Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہم کہا جارہے حیا نے نیچے نظرے جھکائے تھوڑا ڈرتے ہوئے سوال کیا اتنی دیر سے روہان گاڑی چلا رہا تھا پر اس نے ایک لفظ نہیں کہا تھا اب بھی وہ حیا کو جواب دینے کی جگہ گاڑی چلا رہا تھا،حیا نے نظرے اُٹھا کے اپنے مزاجی خدا کو دیکھا جو ماتھے پر بل ڈھالے گاڑی چلا رہا تھا حیا پھر سے سوال کرنا چاہتی تھی پر روہان کے چہرے کی سختی اسے اندر تک ڈرا رہی تھی،
اس نے شادی میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا اور اب صبح ہونے کو تھی اسے یاد ہے سب نے اتنا فورس کیا تھا پر اس نے ناشتے کے بعد کچھ نہیں کھایا تھا حیا نے ہمت کر کے ایک بار پھر روہان کو دیکھا،
سن__سنیں__ تم چپ کر کے نہیں بیٹھ سکتی دیکھ نہیں رہا میں گاڑی چلا رہا ہوں حیا جو اپنی بھوک کا کہنے والی تھی ایک دم چُپ۔ ہوگئی ہاں بے فکر رہوں تمہیں کہی پھنکنے نہیں جارہا روہان نے اتنے سخت لہجے میں کہا حیا ایک دم ڈر کے پیچھے ہوئی پر روہان کا اس کی طرف منہ نہیں تھا ورنہ وہ دیکھتا حیا اس وقت کیسے کانپ رہی ہے،
حیا نے اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش کی پر انہوں نے رکنے کا نام نہیں لیا ایک کے بعد ایک آنسوں اس کی آنکھ سے گرنے لگا اوپر سے بھوک سے برا حال تھا پر اس بار حیا نے کچھ بھی کہنے سے خود کا باز رکھا،اسے اپنے بھیا کی بے حد یاد آرہی تھی وہ کیسے اسے ہاتھوں میں رکھتے تھے،اللّه میرے بھیا کا خیال رکھنا
******************
احمد نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اب بول کیا بول رہا تھا احمد کی آواز پر حیدر اور بلال دونوں نے آنکھیں کھولی سامنے ہی احمد سعد کو پکڑے کھڑا تھا اور سعد گوٹھنے کے بل بیٹھا ہوا تھا اس کے پیر میں گولی لگی تھی پر گولی ماری کس نے حیدر نے یہاں وہاں دیکھا،
وہ جو کرتے ہیں ہمیں مٹانے کے دعوے
شاید واقف نہیں ہمارے حوصلوں سے
میرا نشانا___اب بھی بہت___اچھا ہے سر عدنان کی آواز پر حیدر نے اس کی طرف دیکھا جس نے کب اپنے پیر سے چھوٹی گن نکال کے سعد کے پیر پرنشانا لیا انہیں خبر بھی نہ ہوئی،
جلدی سے بلاوُ ایمبولینس کو حیدر نے میجر صمد کی طرف دیکھا اور عدنان کا سر آرام سے ایک کشن پر رکھا،
اب بول کیا بول رہا تھا حیدر نے سعد کو بالوں سے پکڑ کے اس کا سر اونچا کیا جو گٹھنے کے بل بیٹھا تھا اور اس کے دونوں ہاتھ احمد نے پیچھے کر کے پکڑے ہوئے تھے بچوں پر ظلم کرے گا حیدر نے اپنا جوتا سعد کے پیر پر رکھا جہاں گولی لگی تھی سعد کی چیخ پوری حوہلی میں گھوم گئی،
ہم تیری جوتی کے برابر ہے حیدر نے بولتے کے ساتھ اس کا پیر مسلا سعد کے حلق سے ایک درد ناک چیخ نکلی
**************
بلال اس بچی کو دیکھنے کے لیے اس روم کی طرف بڑھا جہاں اس نے اس بچی کو لوک کیا تھا،
بلال روم میں آیا اسے وہ چھوٹی بچی کہی نظر نہیں آئی گڑیا بلال کو اس کا نام تو معلوم نہیں تھا اس لیے اسے گڑیا کہہ کر پکارا پھر بھی اسے وہ بچی نظر نہیں آئی وہ تھوڑا آگے آیا تو بچی بیڈ کے پاس چھوپی ہوئی تھی،کسی کی قدموں کی آواز سن کے وہ اور کونے میں چھوپ گئی
پر سامنے بلال کو دیکھتے ہی وہ بچی بھاگ کے اس کے گلے لگ گئے بلال نے اسے گود میں اٹھایا ڈرو نہیں گڑیا میں ہونا بلال نے پیار سے اس کے بال سہلائے اسے وہ پل یاد آیا جب سعد نے اس بچی کے بال پکڑے ہوئے تھے، بلال کی آنکھوں میں غصہ صاف دیکھائی دے رہا تھا پتا نہیں اسے یہ بچی خود سے اتنی قریب کیوں لگ رہی تھی،
آپ کا نام کیا ہے گڑیا بلال نے اسے بہلانے کے لیے اس سے باتیں اسٹارٹ کی، کیوں کے بچی بہت ڈری ہوئی تھی دو پونی بنائے پنک فراک جو اب بہت میلی ہو رہی تھی بال بھی پونی سے سارے بکھرے ہوئے تھے،
سارا___بچی نے گلے لگے لگے ہی جواب دیا شاید رو رو کے بچی کا گلا بیٹھ چکا تھا اس لیے اس کی آواز بھاری ہورہی تھی،
واہ_ہ یہ تو بہت پیارا نام ہے بلال اسے لیے باہر آگیا، اچھا آپ کتنے سال کی ہو بلال نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھرتے ہوئے کہا
ایٹ ائیر اووو اچھا اٹھ سال کی ہو واہ بھئی آپ تو چھوٹی سی ہو دیکھنے میں تو بلال نے اس سے پھر باتیں کی__نہیں میں تو اٹھ سال کی ہوں اس بار بچی نے اپنی آٹھ اُنگلیا دیکھاتے ہوئے کہا،
*****************
بچوں کا سودا کرتے ہو حیدر نے دھار والا چاکو لے کر اس کے چہرے کو چیرا اس کی درد ناک چیخے تھی اور حیدر کا غصہ تھا،
حیدر کے اشارے پر احمد اس کے ہاتھ چھوڑ کے پیچھے ہو گیا تھا،ان آنکھوں سے بچوں کو گندی نظر سے دیکھتا نا تو حیدر نے بولتے کے ساتھ ہی چاکو اس کی آنکھ میں ڈھال دی سعد کی درد ناک چیخ نکلی درد سے وہ تڑپنے لگا
میجر صمد کے ہیڈ آفس میں اطلاع کرنے سے کچھ دیر میں گاڑیا اور ایمبولینس آگئی،احمد اور صمد نے عدنان کو ایمبولینس میں بیٹھایا،
ان ہاتھوں سے تو بچوں کو ہاتھ لگاتا نا حیدر نے بولتے کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے گوٹھنے پر رکھ کے توڑ دیا پھر دوسرا ہاتھ بھی ایسے ہی توڑا،سعد کے منہ سے جانوروں جیسی آوازے نکلنے لگی اور وہ نیچے گرا حیدر نے دو سیڑیا چڑھ کے اس پر جھمپ لگائی اور حیدر کا گوٹھنا سیدھا اس کے دل میں لگا ایک لمبا سانس لے کر سعد نے دم توڑ دیا،
سب بچوں کو گاڑی میں بیٹھا دیا احمد نے اندر آکے حیدر سے کہا جو اب بھی سعد کو غصے سے لات مار رہا تھا اسے بھی اٹھا حیدر نے احمد کی طرف دیکھا اور باہر آگیا،
بلال جب تک سارا کو لیے باہر آیا،بلال نے اسے باقی بچوں کے ساتھ بیٹھانا چاہا پر اس نے بلال کو نہیں چھوڑا،اور بلال کے گلے میں ہاتھ ڈھال کے واپس اس کے گلے لگ گئی،
رفیق بلال اور احمد نے سب بچوں کا گاڑیوں میں بیٹھایا
احمد تم لے جاوُ ان بچوں کو ایک گاڑی رفیق لے جاچکا تھا ایک احمد لے گیا بلال سارا کو لیے اپنی آرمی جپ میں بیٹھ گیا،اب اس کا رُخ اپنے گھر کی طرف تھا، حیدر اور صمد عدنان کو ایمبولینس میں لیے ساتھ چلے گئے،
****************
گاڑی ایک جھٹکے سے روکی حیا نے نظرے اٹھا کے دیکھا تو وہ لوگ ائر پورٹ پر تھے اس نے روہان کی طرف دیکھا جو گاڑی سے باہر نکلا سامنے ہی ڈرائیور تھا روہان نے اسے چابی دی اپنا اور حیا کا سامان نکالا حیا اب تک گاڑی میں تھی،
تمہیں باہر آنے کی دعوت دوں روہان کے طنز پر حیا جلدی سے باہر آئی روہان اسے پیچھے آنے کا اشارا کیے آگے بڑھ گیا،
کب اندر داخل ہوئے کب سامان اندر گیا کب بورڈنگ پاس کر کے وہ لوگ اندر آئے حیا کو کچھ معلوم نہیں اس کا دل تو پتے کی طرح کانپ رہا تھا،
روہان کسی کام سے اٹھ کے گیا تو حیا نے پرس سے جلدی سے اپنا موبائل نکالا جسے وہ رخستی کے وقت ساتھ لائی تھی اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے کال ملائی پر حیدر کا نمبر بند جا رہا تھا،
بھیا کال اٹھاوں یہ مجھے پتا نہیں کہا لے جارہے آپ نے کہا تھا مجھے ان کی ہر بات ماننی ہے بھیا پلز آجاوُ حیا آنسوں کے درمیان بس حیدر کو پکار رہی جو اس وقت اپنے ملک کے بچوں کو بچانے میں مصروف تھا
****************
حیدر عدنان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اس سے باتیں کر رہا تھا تاکہ وہ ہوش میں رہے،تم بلکل ٹھیک ہو جاوُ گے ہمت رکھوں حیدر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا،
میجر عدنان حیدر نے اس کا گال ہلایا اس نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی، سر میں__ نے اپنی بہن__ سے کیا وعدہ__ پورا کیا نیم غنودگی میں عدنان نے اٹک اٹک کر کہا،
ہاں تم نے بہت سی ماں کے بچوں کو بچایا ہے تمہاری بہن اب تم سے ناراض نہیں ہوگی بلکہ تم پر فخر کرے گی حیدر نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا،
عدنان نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھول کے حیدر کو دیکھا سر میری بہن کو___کہنا میں___ پری کو نہیں پر___ پری جیسی بہت سی بچیوں کو بچا_____عدنان کا سانس اوکھڑا___ لا الہ الاٰ اللہ___محمد رسول اللّه عدنان نے کاپتی آواز میں کلمہ پڑھا
عدنان ہمت رکھوں ہم کچھ دیر میں ہاسپیٹل ہوگے حیدر نے اسے حوصلہ دیا،پر میجر عدنان کی آنکھیں ساکت ہو چکی تھی
عدنان!!!حیدر نے اسے پکارا پر میجر عدنان کی سانسیں بند ہوچکی تھی پر چہرے پر بے انتہاں سکون تھا حیدر نے اپنے ہاتھ سے عدنان کی آنکھیں بند کی
لفظ فوجی!
جو اپنی مٹی کے عشق میں خود کو مٹی کردے…
اور ماتھے پر شکایت کے آثار نہ ہو
حیدر کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے، اس نے خود کو رونے سے باز رکھا ان کا ساتھی شہید ہوا تھا اسے شہادت جیسا رتبہ ملا تھا،
زلزلوں کی نہ دسترس ہو کبھی
اے وطن تیری استقامت تک
ہم پہ گزریں قیامتیں لیکن
تو سلامت رہے قیامت تک
اوُ حیا کان سے فون لگائے مسلسل حیدر کو دل میں پکار رہی تھی،کہ ایک دم اس کے ہاتھ سے کسی نے فون چھینا حیا نے ڈرتے ڈرتے نظرے اٹھا کے دیکھا روہان ہاتھ میں فون لیے غصے سے اسے گھور رہا تھا،
کہا سے آیا فون روہان نے پاس بیٹھے لوگوں کا خیال کرکے اپنی آواز کو آہستہ رکھا پر اس کی آنکھوں میں غصہ صاف نظر آرہا تھا،
وہ۔۔وہ حیا کچھ بولتی اس سے پہلے روہان نے موبائل اوف کر کے جیب میں رکھ لیا حیا کی نظرے تو بس اپنی موبائل پر تھی اب وہ بھیا سے رابطہ کیسے کرے گی،
یہ پکڑو روہان کی آواز پر حیا نے آنسوں سے بھری ہوئی آنکھیں اُٹھا کے روہان کو دیکھا جو دیکھ کسی اور کو رہا تھا اور کوئی شوپر اسے دے رہا تھا حیا نے جھجھکتے ہوئے شوپر پکڑ لی حیا کے شوپر پکڑتے ہی روہان تھوڑے فاصلے پر رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا،
اس نے شوپر اپنی گود میں رکھ کے کھولی اس میں کھانے پینے کی کافی چیزے تھی حیا نے حیرت سے سامنے دیکھا جہاں روہان ٹانگ پر ٹانگ رکھے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا صاف رنگت بلو آئیس اور چہرے پر بے انتہا سنجیدگی،
ویسے بھی اسے اتنی بھوک لگی تھی وہ سب بھول کر اس میں سے جوس نکال کر پینے لگی کچھ دیر میں ان کے نام کی اناوسمینٹ ہوگئی روہان فون پر کسی سے بات کر رہا تھا،جب اس کی نظر سامنے گئی جہاں ایک لڑکا حیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور حیا نظرے جھکائے تھوڑا ڈری ہوئی کھڑی تھی،
سوزی میں بعد میں بات کرتا ہوں فون رکھ کے روہان حیا کی طرف آیا اور کھینچ کے اس لڑکے کو دور کیا،اور اسے غصے سے دیکھا کیا مصلہ ہے مسٹر،
سوری سر میں تو بس انہیں بتانے آیا تھا کے فلائٹ کی اناوسمینٹ ہوگئی ہے روہان کو اتنی غصے میں دیکھ لڑکے نے جلدی سے وضاحت دی،
یہ تمہارا مصلہ نہیں ہے اب جاوُ یہاں سے روہان نے غصے سے اس لڑکے کو دیکھا اور حیا کا ہاتھ پکڑ کے آگے بڑھ گیا،حیا تو کسی بے جان گڑیا کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی چلی گئی،
****************
فجر کی آزان ہوگئی تھی صائمہ بیگم نماز پڑھ رہی تھی جب دروازا بجا انہوں نے سلام پھیر کے جائے نماز سمیٹ کے رکھی اور دروازہ کھولنے چلی گئی،
بیٹا آگے تم بلال کو اپنے سامنے دیکھ کے صائمہ بیگم نے اس کے سر پر پیار کیا،یہ کون ہے ان کی نظر اس بچی پر گئی جو بلال کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی،
مما اندر تو آنے دیں بلال کے کہنے پر صائمہ بیگم نے جلدی سے اندر آنے کا رستہ دیا،مما آپ اسے نہلائے اور کچھ کھانا وغیرہ کھلائے میں ایک کام سے جارہا ہوں بلال نے پانی پی کر اپنی پیاری مما کو دیکھا،
پر بیٹا بتاوُ تو یہ کون ہے اس وقت دونوں ماں بیٹے کچن میں کھڑے تھے مما ہم نے ایک مشن کیا تھا یہ بچی وہاں سے ملی ہے اس کا نام سارا ہے جب تک اس کے گھر والوں کا نہیں معلوم ہوتا آپ اس کا خیال رکھے،
اچھا پر میں اسے پہناوُں کیا اپنے کون سے بچے ہیں چھوٹے صائمہ بیگم نے فکر مندی سے پوچھا،او ہو مما آپ پریشان بہت ہوتی ہے ابھی آپ انوشے کا کوئی ڈریس پہنا دیں آتے ہوئے میں اس کے لیے کچھ نیو ڈریس لے آوُ گا بلال کی بات پر انہوں نے ہاں میں سر ہلایا،
چھوٹی گڑیا میں ایک کام سے جارہا یہ میری مما ہے آپ کا بہت سارا خیال رکھے گی ٹھیک ہے سارا نے اچھے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا بلال اس کے گال پر پیار کرکے باہر آگیا
**************
بے خود چلے سنگینوں پر اور روک لی گولی سینوں پر!
لکھا ہے ہماری جبینوں پر’ ہم سر کو جھکانا کیا جانیں!
اس وقت سب عدنان کے گھر موجود تھے پرچم میں لپٹا جب وہ گھر آیا ان کے گھر میں قحرام مچ گیا ہر آنکھ نم تھی عدنان کی فیملی کو اس پر بہت فخر تھا
ہم چشمے کوہستانوں کے، ہم بیٹے سخت چٹانون کے
سوہنی دھرتی کے پالے ہم، جانباز ، دلیر جیالے ہم
آنکھوں میں آنسوں تھے پر چہرے پر فخر تھا جب انہیں معلوم ہوا ان کا بیٹا،بھائی کیسے شہید ہوا انہیں اس پر ناز تھا
جاں واری تھی جاں وارے گے،
تجھے اپنے لہو سے سنوارے گے..
آج موسم بھی بہت خراب تھا تیز ہوا کے ساتھ بجلی بھی کڑک رہی تھی میجر عدنان کو خاک کے سپرد کرکے ان سب نے ایک ساتھ سلیوٹ مارا،
پاو گے ہم سے بچھڑ کر بھی ہم کو آس_پاس
ہر چیز میں زندگی کی جھلک چھوڑ جائیں گے
ان سب کو اپنے ساتھی پر فخر تھا آج ان کا ایک اور ساتھی شہید ہوگیا تھا شہادت کے لیے تو وہ سب ہی انتظار کرتے ہیں پر وہ کسی کسی کے نصیب میں آتی ہے،
ہر دم پرعزم تیار ہم……
پاکستانی فوج کے جوان ہم
***************
ھم سے ا لجھو گے تو ا نجام قیامت ھو گا
ھم نے روندا ہے زمانے میں فرعونوں کا غرور
جی تو ناظرین ہم آپ کو ایک بار پھر بتاتے چلے آرمی نے ایک بنگلے سے چالیس بچوں کو بچایا ہے ہمارے زرائے سے معلوم ہوا ہے وہ بنگلہ کسی راجا صاحب کا تھا جو ابھی لاپتہ ہے پر ان کا بیٹا سعد جس نے کئی معصوم بچوں کی جان لی وہ آرمی کے ہاتھوں مارا گیا،
آپ سب دیکھ سکتے ہیں ان سب بچوں کا نام ہماری اسکیرن پر چل رہے ہیں یہ جو ابھی ہم آپ کو منظر دیکھا رہے یہ ان بچوں کے والدین ہیں جن کی آنکھیں اس وقت نم ہیں ان بچوں کی ماوُں کے منہ سے اس وقت آرمی کے لیے دعا ہی دعا نکل رہی ہے ،
ان مہینوں میں جتنے بھی بچے لاپتا ہوئے وہ سب ہی آرمی نے ڈھونڈ لیے ہیں جو بچے شہید ہوگئے ہیں ہم ان کے والدین سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں،
ہمیں اپنے ملک کی آرمی پر فخر ہے جنہوں نے اتنے کم ٹائم میں اتنے سارے بچوں کو نا صرف ڈھونڈ نکالا بلکہ بہت سے معصوم بچوں کے قاتل کو جہنم میں پہنچا دیا،
جی تو ناظرین ہم آپ کو اس خبر سے سب سے پہلے آگاہ کر رہے ان میں سے کچھ بچوں کے ماں باپ کا اب تک معلوم نہیں ہوسکا بچوں کے نام سکیرین میں نیچے دی گئی پٹی پر چل رہیں ہیں آپ میں سے جو بھی ان میں سے کسی بھی بچے کو جانتے ہیں تو نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کرے
ہم ایک بار پھر تہے دل سے آرمی کا شکریہ آدا کرتے ہیں جنہوں نے اپنا ایک ساتھی کھوں کے بہت سے بچوں کو اپنی جان پر کھیل کےبچایا ہے،
بس بھی کروں کب تک دیکھوں گے یہ نیوز ایک ہی ایک نیوز کو جب سے دیکھا رہے ہیں حنا نے رمورٹ سے ٹیوی بند کرتے ہوئے کہا، آج میرے بھائی نے کام ہی ایسا کیا ہے کے میرا تو دل کر رہا بس میں نیوز دیکھتا ہی جاوُں حنا کے منہ بنانے پر برہان نے مسکرا کر کہا،
اسے اپنے چھوٹے بھائی پر ہمیشہ ہی فخر تھا پر آج اس خبر نے تو اسے اندر تک سرشار کر دیا تھا،
*****************
ان سب کاموں میں انہیں شام ہوگئی اب ان کا رُخ اپنے گھر کی طرف تھا،
احمد اپنے گھر کو جا چکا تھا ہاتھ پر گولی لگنے کی وجہ سے اس کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی بخار بھی تیز تھا اس لیے ان لوگوں نے اسے جلدی گھر بھیج دیا،
بلال اور حیدر بھی اب اپنے گھر جارہے جب حیدر نے موبائل اون کر کے دیکھا حیا کی اتنی مس کال حیدر نے جلدی سے کال بیک کی،
ٹو ٹو ___کیا ہوا حیدر!!! بلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا یار حیا کال نہیں اٹھا رہی حیدر کے چہرے پر پریشانی تھی،
تو روہان کو فون کر!!!! یہ خیال تو مجھے آیا نہیں بلال کے کہنے پر اسنے ہاں میں سر ہلایا اور روہان کو کال ملانے لگا پر اس کا نمبر بھی بند تھا، یار روہان کا نمبر بھی بند ہے اب حیدر سہی کا پریشان ہوگیا تھا،
فلائٹ تو ان کی رات کی ہے حیدر نے بولتے ہوئے فاروق صاحب کا نمبر ملایا، ہیلو فاروق صاحب میں حیدر بات کر رہا حیدر نے جلدی سے اپنا تعرف کروایا،
جی بیٹا آپ کا نمبر سیف ہے فاروق صاحب کی فون میں سے آواز آئی،حیا اور روہان دونوں فون نہیں اٹھا رہے کیا آپ میری بات حیا سے کروا دے گے حیدر نے جلدی سے کام کی بات کی بلال بھی اب گاڑی روک کے گور سے ان کی بات سن رہا تھا،
فون میں کچھ دیر خاموشی کے بعد فاروق صاحب کی آواز آئی بیٹا روہان کو کچھ کام تھا اس لیے وہ رات ہی چلا گیا حیا کو لے کے فاروق صاحب نے تھوڑا جھیجھکتے ہوئے کہا،
کیا چلا گیا حیدر نے ایک دم تیز آواز میں کہا جی بیٹا میں خود نمبر ملا رہا پر بند جا رہا ہے فاروق صاحب نے مایوسی سے کہا اور فون رکھ دیا
ایسے کیسے میں ملا بھی نہیں گڑیا سے حیدر نے فون رکھ کے بلال کی طرف دیکھا اگر وہ رات چلے گئے تو اب تک تو پہنچ جانا چاہیے پھر نمبر کیوں بند ہیں
کیا میں اپنے کام میں اتنا بزی ہوگیا کے اپنی گڑیا کے لیے غلط فیصلہ کر دیا حیدر نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لیا ایک آنسوں اس کی آنکھ سے گرا
گڑیا!!!
تو فکر نہیں کر ہم گھر چل کے برہان بھائی سے بات کرتے ہیں بلال نے بولتے ہوئے گاڑی گھر کی طرف لےلی،
کچھ دیر میں وہ لوگ گھر میں تھے یہاں تو خوب رونک لگی ہے بلال بولتے ہوئے اندر آیا اندر نا صرف علی صاحب صائمہ بیگم۔تھے بلکہ آمنہ بیگم اور خالد حسن بھی تھے سب نے بہت خوشی سے ان کا استقبال کیا ہمیں تم دونوں پرفخر ہے خالد حسن نے ان کے گلے ملتے ہوئے کہا وہ دونوں باری باری سب سے ملے،
سب جب باتوں میں لگ گئے حیدر برہان کو لیے ایک کونے میں آیا، بھائی حیا لندن چلی گئی کسی نے بتایا نا پوچھا حیدر نے پریشانی سےبرہان کی طرف دیکھا،ایک تو اس کی بہن لندن گئی ہے اور یہ پریشان ہو رہا سارا گھر ہی پاگل ہے حنا نے دل ہی دل میں منہ بنا کے سوچا جس کے کان ان کی باتوں کی طرف ہی تھے،
ہاں میری بات ہوئی فاروق صاحب سے روہان لندن کا اتنا بڑا بزنس مین ہے اب میں بھی آج بزی تھا روہان کی کال آئی پر میں اٹھا نہیں سکا اور تمہارا نمبر بھی بند تھا اس لیے اسے جانا پڑا اس کا بہت ضروری کام تھا اور بےفکر رہوں حیا اپنے شوہر کے ساتھ گئی ہے اب وہ گھر والی ہے تم اپنے کاموں سے فری ہوجاوُ پھر مل آنا برہان نے اسے آرام سے سمجایا،
اچھا بھائی میں تو پریشان ہوگیا تھا حیدر نے بولتے ہوئے یہاں وہاں دیکھا، برہان اس کی نظروں کا مطلب سمجھ گیا،
جاوُں تمہارے روم میں کچھ رکھا ہے وہ لے لو برہان نے اسے پیار سے کہا اور باقی سب کے پاس بیٹھ گیا جہاں بلال صاحب ایکٹنگ کر کر کے بتا رہے تھے وہاں کیا کیا ہوا۔
جاری ہے
