Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 21)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha chohan
کافی وقت گزر گیا تھا۔ ایک ساتھ۔۔ کلاٸ پےبندھی گھڑی دیکھتا وہ اٹھا تھا۔ اسے واپس اپارٹمنٹ جانا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے اس نے گاڑی خان ولا کی پارکنگ ایریا سے باہرنکالی۔ اور ہمیشہ کی طرح اپنے موباٸل پے کنول کی لوکشین چیک کی۔ اور اسکی بدلتی لوکیشن دیکھ اسکا دماغ گھوما۔
یہ۔۔۔۔ یہ کہاں جا رہی رات کے اس وقت۔۔۔؟؟ ماتھےپے دو بل پڑے۔
لوکیشن مسلسل بدل رہی تھی ۔ مطلب۔۔ وہ کسی جگہپےموو کر رہی تھی۔ اور وہ جگہ یہاں سے زیادہ دور نہ تھی۔
موباٸل پے لوکیشن دیکھتا وہ اسی جگہ گاڑی دوڑا چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا لیکن وہ بہت سنسنان جگہ تھی۔ کسی کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
یہاں۔۔۔ کیا کرنے آٸ۔۔۔ہے۔۔؟؟ کہیں بلال۔۔؟؟
سوچتے ہوۓ آفتاب نے دانت پیسے۔
کچھ تو ہے جو یہ چھپا رہی ہے۔۔۔! ایک بار پتہ چل جاۓ اسکے دماغ میں چل کیا رہا ہے۔ اس کے بعد اسکو۔۔۔۔؟؟
وہ جو سوچتا ہوا۔ گاڑی سڑک پے ڈالےادھر ادھر گلیوں میں دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک۔۔ ایک گلی سے ایک لڑکی بھاگتی ہوٸ اس کی گاڑی سے ٹکراٸ۔ آفتاب نے جھٹکے سے گاڑی روکی ۔
لڑکی کےپیچھے ہی دو لڑکےبھی تھے۔ جن میں سے ایک نے اس لڑکی کو گاڑی کےبونٹ پے گرایا۔ اسکا چہرہ ایک لمحے میں آفتاب پہچان گیا تھا۔
کنول کو دیجھتے اسکی دماغ کی رگیں تن گٸیں۔ اسٹیرنگ پے ہاتھ کی گرفت مزد سخت ہو گٸ۔ اس سے پہلے کے وہ کنول کے منہمیں وہ پاٶڈر ڈالتے آفتاب نے جھٹکے سے دروازہ کھولا باہر نکلتےہی اس شخص کی کلاٸ کو سختی سےاپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لیا۔ کہ وہ ایک دم سے گھبرا کے آنے والےکو یکھنے لگا ۔ آفتاب بنا پلک جھپکے اس شخص کو آنکھوں ہی آنکھوں میں سخت وارننگ دیتا نظر آیا۔
چھھھووڑ۔و۔۔۔۔۔۔! وہ اپنے کلاٸ کو مڑتا دیکھ ہکلاتےہوۓ آفتاب سےکہتا پیچھے ہونے لگا۔ لیکن آفتاب کی گرفت مزید سخت ہوتی گٸ۔ اور ایک دم سے جھٹکے سےاسکی بازو کوپکڑتےاسکی کلاٸ کو مروڑ دیا۔ سنسنان گلی میں اس شخص کی چینخیں پھیلتی چلی گٸ تھیں۔ ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ کی تھی۔
دوسرا شخص آفتاب کسکس پیکس کو دیکھتا تھوڑا گھبرایا۔ وہ لڑکی سےتو لڑسکتےتھے۔ لیکن وہ آفتاب سے کیسےلڑسکتےتھے۔ وہ باڈی بلڈر ٹاٸپ بندے سے کیسے لڑ سکتا تھا۔۔؟
لیکن پھر بی آگے بڑھا ۔ آفتاب کو مارنے کے لیے۔ جبکہ وہ زخمی شیر کی طرح غراتا اسکے منہ پے ایک ہی مکا جڑتا دور گرا چکا تھا۔
وہ شخص اپنا جبڑا لیے بیٹھتا چلا گیا۔
اس سے پہلے کے آفتاب نزید انکی طرف پیش قدمی کرتا وہ بھاگ نکلے۔
آفتاب نے سر جھٹکا۔ اپنا غصہ کنٹرول کرنا چاہے۔ لیکن نہیں کر پا رہا تھا۔ جینہیں چاہا پلٹ کےاس دشمن جان کو ایک نظر دیکھ لیتا۔ جو اس وقت سرا سیمہ حالت میں وہیں گاڑی کے دروازے کے پاس سڑک پے گھٹری بنی بیٹھی تھی۔ مڑتا گاڑی کے بیک حصے پے زور سے مکے برساۓ۔ کہ اس سنسان جگہ پے شور برپا ہوگیا۔
کنول جو ڈرگز کی کچھ مقدار اندر جانے سے ہوش کھو رہی تھی۔ اس حالت میں بھی بری طرح سہمی تھی۔ اور مزید پیچھے ہوۓ تھی ۔
جبکہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتا کنول کو بنا دیکھے بازو سے دبوچتے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پے دھکیلا۔
وہ اتنا غصہ تھا۔ کہ لب بالکل خاموش ہوگۓ تھے۔ لیکن شدت جذب سے چہرہ بے انتہا سرخ ہو چکا تھا۔
یہاں سے اپار ٹمنٹ کا راستہ کافی دور تھا ۔ اور جو اس وقت کنول کی حالت تھی۔ وہ اسے اپارٹمنٹ نہیں لے جا سکتا تھا۔ اور خان ولا۔۔۔؟؟
کچھ سوچتے ہوۓ اس نے گاڑی واپس موڑی ۔ جبکہ کنول ڈری سہمی سی دروازے کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔ حواس ایک بار پھر سے اسکے معطل ہونے لگے۔ وک ہوش میں وہنا چاہتی تھی۔ لیکن نشہ آور ڈرگز نے اسکے حواس چھین لیے تھے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ بازوٶں پے زخموں کے نشان واضح تھے۔ جس بری طرح انہوں نے اسے جھنجھوڑ کے کھ دیا تھا۔ کنول کو لگا اگلا لمحہ اس کا قبر میں ہی ہوگا۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی خان ولا کے گیٹ کے پاس رکی۔ سعدی وہیں موجود تھا۔ گاڑی سے باہر نکلتے خان ولا کے پیچھے والا گیٹ اوپن کروایا۔ جہاں باغیچہ تھا۔ اور وہاں سے ایک خفیہ راستہ آفتاب کے کمرےکو جاتا تھا ۔
لیکن اس راستےکا استعمال اس نے بہت ہی کم کیا تھا۔
گاڑی کا دروازہ جھٹکے سےکھولتا۔ وہایک بار پھر کنول کو بازو سے دبوچے اندر کی جانب بڑھا۔
مین انٹرس پے روشنی کے قمقے جگمگا رہے تھے۔ جبکہاندرونی لاٸٹس آف ہو چکی تھیں۔
جس کا مطلب تھا۔ کہ سب اپنے اپنے رومز میں تھے۔
آفتاب نے کنول کو اپنے روم کیطرف لےجاتے زور سے بیٹڈ پے پٹخا۔
کنول کا سر بری طرح چکرایا۔
درواہ لاک کرتا وہ اسکی جانب جارحانہ انداز میں پلٹا۔
ار بازوٶں سے دبوچ کے اپنی طرف کھڑا کیا ۔ وہ لڑکھڑاتی اسی کے سہارے کھڑی ہوتی بمشکل آنکھیں کھول پاٸ تھی۔
تم جیسی بےباک لڑکی ۔۔۔میں نے آج تک نہیں۔۔ دیکھی۔۔۔! بہت شوق ہے تمہں راتوں کو گھر سے بھاگنے کا۔۔۔؟؟ وہ بات کم کر رہا تھا پھنکار زیادہ رہا تھا۔ نشے میں ہونے کے باوجود کنول تھر تر کانپنے لگی تھی۔
بولو۔۔۔ جواب دو۔۔۔؟؟ کیوں گٸ تھی وہاں۔۔؟؟ کون تھے وہ لوگ۔۔؟
کنول کو لگا انگلیاں آج اسکی بازو میں پیوست ہوجاٸیں گیں۔ اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔
آفتاب نے زور سے اسکو باو سے پکڑے جھٹکا ۔ کہ اسکی آنکھثس پھر سے وا ہوٸیں۔
