Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 25)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

آفتاب ۔۔۔۔ رکیں۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔؟؟ کھولیں دروازہ۔۔۔۔۔!

آفتاب اسے اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا تھا۔ اور ایک روم میں بند کر دیا تھا۔ کنول شور مچا رہی تھی۔ لیکن آفتاب کان سی کے وہیں صوفے پے ڈھیر ہوگیا۔

سارے حالات کا ازسرنو جاٸزہ لیا ۔

اسے کنول ہی غلط نظر آٸ۔ اتنےسچ اس نے آفتاب سے چھپاۓ۔۔۔ اب۔۔۔ معافی کی گنجاٸش نہیں رہی تھی۔

آفتاب پلیز۔۔۔ دروازہ کھولیں۔۔۔ ! وہ اب رو دی تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ آفتاب اس کے اس طرح کا برتاٶ گرے گا۔ اسکا دل نجانے کیوں اس شخص کے اس رویہ پے بے حد دکھی تھا۔ جبکہ باہربیٹھا وہ شخص بھی شدید کرب میں مبتلا تھا۔

اسکی آنکھیں آنسوٶں کو روکے رکھنے کی شدت سے حد درجے لال ہو چکی تھیں۔

آج جو سب کچھ ہوا۔ اس کی ماں وہاں نہ تھی۔ وہ ہاسپٹل میں تھیں۔ لیکن اگر ان کے سامنے یہ سب ہوا ہوتا تو۔۔؟؟ کیا سوچتیں وہ۔۔۔ ؟؟ آفتاب نے سر ہاتھوں پے گرا لیا۔ رہ رہ کے اسے کنول کے جھوٹ یاد آرہے تھے۔وہاں سے اٹھا اور اور دراز کھولا۔ اس میں سے کنول کی ڈاٸری نکالی۔ جو اس نے ایک دن کنول کی غیر حاضری میں اسکے کیبن سے اٹھا لی تھی۔

لیکن چاہ کر کے بھی وہ پہلے صفحے سے آگے اسے پڑھ نہ پایا تھا۔ کہ یہ ایک غیر اخلاقی حرکت تھی۔

ابھی بھی ہمت مجتمع کی۔ کہ وہ پڑھ سکے۔ اور اسکا راز جان سکے۔ جبکہنظر پھر سے پہلے صفحے پے ہ جا ٹھہری۔

جہاں ایک نظم تھی۔ وہ نظم ہی تو آفتاب کو کنول کے قریب لے کے آٸ تھی۔

نظریں پھر ان لفظوں پے گردش کرنے لگیں۔

اک بات کہوں گر سنتےہو۔۔!!

تم جھ کو اچھے لگتےہو۔۔۔۔

یہ بات بات پے کھو جانا۔۔۔

کچھ کہتے کہتے رک جانا۔۔

یہ کیسی الجھن میں رہتےہو۔۔۔

ایک بات کہوں گر سنتےہو۔۔۔

ہیں چاہنے والے اور بہت۔۔۔

لیکن۔۔ تم میں ایک بات بہت۔۔۔

تم اپنےاپنے سے لگتے ہو۔۔۔۔

ایک بات کہوں گر سنتے ہو۔۔۔

تم مجھ کو اچھے لگتے ہو۔۔۔

نظم کے آخر میں ایک ہارٹ بنا تھا۔ اور ہارٹ کے اندر ۔۔آفتاب کا نام لکھا تھا۔

یہیں سے آفتاب کو اندازہ ہوا۔ کہ وہ آفتاب کو پسند کرنےلگی ہے۔ لیکن بس چھپا رہی ہے۔۔۔ اور اس کےبعد ہی آفتاب نے کنول سے نزدیکیاں بڑھاٸ تھیں۔ وہ بھی دھیرے دھیرے اس کو چاہنے لگا ۔ اور اس چاہت کا اسے خود بی اندازہ نہ ہوا۔ اور وہ اسکی طرف کھنچا چلا گیا۔

لیکن ہر قدم پے کنول کا ایک جھوٹ۔۔ وہ س سے پاٶں تک اسکےلیے صرف جھوٹ تھی۔ اور جس کو چاہا جاۓ اس کے سامنے انسان اپنا سچ دکھاتا ہے۔۔۔ اپنی اصلیت چھپاتا نہیں۔ لیکن کنول نے اپنا آپ ہر لمحے چھپایا۔ اور رات کو جو ہوا۔۔۔ وہ کے کے۔۔۔ ماسک والی لڑکی۔۔۔؟؟ اس کے بعد آفتاب کا تھوڑا بہت اعتبار جو تھا کنول پے۔ وہ بھی اٹھ گیا۔

صبح کی فجر کی اذان کانو ںے ٹکراٸ۔ ساری رات آنکھوں میں جاگ کے کٹی تھی۔

ڈاٸری کوواپس دراز میں رکھتا وہ اٹھا اور وضوکرتا مسجد کی جانب چل دیا۔ افی دیر بعد جب وہ گھر لوٹا۔ تو کنول کے کمرے میں بالکل خاموشی تھی۔

آفتاب اسکے کمرےکے دروازے کےپاس جا کھڑا ہوا۔ اندر سےہلکی آواز میں کچھ بولے جانے کی آوازیں آرہی تھیں۔

آفتاب نے دھیرے سے دروازہ کھول دیا۔

سامنے ہی کنول فون ہاتھ میں اٹھاۓ کسی سے بات کر ہی تھی۔

اس کےپاس فون دیکھ آفتاب کےاندر جیسے طوفان برپا ہوگیا۔ وہ فون اس نے چھپ کے پاس رکھا تھا۔ جو آفتاب نہیں جانتا تھا۔

آفتاب کو اندر آتا دیکھ۔ کنول کے ہاتھ پاٶں پھولنےلگے۔ موباٸل والا ہاتھ اچانک سے نیچے گرنے لگا ایک بار وہ پھر سے غلط ثابت ہونے جا رہی تھی۔

کنول کی سانس رک گٸ تھی۔

آفتاب نے آگے بڑھتے اسے دیکھتے بنا پلک جھپکے اسکے ہاتھ سے دھیرے سے موباٸل لے کے اپنےکان کے ساتھ لگایا ۔

ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔؟؟ کنول۔۔؟؟ آر یو آل راٸیٹ۔۔؟ کہاں ہو تم۔۔ مجھے بتاٶ۔۔؟؟ میں ابھی تمہیں لینےآتا ہوں۔۔۔!

ایک اور جھوٹ۔۔۔۔! آفتاب کی دماغ کی رگیں تنیں تھیں ۔

دوسری طرف ارسل کی آواز سن کے ایک کٹیلی نظر کنول پے ڈالی۔

جبکہ کنول کے حلق میں گلٹی ابھر کے معدوم ہوٸ۔ وہ اسے یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔ اسکا دل لرز رہا تھا۔ اب وہ اس کے ساتھ کیاکرنےوالا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ساری رات جاگتے سوتےکی کیفیت میں ارباز کی انگاروں پے کٹی تھی۔جب جب اسکی آنکھ لگتی ایک آواز اسے سونے نہ دیتی۔

مجھے برباد کرنےوالے سکون۔۔۔ تمہیں بھی نہیں آۓ گا۔۔۔ یاد رکھنا۔۔ میرا اللہ بہت انصاف والا ہے۔۔ آج جو تم۔نےمیرے ساتھ کیا۔۔ اسکا کفارہ تممر کے بھی ادا نہیں کر پاٶ گے۔ ۔۔۔

وہ روتی آواز۔۔۔۔؟؟ رہ رہ کےاسے اپنے ماضی کا کیا گناہ یاد آرہا تھا۔ وہ گناہ۔۔۔ جو اس نے پوری لاننگ اور پورے ارادے سےکیا تھا۔ اور آج کنول نے اسکے منہ پے اسکا وہ گناہ دے مارا تھا۔

خانم کو کسی طرح سمجھا بجھا کے وہ سلا چکا تھا ۔ لیکن۔۔۔ کنول اسے اپنی یہ پیار بھری دنیا برباد کرتی دکھاٸ دے رہی تھی۔ وہ ماٹیکے گناہکے چھینٹے اپنےحال پے نہیں پڑنے دہنا چاہتا تھا۔ دھیرے سےاٹھا۔۔ایک نظر خانم کے چہرے کی جانب دیکھا۔ جو اسکی کل کاٸینات تھا۔ جسکی خاطر اس نے ہر رشتے سے منہ موڑ لیا تھا۔ صرف ایک اپنےگناہ کی وجہ سے۔۔ اس نے ساری زندگی خانم کی محبت کی غلامی کی تھی۔

ونڈو کےپاس آتے سگریٹ سلگاٸ۔

ایک دن۔۔۔ جب وہ وقت آیا کہ اسکا گناہ ظاہر ہوا۔۔۔ تب خانماس کی ڈھال بنے گی۔۔اسکاساتھ دے گی۔۔۔

اور شاید وہ وقت آگیا تھا۔۔۔ لیکن ۔۔ وہ ابھی بھی بہت کچھ کر سکتاتھا۔۔۔ وہ اس راز کو ہمیشہ کے لیے راز رھ سکتا تھا۔ اور اسکا صرف ایک ہی طریقہ تھا۔ کنول کو راستے سےہٹانا۔۔۔!

یہ سوچ آتے ہی اس نے اپنے اعباری بندے کوکال ملاٸ۔ اور کنول کو مارنے کی پلاننگ کی۔ فون رکھ کےوہ پلٹا تو خانم اسکے سر پےکھڑی تھی۔ اسکے چہرے سے صاف لگ رہا تھا۔ کہ وہ فون پے کی گٸ پلاننگ سن چکی تھی۔

آپ نے ۔۔۔ اسے ۔۔ جان سے مارنے کی پلاننگ کیوں کی بڑے خان۔۔؟ ماتھےپے بل پڑے تھے۔

کچھ لوگوں کی زندگی آسانی سے کٹے۔۔ اسکے لیے کچھ لوگوں کا مر جانا ہی بہتر ہے۔

کہتےہوۓ بستر کی جانب بڑھے تھے۔

لیکن۔۔۔ مارنا۔۔۔؟؟ مسٸلہ کے حل نہیں۔۔۔ خانم کو نجانے کیوں یہ بات بری لگ رہی تھی۔

خانم۔۔۔ جان۔۔! یہ آپ کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ آپ سے یہ امید نہ تھی۔۔! آپ تو میرے ہر معاملےمیں میرا ساتھ دینےوالوں میں سے ہیں۔۔ پھر آج۔۔؟؟

ارباز خان کو خانم کا انداز کھٹکا۔

ننننہیں۔۔۔! میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔! کل۔۔ کنول نے ایسا کیوں کہا۔۔۔ کہ ۔۔ اسکی ماں کی عزت۔۔۔؟ خانم کے ماتھےپے بل پڑے تھے۔ جبکہ ارباز خان کا دل دھڑکا تھا۔

بکواس کرتی ہے۔۔۔! اس گھر سے بے عزت کر کے نکالا۔ اسی کا بدلہ لے رہی ہے وہ۔۔۔!

ارباز خان جو تھوڑا آرام کرنے کی غرض سے لیٹے تھے۔ خانمکی بات پے سختی اور غصہ سے کمفرٹر کو پیچے دھکیلتےہوۓ اٹھ گۓ۔ خانم انہیں الجھےہوٸ نظروں سے دیکھتی رہ گٸ۔ جبکہ وہ اپنے اندر کے راز کو چھپانے اور غبار کو دبانے باتھ روم کا رخ کر چکےتھے۔

کوٸ تو بات ہے۔۔۔جو۔۔ بڑے خان مجھ سے بھی چھپا رہے ہیں۔۔۔!

خانم کا شیطانی دماغ بہت دور تک جا رہاتھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

دیجے کیسی ہیں اب۔۔؟ چشمہ اتار کے ساٸیڈ پے رکھتے تھکے انداز میں پوچھا تھا۔

عباد خان جو رات کو ہی دی جے کے پاس ہاسپٹل جانا چاہتے تھے۔تبسم خان کے منع کرنے پے رک گۓ تبسم اور شہیر رات بھر دی جےکےپاس ہاسپٹل میں ہی رکے تھے۔

اب دی جے کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔

بہت بہتر ہیں!س تھوڑی دیر تک گھر آجاٸیں گے۔

تبسم نے وہیں وارڈ میں دی جے کے پاس بیٹھے کہا تھا۔ جبکہ شہیر ڈسچارج پیپرز بنوانے گیا تھا۔

ٹھیک ہے۔۔۔! میں انتظار کر رہا ہوں۔۔ خان ولا میں کل کیا ہوا۔۔۔؟؟ عباد خان تبسم کو نہ بتا سکے۔ سب جانتےتھے۔ آفتاب کنول کو لے کے گھر سے جا چکا ہے۔ لیکن کہاں۔۔ نہ کسی نےجاننے کی کوشش کی۔ نہ کسی کو کوٸ غرض تھی۔ ایک خاموشی تھی۔۔۔ طوفان سے پہلے کی خاموشی۔

عباد خان رات بھر انگاروں کی لپیٹ میں رہے۔

رہ رہ کے انہیں کنول کے الفاظ تنگ کر رہے تھے۔

بے عزت کرنا۔۔۔ کپڑے پھاڑنا۔۔۔ بے آبرو کرنا۔۔ یہ سب کنول نےکیوں کہا۔۔۔وہ نہیں سمجھ پا رہے تھے۔وہ جاننا چاہتے تھے۔ لیکن۔۔۔ کنول نے ادھ ادھوری بات کی کہ وہ سمجھ نہ پارہے تھے کچھ تو تھا۔۔۔ جو وہ بھی نہیں جانتے تھے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨

آفتاب نے کنول کا موباٸل زور سے سامنے دیوار پے دے مارا کہ وہ کٸ ٹکڑوں مثس تقسیم ہو گیا ۔ کنول سہم کےپیچھے ہٹی۔

آآآ ففففتاااابببب۔۔۔۔! کنول کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔ اس وقت سامنے کھڑا آفتاب کنول کو آفتاب نہ لگا۔۔۔ اسکی لال ہوتی آنکھیں کنول کو بہت کچھ باور کروا رہی تھیں۔

آفتاب نے مڑ کے کنول کو زور سے کلاٸ سے پکڑتے اپنی طرف کھینچا۔ کنول کی کالی آنکھیں اسکی لال انگارہ آنکھوں سے ٹکراٸیں۔

یو نو۔۔۔۔! میں تمہیں جو سمجھتا تھا۔۔۔ تم اس سے بھی کٸ زیادہ دھوکے باز ہو۔۔۔! بلکہ۔۔۔۔ تم تو۔۔ میری چاہت میری محبت کے قابل ہی نہیں۔۔ اور میں تمہیں اپنا جنون بنا بیٹھا۔۔۔ آفتاب کا لہجہ پھنکارتا اور دکھ بھرا تھا۔ کنول اپنی صفاٸ میں کچھ بول ہی نہ پاٸ۔

لیکن ۔۔اب بس۔۔۔!

جب کوٸ آپ کا نہیں۔۔۔

لاکھ محبت کے بعد بھی آپ کا نہیں۔۔

تو۔۔ وہ آپ کا کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔۔

ہر لفظ پے زور دیتا وہ کنول کی کلاٸ پے گرفت سخت کرتا بے دردی سے بولا۔

آ۔۔۔فتاب۔۔۔۔؟؟ کنول نے زبان کھولنا چاہی۔

آفتاب نے اسے کھینچ کے بہت قریب کر لیا۔ ایک شدت تھی اس کے ہر انداز میں۔۔

ماتھےکے ساتھ ماتھا ٹکاتے وہ اندر کا غبار دباتا وہ مسلسل خود کو شانت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جبکہ اس کے اندر ایک آگ لگ گٸ تھی۔ وہ ارسل سے رابطے میں تھی۔ اسکے پاس موباٸل تھا۔ جو اس نے چھپا کے رکھا تھا۔ وہ کیسے اس پے اعتبار کرتا۔۔ سب کچھ ہی بکھیر کے رکھ دیا تھا۔ کنول نے۔۔ اب سمیٹنا ناممکن سا لگ رہا تھا۔ کنول اسکے اس عمل کو بھی چاہت سمجھنے لگی۔

آگے بڑھ کے آفتاب کے چہرہ کو دونوں ہاتھوں سے تھامنا چاہا۔ کہ آفتاب نے زور سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ اور نفی میں سر ہلاتا۔اسے باہر کھینچتا لے کے آیا ۔

سب ختم۔۔۔ گلے شکوے شکایتیں سب ختم کنول۔۔۔آج سے تم آزاد ہو ۔۔۔ میں سب معاف کردوں۔۔ ہر راز۔۔۔ ہر جھوٹ۔۔۔ ہر دھوکا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ بے وفاٸ۔۔۔۔۔؟؟ نہیں معاف کرسکتا۔۔۔

اسکا درد بھرا لہجہ محسوس کرتے کنول کو بھی اپنے اندر درد کی ٹھیسیں اٹھتی محسوس ہوٸیں۔

آفتاب ۔۔میری بات۔۔۔؟؟

کچھ نہیں سننا اب۔۔۔ بہت مواقعےدیٸے۔۔۔ یہی سوچا۔۔ اب مجھے تم۔۔ سب کچھ بتاٶ۔۔۔ اب بتاٶ۔۔ گی۔۔ ہر راز بتاٶ۔۔ گی۔۔۔! لیکن۔۔ نہیں۔۔۔! جب تم مجھ پے اعتبار ہی نہیں کرتی۔۔تو پیار کیا کرو گی۔۔؟؟ تم کیا جانو ۔۔پیار کیا ہے۔۔۔ ! کنول۔۔۔ ! تم۔جانا چاہتی ہو ناں۔۔۔!

کہتے ہوۓ گھمبیر آواز۔۔ کنول کو رلا گٸ۔ نفی میں سر ہلاتی اسکے پاس آنا چاہا۔

تو آج۔۔ جاٶ۔۔ چلی جاٶ۔۔۔ آزاد ہو تم۔۔۔! جہاں جانا ہے جاٶ۔۔ ارسل۔۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ اسکی زبان لڑکھڑاٸ۔۔۔

ارسل کے پاس جانا ہے۔۔جاٶ۔۔۔! نہیں رکوں گا۔

لیکن۔۔۔۔۔! انگلی اٹھا کے غصیلی آواز میں اسے دیکھتا وارن کرنے لگا۔

لیکن۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔ میری فیملی کے ۔۔کسی بھی۔۔۔ کسی بھی۔۔۔ انسان کو۔۔ تم۔نے زرا سا بھی۔۔۔ نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔۔ تو۔۔ آج ۔۔۔ جو زندہ جانے دے رہا ہوں۔۔تو اگلے پل۔۔ یہ سانسیں کھینچ لوں گا۔

ہاتھ کی مٹھی بند کرتے مضبوط انداز میں کہا۔

کنول نے سختی سے اپنے گالوں پے آۓ آنسوٶں کو صاف کیا۔

ایک ہی رشتہ بچا تھا اسکے پاس۔ آج وہ بھی۔۔ اس سے چھن گیا۔

آفتاب۔۔۔! آپ نے مجھے۔۔ اپنی صفاٸ کہنے کا ایک موقع بھی نہیں دیا۔۔۔ اور۔۔ آپ کے الفاظ۔۔؟؟ اسکے بعد اب۔۔۔ کسی بات کی کوٸ گنجاٸش بھی نہیں رہی۔کنول دکھ سے کہتے آفتاب سے دور ہوٸ۔ کہ آفتاب نے کھینچ کے اسے واپس اپنے قریب کیا۔

ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ بھول کے بھی دوبارہ۔۔ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔ ورنہ۔۔۔ جو میں نہثس کرنا چاتا وہ بھی کر گزروں گا۔۔۔

کہتے ساتھ ہی باہر کی طرف دھکا دیا۔ وہ گرتے ھرتے بچی۔ آنسوٶں کی شدت میں اضافہ ہوا۔ اور بنا پلٹے

قدم باہر کی جانب بڑھا دیے۔ وہ گھر کی دہلیز پار گٸ۔

اس کے جانے پے آفتاب اندر ہی اندر بہت لڑا تھا خود سے۔ ہر چیز اٹھا کے پھینکی تھی اس نے۔ سب کچھ تیس نہیس کر دیا تھا۔ لیکن انر کا غبار کم نہیں ہو رہا تھا۔

وہیں وہ بیٹھا اور بیٹھتا چلا گیا۔

وہ مضبوط اعصاب کا مالک شخص رو رہا تھا۔ آج اد نے اپنی پہلی محبت کھو دی تھی۔ اسے نکال دیا تھا۔ اپنے گھر سے اپنی زندگی سے۔۔! لیکن ۔۔ دل سے ؟؟ وہ نہیں نکال پا رہا تھا۔

سیانے صحیح کہتے ہیں۔ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔ آج آفتاب کے غصہ نے سب برباد کردیا تھا۔ غصہمیں وہ صحیح اور غلط کا فرق مٹا گیا تھا۔ اسکا شدید غصہ آج اسے۔۔ اپنی محبت سے دور کر گیا تھا۔ اس نے یہ نہ کیا کہ ایک بار کنول کو بولنےکا موقع ہی دے دیتا۔۔یا۔۔ وہ ڈاٸری پڑھ لیتا۔۔ تو شاید۔۔ یہ سب نہ ہوتا۔

وہ جان گیا تھا۔۔۔ کنول اور کے کے کا سچ

لیکن نہیں جان پایا تھا۔ تو عباد اور کنول کا سچ۔۔۔ !

وہ جانتا تھی تھا تو آدھا سچ۔۔۔ اور ادھوری باتیں تو ۔۔ ادھورے سوال اور ادھورے جواب۔۔ ہر رشتے کو توڑنے کی بنیاد بنتے ہیں۔۔ آج اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔

وہ ایک دم کچھ یاد آنے پے اٹھا۔ جس کمرے میں کنول کو قید کیا وہ سارا کمرہ اس نے چھان مارا۔ لیکن۔۔ اسے اپنی مطلوبہ چیز نہ ملی۔ اور وہ۔۔۔ اسکی گن تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨

فیاض سلطان بالکل راضی نہ تھے اس اچانک رخصتی کے لیے۔ لیکن بیٹے کی ضد کے آگے انہیں ہار ماننی پڑی۔ وہ چاہتے تھے۔ شہیر اور انابیہ ی جے کے ساتھ آجاٸیں۔ لیکن آج ہی انہیں دی جے کے بیمار ہونے کا پتہ چلا تھا۔ تو وہ ے چین ہوگٸے تھے۔

یہی حال جمیلہ خاتون کا تھا۔ انہیں اپنی ماں کے بیمار ہونے کا دکھ تھا۔ وہ یہاں تھیں۔ تو وہکٸیر کرتی تھیں۔ اب انہوں نےانابیہ کو ہی سب کچھ کرنے کا کہا تھا۔

اللہ رحم کرنے والا ہے۔ گہرا سانس خارج کرتے فیاض صاحب بولے تو جمیلہ خاتون نے اثبات میں سر ہلایا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ۔

کہ تبھی میکال اور فضا اندر داخل ہوۓ۔ اور مشترکہ سلام کیا۔

وَعَلَيْكُم السَّلَام ،،، کیسی طبعیت ہے اب۔۔؟؟ جمیلہ خاتون نےدونوں کو باری باری پیار کرتے فضا سے پوچھا۔

رہتے تو وہ ایک ہی گھر میں تھے۔ لیکن پورشنز الگ الگ تھے۔ اور فضا کے امید سے ہونے پے گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گٸ تھی۔

الحَمْدُ ِلله امی۔۔۔! آپ کی آنکھیں بھیگی کیوں ہیں۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟ فضا ایک دم سے پریشان ہوٸ۔

نہیں بیٹا۔۔۔ بس وہ۔۔۔ یونہی ۔۔ دی جے یاد آگیں۔۔ آپ کی والدہ محترمہ کو۔

فیاض صاحب نے ماحول کو خوشگوار کرتے کہا ۔

اوہو۔۔۔۔! آپ فون پے بات کریں ناں۔۔ پیار سے ماں کا ہاتھ تھامتے کہا ۔ تو جمیلہ خاتون فضا کی اتنی پرواہ پے مسکرا دیں۔

میکال نے رخصتی کی بات چھیڑ دی۔ تو باتوں کا رخ اسطرف چلا گیا۔ اور رخصتی کے حوالے سے تیاری کے متعلق باتں شروع ہوگٸیں۔ جس میں فضا نے بہت ایکساٸٹڈ ہوتے حصہ لیا۔ جبکہ میکال اپنی زوجہکو یوں خوش ہوتا دیکھ اسکےبھرے بھرے گلابیگالوں کو دیکھ ایک ہارٹ بیٹ مس کی۔ فضا کو دیکھ اسکا چہرہ ہی ہیں اسکی آنکھیں بھی مسکراتی تھیں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تبسم بیٹا۔۔۔! کنول۔۔ کو بلا لاٶ۔۔۔ !

نخیف آواز میں کہا تو پاس آکے بیٹھی انابیہ چونکی۔

خان ولا پہنچتے ہی دی جےکو بس کنول سے ملنا تھا۔

انکا دل بہت بے چین تھا۔

لیکن۔۔۔ وہ تو۔۔ چلی گٸیں۔۔۔! اچانک سے انابیہ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ دی جے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ شہیر کے ماتھے پے بھی بل پڑے۔

اندر آتے عباد خان کے قدمبھی وہیں تھمے۔

کیا مطلب۔۔۔۔کہاں گٸ ہو۔۔؟؟ دی جے نے گھبراۓ ہوۓ پوچھا۔

وہ۔۔۔ آفتاب بھاٸ کے ساتھ۔۔۔! انابیہ کچھ مزید کہتی کہ شہیر نے اشارے سے باز رکھا۔

شہیر دی جے کی طبعیت کو لے کے آگے بہت پریشان تھا۔ مزید کچھ بھی ایسا کہنا انکی طبعیت مزید خراب کر سکتا تھا۔

آفتاب کے ساتھ ۔۔؟؟ لیکن کیوں۔۔؟؟ دیجے کےماتھےپے بل پڑے۔

دیجے۔۔۔ میاں بیوی ہیں ۔ گٸے ہوں گے کہیں۔ میں پتہ۔۔۔۔؟

کیا مطلب۔۔؟ کنول۔۔۔ اور آفتاب کی شادی۔۔۔؟؟ کب۔۔۔ہوٸ۔۔؟؟ وہ بہت اپ سٹ ہوٸیں۔

تبسم کی بات ادھوری رہ گٸ۔ دی جے کی بات پے وہ چپ ہی ہو گٸیں۔

دیجے آپ آرام کریں۔۔ باقی باتیں ٹھہر کےکر لیجیے گا۔

شہیر نےٹوکا ۔ تو وہ شش و پنج میں پڑتے سب کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے تبسم کی جانب مڑیں۔

آفتاب کو فون کرو۔۔۔ تبسم۔۔۔! میرا ۔۔دل گھبرا رہا ہے۔ ۔۔ اسےکہو۔۔۔ کنول کو لےکے آۓ۔۔۔ فوراً۔

دیجے پریشانی اور تھوڑا سختی سے کہا ۔

تبسم خان کو کنول کو لےکےانکی اتنی پوسیزنیس سمجھ نہ آٸ۔جبکہ اثباتمیں سر ہلاتیں وہ اٹھیں تھیں ۔

اسی لمحے عباد خان اندر آۓ۔

اب کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ نظریں جھکاۓ پوچھا۔ ماں تو وہ بول ہی نہیں سکتےتھے۔ کیونکہ ماں کہنے کا حق وہ بہت پہلے چھین چکی تھیں۔

شہیر۔۔۔۔ اسے کہہ دو۔۔یہ یہاں سے چلا جاۓ۔۔۔ مجھے نہیں دیکھنی اس کی شکل۔!

آنکھیں موندے بنا عباد خان کو دیکھے کہا تو وہ لب بھینچے باہر نکل گۓ۔

جبکہ ارباز خان اور خانم ایک بار بھی ملنے نہ آٸے۔ انابیہ انکے لیے سوپ بنانے کچن میں چلی گٸ۔ ہیر بھی اسکے پیچھے ہی چلا آیا ۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔

آفتاب بھاٸ کب لے کے گۓ کنول بھابھی کو۔۔؟ شہیر نے فریج سےپانی کی بوتل نکالتے استفسار کیا ۔

شہیر۔۔۔! آپ نہیں جانتے۔۔۔ یہاں کیا تماشا ہوا۔۔

انابیہ نے گہرا سانس خارج کرتے شہیر کو سب کچھ بتا دیا وہ سر پکڑ کے وہیں بیٹھ گیا ۔

مطلب۔۔۔۔کنول بھابھی۔۔۔ عباد انکل کی بیٹی ہیں۔۔؟؟ اور ۔۔۔ یہ بات۔۔آج تک راز ہی رکھی گٸ۔۔۔! شہیر کے ماتھے پے بے شمار بل پڑے۔

شہیر۔۔۔! آپ آفتاب بھاٸ کو فون کر کے پوچھیں۔ وہ کہاں لے کے گٸے ہیں۔ کیونکہ وہ بہت غصہ میں نکلے تھے۔

انابیہ نے وہیں شہیر کےپاس بیٹھتے بہت نرم لہجے میں کہا۔

ہمممم۔۔۔۔۔ شہیر کہتا وہاں سے اٹھا۔موباٸل پے نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔

آپ کے لیےکھانا لگاٶں؟ انابیہ کی آواز پے وہ زرا کا زرا مڑا تھا۔

ہمممم۔۔ روم میں لے آٶ۔ گہری نظروں سے اسکا جاٸزہ لیتے وہ آگےبڑھا۔ جبکہ ایک آسودہ سی مسکراہٹ نے انابیہ کے لبوں کق چھوا۔

رانو کے ساتھ مل کے اس نے جلدی سے سب کچھ تیار کیا۔

سوپ دی جے کو پلانے کے بعد وہ شہیر کے لیے کھانا لیے روم میں آٸ۔

یار۔۔۔ کب سے فون کر رہا ہوں۔۔ آفتاب بھاٸ اٹھا نہیں رہے۔ موباٸل سایٸڈ پے رکھتے وہ انابیہ کی طرف متوجہ ہوا۔

اچھا۔۔۔آپ کھانا کھاٸیں۔

انابیہ نے پیار سے کہا۔

آج اپنے ہاتھ سے کھلا دیں۔۔ مسز ۔۔شہیر خانزادہ۔۔۔!

گھمبیر لہجے میں کہتے وہ انابیہ کو گود میں بٹھاتا لاڈ سے بولا۔

شہیر۔۔۔۔! آپ بھی ناں۔۔۔! انابیہ نے نوالہ توڑ کے شہیر کے منہ میں ڈالا۔

شہیر نے مسکراتے اپنے لب انابیہکے گال پےرکھے۔ انابیہ کا دل بہت زور سے دھڑکا۔

شششہییر۔۔۔۔! کھانا۔۔۔؟؟ کھانا وہاں سے اٹھا کے ساٸیڈ پے کرتا۔ شہیر بے اختیار ہوتا انابیہ کےلبوں پے جھکا۔

جب سامنے اتنے مزےکی سویٹ ڈش ہو۔۔۔ تو کھانا کون کھاۓ۔۔؟؟

اپنےلبوں پے زبان پھیرتے وہ پیچھے ہٹا۔

بہت۔۔۔ بے شرم ہو گۓ ہیں آپ۔۔۔! انابیہ پیار بھری خفگی سے دیکھتے بولی۔

ابھی دیکھی کہاں آپ نے ہماری۔۔۔بے شرمی۔۔۔! کہتے ہی اٹھا اور فوراًسے انابیہ کو بانہوں میں بھرتا بستر پے لایا۔ اور اس کی چھوٹی سی مزاحمت کو نظر انداز کرتا اس پے جھکتا چلا گیا۔

انکی محبت جیسے جیے بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ امتحان بھیاتنا سخت دینے والے تھے۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آفتاب ارسل کےگھر میں داخل ہوا۔ اسے یہی شک تھا۔ کہ کنول یہیں آٸ ہوگی۔

لیکن اندر سے آتی آوازیں سن وہ وہیں رک گیا۔

آپ اس حد تک گر جاٸیں گے۔۔مجھے نہیں تھا پتہ۔۔۔ ! آپ جانتےہیں ۔۔اب وہ میرے بھاٸ کی بیوی ہے۔۔ پھر بھی ۔۔آپ اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔

عظمی روتےہوۓ دکھ سے بولی ۔

عظمی! اب اگر ایک اور لفظ تم نے کہا تو مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔۔۔

ارسل غصے سے آگے بڑھا۔

اچھا۔۔۔ کیا کرلیں گے آپ۔۔۔؟؟ عظمی بھی غصے سے آگے بڑھی۔

ہم عورتیں اپنی ساری زندگی آپ مردوں پے تیاگ دیتی ہیں۔۔اور آپ۔۔ مرد۔۔۔ ایک منٹ میں بے وفاٸ کر جاتے ہیں۔۔ بنا ہمارے جذبات کی پرواہ کیے۔۔۔!

آنسو پونچھتے وہ ضبط کرتی بولی۔

پفتاب واپس پلٹنے لگا تھا۔ وہ میاں بیوی کے درمیان نہیں بولنا چاہتا تھا۔ لیکن مزید بات نہ بگڑے وہ پھر سے انکی طرف پلٹا۔

کونسی بے وفاٸ کی ہے میں نے۔۔؟ بولو۔۔۔ ؟ عظمی کو بازو سے پکڑ کے زور سے جھٹکتے پوچھا۔

آپ اور کنول۔۔؟؟

بس۔۔۔! ایک لفظ اور نہیں۔۔ ورنہ۔۔۔ میں جو نہیں کہنا چاہتا وہ بول دوں گا۔

غصے سے بھری آنکھیں۔ آفتاب کولگا وہ زلزلوں کی زد میں آگیا ہو۔۔۔ جو الفاظ اس نے کنول کو بولے تھے۔ وہی اسکی بہن کو واپس پلٹے تھے۔ وہ کنول کی تلاش میں آیا۔ یہاں بہن کا گھر اجڑتے دیکھ رہا تھا جبکہ کنول تو شیرنی تھی۔۔ جو اپنا شکار کرنےگٸ تھی۔

یہ تو وقت نے طے کرنا تھا کہ کون کس کا شکار کرتا تھا۔۔۔

ارباز خان کا شوٹر۔۔۔؟

یا کنول۔۔۔ ؟

یا ۔۔۔اس سب میں کے کے چلنے والی ہے کوٸ چال۔۔۔؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *