Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 07)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

آپ یہاں؟ انا شہیر کو دیکھتی ٹھٹھکی۔

ہاں۔۔ وہ فضا آپی کی طبعیت اچانک خراب ہوگٸ تھی۔ تو وہ انہیں ہاسپٹل لے کے گۓ ہیں۔ آپ چلیں ۔۔ میرے ساتھ۔ کہتے ہی شہیر نے بہت سنجیدگی سے قدم آگے بڑھاۓ۔

فضا آپی کی طبعیت؟ اچانک کیا ہوا انہیں؟ موباٸیل پے کال ملانے لگی تو یاد آیا۔ موباٸل تو فضا کے ہی پاس رہ گیا ۔

پیٹ درد ہوا اچانک۔ خیر۔۔ باقی کی انویسٹیگیشن گھر چل کے کر لیجے گا۔

شہیر نے میٹھا سا طنز کیا۔ تو وہ انا ایک نظر اسے دیکھتی خاموشی سے اسکے ساتھ ہولی۔

گاڑی میں بیٹھنے تک دونوں ہی خاموش رہے۔

سیٹ بیلٹ۔۔ باندھ لیں۔

شہیر نے بنا اسکی جانب دیکھے کہا ۔

انا نے چونکتے سر اثبات میں ہلایا اور سیٹ بیلٹ کھینچا۔ لیکن۔۔۔ وہ ہاتھ ہی نہ آیا ۔

یہ۔۔۔ یہ خراب ہے۔ منہ بناتے ماتھے پے بل ڈالےکہا۔

ٹھیک سےلگاٸیں۔ شہیر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے کہا۔

میں غلط کہہ رہی ہوں؟ خود دیکھ لیں۔۔

انا نے منہ بگاڑ کے کہا۔

شہیر نے مڑ کے ایک نظر اس بھوری آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا۔ اور آگے بڑھتے سیٹ بیلٹ نکالی۔

اس ایک لمحے انابیہ نے اپنا سانس روک لیا۔

وہ جھکا بیلٹ نکالتا پیچھے ہونےکو تھا۔ کہ اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھتے کھو سا گیا۔

گلابی گال دھک اٹھے تھے۔ کپکپاتےگلابی لب شہیر کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ اسکی سانسوں کی خوشبو میں وہ بہکا تھا۔ کہ اسی لمحے انا نے آنکھیں میچ لیں ۔ اسکا وجود لرز رہا تھا۔

شہیر نے سیٹ بیلٹ ٹاٸ کرتے گہرا سانس خارج کیا۔ پیچھے ہوتا وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا ۔

کچھ ہی دیر بعد انا نے اپنی آنکھیں کھول لیں۔ کن اکھیوں سے ساتھ ڈراٸیونگ کرتے شہیر کو دیکھا ۔ جسکا پورا دھیان ڈراٸیونگ پے تھا۔ وہ اسکے چہرے سے کوٸ آٸیڈیا نہیں لگا پاٸ۔ اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔

انا نے بھی گہرا سانس خارج کیا اور باہر روڈ پےبے ہنگم ٹریفک دیکھنےلگی۔

زرا نہیں بدلی۔ آج بھی بالکل ویسی ہی ہو۔۔۔

شہیر نےبنا اسکی جانب دیکھتےدھیمے لہجے میں بات شروع کی۔ انا نے ایک نظر اسے دیکھا۔ پھر سے سامنے دیکھنے لگی ۔

کیا بدل جانا چاہیٸے تھا؟ الٹا سوال کیا۔

بدلنے کے لیے وجہ تو تھی۔۔۔ دس سال۔۔۔؟؟ لاتعلقی۔۔۔ کبھی سوچاہ تو ہوگا۔۔۔ چھوڑنے کا۔۔؟؟

شہیر کے اتنے واشگاف الفاظ میں کہنے پے انابیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں ۔

کیا ہوا۔۔؟؟ غلط کہا میں نے؟ ایک اچٹتی نظر ڈالی ۔

انابیہ نے رخ پھیرا۔

ایسا۔۔ کچھ نہیں۔۔! انابیہ کا نظریں چرانا۔۔۔ شہیر کو اسکےسوال کا جواب مل گیا۔ اسٹرینگ پے گرفت مضبوط ہوٸ۔ تو سپیڈ بریکر پے بھی پاٶں کا دباٶ بڑھا۔

گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔ انابیہ کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے بچا۔

گاڑی کیوں۔۔۔؟؟ روکی۔۔۔؟؟

کیا سوچا تھا۔۔؟؟ چلو نہیں آۓ گا۔۔ تو جان چھوٹی۔۔ ؟؟ اسے چھوڑ کے کوٸ اور۔۔؟؟

کیا بولے جا رہے ہیں؟ کوٸ احساس ہے آپ کو؟ انابیہ نے بھی بیچ میں بات کاٹی۔

شاید احساس ہی مر گیا ہے۔۔ وہ محبت کا احساس جو بچپن سے اس دل میں تھا تمہارے لیے۔۔ وہ۔۔۔ شاید۔۔ وہ مر گیا ہے۔۔۔

انابیہ اس کے اس اظہار پے بہت بری طرح اپ سیٹ ہوٸ۔

نظریں جھک سی گٸیں۔ کیا۔۔ وہ۔۔۔۔مجھ سے۔۔محبت؟

یہیں آکے وہ اٹک گٸ۔

جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔۔ اگر ایسا ہوتا۔۔تو۔۔ یوں لاتعلق نہ ہوتے۔

لاتعلق ہوا تھا۔ دل کا رشتہ نہیں توڑا تھا۔ ایک مضبوط بندھن میں باندھ کے گیا تھا۔

شہیر نے بھی اسکی بات اچکی۔

مضبوط بندھن؟ اسے آپ مضبوط بندھن کہتے ہیں؟

کاغذ کا رشتہ ؟؟؟

کیا بولے جا رہی ہو؟ کاغذ کا بندھن نہیں تھا۔ وہ۔۔ نکاح کیا ہے تم سے۔ ۔

شہیر کو اسکی بات ناگوار گزری۔

نکاح۔۔۔؟؟ نکاح کر کے بھول گۓ۔۔۔ انابیہ تلخ ہوٸ۔

بھولا ہوتا تو آج یہاں نہ ہوتا۔ دانت پیستےکہا۔

آج آپ یہاں ۔۔ اپنی دی جے کے لیے آٸے ہیں۔ انابیہ سلطان کے لیے نہیں۔ انابیہ کی آواز دھیمی لیکن لہجہ نم تھا۔

انابیہ سلطان نہیں۔۔ انابیہ شہیر خانزادہ۔۔۔

شہیر نے تصحیح کی۔ تو اس نام پے انابیہ کے دل کی دھڑکن نے شور مچایا۔

پلکیں لرزیں تھیں۔

پلیز۔ گاڑی ۔۔ اسٹارٹ کریں۔ سب ۔۔ویٹ کر رہے ہوں گے۔۔

شہیر کی باتیں کرتی آنکھوں سے بچنے کے لیے سر جھکا کے وہ بولی۔

ہرگز نہیں۔۔ پہلے۔۔ میری بات کا جواب دو۔۔! الگ ہونا چاہتی ہو مجھ سے؟

شہیر تو آج آر پار کرنے کے چکر میں تھا۔

کیوں۔۔؟ کیوں ایسے فضول بولے جا رہے ہیں؟ جو۔۔ جو میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ وہ آپ۔۔ کتنی آسانی سے کہہ گۓ۔

انابیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گٸیں۔

تو پھر۔۔ اس گریز کی وجہ؟ شہیر کو اسکی بات سے گونا سکون محسوس ہوا۔ لیکن اپنی بات جاری رکھی۔

انابیہ نے اپنے پھولے ہوۓ گلابی گالوں سے آنسوٶں کو صاف کیا۔

آپ۔۔۔؟؟ جانے کے لیے آٸے ہیں۔۔ !! تو۔۔۔ ؟؟

کس نے کہا؟ جانے کے لیے آیا ہے شہیرخانزادہ؟

آگے ہوتے جھک کے گھمبیر لہجے میں کہا۔ انابیہ تو بس اسے دیکھتی رہ گٸ۔

شہیر خانزادہ اپنی منکوحہ کو ہمیشہ کے لیے رخصت کروا کے لے جانے کے لیے آیا ہے۔

مزید قریب ہوتے پورے یقین سے کہا۔

آپ۔۔۔سچ۔۔؟؟؟ أنابیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸ۔

بالکل سچ۔۔۔!سرگوشی میں کان میں کہتے وہ انابیہ کو سمٹنے پے مجبور کر گیا۔

انابیہ نے جھرجھرلی۔

اپنے حواس قاٸم رکھے۔

آپ کی مما ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گٸیں ۔

کہتے ہوۓ بھوری آنکھوں سے اس دیوانے کو دیکھا۔

کیوں؟ انہیں کیا مسٸلہ۔۔؟؟ جب نکاح ہوگیا ہے تو ؟ شہیر کے ماتھے پے بل پڑے۔ انابیہ طنزیہ ہنسی ہسی۔

آپ یہاں آۓ۔۔ ایک بار۔۔۔ایک بار بھی آپ نے جاننے کی کوشش کی ۔۔ کہ دی جے یہاں پے کیوں ہیں؟ خان ولا کیوں نہیں؟

انابیہ کے لہجے میں تلخی تھی۔

جاننے ہی آیا ہوں۔۔اور دی جے کو لینے بھی۔

مضبوط اندازمیں کہا۔ اور گاڑی اسٹارٹ کی۔

جی۔۔جیسے وہ تو تیار بیٹھیں ہیں۔ آپ کہیں گے اور وہ چل دیں گیں۔

پھر سے چڑتے ہوۓ طنز کیا۔

مجھے سب کو ہینڈل کرنا آتا ہے۔ ۔۔کہتے ساتھ ایک آنکھ ونک کی۔ انابیہ نے منہ بنایا۔

ویسے یہ سالے صاحب کیوں مجھ سے چڑ کھاتےہیں؟ ان کا کیا بگاڑا ہے میں نے؟

لگے ہاتھ انابیہ سے یہ بھی پوچھ لیا۔

آپ خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انابیہ نے پھر سے منہ بگاڑ کے کہا۔

ہم۔مممم۔۔ چلو۔۔ یہ بتاٶ۔۔ مسز کیوں خفا خفا ہیں؟

اسکے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھتے نرمی سے پوچھا۔ انابیہ جو اتنی مشکل سے دل کو سنبھال پاٸ تھی۔ پھر سے دھڑکن منتشر ہوٸ۔

کیوں؟ناراض ہونے کا حق نہیں؟ انابیہ نے الٹا اس سے سوال کیا۔

حق۔۔۔؟؟ شہیر زیرلب دہرایا۔

سارے حق ہی تو دینے آیا ہوں۔۔۔! معنی خیزی سے کہتے وہ انابیہ کو شوخ نظروں سے دیکھتا بولا۔ انابیہ نے فوراً گھبرا کے رخ دوسری جانب کیا۔ جہاں اب باہر بہت زوروں سے بارش ہورہی تھی۔

موسم نے عجیب ہی ایک دم پلٹا کھایا تھا۔ کہ گرمی کے موسم میں بارش پورے زور و شور سے برس رہی تھی۔

بے موسمی بارشیں۔۔۔؟؟؟ انابیہ زیرِلب بولی۔

اللہ کا کرم ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

شہیر کی بات پے انابیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

بے شک۔۔۔

ساتھ ہی گاڑی جھٹکے کھاتی رکتی چلی گٸ۔ شہیر نے گاڑی سڑک کے ایک ساٸیڈ پے روکی۔ بلکہ وہ خود ہی رک گٸ۔

اسٹارٹ کرنا چاہی نہ ہوٸ۔۔ ایک بار دو بار۔ لیکن ہر بار ناکامی۔۔۔

اسے۔۔ اسے کیا ہوا۔۔؟؟ اچانک؟ انابیہ بوکھلاٸ۔

کیا پتہ؟ شہیر کے ماتھے پےبل پڑے۔

میں دیکھتاہوں۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے کہا ۔

کیا دیکھیں گے۔۔؟؟ باہر اتنی زورکی بارش ہورہی ہے۔

انابیہ نے روکا۔ شہیر کی نظریں اس پری پیکر چہرہ پے اٹھیں۔ وہ ناراضگی میں بھی اسکی پرواہ کر رہی تھی۔

