Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاروق صاحب نے حیدر کے راضی ہوتے ہی گھر آکے حیا کو روہان کی لائی ہوئی رنگ پہنا دی تھی ،اور فاروق صاحب برہان اور حیدر نے مل کے دو دن بعد ہی نکاح رکھ لیا کیوں کے حیا کو ساتھ بھیجنے کے لیے انہیں پیپر تیار کروانے تھے اور ان کے جانے سے ایک دن پہلے بڑی دعوت رکھی تھی جس میں حیا کی رخستی ہونی تھی
حیدر نے حیا کو فون پر منا لیا تھا وہ کام میں اتنا الجھا ہوا تھا کے خود نہیں آسکتا تھا اور حیا کو بھی لگا اس کی پڑھائی کا ضیاع ہو رہا ہے اس لیے وہ تھوڑا رونے کے بعد مان گئی حیدر کی کوئی بات حیا نہ مانے ایسا ممکن نہیں،
گھر میں حیا کی شادی کی خوب تیاریا چل رہی تھی جو حنا کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی اس کے بھائی پانی کی طرح پیسے لوٹا رہے تھے جس سے حنا کو اور غصہ آرہا تھا،
معلومات حاصل کی حنا نے فون پر انور سے پوچھا،ہاں سب معلومات لے لی وہ کس ہوٹل میں رہے رہا ہے کہاں پر لنچ کرتا ہے اور کہاں پر ڈینر انور نے ایسے خوش ہوتے ہوئے بتایا جسے بہت بڑا کام کر لیا ہو،
اچھا مجھے ٹائم بتاوُ کس ٹائم وہ لنچ کرتا ہے نکاح تو دو دن بعد ہے اپنے پاس کل کا دن ہے حنا نے خباست سے کہا اس وقت وہ حسد میں اتنی آندھی ہوگئی کے ایک معصوم کی زندگی کے ساتھ کھیل رہی تھی،انور نے اسے سب ڈیٹیل بتا دی اور فون رکھ دیا،
حیا یہ کیا تم روم میں بند ہوکے بیٹھی ہو حنا نے پاس آکے کہا حیا جو اپنی مما بابا کو یاد کر کے آنسوں بہارہی تھی ایک دم حنا کو دیکھ کے بوکھلا گئی وہ__وہ بھابھی حیا کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے حنا کو دیکھ کے وہ ویسے بھی ڈر جاتی تھی ارےے اچھا اپنا موڈ سہی کرو ہم کل شوپنگ پر چلے گے اب تم لندن جا رہی تو اچھی اچھی شوپنگ تو کرے گے نا حنا نے اپنے لہجے میں مٹھاس بھر کر کہا،
حیا نے حیرت سے حنا کو دیکھا حنا نے آج تک اس سے اس لہجے میں اکیلے میں بات نہیں کی تھی پر بھابھی___وہ مشعل نے کی ہے بہت ساری حیا بولنے لگی پر حنا نے اس کی بات کاٹ دی،
تو کیا ہوا ہم اور بھی کرے گے ٹھیک ہے کل تم تیار رہنا ٹھیک ایک بجے چلے گے تمہارے بھیا کو میں بتا دوگی ٹھیک ہے نہ حنا نے اتنے پیار سے کہا کے حیا کے آنکھوں میں انسوں آگئے اسے ان دنوں اپنی مما بہت یاد آرہی تھی اور اس وقت بھابھی کا اتنے اچھے سے بات کرنا اسے بہت اچھا لگا جی بھابھی میں تیار رہوں گی حیا نے نم آنکھوں سے کہا،
یہ ہوئی نہ بات چلو اب سو جاو حنا نے مسکرا کے کہا اور روم سے باہر آکے اس نے دروازہ بند کیا اس کے چہرے کی مسکراہٹ فوراً غائب ہوئی میں بھی دیکھتی ہوں کیسے جاتی ہے لندن حنا نے دروازے کی طرف نفرت سے دیکھا اور اپنے روم کی طرف چل دی
************
روہان اپنے لیپ ٹاپ پر سوزی سے بات کو رہا کل ہونے والی میٹنگ کے لیے اسے وہ حدایت دے رہا تھا کے اس کا موبائل بجا،اس نے سوزی کو کام سمجھا کے لیپ ٹاپ بند کیا اور موبائل۔ ہاتھ میں لیے سامنے ہی فاروق صاحب کا مسج تھا،
اس نے میسج کھول کے دیکھا،حیا کی تصویر بھیج رہا ہوں دیکھ لو ،فاروق صاحب کا میسج دیکھ کے وہ واپس رکھنے لگا موبائل پر کسی خیال کے تہت اس نے تصویر کھولی
فاروق صاحب مسکرا کے اس کی لائی ہوئی رنگ پہنا رہے تھے اور وہ لائٹ پنک کلر کا چوڑی دار پہنے سر پر ڈوپٹہ لیے نظرے جھکائے بیٹھی تھی اس کے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آرہے تھے اس کے سر جھکا کے بیٹھنے کی وجہ سے وہ اسے سہی سے نہیں دیکھ سکا،
اس لڑکی کو تو کہی دیکھا ہے پر کہا روہان نے اپنے دماغ پر زور دیا پر اسے کچھ یاد نہیں آیا اس نے فون بیڈ پر پھینکا اور خود چیج کرنے چلا گیا ویسے بھی اسے کون سا اس دو ٹکے کی لڑکی میں کسی قسم کا انٹریس تھا،
**************
حیا تیار ہوگئی حنا نے اس کے روم میں دروازے سےجھانکتے ہوئے کہا،جی بھابھی حیا آئنے کے سامنے کھڑی اپنا اسکاف باندھ رہی تھی،اچھا باہر آجاوُ میں ڈرائیور کو بول کے گاڑی نکلواتی ہوں،حنا نے مسکرا کر کہا اور باہر چلی گئی،
بس بھابھی بہت ساری شوپنگ ہوگئی حیا نے ہاتھ میں موجود بہت سارے بیگ دیکھتے ہوئے کہا جب کے حنا تو بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی ہاں تو چلتے ہیں گھر بھی مجھے تو بہت بھوک لگی ہے اور گھر جاکے کچھ بنانے کی مجھ میں ہمت نہیں حنا نے بول کے فون کان سے لگایا اور ڈرئیور کو اندر آنے کو کہا،
یے لو سب بیگ گاڑی میں رکھو چلو حیا تم بھی حنا نے بیگ ڈرائیور کو پکڑاتے ہوئے کہا ساتھ میں حیا کو بھی ساتھ چلنے کا کہا اور خود فون کان سے لگائے کونے میں آگئی پہنچ گئے تم حنا نے فون پر کسی سے کچھ پوچھا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اوکے ہم بھی بس آرہے ہیں،
چلو ڈرائیور پاس والے ہوٹل کی طرف چلو ہم کچھ کھا کر ہی گھر جائے گے ٹھیک ہے نہ حنا نے حیا کی طرف دیکھ کے کہا،پر بھابھی حیدر بھیا نے کہا تھا آج وہ آجائے گے کہی وہ ہمارا ویٹ کر رہے ہو حیا کے چہرے پر پریشانی تھی یہ حنا کے کل سے اب تک پیار سے بات کرنے کا ہی اثر تھا کے حیا آرام سے اپنے دل کی بات بول رہی تھی،
کچھ نہیں ہوتا حیدر بھائی شام تک ہی آئے گے ہاں بس بس یہاں روک دو حیا سے بولتے ہوئی حنا نے گاڑی روکنے کا حکم دیا آجاوُ حیا اندر چلے حنا حیا کو ساتھ لیے اندر کی طرف بڑھ گئی،
ایک ٹیبل سلیکٹ کر کے اس پر دونوں بیٹھ گئی حیا لوگوں کی نظروں کا مرکز بنے گھبرا رہی تھی کیوکہ آج تک وہ ایسے بھیا کے بغیر کبھی پبلک پلیس میں نہیں آئی تھی،حیا تم یہاں بیٹھوں میں ابھی آئی حنا نے موبائل میں کوئی میسج دیکھتے ہوئے کہا ،پر بھابھی میں بھی ساتھ چلو گی حیا نے گھبراتے ہوئے کہا،
میں واش روم جارہی ہوں ابھی آجاوُ گی بس تم جب تک کچھ آرڈر کرو حنا نے دانت پیس کے پر مسکرا کے کہا اسے جلد سے جلد یہاں سے غائب ہونا تھا،
اوو ہائےےے بیوٹیفل حنا کو گئے ابھی دو منٹ ہی ہوئے تھے جب حیا کے کانوں میں جانی پہچانی سی آواز آئی حیا نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا سامنے ہی انور مسکرا کے حیا کو دیکھ رہا تھا
کیا میں یہاں بیٹھ جاوُں اب تم منا تھوڑی کروگی چلو بیٹھ جاتا ہوں انور بولتے ہوئے بیٹھ گیا اور تم کس کے ساتھ آئی ہو بیوٹیفل انور نے اس کو گھورتے ہوئے کہا جو اب واپس نظرے جھکائے ایسے بیٹھی تھی کے اب نظرے کبھی نہیں اٹھائے گی،
بتاوُ نہ کس کے ساتھ آئی ہو انور نے سر ٹیرا کرتے ہوئے کہا اس کی انکھوں میں عزت کہی نہیں تھی بلکہ حوس تھی،
ارے روہان جی آپ یہاں حنا نے کمال کی اداکاری کرتے ہوئے کہا،روہان جو روز کی طرح آج بھی یہاں لنچ کرنے آیا تھا ایک نسوانی آواز پر اس نے پیچھے موڑ کے دیکھا آپ کون روہان نے ماتھے پر بل ڈھالے سوال کیا ارے میں آپ کی بھابھی برہان کی وائف آپ نے مجھے نہیں پہچانا حنا نے ایسے ایکٹنگ کی جیسے روہان نے نہ پہچان کے بہت بڑی غلطی کی ہو،
اچھا کیسی ہیں آپ روہان نے بغیر مسکرائے اپنے روڈ انداز میں پوچھا میں تو بلکل ٹھیک ہوں دیکھوں ساتھ حیا بھی آئی ہے حنا نے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کیا اس کے اشارہ کرنے پر روہان کی نظرے خود با خود اس طرف اٹھ گئی،
جہاں ایک لڑکی کی پیٹھ نظر آرہی تھی جو اسکاف باندھے بیٹھی تھی اور اس کے سامنے موجود آدمی اپنی کرسی سے کھڑا ہوکے اس کی طرف جھک رہا تھا دیکھنے والے کو وہ ایسا شرم ناک منظر پیش کر رہا تھا کہ روہان کے ماتھے پر کئی بل آگے اس نے واپس حنا کی طرف دیکھا،
وہ__وہ میرا بھائی ہے مانا ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں پر اس کا مطلب یہ نہیں کے پبلک پلیس میں یہ سب کرے میں تمہیں یہی بتانا چاہتی تھی حنا نے تھوڑا ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا جب کے روہان بغیر کچھ بولے واپس باہر چلا گیا اب اس کی بھوک مر چکی تھی،
انور کے گھورنے اور بغیر مقصد بات کو طویل دینے سے حیا کی آنکھوں میں آنسوُں آگئے،ارے تم تو رونے لگی انور اپنی جگا سے اٹھ کے اس کے آنسوُں صاف کرنے کی غرظ سے اس کے چہرے پر جھکا پر حیا اسے اپنی طرف جھکتے دیکھ جلدی سے پیچھے ہوگئی،
اچھا بھئی نہیں کرتا آنسوں صاف انور بولتا ہوا واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا ویسے بھی جس کام کے لیے وہ آیا تھا وہ ہوگیا تھا،اچھا اب میں چلتا ہوں تم تو کوئی بات ہی نہیں کرتی مجھ سے انور اداس چہرا بنائے وہاں سے چلا گیا اس کے جانے سے حیا نے دل میں شکر ادا کیا،
حیا تم نے آرڈر نہیں کیا حنا نے پاس آکر کہا وہ__وہ بھابھی حیا کی آنکھ میں اب بھی آنسوں تھے اچھا بھئی تمہیں اپنے بھیا کا انتظار ہے چلو کھانا پیک کرا لیتے ہیں ٹھیک ہے حنا نے مسکرا کر کہا اور کھانا پیک کروا کر حیا کو لیے باہر آگئی،
حیا کو گاڑی میں بیٹھانے کے بعد اس نے ایک طرف جاکے انور کو کال کی بہت اچھا کام کیا تم نے تعریف تو بنتی ہے حنا نے خوش ہوتے ہوئے کہا اب دیکھتی ہوں کے کیسے کرے گا یہ نکاح ایسی بد کردار لڑکی سے حنا نے کچھ دیر بات کی اور فون رکھ دیا اور گاڑی میں آکے بیٹھ گئی اور اس نے مسکرا کے حیا کی طرف دیکھا،
بھابھی کو کتنا خیال ہے میرا میری وجہ سے انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا حیا نے حنا کی طرف دیکھ کے دل میں سوچا وہ بیچاری تو اس بات سے بلکل انجان تھی کے اس کی بھابھی اس کے ساتھ کیا کچھ کر چکی ہے جس کا انجام اس کو جھیلنا ہے
*****************
سر اس اسکیچ کے زریے ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ شکیل کہا ملے گا میجر رفیق نے حیدر کو مخاطب کر کے کہا،
بہت اچھا تو کہا ملے گا وہ حیدر کی آنکھوں میں چمک آگئی،سر وہ ہر سٹرڈے نائٹ ڈسکو میں پایا جاتا ہے ہم اسے وہی سے پکڑ سکتے ہیں،رفیق کے کہنے پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا جیسے کچھ سوچ رہا ہو،پھر میجر رفیق کو جانے کا حکم دیا اور کسی کو فون ملایا
میجر احمد میرے آفس میں آوُں حیدر نے کان سے فون لگا کے کہا کچھ دیر بعد ہی احمد حاظر ہوگیا یس سر اس نے اندر آتے ہی سلیوٹ مارا،
شکیل ہمیں ہفتے کو ملے گا ڈسکو قلب میں اور وہ میرے گھر سے ذیادہ دور نہیں ہے تم میرے ساتھ گھر چلو ابھی، کل جمعہ ہے اور گڑیا کا نکاح بھی ہے اگلے دن ہفتہ ہے اور ہمیں وہاں سے کسی بھی حال میں اس شکیل نامی بندے کو ذندہ پکڑنا ہے تو تم چل رہے ہو گھر حیدر نے پوری بات بتاکر اس کی طرف دیکھا جو پیٹھ موڑے کھڑا تھا،تمہیں کیا ہوا حیدر نے حیرت سے کہا،
گڑیا کی کل شادی ہے اور تو مجھے اب بتا رہا ہے جا میں نہیں کرتا تجھ سے بات احمد نے بچوں کی طرح کہا ارے یار سب اچانک ہوا تم گھر چلو سب بتادوگا اور شادی نہیں بس نکاح ہے حیدر نے سمجھانا چاہا،
واہ بھئی واہ میری تو جیسے بہن نہیں ہے گڑیا جو مجھے بتانا بہتر نہیں سمجھا اور اس بلال کو بتا دیا ہوگا جبھی اس نے دو دن کی اور چھٹی مانگ لی جب کہ اب تو وہ بلکل ٹھیک ہے احمد نے دل کا غبار نکالا،ان کو دیکھ کے کوئی نہیں کہے سکتا تھا کے یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اسی بندے کو سلیوٹ مار رہا تھا جس سے اب ناراض ہونے کا ناٹک کر رہا،وہ ایسے ہی تھی فرض کے ٹائم آفسر بن جانا ڈیوٹی ہی سب کچھ ہونا اور جہاں بات دوستی کی آئی تو تو مے مے کرنا اور ایک دوسرے کے لیے جان بھی دے دینا،
اسے بھی نہیں پتا یہی تو مسلئہ ہے یار تو ساتھ چل تو اسے منانا آسان ہو ورنہ وہ میری جان کھا جائے گا حیدر نے بیچارگی سے کہا،
کیا اسے اب تک نہیں پتا اور اس سے پہلے مجھے پتا لگ گیا احمد کے چہرے پر فوراً خوشی آگئی اس نے جھٹ سے حیدر کو گلے لگایا،
اس میں اتنا خوش ہونے والی کون سی بات ہے حیدر کو حیرت تھی جو ابھی اس سے ناراض تھا ابھی اسے ہی گلے لگا رہا تھا،
