Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 18)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

کیسے۔۔۔؟؟ کیسے۔۔؟؟ کر سکتی ہیں۔۔۔مما آپ۔۔۔؟؟ کیسے۔۔؟

شہیر پنے روم کے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا آٸینے میں اپنا آپ دکھ رہا تھا آنکھیں خطرناک حد تک لال ہو چکی تھیں۔ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ کہ اسکی روح اسکے اپنے سگھےماں باپ نے اس سے چھین لی۔ ہاتھ مار کے ساری چییں نیچے پھینک دیں۔

کیوں۔۔؟؟؟ کیوں۔۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ وہ تڑپ رہا تھا۔

پیچھے پلٹتا سیج کو دیکھنےلگا ۔

گہرے گہرے سانس لیتا وہ خود کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔ لیکن ۔۔۔

دل و دماغ میں صرف انابیہ چھاٸ ہوٸ تھی۔

آج ۔۔ہماری زندگی کا سب سے اہم دن۔۔۔۔۔ ہماری ۔۔۔ زندگی کو ۔۔شروع ہونے سے پہلے۔۔۔ ہی۔۔آپ نے برباد کر دیا۔۔۔۔!

آگے بڑھتے دیوانہ وار سب کچھ غصے سے اتار پھینکتا وہ ایک لمحے کو بھی نہ ڈگمگایا۔

پھولوں کو مسل کے رکھ دیا۔

سب کچھ اتارتا وہ نفی میں سر ہلارہا تھا۔

وہ لمحے آنکھوں میں گھومے جب وہ ہوٹل میں انابیہ کو اکیلا چھوڑ کے فون سننے باہر نکلا تھا۔

ارے شہیر بیٹا۔۔۔؟؟ کب سے دیکھ رہا ہوں۔ اچھا ہوا مل گۓ۔۔۔

آپ کی مماجان آپ کا گھر پے ویٹ کر رہی ہیں۔۔ فوراً گھر پہنچیں۔

ارباز خان نے شہیر کو جا لیا۔

ارے بابا جان ۔۔آپ یہاں۔۔؟؟ اچانک۔۔؟؟ مما جان ٹھیک ہیں ناں۔۔!

ارے ہاں بیٹا۔۔! دراصل وہ اپنی بہو کے لیے ایک بہت بڑا سرپراٸز تیار کر رہی ہیں۔ تو وہ چاہتی ہیں۔ کہ آپ اکیلے گھر پہنچیں۔ اورمل کے انابیہکو سرپراٸز دیں ۔

مسکراتےہوۓ کہا۔

سرپراٸز۔۔۔؟؟ شہیر نے زیر لب دہرایا ۔

اچھا۔۔۔۔ میں۔۔ انابیہ کو۔۔۔؟؟

ارے۔۔یار۔۔۔ انابیہ بیٹی کو نہیں پتہ چلنا چاہیے۔۔۔ ورنہ سرپراٸز ک کیا مزہ رہے گا۔؟

ارباز خان نے اسے انابیہ کی طرف جانے سے روکا۔

لیکن۔۔ بابا۔۔جان۔۔ اسے اکیلا چھوڑ کے کیسے۔۔؟؟ شہیر کا ل بالکل نہ مانا۔

میں ہوں۔۔ نا۔۔!انابیہ کو میں لے آٶں گا۔۔۔ ارباز خان نے اسے تسلی دی۔

بابا ۔۔وہ پریشان ہوجاۓ گی۔۔۔۔! شہیر کو انابیہ کے دل کا حل پتہ تھا ۔ اس لیے وہ اسے بتاۓ بنا نہیں جانا چاہتاتھا۔

اچھھھا۔۔۔۔ ایسا کرو۔۔۔ اسے میسج کردو۔۔۔ کہ کچھ فیر میں ڈراٸیور آۓ گا۔۔ اس کے ساتھ گھر آجانا۔۔۔اس سے وہ پریشان نہیں ہوگی۔۔۔ باقی یار سرپراٸز کا بیڑا غرق نہ کرنا۔۔۔۔! بہت دوستانہ انداز تھا۔

بابا۔۔۔؟؟ ڈراٸیور کیوں۔۔؟؟ شہیر کے ماتھے پے بل پڑے۔

یار۔۔ ! میں ڈراٸیور ہوں۔۔ لیکن۔۔۔ ابھی تھوڑا راز رہنے دو۔۔۔۔۔! ارباز خان نے اپنی طرف اشارہ کرتے مسکراتے کہا۔

بابا۔۔۔؟؟ آپ۔۔پلیز۔۔۔ یکھ لیجیے گا۔۔۔انجان شہر ہے۔۔ اور وہ۔۔۔؟؟ شہیر کا دل برا ہو رہا تھا۔

اپنے باپ پے بھروسہ نہیں کیا ؟؟؟؟

مصنوعی سنجیدگی سےپوچھا۔

ایسی بات نہیں۔۔ بابا۔۔ آپ ۔۔انا کا دھیان رکھیے گا۔۔

مسکراتے کہتے ہ ایک نظر پیچھے پلٹ کے دیکھنا چاہ رہا تھا کہ۔۔

اب جاٶ۔۔ بھی یار۔۔۔ ریسپشن کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔! ارباز خان نے شہیر کو وہاں سے بھیجا۔

ایک مخصوص چمک آگٸ تھی۔ ان کے چہرے پے۔

خانم کو میسج کیا۔ اور خود ہوٹل کے اندر آۓ۔ جہاں ایک کونے میں ٹیبل کےپاس گم صم بیٹھی انابیہ نظر آگٸ۔

ویٹر کو پیسے دیٸے اور اس کے کان میں انابیہ کی طرف اشارہ کرتے کچھ کہا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بہت آرام سے انابیہ کا موباٸل وہاں سے غاٸب کروایا۔ وہ شہیر کے ہی خیالوں میں گم بیٹھی تھی۔ اسکا میسج پڑھ کے۔

انابیہ کا موباٸل ہاتھ میں لیتے وہ دور ہی تین ٹیبل چھوڑ کونے میں بیٹھ گۓ ۔ او موباٸل ساٸلنٹ پے کر دیا۔ کافی کا آرڈر دیا۔

اب خانم کے فون آنے تک انہیں یہیں بیٹھنا تھا۔ انابیہ پے نظر رکھنی تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

گاڑی ڈراٸیو کرتے شہیر کا دل بار بار انابیہ کی طرف ہمک رہا تھا۔ جب نہ رہا گیا تو اسے کال کر دی۔ لیکن بیل مسلسل جا رہی تھی۔ وہ کال پک نہیں کر رہی تھی۔

شاید ناراض ہوگٸ ہے۔۔ ہمکلامی سے کہتے وہ مسکرایا۔

اور باپ کو کال کی۔

بابا ۔۔۔! انا۔۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ وہ خفا تو نہیں۔۔؟

چھوٹتے ہی پوچھنا شروع کر دیا۔

ارے یار۔۔ ابھی آپ کو نکلے پانچ منٹ بھی نہیں گزرے۔۔ اور آپ۔۔۔؟؟ ٹھیک ہے۔۔ بس بہو کو بھوک لگی تھی۔۔ تو کھانا کھلا کے ہی لاتا ہوں۔۔

لہجہ ہشاش بشاش رکھا۔

جی بابا۔۔! بہت اچھا کیا۔۔۔ اس نے کچھ بھی نہیں کھایا ہوا۔۔ اسے بھوک لگی تھی بہت۔۔۔! شہیر کے لہجے میں پریشانی تھی۔

چلو ۔۔۔بیٹا۔۔۔! آپ گھر پہنچو۔۔ سرپراٸز تیار کرو۔۔پھر ہم بھی آتے ہیں۔۔! ارباز خان نے کال بند کی۔ اور کافی کا گھونٹ بھرا۔

شاطر دماغ۔۔۔ شاطر چال۔۔۔۔!

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

مما جان۔۔۔! کیا ہوا۔۔؟؟ آپ ۔۔۔کو۔۔؟

خانم کو بستر پے دیکھا تو پیشان ہوتےپوچھا۔ ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔ بس تھوڑا چکر آگیا تھا۔۔۔

سر پکڑے کہا۔

سارا دن۔۔ آج کی ریسپشن کی تیاری کرتی رہی ہیں۔۔! کہ آج میرے بیٹے کی سب سے بذی خوشی ہے تو سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کروں گی۔

سامہ پھوپھو نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

مما جان۔۔۔! اپنا خیال رکھا کریں۔۔ ! آپ بہت اہم ہیں میرے لیے۔۔۔! شہیر نے انکا ہاتھ تھام کے پیار سے کہا۔

ہممم۔۔۔ بیٹا۔۔۔! آپ جاٸیں فریش ہو جاٸیں۔۔ پھر بات کرتے ہیں۔۔

خانم نے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا۔ تو شہیر مسکراتا ہوا اٹھا۔

مما جان۔۔۔! بابا نے کسی سرپراٸز کا کہا تھا۔

جاتے جاتے وہ مڑا۔

ہمممم۔۔۔ آپ فریش ہو کے آٸیں اسی بارے میں بات کرنی ہے۔۔۔

خانم نے ٹالا۔ تو شہیر اثبات میں سر ہلاتا اپنے وم کی طرف بڑھ گیا۔

کپڑے نکالے۔ اور پھر سےانابیہ کوکال کرنےکا جی چاہا۔ لیکن۔۔ پھر سرپراٸز کا سوچ کے بنا کال کیے وہ باتھ میں گھس گیا ۔

کچھ دیر بعد جب وہ شاور لیتا باہر نکلا۔ کہ ۔۔۔

شیری۔۔ بھاٸ۔۔ شیری بھاٸ۔۔۔؟؟

سارا بھاگتےہوۓ شہیر کے روم میں آٸ۔ اسکے چہرے پے ہواٸیاں اڑی ہوٸ تھیں۔

کیا ہوا۔۔؟ شہیر کے ماتھپے بل پڑے۔۔

اسےاپنے روم میں یوں کسی بھی لڑکی کا بلا جھجک آجانا ۔۔ سخت ناگوار گزرا۔

وہ۔۔۔ عرو۔۔۔عروج۔۔۔؟؟ پتہ نہیں ۔۔ اسے کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ پلیز چلیں۔۔میرے ساتھ۔۔۔! سارا اسے لیے عروج کے روم میں داخل ہوٸ جہاں وہ بستر پے اوندھے منہ پڑی تھی۔

شہیر نے ناسمجھی سے سارا کو دیکھا۔ سارا عروج کو فیکھے جا رہی تھی ۔

میرے بجاۓ اپنی مما کو بلا کے لاٶ۔۔۔!

شہیر نے غراتےہوۓ کہا اور واپس باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔ کہ

پلیز۔۔ بھاٸ دیکھیں ناں۔۔ اسکی سانس نہیں چل رہی۔۔۔

سارا نے روتےہوۓ کہا تو شہری لب بھینچے آگے بڑھا ۔

جیسے ہی وہ آگے بڑھا۔

سارا نے قدم واپس پیچھے لیے اور باہر نکل کے آہیستہ سے دروازہ بند کر دیا۔

اب آۓ گا مزہ۔۔۔۔! مسکراتےکہتی وہ سامعہ اور خانم کی جانب بڑھی۔

شہیر نے جیسے ہی عروج کو سیدھا کیا۔ وہ اسکے گلے سے لگ گٸ۔

شہیر۔۔۔۔! آپ آگۓ۔۔؟؟ مجھے پتہ تھا۔۔ آپ ضرور آٶ گے۔۔۔

آنکھیں موندے وہ خماری میں بولی۔

شہیر نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکا دیا۔

بکواس۔۔ بند۔۔۔! اور۔۔ کیا بے ہودگی ہے یہ۔۔؟؟

انلگیاٹھا کے وارن کرتا وہ تیکھے انداز میں بولا ۔

آج مت گھبراٶ۔۔۔ آج ۔۔صرف تم ۔۔ اور میں۔۔ بس۔۔کوٸ اور ہمارے بیچ میں نہیں۔۔

عروج نے پھر سے شہیر کے قریب آنا چاہا کہ شہیر نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا ۔ وہ اوندھ منہ بستر پے جا گری۔

میں نے کبھی زندگی میں تم جیسی گری لڑکی نہیں دیکھی۔جسے زرا بھی اپنی عزت کی پرواہ نہیں۔۔۔!

نفرت سے کہتے وہ دروازہ کھولتے باہر جانے لگا۔لیکن۔۔۔ درواہ لاک تھا۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔ تمہیں کیالگا۔۔؟ تم مجھے تھپڑ مارو گے اور میں تمہیں چھوڑ دوں گی؟

عروج نے کہتےساتھ ساری چیزیں نیچے پھینکیں۔ اور شور مچانا شروع کر دیا۔

اپنا حلیہ بگاڑا۔ بال بکھیرے۔۔ اور روتےہوۓ اپنا بچاٶ کرنے لگی۔ جبکہ شہیر بہت مطمین انداز میں کھڑا اسکا تماشا دیکھ رہا تھا ۔ تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آٸ۔ اور موقع محل دیکھ عروج نے شہیر کو اپنی طرف بہت زور سے کھینچا۔ وہ زرا کا زرا ڈگمگایا ۔

اسی لمحے درواشہ کھلا۔ اور سامعہ پھوپھو ۔خانم۔۔عروج۔۔ اور تبسم بیگم داخل ہوٸیں۔

سب کے چہرے پے حیرانی تھی۔

عروج بھاگتی ہوٸ ماں کے گلے لگی۔۔اور روتی جا رہی تھی۔

چھوٹے خان۔۔۔؟؟ خانم نے دل پے ہاتھ رکھے شہیر کی جانب دکھ سے دیکھا۔

جبکہ شہیرسب کو نظر انداز کیے ماں کو بس دیکھے جا رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

چھوٹے خان! آپ ایسا کیسے کر سکتےہیں۔۔؟؟

گھر کی بیٹی کے ساتھ۔۔ یہ سلوک۔۔؟؟

خانم روندھے لہجے میں پوچھ رہی تھیں۔ جبکہ شہیر سینے پے ہاتھ باندھے سکون سے ماں کو بس ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔

سبھی ہال میں جمع ہوگۓ تھے۔ اب ایک عدالت کا س سماں تھا۔

عروج۔۔۔۔ مت رو۔۔۔۔ میری بیٹی۔۔۔! بتا مجھے۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟

سامعہ پھپھو نے بیٹی کو گلے لگاتے ہوۓ محبت سے پوچھا۔

ماں۔۔۔مما۔۔۔ انہوں نے زبردستی کی میرے ساتھ۔۔۔؟؟ میں نے منع کیا۔۔۔ تو ۔۔۔ مجھے ۔۔ تھپڑ مارا۔۔۔! ماں کے گلے لگتے روتے ہوۓ کہا۔

بس۔۔۔ میری بچی ۔۔۔ مت رو۔۔۔۔!

آپا۔۔۔! اسی دن کے لیے۔۔ اپنی بچیاں لے کے آپ کے گھر رکی میں۔۔۔؟ کہ یہ حال کریں میری بچی کے ساتھ؟

ایموشنلی لہجہ۔۔۔ خانم نے لب بھینچے۔

آپ نے۔۔۔ ایسا کیوں کیا چھوٹے خان۔۔؟؟ خانم نے ڈاٸریکٹ شہیر سے سخت لہجے میں پوچھا۔

جو ابھی تک خاموش نظروں ماں کو ہی دیکھ رہا تھا۔

ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اپنی ویسٹ پے ہاتھ رکھے۔ گردن ترچھی کر کے عروج اور اسکی ماں کو دیکھا۔

مما۔۔۔۔؟؟ مجھے ۔۔۔ حیرت ہے۔۔ کہ یہ سوال آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں۔۔؟؟ جبکہ۔۔۔؟؟ آپ مجھے اچھی طرح سے جانتی ہیں۔۔!

شاید ۔۔یہیں۔۔ ہم غلطی کر گۓ۔۔۔ چھوٹے خان۔۔۔! کہ آپ کو جان ہی نہیں پاۓ۔

ٹہرے لہجے میں دکھ سے شہیر کو کہا۔ تو اس نے بے یقینی سے ماں کو دیکھا ۔

آپ کو۔۔لگتا ہے۔۔؟؟ کہ۔۔میں۔۔ اس کے ساتھ۔۔؟؟؟

شہیر نے عروج کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے حیرت سے پوچھا ۔

لگتا۔۔؟؟ دھیرے دھیرے چلتی شہیر کے پاس آٸیں۔

چھوٹے خان جو۔۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔اسکا کیاکریں۔۔؟؟

سخت گلوگیر آواز میں کہتیں وہ شہیر کو سکتے میں ڈال گٸیں۔

آنکھوں دیکھا کبھی غلط بھی تو ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔؟؟ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہتا وہ خنم کو چپ کروا گیا۔

کیا مطلب۔۔؟؟ تمہارے کہنے کا مطلب ہے۔۔؟میری بیٹی ۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہے۔۔؟؟ الزام لگا رہی ہے۔۔؟؟ سامعہ پھپھو تو ہتھے سےاکھڑ گٸیں۔

شہیر نے انکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔

چھوٹے خان۔۔ کوٸ بھی لڑکی۔۔۔ اپنی عزت کو لے کے ایسا گھٹیا الزام کسی پے نہیں لگاۓ گی۔۔۔! ایک عورت کے لیے۔۔ اسکی عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔۔ اور۔۔۔ اس عزت پے۔۔۔ آپ نے ہاتھ ڈالا ہے۔۔۔!

خانم نے ٹہرے ہوۓ انداز ؟میں کہا ۔ تو شہیر سر گراۓ طنزیہ ہنسی ہنسا۔۔۔

تو یہ تھا آپ کا سرپراٸز۔۔؟؟ سر اٹھاتے نفیمیں سر ہلاتےکہا۔

آپا۔۔۔۔! میری بیٹی کی عزت پے ہاتھ ڈالنے والے کو میں معاف نہیں کروں گی۔۔آپ کو انصاف کرنا ہوگا۔۔۔۔!

سامعہ پھوپھو نے آگے بڑھ کے خانم کے پاس جاتے غصے سے شہیر کو دیکھتےکہا۔

اچھھھھا۔۔۔۔ تو کیا چاہتی ہیں آپ۔۔؟؟ کیسا انصاف۔۔؟

ایک آٸ برو اچکاتے پوچھا۔۔۔

جو بھی آپا فیصلہ کریں گیں۔۔ مجھے منظور ہوگا۔

دھیرے سےخانم کو دیکھتے مضبوط لہجےمیں کہا۔

خانم نے گہرا سانس خارج کرتےشہیر کی طرف دیکھا ۔

عروج۔۔۔ کی عزت۔۔ میرے لیے بہت مقدم ہے۔۔ اس لیے۔۔۔ میں ابھی اسی وقت۔۔ عروج اور چھوٹےخان کےنکاح کا اعلان کرتی ہوں۔۔

مما۔۔۔؟؟؟ شہیر کو اپنی آواز بھی سناٸ نہ دی ۔

مولوی کو بلواٸیں۔ اور نکاح کی تیاری کی جاۓ۔۔ عروج۔۔۔ ہمارے خان ولا کی بہو بنے گی۔ آج ابھی ۔۔۔ اسی وقت۔۔۔! اور یہ۔۔ میرا حکم ہے۔۔۔!

آخری بات شہیر کی طرف دیکھتے سختی سے کہا ۔

شہیر دھیرے دھیرے چلتا خانم کے پاس آیا۔

آپ۔۔۔ میری جان لےلیں۔۔ مما جان۔۔۔! میری ہر جان آپ پے قربان۔۔ لیکن۔۔ میرے نکاح میں صرف انابیہ ہی رہے گی۔ میری آخری سانس تک۔۔۔۔!

ایک ایک لفظ پے زور دیتے شہیر نےخانم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اپنی بات مضبوط لہجے میں وہاں موجود سب کےگوش گزار دی ۔

اور اگر۔۔ وہ انابیہ ہی نہ رہی تو۔۔؟

سرد انداز۔۔۔شہیر کا دل دھڑکا گیا۔

مما۔۔۔۔؟؟؟ ایک سکتے کی کیفیت تھی۔

مت بھولو۔۔۔ اس وقت انابیہ۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔۔! اور جس شخص کے ساتھ وہ ہے۔۔ وہ شخص میرےلیے جان دے بھی سکتا ہے۔۔۔ اور جان۔۔۔ لے بھی سکتاہے….

خانم کے الفاظ نے شہیر کے دل کی دنیا ہلا دی۔

نو۔۔۔نو۔۔۔ مام۔۔۔ یو ڈونٹ ڈو۔۔۔ دس۔۔۔! آپ میری مما ہیں۔۔ آپ مجھ سے میری زندگی۔نہیں چھین سکتیں۔۔!

شہیر کو یقن نہنآیا کہ اسکی ماں اس کے ساتھ ایسا کچھ کر سکتی ہے۔۔۔

خانم ہوں۔۔ میں۔۔ کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔ ۔۔ اور جب ایک بیٹا۔۔۔ اپنی ماں کے مقابلے میں کسی عام سی لڑکی کو فوقیت دے گا۔۔ تو اسکی ماں ۔۔ اسکے ماتھے کا بوسہ لے گی۔۔؟؟ کیا سوچا آپ نے۔۔؟؟ آپ جا کے لاہور وہاں سے خود ہی اپنی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کر لیں گے۔۔ اور ہم۔۔۔ بس دیکھتے رہ جاٸیں گے۔۔۔ اور آپ کے کہنے پے۔۔ انابیہ کو ۔۔ اس گھر کی خان ولا کی ۔۔۔ بہو تسلیم کر لیں گے۔۔؟؟

آواز کافی اونچی ہو گٸ۔

شہیر کی تو زبان ہی گنگ رہ گٸ۔ ایک طف اسکی منکوحہ تھی۔ جو اسکی سانس تھی۔ تو سامنے ماں تھی۔۔ جس نے جنم دیا۔۔۔ پروان چڑھایا۔۔ اسکی دشمن بنی ہوٸ تھی۔

شہیر کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

مما۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے۔۔ اتنی بڑی آزماٸش میں مت ڈالیں۔۔ میں انابیہ کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتا ۔۔۔ وہ زندگی ہے۔۔میری۔۔۔ اسکے ہونے سے میری سانس چلتی ہے۔۔ روم روم یں بس چکی ہے وہ میرے۔۔ میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔۔۔ مما۔۔ آپ مجھ سے میری زندگی چھین رہی ہیں۔۔ میں۔۔ زندہ نہیں رہ پاٶں گا۔۔۔

شہیر نے بے بسی سے خانم سے کہا۔

ایک لمحے کو انکا ل پسیج سا گیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے انابیہ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ تو منہ پھیر لیا۔

شہیر۔۔ خانزادہ۔۔۔! فیصلہ آپ کےہاتھ میں ہے۔۔۔ انابیہ۔۔۔؟؟ انابیہ کی زندگی۔۔۔؟؟؟

خانم نے صاف لفظوں میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔

شہیر نے آنکھیں موندیں۔

۔۔۔۔آپ مجھے۔۔ بھروسے کی ڈور ۔۔ تھما رہے ہیں۔۔بعد میں ۔۔ توڑ دیا تو۔۔؟

انا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔

شاید۔۔۔آپ کو انابیہ کی زندگی سے کوٸ سروکار نہیں۔۔

کہتےساتھ ہی خانمنے ارباز خان کو کالملاٸ اور فون سپیکر پے ڈال دیا۔

جی خانم۔۔۔؟؟ آگے سے ارباز خان کی آواز آٸ۔

خان جی۔۔۔ وہ لڑکی۔۔۔ انابیہ۔۔ کہاں ہے۔۔؟ کہتے ہوۓ ایک نظر شہیر پے ڈالی ۔ جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔

میری گولی کے نشانے پے۔۔۔! ارباز خان کے الفاظ ۔۔۔ نے شہیر کے اندر سب کچھ توڑ دیا۔

آج سگھے خون کے رشتے اسے ڈس رہے تھے۔

خان جی۔۔۔ آپ اسے۔۔۔۔ مار دیں۔۔۔

دھیرے سے کہتی وہ شہیر کو ہوش کی دنیا میں واپس لے آٸیں۔

جو حکم آپ کا ۔۔۔! ارباز خان کے جواب پے شہیر کا دل بری طرح دھڑکا۔

بابا۔۔۔۔ ! آپ ۔۔مذاق کر رہے ہیں۔۔؟ آپ ان۔۔۔ کو کچھ۔۔۔؟؟

شہیر کا لہجہ روندھ سا گیا۔

بیٹا۔۔۔ جی۔۔۔! آپ کی محبت کا بھوت ۔۔۔ صرف کچھ سال کا ہے۔۔۔ جبکہ۔۔ خانم سے ہمارا عشق۔۔ برسوں کا ہے۔۔۔ اپنی خانم کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں دیکھ سکتے۔۔ جو۔۔ خانم کہہ رہی ہیں۔۔ وہی کریں۔۔ اسی میں اس لڑکی کی بہتری ہے۔۔۔

ارباز خان کے الفاظ نے شہیر کے اندر رہی سہی طاقت بھی ختم کر دی۔

خان جی۔۔۔ میری اگلی کال پے اس لڑکی کا مردہ چہرہ دکھا ٸے گا۔۔۔! خانم نے سفاکیت کی انتہا کر دی۔

نننہییں۔۔ ما۔۔۔؟؟ وہ ج مما کہنے والا تھا۔ اسکا جی ہینہ چاہا ۔۔ خانم کو ماں کہنے کا۔۔

میں۔۔ تیار ہوں۔۔ نکاح کے لیے۔۔۔۔! بلآخر۔۔۔ ایک بار پھر خانم جیت گٸ۔ اور رشتے ہار گۓ۔

مولوی صاحب کے آنے پے شہیر کا نکاح عروج سے ہوگیا۔

شہیر کا ایسا حال تھا۔ جیسے جان نکل چکی ہو۔۔ اسکے دماغ میں صاف انابیہ تھی۔

مبارک ہو۔۔۔ بہت۔۔۔بہت۔۔۔! سامعہ پھوپھو کی آواز کانوں سے ٹکراٸ۔

خانم نے عروج کو مسکرا کے گلے سے لگایا۔

یہی تو ہے۔۔ خان ولا کی اصلی بہو۔۔ خانم کی بہو۔۔۔!

کہے ہوۓ اس کو پیار کیا۔ عروج کے چہرے پے جیت کی سی سرشاری تھی۔دو تین تصویریں سارا نے نکاح کی بنا کے لاہور شامی کے نمبر پے۔۔اور آفتاب کے نمبر پے سینڈ کر دیں۔

کام ہو گیا۔۔۔! سارا نے عروج سے کہا۔

مبارک ہو۔۔ اب۔۔ شہیر خانزادہ ۔۔صرف تمہارا ہے۔

سارا نے عروج کو گلے سے لگا کے فل سے خوش ہوتے مبارک دی۔

عروج نے ایک نظر شہیر پے ڈالی جو خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔

جیسےکوٸ انجان شہر میں آجاتا ہے۔۔۔ اور کوٸ وہاں اسکا اپنا نہیں ہوتا۔

عروج۔۔ بیٹا۔۔۔! آپ تیار ہوجاٸیں۔۔ اور ریسپشن کے لیے آجاٸیں۔۔۔ آپ اور شہر کا ریسپشن ہوگا۔۔ اب ۔۔۔!

مسکراتے ہوۓ کہا۔

میری انا۔۔۔ مجھے۔۔ واپس چاہیے۔۔۔!

شہیر خانزادہ نے غراتے ہوۓ خانم سے کہا۔

خانم ایک م سے اسکے لہجے سے خاٸف ہوٸیں۔

مل جاۓ گی۔۔۔۔! ریسپشن کے بعد۔۔۔!

اور ہاں۔۔۔ جاتے جاتے مڑیں۔۔

ریسپشن تک کوٸ بھی ہوشیاری کی۔۔ تو۔۔۔ انابیہ کی جان کی گارنٹی۔۔ میں نہیں دوں گی۔۔۔

خانم نے پھر سے دھمکی دی۔

خانم نے بہت محبت سے کہا۔ اور تیار ہونے چل دیں۔

شہیر نے سختی سے آنکھیں میچیں۔

اور اپنے روم کی جانب بڑھا۔ اپنا فون ڈھونڈا۔۔ کہ آفتاب کو کال کر کے ساری بات بتا سکے۔ لیکن اسکا موباٸل غاٸب تھا۔

اسکا بس نہیں چلا رہا تھا۔پورے خان ولا کو آگ لگا دے۔

کچھ دیر میں ایک سرونٹ اسکو ڈریس دے گیا۔ کہ وہ چینج کر لے۔ ریمبو بھی غاٸب تھا۔

خانم نے بہت سوچ سمجھ کے چال چلی تھی۔

مجبوراً شہیر کو تیا ہو کے ریسپشن پے جانا پڑا۔

مہمان آنا شروع ہوچکے تھے۔ شہیر کی نظریں آفتاب کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

دو دفعہ شہیر نے تبسم بیگم کے پاس جانا چاہا۔ لیکن ۔۔ وہ کنی کترا کے نکل گٸیں۔

مطلب۔۔ صاف تھا۔۔ انکو بھی ڈرایا گیا ہوا تھا ۔

وہ اسٹیج پے کھڑا تھا۔ کہ گیٹ سے انابیہ آتی دکھاٸ دی۔

اور وہیں شہیر کو اندر سکون سا بھر گیا اسے صحیح سلامت دیکھ کے۔۔

لیکن ۔۔ اس کے آنسو۔۔۔ اسکا یوں بے اعتبار کرنا۔۔ شہیر کو اندر تک توڑ گیا تھا ۔

شہیر نے زور سے مٹھی بند کی اور کانچ کے ٹیبل پے ماری۔ ٹیبل پے زراڑ پڑ گٸ۔

اسکے ہاتھ سےخون کی بوندیں نکلیں کہ تبھی دروازہ کھولتی عروج اندر آٸ۔

دلہن کے روپ میں وہ اپنے حشر سامانیوں سمیت شہیر کو اپنے قابو کرنے کی پوری پلاننگ کر کے آٸ تھی۔

شہیییر۔۔۔۔! آپ کا ہاتھ۔۔۔؟؟

فوراً سے آگے بڑھتے شہیر کا ہاتھ تھاما۔۔۔!

آنکھوں میں آنسو آگۓ۔۔۔

یہ۔۔یہ۔۔کیاکیا آپ نے۔۔۔؟؟ عروج نے محبت سے پوچھا۔

شہیر نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا۔

میں ۔۔بینڈیج کر دیتی ہوں۔

اسکی نظروں سے ڈرتے ہوۓ وہ اٹھی۔ کہ شہیر نےاسکا ہاتھ تھام کے روک لیا۔

یہاں آٶ۔۔۔! سرد انادز میں کہا تو عروج کے اندر سنسنی سی دوڑ گٸ۔

پلٹ کے ایک نظر شہیر کو دیکھا ۔

پجس مقصد سے آٸ ہو۔۔ وہ تو پورا کر لو۔۔۔!

معنی خیزی سے کہتے اسے اپنی طرف کھینچ کے اسکی کلاٸ کو مروڑا۔

ششش۔۔شہیر۔۔۔۔چھھھ۔۔ڑ۔۔۔۔ییں۔۔۔ عروج تڑپ ہی گٸ۔۔۔

بہت شوق ہے تمہیں۔۔ اپنا آپ۔۔ مردوں پے نچھاور کرنے کا۔۔۔؟؟

شہیر۔۔۔آپ میرے شوہر ہیں۔۔ بیوی ہوں۔۔ میں آپ کی۔۔ نکاح ہوا ہے۔۔۔ غیر نہیں آپ۔۔۔!

عروج نے انا دفاع کیا۔

بے شرمی کی پوٹلی۔۔۔کو۔۔ میں۔۔۔۔اپنی بیوی بناٶں۔۔گا۔۔ ؟

تو کیا۔۔۔ آپ اس انابیہ۔۔ کو واپس۔۔؟؟؟

زہر خند لہجےمیں کہنا چاہا۔۔۔

خبردار۔۔ خبردار۔۔ جو میری ۔۔ پاک بیوی کا نام بھی اپنی گندی زبان سے لیا ہو تو۔۔۔ یہیں زمین میں زندہ گاڑ دوں گا۔۔۔

کہتے ساتھ اسے بازو سے پکڑ کے گھسیٹتا باہر لے کے گیا۔

چلو۔۔۔ فاٸنلی۔۔ ہم کامیاب ہوگۓ۔۔

شہیر اور انابیہ الگ ہوگۓ۔ ۔۔۔

خانم نے مسکراتے ہوۓ بہن سے کہا۔

شکر اللہ کا۔۔۔اینڈ تھینکس ٹو یو آپا۔۔۔ آپ نے جو کہا وہ پورا کیا۔۔ میری پیاری آپا۔۔۔

سامعہ پھوپھو نے خانم کو گلے سے لگایا۔

کہ تبھی۔۔ شہیر عروج کا بازو پکڑ کے گھسٹتا وہاں سب کے سامنے لے جاکے پٹخا۔

کہ وہ دونوں ہی ٹڑ بڑا کے اٹھیں ۔ اندر آتے ارباز خان بھی ٹھٹھکے۔

بہت اچھی چال چلی۔۔آپ سب نے مل کے۔۔۔؟؟

سب کی طرف دیکھتے پراسرار انداز میں کہا۔ لیکن۔۔ بھول گٸے۔۔۔ کہ آگے بھی کوٸ عام بندہ نہیں۔۔

شہیر خانزادہ۔ ہے۔۔۔ شہیر خانزادہ۔۔۔!

مجھے۔۔۔ خالی ہاتھ کرنا چاہا۔۔۔ ؟؟ اب آپ سب ہوں گے خالی ہاتھ۔۔۔

شہیر نے کہتے انگلیاٹھا کے ان سب کی طرف انگلی کرتے جنونی انداز میں کہا۔

اور واپس عروج کی جانب مڑا۔

میں شہیر خانزادہ۔۔۔ اپنے پورے ہوش و حواس میں عروج احمد کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔

چھوٹے خان۔۔۔۔۔ ! خانم چلاٸیں تھیں۔

ارباز خان آگے بڑھے۔

سبھی دنگ تھے۔ عروج آنکھیں پھاڑے شہیر کو دیکھے جا رہی تھی۔

طلاق دیتا ہوں۔۔۔

نننہیں۔۔۔ ! مت۔۔۔؟؟ خانم کالہجہ روندھا۔

طلاق دیتا ہوں۔۔۔

کہتے ہی وہ پرسکون ہوا تھا۔جبکہ وہاں موجود سب لوگوں کا سکون غارت کر گیا تھا۔

رباز خان نے آنکھیں میچتے سر نفی میں ہلایا۔

خانم کا ہاتھ اٹھا تھا۔ شہیر پے۔۔ لیکن ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔

ہاتھ پکڑنے والے کو حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھا۔

دی جے کی اچانک آمد نے خانم سمیت سبھی کو دنگ کر دیا تھا۔

عروج وہیں زمین پے گر گٸ تھی۔ دلہن بنی وہ۔۔ اپنا سب کچھ ہار گٸ تھی۔

سامعہ پھوپھو کو سمجھ نہ آیا۔ کہ کیا کریں۔۔۔؟ بیٹی کے آج نکاح کا جشن مناٸیں یا۔۔ آج ہی اسکی بربادی پے ماتم کریں۔

آج انکی ہر چال ان پے الٹ دی گٸ تھی ۔

خانم۔۔۔! خبردار ۔۔۔ میرے پوتے پے۔۔ میرے۔۔ خان پے۔۔ ہاتھ بھی اٹھایا تو۔۔۔۔؟؟ بخشوں گی نہیں۔۔ !

دی جے کی چنگھاڑتی ہوٸ آواز نے سب پے سکتہ طاری کر دیا۔

آج خانم کا تختہ الٹنے کا دن تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *