Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Last Episode)Part 1

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

آپ۔۔۔۔آپ آگۓ۔۔۔؟؟ کنول نے آفتاب کے چہرے کو چھونا چاہا۔ جبکہ آفتاب نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ اور بازو سے پکڑ کے اٹھایا ۔ کنول بوکھلا ہی گٸ۔

کہا تھا۔۔۔! ایسا ویسا۔۔ کچھ مت کرنا۔۔ لیکن تم۔۔۔ بازنہ آٸ۔۔؟؟ آفتاب کے سخت الفاظ ۔۔اور نفرت انگیز لہجہ کنول نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

میں۔۔۔ میں۔۔ نے۔۔۔؟؟ کنول نے کچھ کہنا چاہا۔

آفتاب نے بنا اسکی بات سنے اسے بازو سے پکڑ باہر لے آیا ۔ سبھی خان حویلی میں اکھٹے ہوگٸے بڑی بیگم سفیہ ملازم سبھی دم سادھے انہیں دیکھ رہے تھے۔ کہ آخر آفتاب کیا کرنے والا ہے۔ بیچ ہال میں لاتے جھٹکے سے چھوڑا۔ کہ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔

بس۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔! تم۔۔۔تم۔۔۔ نے جو اب کیا۔۔ وہ معافی کے لاٸق نہیں۔۔ ہر بار تم نے میرے جذبات سے کھیلا۔ لیکن اس بار۔۔۔؟؟

ایک منٹ۔۔۔! کنول نے انگلی اٹھا کے آفتاب کو مزید کچھ بھیکہنے سے باز رکھا۔

کوٸ بھی بات کہنے سے پہلے۔ ۔۔۔ سچ جان لیں۔ ورنہ۔۔ بہت پچھتاٸیں گے۔

ایک للکار تھی کنول کے انداز میں۔ اسکا لہجہ بتا رہا تھا۔ کہ کچھ مسنگ ہے۔ آفتاب ایک لمحے کےلیے ٹھٹھکا۔

کیا مطلب؟ آفتاب نے آگے بڑھتے ماتھےپے بل ڈالے پوچھا۔ جبکہ سفیہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔

کنول نے ایک نظر آفتاب کو دیکھا۔اور دوسری سخت نظر سفیہ ے ڈالی ۔ جس نے پہلو بدلا تھا ۔

بولو۔۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتی ہو۔۔؟؟ میں نے جو دیکھا۔۔ اب اس پے بھی تم ایکسکیوزز دوں گی۔۔؟؟ بتاٶ۔۔۔؟ مجھے۔۔؟؟ کیوں۔۔ لاک کیا دروازہ۔۔؟؟ آفتاب نے اسکا بازو جکڑتے پوچھا۔

جس نے کیا ۔۔اسی سے پوچھیں۔ دھیمے لیکن سخت لہجے سے کہتے جھٹکے سے اپنا بازو آفتاب کی گرفت سے آزاد کروایا۔ وہ چپ سا ہوتا اسے دیکھنے لگا۔

کیاکہنا چاہتیبہو تم؟ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔؟؟ تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے۔۔؟؟ دروزاہ باہر سے لاکڈ تھا۔۔؟؟ او ہم میں سے کسی نے یہ کام کیا ؟ دیکھ لیں بڑی بیگم ۔۔! یہ الزامل گنا باقی تھا۔۔۔؟؟

سفیہ نے بولنا شروع کیا تو سبھی اسکا منہ حیرت سے دیکھنے لگے۔

جبکہ کنول اتنی ہی مطمین کھڑی تھی۔

میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا۔۔۔ ! اور نہ ہی آپ میں سے کسی کو کچھ کہا۔۔؟ کنول کے استفسار پے سفیہ گڑبڑا گٸ۔

اب آ کو پتہ لگ گیا ہوگا۔۔۔! کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ کنول نے دھیرے سے آفتاب کے پاس آتے دکھی اور سخت انداز میں کہا۔جبکہ آنکھیں بے تحاشا نم تھیں۔

کہہ کہ وہ پلٹی ہی تھی۔ کہ آفتاب نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