یہ تو نہیں سمجھے گا میں جاکے اپنا کچھ سامان لے آتا ہوں پھر نکلتے ہیں اب تو مزا آئے گا احمد خوشی سے بولتے ہوئے باہر چلا گیا جب کے حیدر کو اب تک سمجھ نہیں آیا اس میں خوش ہونے والی کون سی بات ہے،
_______
وہ روم میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار وہ منظر آرہا تھا میں کیوں سوچ رہاں ہوں اس دو ٹکے کی لڑکی کے بارے میں ویسے بھی یہ شادی میں بس ایک احسان اتارنے کے لیے کر رہا ہوں پھر وہ لڑکی کچھ بھی کرے اس نے خود کو تسلی دی،
پر سچ تو یہ تھا کہ جب سے وہ حیدر سے مل کے آیا اسے لگا کے وہ لڑکی بھی اچھی ہوگی جو اس کی بہن ہے پر نہیں سب ایک جیسے ہوتے ہیں دھوکے باز، پر جس کے ساتھ میرا نام جڑنے والا وہ ایسی حرکتیں کرے پھر بھی میں اس سے شادی کر لوں روہاں کے چہرے پر اس وقت بے حد غصہ تھا،
شادی مجھ سے کر رہی اور گُل کسی اور کے ساتھ کھیلا رہی
اوکے مس حیا اب اس چیز کا میں تم سے بدلا ضرور لوگا میرے ساتھ نام جڑنے والا پھر بھی تم نے اپنی عاشقی ختم نہیں کی اس کے سزا تمہیں ملے گی روہان نے خود کو آئنے میں دیکھ کے کہا اس وقت اس کی آنکھے غصے کی ذیادتی سے سرخ ہو رہی تھی
****************
واہ بھئی کیا بن رہا ہے بلال نے کچن کی سلیپ پر بیٹھتے ہوئے کہا،وہ بھیا آرہے نہ تو میں بریانی بنا رہی ہوں حیا نے کام میں مصروف جواب دیا ارےے واہ بریانی میں بھی کھاوُ گا بلال تو بریانی کے نام سے ہی خوش ہوگیا،
ہاں آپ کی ہی کمی تھی بھوکڑ مشعل نے کچن میں آتے ہوئے منہ بنا کے کہا،اس کا تو ویسے بھی بلال سے چھتیس کا اکڑا تھا،یہ چڑیل یہاں کیا کر رہی ہے بلال سلیپ سے نیچے اترا،
چڑیل کسے کہا ہاں اور میں جہاں مرضی جاوُ جہاں مرضی آوُ مشعل اپنے ہاتھ کی دونوں آستین چھاڑانے لگی جب کے حیا نے دونوں کو اگنور کیا اور اپنے کام میں لگی رہی، چڑیل کو چڑیل ہی کہوں گا پری تو کہنے سے رہا بلال نے ہنستے ہوئے ایسے کہا جیسے بہت کام کی بات بتائی ہو،
ابھی بتاتی ہوں مشعل نے ادھر اودھر مارنے کے لیے کچھ ڈھونڈا اسے پھلوں کی ٹوکری نظر آئی اس نے سیب اٹھا کے بلال کو نشانے لے کے مارا
بلال جو کچن سے باہر جا رہا تھا اس نے بغیر موڑے پیچھے ہاتھ کر کے سیب کو کینچ کر لیا مشعل کا منہ کھولا کا کھولا رہے گیا،
ہاہاہا بلال نے جب پیچھے موڑ کے مشعل کا چہرا دیکھا تو اپنے قہقہ کو روک نہیں پایا،انٹی میں آرمی میں ہوں اگر ہم اتنے ہی بے خبر ہوں تو تم عوام چین سے کیسے سوگے بلال نے قریب آکے ہاتھ کی انگلی سے مشعل کا
منہ بند کیا جو اب تک حیرت میں تھی،
ہاں تو میں کیا کروں آرمی میں ہو تو لڈو بانٹو مشعل نے اپنی خفط مٹانے کے لیے بات کو گھوما دیا،تم لڈو بانٹو گی کنجوس آئی بڑی لڈو بانٹنے والی بلال بولتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا جب تک حیا بھی چاول کو دم لگا چکی تھی،مشعل کے ساتھ وہ بھی کچن سے باہر آگئی،
بتایا نہیں یہاں کیسے تمہارے گھر والوں نے تمہیں نکال دیا کیا بلال نے بلکل سنجیدا انداز میں کہا اور سوفے پر بیٹھ گیا،میرے گھر والوں کا تو پتا نہیں پر آپ کے گھر والوں نے ضرور نکال دیا جب دیکھوں یہاں پڑے رہتے ہوں مشعل نے بھی اس بار حساب برابر کیا
دونوں گھر میرے ہیں چاہے یہاں رہوں چاہے وہاں بلال نے اترا کر کہا،
اور میرے تینوں گھر ہیں یہ بھی برابر والا بھی اور وہ بھی مشعل کا اشارہ خود اپنے گھر کی طرف تھا،
ہاہاہا رہنے دو رہنے دو ابھی حیدر آجائے نہ یہاں سے بھاگ جاوُ گی آئی بڑی میرا گھر ہے بلال نے مشعل کی نکل اتاری،
کیوں کیا کرلے گے وہ ہاں آرمی کا بندہ ہے بس ڈرتی نہیں ہوں میں ان سے یہ میرا گھر ہے اور میرا ہی رہے گا پھر بے شک ایسے دس آرمی کے بندے آجائے میں نہیں ڈرتی ورتی تمہارے فوجی سے مشعل کی لبی چوڑی تکریر پر بلال بس ڈھیٹوں کی طرح مسکرا رہا تھا،
کیا مسکرا رہے ہوں کہا نا نہیں ڈرتی اس آرمی کے بندے سے بلال کو اس طرح مسکراتے دیکھ مشعل کو تو آگ ہی لگ گئی،
پیچھے دیکھو پیچھے!!!!بلال نے ہنستے ہوئے بلکل بچوں کے سے انداز میں بولتے ہوئے سوفے پر لیٹ گیا،
کیا دیکھوں پیچھے مشعل بولتے ہوئے پیچھے موڑی___آپ__مشعل کا مارے صدمے سے بورا ہال تھا
سامنے جہاں حیدر اور اس کے ساتھ احمد دونوں کھڑے تھے حیدر کے ماتھے پر بل تھے جب کے احمد اپنے ہونٹوں کو بہنچے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہا تھا،
حیدر__بھائ_ _ی وہ مشعل کو تو گھبرہٹ ہونے لگی سامنے اس چھ فٹ کے بندے کو دیکھ کے اوپر سے اس کے ماتھے کے بل مشعل کو اور ڈرا رہے تھے میں__پانی_ _لائی مشعل نے اٹک اٹک کے کہا اور فوراً وہاں سے بھاگ گئی،
حیدر اور احمد دونوں نے اندر آکے سلام کیا اور سوفے پر ہی بیٹھ گئے،یہ کیوں آیا ہے کیا بات ہے بلال نے سنجیدگی سے پوچھا کیوکہ دونوں اس وقت یونیفارم میں تھے،
تجھے نہیں پتا کیا ہوا ،حیدر اسے نہیں بتایا تو نے احمد نے کمال کی اکٹنگ کرتے ہوئے حیدر سے پوچھا، کیا نہیں پتا مجھے،
بہت افسوس کی بات ہے اتنے اہم بندے کو اتنی اہم بات نہیں پتا چےے چےے احمد نے افسوس سے گردن ہلائی ،
احمد تو اپنی زبان بند نہیں کرے گا حیدر نے پیچھے سے اس کے سر پر چپت لگائی، جب کے بلال تو کبھی احمد کو دیکھے کبھی حیدر کو، تو مجھے بھی بتاوُ کیا ہوا ہے کیا نہیں پتا مجھے بلال نے جھنجھلا کر کہا،
وہ بلال دیکھ بغیر اوور رییکٹ کیے تسلی سے میری بات سن حیدر نے بات بتانے کے لیے تہمید باندھی،
بات بتا تو مجھے بیان نہیں کر بلال کی آواز میں اور ذیادہ جھنجھلاہٹ تھی،
یار وہ کل گڑیا کا نکاح ہے برہان بھائی کے پاٹنر کے بیٹے روہان کے ساتھ میں کل اس سے ملا ہوں اچھا لڑکا ہے اور بزنس کی وجہ سے اسے واپس لندن جانا تو شادی بھی جلدی ہو رہی حیدر نے ایک ہی سانس میں ساری بات بتا کے اس کی طرف دیکھا جو بلکل نارمل تھا،
اسے نارمل دیکھ کے احمد اور حیدر نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا، بلال میرے بھائی تو ٹھیک ہے نہ احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
بلال نے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے آرام سے ہٹا کے اسے ایسے دیکھا جیسے احمد کی شکل پہلی بار دیکھ رہا ہوں،حیدر مجھے لگ رہا ہے اسے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے اور یہ اپنی یاداشت بھول گیا ہے احمد نے واپس حیدر کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا،
بلال ایک دم کھڑا ہوکے یہاں سے وہاں ٹہلنے لگا کل نکاح وہ بھی گڑیا کا اور مجھے نہیں پتا!!!! مجھے نہیں پتا!!!!مجھے نہیں پتا!!!!!!!!!!!! منہ ہی منہ میں بولتے ہوئے آخری بات اس نے تیز چلا کے کہی حیدر اور احمد نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا اندر سے حنا مشعل حیا بھاگتے ہوئے باہر آئے یہ کیسی آواز تھی مشعل نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا،جب اس کی نظر بلال پر گئی،
جو مجھے نہیں پتا مجھے نہیں پتا بولتا ہوا یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا اب ان کو کیا ہوا مشعل نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئے کہا جب کے حیا تو پریشان ہی ہوگئی،
بلال بھیا حیا نے پاس آکے کہا___مجھے ہی نہیں پتا بلال نے حیا کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا،
بلال بھیا ہی آپ کا نام ہے آپ کو نہیں پتا حیدر بھیا بلال بھیا اپنا نام بھول گئے حیا نے اتنی معصومیت سے کہا کے وہاں سب ہسنے لگے احمد تو باقاعدہ قہقہ لگا رہا تھا،
سب کے اس طرح ہسنے پر بلال نے اپنے ہونٹ بہنچ لیے، گڑیا آپ اندر جاوُ اور میری بریانی پیک کردو میں یہاں کھانا نہیں کھاوُ گا بلال نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،حیا اور باقی لیڈیز کو بھی اندر بھیجا،
اتنی ہی انا ہے تو بریانی بھی باہر سے لے نا احمد نے اسے چھڑتے ہوئے کہا، تو___تو چپ ہی رہے میرے اچھے خاسے دوست کو تو نے چھین لیا چھوڑوگا نہیں میں تجھے بلال بولتا ہوا اس کی طرف لپکا پر حیدر بیچ میں آگیا،یار تو پہلے پوری بات تو سن حیدر نے اسے زبردستی بیٹھا کر اسے ساری بات بتائی اور جلدی شادی کی وجہ بھی،
اچھا یہ بات ہے پر مجھے بھی ایک بار روہان کو دیکھنا تھا کے وہ اپنی گڑیا کے لائک ہے یا نہیں بلال نے سوچتے ہوئے کہا،
روہان جیتا جاگتا انسان ہے میوزیم میں لگا ہوا عجوبہ نہیں جو اسے ہر کوئی دیکھے احمد نے ہر کوئی پر ذیادہ زور دیا،حیدر تو اس کمینے کو چپ کروا لے ورنہ یہ زایا ہوجائے گا میرے ہاتھوں احمد کی بات سے بلال کو آگ لگ گئی،
احمد تو جا میرے روم میں فریش ہوجا میں آرہا ہوں حیدر نے اسے وہاں سے بھیجنا ہی بہتر سمجھا پر جاتے جاتے بھی وہ بلال کو چڑانے والی اسمائل دیتا ہوا گیا، بلال بھی اس کے پیچھے جاتا پر حیدر نے روک لیا پھر دونوں کل کے فنشن کے بارے میں بات کرتے رہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *