Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 19)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
ابھی تھوڑی دیر پہلےہی اسکی آنکھ لگی تھی ۔ کہ موباٸل کی چنگھاڑتی آواز نے اسکی نیند میں خلل ڈالا۔
اٹھتے ہوۓ موباٸل پے کال چیک کی .
سعدی کی کال تھی۔
اٹھتے ہوۓ کال پک کی۔
ٹھیک ہے۔ میں پہنچتا ہوں۔۔!
پوری بات سنتے وہ کال بند کرتا کنپٹی کو دباتے سوچنے لگا۔
دی جےکو منع بھی کیا تھا۔ خان ولا نہ جاٸیں ۔۔ خانم۔۔ جیسی عورت کے منہ نہ لگیں۔ ۔۔۔۔؟؟ لیکن۔۔۔؟؟
کمفرٹر پیچھے ہٹاتا وہ موباٸل پے ٹاٸم دیکھتا واش روم کی جانب بڑھا ۔
جب باہر نکلا۔ تو مندی مندی آنکھوں سے دیکھتی کنول پے نظر گٸ۔
لیکن اسے نظر انداز کرتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔
کنول اٹھ بیٹھی ۔ منہ پے بارہ بجے ہوۓ تھے۔
آپ کونہ دن کو سکون ہے نہ رات کوچین۔۔۔؟؟
آفتاب کو آٸینے کے سامنے کھڑے ہوتے منہ بگاڑ کے طنزاً کہا۔
وہ جو کف کے بٹن بند کر رہا تھا۔ اس کی بات پے چونکا۔
پیچھے پلٹا ۔ اور موباٸل اٹھایا۔
اس سے پہلے کے تمہارا بھی دن کا سکون اور رات کا چین غارت کروں۔۔ تو۔۔۔ چپ رہو۔۔! معنی خیزی سے کہتا وہ گھڑی کلاٸ میں پہنتا دھیمے انداز میں بولا۔
اس کی بات پے کنول نے ماتھے پے بل ڈالےاسے دیکھا۔
خود تو جب جی کرے باہر نکل جاتےہیں۔۔۔ دن کو بھی۔۔ رات کو بھی۔۔۔ مجھے کیوں قید کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟
منہ بنا کے کہا۔
ابھی تو قید کرنا ہے۔۔۔۔ ابھی سے پھڑپھڑانے لگی۔؟؟
کیا مطلب؟
آفتاب کی ذومعنی بات پے اسکا دل دھڑکا۔
اب اس وقت مطلب۔۔ سمجھانے بیٹھ گیا۔۔ تو صبح ہوجانی ہے۔۔۔ پھر کبھی مطلب سمجھاٶں گا۔۔ وہ بھی فرصت سے۔۔۔۔! کہ دوبارہ کوٸ گلہ شکوہ نہیں رہے گا۔۔
اتنی بے باک باتوں پے کنول کے گال دھک اٹھے۔
دل میں اسے بے شرم کہتی واپس لیٹتی کمفرٹر منہ تک اوڑھ لیا ۔
آفتاب کے چہرے پے دھیمی سی مسکان چھا گٸ۔
اس وقت اسکا جانا ضروری تھا۔ اسلیے موباٸل لیتا وہ
نکتا چلا گیا۔ کنول نے اٹھ کے ونڈو ے باہر دیکھا جہاں بارش کا زور تو ٹوٹ گیا تھا۔ لیکن ۔۔ ابھی بھی جاری تھی۔آفتاب گاڑی میں بیٹھتا جا چکا تھا ۔ لیکن۔۔ اپنے روم کی ونڈو میں موجود اسکا سایہ وہ دیکھ چکا تھا۔
![]()
![]()
![]()
![]()
منتہاچوہان![]()
![]()
![]()
![]()
مجھے۔۔۔ پہلےہی اندازہ کرلینا چاہیے تھا ۔۔۔ اس سب کے پیچھے آپ کا ہاتھ ہے۔۔۔! خانم غصے سے پھنکاریں۔
آپ ۔۔یہاں سںےجا چکی ہیں۔ تو ہماری پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔۔۔۔؟؟
خانم کے پھنکارنے پے شامی کا میٹر گھوما۔
اپنے الفاظ اور انداز پے قابو رکھیں۔۔۔ آج وہی سب ہو رہا ہے۔۔ جو آپ نے بویا تھا۔۔۔۔!
تم۔۔۔۔ منہ بندکرو۔۔۔اپنا۔۔۔! ہو کون تم۔۔۔؟؟ خانم نے دانت پیستے کہا۔
میری دی جی کے ساتھ اپنی ٹون کو درست رکھیں۔۔۔۔
شامی نے خانم کی بات نظر انداز کرتےاپنی کہی ۔
آپ کو جو بات کرنی ہے۔۔ مجھ سے کریں۔۔۔! اپنے ہر عمل کا میں خود زمہ دار ہوں۔۔۔
ان کے درمیان دیوار کی طرح حاٸل ہوتا وہ خانم کو مزید سلگا گیا ۔
اپنی ماں کو سب کے سامنے نیچا دیکھا کے آج بہت سکون آگیا ہوگا۔۔؟ ہے ناں۔۔۔ چھوٹے خان۔۔؟؟
ایموشنلی کہا ۔
شہیر۔۔۔۔شہیر خانزادہ۔۔۔۔۔!
چھوٹے خان کہنے کا حق ۔۔۔آپ ۔۔کھو چکی ہیں۔۔
شہیر نے انکو باور کروایا۔
بیٹا۔۔۔! آپ کا ہاتھ۔۔؟ دی جے کی اچانک نظر شہیر کے ہاتھ پے گٸ جہاں اب خون بہنا تو بند ہو گیا تھا ۔ لیکن۔۔۔ زخم واضح تھا۔
دی جے۔۔۔۔؟؟ شہیر انکی جانب مڑا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔
نہ میرے بچے۔۔۔! رونا ۔۔نہیں۔۔ میرے خان۔۔ کمزور نہیں۔۔۔۔۔ دیجے نے ہاتھ کے پیالے میں شہیر کا چہرہ لیتے اسکا ماتھا چوما۔ انکی آنکھیں بھی نم تھیں۔
مجھے۔۔۔ معاف کردیں۔۔۔ میں۔۔۔ انابیہ۔۔۔کو۔۔۔؟؟ درد سے کہتے ہوۓ شامی کی جانب ایک نظر دیکھا۔جس نے نظریں پھیر لیں تھیں۔ طططططط
ہمیں۔۔ سب پتہ ہے۔۔بیٹا۔۔۔اور ۔۔۔ یہ بھی جانتی تھی۔۔۔یہ خانم۔۔۔ دولت جاٸیداد کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔۔اپنی اولاد کو بھی نہ بخشا۔۔؟؟
نفرت سے خانم کو ایک نظر دیکھا ۔
میرے بیٹے کو میرے خالف کر کےآپ نے اچھا بدلہ لیا مجھ سے۔۔۔!
خانم نے اپنے اندر کا غبار اپنے لہجے کی کڑاہٹ میں اتارا۔
بےفکررہو۔۔ خانم۔۔۔ تم جتنا گر چکی ہو۔۔ اتناکوٸ نہیں گر سکتا۔
کہتےہوۓ ساتھ ایک نظر اپنے بیٹے ارباز کی جانب دیکھا ۔ جو ماں کی بات کا مطلب اچھے سے سجھ گۓ تھے۔
آپ کایہاں آنا۔۔ اس بات کی دلیل ہے۔۔ سب کچھ کیا دھرا۔۔آپ کا ہے۔۔ اور اس کے لیے میں آپ کو۔۔؟؟
کہتے ہوۓ جارحانہ انداز میں آگے بڑھیں۔ کہ شایاپنی جگہ سے آگے بڑھنے لگا۔ اسی لمحے پھر سے شہیر نے انکی طرف دیکھا۔
بس کردیں۔۔۔ کیوں کر رہی ہیں ۔۔آپ یہ سب۔۔۔؟ نجھے تو یقن ہی نہیں ہوتا۔۔ کہ میں آپ کا بیٹا ہوں۔۔۔؟؟
شہیرکا دکھی اور روندھا لہجہ سب کو چونکا گیا۔
میری بیٹی کو برباد کر دیا۔۔۔ اس شخص نے۔۔۔؟؟
اب کیا ہوگا۔۔؟؟ میری بچی کا۔۔۔؟؟
ساعہ پھوپھو نےراگ الاپا۔
شہیر نے گردن ترچھی کر کے اک نظر دیکھا۔ اور واپس ماں کی جانب دیکھا ۔
یہ۔۔ گناہ بھی آپ کے کھاتے میں ہی آیاہے۔۔۔! آپ۔۔۔۔؟؟ نے۔ آج ثابت کردیا۔ کہ۔۔ آپ ۔۔۔۔ میری ۔۔ماں نہیں۔۔۔!
کہتےبہوۓ شہیر کا دل بہت سخت دکھا ۔ لیکن وہ کہہ چکا تھا۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔۔ صحیح کہا۔۔۔۔! اولاد جب آپ جیسی ہو توماںباپ برے ہی ہوتے ہیں۔
خانم نے بھی پھنکارتے ہوۓ کہا ۔
اولاد ۔۔۔ ماں باپ کا عکس ہوتی ہے۔۔۔ ! اور ماں باپ جو ان کودکھاٸیں گے۔۔ وہویسے ہی بنیں گے۔ اپنا آپ ٹھیککرنے کی ضرورت ہے۔
آفتاب نے آتےہوۓ آخری الفاظ سنے تھے۔ اس لیے بیچ میں بول پڑا ۔
آٶ۔۔آٶ۔۔۔ تمہاری کسر تھی ۔۔
ارباز خان نے دانت پیسے۔
دیجے۔۔۔! آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ آفتاب نے انکی بات کو نظر انداز کرتے دی جےسے پیار سے پوچھا۔ تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے شہیر کی جانب اشارہ کیا۔
بہت مان ہے ناں۔۔ تمہیں ان رشتوں پےتو۔۔ چلے جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔۔! انکے ساتھ۔۔۔!
جو میری خانم۔کیآنکھوں میں آنسو دے۔ وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔
ارباز خان للکارے۔
یہ خان ولا۔۔۔میرے خان کے نام ہے۔ تم کیا۔۔ کوٸ بھی میرے خان کو ہاں سے نہیں نکال سکتا۔
دی جے بھی کڑکتی آواز میں بولیں۔
آفتاب نے معاملے کی نزاکت کو خراب وتے دیکھ شہیر کی طرف قدم بڑھاۓ۔
شہیر۔۔۔! چلو یہاں سے۔۔۔!
آفتاب نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھتے اپنے ہونے کا مان بخشا۔
نہیں۔۔۔ایسے نہیں۔۔۔ ! جا سکتا۔ درد بھرا لہجہ تھا۔ اسکا۔
قدم دھیرےدھیرے خانم کی جانب بڑھاۓ۔
میں۔۔۔ ہار گیا۔۔۔ اپنے۔۔ بیٹے کے ہونے پے۔۔۔ !
آپ ۔۔۔ماں ہیں۔۔ میری۔۔۔! اور ایک بیٹا۔۔۔سب سے لڑ سکتا ہے۔لیکن۔۔۔ اپنی ماں کے سامنے نہیں کھڑا ہو سکتا۔
گھٹنوں کے بل وہ زمین پے بیٹھ گیا ۔ خانم نے منہ پھیر لیا ۔
میں آج ابھی اسی وقت۔۔۔ یہ خان ولا۔۔ آپ کے نام کرتا ہوں۔۔ سب ۔۔۔کچھ آپ کو دیتا ہوں۔مجھے ۔۔یہ دولت۔۔۔ یہ جاٸیداد ۔۔کچھ نہیں۔۔ چاہیے۔۔۔! بس۔۔ مجھے۔۔ میری ماں۔۔ لا دیں۔۔
شہیر نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
خانم نے اپنی آنکھیں سختی سے میچیں۔ انکا اکلوتا لخت جگر ۔۔ اور ایسی حالت۔۔۔۔ وہ اندر سے تو تڑپ ہی رہیں تھیں۔ لیکن۔۔ انا تھی کہ بھاری پڑتی جا رہی تھی۔
آپ۔۔نے جو عروج کے ساتھ کیا۔۔۔وہ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتی۔۔ شہیر خانزادہ۔۔۔! میری۔۔ نظروں سے دور ہوجاٸیں۔۔
کہتے ساتھ وہ پلٹ گٸ تھیں۔ شہیر نے آنکیں بند کرتے اپنے آنسو اپنے اندر اتارے۔
آفتاب نے آگےبڑھ کے شہیر کو اٹھایا ۔
یہ وہ در ہے شہیر۔۔ جہاں سےاپنے۔۔ رشتے۔۔ سب خالی ہاتھ ہی جاتےہیں۔۔ بس۔۔ پیسہ کی زبان سمجھتےہیں یہ۔۔
آفتاب کے لہجےمیں درد تھا ۔
میں پھربھی۔۔ انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔۔ جیسے بھی ہیں۔ میرے ماں باپ ہیں۔۔ ! مجھے جان سے مار دیں۔ مجھےپرواہ نہیں۔۔!
تو ایک بات میری بھی سن لیں۔۔ آپ۔۔۔ چھوٹے خان۔۔۔! خانم شہیر کی طرف مڑیں۔
اگر آپ نے یہاں رہنا ہے۔تو۔۔ انابیہ سے ہر رشتہ توڑنا ہوگا۔۔!
ایسی شرط پے شہیر نے ایک نظر ماں کو دیکھا ۔
سب کی نظریں شہیر پے جا ٹکیں۔
اور پل میں فیصلہ ہوا۔
شہیر خانزادہ۔۔۔ مر سکتا ہے۔۔۔ جان دے سکتا ہے۔۔
لیکن۔۔ انابیہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
آپ کا یہ محل۔۔ یہ شان و شوکت آپ کو مبارک۔۔۔! اور مجھے۔۔۔ میرا چند سالوں کا عشق۔۔۔۔!
ایک نظر باپ کو دیکھتے انہی کے الفاظ انہی کو لوٹاۓ۔
اور دیجاے کی جانب ٰبڑھتا انکا ہاتھ تھامے خان ولا سے باہر نکلتا چلا گیا۔
شامی بی ان کے ساتھ ہی نکلا۔ جبکہآفتاب تبسم بیگم کی جانب مڑا۔ جنکیآنکھیں نم تھیں ۔ عباد صاحب نے ایک نظر آفتاب پے ڈالی اور سر جھٹکتے اپنے روم کیجانب بڑھ گۓ۔
آفتاب نے تبسم بیگم کے ہاتھ چومے۔ تو آسودہ سی مسکرا دیں۔
دی جے۔۔ اور ۔۔شہیر کا خیال رکھنا۔۔ بیٹا۔۔۔!
پیار سے گال کو چھوتے مان سے کہا ۔
یہ بھی کوٸ کہنے کی بات ہے۔۔ آپ۔۔ اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔! دوبارہ سے ماں کے ہاتھوں پے بوسہ دیتا۔ بنا ایک نظر پیچھے ان وقت کے فرعونوں کو دیکھے باہر نکلتا چلا گیا۔
خانم نے ایک دھکتی نظر ارباز خان پے ڈالی ۔ آج وہ واقعی خالی ہاتھ رہ گٸ تھیں۔ اور وجہ۔۔۔ شاید انکی جلد بازی تھی۔ جبکہ سامعہ پھوپھو اپنی بیٹیوں کو لیے روم میں جا چکی تھیں۔
وہ۔۔۔ وہ چلا گیا۔۔۔؟؟ شوہر کے سامنے خانم رو دیں۔
واپس آجاۓ گا۔۔۔! ہمارا بیٹا ہے وہ۔۔ خان ولا کا وارث۔۔ لوٹ آۓ گا۔۔۔!
ارباز خان نے انہیں اپنے ساتھ لگایا۔ اور روم کی جانب بڑھے۔ اس وقت خانمکو سب سے یادہ اپنے شوہر کے حوصلے کی ہی ضرورت تھی۔







آفتاب انہیں لیے اپنے اپارٹمنٹ میں آچکا تھا ۔ دی جے اور شامی کےلیے روم سیٹ کروانے کے لیے نیلی کو کہہ دیا تھا ۔
خود وہ سب ڈراٸینگ روم میں تھے جبکہ سب خاموش تھے۔
آفتاب شہیر کے ہاتھ کی ڈریسنگ کر رہا تھا ۔ جہاں خون توبہنا بند ہو گیا تھا۔ لیکن زخم گہرا تھا ۔ جبکہ شہیر بالکل چپ بیٹھا تھا۔
انابیہ۔۔؟؟ وہ کہاں ہے۔۔؟ شامی نے آفتاب سے سوال کیا۔
اس وقت رات کے 2 بج رہے تھے۔ اس سب میں اتنا وقت بیت گیا کہ انہیں رات گزرنے کا بھی احساس نہ ہوا۔
وہ۔۔شاید سو رہی ہو۔۔۔ صبح مل لینا۔۔۔!
آفتاب نے اسے کہا۔ تو وہ چپ ہو گیا۔
مجھےنہیں لگتا وہ سو گٸ ہو۔۔؟ اتنا سب کچھ
جو بھی ہوا۔۔ اچھا نہیں ۔۔۔ہوا۔۔۔ مجھے ملنا ہے اپنی بہن سے۔۔۔۔
شامی بضد ہوا۔
بیٹا۔۔۔! صبح کا انتظار کرلیں۔۔۔ صبح مل لیجیے گا۔
دی جے نے شامی کو روکا۔
دی جے کسی چیز کی ضرورت ہوتو۔۔؟؟
آفتاب نے انکی طرف دیکھتے پیار سے پوچھا۔
ارے نہیں بیٹا۔۔۔! بس۔۔۔ جو کچھ ہوا۔۔۔ اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ کہ خانم۔۔۔ اتنا کچھ کر گزرے گی۔۔۔ معصوم بچوں کی خوشی کا بھی خیال نہ کیا۔۔۔ دل نہیں پتھر ہے اس کے اندر۔۔۔! دی جے کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
آپ فکر نہ کریں۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔
آفتاب بس تسلی ہی دے سکا۔ شہیر کا یوں چپ ہونا اسے بری طرح کھل رہا تھا.
فیبجےاور شمی کو ان کے روم کی طرف بھیج وہ شہیر کی جانب متوجہ ہوا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیوں اداس ہو؟ اسکے کانھے پے ہاتھ رکھا ۔
آفتاب بھاٸ۔۔۔۔! آپ نے بھی مجھے غلط سمجھا ناں۔۔إإ
لہجے میں شکوہ تھا۔
شہیر ۔۔۔۔ جب مجھے یہ پتہ چلا کہ۔۔۔ تم۔۔۔ انابیہ کو اکیلے شاپنگ مال چھوڑ گۓ ہو۔۔۔ تو۔۔۔ دل چاہا۔۔۔ شوٹ کر دوں تمہیں۔۔۔! کتنے مان سے لےکے آۓ تھےانابیہ کو۔۔۔اور یوں بیچ راہ میں چھوڑ دیا ۔۔۔ ایسا کیسےکر سکتے تھے تم۔۔؟؟
شہیر نے مختصراً ساری بات آفتاب کے گوش گزار دی ۔
آفتاب نے لب بھینچ لیے۔
مجھے انابیہ سےملنا ہے۔۔۔ا بھی۔۔۔؟؟
آفتاب کیجانب دکھتی نگاہ سے دیکھا۔ تو آفتاب نےاثبات میں سر ہلایا ۔






سو درد ہیں۔۔۔۔
سو راحتیں۔۔۔
سب ملا ۔۔۔۔ دلنشیں۔۔
ایک تو ہی ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔
دھیرے سے دروازہکھولتا وہاندر داخل ہوا ۔کمرے یں اندھیرے کی وجہ سےوہ دیکھ نہ سکا۔ انابیہ کہاں ہے۔
دروازہ لاککرتا وہ بستر کی جانب بڑھا۔ لیکن۔۔ بستر خالی تھا نظر بھٹکتی ارد گرد گٸ۔ تو وہ اسے نیچے کارپٹ پےونڈو کےپاس گھٹنوں میں سر دیٸے بیٹھی نظر آگٸ۔
دھیرے دھیرے قدم اسکی جانب بڑھاۓ ۔ اتنی ٹھنڈ میں وہ یونہی بیٹھی شاید۔۔۔ سو گٸ تھی۔ اس کےقریب ہی گھٹنوں کےبل بیٹھتا۔۔اس معصوم کو دیکھنےلگا ۔
انا۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے پکارا۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸ۔
شیر نے و تین دفعہ اسےپکارا لیکن اس کےوجو میں جنبش نہ دیکھتا پریشان ہوتا۔ اسے چھوا۔ کہ یکدم انابیہ کی آنکھ کھلی۔ وہ نیم بےہوشی میں تھی۔ بمشکل آنکھیں کھولتی وہ سر اٹھا کےسامنے بےیقینی سے دیکھتی پوری آنکھیں کھول گٸ۔
دانتوں کو آپس میں سختی سے پیوست کرتی دیوارکے سہارے اٹھتی کھڑی ہوٸ۔ کہ لڑکھڑاٸ۔
انا۔۔۔؟؟ میری جان۔۔؟؟ شہیر بے چین ہوتا آگے بڑھا۔
چلیں جاٸیں یہاں سے۔۔۔! کیوں آۓ ہیں اب۔۔۔۔۔؟؟
انابیہ نے نفرت سے منہ پھیرا۔ جو شہیر بالکل بھی برداشت نہ کر پایا۔ اور آگے بڑھ کے سختی سے اسے سینے کےساتھ بھینچا۔
چھوڑیں۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ دور رہیں مجھ سے۔۔۔
خود کو چھڑاتی وہ پیچھے ہٹی۔ شہیر نے آنکھیں موندتے اپنے آپ پے بمشکل ضبط کیا۔
آپ ۔۔۔ چلیں۔۔ جاٸیں۔۔ یہاں۔۔سے۔۔۔ مجھے۔۔ آپ کی ۔۔شکل بھی۔۔ نہیں۔۔ددیکھنی۔۔آپ۔۔ دھوکہ باز ہو۔۔۔ توڑ دیا ہے آپ نے مجھے۔۔ میرا بھروسہ ۔۔۔ سب کچھ۔۔۔۔!
پیچھے ہوتے وہ کہتی چلی جار ہی تھی۔ أور آنسو بہتے چلے جا رہے تھے۔
بس۔۔ بہت بول لیا تم نے۔۔۔۔۔اب ایک لفظ نہیں۔۔۔! شہیر کےصبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور کھینچ کے اسے خود کے قریب کرتے غراتے ہوۓ کہا۔
ااچھا۔۔۔۔؟ کیا کر لیں گے آپ۔۔؟؟ مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کیجیےگا۔۔۔! انگلی اٹھا کے غصے سے وارن کرتی وہ شہیر کو مزید غصہ دلا گٸ۔
دھمکی دے رہی ہو مجھے۔۔؟؟ شہیر خانزادہ کو۔۔؟؟
اسکے پاس ہوتے ایک ایک قدم بڑھاتے آنکھوں سے کھا جانے والے انداز میں سرد انداز میں پوچھا۔
دووو۔دو۔ررررر۔۔ رہیں۔۔ قریب۔۔ مت ۔۔ آٸیں۔۔۔ ! انابیہ کا دل دھڑکا۔ اور ساتھ قدم بھی پیچھے لیتی گٸ۔
شہیر نےآگے بڑھ کےاسکے کندھے پے ڈھلکتا دوپٹہ اپنے ہاتھ میں لیا۔
انابیہ نے بری طرح جھرجھری لی اور اپنا دوپٹہ کھنچنا چاہا ۔ جسے بہت آرام سے وہ اپنے ہاتھ میں لپیٹ رہا تھا۔ جبکہ اسکے چہرے پے انتہا کا غصہ تھا۔
آپ۔۔۔۔ ؟؟ چھوڑیں۔۔ ؟؟ اسے۔۔۔؟؟ انابیہ نے دوپٹہ کھینچا۔ جبکہ آنسو ایک بار پھر بہنے لگے۔
شہیر نے اسکے رونے کی پرواہ کیے بغیر اسے اپنی طرف کھینچا۔ اور اس کے آنسو اپنے لبوں سے چننے لگا۔ جبکہ انابیہ کاپورا وجود لرز رہا تھا۔ جس پے شہیر نے آنکھیں موندتے اسکے ماتھےپے بہت مان سے بوسہ دیا۔
یہیں انابیہ کی بس ہوٸ اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔ کہ شہیر بھی پریشان ہوگیا۔
اس دل میں بہت درد ہے شہیر۔۔۔۔ نہیں کم ہو رہا ۔۔۔۔ ؟؟ کیاکروں۔۔۔۔؟ وہ روۓ جا رہی تھی۔
مجھے تو اعتبار چاہیےتھا۔۔ ناں۔۔ انا۔۔۔؟؟ وہ بھی نہ دے سکی تم۔۔۔؟ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آنکھیں موندے ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے۔
انابیہ کے رونے میں مزید شدت آگٸ تو ۔۔ شہیر نے اسےدھیرے سے ا پنے گلے سے لگایا۔
پلیز ۔۔یار بس کردو۔۔۔ کیوں رو رو کے خود کو ہلکان کر رہی ہو۔۔؟؟
شہیر نے بہت پیار سےکہا۔ تو انابیہ نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا ۔ اسکی آنکھیں بس پیار ہی لٹا رہی تھیں ۔
نکاح کرتے ہوۓ آپ کو میری یاد نہیں آٸ ۔۔ جو۔۔۔ اب۔۔ یہاں ۔۔۔آگگۓ۔۔۔۔؟؟ محبت بھرا گلہ کر ڈالا۔
نکاح ۔۔کرتے ہوۓ بھی۔۔ یاد تھی۔۔۔ انا۔۔۔ !اور ۔۔۔ طلاق دیتے ہوۓ بھی۔۔۔۔!
دھیرے سے ایک ایک لفظ پے زور دیتے اسکی آنکھوں میں جھانکتےکہا۔
کییییااااا۔۔۔۔؟؟ انابیہ کی حیرت سے آنکھیں کھلی رہ گٸیں۔
آپ۔۔۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔ ؟؟؟
انابیہ۔۔۔! میری زندگی۔۔ میرا سب کچھ۔۔۔ صرف تم۔۔ہو۔۔
تم۔۔میرے لیےاتنا ہی ضروری ہو۔۔ جتنی۔۔سانس۔۔۔!
بنا تمہارے۔۔ مجھے۔۔ سانس کیسے آنی۔۔؟؟
تمہارے پاس۔۔ لوٹا۔۔ ہوں۔۔ صرف تمہارا بن کے۔۔۔! ماتھےکے ساتھ ماتھا ٹکایا۔ ایک سکون کی لہر انابیہ کے اندر دوڑ گٸ۔
آپ۔۔۔؟؟ سچ۔۔؟؟آپ نے نکاح۔۔؟؟؟ انابیہ کا دل بہت زورں سے دھڑکا۔
میرے نکاح میں صرف ایک ہی لڑکی ہے اور وہ میری جن جان میری انابیہ شہیر خانزادہ ہے۔۔ دنیا کی کوٸ لڑکی میری انابیہ کی جگہ نہیں لے سکتی۔
ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہتے شہیر نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔ اور بستر پے لے جا کے لٹایا۔
اور خود بھی اسکےساتھ نیم دراز ہوتا۔ اسے کا سر اپنے سینے پے رکھتے آنکھیں موند گیا۔یہی لمحےتو وہ چاہتاتھا۔ انابیہ کی قربت کا سکون۔۔۔جبکہ انابیہ اسکے کہے لفظوں کے حصار میں جکڑی گٸ ۔ شہیر صرف اسکا ہے ۔۔ اسکا شوہر صرف اسی کا ہے ۔۔ یہ احساس اسے نٸ زندگی بخش گیا ۔ اس کے اندر ایک سکون کی لہر دوڑ گٸ۔ بہت مان سے اسکے سینے کےگرد بانہیں پھیلاۓ سر اٹھا کے اپنے شوہر کو دیکھا۔ جس کےلیے وہ کچھ دیر پہلے آنسو بہا رہی تھی۔ اور کبھی معاف نہ کرنےکا عہد کر چکی تھی۔ اب کتنے استحاق سے اسےاپنےساتھ لگاۓ ہوۓ تھا۔ ۔
کہ تبھی چھوٹا سا گلہ یاد آگیا ۔
آپ نے مجھے۔۔ وہ ہوٹل میں۔۔۔ اکیلا۔۔۔ چھوڑ۔۔؟؟ دھیرے سے گلہ کرنا چاہا ۔ کہ شہیر نے کروٹ بدلتے انا کو اپنےسینےمیں بھینچا۔
انا۔۔۔۔ کچھ مت کہو۔۔۔۔۔ اسکے گال کے ساتھ گال رب کرتے وہ انا کے دل کی دھڑکنوں کو بڑھا گیا۔
انا۔۔۔۔ میری جان۔۔۔ مجھے اس وقت صرف تم چاہیے۔۔۔ مکمل۔۔۔ میرے وجود کا حصہ ہو تم۔۔۔ میری سانس۔۔میرا ۔۔۔ جنون۔۔۔ہو۔۔۔۔ بہت ٹوٹ گیاہوں۔۔ بکھر رہا ہوں۔۔ سمیٹ لو۔۔۔! اسکے کان کے پاس سرگوشی کرتا وہ اب کی بار انابیہ کوبہت کچھ باور کرا گیا۔
انابیہ دل کی دھڑکنوں کو سنبھالے نہیں سنبھال پا رہی تھی۔
شہیر خانادہ کی قربت میں وہ پگھلتی چلی جا رہی تھی۔
آج کے دن کو یاد کرتی اسکے اندر درد اٹھا ۔ پیچھےہٹنا چاہا وہ کیسے معاف کر دیتی اتنی آسانی سے۔۔۔؟؟ لیکن۔۔۔
۔ دل نے کہا۔ تمہارا ہے یہ شخص ۔۔ صرف۔۔ تمہارا۔۔۔ ٹوٹ گیا۔۔ تو سمیٹ نہیں پاٶ گی۔۔۔ ! سمیٹ لو۔۔۔آج۔۔ اور مٹا دو سارے فاصلے۔۔۔ کہ کبھی دوری آۓ ہی نہ۔۔۔۔
انابیہ کے بالوں میں چہرہ چھپاتے وہ اسکی آنکھوں سے گرم سیال بہتا انابیہ کی گردن بھگونےلگا ۔ تو انابیہ کو اچھنبا ہوا۔ جھٹ سے سر اوپر کرتے شہیر کی آنکھوں کی جانب دیکھا۔جو بند تھیں ۔ نجانے کونسے کرب سے گزر رہا تھا وہ۔
انا نے اسکے چہرے پے پیار سے ہاتھ پھیرا۔ اور آگےبڑھتے اسکی آنکھوں پے اپنا پیار بھرا لمس چھوڑا۔ جو شہیر کے دل پے پھوار بن کے برسا۔
دماغ اور دل کی جنگ میں بلآخر جیت دل کی ہوٸ ۔
شہیر اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے دیکھتے اس پےحاوی ہونے لگا ۔
اسکے ماتھے پے بوسہ دیا تو انا نے آنکھیں موند لیں۔ جبکہ اسکا لرزنا شہیر سے چھپا نہ رہ سکا۔
کیا کیا نہ سوچا تھا دل نے۔۔۔
کیا کیا نہ سپنےسجاۓ۔۔۔۔
کیا کیا نہ چاہا تھا دل نے۔۔
کیا کیا نہ ارماں سجاٸے۔۔۔
آج کے لیے انہوں نےکیاکیاسوچا تھا۔۔۔ او سب کیا ہوگیا۔۔۔؟؟
شہیر نے اسکی کان کی لو کو چھوا تو وہ تڑپ ہی گٸ۔
جبکہ آنکھیں کھول کے سامنےوالے کی آنکھوں میں جنون دیکھنے کی سکت نہ تھی۔
وہ چھوٸ موٸ سی لڑکی شہیر کو سب کچھ بھلانے میں کامیاب ہوگٸ تھی ۔ اسکا یوں خود سپردگی کا انداز شہیر کے اندر کیآگ کو شانت کر رہا تھا۔ شہیر دماغ سے سب کچھ نکالتا ۔۔ انابیہ کےقربت میں اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرتا اسکے دل کے مقام کو چھوتا اسے سمٹنے پے مجبور کر گیاتھا ۔
انا۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے اسکے چہرے پے جھکتے اسے گھمبیر لہجے میں پکارا۔ تو انابیہ نے آنکھیں جھٹ سے کھول دیں۔
اسکی ناک کے ساتھ ناک رب کرتا وہ بہت کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔ لیکن الفاظ ہی ساتھ چھوڑ گۓ۔
مجھ سے۔۔۔ کبھی۔۔ دور نہ جانا۔۔۔ ! مر جاٶں گا۔۔۔! جذب کے عالم میں کہتا وہ انا کو تڑپا گیا ۔ اس کےہونٹوں پے اپنے ہاتھ رکھتے سر نفی میں ہلایا ۔
آپ کو میری عمر بی لگ جاۓ۔۔۔ شہیر۔۔۔! ایسی باتیں نہ کریں۔۔! آنسو پھر سے بہہ نکلے۔
شہیر نے شدت بھرا لمس اسکے گال پے چھوڑا۔ ایک کہانی سنا رہی تھیں اسکی آنکھیں۔ جبکہ انابیہ کی پلکیں شرم سے بھاری ہوتی جا رہی تھیں ۔
قطرہ قطرہ رات گزرتی جا رہی تھی۔ شہیر کی جسارتیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ کمرے کی معنی خیز خاموشی میں دونوں ہی آج اپنے دل کا سکون ایک دوسرے کو پاکر حاصل کر رہے تھے۔
کالی گھٹاٸوں کے چھوٹتےہی محبت کی نرم بارش میں دونوں سیراب ہو رہے تھے۔
محبت کی کڑی آزماٸش سے گزر کے ہی شہیر کو اسکی منزل ملی تھی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے۔ سچے دل سے کی جانےوالی محبت اپنی منزل پا لیتی ہے۔
لیکن آنے والے کل میں کون جانے کیا ہونے والا تھا۔۔؟؟
کیاخانم چپ بیٹھےگی۔۔؟ اور کیاہوگا۔۔ جب کنول کا راز کھلے گا۔۔؟
