Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیا کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے اوپر بھاری وزن محسوس ہوا اس نے مندی مندی آنکھوں کو کھول کر دیکھا وہ روہان کے مظبوط حسار میں تھی،حیا نے ایک دم اپنے چاروں اطراف میں دیکھا یہ تو ان کا روم ہے میں یہاں کیسے آئی اس نے دل میں سوچ کے واپس روہان کو دیکھا جو اب بھی گھری نیند میں تھا،
حیا تھوڑا پیچھے ہوئی اور آرام سے روہان کے حسار سے نکلنے لگی کے ایک دم روہان نے کھینچ کے اسے واپس اپنے پاس کر لیا کہا جارہی ہو لٹل گرل اس کے بالوں میں منہ دیے وہ اس سے پوچھ رہا تھا پر اس کی آواز نیند میں ڈوبی ہوئی تھی،
چھوڑے وہ___حیا تو ہولے ہولے کانپنے لگی روہان کی سانسیں اسے اپنے بہت پاس محسوس ہورہی تھی آج یونیورسٹی___ بھی جانا ہے حیا نے اٹک اٹک کر کہا اور اس کے حسار سے نکنے کی کوشش کرنے لگی،
روہان نے آنکھیں کھول کے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو اس کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش میں اب نڈھال ہوچکی تھی،روہان کے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ آگئی،
یہ لو ہٹا لیا لٹل گرل خوش ایک دم روہان نے اپنے ہاتھ اٹھایا جاؤ تیار ہو جاؤ روہان کے کہنے پر حیا فوراً بیڈ سے نیچے آئی اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا روہان کا یہ نیا روپ پہلے سے زیادہ خطرناک تھا،
سنو!!!حیا روم سے باہر جانے لگی تو روہان کی آواز پر اسے رکنا پڑا آج اپنا سب سامان اس روم میں شفٹ کر لینا روہان کی بات سنتے ہی بغیر اس کی طرف دیکھے حیا روم سے باہر چلی گئی،
*************
ایک دم دروازا کھولنے پر حیدر نے سر اٹھا کے دیکھا احمد دروازے پر کھڑا تھا اس کا چہرہ اس وقت بہت کچھ بول رہا تھا کیا ہوا حیدر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو بس حیدر کو دیکھ رہا تھا صمد بھی ان دونوں کو دیکھنے لگا
تجھے یہ بات معلوم تھی کے یہ لڑکی بول نہیں سکتی احمد نے حیدر کی طرف دیکھ کے کہا حیدر نے ایک نظر اسے دیکھا اور گہرا سانس لیا جیسے وہ سب پہلے سے جانتا ہے جب کے صمد نے حیرت سے حیدر کو دیکھا،
آج ہی معلوم ہوا نکاح سے کچھ دیر پہلے حیدر نے نیچے منہ کیے جواب دیا،اگر تجھے نکاح سے پہلے معلوم ہوگیا تھا تو نے ہمیں کیوں نہیں بتایا،احمد نے حیرت سے اسے دیکھا،
کیا بتاتا میں کے یہ لڑکی بول نہیں سکتی، بے زبان ہے، حیدر نے ایک دم اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا،کیا یہ بلال کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے احمد نے حیدر کے پاس بیٹھتے ہوئے آرام سے کہا،
اگر وہ بے زبان ہے تو اس میں اس بچی کا کوئی قصور نہیں ہے وہ تو گڑیا کی طرح بہت معصوم ہے حیدر نے ایک دم احمد کو دیکھتے ہوئے جواب دیا احمد کی بات پر وہ کافی اپسیٹ ہو گیا تھا،
میرا مطلب ہے ایک بار اسے یہ بات بتا تو دیتا اس سے چھپا کر ٹھیک نہیں کیا احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، حیدر ہو یا بلال اسے اپنے دونوں دوست عزیز تھے،
پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے یہ لڑکا حیدر نے پریشانی سے کہا اسے بلال بہت عزیز تھا اپنے بھائی کی طرح پر وہ لڑکی وہ بھی تو معصوم ہے جو ہوا غلط ہوا اس سب میں اس کا تو کوئی قصور نہیں پھر وہ اسے یہاں کیوں چھوڑ دے مرنے کے لیے،حیدر روم میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا اسے کل کی بھی فکر تھی ان کا اتنا بڑا مشن تھا اس سے پہلے یہ سب ہو گیا،اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اتنے میں روم کا دروازا کھول کے کوئی اندر آیا،
حیدر اور احمد نے ایک ساتھ دیکھا سامنے ہی بلال کھڑا تھا جس نے اپنا چہرہ نیچے جھکایا ہوا تھا وہ کافی تھکا ہوا معلوم ہو رہا تھا،پر اس کی آنکھیں کافی سرخ تھی اور چہرے پر انتہائی سنجیدگی لیے وہ اندر آیا اور بغیر کچھ کہے واشروم میں چلا گیا،
حیدر اور احمد نے ایک دوسرے کو دیکھا بلال کو ایسے دیکھنا ان سب کے لیے تکلیف کا باعث تھا،جاو صمد کھانا گرم کر کے لاؤ حیدر کے کہنے پر صمد باہر چلا گیا جب وہ اندر آیا کھانا لے کر جب تک بلال واشروم سے باہر آچکا تھا اس کا چہرہ دھولا ہوا تھا وہ آکے بیڈ پر بیٹھا،
ارے واہ بریانی کیا بات ہے صمد کہاں سے لے آیا کہی کسی کی شادی میں سے تو اٹھا کے نہیں لایا احمد نے بولتے کے ساتھ ٹرے لی اس کی بات پر صمد نے اسے گھورا،
میں کیا چور نظر آتا ہوں باہر سے لایا ہوں وہ بھی پیسے کی ہر کسی کو اپنی طرح سمجھا ہوا کیا صمد نے بھی فوراً جواب دیا،تم دونوں لڑتے رہو گے یا کھانا بھی لگاؤ گے بھوک سے برا حال ہے حیدر نے ان دونوں کو غصے سے کہتے ہوئے ایک چور نظر بلال پر ڈھالی،
صمد نے ٹرے بیڈ پر رکھی بلال بیڈ کی دوسری طرف پیر لٹکائے بیٹھا کسی گھری سوچ میں تھا،آجا بلال کھانا نہیں کھا رہا کیا احمد نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے نارمل لہجے میں کہا پر بلال کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اب اس نے حیدر کو اشارہ کیا،
لگتا ہے آج ہم سب پیٹ بھر کر کھائے گے بریانی کیوں کے کچھ لوگوں کا کھانے کا موڈ نہیں ہے،حیدر نے اپنی جان میں مزاق کیا جس پر بلال کو بلکل ہنسی نہیں آئی،
کیا لڑکیوں کی طرح منہ بنا کر بیٹھا ہے احمد نے اس کا رخ اپنی طرف کیا بلال نے احمد کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا،پر کہا کچھ نہیں بہت ہوگیا حیدر یہ مجھ سے اب مار کھائے گا احمد نے غصے میں حیدر کو دیکھتے ہوئے کہا،
میں نے کب روکا ہے مار لے حیدر نے بریانی پلیٹ میں ڈھالتے ہوئے کہا،ہاں کوئی میرے ساتھ کچھ بھی کرے تم لوگوں کو کیا بلال نے ایک دم غصے سے کہا وہ کون سی بات کو بیچ میں لے آیا حیدر نے ایک دم اپنی آنکھیں بند کی،اس سے پہلے وہ کچھ بولتا اس سے پہلے بلال نیچے گر چکا تھا حیدر نے ایک دم نیچے دیکھا پھر اوپر مطلب احمد نے اسے پیچھے سے دھکا دیا تھا،
تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے نیچے گرانے کی بلال نے کھڑے ہوکے اس کے بھی ایک دم پیر پکڑ کے اسے نیچے پھینکا احمد اس چیز کے لیے بلکل تیار نہیں تھا کے منہ کے بل نیچے گرا پھر کھڑا ہوا اس نے خونخوار نظروں سے بلال کو دیکھا جو اس سے بھی زیادہ غصے میں نظر آرہا تھا،
تھوڑی دیر میں وہ ایک دوسرے کے اوپر تھے حیدر نے بلال کو اپنے پرانے روپ میں دیکھ کے سکون کا سانس لیا اور کھانا کھاتے ہوئے اس نے صمد کو اشارہ کیا کے اسٹارٹ کرو یہ کچھ دیر میں اپنا کوٹا پورا کرکے آ جائے گے صمد نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا،
اب تو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا بریانی کو احمد نے اسے دور دھکا دیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا،ایسے کیسے نہیں کھاؤں گا صمد لایا ہے تو نہیں جو مجھے اپنا رعب دیکھائے گا اب بلال بھی بیٹھ چکا تھا اور اس نے احمد کے ہاتھ میں موجود پلیٹ چھنی احمد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اس سے پہلے وہ اسے اٹھ کے مارتا صمد نے جلدی سے دوسری پلیٹ احمد کے ہاتھ میں دی،
بلال اپنا کھانے میں مگن ہوگیا تھا اور کھاتے ہوئے احمد کو چڑانا نہیں بھولا تھا احمد کا بس نہیں چلا بریانی کی جگہ اس کو کھا جائے وہ بھی کچا،حیدر خاموشی سے اپنا کھانا کھانے میں مگن تھا،جب کے بلال کو مزے سے کھانا کھاتے دیکھ صمد کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی،
***************
لٹل گرل کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا ٹھیک ہے اور اچھے سے دل لگا کر پڑھائی کرنا کوئی بھی پریشانی ہو مجھے لازمی بتانا میں آج تمہارے لیے ایک نیو موبائل فون لے آؤں گا ٹھیک ہے حیا نے بس ہاں میں سر ہلایا،
اس وقت وہ لوگ روہان کی گاڑی میں موجود تھے اور وہ اسے اس کی یونیورسٹی چھوڑنے جارہا تھا اور راستے میں ضروری ہدایات بھی دے رہا تھا پر اس کی یہ لٹل گرل بہت کم بولتی تھی ہر بات پر بس ہاں میں سر ہلاتی تھی،
روہان نے ایک نظر اسے دیکھا جو اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی پتا نہیں اس کا دل کیوں کیا وہ بہت بولے مجھ سے لڑے اپنی بات منوائے ضد کرے پر یہاں تو خاموشی ہی خاموشی تھی،
گاڑی روکنے پر حیا نے سر اٹھایا وہ لوگ پہنچ گئے تھے اس نے روہان کو دیکھا جو گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا لائٹ سے پرپل کلر کے اسکاف میں معصوم سا چہرہ اس کا دل کیا اسے دنیا سے چھپا کے کہی دور لے جائے،
اپنا خیال رکھنا__ حیا اپنا سامان لے کر اترنے لگی تو اسے پیچھے سے روہان کی آواز آئی اس بار بھی اس نے بس ہاں میں سر ہلایا اور یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف بڑھ گئی جب تک وہ اندر نہیں گئی روہان کی نظرے اس گیٹ پر ہی تھی،
حیا کے اندر جاتے ہی روہان بھی گاڑی بھگا لے گیا،پتا نہیں کیا ہو جاتا ہے کبھی تو اتنا غصہ کرتے ہیں کبھی اتنی پیار سے بات کرتے ہیں کبھی دوسرے روم میں بھیج دیتے ہیں کبھی واپس خود اٹھا کے لے آتے ہیں کبھی خود فون چھین لیتے ہیں کبھی خود بولتے ہیں نیو فون لاکے دونگا روہان کو وہ اب تک سمجھ نہیں پا رہی تھی اب اسے کیا پتا کے روہان کو اس سے محبت ہوگئی ہے اور محبت تو انسان سے سب کچھ کروا لے تی ہے،وہ اپنی سوچ میں مگن چلتی جارہی تھی جب اس کی کسی سے زور دار ٹکر ہوئی اور اس کی کتابیں بیگ سب نیچے گر گیا،
سوری سوری حیا نے جلدی سے سوری بولتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں کوئی لڑکا جھک کے کتابیں اٹھا رہا تھا کسی لڑکی کی آواز پر اس نے سر اٹھا کے دیکھا،
آپ__ ایک دم حیا کے منہ سے نکلا جس کا مطلب تھا وہ اسے پہچان گئی ہے،یس آئی ایم__ اس لڑکے نے کندھے اچکا کر کہا،اور اپنی کتابیں اٹھائی اور حیا کو اس کی کتابیں دی،میڈم__ اس لڑکے کی خوبصورت آواز پر حیا نے جلدی سے کتابیں لی اور وہ موڑ کے چلا گیا،
سنیے اس کے جاتے ہی حیا نے اسے آواز دی وہ ایک دم چلتا چلتا رکا، موڑا ،حیا کی طرف دیکھا، اور آئی برو اٹھائی جس کا صاف مطلب تھا وہ اس سے روکنے کی وجہ پوچھ رہا ہے،
وہ آئی ایم سوری اس دن حیا نے نیچے منہ کیے سوری کہا اس دن جو روہان نے اس کے ساتھ کیا وہ ٹھیک نہیں تھا اس لڑکے نے تو اس کی مدد کرنی چاہی تھی،اٹس اوکے__ اس نے بس اتنا کہا اور واپس چلا گیا حیا نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر اپنے چاروں اطراف میں نظرے گھومائی یہاں ایک سے ایک لڑکے لڑکیاں موجود تھے کچھ ساتھ بیٹھے گروپ سٹڈی کر رہے تھے کچھ یہاں سے وہاں جاتے ہوئے اپنی باتوں میں مگن تھے تو کچھ اپنی کلاس کی طرف جا رہے تھے میں کس سے پوچھوں اپنی کلاس کا سب کا جائزہ لینے کے بعد اب حیا کنفیوژ تھی یہاں اسے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آیا جو اس کی مدد کر سکے،
کچھ دور جاکے وہ اسے دیکھتا رہا جو یہاں وہاں سب کو دیکھنے میں مگن تھی اور اس کے چہرے پر پریشانی تھی اور وہ کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ اس کے پاس آیا،
ہیلو!!!!!حیا نے موڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا سامنے کھڑا تھا اس لڑکے نے حیا کے آگے اپنا ہاتھ کیا حیا نے پہلے اسے دیکھا پھر اس کے ہاتھ کو مائے سیلف بریل اینڈ یو!!!!وہ ہاتھ آگے کیے حیا سے پوچھ رہا تھا کچھ دیر حیا اس کے ہاتھ کو دیکھتی رہی پھر اس کی طرف دیکھا،
میرا نام حیا ہے اور میں کسی لڑکے سے ہاتھ نہیں ملاتی حیا نے اس لڑکے کو آنگریزی میں ہی جواب دیا جس پر اس نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا،
بریل نے کندھے اچکائے اچھا آؤ تمہیں تمہاری کلاس ڈھونڈنے میں مدد کروں اپنا ہاتھ پیچھے کرکے اسے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور آگے چلا گیا حیا بھی کچھ سوچ کے اس کے پیچھے چل دی اس وقت یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی تھی اور اس لڑکے پر وہ بھروسا کر سکتی تھی اس لڑکے نے اس کی ہیلپ جو کی تھی
****************
کیا تم لوگ ریڈی ہو حیدر نے روم کے اندر آتے ہوئے کہا اس وقت وہ لوگ کالے لباس میں تھے اور چہرے پر بھی ان لوگون نے رومال باندھا ہوا تھا اس وقت وہ سب کسی ڈاکو سے کم نہیں لگ رہے تھے دعا اس کمرے میں جاگ رہی تھی یا سو رہی تھی اس بات سے وہ لوگ انجان تھے بلال کے سامنے انہوں نے دعا کا ذکر بھی نہیں کیا،
ہاں بس تیار ہی ہیں احمد نے اپنی شوز پہنتے ہوئے کہا جب کے بلال اپنے چہرے پر کوئی کالا رنگ لگا رہا تھا جس سے آندھیرے میں اس کا چہرہ پہچاننا آسان نہیں تھا،
صمد اپنی جیبوں میں کچھ سامان رکھ رہا تھا آدھی رات کو یہ لوگ گھر سے نکلنے کے لیے بلکل تیار تھے،وہ دن میں ان لوگوں کو پکڑنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے اس لیے مشن کے لیے ان لوگوں نے یہ وقت رکھا تاکہ صبح وہ یہاں سے نکل سکے
وہ لوگ چپ چاپ اندھیرے میں گھر سے باہر جانے لگے جب ایک دم حیدر کے رکنے پر ان لوگوں کو بھی رکنا پڑا،کیا ہوا احمد نے بہت آہستہ آواز میں حیدر سے سوال کیا،
وہ دعا اکیلی ہے ایک بار دیکھ کے آجاؤ کہی وہ جاگ تو نہیں رہی حیدر کی بات پر ایک دم بلال کے تاثرات بدلے پر اس نے کہا کچھ نہیں کون جائے گا اس ٹائم اس کے روم میں احمد نے پریشانی سے کہا ایسے کسی لڑکی کے روم میں آدھی رات کو جانا ٹھیک تو نہیں،
احمد کی بات پر حیدر نے کچھ دیر سوچ کے بلال کی طرف دیکھا،سوچنا بھی نہیں بلال نے غصے میں حیدر کو گھورا اب وہ اس لڑکی کے روم میں جائے وہ بھی آدھی رات کو،
میں پوچھ نہیں رہا یہ میرا حکم ہے اور بھول نہیں میں تم سب کا سینئر ہوں حیدر نے اپنے چہرے کے تاثرات کو تھوڑا سخت کیا بلال نے غصے میں دانت بھینچے،اور گھر کے اندر جانے لگا،
سن!!!!حیدر کی آواز پر وہ رکا لیکن موڑا نہیں،ہم سب جارہے ہیں تو آ جانا ٹھیک ہے حیدر بول کے چلا گیا جب کے بلال نے غصے میں پلٹ کے دیکھا ایک تو اسے اس لڑکی کے پاس بھیج رہا تھا اوپر سے چھوڑ کے بھی جا رہا تھا،بلال نے غصے میں دیکھا پر وہ سب باہر جا چکے تھے،
***********
ادھر آؤ کچھ سینئر کی آواز پر حیا نے ان کی طرف دیکھا جن میں دو لڑکیا اور ایک لڑکا شامل تھا اس نے مشعل سے سنا ہوا تھا کے جو نیا اسٹوڈینٹ آتا ہے یہ سینیئر اسے پریشان کرتے ہیں،حیا نے یہاں وہاں دیکھا پھر ان کی طرف قدم بڑھا دیے،
آج تمہارا پہلا دن ہے ایک لڑکی کی آواز پر حیا نے اسے دیکھا جس نے بیلو جینز پر بلیک کلر کی بغیر آستین کی شرٹ پہنی ہوئی تھی چہرے سے وہ کافی ہوشیار معلوم ہوتی تھی،حیا نے محض ہاں میں سر ہلایا،اسے ان سب کی نظروں سے خوف آرہا تھا،
پاکستان سے ہو اب سوال دوسری لڑکی کی طرف سے تھا جس نے بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی منہ میں ببل گم چباتی ہوئی وہ حیا کو دیکھ رہی تھی حیا نے پہلے اسے دیکھا پھر واپس ہاں میں سر ہلایا،
اپنے سیدھے کندھے پر بیگ پہنے اپنی کتابوں کو دونوں ہاتھوں سے سختی سے سینے سے لگائے ہوئے وہ اس وقت چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی
کیا تم ہمیں جانتی ہو یہ سوال اس لڑکے کی طرف سے تھا جو اپنی گردن کو تھوڑا سا ٹیرا کر کے حیا سے سوال کر رہا تھا،حیا نے اب اس کی طرف دیکھا کندھے تک آتے بال ایک کان میں بالی وہ اسے کسی بدمعاش سے کم نہیں لگا،اس نے نیچے نظرے کیے نفی میں سر ہلایا،
ایک کام کرو وہ جو سامنے کسی لڑکی سے بات کر رہا اس سے ایک سگریٹ لے کر آؤ اب اس لڑکے کے حکم پر حیا نے حیرت سے اسے دیکھا مطلب وہ جا کے ان سے سگریٹ مانگے جو اور کوئی نہیں اس کے سر تھے جنہوں نے اسے ابھی کلاس دی تھی،
حیا نے پہلے اپنے سر کو دیکھا جو کسی سٹوڈینٹ سے مخاطب تھے پھر اس نے اس لڑکے کو دیکھ کے نہ میں سر ہلایا وہ ایسا کام نہیں کرے گی،تم ہمیں منا کر رہی ہو لڑکی اب وہ چل کے حیا کے قریب آیا جس سے حیا تھوڑا پیچھے ہوگئی،
آپ مجھ___سے دور رہیں__حیا نے اسے تھوڑا ڈرتے ہوئے کہا وہ تو پاکستان میں بھی اتنا کسی کو نہیں جانتی تھی اور یہاں تو وہ سب اسے تنگ کر رہے تھے وہ کس سے مدد لے،اچھا نہیں آتا پاس پہلے اپنا نام بتاؤ اس لڑکے نے مسکراتے ہوئے پوچھا پر حیا کو صاف معلوم ہو رہا تھا وہ اسے تنگ کر رہا ہے،
حیا!!!!اس نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا اور موڑ کے جانے لگی کے ایک دم اس نے حیا کا ہاتھ پکڑا ابھی سے کہاں چلی یایا،میرا ہاتھ حیا کی آنکھیں فوراً پانی سے بھر گئی اب وہ کیا کرے،
براڈ چھوڑ اس کا ہاتھ بریل نے اس سے حیا کا ہاتھ چھوڑ وایا یار یہ یایا ہماری بات نہیں مان رہی تمہیں تو پتا ہے ہمارے رولز اس نے بریل کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا،اس کا نام یایا نہیں حیا ہے اینڈ اس سے دور رہو بریل نے انگلی اٹھا کر کہا کیوں بھئی تمہاری کچھ لگتی ہے کیا یہ یایا،
مجال ہے کے یہ براڈ اپنی حرکتوں سے باز آجائے،یایا نہیں حیا تمہارے تو منہ لگنے والا ہی پاگل ہے چلو حیا تمہیں کون لینے آئے گا وہ حیا کو آگے چلنے کا اشارہ کرکے اس کے پیچھے چلنے لگا حیا نے پیچھے موڑ کر دیکھا جہاں وہ تینوں کھڑے ان دونوں کو گھور رہے تھے،
تم پریشان نہیں ہو یہ لوگ یہاں بدمعاشی کرتے ہیں میں ان ہی کے اپارٹمنٹ کا ہوں اس لیے مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے یہ براڈ تھا ہر سٹوڈینٹ کو تنگ کرنا اس کا پسندیدہ کام ہے اور وہ جو دونوں اس کے ساتھ تھی ان کو یہاں سب کیری میری کے نام سے جانتے ہیں جو اس کے بوڈی گارڈ کی طرح ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہیں ان کا ایک اور ساتھی ہے وہ آج شاید نہیں آیا وہ بھی ان کے جیسا ہے بریل اس سے باتیں کرتے ہوئے مین گیٹ کی طرف جا رہا تھا یہ معصوم سی لڑکی اسے اچھی لگی،
***************
وہ اندر آیا تو روم میں گھپ اندھیرا تھا اس نے تھوڑا سا آگے بڑھ کے کھڑکی کا زرا سا بردہ ہٹایا اگر وہ ٹارچ اون کرتا تو کیا پتا وہ لڑکی اٹھ جاتی آرام سے پردہ ہٹا کے وہ موڑا تو بیڈ کو اس نے خالی پایا اب یہ لڑکی کہا گئی اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتا واش روم کا دروازا کھولا بلال جلدی سے کھڑکی کے پردے کے پیچھے چھپ گیا اپنے لباس اور ہلیے سے وہ کہی سے بھی عام آدمی نہیں لگ رہا تھا،
دعا وضو کر کے آئی نیند تو اسے ویسے بھی پوری رات سہی سے نہیں آئی اب یہ سوچ کے اٹھ گئی کے تہجد کی نماز ہی ادا کرلے ابھی وہ بیڈ کے قریب ہی پہنچی تھی جب اسے اپنے سوا بھی کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا،
یہ گھر تو اس کے لیے انجانا نہیں تھا پر اب وہ پہلے کی طرح بہادر نہیں تھی چھوٹی چھوٹی بات پر ڈر جاتی تھی اس نے موڑ کے کھڑکی کی طرف دیکھا اتنے اندھیرے میں اسے کوئی نظر نہیں آیا وہ پلٹنے لگی جب پردے کے نیچے اسے کسی کے جوتے نظر آئے ایک دم دعا کی آنکھوں میں خوف آگیا اس نے یہاں وہاں دیکھا کمرا تو بند تھا اور وہ تو کسی کو آواز بھی نہیں دے سکتی تھی وہ جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی،
بلال جو انتظار میں تھا کے یہ میڈم واپس سو جائے تو وہ یہاں سے جائے کے اس لڑکی کو اس نے دروازے کی اور بھاگتے ہوئے دیکھا مطلب اسے معلوم ہوگیا کے روم میں کوئی اور بھی ہے وہ روم سے باہر جاتی اس سے پہلے بلال نے اسے پیچھے سے پکڑ کے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا،
خبردار آگر تم نے آواز نکالی بلال نے اس کے کان کے قریب غرا کر کہا دعا کی آنکھیں ایک دم خوف سے پھیل گئی اس نے اپنے اوپر سے بلال کے ہاتھ ہٹانے چاہے جو کے آسان نہیں تھا دعا نے ایک دم اس کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑ دیئے اف جنگلی بلی بلال نے ایک دم ہاتھ ہٹایا،
بلال کی گرفت ڈھلی ہوتے ہی دعا نے پلٹ کر اسے دور دھکا دیا اور اپنے آس پاس کچھ ایسا دیکھنا چاہا جو وہ اس بندے کے سر پر مار سکے بلال نے اس کے ارادے بھانپ کے اسے واپس پکڑنا چاہا کے وہ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکل گئی،
دعا کی آنکھوں میں اس وقت خوف کے ساتھ آنسوں بھی تھے کوئی آدمی اس کے کمرے میں گھس گیا تھا اور وہ کسی کو آواز بھی نہیں دے سکتی تھی بے بسی ہی بے بسی،کالے لباس میں وہ جو کوئی بھی تھا اس کا چہرہ تک دعا کو سہی نہیں دیکھ رہا تھا،
بلال ایک دم موڑ کے اس کی طرف بڑھا یہ حیدر نے اسے اچھی مصیبت میں پھنسایا تھا،دعا بھاگتی اس سے پہلے بلال نے اسے کمر سے پکڑ کے اپنی طرف کیا اور اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا،اس کی پکڑ میں اتنی سختی تھی کے دعا کے چہرے پر درد کے آثار بلال سے چھپے نہیں تھے،
اپنا یہ ناٹک بند کرو میں منہ سے ہاتھ ہٹا رہا خبردار جو تم نے کوئی آواز نکالی بلال نے غصے میں بول کے اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹایا،دعا نے آنکھوں میں آنسوں لیے اس کے چہرے کی طرف دیکھا کھڑکی سے آتی روشنی اور بلال کا اتنا پاس کھڑے ہونا دعا نے تھوڑا اور قریب سے اس کا چہرہ دیکھا،
بلال نے حیرت سے اسے دیکھا جو اب ڈرنے کی بجائے اپنا چہرہ تھوڑا آگے کر کے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی،ہاں وہ اسے پیچان گئی یہ تو وہی ہے جن سے میرا نکاح پر وہ اتنی رات کو یہاں ایک دم ڈر کی جگہ شرم نے لے لی دعا نے اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا بلال کا ہاتھ اب بھی اس کی کمر پر تھا جب بلال کو احساس ہوا اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ ہٹایا،
ہم کسی کام سے جارہے ہیں اگر تم روم سے باہر نکلی تو تمہاری ٹانگے توڑ دونگا سمجھی اس نے انگلی اٹھا کے غصے سے کہا دعا نے ایک نظر اسے دیکھا اور آرام سے ہاں میں سر ہلایا بلال نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا ابھی وہ اس سے اتنا ڈر رہی تھی اور اب وہ اسے ڈرا رہا تھا پھر بھی وہ اس سے نہیں ڈر رہی تھی اف میں پاگل ہو جاؤ گا بلال نے اپنا اپنا سر جھٹکا اور اسے ایک نظر دیکھ کے روم سے باہر آگیا پر کمرے کی باہر سے کنڈی لگانا نہیں بھولا تھا،
بلال نے باہر آکے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا کیا مجھ سے کسی کو ڈر نہیں لگتا اس نے حیرت سے خود سے بولتے ہوئے اپنا جائزہ لیا،بلیک سوٹ میں وہ کافی سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا پر اس کے چہرے پر لگا کالا کلر اسے تھوڑا ڈراؤنا بنا رہا تھا،اتنا تو ڈراؤنا لگ رہا ہوں پھر وہ مجھ سے ڈری کیوں نہیں، کیوں کے میرے بھائی تو ہنسانے والی چیز ہے ڈرانے والی نہیں تجھے دیکھ کے تو لوگوں کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے تجھ سے کون ڈرے گا احمد نے دروازے میں کھڑے کھڑے اس پر طنز کیا،
بلال نے موڑ کے اسے دیکھا جو مین گیٹ پر کھڑا مسکرا رہا تھا مطلب اس کمینے نے سب سن لیا،تو اپنا منہ بند رکھ بلال نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا،میرا منہ بند ہی ہے تو آدھا تو پاگل تھا آدھا شادی کے بعد ہوگیا اب اکیلے میں خود سے باتیں بھی کرنے لگا ہے واہ احمد نے بولتے ہوئے ہوا میں ہاتھ اٹھایا جیسے بلال نے بہت بڑا کارنامہ کیا ہو،
تیرا منہ بند نہیں ہوگا نہ بلال نے غصے میں اس کا گلا پکڑا اور کیا شادی شادی لگا رکھی ہے میری کوئی شادی نہیں ہوئی سمجھا اسے چھوڑتا ہوا وہ باہر چلا گیا،
واہ میں یہاں دس منٹ سے کھڑا تیرا انتظار کر رہا کے بچا ہے ڈر جائے گا ساتھ لے کر جاؤں گا پر یہاں تو لوگ مجھے ہی چھوڑ کے جارہے احمد بھی بولتا بولتا اس کے پیچھے گیا بلال نے ایک پتھر اٹھا کے پیچھے موڑ کے اس کے اوپر پھینکا یہی مرا رہ تو بلال اسے گھورتے ہوئے آگے بڑھ گیا،
میں اگر مر گیا نا سب سے زیادہ تجھے ہی رونا آئے گا پھر میں بھی نہیں ہونگا تجھے چپ کروانے کے لیے احمد نے ساتھ چلتے ہوئے مسکرا کر کہا،
کرلی بکواس بلال کا بس کیا اسے ابھی مار دے کمینہ کچھ بھی بولتا ہے،
یہ جینا بھی عبادت ہے
یہ مرنا بھی عبادت ہے.
ادھر غازی کا جزبہ بھی ہے
،ادُھر ذوق شہادت ہے
احمد نے جیبوں میں ہاتھ ڈھالے مزے سے کہا بلال نے ایک نظر اسے دیکھا پر کہا کچھ نہیں انہیں ابھی مشن پر دھیان دینا تھا.
جاری ہے
