Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800
Last updated: 19 July 2026
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan
ارے کیوں نہیں کرنا نکاح کوئی تو وجہ ہوگی انکار کی حنا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا،
ابھی پپ۔۔۔پڑھنا ہے۔۔، اس نے روتے ہوۓ بھری ہوئ آواز میں ڈبڈبائ ہوئی آنکھوں سے اپنی بھابھی کو دیکھ کے اپنی بات کہی،
اتنا تو پڑھ لیا،دس جماعت کم نہیں ہوتی،اب تو پوری سترہ سال کی ہوگئی حنا نے اپنی اکلوتی نند کی طرف غصے سے دیکھا جو نظرے جھکائے اپنے آنسووں کو روکنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی،
گلابی رنگت بڑی بڑی آنکھے جن میں آنسوں بھرے ہوے سادہ سے پر پل کلر کے کاٹن کے سوٹ میں وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتی تھی ُ اور اس پہ چھوٹی عمر اُپر سے معصومیت حنا نے حسد سے اس پری کو دیکھا جو خوبصورتی کا شہکار تھی،
سچ بتاُوں لڑکی کہی چکر وکر تو نہیں چل رہا حنا نے نخوست سے کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا،
ننن۔۔۔نہیں بھھ۔۔بھابھی ایسا بلکل ننن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممم۔۔۔۔مجھے تو۔۔۔۔۔۔
حیا کی بات پوری ہونے سے پہلے حنا نے ایک دم کہا کیا پوری زندگی ہمارے سر پہ بیٹھی رہو گی تمہارے بھائی کو تو تمہارے سِوا کوئ نظر نہیں آتا یہاں سے جاؤ تو میری جان کو بھی سکون آئےُ،حنا اس کی طرف غصے سے دیکھ کے واک آوٹ کر گی پر جاتے جاتے کمرے کا دروازہ تیز سے بھیڑانا نہیں بھولی،
بھابھی کے جاتے ہی اس کے آنسوں باڑ توڑ کے باہر آگے کاش مما پاپا آپ ہوتے کاش اس نے روتے ہوےُ بس ایک ہی بات سوچی،
******************
تیز تیز قدموں سے چل کے وہ اندر آیا اس کی چال میں ایک کڑک پن تھا آنکھوں میں غصہ لیے ماتھے پہ بکھرے ہوےُ بال صاف رنگت اس پہ کھڑی ناک یقیناً وہ بہت سی لڑکیوں کا آئیڈیل ہوگا ۔
Yes sir,
Good Morning sir
اس نے اندر آتے ہی سلیوٹ مارا،پیچھے کی طرف ہاتھ باندھے گردن اکڑا کے سامنے کی طرف دیکھا اور ادب سے کھڑا ہو گیا،
Good Morning Yang Men,
How are you?
انہوں نے اپنے قابل آفیسر کی طرف دیکھا جس پہ اُنہیں بہت ناز ہے آج تک کوئی ایسا کیس یہ کوئی ایسا مشن نہیں جو اس نے کامیابی سے مکمل نہ کیا ہو،
I am all right sir.
اس نے ادب سے سر جھکا کے جواب دیا اس کی نظروں میں اُن کے لیے احترام تھا،
پتا چلا کے کون ہے وہ جو ایسا گِنہونہ کام کر راہا ہے جس کا یہ کاروبار بن چکا ہے ہر روز بچوں بچیوں کا غائب ہونا پھر کچھ ٹائم بعد ان کی لاش ملنا وہ بھی اس حالت میں کے ان کے گھر والے خون کے آنسوں روئے ان کو دیکھ کے کون سے ماں باپ سے برداشت ہوگا کے ان کے بچوں بچیوں پہ تشدت کیا گیا ہو ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو،انہوں نے افسوس سے گردن ہلاتے ہوےُ اپنی بات کہی،
جنرل محمود راحیل کی بات سن کے اس کے ماتھے پہ غصے سے کئی بل نمودار ہوےُ اور ہاتھوں کی مٹھی کو اُس نے زور سے بہینچ لیا،نہیں سر پر ہم اُس گروہ کے بہت نزدیک ہیں ان شاء اللّه سر بہت جلد ہم اُن تک پہنچ جائے گے وہ گروہ زیادہ دن تک ہم سے بچ نہیں سکتا اُس نے جنرل محمود راحیل کو دیکھتے ہوئے ادب سے اپنی بات مکمل کی جو نہ تو صرف اُس کے بوس تھے بلکہ اُنہیں اُس پہ بہت ناز بھی تھا،
Good young men keep it up & all the best
اُنہوں نے فخر سے اپنے قابل آفیسر کو دیکھ کے کہا جو اُنہیں بلکل اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھا
Thank you sir
****************
یار کہا جا رہی ہو تھوڑی دیر یہاں بیٹھتے ہے نا ،میں تھک گئی ہو یار چلتے چلتے ایک تو تم اتنی تیز چلتی ہو کیا بتاؤں،مہک نے ہانپتے ہوےُ اپنی اس بیسٹ فرینڈ کو دیکھ کے کہا جو نہ جانے یہاں سے وہا کیا تلاش کر رہی تھی یہ شاید کسی کو ڈھونڈ رہی تھی،
یار میں حیا کو ڈھونڈ رہی ہو اس نے کہا تھا وہ بھی اسی کالج میں ایڈمیشن لے گی، اُس نے یہاں وہاں دیکھتے ھوۓ اپنی بات کہی،
حیا کون وہی تمہاری ڈرپوک سی کزن مہک نے سوچتے ھوۓ کہا،
مہک کی بچی حیا کے بارے میں ایسے نہ بولو اب ایسی بھی بات نہیں ہے مشعل نہ فورن حیا کی سائڈ لی مشعل کو وہ اپنی معصوم سی کزن بہت عزیز تھی حالانکہ وہ مشعل سے سال چھوٹی تھی اور ایک کلاس پیچھے بھی پر کزن کے ساتھ دونوں بہت اچھی دوست بھی تھی،
اچھا جیسے میں تو جانتی نہیں ہو تمہاری اُس ڈرپوک سی کزن کو جسکی تمہارے سوا آج تک کوئی دوست تک نہیں بنی جب بھی ہم نے باہر جانے کا پروگرام بنایا اُس نے ہمیشہ انکار کیا جب بھی ہم اسکول کالج کے ساتھ پکنک پہ گئے اُس نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیا اور تو اور ہم نے میٹرک کے بعد یہاں ایڈمیشن لیا اُس نے ہم سے رابطہ کرنا ہی چھوڑ دیا،مہک تو جیسے غصے سے بھری بیٹھی تھی بولنا اسٹارٹ ہوئی تو اگلی پچھلی سب غنوادی،
بس کر یار کیا ہو گیا تمہیں تو پتا ہے وہ ہمیشہ سے ایسی ہی ہے کبھی کسی فنکشن تک میں نہیں جاتی وہ زیادہ لوگوں کو دیکھ کے ڈر جاتی ہے اور وہ ہم سے رابطہ کیسے کرتی اُس کے پاس تو موبائل تک نہیں ہے وہ آج کل کی لڑکیوں کی طرح نہیں ہے بہت معصوم سی ہے،مشعل نے اپنی اس غصے کی تیز دوست کو دیکھ کے تسلی سے اپنی بات کہی،
