Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 34)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
آفتاب کی آنکھوں میں اپنےلیے نرمی دیکھتی وہ اسکی طرف بھاگنےوالے انداز میں بڑھی۔ اور اسکے سینے سے جالگی۔ اور روتے ہوۓ اسکے سینے میں منہ چھپایا۔ ہچکیوں سے روتی وہ آفتاب کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔
آپپ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ جو ۔مرضضضی سزززا دے دیں۔۔ لیکن ۔۔۔۔ مجھ سے ۔۔دور۔۔۔مت ۔۔۔جاٸیں۔۔۔۔! وہ اسکے سنے سے لگی۔ اپنا درد بیان کر رہی تھی۔
آفتاب کا دل اسکےلیے پیج گیا تھا۔ لیکن ۔۔ وہ اسے اتنی آسانی سے معاف کرنے والا نہ تھا۔ اسلیے خاموشی سے اسے پیچھےکیا۔
بہت مشکل ہے۔۔۔ کنول۔۔۔! میرے لیے۔۔ تمہیں معاف کرنا۔۔۔؟؟ یا تہیں ساتھ رکھنا۔۔۔ تمہیں۔۔ کیا لگتا۔۔ہے؟ میں کیوں لایا تمہیں اپنے ساتھ؟ کیں نہیں کوٸ تکلیف دے رہا۔۔؟؟ جانتی ہو وجہ؟ وہی سپٹ اور کرب بھرا انداز۔ کنول تو اسکی بات پے سن ہی رہ گٸ۔
آپ۔۔۔۔ مجھ۔۔۔۔ سے۔۔۔پیار۔۔۔؟؟ ٹوٹے الفاظ میں کہنا چاہا۔
اہونہہ۔۔۔۔پیار۔۔۔؟؟ آفتاب طنزیہ ہنسی ہنسا۔
کونسا پیار۔۔؟ جوکبھی ہمارے بیچ تھا ہی نہیں۔۔؟؟ صرف ۔۔اور صرف دھوکا تھا۔۔ اور۔۔ ایک سیراب۔۔!
جانتی ہو۔۔جب گولی یہاں لگی۔۔۔
اس دل میں۔۔۔! دل کے مقام پے اشارہ کیا۔ تو صرف کچھ دوری تھی۔ دل سے۔۔۔ ونہ آج زندہ نہ ہوتا۔
ایک درد تھا اسکے اندر جو وہ آج نکال رہا تھا۔
کنول کی نظریں جھک گٸیں۔ اور آنسو متواتر بہنے لگے۔
اور اس ایک لمحے جب۔۔۔ میں زمین پے بے سدھ ہوتا گرا۔ تب۔۔۔ ایک مغموم سی امید جاگی۔۔شاید۔۔ تم۔۔ بھی۔۔ اس شخص کو چاہتی ہو۔۔۔؟؟
لیکن ۔۔۔ وہ بھرم ہی رہا۔
ہوش میں آنے کے بعد دلکا لگا تم ہوگی پاس۔۔۔! لیکن۔۔ تم تو کہیں نہیں تھی۔ اور۔۔وہ ۔۔جو۔۔ میری کچھ نہیں لگتی۔۔۔ کوٸ تعلق نہں اس سے۔۔۔! اس نے دن رات ایک کردیا۔ میری تیمارداری میں۔ ۔۔۔
اور میں احسان فراموش انسان نہیں۔۔آخر میں آفتاب نے سختی سے کہتے رخ پلٹا۔ کنول تو تڑپ ہی گٸ ۔
اگر۔۔۔ کسی اور کو زندگی میں شامل کرنا تھا۔ تو۔۔۔ مجھےکیوں لےکے آٸے؟
آگے بڑھتی وہ اسکے کالر کو پکڑتی بے دردی سے آنسو بہاتی بولی تھی۔
ایک لمحے کو وہ اسے دیکھےگیا۔ دونوں کے بیچ ایک گہری خاموشی چھا گٸ۔
اپنے۔۔ بچے کی خاطر۔۔۔!
آفتاب کے الفاظ نے کنول کو بری طرح جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ کالر پے گرفت ڈھیلی پڑگٸ۔
دراز سے ایک اینولپ سکتےمیں کھڑی کنول کی جانب بڑھایا۔ اور بنا کسی تاثر کے اسے تھمایا ۔
تم۔۔ جو سزا سے بچی ہو۔۔ تو ۔۔صرف۔۔۔ میرے بچے کی وجہ سے۔۔ جسے میں اس نفرت او بدلے کی آگ میں نہیں ڈال سکتا ۔ اس معصوم کا کیا قصور۔۔؟؟ اسے کیوں سزا ملے۔۔؟؟ آفتاب کی آنکھیں بھی بچے کے زکر پے بھیگ گٸیں اور آواز بھی دھیمی ہوگٸ۔
ایک بار۔۔۔ ایک بار۔۔ بچہ اس دنیا میں آجاۓ۔۔ اسکے بعد۔۔ تمہیں۔۔ اپنی زندگی سے ہی نہیں۔۔۔اس دل سےبھی نکال پھینکو گا۔
شدتِ ضبط سے آفتاب کا چہرہ لال ہو گیا تھا۔
آپ کو لگتا ہے۔۔؟؟ یہ اتنا آسان ہے جتنا آپ کہہ رہے ہیں؟ کنول نے ابکی بار بہت سکون سے پوچھا۔
آپ خود کو جانتےہی کتنا ہیں ؟ نفی میں سر ہلایا ۔
مانا کہ میں نے بہت غلطیاں کیں ہیں۔۔۔ گناہ کیے ہیں۔۔ سزا کی حق ددار ہوں۔ معافی کی نہیں۔۔ لیکن۔۔۔ اپنا بچہ۔۔ آپ کو دوں گی میں۔۔؟؟ أیسا سوچ بھی کیسے لیا؟ کنول اپنی ٹون میں واپس آتی سخت لہجے میں بولی۔
اگر تمہاری یہ سانسیں چل رہی ہیں تو اسے اس بچے کا صدقہ سمجھو۔۔۔! باقی میں کیا کر سکتا ہوں۔۔ کی نہیں۔۔ یہ اب تمہیں وقت بتاۓ گا۔
کہتے ہوۓ وہ کبرڈ سے کپڑے نکالتا باتھ روم میں گھس گیا۔ جبکہ کنول نے پھر سے آنسو صاف کیے۔ اور وہں ایک طرف بیٹھ گٸ۔
مطلب۔۔؟؟ میری سوچ صحیح تھی۔ وہ جان گیا ہے بچے کے بارے میں۔۔۔! سر پکڑے وہ اپنی کنپٹیاں دبانے لگیں۔ یہ سوچ کہ وہ اس سے بچہ چھین لے گا۔ اسے کانٹوں پے گھسیٹ گیا تھا۔وہ بس سوچے جا رہی تھی ۔ اور اسکا دماغ پھٹنے لگا تھا۔
نہیں۔۔ کبھی نہیں ۔۔آفتاب۔۔۔! کنول۔۔ مر تو سکتی ہے۔۔ لیکن اپنا بچہ۔۔ تمہں کبھی نہیں دے گی۔۔۔
وہ پھر سے رو دی تھی۔ میرے بچے کے نصیب میں بھی میری طرح دردبد کی ٹھوکریں ہی لکھی ہیں۔۔ میری مالک۔۔؟؟؟ کیا میرے ساتھ رہ کے وہ۔۔۔ خوش رہ پاۓ گا۔۔؟؟ یا۔۔ ہماری ۔۔ماں کی طرح ۔۔۔ میں بھی بے بس کسی بھیڑیے کی نظر ہوجاٶں گی۔
ہاتھ بڑھا کے پانی کا گلاس اٹھانا چاہا کہ ہاتھ سے گر کے چھناکے سے ٹوٹ گیا ۔
کیا ۔۔ لاپرواہی ہے۔۔؟؟ ابھی لگ جاتا تو۔۔؟؟ آفتاب اسی لمحے باہر نکلا تھا۔ کنول نے درد بھری نظر اس پے ڈالی جبکہ لب ایک دوسرے میں پیوست رہے۔
خود ہی کانچ اٹھاتا وہ اب دوسرا گلاس لاتا اس میں پانی ڈال اسے تھما گیا تھا۔ جسے کنول نے بنا کچھ کہے تھاما تھا۔ اور لبوں سے لگا لیا تھا۔ اور بنا کوٸ بات کیے بیڈ کراٶن سے ٹیک لگا کے آنکھیں موند لیں۔
آفتاب اٹھتا صوفے پے جا بیٹھا ۔ جبکہ نظریں اسیپےمرکوز تھیں ۔
آپ دعا کیجیےگا۔۔۔ ! ڈیلیوری کے وقت اللہ مجھے موت دے دے۔۔۔! آپ کو آپ کا بچہمل جاۓ اور مجھے سزا۔
بنا آنکھیں کھولے وہ بہت کرب سے بولی تھی ۔
اسکے الفاظ کی سختی اسک شدت سے سرخ پڑتا چہرہ واضح کر رہا تھا ۔
اسکے الفاظ پے آفتاب نے کسطرح خود پے ضبط کیا۔ یہ وہی جانتا تھا۔ لیکن زیادہ دیر ضبط کر ہی نہ سکا ۔
غصہ سے اٹھتا اسکے وجود کے پاس آتا اسکے اوپر جھکا۔
اسکےکان کے پاس اپنے ہونٹوں کو لے جاتا وہ اپنی گرم سانسوں کی تپش سے اسے جھلسا گیا تھا۔
بیت شوق ہے ناں۔۔ مرنے کا۔۔۔! ایک بار بچہ ہوجانے دو اپنے ہاتھوں سے گلہ گھونٹ کے ماروں گا ۔
اتنا شدید غصہ ۔۔۔ کنول اسکی آنکھوں میں دیکھتی بری طرح ڈری تھی ۔
اسکے قریب ہوتا اسکی گردن پے جھکا وہ اسے بے بس کر گیا۔
چچھھوڑیں مجھے۔۔۔! اس نے اسکے سینےپے ہتھیلیوں سے دباٶ ڈال خود سے دور کرنا چاہا تو وہ اسکے دونوں ہاتھ پیچھے تکیہ پے پن کر گیا۔ اور اسے مکمل اپنے حصار میں لیا ۔
آپ۔۔۔ مجھے۔۔۔ چھوڑیں۔۔۔ورنہ۔۔۔! وہ ناراضی سے بولتی دھمکی دے گٸ۔
کیسے چھوڑ دوں۔۔؟؟ گھمبیر اور غصیلی آواز ابھری۔
تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔! پورے حقوق رکھتا ہوں۔۔ کہتے ہی وہ اسے بے بس کرگیا ۔ جبکہ اسکے غصہ کی شدت اسکی جنونی کیفیت کو ظاہر کر رہی تھی ۔
وہ جو خود پے کمال ضبط کیے بیٹھا تھا اسکے مرنے کی بات پے تڑپ ہی اٹھا تھا۔ اور اس تڑپ میں اب اسے بھی تو تڑپانا تھا۔ بے بسی سے خود کو اسے سونپتی وہ آج ایک بار پھر اسکے جذبات کے آگے ہار گٸ تھی۔
اور آفتاب کا جنون اسکا عشق جیت گیا تھا۔
سن خامیاں بہت تھیں مجھ میں
لیکن یہ دل ۔۔۔تیرے لیے مخلص تھا











کیا بد تمیزی ہے۔۔؟ میری بیٹی پے ہاتھ کیسے اٹھایا تم نے ؟ بہار خالہ نے عابی کو غصہ سے دیکھتے کہا۔
کیونکہ آپ کی بیٹی اس سے زیادہ مار کھانے کے لاٸق ہے۔ جانتی ہیں آپ؟ کیا کیا اس نے ہمارے ساتھ؟
روتے ہوۓ عابی نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا۔
اس نے ہمیں پارلر سے یہ کہہ کے باہر لایا۔ کہ ہمیں گاڑی لینے آگٸ ہے۔لیکن۔۔۔ وہ گاڑی اس نے ہاٸر کی تھی۔ اسنے ہمیں کڈیپ کروایا۔ عابی کے منہ سے نکلے الفاظ پے سبھی دم سادھے کھڑے تھے۔
جججھوووٹ بووول رہی ہے۔۔۔۔! منہ پے ہاتھ رکھے سبی گھبراٸ سی بولی۔
جھوٹ۔۔۔؟ عابی نے ایک اور تھپڑ رکھ کر کے اسے دیا۔
ہمارے شوہر ۔۔ عورت زاد پے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ رنہ جو تمنے کیا ہے۔ وہ تمہاری بوٹیاں کر کے چیل کوٶں کو کھلا دیتے۔ وہ جو اپنا ضبط کھوۓ جا رہی تھی۔ پھوپھو أور رضہ خاتون نے اسے سبھالتے اندر کی جانب لے گۓ
ایک تماشا تھا جو ختم ہو گیا تھا۔
کیا یہ سچ ہے ؟ سبی کی اماں نے سختی سے پوچھا۔
کیا اماں۔۔؟؟جھوٹ بول رپی ہے۔۔۔ نجانے ک کے ساتھ منہ کالا کر کے۔۔۔۔۔؟؟
خبردار۔۔۔! خبردار جو ایک لفظ بھی میری بیوی کے خلاف منہ سے نکالا تو۔۔۔۔! ورنہ واقعی بوٹی بوٹی کر دوں گا۔ انگلی اٹھاتا سختی سے کہتا وہ مٹھی بند کرگیا۔ جبکہ سبھی شامی کی سخت گیر آواز پے سہم گۓ۔
فیاض صاحب ڈھے سے گۓ تھے۔ انکی اولاد کو خوشیاں راس نہ آتی تھیں۔ ہمیشہ ہی کوٸ نہ کوٸ تکلیف پہلےمنہ کھولے ان پے حملہ کرنے کوتیار بیٹھہی ہوتی۔
کمرے میں آیا تو۔ عابیکو رضیہ خاتون کے ساتھ لگےپایا۔
آجاٶ۔۔بیٹا۔۔۔! آپ دونوں آرام کرو۔ میں کھانےکے لیےکچھ بھیجتی ہوں۔ خود بھی کھالینا۔۔اور اس معصوم کو بھی کھلا دینا۔ کہتی ہوٸیں۔ وہ باہرنکل گٸیں۔
عابی۔۔! شامی نے دھیرے سے اسے پکارا۔ تو اس نے سر اٹھایا۔
جاٶ۔۔ جا کے چینج کر لو۔۔۔! بہت نرمی سے اسے کہتا اسکے دلہن وللے سراپے سے بمشکل نظریں ہٹاتا وہ دور ہوا تھا۔عابی بھی کافی حد تک خودکو سنبھال چکی تھی۔
باتھ روم کا رخ کیا۔ جبکہ اتنی دیر میں رضیہ خاتون کھانا لے آٸیں۔
آپ کےبابا بہت زیادہ اپ سیٹ ہوگۓ تھے۔ نجانے کیسی نظر لگ گٸ ہے ہمارے گھر و۔ رضیہ خاتون افسردہ ہوٸیں۔
پریشان نہ ہوں یار۔۔۔! کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کا بیٹا ہے ناں۔۔؟ سب ٹھیک کر دوں گا۔ بھروسہ رکھیں اللہ پے۔
رضیہ بیگم کو سینے سے لگاتا وہ انہیں تسلی دے گیا۔
کہاں جا رہےہو؟ انہوں نےشامی کو اٹھتے دیکھ پوچھا۔
بابا کے پاس۔
بیٹا۔۔ابھی انہیں سردرد کی میڈیسن دی ہے ۔ آپ ان سے صبح بات کر لینا۔ ابھی کچھ کھا لیی۔ اور عابی کو بھی کھلادیں۔
عابی کے آنے سے پہلے ہی رضیہ بیگم اٹھ کے جا چکی تھیں۔
عابی شاور لیتی فریش ہوتی باہر آھ تھی۔ ساہ سے سوٹ میں بھی وہ شامی کے دل پے بجلیاں سی گرارہی تھی۔
دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ کسی نےکوٸ بات نہ کی۔ شامی برتن اٹھاتا کچن میں چھوڑآیا۔
کمرےمیں واپس آیا۔ تو عابیکو بستر پے نیم دراز آنکھیں موندے دیکھ ٹھٹھکا۔
یہ محبت کا عذاب ۔۔مجھے نہیں لینا۔۔
یہ درد بے حساب۔۔۔ مجھے نہیں لینا۔۔
خود پے نظروں کی تپش محسوس کرتی عابی آنکھیں کھولتی اٹھ بیٹھی۔ اور صوفے کی جانب بڑھی۔ ار وہیں نیم دراز ہونے لگی۔
یہ کیا حرکت ہے۔ شامی کے ماتھے پے بل پڑے۔ عابی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
اور پھر شامی بنا اسکے بات کے جواب کا انتظار کیے اسے اپنی بانہوں میں بھر گیا۔ ہ حیران سی اس پل پل بدلتے شخص کو دل دھڑکتے دیکھنے لگی۔
بیڈ پے لٹاتے وہ اس پے تھوڑا سا جھکتا اسکے دل کی رفتار کو بڑھا گیا۔
یہیں پے آنکھیں بن دکرتی سوتی نظر آٶ مجھے۔ ورنہ۔۔؟ بنا کسی بات کا لحاظ کیے۔۔ آج کی ناٸیٹ کو گولڈن ناٸیٹ میں بدل دوں گا۔
چہرے کے قریب تر جھکا وہ ایک انچ کے فاصلے پے گھمبیر لہجے میں کہتے عابی کی دھڑکنوں میں انتشار برپا کر گیا۔
جیسے ہی وہ پیچھے ہوا عابی نے کروٹ لیتے فوراً آنکھیں بند کر لیں۔
لاٸیٹ آف کرتا شامی نے شاور لینے کی غرض سے باتھ روم کا رخ کیا۔
اندر کی جلتی آگ کو وہٹھنڈے پانی سے بجھانے کیکوشش کر رہا تھا۔
عابی۔۔ ابھی اٹھارہ کی بھی نہیں ہوٸ تھی۔ وہ کیا سمجھتیہے ازدواجی زندگی کے تقاضوں کو۔۔۔؟ شاہمیر ابھی اسے ان سب سے آزاد رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اسکا اپنےپاس ہونا۔۔ اور یہ یقین ۔۔۔ کہ وہ اسے دل و جان سے چاہتی ہے۔ شامی کو خود پے ضبط رکھنا مشکل لگ رہا تھا ۔
اسکی معصومیت۔۔ اسکا انداز۔۔۔ اسکی باتیں۔۔اسکے روٸ جیسے گال۔۔ وہ سوچتے ہوۓ دل کو پھسلتا محسوس کر رہا تھا۔
شاور لیتا باہر نکلا تو وہ شاید سو چکی تھی۔
بال سکھاتا وہ بھی بیڈ پے نیم دراز ہوتا اس چھوٸ موٸ کو دیکھنےلگا۔ جو اسی کی طرف کروٹلیے سو رہی تھی۔
شامی کا اسکے روٸ جیسے گالوں کو چھونے کا دل کیا ۔ ہاتھ بڑھایا۔لیکن پھر کچھ سوچتے پیچھے ہٹا لیا۔
اس نے عابی سےکوٸ سوال نہ کیا تھا۔ کہ وہ کیسے وہاں سے نکلی۔۔۔؟ وہ ہمت ہی نہیں جٹا پا رہا تھا۔ کہ وہ اسکا یہ درد سن سکے۔ اسلیے خاموشی سے اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ لیکن اس سبرینہ کو مزہ ضرور چکھانے کا ارادکہ کر چکا تھا۔
سوچتے ہوٸے عابیکی طرف کروٹ لیتا وہ اسے اپنی آنکھو ں کےرستے دل میں اتارتا نیند کی وادیوں میں کھونے لگا۔











دیجے۔۔۔ کھانا کھا لیں۔۔! شبنم نے انہییس کھانا کھلانا چاہا ۔آج انہو ںنے انکار کر دیا۔
کنول آٸ ہے؟ ان کا ہمیشہ کا سوال۔۔جو شاید انہیں ابھی تک زندہ رکھے ہوۓ تھا۔
نہیں۔۔۔ دی جے۔۔۔! لیکن ۔۔وہ آجاۓ گی۔۔۔ آپ کھانا تو کھاٸیں۔۔؟
نہیں۔۔ بھوک نہیں۔۔ ! ا ہوں نے سخت انداز میں کہا۔ تبھی عباد صاحب کمرےیں داخل ہوۓ ۔ وہ سساری حات سمجھ گۓ شبنم کو جانےکا اشارہ کیا۔
اور خود اکے جانے کے بعد دی جے ےپاس جا بیٹھا۔ جہنوں نے ایک نظر بھی ان پے ڈالنا گوارا نہ کی۔
جانتی ہیں ۔۔۔ آپ کی ناراضی بجا ہے۔۔ اور میں ہوں بھی اسی لاٸق۔۔ کہ مجھ سے۔۔ بات نہ کی جاۓ ۔
جو میں نے مریم کے ساتھ کیا۔۔۔۔اسکے لیے تو شاید اللہ بھی مجھے معاف نہ کر سکے۔۔ میں ہی قصور وار ہوں۔۔ ان سب کا۔۔۔! کاش محبت کے ساتھ اعتبار بھی دے دیتا اسے۔۔۔ تو شاید۔۔۔۔آج وہ ۔۔زندہ ہوتی۔۔۔۔! نم لہجےمیں کہتے وہ دی جے کو ٹس سے مس نہ کر سکے۔
لیکن۔۔۔ شاید میری موت سے سب ٹھیک ہوجاۓ۔۔
انکے الفاظ پے تڑپ کے دی جے نے انہیں دیکھا۔
دی جے۔۔۔ پلیز۔۔۔ دعا کیجیے گا۔۔ آپ کے بد بخت بیٹے کو اس زندگی کی قید سے رہاٸ مل جاۓ۔۔۔۔ ورہ یہ زندگی یہ سانسیں مججے چبھ رہی ہیں۔۔۔ مریم کےبنا اتنا عرصہ میں جی کیسے لیا۔۔۔؟؟ کیسی ۔۔کیسی محبت تھی یہ۔۔۔ کہ وہ تژپتی رہی۔۔ اور میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا۔ ۔۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
بہت۔۔بے رحم اور خود غرض بن گیا ۔۔۔ اپنی بیوی ۔۔ اپنیاولاد کو ٹھکرا دیا۔ اور۔۔ اللہ نے۔۔آج تک۔۔ مجھے دوبارہ اولاد سے نہ نوازا۔
آنسو پونھتے وہ دکھ سے بولے۔
کیونکہ۔۔۔ خانم کی یہی شرط تھی۔ دی جے نے خیالوں میں جاتے کہا۔ تو وہ چونکے۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟
خانم نے ہی تبسم کے ساتھ شرط رکھی تھی۔ کہ وہ اسی صورت اسکی شادی آپ سے کروایں گیں۔ کہ وہ آپ کی اولاد نہیں پیدا کریں گیں۔۔۔ اس گھر میں۔۔ اس خان ولا میں صرف ایک ہی وارث ہوگا۔۔ اس کا بیٹا۔۔۔!
اور ۔۔تبسمکو اس وقت ایک چھت چاہیے تھی۔ وہ اس شرط پے راضی ہوگٸیں۔ اور دیکھو۔۔۔ آج۔۔ خانم کو۔۔۔ ؟ أتنی چالیں چل کے بھی۔۔ وہ خالی ہاتھ رہ گٸ۔۔۔
اتنا سب کچھ۔۔ اس نے اپنے بیٹے کی خاطر کیا۔۔ وہی بیٹا۔۔ ۔۔اسے چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔
دی جے کے لہجےمیں دکھ اور درد تھا۔ کیونکہ شہیر اور انابیہ کےجانے کا دکھ انہیں بھی تھا۔
آج ایک اور بات کا انکشاف ہوا تھا عباد خان پے۔ وہ ک بری طرح الجھے تھے بھاٸ اور بھابھی کی سازش میں ۔ کہ آج انہیں اس بات کا احساس ہو رہا تھا۔ جب سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اللہ نے انہیں بھی سخت سزا ہی سناٸ تھی۔









صبح معمول کے مطابق کنول کی آنکھ کھلی۔ تو خود کو آفتاب کی بانہوں میں پایا۔
رات کو جسطرح وہ جنونی ہوتا اسکی قربت میں بہکا تھا۔ کنول نے جھ جھری لیتے اس سوۓ ہوۓ شیر پے ایک نظر ڈالی۔
آفتاب شیر خان۔۔! جس کی خوب صورتی کا کوٸ ثانی نہ تھا۔ لیکن غصہ کا بھی۔ کنول خود ہی مسکاٸ۔
اسے آفتاب کی سنگت میں سکون مل رہا تھا۔ ایسا سکون جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
بس اتنا جانتی تھی۔ یہ شخص اسکا ہے۔صرف اسکا۔
اپنا ہاتھ اسکے سینے سے اٹھاتے ایک دم سے اسکے ہاتھاس زخم پے جا ٹھہرے جہاں گولی لگی تھی۔
ایک پل کے لیے کنول کے دل کی دھڑکنیں رک سی گٸیں۔ وہ لمحے آنکھوں کے سامنےگھومے۔ تو آنکھیں نم ہوگٸیں ۔ آگے بڑھتے اسکے زخم کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوا ۔ دو رم آنسو بہتے آفتاب کے سینےپے گرے۔ جس سے وہ نیند سے جاگ گیا۔ لیکن آنکھیں ہنوز بند تھیں۔
آگے ہوتے اسکے زخم کو اپنے لبوں سے مریم بخشی۔ آفتاب کو ایسا لگا۔ اتنے عرصے سے اسکے اندر جلتی آگ کو بجھا دیا گیا ہو۔ کنول کے ہونٹوں کا لمس اپنے دل کےمقام پے محسوس کرتا وہ دل و جان سے اسے اپنا سب کچھ مان گیا تھا۔
ایم سوری۔۔۔! آفتاب۔۔۔۔! مجھے معاف کر دیں۔ یں نے آپ کے ساتھ۔۔۔ بہت غلط کیا۔۔۔۔! مجھے معاف۔۔۔؟؟
اسکے کان کے پاس جھکتی وہ آنسو ضبط کرتی بول رہی تھی۔ لیکن آنسوٶں کی شدت سے اسکی آواز حلق میں ہی دب گٸ۔
کنول نے اسکے ماتھےپے بکھرے بالوں کو پیچھے دھیرے سے ہٹاتے اپنے لبوں کی چھاپ وہاں چھوڑی۔ تو آفتاب مزید آنکھیں بندنہ کر سکا۔ دھیرے سے آنکھیں نیم وا کیں۔ اور اپنےاوپر جھکی اس دیوانی کو دیکھا ۔ جو آنکھیں میے رونے میں مصروف تھی۔
آفتاب نے ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد حاٸل کرتے اسے اپنے مزید قریب کیا۔ کہ فوراً سے گھبرا کے آنکھیں کھول گٸ۔
سامنے آفتاب کی خمار آلود آنکھوں میں دیکھتے اسے اپنا دل پھر سے ایک سو بیس کی رفتار سے بھاگتا محسوس ہوا۔
ایسےتو کبھی معافی نہیں ملے گٸ۔ اسے مکمل اپنے حصار میںسلیتا وہ اسکے پھر سےہوش اڑانے لگا۔ کسمساکے پیچھے ہٹنا چاہا۔اپنی بے اختیاری پے جی بھر کے اسے غصہ آیا۔
جبکہ آفتاب اسے ایک ہی جھٹکے سے نیچے کرتا خود اس پے حاوی ہوا۔ لیکناسکے انداز ؟یا سختی نہ تھی۔ یہ بات کنول نے دل سے محسوس کی۔
اگر اتنا ہی درد ہو رہا ہے۔۔ تو گولی کیوں چلاٸ تھی؟
غیر متوقع سوال پے کنول کی آنکھیں پھیل گٸیں۔
وہ لمحے پھر سے آنکھوں میں گھومے۔ جن کا درد اسکے چہرے پے آفتاب واضح دیکھ سکتا تھا۔
چھو۔۔۔ڑیں۔۔۔۔! اس نے پھر سے نظریں چراتے آفتاب سے دور ہونا چاہا۔
تم۔۔ اتنا جھوٹ کیسے بول لیتی ہو۔۔مسز۔۔؟ آفتاب نے اسکی گردن پے جھکتے ایک شدت بھرا لمس چھوڑا۔ کہ وہ تژپ ہی گٸ۔
آپ۔۔وحشی نہ بنیں۔۔۔! خفگی سے کہتی وہ آفتاب کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔
دوبارہ ے شوہر بننے کی پریکٹس کر رہا ہوں۔۔! آج نکاح کا اعلان کیاجاۓ گا۔۔ دو دن بعد نکاح ہوگا۔ تو ۔۔ اپنے اندر کیآگ کو کم کرنا چاہتا ہوں۔ تاکہ نٸ زندگی خوشی سے شروع کر سکوں۔ جہاں دھوکے کا نام و نشان نہ ہو۔۔
رات کواسکا خود اپنا آپ آفتاب کو سونپنا آفتاب کے اندر ٹھنڈک پہنچا گیا تھا۔ اور وہ جانتا تھا۔ اس بات سے اب کنول نے ہواٶں میں اڑنا تھا۔ اسے یہ پختہ یقین ہو جانا تھا۔ کہ وہ اسی کا ہے۔ اور ایسا ابھی وہ چاہتا نہیں تھا۔ اسلیے اس نے اس کے دل کی دنیاہی ہل کے رکھ دی۔
جھٹکے سے اسے اپنے اوپر سےہٹاتیوہ بپھری شیرنی کی طرح اسکے اوپر چڑھ بیٹھی تھی۔ بنا کوٸ لحاظ کیے۔ آفتاب کی گردن پے ہاتھوں کی گرفت جماٸے وہ آفتاب کو حیران ہی کر گٸ۔
مسٹر آفتاب شیر خان۔۔۔! مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی بھول کےبھی نہ کرنا۔۔۔۔ میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں ۔ لیکن۔۔شراکت نہیں۔ اور اگر ۔۔آپ نے ایسا کرنےکا سوچا بھی۔۔۔ تو۔۔۔ یاد رکھیے گا۔۔ ہر بار آپ مجھ تک پہنچ گۓ۔ تو اس بار ایسا غاٸب ہوں گی۔ کہ ساری زندگی ڈھونڈ نہیں پاٶ گے۔
اچھا خاصا وہ اسے سخت نظروں سے وارن کرتی پیچھے ہوتی اپنے گلے کی چین کی طرف اشارہ کرتی بہت کچھ سمجھا گٸ تھی۔
مطلب۔۔ وہ جانتی تھی۔ کہ آفتاب نے اسکے گلے میں پہنے لاکٹ مثس ڈیواٸس لگاٸ ہوٸ ہے۔ اور اسی وجہ ے وہ ہر بار اس تک پہنچ جاتا تھا۔
آفتاب نے سختیسے آنکھثس موند کے کھولیں۔ اپنی جگہ سے اٹھتا اسے اپنی گود میں بٹھاۓ اسکی کنر کے گرد بازو حاٸل کرتا وہ اس بپھری شیرنی کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا۔
یعنی ضرورت سے زیادہ ہی چالاک مسز ملی ہے۔۔ لیکن۔۔ ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ تم پاتال میں بھی چلی جاٶ۔۔ وہاں سے بھی آفتاب شیر خان تمہں ڈھونڈ نکالےگا۔ سخت اور جارحانہ انداز ۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے انتہاٸ قریب بیٹھے۔ ایک دوسرے کی قربت کے دیوانے لفظوں کے نشتر زہر میں بھگو بھگو کے ایک دوسرے پے پھینک رہے تھے۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی محبت کا اظہار نفرت سے کر رہےتھے۔






کومل ایک بار پھر سے اپنے اندر کے درد کو چھپانے نشے میں دھت پڑی تھی۔
ہوٹل میں موجود ایک ٹیبل کے پاس بیٹھے وہ ڈرگز لے رہی تھی۔ میں وہ نشے کی حالت میں یہ بھی بھول گٸ تھی۔ کاظم اسک پیچھا کرتا اس تک پہنچ چکا تھا۔
وہ سموکنگ کرتی ہے۔ یہ تو وہ جانتا تھا۔لیکن ڈرگز بھی لیتی ہے۔۔۔۔یہ دیکھ اسے اچھا خاصا شاک لگا تھا۔
وہ اسکے سر پے کھڑا اسے نشے میں دھت حالت میں دیکھ لب بھینچ گیا۔
وہ ایسی حالت میں تھی۔ کہ کوٸ بھی اسکی اس حالت کا نجاٸز فاٸدہ اٹھا سکتا تھا۔
کاظم کو اس لڑکی پے جی بھر کے غصہ آیا۔
سر ٹیبل پے گراۓ وہ دنیا سے دور کسی اور ہی جہان کی سیر پے نکلی ہوٸ تھی۔
کسی کی پکار پے اس نے آنکھیں کھول کے دیکھنا چاہا۔ جبکہ سب کچھ گھومتا ہوا ہی نظر آیا۔ لیکن سامنے کھڑے کاظم کو وہ پہچان گٸ تھی۔ ایک دلفریب مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔
تم آگۓ۔۔۔؟؟ مجھے۔۔۔ پتہ تھا تم۔۔۔ضرور آٶ گے۔۔۔ وہ نشے میں مست ہوتی بولی تھی۔
کاظم نےغصہ کنٹرول کرتے اسے وہاں سے زبردستی اٹھایا۔ وہ لڑکھڑاٸ۔ اسکی کمر کے گرد بازو حاٸل کرتا اسے گرنے سےبچا گیا۔ جبکہ وہ بہت دلفریب ہنسی ہنسی تھی۔ آفتاب اسے کلب سے باہر نکال لایا ۔ گاڑی میں بٹھاتے گاڑی کو روڈ پے ڈالتا سنسان گلیوں سے ہوتا وہ اسے اپنے ہی فلیٹ پے لایا تھا۔ جو قریب ہی تھا۔ اسکو نشے میں ادھر سے ادھر لڑھکتے ہوٸے دیکھ کاظم نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ اور فلیٹ کے اندر داخل ہوا ۔
اندر لے جاکے زور سے اسے صوفے پے پٹخنے والے اندازمیں بٹھایا۔ اور خود لاٸٹس آن کرنے لگا۔ لاٸٹس آن کرتا وہ واپس اس تک آیا تو اسے وہاں نہ پایا ۔
یہ۔۔۔یہ اچانک سے کہاں چلی گٸ۔۔۔؟؟ کاظم نے ادھر ادھر نگاہ دوڑاٸ لیکن وہ دکھاٸ نہ دی۔
کہ تبھی پردے کے پاس اسکا وجود نظر آیا۔ وہ ساٶنڈ سسٹم میں گانا لگاتی اب حراماں حراماں اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔ اسکے انداز دیکھ کاظم کے دماغ میں جھکڑ چلنے لگے۔
ہمارا حال ۔۔۔ ہم کیا بتاٸیں۔۔۔
پاس آٶ گے تو ۔۔۔ جان جاٶ۔۔۔گے۔۔۔
تڑپ دل کی ۔۔ہم کیا بتاٸیں۔۔۔۔
دل لگاٶ گے تو جان جاٶ گے۔۔۔۔
اسکا گانے کے بولوں پے تھرکنا اور کاظم کے بار بار قریب ہونا اسے شدید غصہ دلا رہا تھا۔
تم سے یہ کہنا ہے۔۔۔
یہ شام ہمیں دے دو۔۔۔
کچھ بھی خطا کر لو۔۔۔
الزام ہمیں دے دو۔۔۔
کاظم نے آگے بڑھ کے ساٶنڈ سسٹم بندکر نا چاہا۔کہ کومل نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا ۔
یہ دل کی بات۔۔۔ ہم کو یقین ہے۔۔۔
دھیرے دھیرے تم۔۔۔مان جاٶ گے۔۔۔۔
ہمارا حال۔۔ہم کیابتاٸیں۔۔۔؟؟
کاظم نے ساٶنڈ سسٹم بندکرتے ایک زور کا تھپڑکھینچ کے کومل کے گال پے مارا۔ کہ وہ لڑکھڑاتی ہوٸ دور جا گری ۔ کاظم نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنا غصہ کنٹرول کرنا چاہا۔
پھر جھٹکے سے آگے بڑھتا اسے باتھ روم ک طرف لےجاتے شاور آن کرتا باتھ ٹب بھرتے وہ کومل کو نشے کی حالت میں بھی سہما گیا۔
باتھ ٹب بھرتے ہی کاظم نے اسکا چہرہ باتھ ٹب میں ڈبویا کومل کو لگا اسکی سانسیں بند ہونے لگیں۔ اس نے ہاتھ پیر مارے لیکن۔۔سب بے سود۔ سانس رکنے کے قریب ہوٸ تو کاظم نے اسکا منہ باہر نکالا۔ وہ کھانستی ہوٸ منہ اور ناک سے پانی کو صاف کرتی بمشکل ابھی چند سانسیں ہی لےپاٸ تھی۔ کہ کاظم نے ایک بار پھر سے اسے باتھ ٹب میں ڈبویا۔ اس بار ط
جلدی باہر نکال لیا۔ کومل کو اب کی بار سانس نہیں آرہی تھی۔ اس نے سانس لینا چاہا لیکن ناک اور منہ سے پانی نکلنے لگا۔ بمشکل آنکھیں کھولتی وہ درزیدہ نظروں سے کاظم کو دیکھتی اس سے سخت خوف کھا گٸ۔ سارا نشہ جھاگ کی طرح اڑا تھا۔ لیکن اسکے اثرات ابھی بھی باقی تھی۔
کاظم نے اسے جھثکے سے اٹھایا۔ اور باہر لا کے صوفے پے پٹخا۔
وہ سہمی ہوٸ وہیں صوفے میں دبک کے بیٹھ گٸ۔
اسکے باریک اور چست کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے اسکے جسم کے ساتھ چپک گۓ تھے۔ زندگی میں پہلی بار۔۔ آج ۔۔ کومل کو اپنے نسوانی حسن کے یوں عیاں ہوتی رعناٸیوں پے غصہ آیاتھا۔ اپنے آپ کو اپنی بازوٶں سے چھپانے کی ناکام کوشش سے کاظم مزید آگ بگولا ہوا۔
آگیا ہوش۔۔؟ بازو سے پکڑکے اپنی طرف جھٹکا دیا۔
چھوڑو۔۔ مجھے۔۔۔ جنگلی۔۔۔انسان۔۔۔! کومل اپنی زبان کے نشتر چلانے سے باز نہ آٸ۔
جنگلی۔۔۔؟؟؟ کاظم نے اسکے الفاظ دہراۓ۔ جو اسکے دماغ پے جا کے لگے تھے۔
ایک دم سے اسے صوفے پے دھکیلتے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا وہ اسے بری طرح ڈرا گیا
یہ۔۔۔یہ کیا۔۔؟؟؟ وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگی ۔
تم نے میری شرافت کانجاٸز فاٸدہ اٹھایا ہے۔ اب بتاتا ہوں۔۔ جنگلی پن ہوتا کیا ہے۔۔؟؟ شرٹ کو دورا چھالتا وہ غصہ سے پاگل ہوتا اسے بھاگنے سےپہلے ہی بری طرح دبوچ چکا تھا۔
ککککاکااکاکظمممم۔۔۔ پلیز۔۔۔؟؟ وہ پہلی بار کسی کے آگے ہاتھ باندھتی روٸ تھی۔ ورنہ ہمیشہ رلایا ہی تھا۔
اب کیو ں ڈرامہ کر رہی ہو۔۔۔۔۔ یہی تو چاہتی تھی تم۔۔۔! کاظم نے اسکے بالوں کو غصہ سے مٹھی میں لیا تو وہ سسک ہی گٸ۔
نننہیں۔۔۔۔! پلیز۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔! وہ کرب سے روٸ تھی۔
کنول نے ہمیشہ اسے ایک بات سمجھاٸ تھی۔
کہ جان جاتی ہےتو جاۓ۔ عزت کبھی نہ جاۓ۔
وہ ہمیشہ ہی اسکی بات کو ایک کان سے سن دوسرے سے نکال دیتی تھی۔ لیکن ۔۔آج۔۔ اسے شدت سے اس بات کا احساس ہوا تھا۔
لڑکی کے لیے اس کی عزت سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
کاظم نے اسکے سراسیمہ وجود پے ایک نظر ڈالی ۔ شیطان اس پے حاوی ہو رہا تھا۔ لیکن وہ خود کو شیطان کے شر سے بچا گیا۔
تم۔۔۔ تمہیں کیالگا۔۔؟؟ تم جیسی لڑکی کو جسے میں ۔۔ پاٶں کی جوتی بھی بناٶں۔۔۔اسے بستر کی زینت بناٶں گا۔۔؟؟تمہاری میری نظر میں کوٸ اوقات نہیں۔۔ جس لڑکی کو اپنی عزت کی زرا بھی پرواہ نہیں۔۔اور نشے میں بہک کے وہ کسی مرد کی بانہوں تک رساٸ حاصل کر لے ۔ ایسی لڑکی پےکاظم شاہ تھوکے بھی ناں۔۔۔!
سخت سے سخت الفاظ کا چناٶ کرتا ۔۔۔کہتے وہ جھٹکے سے کومل کو چھوڑتا وہاں سے اپنی شرٹ اٹھاتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
جبکہ کومل کے تو ارد گرد اسکے الفاظ کی بازگشت ہوتی رہی ۔
وہ سکتے میں بیٹھی۔ ان لفظوں کے زیر اثر خود کو مرتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
جاری ہے۔
