیپ کو ترچھا کر کے پہنا ہوا اور احمد نے اپنی کالر کھڑی کر رکھی اس وقت دونوں کسی امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد لگ رہے تھے،
احمد تو اندر اتے ہی ڈانس کرتے کرتے ڈانس فلور پر چڑھ چکا تھا جب کے حیدر بار ٹینڈر کے پاس جا کے بیٹھ گیا، اس نے ڈانس فلور کی طرف دیکھا ہر جگہ بے حیائی تھی لڑکے لڑکیاں نشے میں چور ڈانس کرنے میں مگن تھے وہاں سے نظرے ہٹا کے اس نے یہاں وہاں سب کو دیکھا جب اس کی نظر احمد پر گئی جو سب سے دور اکیلا ناگن ڈانس کر رہا تھا،
ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ حیدر نے نفی میں سر ہلا کر دل میں سوچا ابھی حیدر احمد کو ہی دیکھ رہا جو ناگن ڈانس کرتے کرتے ہاتھ سے کہی اشارہ کر رہا حیدر نے نیچے منہ کیا اور سب کی نظرروں سے بچ کر اس طرف گیا،
شکیل کسی لڑکی کے ساتھ کونے میں سوفے پر بیٹھا تھا اس وقت وہ فل نشے میں لگ رہا تھا،اووئےے وسکی لا کر دے چل شکیل نے حیدر کو ویٹر سمجھ کے آرڈر دیا حیدر نے ہاں میں سر ہلایا اور سامنے سے آتے ہوئے ویٹر سے ٹرے پکڑ لی اور شکیل کی طرف گیا اس نے احمد کو ایک آنکھ سے اشارہ کر دیا،
احمد ڈانس کرتا ہوا حیدر پر گرا جس کی وجہ سے وسکی اس لڑکی پر گر گئی یو بلیڈی اڈیٹ لڑکی غصہ میں بول کے کھڑی ہوگئی ڈارلنگ میں اپنا ڈریس صاف کر کے آئی حیدر کو گھور کے وہ وہاں سے چلی گئی،
سالے جان نہیں ہے پیروں میں اب دفع ہو ایک اور وسکی لا شکیل نے نشے میں اسے دیکھتے ہوئے کہا،
ابھی لاتا ہو حیدر ایک دم اس کے پاس آیا اور اسے سمبھلنےکا موقع دیے بغیر اس کے گردن کی ایک خاص نس دبائی جس سے وہ بیہوش ہوگیا،
احمد اور حیدر نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا اور یہاں وہاں دیکھتے ہوئے اسے باہر لے کر جارہے یہاں کے لیے یہ سب آم بات تھی روز ایسے ہی لڑکے لڑکیاں نشے میں بیہوش ہوجاتے اور ان کے دوست انہیں خود پر ڈھال کے لے جارہے ہوتے،
اس کے ہاتھ پیر باندھ کر اسے پیچھے ڈگی میں ڈھالا اور دونوں گاڑی میں آکے بیٹھ گئے ان کا کام ہو چلا تھا اب ان کا رُخ آرمی کیمپس تھا
******************
دونوں باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے شکیل کو پکڑتے پکڑتے انہیں صبح ہوگئی تھی تھوڑی دیر میں سورج کی روشنی چاروں اور پہیل گئی ہفتے کا دن اس آدمی کو پکڑنے میں نکل گیا بس آج کا دن بچا ہے کل تو فنشن ہے رخستی کا اتنے کام پڑے ہیں برہان بھائی اکیلے سب کیسے دیکھے گے حیدر پاس بیٹھا بول رہا تھا اور احمد اسے سنتے ہوئے گاڑی چلا رہا،
تو دو دن کی چھٹی لے لو تم سارے کام کرلو ڈیوٹی تو کرنی ہی ہے احمد نے اس کی طرف دیکھا،نہیں یار میری آنکھوں کے سامنے وہ معصوم بچے گھوم رہے ہیں جو پتا نہیں کب کب سے غائب ہے اور کیا کیا سہے رہے ہیں ایک بار مجھے پتا لگ جائے وہ کون ہے میں اسے اس کے انجام تک پہنچا دوگا حیدر نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا احمد اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکا،
اسے میں لے جاوُ گا تم گھر چلے جاوُ احمد نے کچھ دیر سوچ کے کہا،پہلے میں پتا لگاوُ گا کون ہے اس سب کے پیچھے جب ہی مجھے چین آئے گا حیدر نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لیا،
احمد جانتا تھا وہ دن رات بس ان معصوم بچوں کے بارے میں سوچتا ہے اسے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں تھی اسی لیے وہ حیا کی شادی بھی جلدی کر رہا تھا تاکہ اس مشن میں اسے شہید بھی ہونا تو پڑے وہ خوشی خوشی ہوجائے اس لیے اس کا دھیان بٹانے کے لیے بلال اور وہ دونوں اسے تنگ کرتے تھے،
حیدر وہ دیکھ تیری کزن احمد کی آواز پر حیدر نے آنکھیں کھول کے اس طرف دیکھا جہاں احمد نے اشارہ کیا مشعل یہاں!!!!ایسا کر تو اس آدمی کو لے کے جا میں آتا ہوں،اس کے ساتھ ہم یہاں نہیں رک سکتے حیدر بولتا ہوا نیچے اترا اسے کمپس میں نہیں بلکہ اپنی خاص جگہ لے جانا حیدر کے کہنے پر احمد نے ہاں میں سر ہلایا اور گاڑی بھاگا لے گیا،
*****************
رات اپنے اسائمنٹ کی تیاری کرتے کرتے اسے پتا ہی نہیں لگا وہ اور مہک کب سو گئے اس کی آنکھ تو فجر میں کھولی او شٹ!! میں نے کہا تھا رات تک آجاو گی پر یہ تو صبح ہوگئی مما تو پریشان ہوگئی ہوگی مشعل نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا اور فوراً باہر آئی
اتنی جلدی اٹھ گئی بیٹا مہک کی مما نے مشعل کو پیار سے دیکھا انٹی پتا نہیں کیسے میں سو گئی میں نے کہا تھا میں رات کو ہی آجاو گی واپس مشعل کے چہرے پر پریشانی تھی،
بیٹا پریشان نہیں ہو آپ کی مما کا رات کو فون آیا تو میں نے بتا دیا آپ سو گئی ہو اس لیے پریشانی والی کوئی بات نہیں مہک کی ماما نے آرام سے بتایا،اچھا انٹی پر مجھے گھر جانا ہے ابھی،
پر بیٹا ابھی تو فجر کا ٹائم ہے آپ کیسے جاوُ گی اکیلی مہک بھی سو رہی ہے ویسے بھی آج سنڈے ہے آپ آرام سے ناشتا کرکے جانا انہوں نے کچن سے باہر آتے ہوئے کہا
نہیں انٹی آپ کو تو پتا ہے کل حیا کی رخستی ہے مجھے اور حیا کو شوپنگ پر جانا اور بھی بہت کام ہے اس لیے مما بہت ڈانٹے گی مجھے ابھی جانا ہے ناشتا میں وہی کر لوگی،اچھا رکو ایسے اکیلے تو میں نہیں بھیجوں گی ایسا کرو نومان نماز پر گیا ہے آنے والا ہوگا اس کے ساتھ چلی جانا انہوں نے اپنے بیٹے کا حوالہ دیا،
نومان بھائی کے ساتھ!!!مشعل اور مہک کی دوستی بچپن سے تھی وہ ایک دوسرے کے گھر اکثر رک جاتی تھی مہک کا گھر فاصلہ پر تھا اس لیے وہ ڈرائیور کے ساتھ ہی جاتی آتی تھی پر رات مہک نے کہا کے وہ نومان بھائی کے ساتھ مل کے اسے گھر چھوڑ دے گی اس لیے اس نے اپنے ڈرائیور کو بھیج دیا،اور رات پڑھتے پڑھتے وہ۔کب سو گئی اسے پتا ہی نہیں چلا پر نومان کے ساتھ کبھی اکیلی نہیں گئی تھی اب جائے یا نہیں مشعل نے کچھ دیر سوچا پھر انٹی کو ہاں بول کے پاس ہی بیٹھ گئی،
نومان کے آتے ہی مشعل اندر سے اپنا بیگ لے آئی نومان کافی سیدھا سادھا پچیس سال کا نوجوان لڑکا تھا ابھی وہ آدھے راستے ہی پہنچے تھے کے گاڑی رک گئی افف یہ کیا ہوگیا نومان بھائی مشعل نے پریشانی سے نومان کو دیکھا،
تم بیٹھوں میں دیکھتا ہوں نومان نے باہر جاکے چیک کیا مشعل وہ مجھے تو سمجھ نہیں آرہا اس میں کیا مصلئہ ہے تم بیٹھوں پاس ہی مکینک کی دکان ہے میں اسے لے کر آتا ہوں مشعل کے ہاں میں سر ہلانے پر وہ چلا گیا،
صبح صبح کا وقت تھا اور رستہ بھی سنسان تھا کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اسے سکون دے رہی تھی کچھ سوچ کے وہ گاڑی سے باہر آگئی چڑیوں کی چوچو نے اس کا استقبال کیا۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے چھو کے گیا اس نے اندر سانس لے کے ٹھنڈی ہوا کو خود میں منتقل کیا،
تم باہر کیوں نکل گئی منا کیا تھا نہ نومان بولتا ہوا پاس آگیا مشعل کوئی جواب دیتی اس سے پہلے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا،
حیدر جو مشعل کو ایسی سنسان جگا دیکھ کے گاڑی سے اتر کر اس کی طرف آرہا تھا کے کوئی لڑکا مشعل سے بات کرنے لگا یہ دیکھ کے اس کی آنکھوں میں غصہ آگیا اس نے آگے بڑھ کے مشعل کا ہاتھ پکڑا،
یہاں کیا کر رہی ہو ہاں حیدر نے بغیر نومان کی طرف دیکھیں اس سے غصے میں سوال کیا،آپ کون ہیں مسٹر یہ میرے ساتھ ہے ہاتھ چھوڑے ان کا نومان کو بھی غصہ آگیا ایک تو اس وقت مشعل اس کی زمیداری تھی دوسرا حیدر اپنے ہولیے سے کہی سے بھی ایک شریف انسان نہیں لگ رہا تھا،
نومان نے آگے بڑھ کے مشعل کا ہاتھ پکڑنا چاہا کے حیدر نے مشعل کو کہنچ کے خود کے قریب کر لیا ڈونٹ ٹچ ہر!! حیدر نے دانت پیس کر غصے سے کہا اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کے نومان کو مارتا مشعل نے حیدر کا بازو پکڑ لیا
نہیں حیدر بھائی یہ نومان بھائی ہیں اس نے جلدی سے کہا حیدر کے غصے سے وہ واقف تھی کون نومان حیدر نے بھوُین اچکا کر پوچھا،
مشعل نے جلدی سے اسے ساری بات بتادی کے وہ یہاں نومان کے ساتھ کیوں ہے نومان کون ہے سب سن کے حیدر تھوڑا ٹھنڈا ہوا،
مشعل نے نومان سے بھی حیدر کا تعرف کر وایا سوری برو میری بہن کی دوست ہے تو میری بہن بھی ہے اس وقت میری ذمیداری بھی اس لیے غصہ آگیا نومان ویسے بھی سیدھا بندہ تھا فوراً معذرت کر لی،
کوئی بات نہیں ہم چلے جائے گے میں اسے چھوڑ دوگا گھر آپ گاڑی ٹھیک کروالیں آرام سے اور آپ کا بہت بہت شکریہ حیدر نے بھی آرام سے کہا پر اس کا چہرا اب بھی سریس تھا
نومان سے ہاتھ ملا کے وہ مشعل کو لیے آگے بڑھ گیا مشعل نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو اب بھی حیدر کے ہاتھ میں تھا،اس کا دل پتے کی طرح کانپ رہا تھا،حیدر بھائی میرا ہاتھ!!!!مشعل نے حیدر کا دھیان اپنے ہاتھ کی طرف دلایا حیدر کی گرفت اتنی مضبوط تھی کے اسے لگ رہا تھا اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی،حیدر نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا پھر اس کی طرف رُخ کیا،
کیوں آئی تم کسی غیر کے ساتھ ہاں حیدر دھاڑا!! اس کے ہارجانا انداز کو دیکھ کے مشعل کی آواز حلق میں ہی کہی دب گئی،حیدر کو اس کا نومان کے ساتھ آنا ایک آنکھ پسند نہیں آیا تھا،
پر حیدر بھا!!!!مشعل کچھ بولتی اس سے پہلے حیدر نے اپنی انگلی مشعل کے ہونٹوں پر رکھ دی اس وقت سڑک پر کوئی نہیں تھا گاڑیاں بھی نہ کے برابر تھی،آئندہ مجھے بھائی کہا تو دیکھنا حیدر نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑا اور آگے بڑھ کے کوئی ٹیکسی روکنے لگا،
مشعل کی تو آنکھیں پانیوں سے بھر گئی اب مجھ سے اتنی بڑئی غلطی بھی نہیں ہوئی تھی کے حیدر بھائی مجھ سے سب رشتے ختم کر رہے مشعل نے اوداسی سے دل میں سوچا،
حیدر ٹیکسی کا گیٹ کھول کر کھڑا ہوگیا کچھ دیر میں ہی اسے ٹیکسی مل گئی مشعل جلدی سے آکے بیٹھ گئی اس وقت تو اس میں بلکل ہمت نہیں تھی اس آرمی کے بندے کو کچھ بولنے کی،حیدر بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا،
سوری مشعل نے نیچے نظرے کیے کہا جیسے اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہو حیدر نے اس کی طرف دیکھا،مجھے کیا ہوگیا اتنا غصہ کیوں کر رہا ہوں جبکے میں مشعل کو جانتا ہوں وہ کتنی سیدھی ہے اور پرسوں رات کے لیے مجھے اس سے سوری کرنی تھی الٹا یہ مجھ سے سوری کر رہی حیدر نے دل میں سوچا پھر سوری کرنے کے ارادے سے کچھ بولنے لگا کر مشعل کی آواز اس کے کانوں میں پڑی،
سوری آپ مجھے معاف کردے پر میری غلطی اتنی بڑی نہیں کہ آپ مجھ سے سب رشتے ختم کر لیں مشعل نے آنکھوں میں آنسوں لیے کہا جب کے حیدر نے اسے حیرت سے دیکھا،میں نے کب تم سے سب رشتے ختم کیے حیدر کو اس کی بات ہی سمجھ نہیں آئی،
ابھی تو آپ نے باہر کہا کے اب مجھے بھائی نہیں بولنا مشعل نے اس کی طرف دیکھ کے شکوا کیا اور حیدر کا دل کیا اپنا ہی سر پھوڑ لے،اس نے کس جزبے کے تہت کہا اور اس نے اس کے جزبے کی ایسی کی تیسی کر دی،
جاوُ تمہارا گھر آگیا اندر جاوُ،حیدر نے خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا حیدر کا سرئیس چہرا دیکھ کے وہ چپ چاپ اندر چلی گئی جب کے حیدر نے ٹیکسی کو اپنے گھر کی طرف جانے کو کہا،اب تو تم سے جب ہی بات ہوگی جب تم میری بن جاوُ گی یہ سوچ زھن میں آتے ہی حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
*******************
احمد نے اسے کرسی سےباندھ دیا اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھوڑی ہی دیر میں اسے ہوش آگیا،کون ہو تم لوگ کیوں لائے ہو مجھے وہ تیز سے چیخا رات کو نشے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے چہرا نہیں دیکھ سکا تھا،
تیرے باپ احمد نے اسی انداز میں جواب دیا اور اس سے کوئی بھی سوال جواب کیے بغیر اسے خوب مارا پھر اس کے سر پر کوئی چیز دے ماری جس سے وہ واپس بیہوش ہوگیا،حیدر نے کہا تھا وہ خود اس آدمی کو ڈیل کرے گا اس لیے احمد نے اسے پھر سے بیہوش کر دیا،
ہاں حیدر اب اسے کل ہی ہوش آئے گا میں ایک کام سے جا رہا ہوں تب تک تو آکے دیکھ لینا احمد نے فون پر اسے بتا کے ایک نظر اسے دیکھا پھر رکھ کے ایک اور چماٹ اس کے چہرے پر لگایا دل تو کر رہا تھا کے جان سے مار دے اسے پر یہ ان کے کام کا آدمی تھا
احمد گیٹ لوک کر کے باہر چلا گیا شکیل نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی اور واپس ااپنے ہوش و ہواس سے بیگانا ہو گیا
********
گھر آنے کے بعد اس نے ناشتہ کیا کے اسے احمد کی کال آگئی ابھی وہ شکیل سے ملنے جاتا پر حیا نے ضد کرلی کے وہ شوپنگ اسی کے ساتھ جائے گی ورنہ نہیں اس لیے حیدر کو نہ چاہتے ہوئے بھی رکنا پڑا ویسے بھی حیا کچھ دن میں اس سے دور چلی جائے گی یہ سوچ آتے ہی حیدر کے دل میں ایک چبن سی ہوتی پر اس کی گڑیا سیف ہاتھوں میں ہوگی یہ سوچ کے اسے اطمینان ہوجاتا،
کیا ہوا گڑیا چلنا نہیں ہے کیا مجھے ایک کام سے بھی جانا ہے چندا حیدر نے روم میں آکر جھانکا حیا میڈم فل ریڈی سوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ہمیشہ کی طرح اس نے اسکاف لیا ہوا تھا پر آج اس نے وائٹ سوٹ کے سات وائٹ ہی اسکاف لیا ہوا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی،
گڑیا آپ تو بلکل ریڈی ہو پھر باہر کیوں نہیں آرہی حیدر نے اس کے پاس آکے کہا، وہ بھیا مشعل بھی آئے گی میں اس کا ویٹ کر رہی ہوں حیا نے نیچے منہ کرے ہی جواب دیا،
تو آپ باہر آکے بتا دیتی آپ تیار ہوکے اندر ہی بیٹھی ہو حیدر بھی اسی کے پاس بیٹھ گیا،اگر میں بتا دیتی تو آپ مشعل کو چھوڑ کے چلے جاتے نا جو لوگ ٹائم کی قدر نہیں کرتے وہ آپ کو اچھے بھی نہیں لگتے اس لیے میں باہر نہیں آئی حیا کی بات پر حیدر کے چہرے پر اسمائل آگئی،
اچھا بھئی آپ کی دوست کا ویٹ کرتے ہیں حیدر نے بول کے سوفے کی پشت سے ٹیک لگا لیا اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنا سر سلو سلو دبانے لگا شکیل کی وجہ سے پوری رات نکل گئی تھی اور صبح سے وہ انوشے اور حیا کے ساتھ وقت گزار رہا تھا اسے سونے کا بلکل ٹائم نہیں ملا اس لیے اس کے سر میں بھی درد ہونے لگا تھا،
بھیا آپ کے درد ہورہا سر میں حیا کے چہرے پر فوراً پریشانی آگئی، ارے نہیں گڑیا بس ہلکا سا ہے ٹیبلیٹ لوگا ٹھیک ہو جاوُ گا حیدر نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا، اچھا میں ابھی لائی ٹیبلیٹ حیا فوراً اٹھ کے باہر بھاگی اپنے بھیا کی وہ اتنی سی بھی تکلیف نہیں دیکھ سکتی تھی،
حیدر نے واپس آنکھیں بند کر کے سوفے کی پشت سے ٹیک لگایا ہی تھا کے کسی نے ایک دم گیٹ کھولا،
دیکھ یار ناراض نہیں ہونا تمہیں نہیں پتا آج کیا کیا ہوا میں اسی لیے لیٹ ہوگئی میری تو صبح بھی آرمی کے بندے کی وجہ سے____مشعل اپنے ہی دھیان میں بولتی ہوئی آرہی تھی وہ اور بھی بولتی اگر اس کی نظر حیدر پرنہیں پڑتی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا،
حیدر بھا!!!!!وہ حیا کہا ہے اور آپ یہاں حیدر کے گھورنے پر مشعل نے فوراً بھائی لفظ کو کاٹ دیا،اور نیچے نظرے کیے آرام آرام سے کہا جب کے کچھ دیر پہلے اس کی آواز سے دیوارے بھی ہل رہی تھی،
بلیک کلر کی کُرتی پہنے سر پر سلیقے سے ڈوپٹہ لیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی،حیدر کھڑا ہوکے اس کے پاس آیا، جیسے جیسے حیدر پاس آرہا وہ اپنے قدم پیچھے لے رہی کے اتنے میں حیا آگئی بھیا!!پانی اور گولی حیدر نے چپ چاپ سوفے پربیٹھ کے گولی لی،حیا کے ایک دم آنے پر مشعل کو حیا پر بے حد پیار آیا،
بھیا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو ہم نہیں جاتے حیا کے چہرے پر فکر تھی،نہیں گڑیا کل تو آپ کو جانا ہے اس لیے آج ہی جانا ہوگا چلو میں ٹھیک ہوں،
آپ بھی جاوُ گے مشعل کے منہ سے ایک دم نکل گیا پر حیدر کے گھورنے پر وہ فوراً اپنی زبان دانتوں تلے دبا کے روم سے باہر بھاگی ،اللّه اس ہٹلر سے بچالو اس کی بڑبڑاہٹ اتنی انچی ضرور تھی کے حیدر کے تیز کانوں نے سن لی
جاری ہے