اسے اپنی اور کھینچا کہ وہ اسکے سینے سے آلگی ۔ اسکے سینے سے لگے اسکی آنکھوں میں اپنے لیے وارفتگی دیکھتی غصے کے باوجود اسکا دل بے اختیار دھڑکنے لگا۔

میری زندگی کی ضروت ہو تم۔۔۔

میرے جینے کی وجہ ہو تم۔۔۔

میری زیست کا حاصل ہو تم۔۔۔

اس بے درد دنیا میں ایک تم ہی ہو اپنی۔۔۔

ایک تمہی تم ہو۔۔۔

صرف تم ہو۔۔

میری روح کا حصہ ہو۔۔

میرے درد کی دوا ہو۔

تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔

ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کے کہتا وہ اپنی روح کے در اسکے لیے کھول رہا تھا۔

اسکا عشق و جنوں آج جسم سے روح میں داخل ہو چکا تھا۔

مان بھرا بوسہ دیتا وہ کنول کی روح کو سکون بخش گیا تھا۔ آنکھیں موندتی وہ اسکے لمس کو اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔

آپ نے وعدہ کیا تھا۔ کہ آپ میری روح کا خیال رکھیں گیں۔ یہ خیال رکھا آپ نے؟

کنول کا ہاتھ تھامے وہ بڑی بیگم کی جانب پلٹا۔

جن کا سر تو جھکا تھا۔ لیکن لب بھینچ گۓ تھے۔

میں آج ابھی اسی وقت آپ کی اس زندان حویلی سے جا رہا ہوں۔۔ ابھی تک جو یہاں رکا تھا تو وہ آپ کا احسان اتارنے کے لیے۔ پر۔۔۔ اب ختم۔۔۔! زندگی نے ساتھ دیا۔۔ تو آپکا احسان آپ ہی کی صورت میں سود سمیت اتار دوں گا۔ بلکہ اپنے جسم کے خون کا ایک ایک قطرہ آپ کو دے دوں گا۔۔ لیکن۔۔۔! انگلی اٹھاکے سختی سے وارن کیا۔

میری زندگی۔۔۔ میری روح پے وار کرنے کا بھول کے بھی مت سوچیے گا۔۔۔۔۔

ورنہ آفتاب شیر خان جان دے سکتا ہے تو جان لے بھی سکتا ہے۔۔۔۔!

شیر کی دھاڑ کی طرح وہ غرایا تھا۔ کہ کوٸ چاہ کے بھی کچھ نہ بول پایا۔ کنول کا ہاتھ تھامتا۔ اس نے وہاں سے نکلنا چاہا۔ کہ ۔۔۔۔

رکیے جانشین۔۔۔! آپ ایک ایسی لڑکی کے لیے اپنی دادیکو چھوڑ کے جا رہے ہی۔ جس نے آپ وک موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔

گرجدار آواز پے جہاں آفتاب کے قدم رکے۔ وہیں کنول کا دل بھی دھڑکا۔

آپ ایسا کیسےکر سکتےہیں؟ وہ آگے بڑھیں تھیں ۔

آپ نے ہم سے ودہ کیا ہے کہآپ ہمیں چھوڑ کے نہیں جاٸیں گے۔ اور جیسا ہم کہیں گے ویسا کریں گے۔ پھر ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟ ؟ ان کے ماتھےپے بے شمار بل تھے۔

آپ میرے لیے قابل احترام ہیں۔ لیکن میں یہی چاہوں گا۔ کہ میرے پرسنل معاملات سے دور رہیں۔

دھیمےلیکن مضبوط لہجے میں کہتا وہ سب کو چونکا گیا۔

کیسے دور رہیں۔۔؟؟ اس۔۔۔اس لڑکی نے آپ پے۔۔گولی چلاٸ۔۔۔ آپ کو موت کے منہ میں۔۔۔ دھکیل دیا ۔۔اور آج اسی کا ساتھ دیتے ہوۓ آپ اپنی دادی ک فراموش کے جا رہے ہی ؟اور آپ چاہتے ہیں۔۔کہ ہم اس سب سے دور رہیں ؟ کیسے۔۔۔؟؟

میری زندگی میری زندگی پے قربان۔۔۔! ایک کیا.وہ دس گولیاں بھی چلاۓ۔۔تو آفتاب کا سینہ حاضر ہے۔ لیکن۔۔۔ آپ ۔۔دور رہیں اس سے ۔۔۔ ساتھ کھڑی سفیہ کو بھی انگلی اٹھا کے سختی سے وارن کیا ۔

یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اور۔۔۔؟؟

بکواس بند۔۔۔۔! آفتاب اتنے زور سے دھاڑا تھا کہ خان حویلی کے درودیوار کانپ اٹھے۔

اب ایک اور لفظ نہیں۔۔ !

اسےلگام ڈال کے رکھیں۔ ورنہ ایسی سزا دوں گا۔۔ کہ ساری زندگی ڈھونڈتی رہ جاٸیں گیں اور یہ نہیں ملے گی۔

سبھی کی بولتی بند کرتا وہ کنول کا ہاتھ تھامےحویلی سے نکلتا چلا گیا۔ بڑی بیگم نے خشمگیں نظروں سے سفیہ کو دیکھا۔ جسکی وجہ سے انکا پوتا ان سے ایک بار پھر بچھڑ گیا تھا۔

آفتاب۔۔۔؟ اسکے ساتھ چلتےدھیرے سےاسے پکارا تو اس نے رک کے اسکی جانب دیکھا۔

کیاہوا۔۔؟؟ دھیمے لہجے میں نرمی سے پوچھا۔

ہم۔۔۔ کہاں۔۔؟؟ رات کےاس پہر اچانک سے حویلی سے نکلنے پے کنول کو کچھ صحیح نہ لگا۔

مجھ پے بھروسہ ہے؟ الٹا اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔

یہ بھی پوچھنےکی بات ہے؟ بہت مان سے اسکے قریب ہوتے کہا۔

تو بس۔۔ اپنے شوہر پے بھروسہ رکھو۔ جو جان تو دے سکتا ہے۔ لیکن تم پے آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔

اسے اپنے ساتھ لگاتے وہ پرسکون ہوتا بولا تھا۔

اتنا پیار کرتےہیں مجھ سے؟ سر اٹھا کے آنکھوں میں بے تحاشا محبت لیے پوچھا ۔

اسکے اس انداز پے آفتاب کا دل دھڑکا۔ اور بنا ایک لمحےکی دیر کیے اسکے لبوں پے جھکا۔ کنول تو اسکے اس جواب پے دنگ ہی رہ گٸ۔

محبت نہیں جنون ہو میرا۔۔۔! رگوں میں خون بن کے دوڑتی ہو۔

آؒفتاب کے اس برملا اظہار پے کنول کی آنکھیں پھیل گٸیں۔

آپ۔۔۔۔آآپ۔۔۔ نے مجھے معاف کر دیا۔۔؟؟ ایک امید تھی لہجے میں۔ آفتاب نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا۔ اور اسے سینے میں بھینچا۔ وہ سعدی کوکال کر چکا تھا ۔ کہ وہ گاڑی کا بندوبست کرے ۔ کیونکہ وہ خان حویلی سے بالکل خالی ہاتھ نکلا تھا۔ سواۓ اپنی کنول کے۔

جس دن۔۔ سب کچھ سچ سچ بتا دو گی۔۔۔ اس دن۔۔۔!آفتاب نے گھمبیر لہجے میں کہتے آتی ہوٸ گاڑی کو فوکس کیا۔ جو سعدی ڈراٸیو کر رہا تھا ۔

خیریت۔۔؟؟ یوں اچانک آپ آگۓ۔۔؟؟ سعدی اترتے ہوۓ پریشان ہوتے پوچھ بیٹھا۔

ہمممم۔۔۔ ہوٹل پیراڈاٸز لے چلو۔ وہیں رات رکیں گے۔ کل صبح کی کراچی کی ٹکٹس کنفرم کر وادینا۔

کنول کوگاڑی میں بیٹھا کے سعدی سے مخاطب ہوا۔

اس نے مزید کوٸ سوال نہ کیا ۔ اور گاڑی کوہوٹل کی طرف موڑ دیا ۔

آفتاب کس سچاٸ کی بات کر رہے ہیں۔۔؟ آفتاب کی بات کو سوچتے ایک الجھی نظر اس پے ڈالی ۔ جبکہ وہ اسکی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کے اپنے دل کے مقام پے رکھا۔ کنول ششدر سے اسے دیکھے گٸ ۔

اتنا پیار۔۔۔؟؟ وہ اچانک سے کیوں جتا رہا تھا۔۔؟ صبح تک تو وہ بے انتہا غصہ میں تھا۔

کنول نے اسکے دل کے مقام پے رکھا اپنا ہاتھ اسکی گرفت میں دیکھا۔

جس دن۔۔ سب کچھ سچ سچ بتا دو گی۔۔۔ اس دن۔۔۔!

مطلب۔۔۔؟؟ آفتاب۔۔۔؟؟ جانتے ہیں۔۔۔کہ ۔۔گولی۔۔؟؟ میں نے نہیں چلاٸ۔۔۔؟ کنول کا دل بری طرح دھڑکا۔ اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن آفتاب کی گرفت مضبوط تھی۔ ایک دم سے اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔ بلڈ پریشر لو ہونے لگا۔

آفففتاببببب! اس نے سن پڑتے دل و دماغ سے آفتاب کو پکارا۔ وہ فوراً اسکی جانب مڑا۔

اوہ۔۔۔تمہارا تو بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے سعدی۔۔۔ ہاسپٹل کی جانب گاڑی۔۔؟؟

پانی۔۔۔۔! دھیرے سےپھر سے پکارا۔ سعدی ساٸیڈ پے گاڑی روکتا منرل واٹر کی بوتل لے آیا ۔

آفتاب نے اسے پانی پلایا۔ تو اسے کچھ ہوش آیا ۔

مجھے بھوک لگی ہے۔اسکے بازو کے گرد بازو حماٸل کرتی وہ لاڈ سے آنکھیں بند کرتی بولی تھی۔

آفتاب نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگایا۔ اور سعدی کو چلنے کا کہا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

بات کرنی ہے مجھے تمہار ے ساتھ۔

کاظم اپنی ایک دوست کے ہمراہ ہوٹل میں موجود تھا۔ کہ وہ تن فن کرتی اس تک پہنچی۔ کاظم نے سر گھما کے اسے دیکھا۔

جاٶ یہاں سے۔۔۔! بزی ہوں میں۔ اپنی دوست کی نظروں میں حیرت دیکھتا وہ سختی سے بولا تھا۔

بزی۔۔۔؟؟ کل تک تو۔۔ شادی کے لیے مرے جا رہے تھے۔ اور آج۔۔۔؟؟؟

س سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی کاظم نے غصہ سے اٹھتے اسے جھٹکے سے بازو سے پکڑا۔ اور وہاں سے دور رہ گیا۔

شادی۔۔۔۔؟؟؟ وہ لڑکی زیرلب بڑبڑاٸ۔

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔۔۔۔؟؟ سخت گیر لہجےمیں اس سے پوچھا۔

کیوں۔۔۔؟؟ بہت آگ لگ رہی ہے میری بات پے۔۔۔؟؟ میرے بارے میں کل کیا کچھ نہیں بول کے گۓ تم۔۔۔؟؟یہا ںتک کہ مجھے میرا کریکٹر سرٹیفیکیٹ بھی تھما کے گۓ۔۔۔ تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔؟؟ اس لڑکی کی طرف اشارہ کرتے آنکھیں چھوٹی کر کے پوچھتی وہ کاظم کو بکھری ہوٸ لگی۔

اور کچھ۔۔۔؟؟ بہت مطمین انداز میں پوچھا۔ جس پے کوملمزید سیخ پا ہوٸ۔

میرے کریکٹر پے انگلی اٹھانے والے تم ہوتے کون ہو۔۔۔؟؟ تم نے پہلے دن سے مجھے ٹریپ کیا۔۔ میں نے پھر بھی تم سے دوستی کی۔ کبھی نہیں سوچا۔۔ کہ تم سے شادی کروں گی۔۔ لیکن تم نے مجھے شادی کا پرپوز کیا۔ جس پے میں نے انکار کیا۔ اور تم۔۔۔ مجھے۔۔؟؟؟

کیا تمہیں۔۔۔؟؟ کیاکیا ہے میں نے تمہارے ساتھ ۔۔؟؟ بولو۔۔۔؟؟ کاظم نے تیز لہجے میں اسکی بات کاٹی۔

کیا کیا۔۔۔؟؟؟ کومل کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

کیا نہیں کیا۔۔۔؟؟ کیا کچھ بولا۔۔۔؟؟ کوٸ احساس ہے۔۔۔؟؟ اور یہاں خود۔۔ کسی اور لڑکی کے ساتھ گلچھڑے۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ اسکی آواز روندھ گٸ۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔! ہاں پرپوز کیا تمہیں۔۔۔! لیکن تم نے انکار کر دیا۔۔ بات ختم۔۔۔ اب میںسکیا کرتا ہوں۔۔ کس کے ساتھ ہوں۔۔ تمہیں اس سے کوٸ غرض نہیں ہونی چاہیے۔۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔! سپاٹ انداز اپناتے وہکوملکا دل دکھا گیا۔

مجھے کوٸ فرق نہیں پڑتا۔۔ تم کیاکرتے ہو کیا نہیں۔۔۔! لیکن ایک بات میری کان کھول کے سن لو۔۔۔! انگلی اٹھا کے اسے وارن کرتی اس کے قریب آٸ۔ اسکی سبز آنکھوں کے لال ڈوروں میں کاظم کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔

میں بری لڑکی نہیں ہوں۔۔۔! سمجھے تم۔۔۔۔! کہتے ہی اسکی آنکھوں سے گرم سیال مادہ نکلتا اسکے گال بگھو گیا۔۔ رخ پھیرتی وہ آنسو صاف کرتی وہاں سے نکلنے لگی۔ کہ پھر سے وہ وپس پلٹی۔ کچھ کہتی کہ ایک لال رنگ کی روشنی کاظم کی سفید شرٹ پے دیکھنےلگی۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔ پلٹ کے دیکھا جہاں سے روشنی آرہی تھی۔ وہ کسی کے نشانے پے تھا۔ اسکی نظریں کومل کے خوف زدہ چہرےپے تھیں۔ کہ اتنے میں گولی چلی۔ کومل نے پلک جھپکتے کاظم کو زمین پے دھکا دیا۔ اور خود بھی اسکے اوپر جا گری۔ گولی سامنے شیشے میں جا کے لگی۔ ہوٹل میں شور شرابا برپا ہوگیا۔ دونوں ایک طرف کو گرے تھے۔ کومل مکمل کاظم پے گری اپنا سارا وزن اس پے ڈال گٸ۔ کاظم نے خود کو بھی چوٹ لگنے سے بچایا اور کومل کی کمر میں بازو حماٸل کرتے اسے بھی گرنے سے بچاگیا۔

تم۔۔۔ ٹھیک ہو۔۔۔؟؟ کومل کو اسکی فکر ہوٸ۔ اپنے بکھرے بالوں کے ساتھ اسکے لہجے کی فکر مندی کاظم کو بہت کچھ سوچنے پے مجبور کر رہی تھی۔

ہاں۔۔۔! ناسمجھی والے انداز میں کہا۔ ایک اور گولی چلی تو کاظم کو ہوش آیا۔ فوراً سے کومل کو لیے دیوار کی آڑ میں ہوا۔ اور اسے لیے وہاں سے نکلا۔ دونوں وہاں سے بھاگتے نکلے تھے۔ کاظم اسے اپنی باٸیک پے بٹھاتا اس جگہ سے دور لے گیا۔

کافی دیر کے بعد وہ اسے وہاں سے نکال لانے کے بعد کامیاب ہوا تھا۔ اس کے گھر کے باہر باٸیک روکتے وہ اسکی جانب پلٹتا پرسکون ہوا تھا۔

کومل دھیرے سے باٸیک سے اتری ۔

بہت کچھ کہنا چاہتے تھے۔ ایک دوجے سے لیکن۔۔۔

کچھ کہہ بھی نہیں پا رہے تھے۔

تمہیں اپنی۔۔کٸیر کرنی چاہیے۔۔۔! کومل نے فکرمندی سے کہا ۔

ہممممممم۔۔۔۔ تمہیں۔ بھی۔۔۔! پلٹ کے ویسے ہی کہا۔

میرا کیا ہے۔۔۔؟؟ اپنا آپ کا مذاق اڑاتی وہ کاظم کو بری لگی۔

مر بھی جاٶں تو کوٸ رونے والا نہیں ہوگا۔۔۔ شاید۔۔۔ کوٸ۔۔ دفنانے والا۔۔۔ بھی۔۔۔؟؟

شی۔۔۔۔۔۔۔! کاظم پلک جھپکتے اسکے لبوں پے انگلی رکھتا اسے چپ کراگیا۔

سب سے پہلے خود کو معاف کرو۔۔۔ ۔۔۔ اپنی بہن سے معافی مانگو۔۔۔ سر خان سے ۔۔۔معافی مانگو۔۔ ان کے بیچ میں دراڑ ڈالنی چاہی۔۔ معافی مانگ۔۔۔کر خود کو معاف کرو۔۔۔ کومل۔۔۔ کوٸ بھی دودھ کا دھلا نہیں ہوتا۔ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔۔ مانا کہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ لیکن۔۔۔ تم نے بھی۔۔اچھا نہیں کیا۔

سوچو۔۔۔ سمجھو۔۔۔ اور فیصلہ کرو۔

کاظم کے الفاظ اسکے دل پے پھوار بن کے برس رہے تھے۔ وہ پہلے دن سے جانتی تھی۔ وہ اسے ٹریپ کر رہا ہے۔۔۔ اور وہ۔۔۔ بس ہوتی چلی گٸ۔۔ زندگی میں کبھی اتنی چاہ کسی نے کی ہی نہیں تھی۔۔۔

تم۔۔۔۔ مجھ سے یہ سب۔۔۔؟؟ میں تو بری لڑکی ہوں ناں۔۔۔؟؟ اسکے الفاظ پھر سے کاظم کو چبھے۔

نہیں۔۔۔۔ تم۔۔ بری نہیں۔۔ وقت اور حالات برے تھے۔

کیا تمہارا دل نہیں کرتا۔۔۔؟؟

ایک ۔۔چھوٹا سا گھر ہو۔۔پیارا سا گھر۔۔۔ مکمل گھر۔۔۔۔۔ جہاں ۔۔۔دو پیار کرنے والے ہوں۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے۔۔ بے بیز ہوں۔۔۔ زندگی۔۔۔بہت پرسکون ہو۔۔۔۔؟؟؟

کاظم اسے حسن خواب دیکھانے لگا۔ اسکا دل مچلا۔

یہ۔۔۔یہ سب ناممکن ہے۔۔۔ میں۔۔۔۔میں۔۔ گناہ کی دلدل میں پھنس چکی ہوں۔۔۔ وہاں سے نکلنا۔۔۔؟؟ ناممکن ہے۔۔۔! کومل کو اپنے گذرے ہر لمحے پے شرمدنگی ہوٸ تھی۔

میرا پرپوزل ابھی بھی وہیں پے ہے۔۔کومل۔۔۔! فرصت سے بیٹھ کے سوچنا۔۔۔ ! کوٸ جلدبازی کی ضرورت نہیں۔

واپس باٸیک پے بیٹھتا وہ کومل کا دل پھر سے دھڑکا گیا۔

پھر کب ملو گے۔۔۔؟؟ کومل بے چین ہوٸ۔

جب چاہے بلا لو۔۔۔! آجاٶں گا۔ مسکرا کے کہتا وہ کومل کو بی مسکرانےپے مجبور کر گیا۔

کاظم کا ساتھ اسے ایک انجانی خوشی بخش رہا تھا۔

اپنا خیال رکھنا۔۔۔محبت اور فکر سے کہتا وہ اسے اپنا اپنا سا لگا۔

کاظم کے جانے کے بعد وہ اندر آٸ تو ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا۔ جسے کسی نے پورے گھر کی تلاشی لی ہو۔

کومل کا دل سوکھےپتےکی مانند کانپا۔

وہ آگیا۔۔۔؟؟؟ اب وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔

سوچتے ہوۓ ماتھے پے پسینے آٸے۔

ایک دم سے سامنے وہ کھڑا نظر آگیا۔ اسکے ساتھ دو آدمی اور تھے۔ وہ سگریٹ کے کش لیتا کومل کو گھبرانےپے مجبور کر گیا ۔

تمہیں کیالگا۔۔۔؟؟ تم۔۔ ہمارے دھندے سے علیحدگی اختیار کرو گی۔۔۔ اور ہم چپ چاپ تماشا دیکھتے رہیں گے۔۔۔؟ وہ نارمل انداز میں بول رہا تھا۔جبکہ کومل جانتی تھی۔ یہ طوفان سےپہلے کی خاموشی ہے۔

کنگ۔۔۔۔! پلیز۔۔۔۔ ؟؟ وہ گڑبڑا کے بولی۔ جبکہ وہ کومل کے قریب آتا اسکے ہاتھ سے موباٸیل لیتا کاظم کا نمبر ڈاٸل کر نے لگا۔

کاظم جو ابھی راستےمیں ہی تھا کومل کی کال دیکھ مسکرایا۔ باٸیک ایک طرف روکتا وہ کال رسیو کر گیا ۔

اتنی جلدی بلاوا آجاۓ گا۔۔۔ اندازہ۔۔۔؟؟؟

اگر اس لڑکی کو زندہ دیکھنا چاہتے ہوتو۔۔؟؟ تمہارےپاس صرف د منٹ ہیں۔ پہنچ جاٶ۔۔ اوربچالو۔۔۔اسے۔۔ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔۔

وہ مکار ہنسی ہنستا کاظم کو کانٹوں پے گھسیٹ گیا۔

ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔۔؟؟ کال بند ہوچکی تھی۔ وہ باٸیک واپس موڑتا دس منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کرتا کومل کے گھر پہنچا تھا۔ باٸیک کو گراتا وہ اندر کی جانب سانس روکے بڑھا تھا۔

کومل۔۔۔۔۔۔!اونچی آواز میں وہ چلایا تھا۔ لیکن ساری جگہ خاموشی کا راج تھا۔

اس نے ساری جگہ تلاشا۔۔ لیکن اسے کومل کہیں نظر نہ آٸ۔ کہ تبھی ایک سسکی سی ابھری۔ ڈرتے ڈرتے کاظم نے پلٹ کے دیکھا۔ ٹیبل کے نیچے ایک ساٸیڈ پے وہ گری پڑی تھی۔ کاظم ایک منٹ کی دیری کیے بنا اس تک پہنچا۔ اسکاسراٹھایا۔ خون سے لت پت وہ بے ہوش پڑی تھی۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔ اسکے سر ماتھے سب طرف سے خون بہہ رہا تھا کانچ تھا۔۔ جو اسکے سر میں جگہ جگہ کبھے ہوۓ تھے۔ اسکی سانس چیک کی۔ جو مدھم مدھم چل رہی تھی۔ کاظم نے اسے بانہوں میں بھرا ۔ اور باہر کی جانب بڑھا۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟؟ یوں سسک سسک کے مرنا۔۔۔؟؟ کیسا لگ رہا ہے۔۔؟؟ ارباز خان۔۔؟؟

سفید لباس میں چہرے پے سختی لیے وہ کھڑی تھی۔ ارباز خان کی تو اسےیوں سامنے دیکھ روح ہی فنا ہونے والی تھی۔

تم۔۔۔تم۔۔زندہ۔۔۔؟؟ تم تو۔۔۔مر گٸ۔۔۔؟ ارباز خان بری طرح گھبراۓ۔

ہاں۔۔۔۔تم نے تو مجھے جیتے جی مار دیا تھا۔۔۔۔ کوٸ کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔۔ ارباز خان۔۔۔ کچھ گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔۔ اور تمہیں بھی مل کے رہے گی۔۔ عبرت کا نشان بنو گے تم۔۔۔ عبرت کا۔۔۔

شبیہہ دھندلی پڑتی گٸ ۔ ارباز خن نیند سے جاگتا پسینے سے شرابور تھا۔

اسکے کرموں کا حساب تو شروع ہو ہی گیا تھا۔ ماضی کی پرچھاٸیوں نے اسےاپنی لپیٹ میں لیا۔

خدا کا واسطہ ہے۔۔ ارباز۔۔خان۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔! مت کرو یہ ظلم۔۔۔! وہ روتی بلکتی بولی تھی۔

جبکہ اسکی تین سالہ بیٹی اندر کمرے میں قید کیے ماں ماں پکارتی وہ بھی روۓ جا رہی تھی۔

لیکن ارباز خان پے تو جیسے شیطان سوار تھا۔ اس نے ایک نہ سنی۔ اور مریم کی عزت کو پامال کر دیا۔

پیچھے ہٹتے وہ دیوار کے ساتھ جا لگی۔

تم۔۔۔تم۔۔۔بر باد ہوگے۔۔۔۔ ارباز خان۔۔۔۔۔! میرا اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ تم۔۔ موت مانگو گے۔۔لیکن۔۔ تمہیں موت تمہیں نہیں ملے گی۔

وہ تڑپ رہی تھی۔ اور ارباز خان فرعون بنا کھڑکی کے پاس روتی بلکتی کنول کے پاس جا کھڑا ہوا۔ خوبصورت ہے بہت۔۔۔۔! کمینے پن سے کہتا وہ رخ موڑ کے مریم کو مزید کانٹوں پے گھسیٹ گیا۔

ارباز خان۔۔۔۔۔۔!مریم کی للکار سے پورا فلیٹ گونج اٹھا۔ وہ عورت اپنے پے تو سہہ گٸ ۔ لیکن۔۔۔ اپنی بچی کو اس کے ناپاک ارادوں سے دور کرنا جانتی تھی۔

گھبراٶ۔۔نہیں۔۔ بہت چھوٹی ہے۔۔ یہ ۔۔۔۔! بڑی ہونے دو۔۔۔پھر ملاقات ہوگی۔

کہتا وہ خباثت سے ہنستا نکل گیا۔

مما۔۔۔۔۔! کنول نے اسے روتے ہوۓ پکارا۔

مریم وہیں نیچے زمین پے بیٹھتی چلی گٸ۔ وہ مر جانا چاہتی تھی۔ لیکن بار بار اپنی بیٹیوں کا خیال آتا تو وہ کچھ نہ کر پاتی۔۔۔ اسی اثنا میں ارباز خان واپس آیا تھا۔اور مریم کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھا۔ اور بالوں سے کھینچ کے کچن کے اندر لے گیا ۔

چھوڑو۔۔۔ مجھے۔۔۔! مریم نے خود کو چھڑانا چاہا۔ لیکن وہیں سے مٹی کا تیل اٹھاتا وہ مریم پے چھڑکتا اسے دھکا دیا۔

اسکے سر پے چوٹ لگی۔ وہ نیچے گرتی چلی گٸ۔

تمہیں کیا۔۔۔لگا۔۔۔؟؟ میں تمہیں یوں ہی چھوڑ کے چلا جاٶں گا۔۔۔؟؟ تمہیں اوپر پہنچاٶں گا۔

کہتے باہر نکلا۔ دروازہ لاک کیا۔ او ماچس کی تیلی کھڑکی سے اندر اچھالتا وہ روتی چلاتی مریم کو چھوڑ وہاں سے بھاگا تھا۔ کنول ماں کو مرتا دیکھ بہت روٸ وہ ماں کو روتا سسکتا اور جلتا دکھ سہن نہ کر پاٸ اور بے ہوش ہو کے گر گٸ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *