Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 15)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
گھر پہنچتے ہی ارسل نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
تو عظمی راہ میں رکاوٹ بن گٸ۔
ارسل نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔
کہاں۔۔؟؟ جس سے نکاح کیا۔۔۔ اسی کے ساتھ جا کے رہیں۔۔۔ یہاں۔۔ کیوں آۓ ہیں اب۔۔؟
ارسل نے اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھیں تھیں۔ جو جو رو کے وہ سوجا چکی تھی۔
یہ۔۔۔ میرا گھر ہے۔۔۔ میں جب چاہے۔۔ یہاں آسکتا ہوں۔۔ تم کون ہتی روکنے والی۔۔؟؟
ارل نے منہ بگاڑ کے کہا۔ اور اپنا کوٹ چیٸر پے اچھالا۔
لگتا۔۔۔ہے۔۔۔ ہت بڑی ناکامی ہوٸ ہے۔۔؟؟ عظمی نے طنزیا لہجے میں کہا۔
ارسل نے مڑ کے ایک قہر کی نظر اس پے ڈالی۔
اپمے بھاٸ سے پل پل کی خبریں لیتی ۔۔ اور دیتی۔۔ ہوناں۔۔؟؟ اب بھی اسی سے پوچھ لو۔۔۔ میری جان چھوڑو۔۔۔ ! ارسل نے کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالے۔
آپ۔۔۔۔مجھے ۔۔بتاٸیں۔۔۔ کیا۔۔ واقعی۔۔ آپ نے۔۔۔ نکاح کر۔۔لیا۔۔؟؟
عظمی نے ارسل کا ہاتھ تھامتے بہت لجاجت سے پوچا۔
ایک پل کو ارسل کا دل چاہا۔ اسے اپنی بانہوں میں بھر لے۔ لیکن۔۔ ابھی وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔
کیوں۔۔؟ بھاٸ نے بتایا نہیں۔۔؟؟ اپنے کارنامے کا ۔۔؟ ہاتھ چھڑاتے اجنبیت سےکہا۔
عظمی کی آنکھیں بھر گٸیں۔
آفتاب کافون نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے بھی وہ کافی نے چین تھی۔ حقیقت جاننے کے لیے۔ ارسل باتھ روم میں گھس گیا تھا۔ اور وہاں سے باہرہال میں آگٸ۔ کہ تنھی میسج ٹون بجی۔
عظمی۔۔۔! ارسل صرف تمہارا ہے۔ نکاح نہیں ہوا۔۔۔ اور اب کوٸ ٹنشن نہیں لینی میری بہن نے۔۔۔ میں ہوں۔۔ ناں۔۔ سب ٹھیک کر دوں گا۔
آفتاب کا میسج پڑھ کے اسکے ہرے پے ایک سکون آگیا تھا۔
بے اختیار اپنے پیٹ پے ہاتھ رکھا۔ اور اس آنے والی زندگی کا سوچتے مسکرا دی۔
اسے دو دن پہلےہی پتہ چلا تھا۔ کہ وہ امید سے ہے۔ لیکن۔۔ ارسل کے نکاح کی وجہ سے وہ اسے نہ بتا پاٸ۔ اس نے جان بوجھ کے ایس کیاتھا۔ اگر ارسل نکاحکر لیتا۔۔ تو وہ عظمی اس سے الگ ہو کے کہیں دور چلی جاتی۔ اور پھر کببھی اسکو اسکے بچےکا نہ بتاتی۔
لیکن اگر وہ بچے کا بتا کے بھی اسے روکنا چاہتی تو وہ کبھی رکتا تو نہ۔۔ لیکن۔۔البتہ۔۔ اسکے راستے ناہموار کر دیتا۔۔۔ اور ایک ڈر تھا۔ کہ بچہ لے کے اسے نکال دے گا۔ وہ بہے وہمی اور ان سیکیور لڑکی تھی۔ رسک نہیں لیتی تھی۔ پلاننگ کرتی تھی۔















صبح سورج کی پہلی کرن خان ولا میں خوشیاں لے کے آٸ تھی۔
سبھی اپنے اپنے روٹین کے کاموں میں مصروف تھے۔ جب کہ ان سب میں خانم اپنی نٸ بہو کے ویلکم کی تیاری کر رہی تھیں۔ جس میں انکی بہن سامعہ بے دلی سے انکا ساتھ دے رہی تھیں۔
یہ۔۔ابھیتک چھوٹے خان اور ۔۔ بہو رانی آٸے نہیں؟
ریمبو۔۔۔؟؟ انہیں بلا لاٶ۔۔۔۔! خانم نے چہرے پے پیار لاتے کہا۔ تو ریمبو سر اثبات میں ہلاتا ان کے روم کی جانب بڑھا۔ جہاں سے شہیر انابیہ کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ریمبو انہی قدموں سے واپس پلٹ گیا۔
آٶ۔۔ آٶ۔۔ بچو۔۔۔۔!جلدی سے ان کے نیچے پہنچتے ہی ڈھیروں روپے ان پے وارتے انکا صدقہ اتارا۔
انا کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔
مما جان۔۔۔! شہیر نے پیار سے ماں کے ہاتھ تھامے۔
معاف کرنا بیٹا۔۔ غصہ اور جذبات میں آپ دونوں کا دل دکھایا۔ لیکن۔۔۔ اب مجھے سمجھ آگٸ۔۔ ہے۔۔۔ انابیہ۔۔۔ میرے خان کی خوشی ہے۔۔ انابیہ کےچہرے پے پیار سے ہاتھ پھیرا۔ تو وہ بھی مسکرا دی۔
اس لیے۔۔۔ جو جس کا حق ہے۔۔ اسے ملے گا۔۔۔ بس ایک گلہ رہ گیا ہے۔۔ بیٹا۔۔۔ کیا ماں باپ اتنے برے تھے کہ ۔۔۔ چپ چپیتے رخصت کر کے لے آۓ میری بہو کو؟
پیار جتاتے منہ بنایا۔ اور گلہ کر ہی دیا۔
معاف کر دیں مما جان۔۔۔ ! شہیر نے انکے ہاتھ چومے۔۔
آپ جانتی ہیں۔۔ مجھے یقین تھا۔۔کہ آپ میری خوشی کی کبھی مخالت نہیں کریں گیں۔ آپ ۔۔۔بہت اچھی ہیں۔۔۔ مماجان۔۔۔۔! شہیر نے مسکراتےکہا ۔ جبکہ خانم کےچہرے کا رنگ متغیر ہوا۔
ہمممم۔۔۔۔ چلو ناشتہ کرتےہیں۔۔۔ سب کچھ آج ۔۔۔ میرے بیٹے کیپسند کا ہے۔
خانم نے ان کو ناشتے کی ٹیبل پے بہت پیار سے بٹھایا۔
سبھی بہت حیران تھے۔ یہ اچانک رات میں کایا پلٹ کیسے؟ لیکن۔۔ کوٸ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ خانم ہے۔۔ اور اسکا دماغ شیطانی۔۔۔ اور ضرور کوٸ نہ کوٸ پلان ہوگا ان کے دماغ میں۔















کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیا کہنا ہے۔۔؟ آفس میں سعدی کی آمد نے آفتاب کو چونکا دیا۔
سر۔۔خان۔۔۔!۔۔وہ بچہ۔۔بلال۔۔۔ غاٸب ہے۔۔۔کہاں ہے۔۔ ابھی تک خبر نہ مل سکی۔
دھیرے دھیرے بات کی۔
ہمممم۔۔۔۔ اور۔۔۔مس کنول۔۔۔؟ اگلا سوال داغا۔
سر۔۔ وہ رات کو اپنےہاسٹل جاتے دیکھی گٸ ہیں۔۔
سعدی چاہ کے بھی انہیں پوری بات نہ بتا سکا۔ بنا کسی ثبوت کے وہ کچھ بھی کہتا۔۔۔تو الزام تراشی ہوتی۔جبکہکنول اب آفتاب کے نکاح میں تھی۔
ٹھیک ۔۔۔ہے۔۔۔وہ اس وقت آفس میں ہے۔۔ میں خود بات کرلوں گا۔ اور وہ قیصر۔۔۔؟؟
ٹاپک جان بوجھ کے چینج کیا۔
سر۔۔ وہ ملک سے باہر ہے۔۔۔ جیے ہی پاکستان داخل ہوگا۔ پکڑا جاۓ گا۔
سعدی نے یقین سے کہا۔
صحیح۔۔۔ امی جان۔۔ کی سیکیورٹی ۔۔۔ میں کوٸ کمی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ سعدی۔۔۔۔! میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔ وارننگ والےانداز میں کہا۔
جی سر۔۔۔۔! بے فکر رہیں۔۔۔
سعدی کہتےہوۓ باہر نکل گیا۔
رات بھر وہ اپارٹمنٹ میں ہی رہا ۔ خان ولا نہ گیا۔ لیکن۔۔ وہاں کیا ہو رہا ہوگا۔۔۔ اسے سب خبر تھی۔۔۔ کیونکہ خانم کو وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ خان ولا میں موجو ریمبو۔۔۔ اسی کا آدمی تھا۔ جو اسے پل پل کی رپورٹ دیتا تھا۔ اور یہ بات کوٸ نہیں جانتاتک نہ تھا۔
سعدی کے جانے کے بعد آفتاب نے کنول کو آفس میں بلوایا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اسکے سامنے تھی۔
کالے کپڑوں میں اسکا کھلتا رنگ ایک لمحے کو آفتاب کی نظریں اس پے جم سی گٸیں۔
جی۔۔۔آپ نے بلایا تھا۔۔؟ لاپراوہ انداز ۔۔۔ جیسے کل کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔
جی تو چاہا اس سے پوچھے ۔۔ بلال کہاں ہے۔۔؟؟ لیکن وہ اسکے اندر کے راز تک پہنچنا چاہتا تھا۔ اسلیے اگنور کر گیا۔
مسٹر علی کے پروجیکٹ کی فاٸل کہاں ہے۔۔؟؟ لےکے آٸیں۔۔
کرخت انداز میں کہا۔ اور لیپ ٹاپ آن کیا۔
کنول ایک نظر اسے دیکھتی باہر نکلی ۔اور کچھ دیر بعد ایک فاٸل کے ساتھ واپس اندر آٸ۔
فاٸل ٹیبل پے رکھی۔ آفتاب نے بنا کنول کی طرف دیکھتے فاٸل پے نظر دوڑاٸ۔
اس پے مسٹر علی کے ساٸن نہیں ہیں۔۔؟ ماتھےپے بل ڈالے پوچھا۔
انہوں نے نہیں کیے تھے۔ سادہ سا جواب آیا ۔
آپکاکام تھا ناں۔۔ یہ ساٸن کروانا۔۔۔؟؟ لہجہ تلخ ہوا۔
کنول نے اپنی گہری کالی آنکھیوں سے آفتاب کی گرین آنکھوں میں جھانکا۔
آپ۔۔کس اور سے کہیں کے۔۔۔وہ ساٸن کروادے۔۔۔ کنول نےنظریں چراتے کہا ۔
کیا مطلب۔۔۔؟ آپ کا کام کوٸ اور کیوں کرے گا۔۔۔؟؟ آفتاب کو سخت غصہ آیا۔
پکڑیں یہ فاٸل۔۔۔ اور جاٸیں۔۔ ساٸن کرواٸیں ان سے۔
آفتاب نے فاٸل ٹیبل پے پٹخی۔ کنول کو سخت غصہ آیا۔ لیکن بنا ایک لفظ کہے آگے بڑھ کے فاٸل اٹھاٸ۔ اور باہر نکل گٸ۔
سر۔۔۔! میں مسٹر علی کی طرف جا رہی ہوں۔۔ اس فاٸل پے ساٸن لینےبیں۔۔!
سر صدیقی کو بتاتے وہ منہ بنا کے باہر نکلی۔
وہ آفس ہیکی گاڑی میں مسٹر علی کے آفس میں اس سے ملنے جا رہی تھی۔
لیکن فن پے انہیں اطلاع دی اپنے آنےکی۔تو انہوں نے نول کو ایک ہوٹل کا ایڈریس دے دیا۔ کہ ہ اس وقت یہاں ہیں۔ تو وہ بھی یہیں آجاۓ۔
کنول نے ڈراٸیور کو ایڈریس بتایا اور آفتاب کے رویے کے بارے میں سوچنے لگی۔
آفتاب کا رویہ اس کے لیے خان ولا میں انٹری کو مشکل با سکتا تھا۔ لیکن۔۔ اسے آفتاب کو جیسے بی کرکے۔۔ چاہے غصہ سے یا پیار سے ۔۔ ہینڈل کرنا تھا۔ اسے اپنے مقصد کو پورا کرنا تھا ہر حال میں۔۔ اور اپنی ماں کا بدلہ لینا تھا۔۔ آفتاب ۔۔۔صرف ایک مہرہ تھا۔ جس کے ذریعے وہ خان ولا میں داخل ہو سکتی تھی۔
یہی سوچتے سفر ختم ہوا۔ اور وہ ہوٹل میں داخل ہوٸ۔
ٹیبل نمبر چھ پے کنول کو مسٹر علی نظر آگۓ۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم مسٹر۔۔علی۔۔۔ ! مہذبانہ انداز میں سلام کیا۔
وعیلکم اسلام۔۔۔۔ زہے نصیب۔۔۔ آج تو صبح صبح ہی چاند کا دیدار ہوگیا۔۔۔! تھوڑا مسکراتے کنول کا سر سے پیر تک جاٸزہ لیتےکہا۔
کنول پیچ و تاب کھاتی رہ گٸ۔
یہ۔۔ فاٸل۔۔۔ آپ نے ساٸن نہیں کیا تھا اس پے۔۔ دیکھ لیں۔۔ اور ساٸن کر دیں۔۔
کنول سیدھا مدعےپے آتی فاٸل انکی طرف بڑھاٸ۔۔
ارے دیکھ لیں گے فاٸل بھی۔۔۔ پہلے آپ کو تو دیکھ لیں۔۔۔! فاٸل اٹھا کے ساٸیڈ پے رکھی۔
یو لکنگ سو ہاٹ۔۔۔۔۔! آنکھوں میں حوس ٹپکتی کنول کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔
مسٹر علی۔۔۔ ! آپ ساٸن کردیں۔ مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔
یو نو۔۔۔ مس کنول۔۔۔؟؟ یہ پروجیکٹ پانچ کروڑ کا ہے۔۔ اور ۔۔ میرے ساٸن کی قیمت۔۔ اس وقت۔۔ پانچ کروڑ۔۔۔!
ساٸن ۔۔۔ تو۔۔۔ میں کر ہی دوں گا۔۔۔ بنا اک نظر دیکھے۔۔۔ بس۔۔۔ آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ یہ رہا میرا۔۔ کارڈ۔۔ پیراڈاٸز ہوٹل میں رکا ہوں۔ روم نمبر ایک سو دو۔۔ میں۔۔ رات نو بجے۔۔۔ آپ کا انتظار کروں گا۔۔ آپ آٸیے گا۔۔ اور۔۔۔۔ معنی خیزی سے دیکھا۔
فاٸل پے ساٸن کرو اکے لیجاٸے گا۔
اپنی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاٸ۔
آپ ابھی اسے پڑھ کے ساٸن کر سکتے ہیں۔۔۔ ! کنول نے چبا چبا کے کہا۔
ارے۔۔۔ مس کنول۔۔۔ ! میں اس فاٸل۔کو نہیں ۔۔۔ آپ کو پڑھنا چاہتا ہوں۔۔ اور اس فاٸل پے تق آنھ بند کر کے ساٸن کر دوں گا۔۔۔
خماری بھرا لہجہ۔۔ کنولکو سلگا ہی گیا۔ لیکن خود پے قابو رکھا۔ اور مسکراٸ۔
شیور سر۔۔۔! پھر ملاقات ہوتی ہے۔۔ رات کو۔۔۔ نو بجے۔۔ ہوٹل۔۔۔ پیراڈاٸز۔۔۔ سرگوشیمیں کہتےوہ۔مسٹر علی کو مدہوش کر رہی تھی ۔
روم نمبر ایک سو دو۔۔۔۔۔ باٸ۔۔۔۔ ! فاٸل وہیں چھوڑے۔وہ وہاں سے اٹھ آٸ۔اب اسکا رخ آفتاب کے آفس کی جانب تھا۔ جہاں وہ اسکا بے صبری سے ہی سہی لیکن۔۔ انتظار کر رہا تھا۔















وہ ابھی ابھی جاگی تھی۔ لیکن دماغ بالکل ماٶف تھا۔
کل کی باتیں یاد کرتے اسے۔۔ بہت کچھ یادآنے لگا۔
جسے سوچتی اس نے بھاری سر کے ساتھ نفی میں ہلایا۔ اور کل کے لمحے اس کی آنکھوں کے گرد گھومے۔ جب ۔۔۔؟؟
سفید پاٶڈر کووہ ہتھیلی پے رکھتی اب اس مواد کو اپنے اندر اتار رہی تھی۔ ایک سکون سے دوڑ گیا تھا اسکے اندر ۔۔ دماغ ماٶف سا ہوگیا۔
ایک سکون دیتے سرور کو محسوس کرتی وہ موباٸل پے آتی کال کو نظر انداز کرتی اپنے نشے میں مست ریوالنگ چیٸر پے جھولے جا رہی تھی۔
لیکن موباٸل کی مسلسل بجتی ٹون پے وہ بدمزہ ہوتی کال رسیو کر گٸ۔
کیامسٸلہ ہے۔۔؟؟ آنکھیں موندے ہی اس نے منہ بگاڑ کے کہا۔
سفید رنگت۔۔۔ آنکھوں میں گہرا کاجل۔۔ ہونٹوں پے دلفریب لال رنگ۔۔ ناک کے درمیان میں چھوٹی سی نتھلی۔ تھوڈی کے اوپر ایک چھوٹا سا ٹیٹو۔ اور گلےمیں گولڈ چین۔۔ وہ ایک خوبصورت بلا تھی۔
میں اس وقت لاہور سے کراچی نہیں آسکتی۔۔۔ اور یہ مسٸلہ تمہارا ہے۔ تم خود سالو کرو۔۔۔ !
آنکھیں کھول کے کہتی وہ ہرے پے بے زاری لےآٸ تھی۔
اسکی گرین آٸز دیکھنے والے کو ایک پل کے لیے حیراں کر دینے والی تھی۔
تم اپنےمقصد سے ہٹ رہی ہو۔۔ اس بچے کی وجہ سے۔۔ ! جسٹ لیو ہم۔۔۔۔! سگریٹ سلگاتے وہ اپنے اندر کے سلگتے پن کو کم کر رہی تھی۔
آگے سے کچھ کہا گیا اور ساتھ ہی کھٹاک سے فون بند ہوگیا۔
اس نے بھی بنا کسی پرواہ کے موباٸل بستر پے اچھالا۔ اور آنکھیں موندتی پھر سے پرسکون ہونے لگی۔













کال بیک کرنے کا سوچا۔لیکن۔۔ پھر پہلے شاور لینے چلی گٸ۔ واپس آتے ہی کال بیک کی۔ جو دوسری بیل پے ہی اٹھا لی گٸ۔
کیا ہے۔۔؟؟ لہجے میں غصہ تھا۔
جسے محسوس کرتے اس نے پنک لب دانتوں تلے دباۓ۔
وہ ۔۔کل فون کیا۔۔۔؟؟ تو میں۔۔ ؟تم پریشان تھی۔۔؟ اسے سمجھ نہ آرہا تھا۔ کہ کیا بولے۔
کے کے۔۔۔ تم۔۔ا س قدر بدل جاٶ گی۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔ خیر۔۔۔ میرا مسٸلہ حل ہو گیا تھا۔
کنول نے بات بدلی۔ وہ جانتی تھی۔ اسکے ڈرگز لینے کی عادت کو۔ اسی وجہ سے وہ اس سے نالاں بھی رہتی تھی۔ لیکن کے کے بھی مجبور تھی۔ بنا ڈرگز کے اسے نند نہیں آتی تھی۔ وہ بے سکون رہتی تھی۔
اچھا۔۔۔ !میں نے۔۔ کراچی آنے کا ارادہ کیا ہے۔۔۔ اپنا ایڈرس سینڈ کرو۔۔۔۔!
کے کے فقراً مدعے پے آٸ۔
کنول نے ایک منٹ کے لیے موباٸل کو گھورا۔
تم۔۔ ابھی کراچی نہیں آسکتی۔۔۔ جب کہوں گی۔۔ تب آجانا۔۔۔! کنول کا سپاٹ انداز کےکے کو برا لگا۔
کل تک تو بلا رہی تھی۔۔۔ اب کیا ہوا۔۔؟؟ آگے سے طنزیہ جواب آیا۔
کل چلی گٸ ہے کے کے۔۔ اور اب تمہاری فی الحال ضرورت نہیں۔۔ جب ہوٸ۔۔۔ بلوا لوں گی۔
کنول نے سنجیدہ اداز میں کہا۔ جس پے آگے سے فون بند ہو چکا تھا۔وہ جانتی تھی۔ کہ اب کیا ہوگا۔۔۔ وہی کےکے ہوگی۔ اور وہی نشہ۔۔۔۔!
گاڑی خان اٹر پراٸزکی بلڈنگ کی پارکنگ پے رکی۔
کنول اندر آٸ کہ پھر سے آفتاب کا بلاوا آگیا۔
اب کی بار سخت غصے سے اس کے آفس میں داخل ہوٸ۔
فاٸل۔۔۔۔؟باا اسکی طرف دیکھے لیپ ٹاپ پےنظریں جماٸے فاٸل مانگی۔
ایک گہرا سانس لیت وہ اپنے غصے کو پی گٸ۔ اب چہرے پے مسکراہٹ نے جگہ لے لی۔ بہت آرام سے وہ آفتاب کی چیٸر کے پاس آٸ۔ اور اس کے کان کے پاس اپنے لب لے جاتی وہ آفتاب کے جذبات کو ہوا دینے لگی۔
فاٸل۔۔۔ رات نو بجے۔۔۔۔ ہوٹل پیراڈاٸز۔۔ روم نمبر۔۔۔ ایک سو دو۔۔۔ سے ملے گی۔۔۔ جہاں۔۔ وہ شخص ۔۔۔بنا اس ۔۔فاٸل کو پڑھے۔۔ساٸن کر دے گا۔۔۔ ہر لفظ سرگوشی میں کہتی وہ آفتاب کو کنفیوز کر رہی تھی۔ کچھ کہنا چاہا۔ کہ
شییی۔۔۔۔۔ بات ابھی پوری نہیں ہوٸ۔اسکے لبوں پے کنول نے دھیرے سے اپنی شہادت کی انگلی رکھی۔
آفتاب اسکے انداز ہی دیکھتا رہ گیا۔وہ جو اس قدر قریب تھی۔آفتاب کے حواسوں پے چھا رہی تھی۔
پانچ کروڑ ۔۔ کے ساٸن ہیں۔۔ جو فاٸل۔۔۔ کو بنا پڑھے ہوں گے۔۔۔ لیکن۔۔۔ تھوڑا اور قریب ہوٸ۔اس کی چیٸر کے دونوں اطرف اپنے ہاتھ رکھتی اس کے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ کرتی وہ اسکے کان کے پاس آتی اسکی کان کی لو کوچھوتے مزید گویا ہوٸ۔
آپ کی بیوی کو پڑھنا چاہتا ہے۔۔۔ لفظ لفظ۔۔۔ وہ ۔۔۔رات کو۔۔۔ ؟؟ مجھے۔۔ دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔! بہت خمار آلود انداز تھا۔
لیکن اسکے الفاظ آفتاب کو کس برچھی کی طرح دل میں پیوست ہوۓ۔
جھٹکے سے کنول کو کھینچ کے اپنی گود میں بٹھایا۔ اور اسکی پشت اپنے سینے سے لگاٸ۔ وہ جو اپنی بات کہہ کے مڑنے والی تھی۔ اس افتاد پے دل تھام گٸ۔ ایک ہاتھ اسکے پیٹ پے لاتے اسے اپنے قابو میں کیا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔ جبکہ دل نے الگ شور مچایا۔
بہت شوق ہے۔۔ خود کو لفظ۔۔۔ لفظ۔۔۔ پڑھوانے کا۔۔۔؟؟ تو میں ہوں ناں۔۔ پڑھنے کے لیے۔۔۔۔
اسکے کان کی لو کو اپنے لبوں سے چھوتا اسے دانتوں سے کاٹا۔ تو کنول نے سسکی لی۔
اور اگلے ہی پل اسے اپنی طرف موڑا۔
یہ۔۔سب ۔۔۔کہنے کی ہمت۔۔۔ بھی کیسے ہوٸ تمہاری۔۔۔؟
جارحانہ انداز۔۔۔ آنکھوں میں شدید غصہ ۔۔ بے قابو ہوتے جذبات۔
کنول کو لگا ۔۔ اس نے سوۓ شیر کو جگا کے غلطی کر دی ہے۔
بولو۔۔۔۔؟؟ اسکی کمر پے دباٶ بڑھایا تو وہ مچلی۔ دل کی دھڑکن منتشر ہوتی اسکے وجود کو ہلا رہی تھی۔
وہ ابھی بھی اسکی گود میں بیٹھی کانپ رہی تھی۔
چھھھھو۔۔۔ڑیں۔۔۔۔! خود پے قابو کرتی وہ خو کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔جبکہ آفتاب نے اتنی ہی سختی سے اسے خود میں بھینچا ہوا تھا۔ کنول کو لگا اسکی انگلیاں اسکی کمر میں دھنس جاٸیں گیں آج۔
آٸیندہ۔۔۔ میرے سامنے یہ خرافات بکنے کی۔۔ کوشش کی۔۔تو۔۔ انجام کی تم خود زمہ دار ہوگی۔
کہتے ہوٸے ایک جھٹکے سے چھوڑا۔ کنول فوراً سے بیشتر خود کو سنبھالتی پیچھے ہٹی۔ اور ٹیبل کا سہارا لیےکھڑی ہوٸ۔
ناول نیم۔تم میرے نکاح میں ہو۔
راٸٹر۔ منتہا چوہان۔ مزید قسطوں کی اپ ڈیٹ کے لیے آٸ ڈی سے مین پروفاٸل پے جاٸیں۔
گہری سانسیں لیتی وہ آفتاب کی نظروں کے حصار میں تھی۔
میں۔۔ میں ۔۔نے میں۔۔کہا۔۔ یہ سب۔۔۔؟؟ وہ۔۔آپ کا۔۔ دوست۔۔۔ اس۔۔ نے۔۔۔۔؟؟ کنول نے نم لہجے میں کہنا چاہا۔
کہ آفتاب کی جارحانہ انداز میں پنی طرف پیش قدمی دیکھ دو قدم پیچھے ہٹی۔ کہ آفتاب نے فوراً اس تک پہنچتے اسکا فرار کا راستہ روکا۔ اور اس پے جھکا۔
وہ حیران نظروں سے اس سر پھرےکو دیکھتی رہ گٸ۔
خبردار۔۔۔ جو میرے سامنے۔۔ کسی غیر۔۔ مرد کا نام بھی لیا ہو تو۔۔۔ ورنہ۔۔ کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔
سرگوشیانہ انداز میں کہتا وہ اسکی حالت کے پیشِ نظر پیچھے ہوتا اپنی چٸیر پے آرام و سکون سے بیٹھا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اپنا حلیہ درست کریں۔ میرے لیے ایک کپ کافی لے کےآٸیں۔
لیپ ٹاپ پے فنگرز چلاتے مصروف انداز میں کہا۔
تو کنول ایک پل حیرت سے اسے دیکھتی اپنا آپ ٹھیک کرتی باہر نکلی۔
ٹینا کےہاتھ کافی بجھوا کے وہ اپنے کیبن میں آگٸ۔ دوبارہ آفتاب کے آفس میں جانے کی غلطی نہ کی۔
جبکہ اپنے آفس کے گلاس ڈور سے اسکےکیبن کو دیکھتے وہ اسکی حالت پے زیر لب مسکرایا۔
اور اگلے ہی لمحے فون پے مسٹر علی کے بارے میں سعدی کو ساری بات سمجھاتے وہ مطمین ہو چکا تھا۔
اور سیٹ سے ٹیک لگاۓ وہ اب کافی پیتا فرصت سے کام کرتی اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔ جس کی زات ابھی بھی ایک بند کتاب تھی۔ اور وہ اسے لفظ لفظ پڑھنا چاہتا تھا۔










آپ کیسے۔۔۔اتنی آسانی سے میری بیٹی کا حق کسی کو بھی دے سکتی ہیں۔۔؟ آپا۔۔۔ ایسا کیوں۔۔؟
سامعہ پھپھو ۔۔جہنیں سب پھوپھو ہی کہتےتھے۔ اس وقت خانم کے روم میں اپنے دل کا درد بیان کر رہی تھیں۔
سامعہ۔۔۔۔۔ ! خانم نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ تھوڑا صبر کر جاٶ۔۔۔ جو حق تمہاری عروج کا ہے۔۔ اسے میں دلا کے ہی رہوں گی۔۔۔بس مجھے۔۔ ایک بار جان لینے دو۔۔ دیجے نے ۔۔کیاکیا بتایا ہے چھوٹے خان کو۔۔۔؟
پھر اس طرح ہینڈل کروں گی۔۔۔ ! اپنے دل کی بات اپنی بہن سے شٸر کی۔
لیکن۔۔اسے نو لکھا ہار دینے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟
اصل غصہ جس بات پے تھا وہ بھی بول ہی دی۔
خانم نے ترچھی نظر سے بہن کو دیکھا۔
دیاہے تو واپس لینا بھی جانتی ہوں۔۔ میں خانم ہوں خانم۔۔۔ میری سوچ تک کوٸ نہیں پہنچ سکتا۔
کمرے میں ارباز خان کے آتے ہی سامعہ چپ چاپ باہر نکل گٸیں۔
دروازے کو لاک لگاتے وہ اپنی محبوب بیوی کے پاس آۓ۔
جو آج تھوڑے نخرے دیکھا رہی تھیں۔
ناراض ہے میری جان۔؟ کمر کے گرد بازو حاٸل کیے۔
آپ نے سب کے سامنے ڈانٹا۔۔۔ نروٹھے پن سے کہا۔
ڈانٹا کہاں۔۔۔؟ بس پکارا تھا۔
پیارسے اپنے قریب کیا۔
ایک ہی بات ہے۔۔ انکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی وہ ہونٹوں کو پھلا کے بولیں۔
ہاۓ میری جان۔۔ اتنی ہماری مجال کے۔۔ کچھ کہہ سکیں آپ کو۔ ؟
جان ہیں آپ ہماری۔۔۔! جس دن آپ کو تکلیف پہنچاٸیں مر ہی نہ جاٸیں ہم۔۔۔۔!
اللہ نہ کرے۔۔۔کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو میری زندگی بھی لگا دے۔
کہتے ہوۓ ا نکے سینے سے لگی۔
پھر ناراضگی ختم سمجھوں۔۔؟ خانم کے بالو ں پے لب رکھتے وہ خمار آلود انداز میں بولے تو خانم مسکرا دیں۔ انہی کےکہنے پے تو یہ چال چلی تھی خانم نے۔












پھپھو سےبات ہوٸ تھی؟ کمرے میں آتے شہیر نے سرسری انداز میں پوچھا۔ لیکن انابیہ کی آواز نہ آٸ۔
میری بھی ہوٸ تھی۔ تمہاری طرف سے توڑی ٹینس تھیں ۔ لیکن۔۔ مطمین کر دیا تھا میں نے۔ کبرڈ سے سر نکال کے کھوٸ ہوٸ انابیہ کو دیکھا۔
انا۔۔۔ واپس آجاٶ۔۔ یار۔۔۔؟؟
انابیہ جو کب سے اس نولکھا ہار کو دیکھتی گم صم بیٹھی تھی۔ آخر شہیر چڑ کے بولا۔
شہیر۔۔۔! ممانی ۔۔نے۔۔کیا مجھے ۔۔واقعی۔۔ ایکسپٹ کر لیا ہے۔۔؟ یہ سوال کوٸ وہ چوتھی بار پوچھ رہی تھی۔ اور شہیر اب تنگ پڑگیا تھا۔ اسکے اس سوال سے۔ جھٹکے سے اٹھا۔ اور اسے اپنی جگہ سے اٹھاتا اپنے سینے سے لگا گیا۔
میری جان۔۔۔ کوٸ ایکسپٹ کرے یا نہ کرے۔۔۔
doesnُ t matter
میرے لیے میری انابیہ انمول ہے۔۔
دھیرے سےکہتے اسکے بالوں کا کان کے پچھے کرتا وہ اسکے ماتھے پے لب رکھ گیا۔ کہ تبھی دروازہ کھولتے عروج اندر آٸ۔ان دونو ں کو اس قدر قریب دیکھتی اندر تک سلگ گٸ ۔
آپ۔۔۔دونوں کو۔۔۔ خالہ جان بلا رہی ہیں۔۔ چہرے پے جھوٹی مسکان لیکن لہجہ طنزیہ۔۔۔
آتےہیں۔۔تم جاٶ۔۔۔ اور ہاں۔۔ نیکسٹ ٹاٸم ۔۔ روم میں آنے سے پہلے دروازے پے ناک کر کے اجازت لینا۔
شہیر نے سپاٹ انداز میں کہا۔ تو عروج اپنی انسلٹ پے پیچ و تاب کھاتی رہ گٸ۔ اور وہاں سے واک آٶٹ کر گٸ۔
آپ کو ایسے۔۔ نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔ بہن کی طرح ہے وہ۔۔ آپ کی ۔۔۔! انابیہ نے شہیر کا ہاتھ تھام کے کہا۔
اوہ۔۔ رٸیلی۔۔۔؟ شہیر اسکےپاس سے واپس اٹھا۔
ہاں ۔۔۔۔لیکن۔۔ کسی پے بھی بھروسہ مت کرنا۔۔ انا۔۔۔! میں پہلی اور آخری بات کہہ رہا رہا ہوں۔۔ کوٸ بھی۔۔ کوٸ بھی۔۔۔ کسی پے بھی۔۔ بھروسہ ۔۔ نہیں کرنا۔۔!
شہیر نے اس کے قریب آنے پے اسکا ہاتھ تھامتے بہت پیار سے کہا۔
انابیہ نے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا۔ اوردونوں کا رخ باہر کی جانب تھا۔













سات بجےکے قریب وہ کام ختم کرتی جانے کے لیے اٹھی۔ تقریباً آفس خالی ہو چکا تھا۔ کہ اسے آفتاب کی کال آٸ ۔ اس نے آفس میں بلایا تھا۔ کنول کا دل پھر سے دھڑکنے لگا۔ صبح کے بعد اب تک دوبارہ بات نہ ہوٸ تھی۔ نہ ہی آفتاب نے اسے بلایا تھا۔ بلکہ وہ کسی میٹنگ کے سلسلے میں آفس سے جا چکا تھا۔ اسے ساتھ لے کے نہ گیا۔ بلکہ آج صدیقی صاحب نے سارا اکاٶنٹس کا پینڈنگ کام اسے دیا ہوا تھا۔
جسے کرتی وہ اچھی خاصی تھک گٸ تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ کہ آفتاب کی واپس کب ہوٸ۔
اب جبکہ بلاوا آیا تھا تو دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اسکے آفس میں داخل ہوٸ۔
جی۔۔۔آپ نے بلایا۔۔۔؟ نظریں ادھر ادھر کرتے پوچھا۔ وہ صبح کی کی ہوٸ حرکت ابھی تک بھولی نہ تھا۔
یس۔۔۔! کام ختم ہو گیا ہے۔۔ تو ایک ساتھ چلتےہیں۔۔گھر۔۔۔! اپنا لیپ ٹاپ بند کرتا وہ عجلت میں بولا۔
مطلب۔۔؟؟ میں سمجھی نہیں۔۔
کنول کو آفتاب کی اس بات پے جھٹکا لگا۔
میرے گھر۔۔۔ ! یعنی ہمارے گھر۔۔میرے اپارٹمنٹ میں۔۔ !
ہر لفظ پے زور دیا۔
آپ۔۔۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ؟ میں۔۔کیو ں جانے لگی۔۔آپ کے ساتھ۔؟؟
کنول تو ہتھے سے اکھڑ گٸ۔
میں نے پوچھا نہیں۔۔ بتایا ہے۔۔ اور ۔۔ کوٸ بھی سین کری ایٹ مت کرنا۔۔ اور چلو۔۔۔ !
اسکا ہاتھ تھامے وہ کیز اور موباٸل اٹھاتا باہر کیجانب قدم بڑھانے لگا کہ کنول نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا۔
میں۔۔کہیں نہیں جاٶں گی۔۔ آپ کے ساتھ۔۔۔!
قطعی انداز میں کہتی وہ منہ پھیر کے باہر جانے لگی۔ کہ آفتاب نے ایک ہاتھ سے اسکی کلاٸ تھام کے اپنے اور کھینچا۔ تو وہ کٹی پتنگ کی طرح اسکے سینے سے جا ٹکراٸ۔
تم۔۔کیوں مجھے۔۔مجبور۔کرتی ہو۔۔۔سختی کرنے پے۔۔؟
جب پیار سے ایک بات کہی ہے تو سمجھ نہیں آتی۔۔؟
آفتاب نے دھیمے لہجے میں کہتے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا۔
آپ۔۔۔۔مجھے ۔زور۔۔ زبردستی ۔۔نہیں۔۔؟؟؟ خود کو چھڑاتے کہنا چاہا۔
میں زور زبردستی کرنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔ ! اور مجھے
۔۔۔ مجبور مت کرو۔ آفتاب نے اسکی بات کاٹتے سنجدہ لیکن نارمل انداز میں کہا۔
آ۔۔۔آپ مجھے میرے ہاسٹل جانے دیں۔ نظریں چراتے کہا۔
اوکے پہلے بتاٶ۔۔ مجھے۔۔۔ بلال کہاں ہے۔۔؟؟ اس کے بعد جا سکتی ہو۔۔۔! آفتاب اب بھی اسکے چہرے پے نظریں گاڑھے کھڑا تھا۔
ایک پل کو تو کنول پتھرا سی گٸ۔
مجھے۔۔۔۔ نہیں معلوم۔۔۔! اپنی بہن سے پوچھیں۔۔ کہ اس کے شوہر نے بلال کو کہاں چھپا کے رکھا ہے۔۔۔؟؟
آخر میں طنزیہ لہجہ اپنایا۔
ہمممم۔۔۔ تو ۔۔ بنا نکاح کیے۔۔۔ ارسل نے تمہیں کیسے چھوڑ دیا۔۔؟؟ اگلا سوال داغا۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ کو بھی پتہ ہے۔۔۔نکاح پے نکاح نہیں ہوتا۔۔۔ خود کو اس سے چھڑواتے منہ بناتی وہ بولی۔
اور جب نکاح ہوتا ہے تو بیوی شوہر کے ساتھ اس کے گھر میں رہتی ہے۔۔
گھمبیر اندازمیں کہتے اسکی کمر پے انگلیاں پھیریں۔ تو وہ بری طرح لرزی۔
نکاح۔۔۔ ختم بھی۔۔ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ سمجھے آپ۔۔۔! اپنی طرف سے دھمکی دی۔
آفتاب نے لب بھینچتے اسکو دیکھا۔ اور گردن سے ہاتھ ڈالتا اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کے چہرہ اوپر کیا۔ ۔کہ وہ سسک کے رہ گٸ۔
ناں۔۔۔ مسز کنول آفتاب۔۔ناں۔۔۔ بھول کے بھی یہ بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں لانے کی غلطی مت کرنا۔۔ ورنہ۔۔ زمین میں گاڑھ دوں گا۔
اپنی گہری اور سلگتی سانسوں کو اسکے چہرے پے چھوڑتے وہ اسے بہت اچھی طرح اپنی طاقت کو باور کرا گیا۔
چلو۔۔۔ شاباش ۔۔ اب اچھے بچوں کی طرح میرے ساتھ چلو۔۔ بنا کوٸ ڈرامہ کری ایٹ کیے۔ اسکے گال کو تھپتھپا کے کہتے اسے چھوڑتا اسکا ہاتھ تھاما۔ کہ اسے اپنی جگہ پیوست کھڑے دیکھ ٹھٹھک کے سر نفی میں ہلاتا اسکی جانب پلٹا۔
اگر آپ یہ نکاح قاٸم رکھنا چاہتے ہیں۔ تو آپ کو مجھے خان ولا میں اپنے ساتھ رکھنا ہوگا ۔ ورنہ مجھے ڈاٸیورس کے لیے عدالت کا رستہ آتا ہے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتی وہ آفتاب کو ایک چیلنج لگی۔
تو۔۔تم چاہتی ہو۔۔۔ میں تمہیں خان ولا لے کے جاٶں۔۔؟
ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھاتا وہ پر اسرار سا کنول کے دل کی دھڑکن کو بھی بڑھاتا جا رہا تھا ۔
ظاہری بات ہے۔۔۔ آپ اس گھر کے بیٹے ہیں۔ اور میں آپ کی بیوی۔۔ اس گھر کی بہو۔۔۔ اس ناطے میرا حق ہے۔۔ کہ میں وہاں ہی رہوں۔۔۔۔ ناکہ آپ کے اپارٹمنٹ میں۔
آخر میں طنزاً کہتی وہ یہ بھول گٸ۔ کہ حق کی بات کر کے اپنے لیے گھڑا کھود چکی ہے۔
آفتاب کے چہرے پے ایک معنی خیز مسکراہٹ بکھر گٸ۔ دیوار کے ساتھ لگتی وہ اپنی ہرنی سی نظریں اس شیر کی نظروں میں ڈالے سوالیہ انداز میں دیکھ رہی تھی۔
آفتاب نے دونوں ہاتھ دیوار پے رکھتےاسکے فرار کا راستہ بند کر دیا۔
اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتے اپنی آنکھیں بند کرتا اپنی پرتپش سانسوں کو اسک چہرے پے چھوڑتا بے خود سا ہوا۔ کنول نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ آفتاب کے جذبات کے آگے خود کو ہارتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
جب سے تمہاری سانسوں کی مہک کو محسوس کیا ہے۔۔ جی چاہتا ہے۔۔۔ ان سانسوں کو پی لوں۔۔ قطرہ قطرہ۔۔ اپنی سانسیں تمہاری سانسوں سے الجھا کے تمہیں اپنا بنا لوں۔۔ صرف اپنا۔۔۔!
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اپنی ناک اسکی ناک کے ساتھ رب کرتا اسکی سانسوں کو پینے کی چاہ رہا تھا۔ کہ یکدم ہوش میں آتے کنول نے آفتاب کو پیچھے دھکیلا ۔
وہ زرا کا زرا اپنی جگہ سے ہلتا آنکھیں کھول گیا۔
دور۔۔۔۔دور۔۔رہ کے بات۔۔کریں۔۔ اپنی منتشر سانسوں کو سمیٹتی وہ لرزیدہ لہجہ میں بولی۔
آفتاب کو اسکی یہ حرکت سخت بہت بری لگی۔ جھٹکے سے خود کے قریب کرتا اسکی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھا گیا۔ وہ بے آب ماہی کی طرح مچلی۔
لیکن آفتاب کی مضبوط گرفت سے نہ نکل سکی۔
آٸندہ۔۔۔ ایسی حرکت کی تو۔۔اس سے بھی بری سزا دوں گا۔۔ جو تمہاری ننھی سی جان برداشت نہیں کر پاۓ گی۔۔۔
پیچھے ہوتا اسکو بے بس کرتا وارننگ والے انداز میں کہتا وہ کنول کو بری طرح چپ کرا گیا۔
تمہیں خان ولا جانا ہے ناں۔۔؟؟ اب کی بار سنجیدگی سے پوچھا۔
تو ٹھیک ہے۔۔ تیاری کر لو۔۔۔ آج ہی لے کے جاٶں گا۔۔ اور تمہیں اس گھر کی بہو کا حق دلواٶں گا۔۔
لیکن۔۔۔ یاد رکھنا۔۔ پاس ہوتا اسکے کان کے پاس جھکتا وہ پھر ے اسے ڈرا گیا۔
حق دوں گا تو حق وصول بھی کروں گا۔ سمجھی۔۔۔!
اسکی کان کی لو کو چھوتے وہ پیچھے ہٹا۔ جبکہ کنول کا تو دل بری طرح بے چین ہوا۔ آنکھیں پھاڑے وہ اس سرپھرے کو دیکھ رہی تھی۔
یہ۔۔یہ کیا۔۔۔؟؟ کہہ رہے ہیں۔۔؟ کنول کو اپنی آواز کسی گہری کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔
آفتابنے سنے پے ہاتھ باندھے اسے گہری نظروں سے سر سے پاٶں تک جانچا۔ آج وہکالے رنگ میں آفتاب پے بجلیاں گرا رہی تھی۔
بنا کسی شرط کے۔۔۔ میرے اپارٹمنٹ میں۔۔ یا ۔۔ پورے حق سے خان ولا میں۔۔
descion is yours…. mrs…
آفتاب نے کنول کا اچھا خاصا پھنسا دیا ۔
آپ کے اپارٹمنٹ ہی ٹھیک ہے۔
ہار مانتی وہ پاٶں پٹختی بار نکلی۔ آفتاب بھی زیرِ لب مسکراتا اسکے پیچھے ہی نکلا۔
جاری ہے۔
