Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 05)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 05)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha chohan
گھر بھر میں شادی کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔ ہر طرف ایک گہما گہمی کا سماں تھا۔ ایسے میں ہر بات میں شہیر سے مشورہ لازمی لیا جاتا۔ ان کچھ دنوں میں جہاں دی جے اس سے تفصیلی بات نہ کر سکیں۔ وہیں شہیر بھی انہیں اپنے یہاں آنے کی اصل وجہ نہ بتا سکا۔ سب کو یہی لگ رہا تھا۔ وہ یہاں سب سے ملنے آیا ہے۔ کچھ دن رہے گا اور چلا جاۓ گا ۔ لیکن۔۔ جانے سے پہلے کیا فیصلہ کرتا ہے۔ سب کو اس کا تجسس ضرور تھا۔ کچھ شادی کی تیاریوں میں لگ کے بھی سب اس بات کو ابھی وقت پے ٹال کے اپنے اپنے کام نپٹا رہے تھے۔
شامی کا رویہ آج بھی پہلے دن جیسا تھا۔ جسےاب سب نے محسوس بھی کیا۔
جمیلہ خاتون نے ایک دن سمجھانا بھی چاہا ۔ لیکن وہ اپنی ہی کرتا تھا۔
اسکی سرد مہری کی وجہ سے شہیر بھی اس سے دور دور رہنے لگا۔
آفتب کی مدد سے اس نے یہاں ایک گاڑی بھی لے لی تھی۔ جسے وہ اپنے استعمال میں لاتا تھا۔
انابیہ کا گریز اسے بہت سخت کھُلتا تھا ۔ اس لیے خود پے اس نے بھی سرد مہری کی چادر چڑھا لی۔
غرض اس حوالے سے دونوں طرف ہی خاموشی تھی۔ ایسی خاموشی جو طوفان سے پہلے کی ہوتی ہے۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ کہ آنے والے وقت میں شہیر اور انا کا رشتہ کیا طوفان لانے والا تھا۔














کنول کاکیبن آفتاب کے آفس کےسامنے ہی تھا۔ جہاں وہ بیٹھ کر کام کرتی تھی۔ آفتاب ہر وقت اس پے نظر رکھے ہوۓ تھے۔ لیکن اسکے احساسات کنول کے لیے تبدیل ہو رہے تھے۔ وہ خود بھی ان جذبات سے ناواقف تھا ابھی۔ کنول کے بازو میں جہاں گولی لگی تھی۔ اسے وہ کم ہی استعمال کرتی تھی۔
آفتاب آفس میں بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا۔ کہ اسے کسی انجانے نمبر سے کال آٸ۔ موباٸل کان کے ساتھ لگایا۔
اپنی ماں سے بہت ہی لاپراہ ہو گۓ ہو۔۔؟؟
الفاظ کانوں میں پڑے تو آفتاب کا دماغ گھوما۔ سیدھا ہوتے بیٹھا۔
اُس بات کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔
لیکن ایسا کچھ نہ ہوا تھا۔ کہ آفتاب ماں کو لے کے پریشان ہوتا۔ لیکن اس نے ایک ہفتے میں ماں کی سیکیورٹی سخت کردی تھی۔
کون ہو تم۔۔؟؟؟؟ آفتاب کی سردآواز۔ مقابل قہقے مار کے ہنسا۔ اور کال بند کر دی ۔
آفتاب نےفوراً نمبر سعدی کو فاروڈ کیا۔ اور خود عجلت میں اٹھتا باہر کی طرف بڑھا۔ کہ دروازے سے اندر آتی کنول سے بری طرح تصادم ہوا۔
کیا مسٸلہ ہے؟ دیکھ کے نہیں چل سکتی؟
آفتاب الٹا اسی پے چڑھ دوڑا۔ وہ جس کے ہاتھ میں فاٸل تھی۔ نیچے گر چکی تھی۔ اور فاٸل سے پیپرز بی نکل کے بکھر چکے تھے۔ اپنی بازو کو سہلاتی بنا آفتاب کو جواب دیے جھک کے پیپرز اٹھانے لگی۔ کہ اتنے میں آفتاب کے موباٸل پے سعدی کی کال آٸ۔
ہاں پتہ لگا؟ کنول کو نظر انداز کرتا وہ پوچھتے ہوۓ ساتھ قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔
سر۔۔! نمبر کای کے استعمال میں نہیں ہے۔
شٹ۔۔۔! سعدی میں گھر جا رہا ہوں۔ تم سیکیورٹی چیک کرو۔
کہتے ساتھ کال بند کی۔ گاڑی کی طرف بڑھتا۔ گاڑی گھر کے راستے پے ڈال دی۔
میں امی جان کو لے کے اتنا لاپرواہ کیسے ہو سکتا ہوں؟
شیر خان۔۔۔! اگر میری ماں کو ایک کھروچ بھی آٸ تو۔۔ میں آپ کو جان سے مار ڈالوں گا۔
دل ہی دل میں کہتا وہ سخت خوفناک ارادے لیے ہوۓ تھا۔ ساتھ تبسم بیگم کو کال بھی ملا رہا تھا۔
امی جان۔۔؟؟ کہاں ہیں آپ؟ کال ملتےہی پوچھا۔
بیٹا۔۔! یہاں قریبی شاپنگ مال آٸ ہوں۔ کچھ ۔۔سامان خریدنا تھا۔
آفتاب نے آنکھیں سختی سے بند کر کے کھولیں۔ اس وقت وہ گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا۔ اور بلیو ٹوتھ سے ماں سے بات کر رہا تھا۔
مجھے ایڈریس بتاٸیں ۔ میں آرہا ہوں۔ فوراً کہا۔
تبسم بیگم کو کچھ صحیح نہ لگا۔ اسلیے بنا مزید کسی تردد کےایڈریس بتا دیا۔
آفتاب ان سے کال پے کنیکٹڈ رہا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ شاپنگ مال پہنچ چکا تھا۔
ان سے شاپ کا پوچھتا وہ اسی روٹ پے آیا۔ تو سامنے ہی وہ نظر آگٸیں۔
بے اختیار آفتاب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور انکی جانب بڑھا۔ اور انہیں گلے سے لگانے لگا کہ اتنے میں شاپنگ مال میں بھگدڑ مچ گٸ۔
بھاگو۔۔۔ بھاگو۔۔ یہاں بم ہے۔۔۔ کسی کے چلا کے کہنے پے لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا تھا۔
آفتاب جو چند قدم ماں سے دور تھا۔ بہت دور ہوتا چلا گیا۔ تبم بیگم بگی پریشان حال اس صورت حال کو دیکھنے لگیں ۔
انہوں نے آفتاب کو نہ دیکھاتھا۔ ابھی ۔ وہ بس ارد گرد ہجوم دیکھ پریشان ہو رہی تھیں ۔
اتنے میں کسی نے بہت سختی سے انکا ہاتھ پکڑا۔ انکا ل بری طرح دھڑکا۔
پلٹ کے دیکھا ۔ وہ کوٸ کالے لباس میں عورت تھی۔ سر اور چہرہ ڈھانپا ہوا تھا۔ لیکن ہاتھ کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
تبسم بیگم نے ہاتھ چھڑانا چاہا۔ لیکن اس نے ہاتھ نہ چھوڑا۔ وہ ہجوم کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھیں۔
تبسم بیگم کو اس سے خوف محسوس ہوا۔ کہ اتنے میں آفتاب نے اکا دامن تھام لیا۔ اور ان تک پہنچا۔
امی جان۔۔۔! آواز پے وہ آفتاب کی جانب پلٹیں ۔ اتنے میں ساتھ ہی وہ عورت وہاں سے غاٸب ہوگٸ۔
امی جان آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔ ؟ اس نے ماں کو مکمل کور کرتے پوچھا ۔
ہاں۔۔۔ ہممم۔۔۔۔۔!! وہ گھبراٸ آواز میں بولتی اپنی کلاٸ دیکھ رہی تھیں۔ جس پے ابھی بھی اس گرفت کی پکڑ محسوس ہو رہی تھی۔
آفتاب انہیں لیے شاپنگ مال سے باہر نکلا۔ گاڑی میں بٹھایا۔ اور اس ایریا سے نکلتا چلا گیا۔
تبسم بیگم چپ سی ہوگٸیں تھیں۔
خان ولا پہنچ کے وہ ماں کو اندر لے گیا۔ بنا کسیکی نظر مثس آۓ وہ انہیں روم میں لےجا تے بٹھایا۔ خود بھی سکون کا سانس لیا۔ اور ماں کو بھی سکون کرنے دیا۔ اٹھ کے انہیں پانی پلایا۔ وہ بہت ڈری سی لگ رہی تھیں۔
امی جان۔۔۔! کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔
آفتاب نے پیار سے ماں کے سامنے گھٹنوں کے بل زمین پے بیٹھتے کہا۔
بیٹا۔۔۔! میں ٹھیک۔۔۔ ہوں۔۔ ! انہوں نےبھی جواباً مسکرا کے کہا جبکہ ۔ وہ اس عورت کے بارے میں نہ بتا سکیں۔ کہ وہ حقیقت تھی یا وہم۔۔۔؟؟ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھیں ۔آفتاب کو کیسے بتاتیں۔
آپ آرام کریں۔ اور پلیز۔۔ اگلی بار کہیں بھی جانا ہو۔ آپ مجھے کال کریں گیں۔ اور میرے ساتھ جاٸیں گیں ۔
پیار اور تھوڑا سختی سے ماں کو باور کرایا۔ کہ وہ اکیلی کہیں نہ جاٸیں۔
تبسم بیگم نے بنا کسی تاویل کے اثبات میں سر ہلایا ۔
وہ وہاں سے اٹھتا اپنے روم میں آگیا ۔
وہ اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرنا چاہ رہا تھا۔ ٹھنڈے دماغ سے وہ آج کے واقعے پے غور کر رہا تھا۔
سعدی کی کال پے وہ فون پک کر گیا۔
سر۔۔! کوٸ بم نہیں تھایہاں کی نے جھوٹ بولا۔ سارا ایریا کلیٸر ہوچکا ہے۔
سعدی کی بات پے وہ زیادہ پریشان ہوا۔
مطلب۔۔! مطلب صاف تھا۔ آفتاب شیر خان کی کمزوری سے اسے ڈرایا جا رہا تھا۔
وہ سر ہاتھوں پے گراۓ کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھا تھا۔
میں جانتا ہوں ۔ یہ اور کوٸ نہیں شیر خان۔۔ یہ سب آپ کر رہے ہیں ۔۔ جان بوجھ کے۔۔ تا کہ میں واپس آجاٶں۔۔ تو ۔۔۔۔۔
اپنی جگہ سے اٹھا۔ آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ لب بھینچے وہ باہر نکلا۔
میں آرہا ہوں شیر خان۔۔۔۔! وہ گاڑی کیجانب بڑھا ۔















بڑے خان! ہر ممکن جگہ دیکھ لیا۔ سب آدمی پچھلے ایک ہفتے سے دیکھ چکے ہیں۔ ہر جگہ ڈھونڈ چکے ہیں۔ لیکن۔۔ چھوٹے خان کا پتہ نہیں چلا۔
کم بختوں۔۔ ! ایک کام نہیں ہو سکا تم لوگوں سے۔۔؟؟ میرے بیٹے کو نہیں ڈھونڈ سکےتم۔۔؟؟
ارباز خان سخت غصہ ہوۓ۔ وہ اس وقت اپنے ڈیرے پے تھے۔
بڑے خان۔۔! کوٸ کسر نہیں چھوڑی۔۔ ہمیں تو لگتا ہے۔ وہ اس شہر میں ہی نہیں۔
شہر میں نہیں۔۔؟؟؟ ایک دم سے ارباز خان میں یہبات جا کے لگی۔
مطلب۔۔؟؟ کہیں وہ۔۔ دی جے۔۔ کے پاس لاہور۔۔۔؟؟؟
ایک کام کرو۔۔ فضلو۔۔۔! ٢٣ جون کی ساری فلاٸیٹس چیک کرو ۔ کہ اس دن۔۔ لاہور جانے والی کسی بھی فلاٸیٹ میں شہیر خانزادہ کا نام موجود ہے؟ اور مجھے اطلاع دو۔
دماغ نے فوراً کام کرنا شروع کیا۔ لیکن دل تھا کہ پریشان ہوگیا تھا۔
یاد رکھنا ساری معلومات اکھٹی کرنا۔ کوٸ گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔ سمجھے۔
فضلو سر ہلاتا جا چکا تھا۔
اگر وہ ۔۔ لاہور پہنچ گیا ہوا تو۔۔؟ خانم۔۔؟؟ خانم کیاکریں گیں۔۔؟؟ وہ تو۔۔؟؟
ارباز خان بہت ہی پریشان ہوگۓ۔ انہیں خانم کی فکر لگی ۔ نجانے دی جے نے اسے کیا کیا کہا ہوگا۔۔؟؟















شامی۔۔!آپ اٹھ رہے ہو یا نہیں۔۔؟؟
جمیلہ بیگم نے لاسٹ وارننگ والے انداز میں پوچھا۔
اٹھ گیا ہوں۔۔ میری دشمنِ جاں۔۔ !
منہ بناتا وہ مسکراتا ہوا اٹھا۔
سب دنیا بدل جاۓ گی۔۔ لیکن یہ لڑکا نہیں بدلے گا۔
میں موسم تھوڑی ہوں جو بدل جاٶں۔
منہ بناتے انہوں نے اسکا کمبل تہہ کرنا چاہا۔
رہنے دیں یار۔۔! میں کر لوں گا۔۔! شامی شرمندہ ہوا۔
آپ جلدی سے ناشتہ کریں۔ اور بچیوں کو شاپنگ پے لے کے جاٸیں۔ گھر میں شادی ہے۔ سو کام ہیں۔ لیکن آپ کو تو کوٸ فکر ہی نہیں۔
شامی انکی باتیں سنتا واش روم کا رخ کیا ۔
اسکا کمرہ صاف کرتیں اب وہ واپس کچن میں آٸیں تھیں۔
انا نے جمیلہ خاتون کے کہنے پےیونی سے آف لے لیا تھا۔
آپ دونوں تیار ہوجاٸیں شامی کے ساتھ جا کے شاپنگ کر لیں۔ جو جو لینا ہو آج ہی نپٹا لیں۔ تا کہ اور کام ہو سکیں۔
صرف ان دونوں کی شاپنگ ہوگی۔ یا مجھے بھی اجازت ہے۔ کہ میں کرلوں۔۔۔؟ وہ ناشتے کرنے کی غرض سے ڈاٸننگ ٹیبل پے بیٹھتا پوچھا بیٹھا۔
آپ بھی کر لیجیے گا کوٸ ممانعت نہیں ۔ لیکن بیٹا جی۔۔ ڈراٸیونگ دھیان سے کرنا ۔ آپ کے بابا نے اسی شرط پے گاڑی دی ہے کہ شامی ڈراٸیوانگ آرام سے کرے گا۔
ہاں جی۔۔ بہت بڑی مرسیڈیز ہے ناں۔۔ جس کا نقصان ہونے کا ڈر ہے۔
زیرِ لب بڑبڑایا ۔ جسے اور کسی نے تو نہ سنا۔ لیکن پاس بیٹھی انا نے سن لیا۔ اور اسکے چہرے پے مسکان آگٸ۔
سامنے سے سیڑھیاں اترتے شہیر کی نظر بھی اسکے چہرے کی اس خوبصورت مسکان پے پڑی۔ تو وہیں تھم سا گیا۔
بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی۔ اور شہیر کے دل میں اپنی جگہ بناۓ جا رہی تھی ان چند دنوں میں ہی بہت خاموشی سے وہ شہیر کے دل کی راجدھانی حاصل کر چکی تھی۔
ارے شیری بیٹا۔۔! وہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔؟ آجاٸیں یہاں۔
جمیلہ خاتون کی نظر پڑی تو فوراً بلا لیا ۔ اتنے میں باقیوں کی نظر بھی اس پے گٸ شامی کا تو حلق تک کڑوا ہو گیا۔
جبکہ انا کی دل کی دھڑکن معمول سے ہٹ کے چلی ۔ لیکن چہرے سے ظاہر نہ ہونے دیا۔
جی۔۔ پھوپھو وہ۔۔ کچھ کام تھا تو جلدی میں تھا۔۔۔! مسکراتے کہتے اسکے گال کا ڈمپل واضح ہوا۔ جو انا نے چور نظروں سے دیکھا۔
میکال اور فضا کی شادی میں سبھی اتنا بزی ہوگۓ کہ۔۔ آپ کو ٹاٸم ہی نہیں دے پارہے۔ ۔۔ جمیلہ خاتون نے دھیمی آواز میں پاس جاتے کہا۔
ایسا کیوں سوچتی ہیں پھوپھو۔۔! میں بھی تو اس گھر کا فرد ہوں ناں۔۔ ؟ شیری نے انکے ہاتھ بہت عقیدت سے تھامے۔
بیٹا ہوں ناں آپ کا۔۔! مان سے کہا۔
آپ کو کوٸ بھی کام ہو۔ آپ مجھے بھی کہہ سکتی ہیں۔ مجھے خوشی ہوگی۔
شہیر نے دل سے کہا۔
خوش رہیں بیٹا۔ جمیلہ خاتون نےپیار سے اسکے سر پے ہاتھ پھیرا۔
ویسےآپس کی بات ہے۔۔ ! امی نے کبھی ہم سے تو اتنے پیار سے بات نہیں کی۔۔ ! چاۓ کا ایک گھونٹ بھرتے ماتھے پے بل ڈالے پھوپھو بھتیجے کا پیار دیکھتے شامی دھیرے سے بولا۔
ہم سے تو کرتی ہیں۔ تم اپنا سوچو۔۔۔! فضا نے زبان چڑھاٸ۔
آپ کا تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ شادی ہونے جا رہی ہے۔ حرکتیں آپ کی ابھی بھی بچوں والی ہیں۔
انا کو دیکھتے شرارت سے فضا کو کہا ۔ تو اس نے منہ بگاڑ کے اسے دیکھا ۔
السلام علیکم۔۔۔! ممانی جان۔۔! عبیر کی آمد پے شامی کا حلق مزید کڑوا ہوا ۔
یار ۔۔ اسکو اپنے گھر سکون نہیں۔۔؟؟ منہ بگاڑا۔
شامی۔۔! تم اس سے اتنا چڑتے کیوں ہو۔۔؟؟ اتنی پیاری تو ہے وہ۔۔۔! انا نے عبیر کی ساٸیڈ لی۔
پیاری۔۔۔؟؟ دماغ کا دہی کر دیتی ہے۔ دانت پیستے کہا۔
اس کے لیے دماغ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ فضا نے لقمہ دیا۔ تو شامی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
منہ بند کر لو۔۔مکھی چلی جاۓ گی۔ انا نےکان میں سرگوشی کی تو فضا کی ہنسی چھوٹ گٸ۔
شیری جمیلہ خاتون سے بات کرتا ایک اچٹتی نظر ان تینوں پے ڈالی۔
پرفیکٹ فیملی ۔۔۔! ان تینوں کا پیار دیکھ وہ بھی متاثر ہوتا تھا۔
وعلیکم اسلام بیٹا۔۔! آٸیں ناشتہ کریں۔
جمیلہ خاتون کے کہنے پے شامی نے اپنی پلیٹ کی جانب دیکھنے لگا۔ فضا اور انا تو کب کا کھا چکی تھیں۔ اس نے بھی فوراً پلیٹ سے انڈا منہ میں ٹھونسا۔ اور چاۓ کا سپ بھرا۔
فضا اور انا کی ضبط کے باوجود ہنسی چھوٹ گٸ۔
عابی نے انکی طرف دیکھتے کچھ شرمندہ ہوتے جمیلہ خاتون کو دیکھا۔
نہیں ممانی جان۔۔! دراصل۔۔ وہ میں انا آپی کو لینے آٸ تھی۔ ایک کتاب لینی تھی۔ بازار جانا تھا۔ تو اسلیے۔۔۔!
لیکن بیٹا۔۔ یہ تو شاپنگ پے جا رہے ہیں۔ بلکہ ایسا کریں۔ آپ بھی ان کے ساتھ چلی جاٶ۔ اور۔۔
امی جان۔۔۔! گاڑی ہے۔ ہواٸ جہاز نہیں۔۔ کہ سب کو بٹھالو۔۔۔! شامی نے منہ بنا کے کہا۔ تو وہیں دوسری طرف عابی سخت شرمندہ ہوٸ۔جمیلہ خاتون نے شامی کو ایک سخت گھوری سے نوازا۔
کوٸ بات نہیں۔۔ میں۔۔ پھر کبھی۔۔ ! عابی کا لہجہ روندھ گیا۔
روندو۔۔۔۔! بس ہر وقت روتی دھوتی منہ بسورتی رہتی ہے۔ اور سب کی ہمدردیاں اکھٹی کرتی رہتی ہے۔
شامی منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
اگر آپ کہیں۔۔ پھپو۔۔ تو میں لے جاتا ہوں عابی کو۔۔ جو بھی بک لینی ہو۔ لے لے۔۔۔! شہیر نے آفر کی تو ان سب کے کان کھڑے ہوۓ۔
ہاں یہ صحیح ہے۔ شیری بیٹا۔ آپ لے جاٸیں۔
جمیلہ خاتون خوش ہوتے بولیں۔
وہ۔۔۔وہ۔۔ ممانی جان۔۔! میں پھر کبھی۔۔ ؟؟ عبیر کنفیوز ہوگٸ۔
ارے بیٹا جاٸیں آپ۔۔ میں ناٸلہ سے کہہ دوں گی۔ کوٸ مسٸلہ نہیں بیٹا۔ ! شہیر بالکل بھاٸیوں جیسے ہیں آپ کے۔ جاٸیں۔
جمیلہ خاتون نے کہا۔ تو عابی سر اثبات میں ہلاتی ہیر کے ساتھ ہی باہر نکلی۔ جب کہ وہ تینوں بہن بھاٸ بھی ساتھ ہی نکلے۔
گاڑی تو ایسے لی ہے۔ جیسے یہاں کا بھی رٸیسں زادہ ہو۔۔
شامی نہ منہ بنایا۔
رٸیس زادہ نہیں۔۔ لیکن خانزادہ تو ہے ناں۔۔! فضا نے گاڑی میں بیٹھتے لقمہ دیا۔ جبکہ انابیہ خاموش ہی رہی۔
ایک منٹ۔۔! میں موباٸل بھول آٸ ۔ابھی لے کے آٸ۔
انابیہ کو یاد آیا تو فوراً اندرکی جانب بڑھی۔ کہ شہیر کی گاڑی کے پاس پہنچتے بری طرح لڑکھڑاٸ۔ اور اسکا بازو پکڑ کے خود کو بچایا۔ شہیر کی اسکی طرف بیک تھی۔ وہ انابیہ کو گرتا نہ دیکھ سکا۔ لیکن جب اس نے گرنے سے بچنے کے لیے اسکا سہارا لیا۔ تو فوراًپلٹا۔ اور اسکا ہاتھ تھاما۔
ٹھیک ہو؟ شہیر ایک دم پریشان ہوا۔
ہمممم۔۔۔۔ ! انابیہ کے ماتھے پے بل پڑے۔ شکر تھا۔ اسکا پاٶں بچ گیا۔ ورنہ وہ جا ہی نہ پاتی ۔
آر یو شیور۔۔۔؟؟ اسے بار بار پاٶں کی طرف دیکھتاپا کے شہیر نے دوبارہ پوچھا۔
جی۔۔۔۔! انابیہ کی بھوری آنکھیں اسکی گرین آٸز سے ٹکراٸیں۔
پل بھر کو دونوں ہی کے دل بری طرح دھڑکے۔ انابیہ کا ہاتھ ابھی بھی شہیر کے ہاتھ میں تھا ۔
واٶ۔۔۔سو رومینٹک۔۔۔۔! عابی نے گاڑی سے سر باہر نکال کے انکو دیکھتے بہت پیار سے کہا۔ تو دونوں کو ہی اپنی پوزیشن کا احساس ہوا۔
انابیہ فوراً پیچھے ہوتی نظریں جھکاۓاندر کی جانب بڑھ گٸ۔ جبکہ شہیر گہرا سانس خارج کرتا ڈراٸیونگ سیٹ پے آ بیٹھا۔
کچھ ہی دیر بعد انابیہ باہر نکلتی اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ جہاں شامی اور فضا اس کا ویٹ کر رہے تھے۔
چلیں۔۔؟؟ انابیہ نے بیٹھتے کہا۔
یار۔۔ میں وہی فضا آپی کو بتا رہا تھا۔ کہ میکال بھاٸ کا میسج آیا ہے۔ ایک ریسٹورینٹ کا ایڈریس سینڈ کیا ہے۔ کہ شاپنگ کے بعد وہاں آجانا ۔ڈنر کروایں گے ۔
ڈنر۔۔؟؟ لیکن کس خوشی میں؟ حیرانی سے پوچھا۔ تو فضا اور شامی نے مڑ کے اسکی شکل دیکھی۔
خیریت ہے ناں بی بی۔۔۔! مابدولت کی شادی ہے۔ تو۔۔ اس سے بڑھ کے اور کیا خوشی چاہیے؟ کہو تو لگے ہاتھ ۔۔تمہاری بھی رخصتی کروادیتی ہوں۔
فضا کے کہنے پے شامی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ناگواری سے فضا کو دیکھا۔ جبکہ انابیہ ادھر ادھر دیکھتی چپ رہی۔
دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کے الگ الگ سمت میں نکلیں تھیں۔ لیکن واپسی پے کیسے آتیں ۔۔یہ تو رب ہی جانتا تھا۔














آفتاب شیر خان گاڑی ایک طرف روکتا سیدھا خان حویلی کے اندر داخل ہوتا چلا گیا۔
کسی میں اتنی جرات نہ تھی کہ اس طوفان کو روک سکے۔ یا اس طوفان کے سامنے آۓ۔ سب ہی خاموشی سے ایک طرف ہوگۓ۔
شیر خان۔۔۔۔؟؟؟
اندر آتے ہی وہ اونچی آواز میں للکارا۔ تو ثریا خانم آفتاب کی دادی کے کانوں میں گھنٹیاں بجیں۔ ایک کروفر سے وہ اپنی جگہ سے اٹھیں۔ چہرے پے بے انتہا مسکراہٹ اور چال میں جیت کی سرشاری۔
میرا پوتا آگیا۔۔۔
میرا وارث آگیا۔۔۔
آخر کار آگیا۔۔ خان حویلی کا اکلوتا وارث۔۔
دھیرے دھیرے ساتھ ساتھ وہ بڑ بڑا رہی تھیں۔
ان کے ساتھ انکی دو ملازماٸیں بھی تھیں۔
شیر خان۔۔۔۔! للکار ایک بار پھر گونجی۔
سامنے ہی ثریا خاتون نظر آگٸیں۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
ایک کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھایں مارتا سمندر تھا۔
تو دوسرے کی آنکھوں میں جنوں غصہ اور دہشت۔
دونوں ہی مدمقابل تھے۔
جاری ہے۔
