Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 23)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

یو آر ۔۔امپاسبل۔۔کے کے۔۔! جن کاموں میں تم پھسی۔۔ہو۔۔ ان سےباہر نکل آٶ۔۔ ورنہ بہت پچھتاٶ گی۔

کنول وارن کرتی وہاں سے جانے لگی۔

کہ کے کے نے اسکا بازو جکڑا۔

میری بات کا جواب دو۔۔۔؟ اس رات تمہارا شوہر کہاں تھا۔۔؟ اسکے لہجے کی آگ کنول کو اندر تک سلگا گٸ۔

اپنی بیوی کےپاس ۔۔۔ اسکی بانہوں میں۔

جھٹکے سےاپنا بازو چھڑایا ۔ اور اسکےکان کے پاس ہوتی شیرنی کی طرح غراٸ۔

کہ کےکےکی بولتی ہی بند ہوگٸ۔ جبکہ کنول کی برداشت سے اب باہر ہوچکا تھا۔اس لیے ایک منٹ بھی وہاں نہ رکی ۔ اور واپس آتےہی گاڑی میں بیٹھی۔ ڈراٸیور کو خان ولا واپس چلنے کا بولا۔ اسے کے کے سے اس قدر گھٹیا پن کی امید نہ تھی۔

کے کے۔۔۔! کیا فضول بکواس کر رہی ہو۔۔؟؟ آفتاب شوہر ہے اسکا۔ اور تم۔۔ا سطرح سے بات نہیں کر سکتی۔

ارسل کو بھی کے کے کی باتوں پےشدید غصہ آیا۔

یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے۔ تم بیچ میں نہ بولو۔

کے کے نے ارسل کو سختی سے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

تمہارا معاملہ۔۔؟؟

ارسل چیٸر کو جھٹکے سے چھوڑتا جارحانہ انداز میں اٹھتا کے کے کی جانب بڑھا۔

یہ مت بھولنا۔۔ بہن ہے وہ میری۔۔۔! اور اگر کچھ بھی۔۔ غلط کرنے کی کوشش بھی کی تو۔۔بھول جاٶں گا۔ کہ تم کون ہو۔۔؟

ارسل کے غرا کے کہنے پے کے کے طنزیہ مسکراٸ۔

پہلے تم اپنی خیر مناٶ۔۔ تم دونوں نے مل کے جو کھیل کھیلا ہے۔ وہ آفتاب کو پتہ چلا۔۔ تو سوچو۔۔۔ کیا حال کرے گا تمہارا ۔۔ اور۔۔تمہاری بہن کا۔

کے کے کی بات پے ارسل نے لب بھینچتے اس مغرور لڑکی کو دیکھا۔ جو سر جھٹکتے وہاں سے جا چکی تھی۔ ارسل کو کنول کی فکر ہوٸ تھی۔ اسے Kk کے ارادے ٹھیک نہ لگے تھے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨

عابی کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ اسے ہوش بھی آگیا تھا۔ لیکن وہ بالکل چپ تھی۔ شامی اس کے پاس آیا تو وہ کھوٸ ہوٸ لگی۔ اسکے ایک طرف رکھی کرسی پے بیٹھتے اسکی نظر بے اختیار اسکے گال پے پڑی تو وہ چونکا۔ اٹھتے ہوٸے اسکے پاس آیا۔ اور غور سے دیکھا۔ نشان تو مدمل ہو چکا تھا۔

لیکن ۔۔ پھر بھی شامی کی زیرک نظروں سے چھپا نہ ہ سکا۔

ہاتھ بڑھا کے اسکے گال کو چھوا۔ ہاتھوں کا نرم لمس پاتےہی عابی چونکی۔اور ڈرکے پیچھے کھسکی۔ شامی کے ماتھےپے بل پڑے۔

تم پے کس نے ہاتھ اٹھایا۔۔ ؟ سیدھا سپاٹ سوال کیا۔ عابی کا دل بہت زورسے دھڑکا۔

کچھ پوچھا ہے جواب دو۔ اب کی بار تھوڑا سختی سے پوچھا۔ تو عابی نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔

شامی نے گہرا سانس لیتے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ اور عابی کے قریب اسکے چہرے پے جھکا۔

عابی۔۔۔؟ سرگوشی کرتے وہ اسکے چہرے کے پاس چہرہ لاتے ایک انچ کے فاصلےپے تھا۔ عابی کی پلکیں لرزیں۔ دھیرے سے اسکی سرگوشی پے بھاری ہوتی پلکوں کو اٹھایا۔

دونوں کی نظروں کو تبادلہ ہوا۔ عابی کی آنکھوں سے گرم سیال مادہ بہہ کے تکیہ میں جذب ہوا۔

کیاہوا۔۔؟؟ مجھے بتاٶ۔۔۔؟؟ کس نے اٹھایا تم پے ہاتھ۔۔؟

بہت حق اور مانسے پوچھا۔

کککسی۔۔۔ نے۔۔۔نہیں۔۔۔! نظریں چراتے کہا۔

عابی۔۔۔! مجھے سچ سننا ہے۔۔ ایک لفظ بھی جھوٹ نہیں۔۔ورنہ۔۔ میرا غصہ جانتی ہو تم۔۔! شامی کےماتھےپے بل نمودار ہوۓ۔تو عابی کے دل کی دھصکن میں ارتعاش پیدا ہوا۔ وہ کچھ کہتی کہ تبھی ڈاکٹر اندر داخل ہوۓ۔ شامی فوراً پیچھے ہٹا۔

ڈاکٹر نے ڈریپ اتاری۔ اور عابی ک چیک اپ کیا۔

شی از اوکے ناٶ۔۔ ! بٹ ویکنس ہے ابھی انکو۔ جوسز اور فروٹس دیں انکو۔۔۔! اینڈ ٹینشن فری رکھیں۔ اوکے۔

ڈاکٹر فرقان کہتے بار نکلے۔ جبکہ چامی اثبات میں ہی سر ہلا سکا۔ ان کے جانے کے بعد بمشکل کلاٸ تھامے عابی نے اٹھنا چاہا۔ کہ شامی اسکے آگے آن کھڑا ہوا۔

مرا سوال اب بھی وہیں ہے۔ اسکے دونوں اطراف ہاتھ رکھے اسکے تمام راستے مقدور کر گیا۔ وہ جی جان سے لرزی تھی۔اتنی قربت دیکھی ہی کہاں تھی۔ اس نے شامی کی؟

ہمیں گھر جانا ہے۔۔۔! مما ۔۔ویٹ۔۔؟ عابی نے ٹالنا چاہا۔

جب تک میرے سوا کا جواب دے نہیں دیتی۔۔ کہیں بھی لےجاٶں گا۔۔۔ لیکن۔۔ گھر نہیں۔۔ لےکے جاٶں گا۔

قطعی انداز میں کہتے وہ عابی کا صبر توڑ رہا تھا۔

کیا جاننا چاہتے ہیں آپ؟ اور کس حق سے۔۔ ؟ پلیز۔۔۔ مت ۔۔ کریں۔۔ یہ سب۔۔!ہمیں گھر جانا ہے مما کے پاس۔۔۔! وہ روتے ہوٸے بے دردی سے اپنے گالوں سے آنسو صاف کرتی شامی کو کوٸ ضدی بچی ہی لگی تھی۔

عابی۔۔۔! تمہارے آنسوٶں کا مجھ پے کوٸ اثر نہیں ہونا۔۔ اسلیے بہتر ہے انہیں مت بہاٶ۔۔ اور مجھے۔۔۔؟

نہیں بتانا آپ کو کچھ۔۔۔! کیونکہ ہم جانتےہیں۔۔ ہم ۔۔آپ کے لیےبے معنی ہیں۔۔ تو ہمارے آنسو بھی بے مول ہی ہیں آپ کے لیے۔ جاٸیں یہاں سے۔۔! ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔

ایک ہاتھ سے شامی کو نقاہت سے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن وہ چھوٹی سی جان کہاں اس دیو ہیکل کو ایک انچ بھی پیچھے ہٹا سکتی تھی۔

شمینےاسکی دونوں کلاٸیاں تھام لیں۔ اور سختی سے گرفت میں لیں۔ لیکن عابی کی حالت کے پیشِ نظر گرفت نرم کر لی۔ اور اس روتی ہوٸ کو کھینچ کے قریب کیا۔ وہ کچی ڈالی کی طرح اسکے سینے سے آلگی۔

ٹیل می دا ٹرتھ۔۔۔! لہجے میں وارننگ تھی۔ اور آنکھوں میں جنون ۔ ایک لمحے کو عابی گھبرا گٸ۔آج کا ہوا واقعہ اسکی آنکھوں کے سانے گھومنےلگا۔

زکیہ۔۔یا رکیا ہوا۔۔؟ کیوں رو رہی ہو۔؟ زکیہ سے اسکی دوستی عابی کے جانے کے بعد ہی ہوٸ تھی۔ ویسے بھی یونی میں وہ بہت چھوٹی تصور کی جاتی تھی۔ وہ تھی بھی بہت چھوٹی ۔ اپنی زہانت سے اس نے ہر ٹیچر کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ لیکن جتنی وہ زہین تھی۔اس سے کہیں زیادہ وہ معصوم تھی۔

زکیہ روتے اسکے گلے آلگی۔

اوفو۔۔۔ بتاٶ بھی۔۔؟؟ عابی نے چڑتے ہوۓ کہا۔

وہ ۔۔۔ پروفیسر۔۔۔سہیل۔۔۔؟؟ اٹکتے ہوۓ بولی۔ اور پھر رو دی۔

کیا ہوا۔۔بتاٶ مجھے۔۔؟ پروفیسر سہیل کے بارے میں تقریباً ساری یونی ہی جانتی تھی۔ وہ لڑکیوں سے بہت فرینک تھے۔ اور لڑکیاں ان سے۔

انہوں۔۔۔ نے آج۔۔ مجھے اپنے۔۔ آفس میں بلایا۔۔۔ اور مجھے۔ ۔۔ غلط۔طریقے سے چھونے کی کوشش کی۔۔۔

بالآخر بول ہی دیا ۔ عابی دانت پیستی رہ گٸ۔

اب پانی سر سے اوپر چڑھ چکا ہے۔ ہمیں پرنسپل سے کمپلین کرنی ہی ہوگی۔

عابی نے قطعی انداز میں کہتے زکیہ کا ہاتھ تھاما۔

نیہہہہیں۔۔۔ پروفیسر کو پتہ چلا تو۔۔ وہ۔۔ مجھے جاا سے۔۔؟پلیز۔۔ نہیں۔۔۔! زکیہ بہت سخت گھبراٸ۔

دیکھو۔۔زکیہ۔۔!اگر ہم نے کوٸ ایکشن نہ لیا۔ تو وہ مزید پیش قدمی کریں گے۔ اسطرح تو انکو مزید شہہ ملے گی۔ تن چلو میرے ساتھ۔میں بات کرتی ہوں۔ پرنسپل سے۔۔! عابی نے اسے حوصلہ دیا۔

پلیز۔۔۔ ایک بار۔۔ پروفیسر سہیل کو کہہ دیتے ہیں۔ کیا پتہ وہ دھمکی سے باز آجاۓ۔ ورنہ۔۔۔ پرنسپل کے پاس جانے سے سواۓ بدنامی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

زکیہ نےمنت والے انداز میں کہا۔

عابی نے ایک پل سوچا۔ اوراثبات میں سر ہلاتی زکیہ کے ساتھ پروفیسر کے آفس میں چلی گٸ۔

جہاں وہ اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔

شرم آنی چاہیے آپ کو پروفیسر۔۔۔!معصوم لڑکیوں کو ہیرس کرتے ہو۔۔۔ یو۔۔ بے شرم ۔۔انسان۔۔۔!عابی بنا کوٸ لحاظ کیے بولتی ہوٸ آگے بڑھی۔ جبکہ پروفیسر سہیل کے چہرے پے مکرو ہنسی تھی۔

ولکم۔۔میری جان۔۔۔!کبسے تمہارا انتظارتھا۔ فاٸنلی تم۔۔ آگٸ۔۔!

اپنی سیٹ سے کھڑے ہوتے وہ عابی کے پاس پہنچے۔عابی ایک قدم پیچھے ہوٸ۔ اسے خوف سا محسوس ہوا۔

دور رہ کے بات کریں۔ ورنہ۔۔میں آپ کی شکایت پرسنپل کو لگا دوں گی۔ عابی نے گھبراہٹ پے قابو پاتے وارن کیا۔

اچھا۔۔۔۔۔! تم۔۔ لگاٶ۔۔گی شکایت۔۔؟؟ طنزیہ پوچھا۔

زک۔۔زکیہ۔۔۔! عابی نے پلٹ کے دیکھا۔ وہاں کوٸ زکیہ مہ تھی۔

اسے ایک لمحہ لگا یہ سوچنے میں۔ کہ وہ ٹریپ ہوٸ ہے۔واپسمڑتی وہ دروازہ کھول کے باہت نکلنا چاہا۔لیکن دروازہ لاکڈ تھا۔

ڈرتے ہوۓ پیچھے مڑتے استاد کر روپ م ںبھیڑے کو دیکھا۔ جو دھیرے دھیرے اسی کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔

میری جان۔۔ ڈر رہی ہے۔۔؟ پیار سے کہا۔

دور رہیں ورنہ۔۔ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔! عابی کی آواز مں واضح لغزش محسوس کی جا سکتی تھی۔

سر سہیل نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔ تو وہ درواشے سے جا چپکی۔وہ ہنس دیا۔ سامنے کھڑی لڑکی کی بے بسی پر۔

عابی نے اسےپاس آتے دیکھا تو اسے پیچھے کی طرف دھکیلا۔ وہ گرتے گرتے بچا۔ اور جھٹکے سے عابی کو اپنے پاس کھینچا۔ وہ لڑکھڑاٸ اورخو کو بچاتے نیچے جا گری۔ پروفیسر سہیل نے اسکے گرنے کا فاٸدہ اٹھایا۔ اور اسکی طرف بڑھتا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔

نننہییں۔۔۔ دو رہیں مجھ سے۔۔۔ورنہ۔۔۔ میں آپ کو ۔۔۔؟

وہ بے بسی سے پیچھے ہوتی روٸ تھی۔وہ پاس آیا تو عابی نے اسکوپوری قوت ے زور لگا کے دھکا۔تو پروفیسر نے کس کے اسکے منہ پے طمانچہ مارا۔ جس سے اکے گال پے پانچ انگلیوں کے نشان پڑگۓ۔ عابی سسک کے رہ گٸ۔ اتنی تکلیف پے اسکی جان نکل رہی تھی۔ اپنے اللہ کو یاد کرتے اسکی آنکھوں کے سامنے بے اختیار شامیکا چہرہ لہرایا۔ وہ پروفیسر اب پورے مطمین انداز میں اس پے جھکا۔

لیکن عابی نے اس پورا زور لگاتے دور دھکیلا۔ اور اٹھ کھڑی ہوٸ۔

تمہیں کیا لگتا ہے۔۔إ میں تمہں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے دوں گی۔۔؟ آنسو صاف رکتے وہ چھوٹی سی لڑکی پروفیسر کو ایک منٹ کے لیے سوچ میں ڈال گٸ۔

میں اپنی جان تو دے سکتی ہوں۔۔ لیکن۔۔ عزت پے آنچ بھی نہیں آنے وں گی۔ کہتے ہوۓ وہ پیچھے ہوٸ کہ اسکی نظر ٹیبل کے کھلے دراز میں موجود ریوالور پے پڑی۔ ایک منٹکی دیری کیے بنا فوراً ریوالور اٹھایا۔ اور پروفیسر پے تان لیا۔ پروفیسر کو اپنی بے وقوفی پے سخت غصہ آیا۔ جو عابی کو دیکھتے سب بھول گیا تھا اور دراز بھی بند نہ کیا تھا۔

خبردار جو ایکقدم بھی بڑھایا میری طرف۔ عابی نے بناجھجھکے وارننگ دی۔

یہ بچوں کی چیز نہیں رکھ دو اسے نیچے۔ اب کی بار پروفیسر گھبرایا۔

مجھے بچہ سمجھنے کی بھول نہ کرنا۔جب لڑکی کی عزت پے بات آتی ہے۔ تو وہ جان دے بھی سکتی ہے اور۔۔ لے بھی سکتی ہے۔

گن نیچے کرو۔۔۔! پروفیسر کہتے اسکیجانب پیش قدمی کر نے لگا وہیں رک جاٶ پروفیسر۔۔ورنہ۔۔۔؟؟

عابی کا ہاتھ ٹریگر پے تھا۔

اوکے۔۔اوکے۔۔۔ نہیں آتا پاس۔۔۔ بس گن نیچے کرو پروفیسر کو اس لڑکی سے حقیقتاً ڈر لگا۔

اوپن دا ڈور۔ ! عابی نے مزید حوصلے سےکہا۔

پروفیسر نے لب بھینچتے پیچھے مڑتے دروازے کا لاک کھولا۔

اب۔۔ گن نیچے کرو۔ ایک بار پھر سے پروفیسر نے پیچھے ہٹتے کہا۔

آپ جیسے بھیڑے ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں۔

عابی دروازہ کھلتے دیکھ بے دھڑک بولی تھی۔ کہ تبھی pion اندر داخل ہوا۔ اندر کی سچویشن دیکھ فوراً دروازے کے پاس پہنچتی عابی سے گن چھینی۔

عابی نے خود کو بچاٶ کرتے pion کو دھکا دیا۔ اور باہر بھاگی۔ پھر اسے وش نہ رہا کہ وہ کیسے گھر پہنچی۔

لیکن گھر پہنچتے ہی وہ بری طرح اس واقعے کے زیر اثر آگٸ۔ شام تک اسے بخار ہوگیا۔ سوچ سوچ کے دماغ کی رگیں پھٹنے لگیں۔ اور اتنا برا ثرا ہوا کہ بے ہوش ہوگٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

عابی کے آنسو چھلک گۓ۔ شامی لب بھینچے اس معصوم لیکن بہادر لڑکی کو دیکھتا رہا۔ جس نے خود کو بچا لیا تھا۔ اپنی عزت پے حرف نہیں آنے دیا تھا۔

شامی نے اسک ہاتھ تھاما۔ اور ہاسپٹل سے باہر نکلا۔

گاصی میں بیٹھتے اس نے گاڑی کا رخ سلطان ہاٶس کی جانب موڑا۔

گھر کے باہر گاڑی روکی۔ عابی کو اسکی خاموشی سے ڈر لگنےلگا تھا۔

اندر جاٶ۔۔۔! اور کسی سے اس بات کا زکر نہ کرنا۔ بنا اسکی طرف دیکھے سپاٹ انداز میں کہا ۔

لیییککننن۔۔۔ آپ۔۔۔۔؟ عابی کی زبان ہکلاٸ۔ شامی نے مڑ کے اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔

میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنا خیال رکھو۔ او ہاں۔۔ میں رخصتی کی بات کروں گا۔ ابو جان سے تو۔۔؟؟

اتنی جلدی۔۔؟؟ مطلب۔۔؟؟ آپ کو ہم پے شک۔۔۔؟ ؟

وہ پھر سے سر جھکا کے رودی۔

چپ۔۔۔! ایک دم۔۔ چپ۔۔۔! رخصتی کا یہ مطلب ہے کہ۔۔ میں تم پے شک کرتا ہوں۔؟

اسکے پاس ہوتے گھمبیر لیکن سخت لہجے میں پوچھا۔

پھر آپ۔۔؟ ایسے کیوں؟ اچانک۔۔۔؟

یہ سوچنا تمہارا مسٸلہ نہیں۔ تمہیں صرف بتا رہا ہوں۔ خود کو مینٹلی تیار کر لو۔سمجھی۔

تھوڑا نرمی سے کہتے وہ پیچھے ہٹا۔

اپنے گال صاف کرتے وہ نیچے اترتی گیٹ کےاندر داخل ہوگٸ۔ ا کے اندر جاتےہی عابی نے اپنے دوست وقاص کو فون کیا۔ ملنے کا بولتے گاڑی اسٹارٹ کی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨

آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ لیکن زبردستی ہی اس نے خود کو نیند کی طرف دھکیلا تھا۔ دو دن سے دی جے نظر نہیں آرہی تھیں۔ وہ باہر ہی نہیں آتیں تھیں۔ کیوں؟ کنول کو نہیں پتہ تھا۔ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتی تھی۔ نہ ان کے پاس جا سکتی تھی۔ ہر وقت خانم کے سرونٹ اس پے نظر رکھے ہوۓ تھے۔ اور کنول کا دل دی جے سے ملنے کو بے چین تھا۔ دی جے کا سوچتے دماغ میں کے کے آگٸ۔ کروٹ بدلی ۔

نجانے کومسے کاموں میں پڑ گٸ ہے یہ لڑکی۔۔؟ آنکھیں موندتے وہ کے کے کے بارے میں سوچتی نیند کی وایوں میں کھوتی چلی گٸ۔

نیند تو تب کھلی جب چہرے پے کسی کی سانسوں کی جھلسا دینے والی تپش پڑتی محسوس ہوٸ۔ پ

جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ تو اپنے اوپر آفتاب کو جھکے پایا۔ جس کی آنکھیں لال انگارہ ہوٸ تھیں۔ دونں اطراف ہاتھ رکھے وہ شدید غصہ میں لگ رہا تھا آپ دو دن بعد اسے دیکھا تھا کنول نے۔ دل نے عجیب لے پے دھڑکنا شروع کیا۔

آفتاب نے کنول کو کندھوں سے تھام کے بیڈ کے ساتھ لگایا کنول نے سہم کے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ جانتی تھی۔ ارسل سے ملنے کی پورٹ اسے مل گٸ تھی۔ اور اس نے خود کو منٹلی تیار بھی کر لیا تھا۔

تمنے قسم کھا لی ہے۔۔ کہ جو میں کہوں گا اس کے الٹ ہی کرو گی۔۔؟؟

غرانے والےانداز میں پوچھتا وہ اس کے سراسیمہ وجود کو اپنے حصار میں لیتا اسکے دل کو بری طرح دھڑکا رہا تھا۔

آفففتاببب۔۔۔۔! یو آر ہرٹنگ می۔۔۔! اپنے آپ کو چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔

ہرٹ۔۔۔؟ تم اس شخص سے کیوں ملی۔۔؟ میرے منع کرنے کے باوجود۔۔؟؟ آفتاب نے اسکی کلاٸیں جکڑیں۔ وہ غصہ میں آپے سے باہر ہوجاتا تھا۔ اور اپنے غصہ پے وہ کنٹرول نہیں رکھ پاتا تھا۔

ہاں۔۔ملی۔۔ ہوں۔۔ اس سے۔۔۔! کیا کر لیں گے آپ۔۔؟؟ ماریں گے مجھے۔۔؟ ماریں۔۔ جان سے مار ڈالیں۔ آپ کو سکون آجاۓ گا۔ کنول کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

کنول کی باتپے آفتاب سنجیدہ ہوتا پیچھے ہٹا۔ اور فون کال ملاٸ۔

kill the arsal.

سختی سے لب بھینچے فون پے حکم دیا ۔ کنول بری طرح سٹپٹاٸ۔

آپ؟آپ۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟ وہ ۔۔آپ کی بہن کے شوہر ہیں۔ کنول نے اٹھ کے اس کے پاس آتے لجاجت سےکہا۔

ہونہہہ ۔۔۔شوہر۔۔۔! ایک وہ شوہر اور ایک تم بیوی۔۔۔! اس جیسے کے ساتھبہن بیاہ کی میں نے سب سے بڑی غلطی کی ۔۔ اب خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اسے بیوہ کر کے۔۔۔!

آفتاب۔۔۔؟؟ کنول نے اسکا گریبان پکڑا۔

کسطرح کے بھاٸ ہیں آپ ؟؟ اپنی بہن کا سہاگ ہی اجاڑ دیں گے۔۔؟ شرم آنی چاہیے آپ کو۔۔۔!وہ بری طرح روتے پھنکاری تھی۔

بنا اسکی بات کا جواب دیۓ

آفتاب نے اسکی کلاٸیاں ہاتھوں میں جکڑیں کہ وہ تڑپ کے رہ گٸ۔

کسی کی آج تک جرات نہیں ہوٸ ۔ آفتاب کے گریان تک پہنچنے کی۔ تم نے آج دوسری بار یہ غلطی کی ہے۔ ۔۔ تمہاری جگہ۔۔ کوٸ اور ہوتا۔۔ تو اب تک اسکے ہاتھ کاٹ چکا ہوتا۔

ایک ایک لفظ کو چبا چبا کے کہتے وہ کنول کو چپ کرا گیا تھا۔

جھٹکے سے اسے بازو سے چھوڑا۔ اور بستر پے پٹخا۔ کنول منہ کے بل بستر پے گری لیکن پھر سے پلٹی۔ اور آفتاب کے پاس ہوٸ۔

پلیز۔۔۔ آپ کو جو سزا دینی ہے۔۔ مجھے دے دیں۔۔ ارسل بھاٸ کو کچھ نہ کہیں۔۔! کنول کےمنہ سے ارسل کے لیے بھاٸ سن کےآفتاب حیران ہوتا اسکی جانب مڑا۔

سزا تو تمہیں بھی ملے گی۔۔۔! کہتے ہوۓ وہ ایک کڑی نظر کنول پے ڈالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ کنول وہیں روتی رہ گٸ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

انڈر مافیا۔۔۔ سے تعلق ہے اس لڑکی کا۔ یہ دیکھیں۔۔ ماسک۔۔! یہی ماسک اس نے اس دن بھی پہنا تھا۔ آفتاب نے بھی اسکے ماسک کی جانب دیکھا۔ اس وقت وہ اپنے سیکرٹ روم میں تھے۔ جہاں کاظم کمیٹر پے تمام اکھٹی انفارمیشن آفتاب کو دیکھا رہا تھا۔

یہ بات سمجھ نہیں آرہی یہ۔۔ میرے گھر کیاکر رہی تھی؟ کیوں آٸ تھی۔۔؟؟

بھابھی سے ملنے۔۔۔؟؟ کاظم کے برجستہ کہنے پے آفتاب کے ماتھےپے دو بل پڑے۔

میرا مطلب۔۔۔؟؟ اس رات ۔۔۔آپ نے ہی تو کہا۔۔۔ کہ۔۔۔ وہ ڈرگز۔۔؟؟ کہیں۔۔ وہ اس نے۔۔؟ بھابھی کو۔۔؟؟

کاظم دور کا کوڑی لایا۔

لیکن۔۔۔ کنول کا اس سے کیا تعلق۔۔؟؟ وہ اسے کیوں ڈرگز۔۔؟؟ کیا کنول بھی شامل ہے۔۔اس سب میں۔۔؟؟

آفتاب بری طرح پریشان ہوا۔

سر پکڑے وہ وہیں بیٹھ گیا۔ اسے کنول سے یہ امید نہ تھی۔ کہ وہ غلط کامو ں میں ملوث ہو سکتی ہے۔

نجانے اور کتنے راز ہیں کنول ۔۔جو تمہاری زات کو لے کے کھلنے باقی ہیں۔۔؟

کاظم کو کال آٸ تھی۔ جسے سننے کے بعد وہ آفتاب کی طرف گم جوشی سے بڑھا۔

ایک اچھی خبر ہے۔ آفتاب نے سر اٹھایا۔

یہ ماسک والی لڑکی آج رات گولڈن کلب میں آنے والی ہے۔ کاظم کے چہرے پےپراسرا مسکراہٹ آٸ۔

یقیناً وہ پھر سے کوٸ ڈرگز کی ہی کوٸ ڈیل کرنے جا رہی ہوگی۔ آفتاب نے اٹھتے سخت لہجے میں کہا۔

وہیں ہم اسے دبوچ لیں گے۔ کاظم نے پلان بتایا۔

مجھے اس سے کوٸ لینا دینا نہیں ۔۔ مجھے بس یہ جاننا ہے وہ میرے گھر کیوں گٸ تھی۔۔؟

آفتاب کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا۔ کاظم نے سوچت ہوۓ اثبات میں سر ہلایا۔

اب انکی اگلی منزل وہ گولڈن کلب تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

وہ شاور لے کے نکلا تھا۔ آج جو کچھ بھی یونی میں ہوا اس کے اعصاب پے بری طرح چھایا ہوا تھا۔ شاور لےکے اس نے خود کو نارمل کیا۔ کہ ایک م کمرے کی لاٸٹ آف ہوگٸ۔

یہ اچانک کیا ہوا۔۔۔؟؟ پروفیسر سہیل حیران ہوتا مڑا۔ کہ یکدم سامنے کسی ہیولے کو یکھ ٹھٹھکا۔ جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔

کون ہو تم۔۔۔؟؟ سخت آواز میں پوچھا۔ساتھ ہی دراز کھولتے گن نکالنا چاہی۔ لیکن وہاں کچھ نہ ملا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ نہیں ملی گن۔۔؟ سامنے والے کی سخت گیر آواز پے پروفیسر کو کچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔

اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتا۔۔سامنے والے نے اسے دھنک کے رکھ دیا۔

بہت شوق ہے ناں تجھے لڑکیوں کو ہراس کرنے کا۔ اب یہ تھوبڑا لےکے جانا یونی۔۔۔! دوبارہ اپنے پیروں پے بھی نہیں چل سکو گے۔۔۔ !

زور سے اسکے سینے پے گھٹنا مار کے پیچھے ہوا۔

کل کے کل ہی۔۔ یونی سے استعفی دے دینا۔۔۔ورنہ۔۔۔؟؟ یہ جو سانسیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ صرف ایک لمحہ لگے گا۔۔ بند کرنے میں۔

شیر کی طرح غراتے مٹھی بنا کے بند کرتے وہ پلٹ کےبولا۔ اور کھڑکی کے رستے باہر کود گیا۔

پروفیسر زخموں کی تاب نہ لاتے بے ہوش ہو چکا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

جب سے دی جے خان ولا آٸیں تھیں۔ وہ باہر نہیں نکل رہی تھیں۔ ارباز خان۔۔ خان ولا سے غاٸب تھے۔ تو وہیں عباد خان اپنے کمرےکے ہو کے رہ گٸے تھے۔ جبکہ انابیہ ان کے پاس چلی جاتی یا خود شہیر۔۔اپنا وقت ان کے ساتھ گزارنے انکے کمرے میں چلا جاتا۔ لیکن وہ باہر نہ نکلتیں۔ نجانےکونسا غم دل میں لے کے بیٹھ گٸ تھیں۔ کہ یہاں آکے انکی طبعیت گری گری سی رہنے لگی تھی۔

ابھی بھی وہ کمرے میں لیٹی ہی تھیں۔ کنول جو دودن مزید گزر جانے کے بعد بھی دی جے کو نہ دیکھ سکی۔ بلکہ آفتاب بھی نہیں آیا تھا اس رات کے بعد واپس۔ اب موقع پاتےہی چپکے سے دی جے کے کمرے میں چلی گٸ۔ اور دروازہ لاک کرتی دھیرے دھیرے انکے پاس چلتی ہوٸ آٸ۔ وہ بہت کمزور ہو گٸ تھیں۔

انکو اسطرح سے دیکھ کنول کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔ انکے پاٶں کے پاس بیٹھتے انکے پاٶں کو اپنی گود میں رکھ لیا۔ ایک آنسو گرتا دی جے کے پاٶں پے آن ٹہرا۔

پاٶں پےہاتوھں کا لمس محسوس کرتے دی جے کی آنکھ کھل گٸ۔

مریم۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے وہ پکار اٹھیں۔جو یوں ہی انکے پاٶں آکے گود مثس رکھ لیا کرتی تھی۔ اور دو دو گھنٹے بیٹھی دباتی رہتی تھی۔

یکبارگی نظر سامنے بیٹھی لڑکی پے جا ٹہری۔ تو پلٹنا بھول گٸ۔ وہ لڑکی روٸے جا رہی تھی۔

دیجے اس لڑکی کو بغور دیکھا۔ وہ مریم نہ تھی۔۔ لیکن ۔۔مریم کی ہی طرح تھی۔ دی جےکا دل دھڑکا۔

اسکے چہرے پے پیار سے ہاتھ پھیرا تو انکی آنکھیں بھیگتی چلی گٸیں ۔

مریم۔۔۔؟؟ انہوں نے بہت مان سے پوچھا تھا۔۔؟

کنول نے سر اٹھایا۔ چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔

دی جے ۔۔؟؟ کنول کے لبوں سے نکلے الفاظ دی جے کے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال گٸے۔ فوراً آگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا۔ دونوں ہی پھوٹ پھوٹ کے رو دیں۔

تم۔۔۔۔مریم۔۔۔کی۔۔۔؟ درزیدہ لہجےمیں پوچھا تو کنول نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

میری بچی۔۔؟؟ میری۔۔۔ مریم کی بیٹی۔۔۔! کہاں کہاں۔۔ نہثس ڈھونڈا۔۔ اس بوڑھی نے ۔۔دی جے کی محبتبھری باتیں سنتی کنول کا دل درد سے بھرتا جا رہا تھا۔

مریم۔۔۔مریم۔۔کہاں ہے۔۔۔؟ وہ اب بھی ناراض ہے۔۔۔؟ نہیں آٸ مجھ سے ملنے۔۔؟ دی جےنے گلہ کیا۔

کیسے آتیں وہ۔۔دی جے۔۔۔؟؟؟ کنول پھر سے ہچکیوں سے رو دی۔ دی جے نے سوالیہ نظروں سے کنول کو دیکھا۔

وہ۔۔۔وہ تو ۔۔۔ کب کی۔۔۔ جا چکی ہیں اس دنیا سے۔۔۔۔! نہثس لڑسکیں وہ۔۔۔ اپنے نصیب سے۔۔۔! اللہ۔۔۔ کے پاس۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ کنول کی آواز روندھ گٸ۔

دی جے نے دل کو ہاتھ مارا۔ انہیں ایسا لگا۔ انکا دل بند ہوجاۓ گا۔ انکی سانسیں رکنے لگیں۔ رے وہیں پیچھے تکیے پے گر گٸیں۔

کنول ایک دم سے اپنی جگہ سے گھبرا کے اٹھی۔

دی جے۔۔۔؟؟ دی ۔۔جے۔۔؟؟ پلیز۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔دی جے۔۔۔؟؟ کنول نے انہیں ہلایا جلایا۔ لیکن ان کے وجود مثس کوٸ حرکت نہ ہوٸ۔ وہیں کنول کو لگا اسکا بھی دل بند ہوجانا ہے۔ دروازے پے زور زور کی دستک ہوٸ۔

کنول نے گھبرا کے دروازے کی جانب دیکھا۔ وہیں دوسری نظر دی جے کے بے سدھ وجود پے ڈالی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ماہی وے۔۔۔ محبتا سچیاں نیں۔۔۔۔

منگدا۔۔ نصیبا۔۔ کچھ۔۔۔۔اور۔۔۔

قسمت دے مارے۔۔۔ اسی کی کریے۔۔۔

قسمت تے۔۔کس دا زور۔۔۔۔۔

ماہی وے۔۔۔۔۔

کلب کی رونق عروج پے تھی۔ کاظم اور آفتاب بلیک سوٹڈ بوٹڈ ہوۓ اور چہرے پے بلیک ماسک لگاۓکلب میں داخل ہوتے الگ الگ سمت میں چلے گٸے تھے۔ اب انکی نظر سب پے تھی۔ تقرتباً سبھی ماسک میں تھے۔ اب انہیں اس ماسک والی لڑکی کا انتظار تھا۔

کہ تبھی سامنے مین انٹریس سے وہ ڈیپ ریڈ کلی کی ٹاٸٹ پنٹ شرٹ پہنے اندر داخل ہوٸ تھی۔ اسکی چال میں ایک عجیب سی مستی تھی۔ کاظم اور آفتاب دونوں نے اک دوسرے کو آنکھ کا اشارہ کیا تھا ۔ دونوں ہی چوکنا تھے۔

وہ ڈانس فلور پے جا چکی تھی۔ اب گانے کے بول پے وہ تھرک رہی تھی۔

ایک طرف عشق ہے تنہا تنہا۔۔۔

ایک طرف حسن ہے رسوا۔۔۔

دونں بے بس ہوٸےہیں۔۔ کچھ ایسے۔۔۔

کریں تو کس سے کریں ہم شکوہ۔ ۔۔

تھرکتے ہوٸے اچانک ماسک والی لڑکی کی نظر سامنے کھڑے بلیک پینٹ شرٹ اور بلیک ماسک پہنے آفتاب پے جا ٹہری۔ اسکی گرین آٸیز میں اپنی گرینآٸیز ٹکاۓ اس لڑکی کےبلب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔

آفتاب نے سر جھٹک کے منہ پھیرا اور سافٹ ڈرنک کو لبوں سے لگایا۔

اتنے میں وہ ماسک والی لڑکی آفتاب کے قریب آچکی تھی۔

ہاٸے۔۔۔۔! ہینڈسم۔۔! بہت قریب آتے وہ آفتاب کے ساتھ جڑ کے کھڑی ہوٸ۔ آفتاب نے دانت پیسے اور فاصلہ بنایا۔

گلاس کاٸنٹر پے رکھتا وہ ماسک والی لڑکی کی جانب مڑا۔

جی۔۔؟؟ بولیں۔۔؟؟ آفتاب نے لٹھ مارنے والے انداز میں پوچھا۔

سنگل ہو۔۔۔؟ یا ساتھ کوٸ ہے۔۔؟ ماسک والی نےا س کے اردگرد دیکھتے اشتیاق سے پوچھا۔ آفتاب کو سمجھ نہ آٸ۔ وہ جس کے لیے یہاں آۓ۔ انہیں لگا اسے پکڑنا آسان نہ ہوگا۔جبکہ وہ تو خود آفتاب کی طرف کھیچی چلی آٸ تھی۔

اٹس نن آف یور بزنس۔۔۔۔! آفتاب نے نخرے دکھاۓ۔ جبکہ تھوڑی دور کھڑا کاظم زیرلب مسکرایا تھا۔

میرے ساتھ چلو گے۔۔؟ آج کی رات۔۔۔ایک ساتھ۔۔؟؟

کان کے پاس آکے سرگوشی کرتی وہ آفتاب کو زہر لگی تھی۔ ابھی اسے اسکو قابو نہ کرنا ہوتا تو شاید نہیں یقیناً دو تھپڑ لگا چکا ہوتا۔

لیٹس۔۔ گو۔۔! آفتاب نےاسکی گرین آٸیٗ میں دیکھتے پر اعتماد انداز میں کہا۔ تو ماسک والی لڑکی کے چہرے پے گہری مسکراہٹ ابھری۔

دھیرے سے آفتاب کا ہاتھ تھاما۔ اور دونوں آگے پیچھے کلب سے باہر نکلے۔ جبکہ کاظم ان کے پیچھے پیچھے ہی تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *