Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 29)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
جی سر۔۔۔! ہوجاۓ گا۔
کنول کی کمپلین آٸ تھی۔ اس نے کسی بچے کو ڈانٹا تھا۔ اور پرنسپل اچھے خاصے غصہ میں تھے۔ وہ چپ چاپ انکی ہاں میں ہاں ملاتی ان کے آفس سے باہر نکل آٸ۔
اسکی غلطی نہیں تھی۔ لیکن وہ مجبور تھی سب سننے کے لیے۔نامحسوس انداز سے آنسو صاف کیے۔ اور سٹاف روم کی جانب بڑھ گٸ۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیاکہا سر نے۔۔۔؟؟ جیانے اسکا ستا ہوا چہرہ دیکھتے استفسار کیا۔ جبکہ سامنےبیٹھی بیلا مسکراٸ تھی۔
کنول نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور دوسری نظر جیا پے ڈالٕی۔
کچھ نہیں۔۔۔! بس ۔۔ یونہی۔ پھر سے آنکھیں بھیگنے لگیں۔
ہاہاہاہاہ۔۔۔ بتاٶ ناں۔۔۔۔! کیا کہا سر۔۔۔۔ نے۔۔۔؟؟ بالوں کو ایک جھٹکا دیتی وہ کنول سے طنزیہ انداز سے بولی۔ کہ سٹاف روم میں موجود سب کی نظریں کنول پے اٹھیں۔
میری کلاس ہے۔۔۔! کنول دھیرے سے جیا سے کہتی وہاں سےبھی اٹھ گٸ۔ جیا نے لب بھینچے۔
بیلا سر وقار کے ساتھ بہت فرینک تھی۔ اور وہ جو کہہ دے۔ وہ کر ہی لیتے تھے۔ اس وقت بھی کنول کے ساتھ بیلا کو خدا واسطے کا بیر ہو چکا تھا۔اسکی قابلیت بیلا کو چبھتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ کوٸ نہ کوٸ موقع بنا کے کنول کی انسلٹ کرواتی رہتی تھی۔
اب بھی اسے پتہ چلا کہ کنول نے کسی بچے کو ڈانٹ پلاٸ ہے۔ بس یہ وہاں پہنچ گٸ۔ اس بچے کا برین واش کیا۔ اور اسکے پیرنٹس تک بات پہنچا کے کنول کی بے عزتی کرواٸ۔
وہ گارڈن میں آگٸ تھی۔ وہاں بیٹھےاسے تھوڑی دیر ہوٸ تھی۔ کہ وہی بچہ اس کے پاس آیا۔
میم۔۔۔۔! وہ بچہ شرمندہ سا لگا۔
کنول نے رخ پھیر کے اسے دیکھا۔ جبکہ نظروں میں کچھ بھی نہ تھا۔
میم۔۔۔! ایم سوری۔۔۔ میری وجہ سے اتنا مسٸلہ کری ایٹ ہو گیا۔ وہ بچہ شرمندگی لیے بولا۔
کنول نے رخ پھیر لیا۔ اور بیگ سے کچھ تلاشنے لگی ۔ جیسے اسکے یہاں ہونے سے اسے کوٸ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
میم۔۔۔!پلیز ۔۔۔معاف کردیں۔ وہ بچہ منمنایا۔ وہ جماعت ششم کا طالب علم تھا۔ اور سمجھ گیا تھا۔ کہ بیلا میم نے اسے جان بوجھ کے یہ سب کروایا ہے۔ اس لیے معافی مانگنے چلا آیا۔
کنول بیگ کندھےپے لگاٸ اٹھ کھڑی ہوٸ۔ جانے لگی۔ کہ ۔۔۔رکی۔ اور سانس خارج کرتے پلٹی۔
معاف تو کر دیا ہے۔۔ بیٹا۔۔! لیکن۔۔ ایک بات میری یاد رکھنا۔ سچ کبھی نہیں چھپتا۔ اور ایک دن سامنے آہی جاتا ہے۔ اسلیے ہمیشہ سچ بولیں ۔ پھر چاہے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔
کہتے ہوۓ وہ وہاں رکی ۔ اسے یکدم سے چکر آۓ۔ اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا۔
میم۔۔۔؟؟ آپ۔۔ٹھیک ہیں۔۔نا۔۔؟؟ وہ بچہ پریشان ہو گیا۔
میم۔۔۔ میری وجہ سے آپ کی طبعیت خراب ہوگٸ۔
وہ مزید شرمندہ ہوا۔ جبکہ کنول کو لگا۔ اگر وہ مزید رکی وہاں تو اسے وومٹ ہوجاۓ گی۔
اسکا دل بری طرح گھبرا رہا تھا۔ وہاں سے اس نے سیدھا باتھ روم کا رخ کیا۔ وہاں منہ بھر بھر کے الٹیاں کیں۔ اتنے میں جیا باتھ روم ک جانب آٸ۔
کنول کو بری حالت میں دیکھتی وہ بھی پریشان ہو اٹھی۔
تم۔۔ ٹھیک ہوکنول۔۔۔؟ جیا نے اسے سہارا دیا ۔
مجھے۔۔۔ چکر آرہے ہیں۔۔ کنول نے بمشکل خود کوسنبھالتےکہا ۔
چلو۔۔میرے ساتھ ۔۔۔ وہ اسے لیے کنٹین کی جانب آگٸ۔ اور ایک جوس اسکے ہاتھ میں تھمایا۔
کنول نے گھونٹ گھونٹ جوس اپنے حلق میں اتارا۔ تو اسکی طبعیت کچھ حد تک بحال ہوٸ۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔؟؟ جیا کی نظریں کچھ اور لہجہ کچھ اور کہہ رہا تھا۔
بہتر ہوں۔۔۔! سر جھکاۓ بس اتنا ہی کہا۔
کنول۔۔۔! یہ بچہ کس کا ہے۔۔؟؟ جیا نے چبھتا سوال کیا۔ کہ کنول کا دل ایک لمحے کو ساکت ہوا ۔
الجھی نظروں سے سہیلی کم بہن زیادہ کودیکھا۔
کیا۔۔۔۔کیا مطلب۔۔؟؟ کنول نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
کنول۔۔! جھوٹ مت بولنا۔۔۔ تمہاری حالت۔۔چینخ چینخ کر کہہ رہی ہے۔ کہ ۔۔تم پریگننٹ ہو۔۔۔! جیا نے دانت پیستےکہا۔
کنول کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ خاموشی سے جوس ساٸیڈ۔پے رکھا۔ بیگ اٹھایا۔ اور وہاں سے نکلتی وہ اسکول سے ہی باہر نکل گٸ۔
اسکا زہن منتشر ہو چکا تھا۔وہ کیسے۔۔۔؟؟
جیا کا سوچتے اسے دکھ ہوا۔ کہ وہ دوست ہوتے اسکے بارے میں کیا سوچ رہی ہے۔۔۔۔؟؟
اس نے اپنی شادی کی بات سب سے چھپاٸ تھی لیکن۔۔۔؟؟
لیکن۔۔۔ اگر۔۔واقعی۔۔۔ وہ ۔۔پریگننٹ۔۔۔ہوٸ تو۔۔؟
یہ سوچ آتے ہی اس نے جھر جھری لی۔
نہیں۔۔۔ ایسا ممکن نہیں۔۔۔! خود کو جھوٹی تسلی دی۔
کیوں ممکن نہیں۔۔۔؟؟ کیسے۔۔ممکن نہیں۔۔؟؟
دل نے بغاوت کی۔ آفتاب کی یاد پھر سے ستانے لگی۔
گل ستارے دیٸے تُو نے شاخوں کو۔
میرے حصے میں تو ۔۔۔ایک شبنم نہیں۔۔۔۔۔
سب باتو ں کی ایک بات۔ اس نے گاڑی کرواٸ ۔ اور کلینک کا رخ کیا۔ وہ جاننا چاہتی تھی ۔ کیاواقعی۔۔۔وہ۔۔؟؟ یا۔۔ یہ بس۔۔ موسمی الٹیاں ہیں۔
مری کا علاقہ تو ہر وقت بادلو ں کی لپیٹ میں ہوتا۔
سردیاں عروج پے تھیں۔ وہ ہاسپٹل ٹیسٹ کروا کےباہر نکلی تھی۔ ابھی رپورٹ آنے میں ٹاٸم تھا۔ اس نے موباٸل اٹھایا۔ اور ساتھ پڑوسن کو فون کر کے بلال کا خیال رکھنے کا کہا جبکہ خود بے صبری سے رپورٹ کا ویٹ کرنے لگی۔










یہ۔۔۔آپ کےلیے۔۔؟؟ سوپ بھیجا ہے۔۔ بڑی بیگم نے۔
سفیہ نے سوپ کا باٶل ہاتھ میں تھامے۔۔ تکیہ کےسہارےلیٹےآنکھیں موندے آفتاب سے کہا۔
وہ جو آگے کی پلاننگ سوچ رہا تھا۔ بری طرح چونکا۔
وہاں رکھ دو۔ سپاٹ انداز میں کہتا وہ سفیہ کو کچھ بھی کہنے سے باز کر گیا۔
پھر بھی وہ ہمت کرتی اسکے پاس آٸ۔ جسے کل سے ہوش تو آگیا تھا۔ لیکن اپنے کمرے سے باہرنہیں نکلا تھا وہ مسلسل خاموش تھا ۔ اور بڑی بیگم بھی اس کے اس سرد رویے سے دلبرداشتہ ہوتییں اپنےکمرے تک محدود ہو کر رہ گٸ تھیں۔ انہیں آفتاب سے اس قدر سرد پن کی توقع نہ تھی۔ جسطرح وہ ان دو ماہ میں تڑپی تھیں اس کے لیے یہ وہی جانتی تھیں یا ان کا اللہ۔
اور اب جبکہ سعدی سے آفتاب سارا سچ جان چکا تھا۔ پھر بھی وہ اپنی دادی کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہکر پایا تھا۔
کچھبکہنا ہے آپ نے؟ آفتاب نے آنکھوں سے بازو ہٹاتے کرخت لہجے میں سفیہ سے پوچھا۔
جی۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟؟آپ ۔۔۔بڑی بیگم کے ساتھ۔۔۔؟؟ آپ کا ۔۔۔رویہ۔۔۔؟؟ سفیہ بولنا چاہ بھی رہی تھی۔ لیکن بل نہ پا رہی تھی۔۔
کیا آپ کو ہمارے معاملے میں بولنے کا حق ہے۔۔؟؟ آفتاب نے ایک آٸ برو چڑھاتے پوچھا۔
سفیہ تو اسکی مقناطیسی آنکھوں کے سحر میں ہی کھو گٸ ۔
آپ ان کے پوتے ہیں۔ انہوں نے آپ کے لیے بہت کچھ کیاہے۔ اور اسوقت۔۔ جب۔۔ کوٸ آپ کے۔۔۔ساتھ نہ تھے۔بڑی بیگم آپ کے ساتھ ساۓ کی طرح رہیں۔ اتنا کچھ کیا انہوں نے آپ کے لیے۔۔ اپنا خون تک دیا۔ لیکن۔۔ آپ کا رویہ۔۔ ان کے ساتھ ۔۔بہت برا ہے۔۔۔؟؟؟
ہو گیا۔۔۔؟؟ آفتاب نے دانت پیستے کمفرٹر پیچھے کرتے غصہ سے اٹھتےکہا ۔ وہ ڈر کے کم پیچھے ہٹی۔
جھٹکے ے اٹھنے سے درد کی ایک ٹھیں اٹھی تھی بازو میں۔ اسکا زخم ابھی مکمل طور پر مدمل نہ ہوا تھا۔ کومے میں جانے کی وجہ سے اور پراپر ڈاٸیٹ نہ لے پاسکنےکی وجہ سے اسکا زخم ابھی تک بھر نہ پایا تھا۔
میں نہیں جانتا آپ کون ہیں۔ اور کس حق سے کھڑی ہو کر۔۔ ان کا دفاع کر رہی ہیں۔ لیکن۔۔ میں اپننے معاملات میں کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ آج تو بول دیا۔۔۔جو بولنا تھا۔ آٸندہ۔۔ احتیاط کیجے گا.. اور اسپیشلی۔۔۔ میرے روم میں آنے کی ضرورت نہیں۔
انتہاٸ سرد و سپاٹ انداز کہ۔۔ سفیہ کا دل پنچھی کی طرح لرزا۔ یہ شخص چہرہ سے جتنا غصیلہ لگتا تھا۔ حقیقت میں اس سے بھی کٸ زیادہ تھا۔
آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔کو۔اپنی ۔۔دادی حضور سے۔۔ بالکل پیار نہیں۔۔؟؟ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں نمی لیے معصومیت سے پوچھنے لگی۔
داٸیں ہاتھ سے دایاں بازو تھامے وہ اسکی جانب گھور کے دیکھا ۔ جتنا وہ چاہتا کہ یہ لڑکی۔ اس کے معاملات میں نہ بولے۔ وہ ضرورت سے زیادہ پھیل رہی تھی۔
میں کس سے پیار کرتا ہوں۔۔ اور کس سے نفرت۔۔۔ آپ کو مجھے بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ ناٶ۔۔ لیو۔۔۔! ابکی بار بنا لحاظ کے ڈانٹتے ہوۓ کہا تو سفیہ آنسو پیتی وہاں سے چپ چاپ نکل گٸ۔ جبکہ وہ وہیں بستر پے بیٹھے۔ سوپ کو دیکھتا ماضی کی ایک یاد میں کھو سا گیا ۔






آپ نے یہ سوپ مجھے لازمی پلانا ہے۔۔؟؟ کنول نے سوپ کو منہ بنا کے دیکھتے ناک چڑایا۔
صرف پانچ منہٹ میں یہ باٶل خالی ہو۔ آفتاب نے موابٸل پے کچھ ٹاٸپ کرتے تحکمانہ انداز میں کہا۔
مجھ سے نہیں پیا جاۓ گا۔۔۔! کنول نے سوپ کا چمچ ناک کے پاس لے جاتے ناک بند کرتے بے بسی سے کہا
آفتاب گہرا سانس خارج کرتے اٹھا۔ موباٸل ساٸیڈ پے رکھتا اسکے پاس آیا۔
مسز۔۔۔ آفتاب خان۔۔۔! اب صرف چار منٹ رہ گۓ ہیں ۔ اگر یہ ختم نہ ہوا۔ تو ۔۔ میں پھر اپنے طریقےسسے پلاٶں گا۔ اور یقیناً میرا طریقہ آپ کو زیادہ پسند نہیں آۓ گا۔
اسکے چہرے کے قریب جھکتا اسکے دل کی دھڑنوں کومنتشر کرتا وہ اسے اچھی طرح باور کرا گیا۔
کونل نے جھٹ سے سوپ کا باٶل اٹھایا۔ اور لبوں سے لگایا۔ اور سانس روکے ایک ہی گھونٹ میں سارا سوپ پی گٸ۔
گڈ گرل۔۔۔۔! آفتاب کے چہرے پے ایک لمحے کے لیےدھیمی سی مسکان سجی۔ لیکن اگلےہی پل معدوم ہوگٸ۔
بہت ظالم ہیں آپ۔۔۔! منہ بنا کے کہتی وہ آفتاب کو مڑنے پے مجبور کر گٸ۔
وہ لمحہ آج بھی آنکھوں میں ویسے ہی سمایا تھا۔ سوپ کا باٶل آفتاب نے زمین پے پٹخنا چاہا۔ لیکن۔۔۔ ایک دم غصہ پے کنٹرول کر گیا۔وہ اللہ کے رزق کے بے حرمتی نہیں کر سکتا تھا۔
ظالم۔۔۔؟؟ ظلم کیا۔۔ہوتا ہے۔۔۔مسز آفتاب خان۔۔۔! اب تنہی ںپتہ چلے گا۔۔ تم نے ابھی تک۔۔ صرف میری محبت دیکھی تھی۔ اب ۔۔میری نفرت دیکھو گی۔۔ ایسی نفرت۔۔ کہ تم اسکی آگ میں جل کے خاکستر ہوجاٶ گی۔ تب بھی نہیں بخشوں گا۔
آٸ ایم کمنگ۔۔۔!
زیرِ لب کہتا وہ موباٸل پے سعدی سے بات کرنے کے بعد اٹھتا باتھ روم میں گھس گیا۔







اچھا۔۔۔! آپ فکر نہ کریں ۔ میں ۔۔ بات کرتی ہوں شامی۔۔۔سے۔۔! انابیہ نے فون پے رضیہ خاتون کو تسلی دیتے کہا ۔
میں آنہیں سکتی۔ ۔۔ ورنہ۔۔ ایک منٹ میں آپ تک پہنچ جاتی۔ اب کی بار شہیر کے کان میں پڑے انابیہ کے الفاظ نے اسے چونکا دیا ۔
نہیں۔۔ ہوتا کچھ۔۔! آپ ٹینشن نہ لیں۔ اور ۔۔آپ کی بات ہوٸ تھی دی جے سے۔۔؟؟ ہم فون کریں۔۔ تو ۔۔وہ اٹھاتی ہی نہیں۔۔نہ ہی بات کرتی ہیں۔۔۔! لہجے میں افسردگی تھی۔
آگے سے وہ کچھ کہتیں کہ شہیر نے فوراًفون اسکے ہاتھ سے لیتے کال کاٹ دی۔
یہ کیا کیا۔۔۔۔؟؟ انابیہ کے ماتھےپے بل پڑے۔
انا۔۔۔۔! تم۔۔انکی پریشانی کم کر رہی ہو یا بڑھا رہی ہو۔۔؟؟ شہیر نے الٹا اس سے سوال کیا۔
کیا مطلب۔۔؟؟ نروٹھے پن سے پوچھا ۔ تو شہیر نے اسے اٹھا کے اپنی گود میں بٹھایا ۔ اسکا پانچواں ماہ چل رہا تھا۔اور وہ لندن میں اپنی ایک الگ دنیا بسا کے بیٹھے تھے۔ سب اپنوں سے دور۔
جانِ۔۔شہیر۔۔۔! وہ ماں ہیں۔۔سات سمندر پار۔۔۔! ان سے ہنس کے بات کیا کرو۔ انہیں دکھی کرنےوالی باتیں نہ کیا کرو۔۔۔! دی جے کے بارے میں کچھ مت کہو۔۔۔! وہ اس بات کو لے کے زیادہ پریشان ہوں گیں۔
شہیر اسے گود میں بٹھاۓ دھیمےلہجے میں سمجھا رہا تھا۔ انابیہ کی پلکیں جھک گٸیں۔
امی۔۔پریشان ہیں۔۔۔ شامی نے کینیڈا جانےکی ضد لگاٸ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں ناں۔۔ عبیر کی رخصتی بھی پاسپون ہوگٸ تھی۔ اب وہ رخصتی ہی نہیں چاہتا۔۔۔۔ اور ضد پے اڑا ہے۔۔ کہ کینیڈا ہی جانا ہے ۔۔۔!
انابیہ نے شہیر ک تفصیل سے آگاہ کیا۔
ہممممم۔۔۔ میں بات کروں شامی سے۔۔۔؟؟ شہیر اسے اداس نہ دیکھ سکا ۔ اسکا ہاتھ تھامے اسے مسلسل دبا رہا تھا۔
نہیں۔۔ پہلے میں بات کرتی ہوں۔۔اگر نہ سمجھا تو۔۔۔؟؟
میری خدمات حاضر ہیں جناب۔۔! بس مسکراتی رہا کرو۔۔ تا کہ ہماری بیٹی بھی مسکراتی ہوٸ اس دنیا میں آۓ۔ دل ہی دل میں انابیہ کی نظر اتارتا وہ اسے خود سے قریب کر گیا۔
اچھااااا۔۔۔۔ اگر بیٹا ہوا تو۔۔؟ آنکھوں میں چمک لیے بہت اشتیاق سے پوچھا۔
تو۔۔۔وہ بھی سر آنکھوں پے۔۔۔! اللہ کی زات ہے نوازنے والی۔۔۔ میں بھلا کچھ کہنے والا کون ہوتا ہوں۔۔؟؟ بیٹی کے ساتھ بیٹا بھی آجاۓ تو وارے نیارے ہوجاٸیں۔
وہ جو ۔۔ بیٹے کی بات پے مسکراٸ تھی۔ اگلی بات پے شہیر کی طرف آنکھیں بصی کر کے اسے گھورا۔
آپ۔۔۔جڑواں بچوں کی بات کرہے ہیں۔۔؟
ہمممم۔۔۔ جڑواں۔۔۔ ؟؟ ویسے لوگوں کے تو۔۔۔ جڑوا ں کیا۔۔۔؟؟
بس کریں۔۔ شہیر۔۔۔! آپ بھی ناں۔۔! وہ جھٹکے سے اٹھتی بلش کرنے لگی۔ جبکہ شہیر اسکا دماغ ڈاٸ وڈ کرنے میں کامیاب ہوہی گیا تھا۔ ڈاکٹر نے ساری سچویشن شہیر کو بتا دی وہ انیس سال کی تھی اور ایسے میں جڑواں بچوں کی آمد نے جہاں شہیر کو خوش کیا تھا۔ وہیں وہ اسکی صحت اور کنڈیشن کو لے کے بہت زیادہ پریشان تھا۔ اور یہ بات وہ انابیہ کو نہ بتا سکا۔ کہ وہ ایک نہیں دو بچوں کی ماں بننے والی تھی۔







کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔؟؟
آفتاب کو تیار ہوتے جیکٹ پہن باہر نکلتے دیکھ سفیہنے فوراً بڑی بیگمکو اطلاع بہم پہنچاٸ۔ اور وہ اسی وقت وہاں آن پہنچیں ۔
انکی پکار پے آفتاب کے باہ جاتے قدم تھمے تھے۔ اور وہ پلٹا تھا۔
میں کہاں جا رہا ہوں کہاں۔۔نہیں۔۔ کسی کا پابند نہیں میں۔۔! سپاٹ اور سرد لہجے میں جواب دیتا وہ ثریا خانم کو چپ ہی کر ا گیا۔
پہلو بدلتیایک نظر سفیہ کو دیکھا۔
آپ کا ابھی باہر جانا نناسب نہیں جانشین۔۔۔! ابھیآپ مکمل صحت یاب نہیں ہوۓ۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی آپ پے اٹیک کرنےوالا قاتل بھی نہیں پکڑا گیا۔ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔
انکے تفصیلی جواب پے آفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔
آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنا اچھا برا خود سمجھتا ہوں۔۔ اور ہاں۔۔۔ اس بھول میں مت رہیے گا۔۔۔ کہ میری جان بچا کے آپ نے مجھ پے احسان کیا ہے۔ اور اس احسان کا بدلہ میں آپ کی قید میں آکے چکاٶں گا۔ تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔!
کہنے کے بعد اسکے قدم گیٹ کی جانب بڑھے۔ کہ رکتا واپس پلٹا ۔
ایک بات اور۔۔۔! زندگی رہی تو۔۔ اس احسان کا بدلہ ویسے ہی چکا دوں گا۔ جیسے آپ نے احسان کیا۔
دھیمےلہجےمیں کہتا ہر لفظ پے زور دیتا وہ ثریا خانم کو مزید کچھ بھی کہنے سے باز رکھ گیا ۔
ثریا خانم خاموشی سےاپنے پوتےکو جاتا دیکھتی رہ گٸیں۔ نجانےکیوں۔۔؟؟ وہ جو کسی کو اپنے آگے اونچی آواز میں بولنے کی اجازت نہ دیتیں تھیں ۔ کسیکی جرات نہ تھی۔ کہ سر اٹھا کے انکی آنکھوں میں دیکھ سکے۔ انکا پوتا ان سے نہ صرف آنکھ سے آنکھ ملا کے بات کرتا تھا۔ بلکہ ان کے کسی رعب میں بھی نہ آتا تھا۔
اور اسی بات کو انکو مان تھا۔ آخر اکلوتا وارث تھا۔ اتنی زیادہ زمین و جاٸیداد کا اکلوتا وارث۔
اکڑ تو بنتی ہے۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔ ! سوچتے ہوۓ ثریا خانم ہنسیں تھیں۔ سفیہ کو وہ اکثر پاگل لگتی تھیں۔
دلاور۔۔۔۔! دلاور۔۔۔؟؟؟
جی بڑی بیگم صاحبہ۔۔۔! دلاور انکا نمک خوار۔۔ ان کے لیے جان لے بھی سکتا اور دے بھی سکتا تھا۔
میرے جانشین پے نظر رکھو۔۔۔ اگر انہیں۔۔ زرا سی بھی کھروچ آٸ۔ تو تمہاری خیر نہیں۔
انگلی اٹھا کے سختی سےوارن کیا۔ تو وہ سر اثبات میں ہلاتا فوراً باہر نکلا۔
کہیں بیچلے جاٶ۔۔ جانشیں۔۔۔ ! آنا تو تمہیں۔۔ یہیں ہے۔







آفتاب گاڑی میں بیٹھا۔ تو سعدی نے گاڑی کو اسلام آباد سے مری کے روڈ پے ڈال دیا ۔
ہاں وہ جا رہا تھا۔۔ اپنی دشمن جاں کےپاس۔۔۔ جو قاتل تھی۔۔ اسکے جذبات کی۔۔
اسکے احساسات کی۔۔۔
اسکے دل کی۔۔۔
اسکی دھڑکن کی۔۔۔۔
اسکی سانسوں کی۔۔
اسکی جان کی۔۔۔
اب وقت آگیا تھا۔ کہ سارے رازوں سے پردے اٹھ جاٸیں۔







رپورٹس اسکے ہاتھ میں تھیں لیکن اسکی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ کہانکو کھول کے دیکھ ہی لے۔
وہ کانپتےہاتھوں سے رپورٹ لیے باہر آگٸ۔ روڈ کراس کرتی وہ اب پیدل ہی واپسی کا راستہ اختیارکیے چلتی جا رہی تھی۔
وہ جان بوجھ کے پیدل چل رہی تھی۔ کافی دیر چلنے کے بعد وہ اپنے آباٸ گھر پہنچ گٸ ۔ جہاں وہ رہ رہی تھی۔ وہی گھر۔۔۔ جہاں اسکی ماں نے اسے جنم دیا۔ یہ اسکا آباٸ شہر تھا۔ اور ماں کے ساتھ اس نےاپنی زندگی کے تین سال اکٹھے گزارے تھے۔
گھر کے دروازے سے اندر آتی اسکی آنکھیں مںاں کو یاد کرتےبھیگ گٸیں۔
من ڈور بند کرتی اندر آٸ تو سامنےہی بلال ٹی وی دیکھتا نظر آیا۔ کنول کو آتادیکھ وہ مسکرایا تھا۔
کیا ہوا۔۔ آپی۔۔۔ ؟؟ تھک گٸ ہو۔۔؟ بلال نے ٹی وی کیآواز آہستہ کرتے فکر سے کہا۔
ہممممم۔۔۔! کنول سانس پھولنے کی وجہ سے کچھ بھی نہ کہہ پاٸ۔
باللا نے فوراً اسکی جانب پانی کا گلاس بڑھایا۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ کس وجہ سے پریشان ہے۔۔۔۔؟؟
رپورٹس بنا پڑھے۔ فاٸل میں رکھتے اس نے کچن کا رخ کیا تھا۔





جو آپ کہہ رہےہیں۔ شاہ وہ کسی صورت ممکن نہیں۔۔ اس لیے اس بات کو یہیں ختم کر دیں۔
فیاض سلطان نے کرخت لہجے میں کہتے شامی کو مزید آگ بگولہ کر دیا۔
کینیڈا تو میں جاٶں گا۔۔۔ دیکھتےہیں کون روکتا ہےمجھے۔۔۔۔؟؟ شامی بھی انتہا غصہ میں تھا۔
باپ ہوں۔۔ آپ کا ۔۔۔ اور۔۔آپ۔۔۔؟؟ سلطان صاحب غصہ سے آگے بڑھے۔
کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ بچہ ہے۔۔۔! رضیہ خاتون نے انکی کلاٸ تھام کے روکا۔
بچہ۔۔۔۔؟ اگر اتنا ہی بچہ تھا تو نکاح نہ کرتا۔۔۔!
آپ کی خواہش پے ہوا ہے نکاح۔۔۔ بھول گٸے۔۔؟؟ شامی نے دوبدو جواب دیا۔ جبکہ عبیر اپنے ماں باپ کے ساتھ اندر آتی شامی کی آواز سنتی وہیں ٹھٹھک کے رکی۔ اسکا دل بری طرح دھڑکا۔
اچھا۔۔۔۔؟؟ بندوق کی نوک پے کروایا تھا ناں۔۔نکاح۔۔؟؟ اور وہ رخصتی۔۔۔؟؟ اس میں بھی ہماری مرضی شامل تھی۔۔؟ آج سلطان صاحب بھی ساری باتیں پس پشت ڈال بیٹےکو لتاڑ رہے تھے۔
جب رخصتی کا کہا تھا تب آپ نے نہیں کی۔ اب مجھےنہیں کروانی۔ بات ختم ۔ دو ٹوک انداز میں کہا۔
جبکہ باہر کھڑی عبیر کا دل کسی نے جیسے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ بے اختیار ہاتھ دل کی جانب بڑھا۔ جہاں ایک ٹھیں اٹھی تھی۔
تو حالات ایسے تھے ناں۔۔ بیٹا۔۔۔! کیسے رخصتی کرتے ۔۔؟؟ آپ کے ماموں۔۔۔؟؟
مجھے ان نام نہاد رشتوں سے کوٸ واسطہ نہیں رکھنا۔ آپ انکا نام میرے سامنے مت لیاکریں ۔ امی جان۔۔۔! ماں کی بات کا جواب دیتا۔وہ انکو بھی چپ کرا گیا۔
کیسی۔۔۔؟؟ باتیں۔۔۔؟؟؟ رضہ خاتون نے آنکھیں صاف کرتے کہا۔
امی جان پلیز۔۔۔! طے ہو چکا ہےمیں کینیڈا جا رہا ہوں۔۔ ایک ہفتے بعد میری فلاٸیٹ ہے۔
کہتےہوۓ قدم باہر بڑھاۓ۔
تو میری بات بھی کان کھول کے سن لیں۔ یا تو آپ عبیر کو بھی ساتھ لےکے جاٸیں گے۔۔ یا۔۔۔؟
یا کیا۔۔؟ فوراً سے بات اچکی۔
یا پھر۔۔۔ آزاد کر کے جاٸیں گے۔۔ کہتےہوٸۓ الفاظ کی سختی کا بخوبی انداز ہ ہوا تھا سب کو۔
شامی نے پلٹ کے حیرت سے باپ کو دیککھا۔
جبکہ باہر کھڑے تینوں نفوس کے کان شامی کے جواب پے تھے۔
بہت جلد۔۔۔ آپ کی یہ خواہش بھی پوری کر دوں گا۔
بالآخر انکی آنکھوں میں دیکھتا وہ بھی اتنی ہی سختی کا مظاہر ہ کر گیا۔
جاری ہے۔