تم نے بھاگ کر بہت غلط کیا ہے۔۔۔! تم جانتی بھی ہو ۔کیا ہو سکتا تا تمہارے ساتھ؟؟
کرب اور غصے سے آفتاب کی دل خراش آواز نے کنول کا دل چیر دیا تھا۔
وہ تو کمرا واٸس پروف تھا۔ ورنہ اب تک کوٸ نہ کوٸ اندر آچکا ہوتا۔
چھھھ۔۔۔ڑ۔۔۔یییں۔۔۔۔۔! کنول نے بمشکل خود کو چھڑانا چاہا۔ لیکن وہ کہاں آفتاب کی سخت گرفت سے نکل سکتی تھی۔
ایک لمحے میں آفتاب کو اندازہ ہوا۔ وہ ہوش میں نہیں۔۔ اسے کھینچ کے خود کے قریب کیا تو وہ ڈھیلے وجود کے ساتھ اسکے سینے سے آن ٹکراٸی۔
یہ تو۔۔۔ نشے میں۔۔۔؟؟ مطلب۔۔؟؟ وہ ڈرگز۔۔۔؟؟ آفتاب نے سختی سے آنکھیں میچیں۔
اور کنول کو پیچھے کرتے اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ لڑکھڑا رہی تھی۔
آفتاب نے اسے کلاٸ سے پکڑا اور باتھ روم کی جانب لے گیا۔ شاور آن کیا۔ اور اسے نیچے کھڑا کر دیا۔
اتنی ٹھنڈ میں ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا کرتے ہی کنول نے جھر جھری لے کے پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن آفتاب سایہ فگن کی طرح اسکے سامنے کھڑا رہا۔ وہ شاور میں بھگتی چلی جارہی تھی۔ چہرے سے پانیکو ہٹاتے اسکے کچھ حد تک حواس کام کرنے لگے تھے۔ کہپوار زور لگا کے آفتاب کو پیچھے ہٹانا چاہا۔ اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ شدید قسم کی۔ اور آفتاب تو بت بنا کھڑا اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو رہا تھا۔
اپنے سینے پے بازو باندھتیوہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی۔ جھکا سر اوپر اٹھاتے گہری کالی آنکھوں سے آفتاب کو دیکھنے کی کوشش کی۔
جو بہت قریب ہی کھڑا اسکے ہرے کے بدلتے زاویوں کو بنا پلک جھکے دیکھ رہا تھا ۔
آگے ہوا۔ اس کے چہرے کے قریب ۔کنول کی سانس تھمی تھی۔ ایک انچ کے فاصلے پے دونوں ہی شاور کے نیچے کھڑے مکمل بھیگ چکےتھے۔
آفتاب نے جھک کے شاور بند کیا۔ اور پیچھے ہٹا۔ کنول کی رکی سانس بحال ہوٸ۔
ہوش آیا کہ۔۔۔ مزید کوٸ اور ڈوز بھی دینی پڑے گی۔۔؟؟
طنز سے کہتا وہ کنول کو سر تا پیر سخت نظروں سے گھورتے پھنکارا تھا ۔
کنول نے لب بھینچے۔ اور وہاں سے باہر نکلنا چاہا ۔ آفتاب نےاسکا ارادہ بھانپتے فوراً اسے دیوار کے ساتھ پن کیا۔
خبردار۔۔۔ خبردار ۔۔ جو میری بات کو۔۔۔۔ اگنور کرنے کی بھول کے بھی غلطی کی تو۔۔۔؟؟ ورنہ۔۔۔؟؟
ورنہ کیا۔۔؟؟ کنول کے نین کٹورہ آنکھیں پانیوں سے بھرنےلگیں۔
آج آپ بتا ہی دیں۔۔۔یہ جو آپ ہر وقت ورنہ ورنہ کرتے ہیں۔۔ کیا ورنہ۔۔؟؟
کنول کے حواس تھوڑے بہت اب کام کرنے لگےتھے۔ اور آفتاب سے ڈرنےوالی کہاں تھی وہ ۔۔
اچھا۔۔۔ تو اب تمہیں۔۔۔ ڈیمو دینا ہی پڑے گا۔۔۔! ہیں ناں۔۔۔؟؟
کہتےہی آفتاب نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے بہت قریب کیا۔
جبکہ کلاٸیاں اسکی دبوچی ہوٸیں تھیں۔
دور۔۔۔دور۔۔ رہیں مجھ سے۔۔۔! سمجھے آپ۔۔۔!
کنول کی زبان ایک بار پھر سے لڑکھڑاٸی۔ وہ آفتاب کے لو دیتے جذبوں کے سامنے اپنے دل کو ہارتا ہوا محسوس کر رہ تھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کنول۔۔۔؟؟ ڈر گٸ۔۔؟ پفتاب نے دانےت پیستے اس پے طنز کیا۔ جبکہ وہ اسے کیا بتاتیکہ وہ اس سے نہیں خود سے خوف زدہ تھی۔ وہ اپنے دل کے آگے اپنے آپ کو ہارتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
آ۔۔۔ف۔۔۔۔تا۔۔۔۔ب۔۔۔! بہت گھمبیر لہجے میں اس نے آفتاب کو پکارا۔ کہایک لمحےکو آفتاب کے تنے ہوۓ اعصاب ڈھیلے پڑگٸے۔
دھیرے سے اسکے قریب ہوا ۔ کنول کے احساسات اس پے عیاں ہونے لگے تھے۔
اب کی بار نرمی سے کنول کےہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتا اسے قریب کر گیا ۔ کنول بناکوٸمزاحمت کیے آفتاب کو دیکھے جا رہی تھی ۔
آفتاب نے بے اختیار ہوتے اسکی ہاتھو ں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساٸیں ۔
کنول کی کالی آنکھیں آفتاب کی گرین آٸز میں اپنی چھب دکھا رہی تھیں۔
آفتاب نے اسےکھینچ کےاپنے قریب کیا۔ آنکھیں موندتے وہ بھی کنول کو گہرا سانس لیتے محسوس کر رہا تھا ۔
کچھ پل پہلے کے لمحےاسکی آنکھوں کے سامنے گھومے۔ تو جھٹ سے آنکھیں کھولتے وہ کنول کو جھٹکتا پیچھےہٹا ۔
جس حالت میں کنول اسے ملی تھی۔ وہ لمحہاسکے لیے موت سے بھی بدتر تھا۔ اس لمحے وہ ہزاروں موت مرا تھا۔
نفی میں سر ہلاتا وہوہاں سے باہر جانے لگا کہ کنول نے اسکی کلاٸ تھام لی۔ جاتے قدم تھمےتھے۔
دل ایک عجیب ہی لے پے دھڑکا تھا۔ وہ پلٹنا نہثس چاہتاتھا اسے لگا وہ پلٹا تو ۔۔۔ اپنا نہیں رہے گا۔۔۔!
کنول سے کلاٸ چھڑانا چاہی ۔ تو کنول نے آنکھثس سختی سے بند کرتے مزید مضبوطی سے تھام لی۔ اور آگےبڑھتے آفتاب کو اپنے حصار میں لیا ۔
اور گرفت سخت کر لی ۔
مت جاٸیں۔۔۔ مجھے۔۔۔ چھوڑ۔۔۔۔ کے۔۔۔۔!
روندھے لہجے میں کہتی وہ آفتاب کو گنگ کر گٸ۔
آفتاب اسکی اس پیش قدمی پے اپنے جسم سے روح تک سر شار ہوا۔ خود کو اپنی محبت ۔۔۔
اپنے عشق ۔۔۔۔
اپنے جنون سے دور نہ رکھ سکا۔
پلٹتے ہی کنول کو اپنیبانہوں کے حصار میں لیا ۔ اور آنکھیں موندتے اسے اپنے پاس اپنے دل کے بہت قریب محسوس کیا ۔
وہ ٹھیک ہے۔۔ محفوظ ہے۔۔ اس بات پے اس نے اپنے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ زرا سی دیری۔۔کنول کے ساتھ۔۔۔ کچھ بھی برا سکتی تھی۔
کنول کو بھی سہارا چاہیےتھا ۔ مثبت بھرا لمس۔۔۔
محافظ۔۔۔ جو اسکی عزت و جان کی حفاظت کر سکے ۔
نشے کی حالت میں وہ اپنے اندر کی ضدی کنول کو کہیں دور ہی پھینک آٸ تھی ۔ آفتاب کے سامنےتو وہ اپنے اصل میں کھڑی تھی ۔ ڈری سہمی۔۔ محبت کی متلاشی کنول۔۔۔! جس نے زندگی سےاب تک کچھ نہ چاہا سواۓ دشمنوں کی موت کے۔۔ آج ۔۔ آفتاب کی سنگت اسکے دل میں پیار کے جذبے جگا گٸ تھی ۔ کہ وہ ان جذبات کی رو میں بہتی چلی جا رہی تھی۔
دل نے بغاوت کی تو دماغ نےبھی ہار مان لی۔
آفتاب نے پیچھے ہوتے کونل کی بند آنکھوں کو خمار آلود انداز میں دیکھا۔ وہابھی بھی لرز رہی تھی ۔ آفتاب کی خاموشی پے کنول نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
اسکی آنکھوں مثس محبت کے جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کنول کا دل دھک سے رہ گیا ۔ کنول کو اپنے دل کی دھڑکن رفتار سے ہٹ کےلگی۔
ایک عجیب سی کیفیت تھی دل کی۔
آفتاب دھیرے سے اسکے قریب ہوتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکے لبوں پے جھکا۔ کنول نے آنکھیں موند لیں۔
آفتاب کے انداز میں غصہ اور شدت تھی وہ پیچھےہوتا اسے گہرے سانس لیتے دیکھنے لگا۔ کہ جھٹ سے اسے اپنی بانہوں میں بھرتا وہ روم میں لایا۔ ۔
دونوں ہی خاموش تھے۔ لیکن دھڑکنیں دونوں ہی کی معمعل سے ہٹ گٸ تھیںں۔
ان دھڑکنو ں کا رقص وہ دونو ں محسوس کرتے ایک دوسرے کو اپنا آپ سونپ گٸے۔
اس بات سے بے خبر کے آنے والےوقت نےانکو پھر سے جدا کر دینا ہے۔۔۔
اور وہ آنے والے کل کو بھلاٸے اس لمحے کو جی رہے تھے۔
![]()
![]()
![]()
منتہا چوہان![]()
![]()
![]()
![]()
صبح معمول سےٹہ کے کنول کیآنکھ کھلی ۔ تو خود کو آفتاب کی بانہوں میں پایا ۔ ایک لمحے کو اسکے چہرے پے بھرپور مسکراہٹ بکھری ۔
آفتاب کا چہرہ آنکھوں کےرستے دل میں اتارتے وہ آگےبڑھتی اپنی ہی رو میں بہکی اسکےلبوں پےجھکی۔ کہ ایک دم سے اسکے حواس جاگے۔
پورآنکھیں کھولتی وہ جھٹکے سےپیچھےہٹی۔
اپنی اور آفتاب کی پوزیشن کا احساس ہوا ۔ تو اسکا دل کسی انہونی پے بری طرح دھڑکا۔
خود کو آفتاب کی شرٹ میں دیکھتے اور آفتاب کو شرٹ لیس اپنے ساتھ سوٸے دیکھ اسکے دماغ نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔ آنسوٶں نے اسکی آنکھوں کو بری طرح بھگویا تھا۔اسے یقین نہ آیا کہ آفتاب کے انتے قریب جا سکتی ہے۔۔؟؟
دھیرے سےپیچھےہوتی اس نے دوسری نظر روم پے ڈالی۔ ۔۔۔ یہ۔۔۔ آفتاب کا گھر نہیں تھا۔۔۔ لیکن۔۔؟؟
سر جھٹکتے سامنے نظر باتھ روم کا رخ کیا ۔ باتھ روم میں خود کو قید کرتی وہ شاور کھولے آفتاب کے ساتھ گزرے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
اسے رہ رہ کےاپنے بے اختیاریپے غصہ آرہا تھا۔
اسکا دل اپنے لیے بہت بری طرح دکھ رہا تھا ۔
وہ خود کو باووں سے پکڑتی بری طرح جھنجھوڑ رہی تھی۔
روتے ہوۓ نیچے بیٹھتی چلی گٸ۔ نجانےکتنا وقت گزر گیا تھا۔ اٹھی۔ شاور لیا ۔ باہر جھانکا۔ تو بستر خالی تھا۔ جبکہ ایک لیڈیز ڈریس ساٸیڈ پےہینگ ہوا تھا۔
ٹاول میں خود کو چھپاۓ اس نےجلدی سے ڈریس اٹھایا اور واپس باتھ روممثس گھس گٸ۔ وہ اس وقت آفتاب کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنے ساتھساتھ اسے آفتاب سے بھی نفرت محسوس ہر رہی تھی۔ جس نے اسکے نشے میں ہونےکا نجاٸز فاٸدہ اٹھایا تھا۔
ڈریس اپ ہوتی وہ باہرنکلی۔ تو آفتاب کو فریش آٸینے کےسامنے دیکھ وہ اندازہ کر چکی تھی۔ کہ اسے کنول کے اٹھنےکا بخوبی پتہ تھا۔
کنول کو گلابی رنگ کے ڈریس میں گلابی پڑتا دیکھ دل ہی دل میں اس کی اس ادا پے دلو جان سے فدا ہوا تھا۔
دھیرے سے قدم لیتا اسکی جانب بڑھا ۔ کہ اتنے ہی قدم بےاختیار پیچھے لیتی وہ دورہوٸ۔
آفتاب کے قدم تھمےتو وہیں ماتھےپے دو بل پڑے۔
اس گریز کی عجہ جان سکتاہوں۔۔؟؟ تیکھےانداز میں پوچھنےپے کنول تو آپے سے ہی باہر ہوگٸ ۔
آپ کو یہ پوچھنے کا حق ہے۔۔؟ جبکہ۔ آپ ۔کل۔۔رات کو۔۔۔میرے ساتھ۔ ۔۔۔ زبردستی کر چکےہیں۔۔۔!
بولیہیں غصےسے وہ پھنکاری تھی۔
اسکے لب و لجے پے آفتاب حیرت کے سمندر مثس غطہ زن ہوا تھا۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ناں۔۔ ؟ کونسی زبردستی۔۔؟ سینے پے ہاتھ بانھے اسے سر سے پاٶں تک تلملاتے دیکھ
آفتاب کے سینے میں جیسے ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔
بنیں مت۔۔۔۔! رات کو ۔۔۔آپ نے۔۔ خود کو۔۔ مجھ پے۔۔ زبردستی مسلط کیا۔۔۔! بہت۔۔ بہت غلط کیا آپ نے۔۔۔! وہ روٸ تھی۔۔۔تڑپی تھی۔
طیش کے عالم میں آفتاب نےاسے کھینچ کے خود کے قریب کیا ۔ اسکی باتوں نے آفتاب کا دماغ بری طرح گھما کے رکھ دیا تھا۔
میں نے۔۔۔؟ میں نے کیا خود کومسلط تم پے؟۔۔؟؟
آر یوان یور سینسس۔۔۔؟؟
وہ دانت پیستا بولا تھا۔
اور۔۔۔۔کونسی زبردستی کی بات کر رہی ہو۔۔؟ میاں بیوی میں کونسی زبردستی ہوتی ہے۔۔؟؟
ہوتی ہے۔۔! جو آپ نے کی۔۔۔! اپنے آنسوٶں پے بندھ باندھے وہ زخمی شیرنی کی طرح آفتاب کی گرین آٸز میں دیکھتے غصے سے بولی تھی۔
آفتاب نے اسے جھٹکے سےپیچھے دھکیلا۔ اور اسے گھورتےہوۓ اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا ۔ کنول کا دل بری طرح دھڑکا۔
شرٹ اتارتے دور اچھالی۔ جبکہ بنا پلک جھپکے وہ کنول کے چہرے کے اتار چڑھاٶ دیکھ رہا تھا۔
اس سے دو قدم کی دوری بناتے وہ رخ پلٹ کے کھڑا ہوتا آٸینےمیں اسکا لال پڑتا چہرہ دیکھنےلگا۔
زبردستی ۔۔۔۔اسے کہتےہیں۔۔؟ اپنی پیٹھ دکھاتے وہ ے باک انداز میں بولا تھا۔
اسکی بات کا مطلب سمجھتے کنول نے رخ پھیرا۔ جبکہ چہرہ شرم کی شدت سے سرخ پڑ چکا تھا۔
بہت۔۔۔۔ بے شرم ۔۔انسان ہیں آپ۔۔۔! خو کوکمپوز کرتے وہ رخ بلتے زیر لب چذ کے بولی تھی۔
ابھی اپنی حد میں ہوں۔۔مسز۔۔۔۔ جس نے صحیح معنوں میں بے شرم ہوا ناں۔۔ تو منہ چھپاتی پھرو گی۔۔۔
آگے بڑھ کے صوفے سے اپنی شرٹ اٹھا کے پہنتا وہ معنی خیزی سے بولا۔
آپ سے ۔۔مجھے یہ امید نہیں تھی۔۔۔ آپ نے۔۔ مجھ سے زبردستی نکاح کیا۔۔۔اور اب یہ۔۔۔!
بکواس بند۔۔۔۔! کونسا زبردستی نکاح کیا ؟ اپنیمرضی سےتمنے قبول کیا۔۔۔ اور رہی بات۔۔۔ رات کی۔۔! تو اس میں بھی تمہاری مرضی شامل تھی۔ اس لیے اب منہ بند کر لو۔۔۔! ورنہ میں جس انداز یں منہ بند کروں گا۔ وہ تمہیں خاص پسند نہیں آۓ گا۔
کہتے اسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ مڑا تھا۔
بس اب۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔۔!
نہیں کروں گی میں آپ کو معاف۔۔۔! نفرت ہورہی ہےمجھےآپ سے۔۔۔ خود سے۔۔۔۔!
وہ چلاٸ تھی بےبسی سے۔
اسکی بات پے آفتاب نےلب بھینچے۔ مگر خاموش رہا۔
کہ اگلےپل اسکی کہی بات نےاسے اندر تک ہلا کے رکھ دیا تھا۔
نہیں رہنا مجھےآپ کےساتھ۔۔!
الگ ہونا ہے مجھےآپ سے۔۔۔! طلاق چاہیے ابھی اسی وقت۔۔۔!
خود پے ضبط کرتے دل کو رد کرتے وہ بالآخر بول دی ۔
بنا یہ جانے کے سامنے کوٸ عام انسان نہیں کھڑا۔ آفتاب شیر خان ہے۔۔۔
جس نے اسے اپنی زندھ میں اگر شامل کیاتھا۔ تو پورے دل سے کیا تھا۔
تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں یوں چھوڑ دوں گا۔۔۔؟
آفتاب کا دماغ ایک منٹ میں اسکی بات پے گھوما تھا۔ بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچتے وہ اسے اس پل بری طرح ڈرا گیا۔
نہ پیار ہو۔۔۔
نہ محبت۔۔۔
اور نہ ہی عشق۔۔۔
جنون ہو تم میرا۔۔۔ ! کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو۔۔۔ جان لے لوں گا تمہاری۔۔۔!
ایک ایک لفظ پے زور دیتا بنا پلک جھپکے اسکی کالی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا وہ کنول کو اندر تک لرزا گیاتھا۔
میں اگر ہوش میں نہیں تھی تو آپ تو ہوش میں تھے ناں۔۔؟ آپ ۔۔۔ آپ۔۔روک سکتے تھے ناں۔۔۔؟؟
آگے بڑھتے جارحانہ انداز میں اپنےہاتھ چھڑاتی آفتاب کا گریبان پکڑا۔
وہ ابھی بھی اسی بات پے اٹکی تھی۔
آفتاب نے ایک تیکھی نظر اسکے کانپتےہاتھوں پےڈالی جواسکے گریبان تک پہنچ گٸے تھے۔ جبکہ دوسری نظر اسکے چہرے پے کرب کے تاثرات پے ڈالی۔
دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتا اسکی کمر پے باندھتا اسے سینےسے لگاتا اسکی گردن پے جھکا۔
جند جان۔۔۔! کہا تھا ناں۔۔ خان ولا۔۔۔ لاٶں گا۔۔ پورے حق سے تو ۔۔۔تو حق وصول بھی کروں گا۔
کہتے اسکے کان کو لو۔کو حق سے چھوتا پیچھے ہوا۔
کنول کی تو خان ولا پے ہی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گٸیں۔
خان ولا۔۔۔۔؟ وہ اس وقت خان ولا میں تھی۔۔۔
وہی خان ولا۔۔۔ جہاں سے اسکی ماں کو دھکے دے کے باہر نکالا گیا۔۔۔
ہی خان ولا۔۔۔جہاں اسکے وجو کو فراموش کیا گیا۔
ہاں۔۔۔ یہ وہی خان ولا ہے۔۔ خانم کا خان ولا۔۔۔
اور۔۔ کنول۔۔۔۔ اپنا آپ ۔۔۔ مٹا کے یہاں پہنچی تھی۔
آنکھیں بن کیں ۔ تو دو موتی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
اب وقت آگیا ہے۔۔ کہ اس خان ولا میں رہنے الے سب اپنے انجام کو پہنچیں ۔
دل ہی دل میں عہد کیا۔ وہ گہرا سانس لیتی ایک نۓ عزم کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف گامزن ہوٸ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔!
