Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 27)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیوں رو رہی ہو۔۔۔؟؟

آج تو ہم جیت گۓ۔۔۔! کے کے نے اسکے آنسو صاف کیے تھے۔ اور بہت محبت سے اسکے ساتھ وہیں بیٹھی تھی۔ کنول بس یونہی بیٹھی رہی ۔ جیسے سب کچھ ہار گٸ ہو۔

ہم نے ۔۔۔ اپنا بدلہ لے لیا۔۔۔! کے کے دھیرے سے کہے الفاظ کنول کو تیر کیطرح لگے۔

ننہییں۔۔۔ ! نفیمیں سرہلاتی وہ جھٹکے سے اٹھی ۔ اسکی گود سے گن نیچے گر گٸ۔ جسے وہ بھلا چکی تھی۔ کے کے بھی ماتھےپے بل ڈالتی اٹھی کھڑی تھی۔

وہ۔۔۔وہ۔۔۔ انہیں۔۔ گولی لگ گٸ۔۔۔! انہیں کچھ ہو گیا۔۔۔ تو۔۔۔؟ کیسے معاف کروں گی خود کو۔۔؟ کنول ہزیانی انداز میں چلاٸ تھی۔ جبکہ کے کے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔

تم۔۔۔ ہوش میں تو ہو ۔۔؟ ہمارا مقصد یہی تھا۔ اب پورا ہوگیا ہے۔ کے کے بھی بگڑی تھی۔

مقصد۔۔۔؟؟ کنول نے دانت پیسے۔سب کچھ برباد ہوگیا ہے۔۔۔ ان ۔۔۔ ان کو گولی۔۔ لگی۔۔۔ انکا کوٸ قصور نہ تھا۔۔۔۔! کنول اپنے اندر کا کرب چھاۓ نہیں چھپا پا رہی تھی۔

بس کر دو۔۔ کنول۔۔۔ یہ سب پری پلان تھا۔ اب یہ ٹسوے بہانے بند کرو۔۔۔! کے کے نے اسکے آنسوٶں پے چوٹ کی۔

کنول نے ایک حقارت بھری نظر کے کے پے ڈالی۔

تمہارے لیے یہ کہنا آسان ہے۔۔کے کے۔۔۔! تم نہیں سمجھ سکتی۔۔۔ وہ بے قصور تھیں۔۔۔ وہ تو۔۔۔ کچھ بھی نہیں جانتیں۔۔۔ ان پے۔۔۔؟؟ وہ ۔۔آفتاب۔۔۔۔کی امی۔۔؟؟

آنسوٶں کی شدت سے وہ الفاظ بھی پورے نہیں کر پارہی تھی۔ اسے احساس ہو رہا تھا۔ کہ اس نے بہت زیادتی کی ہے۔

تم پھر سے بہک رہی ہو۔۔ اس انسان کی محبت میں۔۔ ! جبکہ۔۔۔ یہ سب بھہ پلان کا حصہ تھا۔۔۔ یہ شادی۔۔۔؟؟ یہ خان ولا میں جانا ۔۔۔ سب سوچی مجھی اسکیم تھی۔۔ اور مما۔۔۔ کی موت کو بھول گٸ۔۔۔؟ کے کے کی آنکھیں ابکی بار سرخ ہوٸیں۔

کیاکچھ نہ کیا ان خان ولا والوں نے ۔۔انکے ساتھ۔۔؟؟ کے کے کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔

اس بات سے تو کنول بھی انکار نہیں کر سکتی تھی۔

وہ سب۔۔۔ا یک ہیں۔۔ ایک فیملی۔۔۔! آج دو کیلاشیں اٹھیں گیں۔ کل اور بھی جنازے اٹھیں گے۔۔ سب کو مار کے ہی دم لیں گے۔۔۔ کسیکو نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ کیکو نہیں۔۔۔! کے کے ان خطرناک ارادوں کو دیکھ کنول کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔

مما کی موت کے زمہ دار سب نہیں۔۔۔! جو ہیں۔۔ سزا بھی انہیں ہی ملے گی۔۔ سب کو نہیں۔۔۔!

اوہ۔۔۔! تو ۔۔آفتاب کی محبت کا بھوت سر چڑھ کے بولنے ہی لگا۔۔۔! کے کے نے اٹھتے نفرت اور حقارت سے کہا۔

اپنی زبان کو قابو میں رکھو کے کے۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارننگ دی۔

کیوں۔۔۔سچ کڑوا لگا تمہیں۔۔؟ کیا یہ سچ نہیں۔۔ تم اس سے محبت کرنے لگی ہو۔۔؟ جبکہ آفتاب سے شادی سب ایک پلان تھا۔ آفتاب صرف ایک مہرہ تھا۔ خان ولا میں داخل ہونے کا۔ اس گھر میں اپنی حیثیت کومنوانے کا۔ اپنی پہچان بنانے کا۔۔۔! اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔! اور ویسے بھی اب سب ۔۔۔ سب کچھ جان گۓ ہیں۔۔ اور ۔۔۔اب کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔ تو۔۔۔ بہتر ہے اب تم یہ رشتہ ختم کر ڈالو۔۔۔!

کے کے نے سب الفاظ جتنی آسانی سے کہے۔ کنول کا جی چاہا اسکا منہ نوچ لے۔

میں نے کہا کرنا ہے کیا نہیں۔۔۔ تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت قطعی نہیں۔۔! جسطرح پہلے تم۔۔ اپنی لاٸف میں بزی تھی۔ اب بھی وہیں رہو۔۔۔! لیکن۔۔۔ مجھ س دور۔۔!

کنول کے ہر لفظ کو دل پے اترتے محسوس کرتی کے کے نےایک نظر اس پے ڈالی۔ اور اسکے پاس ہوٸ۔ اسکے کان کے قریب ہوٸ۔

تمہیں۔۔ آفتاب کو چھوڑنا ہوگا۔ دھیرے لہجےمیں سرگوشی کرتے وہ کنول کو کوٸ اور ہی لگی۔

ورنہ۔۔۔؟؟؟

ورنہ کیا۔۔۔؟؟؟ کنول کےاندر غصہ بھر گیا۔ اسے کے کے کا انداز بالکل پسند نہ آیا۔

ورنہ۔۔۔اسکی سانسیں چھین لوں گی۔۔۔! اور تم۔مجھے اچھی طرح جانتی ہو۔۔۔! میرےلیے کسی کو بھی مارنا۔۔ کوٸ بڑی بات نہیں۔۔۔۔

کے کے کی باتوں پے کنول نے جھرجھری لی۔ وہ واقعی اسکی نیچر سے واقف تھی۔ جو چیز اسے چاہیے ہوتی۔ وہ اسے نہملتی تو وہ اسے برباد کر دیا کرتی تھی۔ اور۔۔۔آفتاب۔۔۔؟ وہ۔۔۔۔کوٸ چیز نہ تھا۔ ۔۔ وہ اسکا شوہر تھا۔ وہ کیسے۔۔۔؟؟ کنول اس کے دماغ میں چلتے پلان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔

بھولو ۔۔۔مت۔۔۔ ! اس سے پہلےکیا کیا۔۔۔۔ کیا ہے میں نے۔۔ بلال ۔۔۔۔ یاد ہے یا بھول گٸ۔۔؟؟

کنول کمزوری اسکے ہاتھ لگ چکی تھی۔ جو کنول کے حق میں بہت بری ثابت ہوٸ تھی۔

ناٶ۔۔۔ ڈیژیشن از یورز۔۔۔۔۔!

کےکے نےاسے ایسا پھسایا۔ کہ کنول کو یقین نہ آیا ۔ کہ وہ اسکے ساتھ ایسا کچھ کر سکتی ہے۔

کنول کے اندر ایک دم سے غبار بھر گیا۔

یو۔۔نو۔۔۔ کے کے ۔۔۔۔! یو جسٹ گیٹ لاسٹ۔۔۔! کہتے ہی کنول نے اسے پیچھے دھکا دیا۔ کہ وہ لڑکھڑاٸ۔

اسی لمحے ایک گاڑی تیزی سے وہاں آٸ۔ اور بریک لگاتے رکی۔ کے کے نامحسوس انداز میں پیچھے ہٹی۔ اور جھاڑیوں میں چھپ گٸ۔

آنے والا باہر نکلتا کنول کی جانب بڑھا۔ اسے دیکھ کنول کاسانس رکا تھا۔ لیکن کچھ فاصلہ پے آنے والارک گیا تھا۔ صرف گاڑی کی ہیڈ لاٸٹس کی روشنی میں اس شخص کا سایہ ہی کنول کو نظر آیا تھا۔ اسکا چہرہ واضح نہ ہوا تھا۔ لیکن سامنے کھڑے شخص کو پہچاننے کے لیے اسے چہرہ دیکھنے کی ضرورت کہاں تھی۔ وہ تو اسے ہزاروں میں پہچان سکتی تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آفتاب نے آنکھیں کھولیں تو سامنے سے سعدی آتا دکھاٸ دیا۔ آفتاب کا غص ہپھر سے عود کر آیا۔

اور سعدی کےبپاس آتےہی اسے کھینچ کے اک گھوسہ منہ پے مارا کہ سبھی دیکھتے رہ گۓ ۔ سعدی منہ پےہاتھ رکھے آفتاب کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنےلگا ۔

جب میں نےکہا تھا اندر جاٶ۔۔ اسے روکو۔۔۔ تب تمکہاں تھے۔۔۔؟؟ آج ۔۔۔آج صرف تمہاری لاپراہی کی وجہ سے۔۔۔ میری ماں۔۔۔۔موت کےمنہ میں چلی گٸ۔۔۔آفتاب نے اسکا گریبان پکڑے غصہ ضبط کرتے کہا۔

سر۔۔۔۔!میری بات۔۔سنیں۔۔۔!

سعدی منمنایا۔

کیا سنوں ۔۔؟؟ کچھ سننے کو باقی بچا ہے کیا۔۔؟ آفتاب نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔

یاد رکھنا۔۔اگر ۔۔۔میری ما ںکو کچھ بھی ہوا۔۔۔میں چھوڑوں گا نہیں۔۔ نہ اسے۔۔۔ نہ تمہیں۔۔۔!

صاف دھمکی والے انداز میں کہا۔ تبھی آٸ سی یو سے ڈاکٹر باہر نکلے ۔

ان پیشنٹ کے ساتھ کون ہیں۔۔؟

جی۔۔۔ وہ میری امی ہیں۔۔۔! آفتاب یے چینی سے آگے بڑھا۔

اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔ بچت ہوگٸ ہے۔ گولی چھو کے گزری ہے۔ خون زیادہ بہہ جانےکی وجہ سے معاملہ کریٹیکل ہوگیا تھا ۔ خیر۔۔۔ ! کچھ دیر تک انہیں ہوش آجاۓ گا۔

ڈاکٹر کے سلی دینےبپے آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا جبکہ ارباز خان کا ابھی بھی آپریشن ہو رہا تھا۔ ان کو گولی دل کے قریب لگی تھی۔ جس میں معاملہ زادہ بگڑا ہوا تھا ۔ خان۔کا رو رو کے برا حال تھا۔جبکہ شہیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ باپ کے گناہوں کا کفارہ کیسے ادا کرے گا۔۔۔؟؟

سر۔۔۔! میم کنول کی جان ابھی بھی خطرے میں ہے

سعدی دھیرے سے آفتاب کےکان میں بولا۔ تو آفتاب کےماتھےپے بل پڑے۔ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

جس لمحے میں اندر جا رہا تھا ۔ ایک شوٹر نے ۔۔۔ میم کنول کا نشانہ لیا تھا۔ میں اندر جانےکی بجاۓ اسکی طرف چلا گیا تھا۔ اگر۔۔۔ تھوڑی دیر بھی ہوجاتی ۔ تو۔۔ وہ گولی چلا دیتا۔۔۔! اسے پکڑا اور تھرڈ ڈگر ڈوز پے اس نےبتایا کہ۔۔۔ارباز خان نے اسے ۔۔ کنول میم کو مارنےکےلیےہاٸر کیا تھا۔۔۔

سعدی نے ساری بات آفتاب کے گوش گزاردی۔

آفتاب تو چپ سا ہوے رہ گیا۔ اسکےلیے ابھی بھی کچھ باتیں راز تھیں ۔ جسے جاننا اب آفتاب ک بہت ضروری ہوگیا تھا ۔ وہ کویں اسکی فیملی کی دشمن بنی تھی۔ اس کی وجہ تو اسنے اب تک جاننے کیکوشش بھی نہیں کی تھی۔

سر۔۔۔ میم کنول کا مارنےکے لیے ایک اور شوٹر ابھی بھی موجود ہے۔۔ ! سعدی نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر کھینچا۔

یکدم سے آفتاب کو وہ لوکشین ڈیواٸز کا خیال آیا۔ کاش۔۔ وہ پہلے ہی ا س پے کنول کی لوکیشن دیکھ لیتا۔ تو وقت پے خان ولا پہنچ جاتا۔ لیکن غصہ تو عقل کو کھا جاتا ہے۔۔

آفتاب نے موباٸل پے کنول کی لوکیشن چیک کی۔ اور سعدی کی طرف مڑا۔ اس نے بھی لوکیشن دیکھ لی تھی۔

میری امی کی حفاظت کرنا۔۔۔ ! صرف تم پےبھروسہ کر کرستا ہوں میں۔۔۔! اسکے کاندھے پے تھپکی دی۔

اکیلے مت جاٸیں۔۔۔۔میں بھی چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔!

سعدی کا نجانے کیوں دل گھبرا رہا تھا۔ آفتاب طنزیہ ہنسی ہنسا۔

فکر نہیں کرو۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا مجھے۔۔۔! تم۔۔ بس۔۔۔ امی جان کے پاس سے نہں ہٹنا۔۔۔! سخت انداز میں کہتا وہ باہر نکلنے لگا کہ ۔۔ عباد خان راستے میں حاٸل ہوۓ۔ انکے کندھے جھکےہوۓ تھے۔ آنکھیں آنسوٶں سے تر تھیں۔ اچانک معافی کے لیے ہاتھ اٹھے۔

آفتاب نے لب بھینچ لیے۔

میری۔۔۔بیٹی کو۔۔۔معاف کردو۔۔۔؟؟ ان کےالفاظ آفتاب کے فماغ میں جھکڑ چلا گۓ۔

پلیز۔۔۔! بیٹا۔۔۔! جو سزا۔۔ دینی ہے۔۔۔ مجھے دے دو۔ ۔۔۔لیکن۔۔۔میری ۔۔ بیٹی ۔۔۔کو۔۔۔؟؟

وہ بہت بری طرح رو دیٸے تھے۔ آفتاب نے ایک نظر پاس کھڑے شہیر کو دیکھا۔

جس نے آفتاب کے کاندھے پے ہاتھ رکھا۔

کنول بھابھی۔۔۔ عباد انکل کی بیٹی ہیں۔۔۔!

آفتاب پیچھے ہوتا نفی میں سر ہلاتا تھوڑ سا لڑکھڑایا۔

شہیر نے اسے مختصراً جو ہوا۔ سب بتایا ۔ اس میں وہ باپ کا وہ گناہ چھپا گیا ۔ جسے سوچتے بھی اسکا دل کانپ رہا تھا۔

آفتاب نے ایک نظر سب کو دیکھا۔

اس سب میں میری ماں کا کیا قصور۔۔۔؟؟ یہ غلط کیا اس نے۔۔۔! آفتاب کا دھیمےلیکن سخت انداز میں کہنا شہیر کو بری طرح کھٹکا گیا ۔

ایسا۔۔۔ نہیں۔۔۔! آفتاب بھاٸ۔۔۔ ! رکیں۔۔۔ میری بات۔۔۔؟؟

آفتاب بنا پوری بات سنے ہاسپٹل سے باہر نکلتا چلا گیا۔ عباد صاحب منہ پے ہاتھ رکھتے آٸ سی یو کےباہر جا کھڑے ہوۓ جہاں انکی شریک حیات بے ہوش تھیں۔ جبکہ ایک شریک حیات جو کہ انکی محبت تھی۔ ان کی چاہت اسے وہ کھو چکے تھے۔ مریم۔۔۔

انکی موت کا سن کے ان کے دل پے ایک بوجھ آن پڑا تھا۔وہ سمجھ نہیں پارہے تھے۔ کہ کس کس طرح اپنی دونوں بیویوں کے آگے وہ شرم سار ہوۓ تھے۔

ایک کو انہوں نے بے عزت کر کے نکال دیا تو دوسری انکی جان بچانے کے لیے گولی کے آگے خود آگٸیں۔

انہیں لگا انکا دل پھٹ جاۓ گا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آپ نے مجھے بلایا تھا۔۔۔؟؟ عابی جھجھکتے ہوۓ شامی کے روم میں داخل ہوٸ۔

سارا دن وہ اپنے دل کا غبار وہ جم میں رہ کے نکالتا رہا۔ لیکن غصہ بڑھتا رہا ۔ گھر آیا تو عابی کوکچن میں جمیلہ خاتون کے ساتھ کام کرتے دیکھا۔ جمیلہخاتون فون سننے اندر گٸیں تتو وہ کچن میں آگیا ۔

بات سنو۔۔۔! ک

وہ جو ہانڈی میں چمچ ہلا رہی تھی۔ شامی کے پکارنے پے بری طرح چونکی۔

تم ایک دم سے ایسے کیوں بٹی ہیو کرتی ہو۔۔۔ جیسے کوٸ جن دیکھ لیا ہو۔۔۔؟؟؟ شامی نے دانت پیسے۔

نننہیں۔۔۔ وہ تو۔۔۔ہم۔۔۔؟؟ عابی کی زبان ہمیشہ اسکے سامنے لڑکھڑا جاتی تھی۔

میرے روم میں آٶ۔۔ ! کام ہے تم سے۔۔۔! کہتے وہ پلٹا۔۔۔

لیکن۔۔۔ہم۔۔تو کچن میں۔۔ کام۔۔؟؟ وہ فوراً سے بولی ۔ لیکن پلٹ کے شامی کو گھورتے دیکھا۔ تو باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ

کام ختم کر کے آٶ۔۔ میں ویٹ کر رہا ہوں۔ شامی نے دھیرے سے کہا۔ ورنہ جانتا تھا۔ وہ اسکے غصے سے خاٸف رہتی تھی۔

۔ عابی کا انتظار کرتے وہ آنکھیں موندے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔ اسے کافی دیر ہوگٸ تھی۔ وہ نہ آٸ تو وہ اٹھ کے شاور لینے چلا گیا۔ واپس روم میں آیا تو اسے وہیں صوفے پے بیٹھا پایا۔

شامی کو شرٹ لیس ٹاول لیے دیکھ وہ جھٹ سے دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑی ہوتی نظریں جھکا گٸ۔

شامی زیرلب مسکایا۔

شرٹ پہنتا اسکے پاس آیا۔

یہاں آٶ۔۔۔! سنجیدہ انداز میں اسکا ہاتھ تھامے بیڈ پے بیٹھا ۔ عابی کا دل پسلیاں توڑ باہر آنے کو تھا۔ اسکے اندر کا حال اسکے ماتھے پے نمودار ہوتے پسینے کے قطروں نے شامی پے واضح کر دیا تھا۔

مجھےاس لڑکی کے بارے میں سب جاننا ہے۔ بہت سپاٹ انداز تھا۔ کہ عابی نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

کیاہوا۔۔؟؟ کچھ ایسا تو نہیں پوچھ لیاجس کا جواب نہیں آتا۔۔؟؟ جو یوں دیکھ رہی ہو۔۔؟؟

آپپپ۔۔۔ کیوں۔۔؟؟ جاننا۔۔چاہتے۔۔۔؟؟ ڈرتے ہوۓ ناگواری سے پوچھا۔

جتنا پوچھا ہے۔ اتنا جواب دو۔۔۔ ! شامی نے اسکی کلاٸ تھامی ہوٸ تھی۔ جس پےاب کی بار گرفت سخت ہوٸ تھی۔

وہ۔۔۔وہ ۔۔زک۔۔۔یہ۔۔۔ ہے۔۔۔!

یہ میں بھی جانتا ہوں۔۔ مجھے وہ جاننا ہے۔ جو میں نہیں جانتا ۔۔! شامی نے اسے اب کی بار زیاہ سختی سےکہا تو وہ سر پے دوپٹہ صحیح کرتی گھبراٸ سی بولنا شروع ہوٸ۔ اور شامی بساسے سنتاچلا گیا۔ کہ ایک لمحے کو اسکا دماغ عابی کے گلابی لبوں کو ہلتا دیکھ ایک ہارٹ بیٹ مس کی۔

عابی نے اسکی آنکھوں میں امڈتے جذبات دیکھ نظریں جھکاٸیں۔ اسکا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ ایج میں چھوٹی تھی۔پر ۔۔اتنی بھی چھوٹی نہ تھی۔ کہ شامی کی نظروں کا مفہوم۔نہ سمجھ سکے۔ لیکن۔۔ شامی جانتا تھا ۔ وہ بہت معصوم ہے۔

ہم۔۔۔جاٸیں۔۔؟؟ عابی نے نظریں جھکاۓ دھیرے سے پوچھا ۔

شامینے گہرا سانس لیا ۔ اور اثبات میں سر ہلایا ۔ عابی فوراً سے وہاں سے باہر نکل گٸ۔

شامی نہیں چاہتا تھا۔ وہ مزید اسکے پاس رکے وہ اپنے منہ زور جذبات کو روکنے میں ناکام ہوتا۔ عابی کا جانا ہی بہتر تھا۔

سر تکیہ پے گرا کے وہ عابی کا سندر روپ نظروں میں سماۓ اب وہ اپنے آپ کو پر سکون محسوس کر رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کیوں ۔۔۔؟؟ کیوں۔۔؟ کیاایسا۔ تم۔۔۔نے۔۔۔۔؟؟

آفتاب کا درد بھرا لہجہ کنول کو توڑ کے رکھ گیا تھا ۔لیکن۔۔ وہ کمزور نہیں پڑھا چاہتی تھی۔ کم سے کم آفتاب کے سامنے۔۔ kk کے وہاں ہوتے۔۔ ورنہ۔۔؟؟ وہ کیاکر جاتی۔۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔

دور رہو۔۔ مجھ سے۔۔۔ کوٸ تعلق نہیں اب میرا تم سے۔۔!

کنول نے انگلی اٹھا کے اسے وارن کرنا چاہا۔ جبکہ لہجہ الفاظ کی چغلی کھا رہا تھا ۔

تم۔۔۔م۔۔۔؟؟ تمہاری ہمت کیسے ہوٸ۔۔ میری ماں۔۔؟؟

آفتاب۔۔۔؟؟ کنول نے نیچے گری گن اٹھاٸ اور ابکی بار اسکا رخ آفتاب کی طرف کیا ۔

چلیں جاٸیں یہاں سے۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟؟ دونوں ہاتھوں سے گن کو مضبوطی سے تھامے وہ آفتاب کو حیرت میں ڈال گٸ۔

تم۔۔۔ مجھ پے گولی چلاٶ گی۔۔۔؟؟ آفتاب نے اسکےکانپتےہاتھوں کو دیکھا۔

میں ۔۔۔کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔کچھ بھی۔۔۔! جاٸیں یہاں سے۔۔۔۔! کنول چلاٸ تھی وہ چاہتی تھی آفتاب یہاں سے چلا جاۓ۔ وہ بعد میں اسے سب بتا دیتی ۔۔ابھی وہ kk کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔

تمہارا بدلہ خان ولا میں رہنے والوں سے تھا ناں۔۔۔؟؟ میری امی کا کوٸ قصور نہ تھا۔۔ لیکن۔۔۔ میری۔۔امی پے۔۔ تم نے۔۔ گولی۔۔ چلاٸ۔۔۔! اپنے بدلے میں تم اتنی اندھی ہوگٸ۔ کہ صحیح اور غلط کا فرق ہی بھول گٸ۔۔۔؟؟ آفتاب کے لہجے میں دکھ تھا۔

مجھے صرف اپنی ماں یاد ہے۔۔۔ آفتاب۔۔۔اسکا درد ۔۔دکھ تکلیف۔۔۔ بس۔۔۔! جس نےایک رات مجھے سکون سے سونے نہیں دیا۔۔۔! سب کو اپنے درد اپنے فکر نظر آتے ہیں۔۔ کنول۔۔۔کا دکھ۔۔۔ کسی کو نظر نہیں آتا۔۔۔! کنول کا انداز بھی دکھی تھا۔

اس سب میں امی کو کیوں انولو کیا۔۔؟ آفتاب غصہ سے آگے بڑھا۔ کہ

رک جاٸیں وہیں۔۔ورنہ۔۔۔گولی چل جاۓ گی۔۔ آفتاب۔۔! کنول نے اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

چلاٶ۔۔ گولی۔۔! کِل می۔۔۔!

آفتاب کی زبان سے نکلےالفاظ نے کنول کا دل چھلنی کر دیا۔ اسکے قدم بھی بری طرح ڈگگاۓ۔

آج دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیسے۔۔۔؟؟ ایک بیوی اپنے شوہر پے گولی چلاتی ہے۔۔۔! ایک ایک قدم وہ آگے بڑھا تھا ۔

آ۔۔۔آفتاااب۔۔۔۔ سٹاپ۔۔اٹ۔۔۔! کنول چلاٸ تھی۔

لیکن آفتاب کے قدم نہ رکے تھے۔

اور تبھی خاموش فضا میں ایک گولی چلی تھی۔ جو آفتاب کے باٸیں کندھے میں پیوست ہوٸ تھی۔ کنول کی آنکھیں چندھیا گٸیں۔

آفتاب کے بازو میں شدید درد کی ایک لہر اٹھی۔ آنکھوں کےآگے اندھیرا سا چھا گیا۔ بے یقینی سے کنول کو دیکھا ۔ گن اسکےہاتھ سے چھوٹ کے زمین بوس ہوٸ تھی۔ کنول کو لگا اسکی سانس بند ہورہی ہو۔۔۔ آفتاب نیچے زمین پے گھٹنوں کے بل گرا۔

کنول کواپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔

آفتاب نے دوسرےہاتھ سے بازو کو چھوا تو خون سے ہاتھ بھر گیا۔ اور پھر سامنے کھڑی دشمنِ جاں کو دیکھا۔ جس نے وار ہی سیدھا دل پے کیا تھا۔ ایک طرف کو آفتاب کا سر نیچے گرا۔ تو دوسری طرف کنول کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوٸ ۔ اس نے آفتاب کےپاس جانا چاہا لیکن اسکے قدم ہی نہیں اٹھ پا رہے تھے۔ بھاگتے ہوٸے اسکے پاس جانا چاہا ۔ کہ گر پڑی۔ سر پے سخت چوٹ آٸ۔ آفتاب کی ادھ کھلی آنکھ نے یہ منظر دیکھا تھا۔ اور کنول کےپاس ایک سایہ دیکھا ۔ جس نے کنول کو اٹھایا تھا۔ اور اسے لیے وہاں سے نکل گیا۔۔ اس سنسنان برستی بارش میں خون سےلت پت آفتاب وہیں ہوش وخررد سے بیگانہ ہوتا چلا گیا۔

وہ شاید اپنے آپ کو خود موت کے حوالے کر رہا تھا۔

پہلی بار محبت کی۔

دل نے کسی کو چاہا۔۔ شدت سے۔۔۔

اور اسی نے محبت سے بھرے اس دل پے وار کر دیا۔

وہ گولی کی تکلیف سے نہیں محبت کی تکلیف سے مر رہا تھا۔

پیار جو ملا مجھ کو۔۔۔۔

جینے کا بہانہ تھا۔۔۔۔۔

کیا پتہ تھا جاں لےلے گا۔۔۔

دل میرا نشانہ تھا۔۔۔ 💔💔

درد تھا نصیب میں ۔۔۔

درد کونبھانا تھا۔۔۔

آگ کے سمندر میں۔۔۔

ڈوب کے ہی جانا تھا۔۔۔

زخم پہلے مٹے نہ آکےاور دیتےہیں۔۔۔

مانو جن کو سہارا وہی چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔

میرے نصیوب میں لکھیا مولا تو۔۔۔۔۔

💘
💘
💘
💘
💘

اور آخری۔۔ چہرہ اسکی آنکھوں میں اسکی ماں کا آیا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ڈاکٹر نے اباز خان کے آپریشن کے بعد باہر آتے ان سب کو ایک نظر سے دیکھا۔

کیییسے ہیں۔۔ وہ۔۔؟ خانم نے ڈوبتے دل سے پوچھا۔

ہم ۔۔نے انہیں بچا تو لیا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔؟؟ ڈاکٹر کے لیکن پے سبھی کے چہرے پے فکر کی لکیریں نمودار ہوٸیں۔

لیکن کیا۔۔ڈاکٹر۔۔؟؟ شہیر نے آگے بڑھ کےماں کو سنبھالتے ڈاکٹر سے پوچھا ۔

گولی انکی جس وین میں لگی ہے۔ وہ وین بہت سخت متاثر ہوٸ ہے۔ جس وجہ سے انکا پیراللزم ہونے کا چانس ہے۔

ان کے الفاظ سب پے بم کی طرح پھٹے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا۔کہ کیا کہے۔ خانم۔منہ پے ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رودیں۔

دیکھیں۔۔ یہ ان کے ہوش میں آنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔ کہ کتنا نقصان ہوا ہے۔۔۔! آپ اللہ سے دعا کریں۔ جس نے سانسیں بخشیں ہیں۔ وہ اپنا کرم مزید ان پے کرے۔

ڈاکٹر نے شہیر کے کندھے پے تھپکی دی۔

کچھ گناہوں کی معافی نہیں ہوتی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔!انکا بس کفارہ ہوتا ہے۔

عباد خان نے دکھ سے کہا۔

کچھ دیر میں ایس پی صاحب آجاٸیں گے۔ آپ کے انکے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ہم نے بنا کیس کے آپریٹ تو کر دیا۔ لیکن۔۔ اب آپ کوواپریٹ کیجیے گا ۔

ڈاکٹر کہتےوہاں سے چلا گیا۔

میں تو ۔۔اس کنول کو پھانسی دلواٶں گی۔۔۔ خانم نے نفرت اور حقارت سے کہا۔

کوٸ بھی کنول بھابھی کا نام نہیں لے گا۔ کوٸ کچھ نہیں بولے گا۔ میں خود ہینڈل کر لوں گا۔ سنا سب نے۔۔۔! شہیر کے غصے سے کہے الفاظ نے خانم کو مزید دکھی کر دیا۔

جبکہ وہ کنول کو معاف کرنے کا ارادہ نہ رکھتی تھیں۔

ان سب میں سعدی وہاں سے نامحسوس انداز میں جا چکا تھا۔جسے کسی نے نوٹ نہ کیا۔

جبکہ خان ولا میں دی جے جاٸ نماز بچھاۓ بیٹھیں ادعا کے لیے ہاتھ بلند کیے ہوۓ تھیں۔انکی آنکھیں اشک بارتھیں۔ لب پیوست تھے بس جھولی میں آنسو گرتے جا رہے تھے ۔آج انہیں وہ معصوم مریم شدت سے یاد آرہی تھی۔ جس کے سبھی گناہ گار تھے۔ ان گناہ گاروں میں وہ بھی شامل تھیں۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *