Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 28)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 28)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
دو ماہ بعد








کھانا کھالیں۔۔۔ بڑے خان۔۔۔! خانم نے روتے ہوۓ ارباز خان سے کہا۔ جو بس لیٹے آنسوبہاتے رہتےتھے۔ اپنے آنسوٶں سے وہ ہر وقت خانم سے معافی مانگتے نظر آتےتھے۔ اور خانم نظریں چراتے وہاں سے اٹھ جاتیں۔
خان ولا میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ اب وہاں وہ پہلے کی طرح خانم کی دہشت نہ تھی۔ وہ اکڑ اور غرور کہیں دور جا سوۓ تھے۔ اب انکا رخ ساس کے کمرے کی طرف تھا۔ دیجے۔۔۔۔انکی طبعیت بھی اب اکثر ہی خراب رہتی۔ وہ بھی چپ چپ ہوگٸ تھیں ۔ رانو دیبجے کے کمرے سے نکل رہی تھی۔
کھانا کھا لیا دیجے نے۔۔؟
جی کھانا کھلا دیا اور۔۔۔ دواٸ بھی دے دی۔ چھوٹے خان ا نکے پاس ہی ہیں۔
خانم۔نے گہرا سانس خارج کیا۔ اور وہیں سے واپس پلٹ گٸیں۔
وہ بہت سنجیدہ مزاج ہوگٸ تھیں۔ وقت نے انکو گہرہ ٹھوکر لگاٸ تھی۔
وہ باہر لان میں آگٸیں۔ اور پودوں کو دیکھتیں گزرے ماضی کی یادیں ان کے زخم پھر سے ہرے کرنے لگی تھیں۔
دو آنسو آنکھوں سے بہہ کے گالوں پےبے مول ہوگۓ۔
ہر طرف اب سامعہ پھپھو کا ہی راج تھا اور اسکی بیٹیوں کا۔
شہیر انابیہ کو لے کے یہاں سے سے جا چکا تھا۔ خان ولا اب صرف نام کا خان ولا تھا۔ وہ اپنا گھر بچا نہیں پاٸ تھیں۔ کرسی سے ٹیک لگاٸ اور آنکھیں موند لیں۔
ہاسپٹل کے کاریڈور میں اب بھی ایسی ہی پکار تھی۔ کہ کسی طرح ارباز خان واپس پہلے جیسے ہوجاٸیں۔ کتنی دعاٸیں انہوں نے مانگی تھیں۔ لیکن سب راٸیگاں گٸ تھیں۔
وہ اپاہج ہوگۓ تھے۔ انکی وین بری طرح متاثر ہوٸ تھی۔ جس سےانکی زبان اور انکی ریڑھ کی ہڈی پے ایفیکٹ پڑا تھا۔
وہیں دوسری طرف تبسم خان کو ہوش آگیا تھا۔ انکو اللہ نے ان کو بچا لیا تھا۔
بڑی بیگم۔۔! کھانا لگاٶں آپ کے لیے؟ رانو کی آواز پے آنھیں کھولتی وہ چونکیں تھیں۔
نہیں رانو۔۔۔! بھوک نہیں ریمبو سے کہنا تھا۔ وہ بڑے خان کو کھانا کھلا دیں۔
بنا رانو کی طرف دیکھے دھیمی آواز میں کہا۔
اسی وقت سامعہ اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ گھر داخل ہوٸیں ۔ شام کے ساۓ گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اس لمحے وہ تینوں کسی کٹی پارٹی سے واپس لوٹی تھیں۔ خانم۔نے ایک نظر ان پے ڈالی ۔ اور رخ موڑ لیا ۔ جیسے انہیں انکے یہاں ہونے نہ ہونے سے کوٸ فرق نہ پڑا ہو۔
کیا ہوا آپا۔۔۔؟؟ آج بڑی چپ چپ ہیں۔۔؟؟ سامعہ بیٹیوں کو آنکھ کے اشارے سے اندر بھیج کے خانم کے پاس آٸ۔
خانم نے پلکیں اٹھا کے انہیں دیکھا۔ میک اپ سے لت پت چہرہ اور بھڑکیلے کپڑے۔۔ انکو کیا فرق پڑا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔۔
رانو۔۔۔! عروج اور سارا کے لیےکھانا لگا دو۔اور مجھے جوس دے جانا۔ خانم۔کو نظر انداز کرتی وہ رانو کو حکم صادر کرتی وہاں سے جا چکی تھیں ۔
آپ کے شوہر اب کبھی بھی چلنہیں سکیں گے۔۔۔! وہ معزور ہوگۓ ہیں اللہ نے انہیں ان کے گناہ کی سخت سزا دی ہے۔۔۔ اور کچھ سزا تو ۔۔۔آپ کی بھی بنتی ہے۔۔۔ آخر۔۔ انکے گناہ میں کہیں نہ کہیں۔۔ آپ کا بھی تو حصہ ہے ناں۔۔؟؟
جاتے وقت شہیر کےالفاظ آج بھی لفظ با لفظ خانم۔کو یاد تھے۔ وہ انہیں سزا دے کے گیا تھا۔ ایسی سزا۔۔ جو انکی آخری سانس تک انکو بھگتنی تھی۔








کیا ہوا۔۔۔؟؟ میرا۔۔ بیٹا۔۔؟ آگیا وہ۔۔۔؟؟
تبسم خان ۔۔ عباد خان کے کمرے میں داخلہوتے فوراً انکے پاس گٸیں۔ اور ہمیشہ کا کیا سوال پھر سے دہرایا۔ وہ پچھلے دو ماہ سے بیٹے کا یوں ہی انتظار کر رہی تھیں وہ کہاں چلا گیا تھا۔ کوٸ نہیں جانتا تھا کوٸ کہتا وہ اس دنیا میں نہیں۔۔ کنول نے اسے بھی مار ڈالا ہے۔۔۔ لیکن انکا دل نہ مانتا۔۔انہیں یہی لگتا۔ آفتاب زندہ ہے۔۔ لیکن اگر وہ زندہ ہوتا تو کیا ماں کو ہاسپٹل میں اکیلا چھوڑتا۔۔۔؟؟ سب کو یہی لگتا وہ بھی شاید۔۔اب نہیں رہا ۔
لیکن تبسم بیگم ماں تھیں۔ نہیں مانتی تھیں۔ اور عباد خان ان کا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ دیجے اور تبسم کی ہر طرح کی زمہ داری انہوں نے اپنے سر لے لی تھی۔ خان ولا سے وہ جانا چاہتے تھے۔ لیکن۔۔ ی جےکی وجہ سے وہ نہ جاسکے۔ اور ۔ اپنے گناہ گار بھاٸ کے ساتھ ایک چھت تلے رہنے پے مجبور تھے۔
آپ آرام کریں۔۔ تبسم۔۔! اور اللہ سے دعا کریں ۔۔ وہ جہاں بھیہو۔۔ خیر خیریت سے ہو۔۔۔!
عباد خان نے انہثس اپنے ساتھ لگایا اور وہ روتیہوٸیں ان کے سہنے پے سر ٹکا گٸیں۔
مکھے آفتاب واپس چاہیے۔۔۔ عباد۔۔۔خان۔۔۔! وہ جو ہمیشہ انکو چھوٹے خان کہا کرتیں تھیں۔ آج انکو نام سے مخاطب کر لیا۔
آجاۓ گا۔۔! اللہ پےبھروسہ رکھیں ۔ عباد خان کا سر جھک گیا ۔
اس دن کے بعد سے نہ انہیں آفتاب دیکھا تھا نہ کنول۔۔۔
وہ کتنا تڑپ رہے تھے۔ بیٹی کے لیے ۔۔۔یہ وہی جانتے تھے۔ تبسم۔خان تو پھر بھی ان سے اپنے دل کا حال کہ لیتی تھیں۔ لیکن وہ کس سے کہتے۔۔؟؟
وہ دی جے ک خدمت تو کرتے۔ لیکن دی جے انکی شکل بھی نہ دیکھتی تھیں۔ لیکن اب وہ بیٹے ہونے کا فرض ہر صورت ادا کرنا چاپتے تھے۔







بلال۔۔! ضد نہیں کرو۔۔میڈیسن لے لو۔۔! کنول نے آنھوں میں آۓ آنسو صاف کیے تھے۔
نہیں کھانی۔۔۔! آپ ۔۔مجھ سے بالکل پیار نہیں کرتیں۔
وہ ضدی انداز میں بولا تھا۔
کیوں ایسے تنگ کر رہے ہو۔۔مجھے۔۔؟؟ وہ برسو ں کی تھکن لہجے میں لیے بولی تھی۔
آپ کل مجھے اسکول سے جلدی واپس کیوں نہیںلاٸیں تھیں؟ اب کی بار بلال کا لہجہ تھوڑا نرم پڑگیا۔
بہت۔۔ مصروف تھی ۔۔پتہ ہے ناں۔۔ میڈم کتنی سخت ہیں۔۔۔! کنول نے اسے ٹلتے دیکھا تو دواٸ اسکے منہکی جانب لے جاتی اسے پلاٸ۔ وہ بھی بنا چوں چراں کیے دواٸ پی گیا ۔
آپ بریک میں بھی نہیں آتیں میرے پاس۔۔۔؟؟ اب کی بار لاڈ سے بولا۔
بہت کام تھا بلال۔۔ ایکسٹرا پریڈلگ گیا تھا۔ اس لیے نہس آسکی۔۔ اٹھتے ہوۓ نظریں چراتے کہا۔
اچھا ا۔۔۔۔اب سو جاٶ۔۔۔! صبح اسکول بھی جانا ہے۔۔ مجھے کچھ نوٹ بکس چیک کرنی ہیں۔ کنول نے سینجیدگی سے کہتے مرے سے باہر جانا چاہا۔
آپ کو۔۔ ان کی یاد نہیں آتی۔۔۔؟ بلال ے الفاظ نے اس کے قدموں میں زنجیر ڈال دی۔
تم گۓ غم نہیں ۔۔۔۔
آنکھ یہ ۔۔نم نہیں۔۔
درد ہو گا۔۔ تو ۔۔۔اب۔۔۔۔
کوٸ ہمدم۔۔۔ نہیں۔۔۔
گہرا سانس لیتی وہ پلٹی۔
سپاٹ نظروں سے بلال کو دیکھا۔
نہیں۔۔۔! اتنے ہی سختی سے کہتی وہ باہر نکل گٸ۔
لیکن بلال جانتا تھا۔ وہ اپنے دوست کے بنا ادھوری تھی۔وہ دوست جو اسکا بوس تھا۔
کنول باہر نکلتی صحن میں آگٸ تھی ۔ کھلیہوا میں سانس لیتی وہ خود کو نارمل کرنےکی ناکام کوشش کرنے لگی۔ اسکا سانس جیسے پھر سے پھولنےلگا۔ صحن میں رکھی ایک کرسی پے وہ ڈھے سی گٸ۔
آفتاب کے وہ آخری لمحات اسکی آنکھوں میں آج بھی روز اول کی طرح تازے تھے۔ اپنے دل کےمقام پے ہاتھ رکھتے وہ بے آواز آنسوٶں سے رو دی تھی۔
جاتے جاتے وہ اسے اپنی محبت دے گیا تھا ۔ کہ وہ اس میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گٸ تھی۔
وہ درد بھرا لمحہ اسے آج دن تک بے چین کیے ہوۓ تھا۔ وہ آج بھی اس حصار سے باہر نہ نکل پاٸ تھی۔
آفتاب کی آنکھوں کی بے یقینی آج بھی اسے ڈستی تھی۔ ایک رات بھی وہ سکون سے نہیں سوٸ تھی۔
موباٸل پے آتی کال پے وہ بری طرح چونکی۔
کہاں ہو۔۔۔؟؟؟ کرخت لہجہ میں ہر بارکا پوچھا گیا سوال پھر سے دہرایا گیا ۔
بہت پرسکون۔۔۔! کنول نے کے الفاظ جتنے کم تھے اتنے ہی سخت تھے۔
دیکھو! میں جانتی ہوں۔۔۔ ! تم آفتاب کے ساتھ ہو۔۔۔! اور جس دن مجھے پتہ چلا ۔۔۔ تم دونوں کہاں ہو۔۔۔؟ اس دن۔۔ تمہارا ۔۔ یا اسکا۔۔۔ اس دنیا میں آخری دن ہوگا۔
وہ بہت غصیلے انداز میں بولی تھی۔
کنول نے کال کاٹ دی ۔ آنسو پونچھے۔
کے کے اسی زعم میں تھی کہ آفتاب اور وہ ایک ساتھ ہیں۔ جبکہ۔۔۔ کنول بالکل نہیں جانتی تھی۔آفتاب۔۔۔ کہاں ہے۔۔؟؟
ایک پل کو اسکو لگتا۔۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو۔ ۔۔ضرور اس تک پہنچتا۔اتنا وقت گزر گیا۔ دو ماہ ۔۔۔؟؟؟ وہ انتظار کرتی رہ گٸ۔ لیکن ۔۔۔ وہ نہ آیا۔ کنول کو یہی لگتا تھا۔ وہ آٸے گا ایک دن۔۔ اور اس سے بدلہ لےگا۔۔ جیسے اس نے لیا تھا۔ لیکن۔۔ وہ نہ آیا۔۔۔ انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا۔ کیاوہ۔۔۔ واقعی۔۔۔مر۔۔۔۔؟؟ نہیں۔۔۔؟؟
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دل کےمقام پے ہاتھ رکھے بے چینی سے کھڑی ہوٸ۔
ان سانسوں کا چلنا۔۔۔ اس بات کی گواہی ہے۔۔۔ وہ زندہ ہے۔میری سانسوں کو بند کیے بنا ۔۔۔ وہ نہیں مر سکتا۔۔!
دل نے سختی سے دماغ کی تردید کی۔ اتنے عرصے سے وہ بس یہی سوچ رہی تھی۔ وہ زندہ ہے یا نہیں۔۔
دل و دماغ کی جنگ میں وہ اکثر خود کوہار جاتی تھی
آج پھر سےاسکی سانسیں اکھڑنےلگی تھیں۔ اسکا دل بہت گھبرا رہاتھا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانےلگا تھا۔ وہ واپس وہیں بیٹھ گٸ تھی۔
پچھلے دو ہفتوں سے اسکے ساتھ یہی سب کچھ ہو رپا تھا۔ اور دو دنوں سے وہ یہی سوچ رہی تھی۔ کہ آج ڈاکٹر کےپاسجاۓ گی۔۔۔ اور روز رہ جاتی۔ اب کل کا اس نے پکا ارادہ کیا تھا۔
وہ۔۔کہاں۔۔ تھی۔۔؟؟ کنول آفتاب کہاں تھی؟
وہ سب سے دور۔۔۔ مری کے علاقےمیں تھی۔ سر سبز و شاداب علاقہ۔۔۔ جہاں وہ اپنا ماضی تو پیچھے چھوڑ آٸ تھی۔ لیکن آفتاب کو نہیں بھلا پاٸ تھی۔
آفتاب۔۔۔ ؟؟ جسے مہرہ بنایا اس نے۔۔۔
کب عشق بن گیا۔ اسے خود بھی پتہ نہ چلا۔







بڑی بیگم خانم ۔۔۔۔؟؟ بڑی بیگم۔۔۔؟؟ سفیہ چلاتی ہوٸ سیڑھیاں اتری تھی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیوں شور مچا رہی ہو۔۔؟؟
وہ جو مونچھی جی کے ساتھ زمینوں کا حساب کر رہی تھیں۔ سفیہ کی آواز پے بری طرح ڈسٹرب ہوٸیں ۔
سفیہ نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا۔ اسکے چہرے پے انتہا کی خوشی تھی۔
انہیں۔۔۔ ہوش۔۔۔ آگیا۔۔۔! سرخ وہ سپید رنگت تکھے نین نقش گلابی لب گالوں پے قدرتی لالی اور کاجل بھری آنکھیں۔
دیکھنے والا ایک لمحےکو اسکے سحر میں ڈوب جاۓ
بڑی بیگم کے تو ہاتھ سے کاغذات چھوٹ کے زمین بوس ہوۓ۔ انہیں تو جیسے سفیہ نے زندگی کی نوید سنا دی گٸ تھی۔
بڑی بیگم کی آنکھیں جھلملا گٸیں ۔ وہ فوراً سفیہ کے ساتھ اس کمرےکی جانب بڑھیں ۔ جہاں دو ماہ سے انکا وارث انکا پوتا۔۔ کومہ میں تھا۔
شیر۔۔۔۔؟؟ میرا شیر۔۔۔؟؟ ثریا خانم آفتاب کے سرہانے بیٹھتے اسکے چہرے پے پیار سے ہاتھ پھیرتی بولیں تھیں۔ پاس کھڑی سفیہ کی آنکھیں بھی نم ہوٸیں .
آفتاب نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ۔ سامنے ثریا خانم کو دیکھ کچھ دیر تو گم صم ہی رہ گیا۔
ڈاکٹر جو چوبیس گھنٹے آفتاب کے ساتھ رہا۔ اس وقت مسکرا رہا تھا۔
مبارک ہو۔۔۔! بڑی بیگم۔۔ بلآخر۔۔ آپ کی محبت رنگ لے ہی آٸ۔ آپ کے پوتے کوہوش آہی گیا۔۔! ڈاکٹر فاضل خوش ہوتے ان سے مخاطب ہوۓ۔
سفیہ دلاور سے کہو۔۔۔ ڈاکٹر کومنہ مانگی رقم ادا کردیں ۔۔۔ آج ہمارا جانشیں۔۔۔ ہمیں واپس مل گیا ہے۔۔۔
بنا کسی کی طرف دیکھے یک ٹک آفتاب کے چہرے کو نہارتے وہ مسکرا بھی رہیں تھیں۔ اور رو بھی رہی تھیں۔
آفتاب نے آنکھیں موند لیں۔
اسے گزرے لمحے ایک ایک کرکے سب یاد آنے لگے۔ دل میں نفرت کا ایک غبار اٹھا۔
اسے سب یاد تھا۔ لیکن۔۔۔ وہ یہاں کیسے آیا۔۔۔۔۔۔؟؟ یہ نہ سمجھ سکا ۔
آنکھیں کھولتا وہ اٹھ کے بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔
کہ اسکو بازو میں درد کی ٹھیس اٹھی۔
ثریا خانم۔نے پوتے کو سہارا دے کے بٹھایا۔ وہ ان دو ماہ میں کومہ میں رہا۔ جس کی وجہ سے وہ کچھ کمزور ہو گیا تھا۔ لیکن۔۔ چہرے پے بڑھی داڑھی نے اسکی شخصیت کو مزید ابھار دیا تھا۔ وہ واقعی اس وقت ایک خوبصورت اور مغرور پٹھان لگ رہا تھا۔ آفتاب شیر خان۔
تکیہ کے ساتھ ٹک لگا کے بیٹھتا نظر سامنے مسکراتی اور روتی ایک لڑکی پے جا ٹہری۔ جسکی نظریں آفتاب کی نظروں سے ملتےہی فوراً جھک سی گٸیں۔
آفتاب نے رخ پھیر کے ثریا خانم کو دیکھا۔
میں یہاں کیسےآیا۔۔؟؟ اسکا پہلا سوال یہ ہوگا۔ ثریا خانم کو اندازہ نہ تھا۔
وہ تو سمجھیں تھیں وہ اپنی دادی سے خوش ہوجاۓ گا ۔ لیکن۔۔ یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی تھی ۔ آفتاب کا سپاٹ انداز انہیں بری طرح ٹھٹھکا گیا۔
میں بتاتا ہوں۔۔۔! سعدی کےوہاں اچانک آجانےپے آفتاب نے بنا گردن موڑے نظروں کا رخ اسکی جانب کیا ۔
آپ ۔۔؟؟ سر کے لیے۔۔ کچھ کھانےکابندوبست کریں۔
سعدی نے ثریا خانم۔کو وہاں سے ہٹانا چاہا۔ وہ بھی خاموشی سے وہاں سے باہر نکل گیں۔ انہیں سعدی پےپورا یقین تھا۔ ان دو ماہ میں سعدی ہی انہیں وہ انسان لگا تھا۔ جو آفتاب کو ان تک پہنچا سکتا تھا۔
ثریا خانم۔کےجانے کے ساتھہی سفیہ بھی ایک نظر پھر سے آفتاب پے ڈالتیدل کو سنبھالتی باہر نکلی ۔ سعدی نے دروازہ لاک کیا ۔
آپ کو میں یہاں لےکے آیا ہوں۔۔۔! سعدی کے کہنے پے آفتاب کےماتھےپے بل پڑے ۔
کچھ بھی غلط مت سوچیے گا۔۔۔ پلیز۔۔ سر۔۔! پہلے میری پوری بات سن لیں۔۔! سعدی نے آفتاب کے چہرے کے تنے زاویے دیکھتے فوراً سے کہا ۔
وہ تکیہ کے ساتھ ٹیک لگاۓ سعدی کی زبانی ساری بات سنتا چلا گیا ۔





ان سب میں سعدی وہاں سے نامحسوس انداز میں جا چکا تھا۔جسے کسی نے نوٹ نہ کیا۔
اسکا دل بے چین تھا۔آفتاب کو لے کے۔ وہ لوکیشن دیکھ چکا تھا۔ وہ رش ڈراٸیونگ کرتا اس جگہ پہنچا۔
آفتاب کی گاڑی وہیں کھڑی دیکھ وہ باہر نکلتا آفتاب کو ڈھونڈنے لگا۔ کہ اسکی نظر دور گرے آفتاب پے پڑی۔ وہ حواس باختہ ہوتا وہاں بھاگا ۔ آفتاب کو خون میں لتطپت دیکھ وہ بری طرح رو دیا
سر۔۔۔! سر۔۔۔! آنکھیں کھولیں۔۔۔ سعدی بری طرح روتے چلایا تھا ۔ جھک کے اسکے دل کی دھڑکن کو سنا۔ جو بہتہی ہلکی چل رہی تھی۔ اردگرد دیکھتے وہ آفتاب کو بمشکل سنبھالتا اٹھا کے گاڑی کی طرف بڑھا۔
میں۔۔آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔..!
سعدی نے گاڑی اپنے جاننے والے ایک دوست ڈاکٹر کے کلینک کی طرف موڑ لی۔ ساتھ ساتھ وہ آفتاب کو بھی دیکھ رہا تھا ۔ جو ہوش وحواس کھو چکاتھا ۔
ڈاکٹر۔۔۔؟؟ ڈاکٹر فاضل کہا ں ہیں۔۔؟
سعدی چلایا تھا۔۔
کیاہوا سعدی۔۔؟؟ ڈاکٹر فاضل فوراً ہی سامنے سے آتے دکھاٸ دیے۔ ان کے ساتھ کھڑی خاتون کو سعدی سرے سے ہی نظر انداز کر گیا ۔ ورنہ ایک نظر دیکھتا تو سنبھل کےبات کرتا ۔
پلیز۔۔۔ جلدی چلیں۔۔ وہ اسٹریچر پے۔۔ میرے ۔۔بھاٸ۔۔ہیں۔۔! سعدی انہیں کھینچ کے ساتھ لے گیا ۔ اسکی روتی حالت پے فاضل بھی پریشان ہوگیا تھا ۔
فاضل نے آفتاب کی کنڈیشن دیکھی تو پریشان ہوگیا۔
انہیں۔۔ گولی لگی۔۔ہے۔۔؟؟ اور۔۔۔؟؟
پلیز۔۔؟ سب جانتا ہوں۔۔ آپ ۔۔میرے بھاٸ کو بچا لیں۔
سعدی نے ہاتھ جوڑ دیے۔ آفتاب کے علاوہ اسکا تھا ہی کون۔۔۔ ؟
لیکن۔۔ پولیس۔۔کیس۔۔؟؟
ڈاکٹر۔۔فاضل۔۔۔! میرے پوتےکو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ ورنہ۔۔۔ تمہارے سمیتپورےہاسپٹل کو آگ لگا دیں گے۔۔۔!
پاس کھڑی نم آنکھیں لیے وہ اور کوٸ نہیں ثریا خانم۔تھیں ۔
انکی دھمکیایسی کاریگر ثابتوٸ۔ کہ ڈاکٹر فاضل فوراً آفتاب کو لیے آپرشن تھیٹر کی جانب بڑھے ۔
سعدی نے تھکے انداز میں دیوار سے سر ٹکایا ۔
میرے جانشیں کو گولیمارنےکی جرات کس نے کی؟
سخت انداز مثس وہ سعدی سے مخاطب ہوٸیں۔ سعدی چونکا۔
وہ نہیں جانتا تھا۔ کہ آفتاب پے گولیک س نے چلاٸ۔۔۔؟؟ اور وہ شک میں کنول کا نام لے کے اسے مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
سعدی نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو ثریا خانم نے لب بھینچ لیے۔







وہیں دوسری طرف ڈاکٹر نے ارباز خان کے ہوش میں آنےپے سب پے یہ پہاڑ توڑ دیا۔ کہ وہ ہمیشہ کےلیےمعزور ہوگۓہیں۔ خانم کا رو رو کے برا حال ہو گیا۔
اللہ نے تبسم خان کو نٸ زندگی بخشی تھی ۔ ہوش میں آتےبہی پہلا سوال آفتاب کےلیےکیا۔ لیکن کوٸ نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ کہاں ہے۔؟ سواۓ اس کے۔۔ کہ کنول کے پاس جا رہا ہے۔۔ !
شہیر کے دل و دماغ میں جھکڑ چلنے لگے تھے۔ باپ کے گناہ کا سامنا وہ کر ہی نہیں پارہا تھا۔ اتنا بڑا دل کیسے تھا ان کےپاس ۔۔۔؟؟ کہ وہ ۔۔؟؟ یہ گنا ہ کر گۓ۔۔۔؟
انا نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھا۔ شہیر نے ایک کھتی نظر اس پے ڈالی ۔ کرب تھا اسکی آنکھوں میں ۔ وہ ساری سچاٸ تو نہیں جانتا تھا لیکن۔۔ جو جان گیا تھا۔ اسے ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر گیا تھا جس سے وہ ساری زندگی نہیں نکل سکتاتھا۔
بیٹا۔۔۔! شہیر۔۔۔۔ آفتاب کے نمبر۔۔۔ پے کال کر کے دیکھیں۔۔۔ تبسم۔۔۔ انکو یاد کررہی ہیں۔۔!
عباد خان ہارے ہوۓ جواری کی طرح شہیر کے پاس آتے دھیرے سے بولے تھے۔
شہیر نے ایکنظر انکو دیکھا۔ اثبات میں سر ہلاتا وہ آفتاب کےنمبر پےکال کرنےلگا۔ بیل جاتی رہی۔ لیکن کال پک نہ ہوٸ۔ شہیر بھی پریشان سا ہوگیا۔






ڈاکٹر فاضل آپریشن تھیٹر سے عجلت میں باہر نکلے ۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟
دیکھیں۔۔ گولی توہم نے نکال دی ہے۔ لیکن ۔۔۔؟؟ وہ چپ ہوتے قہر برساتی ثریا خانم کو دیکھنےلگے۔
لیکن کیا۔۔۔؟ سعدی بے چین ہوا۔
آپ نے لانےمیں ۔۔۔ تھوڑی دیر کردی۔۔۔کیونکہ۔۔۔
خون ۔۔بہت زیادہ بہہ گیا ہے۔۔۔۔! بلڈ بنک میں او نیگیٹیو میسر نہیں۔۔ہم ارینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۔۔آپ بھی۔۔؟؟؟
میرا او نیگیٹیو ہے۔۔ بلڈ۔۔ میرے جسم کا ایک ایک قطرہ لے لو۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ لیکن ۔۔میرے جانشین کو بچا لو۔۔۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔
ثریا خانم کی آواز نے ان کے اندر نٸ روح پھونک دی۔ بنا کوٸ دیری کیے۔ وہ انکو وہاں سے لے گیا۔ سعدی اللہ سے دعاٸیں کر رہا تھا۔
کٸ بار اسکے موباٸل پے کاظم کی کال آچکی تھی۔ لیکن وہ کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا ۔
وہیں۔۔ آفتاب کا موباٸل بجا۔ جو اسکی جیب میں تھا۔ شہیر کالنگ دیکھ سعدی نے لب بھینچے۔ اور کچھ سوچتے ہوۓ موباٸل ہی آف کر دیا۔
ثریا خانم دوسرے بیڈ پے لیٹیں اپنےپوتے کو خون دے رہی تھیں اپنےپوتے کو دیکھتی جا رہی تھیں۔ جس کےمنہ پے آکسیجن ماسک لگا تھا۔ اور ہارٹ بیٹ ہی تھی جو بہت آہیستہ چل رہی تھی۔
انکی آنکھیں نم ہوگٸیں۔
اے اللہ۔۔۔! میں نے زندگی میں اگر کوٸ نیکی کی ہے۔۔اور تو سمجھتا ہے۔۔ وہ میری نجات کا زریعہ ہے۔ ۔۔تو میں تجھ سے اس نیکی کے بدلےاپنا جانشین مانگتی ہوں۔۔۔۔چاہے ۔۔۔میری جان لےلے۔۔۔ لیکن۔۔ میرے پوتے کو بچا لے۔۔۔
دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب ہوتے انکی آنسو بہہ کے تکیہ میں جذب ہونےلگے۔





شام تک ڈاکٹر فاضل نے ان کو یہ لرزہ خیز خبر دے دی تھی۔ کہ چوبیس گھنٹے آفتاب کےلیے کریٹیکل ہیں۔ اگر اسے ہوش آگیا تو ٹھیک۔۔ ورنہ وہ کومہ میں بھی جا سکتا ہے۔ وہ پل۔۔۔ سعدی پے پہاڑ بن کے ٹوٹے تھے۔ اب انہیں صبح کا انتظار تھا۔ وہ رات انہوں نے کیسے گزاری۔ یہ وہی جانتے تھے۔
اور۔۔ صبح ۔۔ آفتاب کو ہوش نہ آیا۔ سعدی بہت دل چھوڑ بیٹھا تھا۔ ثریا خانم بھی بہت روٸیں تھیں۔ لیکن اللہ سے ناامید نہ ہوٸے تھے۔
اور ثریا خانم۔نے اسلام آباد لے جانےکا ارادہ کیا۔ جہاں انکی پشتینی حویلی تھی۔ بڑی حویلی۔ جس کو جانتے تو سارے تھے۔ لیکن۔۔۔ وہاں داخلہ صرف انکا تھا۔ جن کو ثریا خانم چاہتیں۔
کراچی سے مخصوص فلاٸیٹ پے وہ سعدی کے ساتھ خاموشی سے آفتاب کو اسلام آباد بڑی حویلی لے آٸیں ۔ ڈاکٹر فاضل بھی ساتھ ہی آۓ تھے۔ ثریا خانم کے حکم پے۔
آفتاب کی ایسی حالت نہ تھی کہ وہ کسی کو اسکے بارے میں بتا سکیں۔ اس لیے یہ راز رکھا گیا۔ کہ آفتاب زندہ ہے یا نہیں۔۔؟؟ وہ کہاں ہے۔۔۔؟؟ اسکی ماں تک سے چھپایا گیا۔ کأظم سے بعد میں رابطہ ہو گیا تھا۔ا سے سب بتا دیا تھا۔ لیکن وہ بھی اس بات کو راز رکھ گیا۔ اس دوران وہ کراچی ہی رہا۔ اور سب سے اہم کام جو اس نے کیا۔ وہ کے کے پے پل پل نظر رکھی۔ نہ صرف نظر رکھی۔ بلکہ اس سے میل ملاپ بھی بڑھالیا۔
ساری بات مکمل کرتے سعدی خاموش ہوگیا۔
امی جان کیسی ہیں۔۔؟؟ آفتاب کا پہلا سوال جو اسنے بہت پرسکون انداز میں پوچھا۔
بالکل ٹھیک ہیں۔۔! اور آپ کو بہت یاد کرتی ہیں۔
میرا موباٸل۔۔۔؟؟ آفتاب کے دماغ میں کنول کی شبیہہ ابھری تو فوراً سے موباٸل مانگا۔
یہ رہا۔۔۔ جیب سے نکال کے آفتاب کو تھمایا۔
جب سے آپ کومہ میں ہیں یہ بند تھا۔
سعدی نے دھیرے سےکہا۔
آفتاب نے کنول کی لوکیشن سرچ کی۔ جو کچھ ہی در میں شو ہونے لگی۔ لوکشین دیکھ موباٸل کو ساٸیڈ پے رکھتا وہ ٹک لگاتا آنکھیں موند گیا۔
i am coming… mrs aftab kanwal. Just wait and watch.
دل ہی دل میں اس سے ؟مخاطب ہوا۔
جاری ہے۔