نمک کا نہیں بنا۔ کہ پگھل جاٶں گا۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔ ڈونٹ وری۔

شہیر نے نرمی سے کہا۔ تو انابیہ چپ ہوگٸ۔

شہیر نے گاڑی کا بونٹ اٹھایا۔ چیک کرنے لگا۔ لیکن اتنی تیز برستی بارش نے اسے موباٸیل کی روشنی میں کچھ بھی دیکھنے نہ دیا۔

کافی دیر انتظار کے بعد انابیہ بھی باہر نکل آٸ۔

کیا ہوا۔۔؟؟ بمشکل بولتے وہ آگے ہوٸ۔

تم باہر کیوں آٸ۔

بارش کی برستی تیز بوندوں نے پل میں انابیہ کو بھگو دیا تھا۔

انابیہ نے ادھر ادھر دیکھا کوٸ زی روح کا نام و نشان نہ تھا۔ خالی سڑک اور اردگرد درختوں کے انبار۔

انابیہ کو خوف محسوس ہوا۔

چلیں یہاں سے۔۔۔ انابیہ نے شہیر کو بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ دونوں ہی بری طرح بھیگ چکے تھے۔

نکلیں یہاں سے پلیز۔۔۔! انابیہ نے پھر سے اسکا ہاتھ تھاما۔

دونوں گاڑی میں آبیٹھے۔ انابیہ اس اتنی تیز بارش میں لرز کے رہ گٸ تھی۔

شہیر نے میکال کو کال ملاٸ۔ لیکن نان ریچ ایبل۔

آ۔۔۔۔آپپ۔۔۔ کو راستے کا علم تھا۔۔؟؟ کہیں بھول تو نہیں گٸے ؟

انابیہ نے لرزتے ہوۓ کہا۔

یار۔۔ ! میری یاداشت اتنی کمزور نہیں۔ دس سال گزرنے کے بعد اپنی منکوحہ کی شکل یاد رکھ سکتا ہوں تو یہ تو۔۔ صرف راستہ ہے۔

شہیر نے سرسری انداز میں کہتے ایک گہری نظر انابیہ پے ڈالی۔ جو لرز رہی تھی۔

دوردور تک۔۔ کچھ بھی دکھاٸ نہیں دے رہا۔ سب گھر والے پریشان ہوں گے۔

اب کیا کریں گے؟ انابیہ پریشان ہوٸ۔

اللہ کو یاد۔۔! شہیر نے گہرا سانس خارج کرتے موبٸل کو ڈیش بورڈپے اچھالا۔

یہ۔۔یہ۔۔ گاڑی۔۔نیو لی تھی ناں آپ نے؟ انابیہ کو فوراً یاد آیا تو گھوری ڈالی .

ہاں۔۔۔ بالکل۔۔ایک دم نیو۔۔؟؟ شہیر اسکی بات پے حیران ہوا۔

لگتا تو نہیں۔۔۔!! انابیہ نے نظریں گھماٸیں۔

شہیر کو پہلے تو سمجھ نہ آٸ بات۔ جب سمجھ آٸ تو اسکی جانب مڑا۔

میں نے پے منٹ نیو گاڑی کی ہی کی تھی۔ لیکن۔۔لاہور ہے ناں یہ۔۔۔!کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔ تھوڑے ٹھگ باز ہیں۔یہاں۔

اوہ ہیلو۔۔۔۔! خبردار جو ہمارے لاہور کو کچھ بھی کہا ہو تو۔۔آپ کے کراچی میں ہوں گے ٹھگ شگ۔ ہمارے لاہور والے زندہ دل اور مہمان نواز ہیں۔سمجھے آپ۔

انابیہ سے کہاں برداشت ہوٸ لاہور کی براٸ۔ فوراً دفاع کیا۔

ہمممممم۔۔۔ ابھی تو ایک بھی لاہوری نظر نہیں آرہا۔۔۔؟؟ شہیر نے مزاق اڑایا۔

گاڑی جو کراچی والا چلا رہا تھا۔

برجستہ جواب آیا۔ تو شہیر لاجواب ہوگیا ۔

مطلب۔۔ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ زہین بھی تھی۔

اچھا۔۔۔ تو میری سمجھدار منکوحہ۔۔ پھر آپ بتاٸیں اس وقت کیا کرنا چاہیے؟

بہت پیار سے اسکی جانب دیکھتے پوچھا۔ کہ اتنے میں کسی نے زور سےانابیہ کی طرف سے گاڑی کے دروازہ کو پیٹا۔ اور پیٹتا چلا گیا۔ انابیہ ڈر کے شہیر کی طرف ہوگٸ۔ شہیر بھی ماتھے پے بل ڈالے باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧

اتنی دیر ہوگٸ۔ ابھی تک نہیں آۓ دونوں۔؟ بارش بھی آج خوب برس رہی ہے۔۔۔ جمیلہ خاتون بے حد پریشان لگیں۔ جبکہ باقی سب کب کے آچکے تھے۔

اللہ خیر کرے۔ بارش کو دیکھتے بے اختیار دعا مانگی۔

کیا ہوگیا ہے؟ آجاٸیں گے فکر نہ کریں۔

سلطان نے جمیلہ خاتون کے پاس آتے کہا۔

ہمممم۔۔ بارش دیکھ رہے ہیں۔ اور رات کا وقت ہو چلا ہے۔ فون پے رابطہ بھی نہیں ہو رہا۔ اللہ کرے کسی بڑی مصیبت میں نہ پھسیں ہوں۔

پریشان ہوتے وہیں صحن میں ایک کرسی پے بیٹھتے کہا۔

جانتی ہیں جمیلہ خاتون۔۔! شہیر خانزادہ پے مجھے خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔ وہ۔۔ میری بچی کی خودسے بھی زیادہ حفاظت کرے گا۔

ایک یقین تھا ان کے لہجے میں۔ جمیلہ خاتون دیکھتی رہ گٸیں ۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

شامی سگنل کا مسٸلہ ہوگا۔ ڈونٹ وری آجاٸیں گے وہ ۔

فضا نے مسلسل شامی کو موباٸل پے کال ملاتے دیکھا تو بول دیا۔

کہاتھا میں نے۔۔ انا کو لانے دیں۔ نہیں۔۔۔ وہ لے آۓ گا۔۔اب دیکھ لیں۔ شامی کو تو بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا ۔

تو۔۔۔؟ کیا ہو گیا ہے شامی؟ اتنا ان سیکیور کیوں ہ رہے ہو؟ فضا کو بھی غصہ آگیا۔

انا اس شخص کے ساتھ ہے اور؟

وہ شخص اس کا شوہر ہے۔ شامی۔ فضا نے پھر بات کاٹی۔

ہونہہ ۔۔۔ شوہر۔۔؟؟ دس سال پہلے نکاح کیا۔ پھر بھول گیا ۔۔۔ اب دس سال بعد آیا ہے تو۔۔۔سارے حقوق مل جاٸیں گے اسے؟

شامی کے اندر سخت کڑواہٹ تھی۔

وہ دس سال بعد آٸے یا بیس سال بعد۔لیکن وہ کہلاٸے گا انابیہ کاشوہر ہی۔ اور ۔۔تم یہ اپنے دماغ سے فضول باتیں نکال دو ۔ کیونکہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ جب سے شہیر بھاٸ آۓ ہیں تمہارا ان کے ساتھ رویہ بہت خراب ہے۔ جو کہ بہت غلط بات ہے۔

غلط بات؟ ساری باتیں تو غلط ہیں۔ مجھ میں۔ بس وہ آگیا ہے۔ وہ صحیح ہو گیاہے ۔ سب کی نظروں میں بہت اچھا ہو گیا ہے۔ دیکھ لیجیے گا۔۔یہ رشتہ زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں۔ وہ جو وہاں بیٹھیں ہیں ناں۔۔ کراچی۔۔ آپ کی ممانی صاحبہ۔ وہ کبھی انا کو اپنی بہو تسلیم نہیں کریں گیں۔

شامی نے بھرپور جواب دے کے طنز کیا۔

وہ بعد کی بات ہے ۔ دیکھا جاۓ گا۔ جب شہیر اپنے رشتے کے لیے کھڑا ہو گیا ۔تو ممانی بھی کچھ نہیں کر پاٸیں گیں ۔

فضا نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔

بھول ہے آپ کی۔۔۔۔ ! انا یہ رشتہ کھبی نہیں چاہتی۔

تم۔۔۔ پاگل ہوگۓ ہو کیا؟ کیا بولے جا رہے ہو؟ جانتے بھی ہو کچھ۔۔؟ بھلےنکاح بچپن میں ہوا ہو۔ لیکن یہ مت بھولو انا کوٸ چھ ماہ کی بچی نہیں تھی۔ نو سال کی تھی۔ اور تم جانتےہی کیا ہو؟ ہاں۔۔؟ وہ انابیہ سلطان کبھی رہی ہی نہیں ۔ اس کی ایک ایک سانس اس نکاح سے جڑی ہے۔ پل پل جیا ہے اس نے اس نکاح کو۔ اور جس دن یہ نکاح ختم ہوا۔ انا کی سانسوں کی ڈور بھی ٹوٹ جاۓ گی ۔

شامی کو آٸینہ دکھاتی فضا کی آنکھیں نم ہوگٸیں ۔ وہ وہاں مزید نہ رکی۔

فضا کے جانے کے بعد شامی نے لب بھینچے۔ خود پے کنٹرول کرنا اسے مشکل ہو رہا تھا ۔ زور سے موباٸل زمین پے پٹخا۔ جو کہیں ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

گاڑی کا دروازہ زور زور سے پیٹا جا رہا تھا ۔

اور انا کو اب ڈر لگنےلگا تھا ۔ وہ شہیر کے قریب ہو کے دبک کے بیٹھ گٸ۔

کیاکر رہے ہیں۔ نجانے کون ہے؟ مت کھولیں۔

شہیر نے دروازہ کھولنا چاہا۔ کہ انا نے منع کر دیا۔

دیکھنے تو دو۔ شہیر نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا۔ اور باہر نکلا۔

انا کو جو جو دعاٸیں یاد تھیں ۔ ساری پڑھ ڈالیں۔

کچھ ہی دیر میں گیلا ہوا وہ واپس گاڑی میں بیٹھا۔

کون تھا؟ فوراً پوچھا۔

لاہور کا کوٸ زندہ دل انسان ہے۔ پاس ہی اسکا کاٹیج ہے۔ ہماری گاڑی یہاں کھڑی دیکھی تو مدد کے لیے آگیا۔

اپنے چہرے کو صاف کرتے سرسری انداز میں کہا۔

رات رکنے کی پیشکش کر رہا ہے۔

رات؟ انا کا تو سانس خشک ہو گیا ۔

اس وقت انا ہم کہیں نہیں جا سکتے۔ اور اسکی مدد لینے کے علاوہ کوٸ دوسرا راستہ نہیں۔

شہیر نے سنجیدگی سے کہا ۔

نجانے کون ہے وہ۔۔؟ آپ کیسے کسی پے بھی اعتبار کر سکتےہیں۔؟ چھوڑیں۔ ہم گاڑی میں ہی رہتے ہیں۔

انا۔۔ گاڑی میں رہنا سیو نہیں۔ چلو۔۔آٶ۔۔ میرے ساتھ۔

شہیر نے موباٸل اٹھایا ۔

مممجھے ڈر لگ رہا ہے۔مت بھروسہ کریں اس پے۔ انا کا دل دھڑکا۔

مجھ پے تو بھروسہ ہے ناں؟ شہیر نے اسکے پاس ہوتے سکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔

انا پلکیں جھپکاتی سیدھا شہیر کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی ۔

آ۔۔۔۔آپ مجھے۔۔ بھروسے کی ڈور ۔۔ تھما رہے ہیں۔۔بعد میں ۔۔ توڑ دیا تو۔۔؟ انا نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

شہیر خانزادہ مر تو سکتا ہے۔ لیکن بھروسہ کبھی نہیں توڑے گا۔

اللہ نہ کرے۔۔ ایسی باتیں نہ کریں۔ انا نے اسکے لبوں پے ہاتھ رکھا۔

شہیر نے اسکا وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے واپس لبوں تک لے گیا۔ اور عقیدت بھرا لمس چھوڑا۔

ایک کرنٹ سا محسوس ہوا دل کی طرف۔ انا کی پلکیں جھک گٸیں۔

مجھ پے بھروسہ رکھو۔ انا شہیر خانزادہ ۔ خود سےبھی زیادہ تمہاری حفاظت کروں گا۔

انا اسکے اتنے جذب سےکہنے پے اسے دیکھتی اثبات میں سر ہلاتی اسکے ساتھ گاڑی سے نیچے اتر گٸ ۔ وہ شخص وہیں دور کسی درخت کے نیچےکھڑا بارش سے بچ رہا تھا۔ اسکےپاس چھتری تھی۔ اور ہاتھ میں لالٹین۔ انہیں باہر آتا دیکھ وہ شکر کرتا آگے کی طرف بڑھنے لگا۔ جبکہ انابیہ شہیر کا بازو تھامے اسکے ساتھ چپکی۔ اس شخص کےپیچھے چلنے لگے۔

کچھ ہی دیر میں وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی نما گھر میں داخل ہوۓ۔

آجاٶ۔۔ بھٸ۔۔ ! اوہ۔۔بختو۔۔ دیکھ۔۔۔۔ مسافر آۓ ہیں۔۔ چھتری ایک طرف رکھتے اس شخص نے آواز لگاٸ۔

بسم اللہ کراں۔۔۔ جی آیاں نو۔۔۔ ! ایک ادھیڑ عمر عورت خوشی سےکسی کونے سے نکلی۔

اسے دیکھ انا نے سکون کا سانس لیا۔ کہ چلو۔ کوٸ عورت تو ہے لیکن اس سب کے دوران انا نے شہیر کا ہاتھ مضبوطی سے تھامےرکھا ۔ اور تقریباً اسکے پیچھے ہی کھڑی رہی۔ ایک تو اسکے کپڑے گیلے تھے۔ دوسرا وہ خود کو شہیر کے پیچھےکھڑا محفوظ محسوس کر رہی تھی۔

ہاۓ۔۔ تسی تے سارے پیج گۓ ہو۔۔۔آجا کڑیے۔۔ تینوں کپڑے دیواں۔۔۔۔(آپ تو سارے بھیگ گۓ ہیں۔ آجاٶ۔۔ لڑکی ۔ تمہیں کپڑے دوں۔)

ننن۔۔نہیں۔۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔ انا کو انکی زبان سمجھ تو آگٸ۔ لیکن اتنا بھروسہ نہیں کر سکتی تھی کہ ساتھ جاتی۔

ہاۓ۔۔۔ کیوں گھبراتی ہو۔۔۔ ؟ اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔

ابکی بار وہ اردو میں بولی۔

وہ شاید بہت ہنس مکھ تھی۔

ٹپ ٹپ۔۔ٹپ۔۔۔۔ جہاں وہ کھڑے تھے۔ وہاں سے جھونپڑی میں سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا ۔ پہلے اوپر دیکھا۔ پھر شہیر اور انا نے ایک دوسرے کو۔

اوہ۔۔ فیضی دے ابا۔۔ اینوں ویکھ۔۔۔! ٹپ رکھ ایدھے تھلے۔

وہ اپنے شوہر سے اونچی آواز میں بولی ۔

وہ فوراً ٹب لے آیا۔ اور جہاں سے پانی گر رہا تھا۔ وہاں ٹب رکھ دیا ۔

صاحب جی۔۔۔!ہم غریبوں کا یہی سب ہوتا ہے۔ ادھر بارش ہوٸ ۔ ادھر ہمارے گھر ٹپکنے شروع ہوجاتے ہیں۔ بس اللہ کا شکر ہے پھر بھی ۔۔ اس نے یہ چھت تو دی ہے۔ آپ ادھر دوسری طرف آجاٶ۔۔ وہاں کچھ نہیں ۔ پچھلے سال اس طرف ناں۔۔ چھت پکی کراٸ تھی ۔

وہ شخص انہیں گھر کی دوسری طرف لے گیا ۔ جو قدرے حال بہتر تھی۔

آپ لوگ یہیں آرام کریں۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجیے گا۔ وہ شخص کہتا باہر نکل گیا۔

شہیر نے دراوزے کو کڑی لگاٸی۔

آرام کرنے کا تو ایسے کہہ کے گیا ہے۔ جیسے بہت بڑا بستر لگایا ہو یہاں۔۔۔

چھوٹا سا کمرہ۔۔۔ ایک چٹاٸ ۔۔اور پانی کا چھوٹا سا کولر۔۔ اور زیرو واڈ کا بلب۔ انا کا دل ہی عجیب ہوا سب دیکھ کے۔ جبکہ شہیر مزے سے شرٹ اتار کے ایکطرف رکھتا سامنے جا کے چٹاٸ پے بیٹھ گیا ۔ اور انا کو بھی اشارہ کیا کہ اسکے پاس آۓ۔

انا اسکو شرٹ لیس دیکھتی جھجکتےہوۓ اسکے پاس آگٸ۔ دونوں ہی دیوار کے سہارے ٹیک لگا کے بیٹھ گۓ۔

کبھی سوچا تھا۔۔۔کہ ایک رات ایسی بھی آۓ گی؟ جب ہم۔۔ یوں ساتھ ہوں گے۔۔؟؟ شہیر نے اسکی طرف پیار سے دیکھتےکہا۔

انا خاموش رہی ۔

کیاہوا۔۔؟؟ تمہاری طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟ شہیر نے پریشانی سے اسکا ماتھا چیک کیا۔

میں ٹھیک ہوں۔۔۔بس۔۔ ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔

انا کی دھیمی آواز شہیر کے کان سے ٹکراٸ۔ تو اس نے فوراً اسے اپنی آغوش میں بھرا۔ اور اسکا سر اپنے سینے پے رکھا۔ اسکےہاتھ اپنےہاتھوں میں تھامے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ انا نے کوٸ مزاحمت نہ کی۔ اسے ٹھنڈ میں کمی محسوس ہوٸ تو نیند نے غلبہ جمایا۔ اور دماغجیسے ماٶف سا ہوگیا۔

انا۔۔۔۔؟؟ ٹھیک ہوناں۔۔؟ شہیر کی پریشان آواز ابھری ۔ وہ ہرممکن طریقے سے اسے گرم رکھنےکی کوشش کر رہا تھا۔ اسکے ہاتھ تھامے اسکو گرماٸش دے رہا تھا۔

ہمممممم۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔نیند میں ڈوبی بس اتنا ہی بول پاٸ۔

شہیر نے مسکراتے ہوۓ اسکے ماتھے پےبوسہ دیا ۔ اور مزید خود میں بھینچا۔ آج اسے نجانے کیوں اپنی انا پے ٹوٹ کےپیار آرہا تھا۔ شاید۔۔۔ انا نے اس پے جو بھروسہ کیا اسی وجہ سے وہ اندر تک سرشار ہوگیاتھا۔

اور انا کا اسکے قریب آجانا۔ اس بات کی گواہی تھا۔ کہ وہ شہیر سے نکاح کے رشتے میں کبھی بے ایمانی نہیں کر سکتی تھی۔ اگر شہیر اسے دل وجان سے چاہتا تھا تو وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی۔

آج کی رات تو شہیر کی آنکھوں میں ہی کٹنی تھی۔ جبکہ اسکی جان۔۔اسکی انا۔۔بہت مزے سے اسکی بانہوں میں سو رہی تھی۔ ایک سکون سا ٹہر گیاتھا شہیر کی رگ رگ میں۔ ایک پیاری سی مسکان اسکے چہرے پے چھاٸ تھی۔

پرسکون ہوتا وہ بھی آنکھیں موند گیا ۔

دل و دھڑکن ساتھ ہو تو۔۔ کون پرسکون نہیں ہوتا۔

شہیر کو اب تک اپنی زندگی کی تمام راتوں میں آج کی رات سب سے حسین لگی تھی۔

اور لگتی بھی کیوں نہ؟ جب محبوب پاس ہو۔۔۔ آپ پے بھروسہ کرتا ہو۔۔آپ کی بانہوں میں ہو۔۔ اور۔۔ سب سے بڑھ کے۔۔ آپ کے نکاح میں ہو۔۔ تو ہر لمحہ ہی حسین لگتا ہے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *