Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 04)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha chohan
باہر سے شور کی آواز سن کے وہ سب باہر نکلے تھے۔ سامنے ایک شخص کو کھڑا دیکھ وہ سبھی بت بن گۓ۔
شہیر کی نظریں بھی ان پے اٹھیں۔ وہ کسی اور کو پہچانا یا نہیں۔ لیکن ان سب میں کھڑی اپنی دی جے کو ضرور پہچان گیا تھا۔ انکی آنکھوں میں بھی شناساٸ کی رمق تھی۔
دی جے۔۔۔۔۔! شہیر نے اونچی آواز میں کہا۔
میرا۔۔۔ خان۔۔۔؟؟ وہ میکال کے سہارے کھڑی تھیں۔ شہیر کے پکارنے پے خود اپنے لڑکھڑاتے قدموں سے وہ شہیر کی طرف دیوانہ وار بڑھیں۔ راستے میں آٸ ایک سیڑھی کو بھی نہ دیکھ سکیں اور بری طرح لڑکھڑاٸیں۔ گرنے والی تھیں۔ جب دو مضبوط بازٶں نے انہیں تھام لیا ۔
دی جے نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا ۔ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔ آنکھوں میں آنسو بھر گۓ۔
دی جے۔۔۔! میں۔۔آپ کا خان۔۔۔ آگیا ہوں۔۔! مسکراتے مضبوط لہجےمیں کہا ۔
اور دی جے شہیر کے گلے لگیں۔ رونے لگیں۔ شہیر نے انہیں اپنی بانہوں میں بھرا۔ وہ ناتواں سا وجود اسکی بانہوں میں سما گیا۔ شہیر نے انکے ماتھے پے بوسہ دیا ۔
رو کیوں رہیں ہیں؟ میری جان۔۔؟؟ اس نے ی جے کے آنسو پونچھے۔ وہ بالکل نہ بدلا تھا۔ آج بھی ویسا تھا۔
ان دس سالوں نے اسے مزید پرکشش اور خوبصورت بنا یا تھا۔ اسکی پرسنیلٹی میں مزید خوبصورتی کا اضافہ ہوگیا تھا۔
لیکن اسکاپیار دی جے کے لیے پہلے جیسا ہی تھا۔ زرا نہ بدلا تھا۔
دی جے نے بولنا چاہا لیکن فرطِ جذبات سے وہ کچھ بول ہی نہ پاٸیں۔ اور شہیر کے گلے لگی رہیں ۔ بس وہی تو انکا سب کچھ تھا۔
سبھی کے چہرے پے ایک مسکان تھی ۔ وہ سب سے باری باری بہت محبت سے ملا۔ لیکن دی جے کو اپنے سے الگ نہ کیا ۔
بیٹا۔۔۔! یہ آپ گیلے کیسے ہوگٸے۔۔؟؟ جمیلہ خاتون کو فکر ہوٸ۔
اپنی حالت دیکھتے وہ پھر سے مسکایا ۔ اپنی مسز کا دیدار ب سے پہلے کرے گا۔ اسےکیاپتہ تھا۔کہ وہ اسکا استقبال ایسے کرے گی۔۔
چلیں اندر۔۔۔! آجاٸیں۔۔۔ بیٹا۔۔! وہ سبھی کے ساتھ اندر کی جانب بڑھا۔















انا کمرے میں آٸ تو اسکا دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔
اپنے پروفیسر کی بات اسے آج بہت شدت سے یاد آٸ۔
پروفیسر۔۔۔! بچپن کے نکاح کی کیا اہمیت ہے؟
بیٹا۔۔! نکاح بچپن کا ہو جوانی کاہو یا بڑھاپے کا۔۔ نکاح نکاح ہوتا ہے۔ انہوں نے چشمہ اتار کے ساٸیڈ پے رکھتے متانت سے جواب دیا۔
لیکن۔۔۔ جس نکاح میں دس سال گذر جاٸیں۔ اور ۔۔ شوہر کا کچھ پتہ نہ ہو تو۔۔؟؟ سوچتے ہوۓ پوچھا۔
کیا وہ زندہ نہیں؟؟ برجستہ سوال آیا ۔
اللہ نہ کرے پروفیسر۔۔! وہ زندہ ہیں۔ اللہ انہیں اپنی امان میں رکھے۔ انابیہ کا دل بہت سخت دھڑکا۔ اسکے مرنے کی بات پے۔
بیٹا۔۔نکاح ایک ایسا پاکیزہ رشتہ ہے ۔ جسے اللہ اور اسکے رسول کو حاضر ناظر جان کے ہم کسی انجان شخص کو اپنا سب کچھ مان لیتے ہیں
آپ یہ کہیں۔ کہ دس سال سے رابطہ نہیں ہوا۔ تو نکاح ختم ہو جاۓ گا ۔ تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ نکاح ختم نہیں ہوتا۔ہاں۔۔ نکاح اگر نہیں رکھنا تو لڑکے اور لڑکی کو حق حاصل ہے۔ کہ وہ باہمی رضا مندی سے الگ ہوجاٸیں۔ یا لڑکی خلع لے لے۔ یا لڑکا طلاق دے دے۔
دونوں صورتیں نہ ہوں تو۔۔؟؟ انابیہ نے انکی طرف الجھی نظروں سے دیکھا ۔
بیٹا۔۔! پھر آخری سانس تک انتظار کرو ۔۔۔ کیونکہ۔۔ اگر وہ حیات ہے۔ اور کبھی بھی اس کے لوٹ آنے کی امید ہے۔ تو نکاح کبھی بھی ٹوٹ نہیں سکتا اور نہ ہی کسی اورکے ساتھ لڑکی رشتہ جوڑ سکتی ہے۔ ہاں البتہ یہ شرط مرد پے لاگو نہیں ہوتی۔
انا۔۔۔۔؟؟
سختی سے آنکھیں موندے وہ خیالوں میں کھوٸ وہ ساری باتیں سوچے جا رہی تھی ۔ کہ فضا کی پکار پے وہ چونکی۔ اور جھٹ سے آنکھیں کھولیں ۔
شہیر آگیا ہے۔۔۔۔! فضا کے لہجے میں بے انتہا خوشی تھی ۔ وہ اپنا ڈریس چینج کر کے آٸ تھی ۔
جانتی ہوں۔۔! انابیہ نے لاپراہی دکھاٸ۔ جبکہ اسکا دل شہیر کے نام پے ہی دھڑکے جا رہا تھا ۔
تمہیں۔۔ خوشی نہیں ہوٸ کیا؟ فضا اسکے پاس بیٹھتے بولی ۔
ہونی چاہیے کیا؟ الٹا اسی سے پوچھ لیا۔
کچھ پل تو فضا اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھتی رہ گٸ
ظاہری بات ہے۔ وہ تمہارا شوہر ہے ۔ بیوی ہو اسکی تم۔۔۔!
منکوحہ ہوں۔۔ اسکے نکاح میں ہو۔ بس۔۔۔!
تلخی سے کہتے ہوۓ وہ اٹھی۔ اور کبرڈ سے کپڑے نکالنے لگی۔
وہ نکاح۔۔ جو بچپن میں ہوا۔۔۔! بنا رضا مندی کے۔ تب۔۔ جب نکاح کا مطلب بھی نہیں جانتی تھی۔
زور سے کبرڈ بند کر تی وہ پلٹی ۔ اسکے اندر برسوں کی تلخیاں گھلی ہوٸ تھیں ۔
بس چند پیپیرز آگے رکھے۔ یہاں نام لکھو۔ اور قبول کرو۔۔۔اور پھر۔۔۔ دس سال کے لیے بھول جاٶ۔۔ اپنی دنیا بنا لو۔۔ اور پیچھے کسی کی دنیا ان دو بولوں پے رک جاٸے۔ وہ جاٸے بھاڑ میں۔
آج وہ فضا کو الگ ہی انا لگی۔ وہ جو خاموش سی صبر والی۔ انا تھی۔ وہ یہ تو نہ تھی۔
انا۔۔۔! کیا۔۔ تم۔۔ اس نکاح سے۔۔ خوش نہیں۔۔؟ فضا کے دل کو دھڑکا لگا۔
خوش۔۔؟؟ ایک تلخ ہنسی ہنسی تھی وہ۔۔ اور پھر ہنستی چلی گٸ تھی ۔
کہ اسکی آنکھوں میں پانی بھر گیا ۔ فضا اسکی یہ حالت دیکھ رونے والی ہوگٸ تھی ۔
جب نکاح کرنے لگے تھے۔ تب تو کسی نےپوچھا نہیں۔۔ اب یہ سوال معنی رکھتا ہے۔۔؟ وہ بھی تب۔۔جب ان سب کا چہیتا واپس لوٹ آیا ہے۔۔ سخت تنفر سے بولی تھی وہ۔ فضا کے پاس کہنےکو کچھ نہ بچا۔
جبکہ وہ اپنے اندر کے درد کو چھپانے کے لیے اپنے کپڑے لیے باتھ میں گھس گٸ تھی۔ جبکہ فضا وہیں بیٹھی رہ گٸ۔
درد دلوں کے کم ہوجاتے۔۔
میں اور تم۔۔ گر ہم۔۔ ہو جاتے۔۔
کتنےحسیں عالم ہو جاتے۔۔
میں اور تم۔۔ گر ہم ہوجاتے ہیں۔
تیرا بنا۔۔ نہ آۓ سکوں۔۔
نہ آۓ قرار مجھے۔۔۔
دور وہ سارے بھرم ہو جاتے۔۔
میں اور تم۔۔۔ اگر ہم ہوجاتے۔۔
منہ پے ٹھنڈے پانی کے چھنٹے مارتے ہوٸے وہ اندر کی جلن کو بجھا رہی تھی۔ جو بڑھتی جا رہی تھی۔















چاٸے لیں ناں۔۔!
آفتاب شام کے وقت عظمی کی طرف تھا ۔ وہ اس سے ملنے اس سے بات کرنےآیا تھا۔
ہممم۔۔ آفتاب نے چاۓ کا کپ اٹھایا۔
سب خیریت ہے ناں۔۔ عظمی۔۔ مجھے تم پریشان لگ رہی ہو۔
لالا۔۔! آپ کو لے کے دل پریشان تھا۔ آج صبح ہی جب ابا کے گھر سے واپس گھر آنا تھا۔ تو ۔۔۔
شیر خان۔۔ آفتاب کو واپس کب لاٶ گے۔۔؟
اماں حضور بڑھاپے میں جاکے کچھ زیاہ چڑچڑی ہوگٸ تھیں۔
اماں حضور۔۔ کوشش تو کر رہا ہوں۔۔ اب وہ نہیں آرہا تو۔۔ کیا پاٶں پکڑوں جا کے اسکا۔۔؟
شیر خان بھی زچ آۓ۔
تم جانتا ہے ناں شیر خان۔۔! وہ ہمارے خاندان کااکلوتا وارث ہے۔ اور کوٸ بیٹا نہیں تمہارا۔ وہی سہارا ہے ہمارا۔ تمہاری تین بیٹیاں نہیں۔
وہ تڑخ کے بولیں۔
جانتا ہوں اماں حضور۔۔ لیکن وہ اپنی ماں سے بہت پیاررکرتا ہے۔ اسکو چھوڑ کے وہ۔۔ یہاں ہمارے پاس کبھی نہیں لوٹے گا۔
صاف لفظوں میں کہا۔
ایک تو ۔۔ یہ ہمارے خاندان کی دشمن۔۔۔ نجانے۔۔ کس گھڑی مل گٸ تھی ہمیں۔
وہ انتہاٸ نفرت سے بولیں ۔
امی جان یہ کس کی بات کررہی ہیں۔۔؟
عظمی نے جب اکی آوازیں اونچی ہوٸیں تو آخری الفاظ کان میں پڑگۓ۔ وہ جو اپنے گھر کے لیے لوٹ رہی تھی۔ قدم وہیں تھمے۔
شی۔۔۔۔! عظمی بچے تم جاٶ۔۔ اپنا گھر۔۔ ان کی باتوں پے دھیان مت دو۔
زمل نے بیٹی کو سمجھایا ۔
بس۔۔ اب۔۔ انتظار کرو اماں۔۔ حضور۔۔ اور وقت پے چھوڑ دو۔ آفتاب اب خود ہی آۓ گا۔۔
ایسے نہ آیا وہ۔ جب تک وہ زندہ ہے۔ تب تک تو نہ آیا۔
تیزی میں بولتی وہ ارد گرد کا بھی ہوش کھو چکی تھیں ۔
تو کیا کروں۔۔؟ ماردوں اسکی ماں کو۔۔؟ اسی انداز میں جواب آیا۔
جبکہ باہر کھڑی وہ دونوں ماں بیٹی کانپ اٹھی تھیں اس بات پے۔
تو سچ کیا رہا ہے۔۔۔؟؟ اگر اس طرح کرنے سے آفتاب واپس آجاۓ گا۔ تو کر لے۔۔ زمین کا بوجھ ہی ہٹے گا ناں ۔۔۔ لاپرواہی سے کہا۔ جبکہ شیر خان ماں کی اس بات پے تو گنگ ہی ہوگیا۔
عظمی اور زمل وہاں سے فوراً ہٹ گٸیں۔
امی جان۔۔۔ ابو۔۔ ایسا کیسے کر سکتےہیں۔؟ وہ کسی کی جان۔۔؟ کیسے۔۔؟إ عظمی سخت گھبراٸ ہوٸ تھی۔
شی۔۔۔ آہیستہ بولو ۔۔ سن لیا تو ۔۔ انکو توبعد میں ماریں گے ۔ ہمیں پہلےمار ڈالیں گے۔
زمل نے سرگوشی والے انداز میں کہا۔
اور ماڑا۔۔ تم انکی باتو ں میں مت پڑو ۔ انکے کام یہ ہی جانیں تم جاٶ اپنا گھر۔ رب راکھا۔
عظمی کو گاڑی میں بٹھاتے وہ اللہحافظ بولتی اندر آگٸ تھیں۔ وہ ان ماں بیٹے سے بھلا کیسے کوٸ پنگا لے سکتی تھیں ۔ اپنی ساس کو بھی بخوبی جانتی تھیں اور شوہر کو بھی














آفتاب کی گرفت پیالی پے سخت ہوٸ۔ دانت آپس میں پیوست ہوۓ۔
لالا۔۔ میرا دل نہیں چاہا کہ میں یہ بات جانتی ہوں۔ اور آپ کو نہ بتاٶں۔۔!
عظمی نے آفتاب کےکاندھے پے ہاتھ رکھا۔
آفتاب نے پل بھ میں اپنا غصہ ٹھنڈا کیا۔ سامنے اسکی بہن تھی۔ اسکے سامنے وہ ہمیشہ کول ہی رہا تھا ۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔ عظمی۔۔! میں ہوں ناں۔۔ یں سب سنبھال لوں گا۔ تم فکر نہ کرو۔۔ ! مسکراتے ہوۓ اسے تسلی دی۔ جبکہ دادی اور باپ سے مل کے باتکرنے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔
آفتاب کے تسلی دینے پے وہ مطمٸن ہوگٸ تھی۔
لالا! ایک بات پوچھوں؟ اب کی بار تھوڑا ہچکچاٸ۔
ہمممممم۔۔۔۔۔ چاۓ کا کپ ٹیبل پے رکھا ۔
کنول۔۔ آپ کے آفس میں۔۔ کیا کر رہی تھی۔ ؟ کن اکھیوں سے دیکھا۔
تم جانتی ہو اسے؟ الٹا سوال کیا۔
ارسل کی منہ بھولی بہن ہے وہ ۔ لب بھینچے جواب دیا۔
ارسل عظمی کا شوہرتھا۔
ہمممم۔۔۔۔۔! چلتا ہوں دیر ہورہی ہے۔ مورے انتظار کررہی ہوں گی۔
اٹھتے ہوۓ کہا ۔
لالا۔۔۔ اس لڑکی سے بچ کے رہنا۔ وہ بہت تیز لڑکی ہے۔
فوراً سے کہا۔
آفتاب مسکرا دیا۔ عظمی اسکی بہت فکر کرتی تھی۔ لیکن وہ عظمی کے مزاج سے بھی اچھی طرح واقف تھا۔ وہ زرا سی بھی شراکت برداشت کرنے والوں میں سے نہ تھی۔ ارسل کے معاملےمیں ویسے بھی وہ کوٸ خبطی لڑکی تھی۔ تو کیسے برداشت کرتی کسی بھی منہ بھولی بہن کو۔۔؟ سگھی ہوتی تو۔۔ پتہ نہیں کیاہوتا۔
رات کے ساۓ گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ اسکا رخ اب گھر کی طرف تھا ۔ لیکن سعدی کوفون پے شیر خان پے چوبیس گھنٹے نظر رکھنےکا بول چکا تھا۔
ابھی وہ سگنل سے نکل کے کچھ دور آگے گیا تھا۔
کہ ایک کلب کے باہر نظر پڑی۔ آفتاب اسے ایک لمحے میں پہچان گیا تھا۔
اس کے پاس دو لڑکے بھی کھڑے تھے۔ جو شاید ۔۔ اسے تنگ کر رہے تھے۔ آفتاب نے اندازہ لگایا ۔
منہ توڑ دوں گی۔ اگر اب کوٸ بکواس کی مجھ سے تو۔۔۔؟؟ کنول دبی دبی آواز میں چلاٸ تھی۔
آفتاب نے گاڑی ان کے پاس جا کے روکی۔ اور فوراً باہر نکلا۔
آفتاب کو اپنی طرف آتا دیکھ کنول کادل بری طرح دھڑکا۔ وہ دونوں لڑکے فوراً سے پہلے ہی وہاں سے رفو چکر ہوگٸے۔
آپ ۔۔۔ یہاں اس وقت کیاکر رہی ہیں۔۔؟ لہجے میں سخت ناگورای تھی۔ جسے کنول نے بھی محسوس کیا ۔
نظریں جھکیں پھر سےاٹھیں ۔
جاب کےلیےآٸ تھی ۔
لہجہ دھیما تھا۔ آفتاب نے لب بھینچے۔
چلیں۔۔! لہجے میں حکم تھا ۔ اور غصہ بھی۔ کنول بنا ایک لفظ بھی بولے اسکے ساتھ اسکی گاڑی میں آبیٹھی ۔
کچھ دیر گاڑی کو یونہی سڑکوں پے بھگانے کے بعد آفتاب زچ ہوا۔
ایڈریس بتاٸیں اپنا۔ وہ ونڈ اسکرین پے دیکھتا اجنبیت سے بولتا کنول کو برا لگا ۔
یہیں روک دیں۔ میں خود چلی جاٶں گی۔آگے سے کنول نے بھی روکھے پن سے جواب دیا۔
تو آفتاب نے ٹریفک کو دیکھتے گاڑی ایک طرف روک دی ۔ اسکے اسطرح سے کرنے پے کنول کو بہت تپ چڑھی۔ غصے سے اسکی طرف دیکھا ۔ جو سامنے سڑک پے دیکھے جا رہا تھا ۔
جھٹکے سے دروازہ کھولنا چاہا لیکن وہ لاک تھا ۔ سوالیہ نظروں سے آفتاب کو دیکھا ۔
جب آپ کو کہاتھا کہ کل سے آفس آجاٸیں ۔ جاب پے۔ تو کیا میں نےآپ سے فارسی میں بات کی تھی؟ جو آپ کو سمجھ نہیں آٸ تھی؟
آفتاب کے سپاٹ انداز میں کہنے پے کنول کا دل بہت زوروں سے دھڑکا تھا ۔
مجھے۔۔۔ کسی کا احسان۔۔۔؟؟ دھیمےلہجےمیں کہتی وہ آفتاب کو غصہ دلا گٸ۔
احسان؟ واٹ دا ہیل از دس۔۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ کیا احسان۔۔؟ یہاں اتنی رات گٸے ایک کلب کے باہر کھڑا ہونا آپ کو صحیح لگا۔ لیکن احسان لینا غلط۔۔؟؟ وہ تو جیسے پھٹ ہی پڑا تھا ۔
آپ۔۔۔ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔کنول کو اسکا یوں بولنا ڈرا گیاتھا ۔
ایڈریس بتاٸیں اپنا۔۔۔! اسکی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے گاڑی اسٹارٹ کی۔ وہ خود پے ضبط کیے ہوۓ تھا ۔
خاموشی سے ہاسٹل کا ایڈریس بتا کے باہر روڈ پے دیکھنے لگی۔
سارا راستہ دوبارہ کوٸ نہ بولا۔
ہاسٹل کے سامنے گاڑی روکی۔
اس وقت رات کے دس بج رہے ہیں۔ کیاآپ کو یہ ہاسٹل میں داخل ہونے دیں گے؟
آفتاب نے میٹھا سا طنز کیا۔ تو کنول تلخ ہنسی ہنسی۔
پیسے انکی جیب میں ڈال دو۔ تو یہ اندھے ہوجاتے ہیں۔
ابکی بار وہی تلخی تھی لہجے میں بھی ۔
آفتاب بس دیکھتا رہ گیا اسے۔
گاڑی کا دروازہ کھول کے وہ اترنےلگی۔
کل سات بجےآفس میں ہوں۔ مجھےلیٹ آنے والے پسند نہیں۔
لہجہ اب کی بار دوستانہ تھا۔
شکریہ۔۔۔! کنول نے پہلی بار مسکرا کے کہا۔ اور گاڑی سے اتر گٸ۔
گیٹ کے اندر داخل ہونے تک آفتاب وہیں کھڑا رہا۔
اسکے جانےکے بعد گاڑی اسٹارٹ کی۔
آج پہلی بار مسکراتا دیکھا اس کالی آنکھوں والی لڑکی کو۔
ہاں بلاشبہ اسکی مسکراہٹ بہت پیاری تھی۔
دل۔کو قرار آیا۔۔۔
پہلی پہلی بار۔۔ آیا۔۔۔















رات تک سلطان ہاٶں میں خوب گہما گہمی مچی ہوٸ تھی۔ سبھی کو شہیر سے باتیں کرنے کی اس سے سب جاننے کی جلدی تھی۔ اور وہ بھی جو فریش ہو کے دی جے کے پاس بیٹھا۔ تو اٹھاہی نہ .
واپسی پے آج پہلی بار شامی کو بھی بہت دیر ہوگٸ تھی۔
وہ حیرت زدہ تھا۔ کہ زرا سی دیر ہوتو گھر سے بیسوں فون آجاتے تھے۔ آج توایک بھی فون نہ آیا۔
باٸیک ساٸیڈ پےکھڑی کرتا وہ اندر کیجانب بڑھا۔ جہاں کافی زیادہ شور تھا۔
ڈراٸینگ روم کےدروازے میں کھڑاوہ سامنے بیٹھے انجان چہرے کو دیکھتا وہیں رک گیا ۔ جو دی جے کسے ساتھ جڑ کے بیٹھا تھا ۔ اور دی جے کے ہاتھ میں اس شخص کا ہاتھ تھا۔ ۔ سبھی وہاں موجود تھے ۔ اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ شامی نے ایک نظر سب پے ڈالی کسی نے بھی اسکے آنے کانوٹس نہ لیا۔ اسکا دل بری طرح دکھا۔
ارے شامی بیٹا۔۔! آٶ ناں۔۔ کدھر رہ گۓ تھے۔۔؟؟ شہباز صاحب اٹھ کے اسکے پاس آٸے۔ وہ خاموش نظروں سے کبھی باپ کو تو کبھی دی جے اور پھر اس شخص کو دیکھتا۔
شامی بیٹا۔۔! آپ آگۓ۔۔۔چلو اچھا ہوا۔ ملے آپ شہیر سے۔۔؟ آج ہی آیا ہے۔۔ ہم سب سے ملنے۔۔۔ ! باہر سے اندر آتے جمیلہ خاتون نے بہت محبت بھرے اندازمیں کہا۔ تو شامی نے لب بھینچے۔ سامنے دیکھا۔ شہیر خان اٹھ کے اسکے پاس چلا آیا۔
کیسے ہو۔۔؟ بھاٸ۔۔؟؟ دوستانہ انداز۔ ہاتھ آگےبڑھایا ۔
شامی نے ایک نظر دیکھا اور تھام لیا ۔
ٹھیک ۔۔۔۔! ایک لفظی جواب آیا۔ وہ بھی سپاٹ انداز میں۔ شہیر کو کچھ سجیب سا لگا۔
چلیں آجاٸیں۔ کھانا کھالیں سب۔ کھانا لگ گیا ہے۔ جمیلہ خاتون نے سب کو بہت پیار سے کہا ۔
تو سبھی ڈاٸینگ ٹیبل کی جاب بڑھے ۔
شہیر خان دی جے کا ہاتھ تھامے انہیں لے کے گیا۔ بلکہ سبھی کھانے کی ٹیبل پے جا براجمان ہوۓ۔
باری باری سبھی شہیر کو کھانا سرو کر رہے تھے۔ جبکہ وہ وہیں کھڑا یہ سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔
ان سب میں وہ نہ تھی۔
اچانک سے انا کا خیال آیا۔ تو وہ انہی قدموں پے اسکےکمرے کی جانب بڑھا۔ جہاں وہ سر کتاب میں دٸے بیٹھی تھی ۔
کیا کر رہی ہو۔۔؟ شامی کے اچانک آجانے پے وہ چونکی۔
کچھ نہیں کل ٹیسٹ ہےتو تیاری۔۔ ! تم کدھر تھے؟ اچانک سے پوچھا ۔
چلو۔۔ اور کسی کو نہ سہی تمہیں تو یاد آیا۔ کہ میں دیر سےآیا ہوں۔ وہیں بیٹھتا گلہ بھی کر دیا ۔
انا چپ ہوگٸ۔ کیا کہتی وہ خود اپنے آپ کو سنبھال لیتی وہی بہت تھا۔
امی جان بلا رہی ہیں تم دونوں کو ۔ باہر۔
ابھی وہ کوٸ مزید بات کرتے کہ فضا نے آکے انہیں چونکایا۔
دونوں نے ایک دوسر ے کا چہرہ دیکھا ۔
آٶ۔۔ چلیں ۔ شامی نے اٹھتے کہا۔
میرا۔۔جی نہیں چاہ رہا۔۔ انا نے منع کیا۔
کیوں۔۔؟ یہ ہمارا گھر ہے۔۔ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔۔ کہ وہ آکے ہمیں نظر بند کر دے۔
اٹھو ۔ شامی نے اسکا ہاتھ پکڑ کےاسے اٹھایا ۔ اور اپنے ساتھ باہر لے کے آیا۔ جہاں سب کھانا کھانے میں مگن تھے۔
شہیر نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس دوشیزہ پے ڈالی ۔ جو نظریں جھکاۓ وہیں کھڑی تھی ۔
شامی بھی اسکی نظریں بھانپ گیا تھا۔ اس لیے اسے دیکھتا انا کا ہاتھ پکڑے دوسری طرف سے ہوتا دو خالی چیٸرز کیجاب بڑھتا خود بھی بیٹھا اور بہن کو بھی بیٹھایا۔ جبکہ شہیر اور شامی کی نظریں ایک پل کوبھی ادھرسے ادھر نہ ہوٸیں تھیں ۔
ایک کی نظروں میں حیرانی تھی۔ تو دوسرے کی نظروں میں دنیا جہان کا غصہ۔
شہیر اس غصہ کی وجہ سمجھ نہ پایا۔















آپ نے کہا تھا۔ شام تک شہیر گھر ہوگا۔۔؟ کہاں ہے وہ۔؟ سارا دن بے چینی میں گزرا۔ اب رات ہوچلی تھی۔ لیکن شہیر کا کچھ پتہ نہ چل سکا تھا۔
میں نے اپنے آدمی ہر جگہ چھوڑے ہوۓ ہیں۔ وہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ خان کو۔
بڑے خان نے ٹہرے ہوۓ انداز میں کہا۔
ڈھونڈ رہےہیں۔۔؟؟؟ بڑے خان آپ جانتےبیں۔ وہ دس سال بعد پاکستان واپس آیا ہے۔ اسے تو صحیح سے راستوں کا بھی علم نہیں۔۔۔ تو وہ کہاں جا سکتا ہے۔۔؟؟
رافیہ خانم پریشان ہوٸیں۔
اچھا۔۔ پریشان نہ ہوں۔ دیکھیں تو میری خانم کا چہرہ مرجھا گیا ہے۔ بڑے خان نےپیار سے ان کے گال پے ہاتھ پھیرا۔
بڑے خان ۔۔۔ مجھے۔۔ میرا بیٹا۔۔ چاہیے۔۔۔! نروٹھے پن سے کہا۔
مل جاۓ گا۔۔ فکر نہ کریں۔ ارباز خان کچھ سوچتے ہوۓ بولے جبکہ رافیہ خانم نے سر ان کے کاندھے پے ٹکایا۔
میرا بیٹا بہت معصوم ہے۔۔ دس سال اسکا انتظار کیا۔ اور وہ آتے ہی نجانےکہاں چلا گیا۔۔ ؟ لہجےمیں دکھ تھا۔
جوارباز خان کو بھی دکھی کر گیا۔
میں نے آپ سے کہا ہے ناں۔۔ وہ آجاۓ گا فکر نہکریں میری جان۔
ارباز خاننے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کےانہیں خود سے قریب کیا۔ اور وہ بنا کسی مزاحمت کے ان کے پاس آگٸیں ۔
بڑے خان۔۔ ! آپ مجھے شہیر واپس لا کے دیں گے ناں؟؟ لہجے میں ایک حکم ایک محبت بھرا مان تھا۔
ضرور۔۔۔! وہ ہمارا بیٹا ہے ۔ بہت بہادر اور نڈر خان کا بیٹا۔۔ گھبراٶ نہیں ۔ وہ آجاۓ گا۔
ارباز خان کے یقین سے کہنےپے وہ آسودہ ہوتیں ان کے سینے پے سر ٹکا گٸیں۔















ساری رات وہ غصہ میں کھولتا رہا۔ رہ رہ کے اسے شیر خان اپنے باپ پے غصہ آرہا تھا۔ کہ کیسے وہ اسکی ماں کو مارنے کا سوچ بھی سکتا تھا۔۔۔؟؟ آفس میں بیٹھا وہ سخت ڈپریس تھا۔
ناک ہوا تو وہ سیدھا ہوتا آنےوالےکو دیکھنےلگا ۔
سر۔۔۔! میم کنول آٸیں ہیں۔ پیون نے سر جھکاۓ کہا۔
اوکے۔ انہیں بھیج دیں۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش سی اندر داخل ہوٸ۔
لاٸیٹ بلیو لانگ فراک ہم رنگ چوڑیاں پہنےبالوں کو کیچر میں مقید کیے۔لانگ دوپٹے کے ساتھ چوڑی دار پاجاما عام سا کھسہ پہنے وہ اند داخل ہوٸ۔
آفتاب کو اس تپتے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا سا محسوس ہوٸ وہ اس وقت۔
آفتاب کینظروں کی وارفتگی محسوس کرتی وہ بالوں کو نمحسوس انداز میں کانوں کے پیچھے اڑسنے لگی ۔ جو پھر سےواپس آگے آگۓ۔ اور دل نے عجب ہی شور مچایا ہوا تھا ۔
آفتاب اپنی جگہ سے اٹھتا میکانکی انداز مثس چلتا اسکے پاس آیا۔
اسکی گہری کالی آنکھیں اوپر کو اٹھیں۔ دونوں ہی خاموش اپنے دل کی دھڑکنوں کا شور سن رہے تھے۔
نہیں جانتےتھے۔ کہ دل اس قدر بے ایمان کیوں ہو رہا تھا۔
بے اختیار آفتاب کا ہاتھ اسکے گال پے آۓ بالوں کی طرف بڑھا۔ کہ کنول ایک پل میں پیچھے ہوٸ۔
اپنی اس بے اختیاری پے آفتاب لب بھینچ گیا ۔
واپس اپنی سیٹ پے آتا وہ انٹر کام پے کسی کو بلا چکا تھا ۔
جی سر۔۔۔! وہ بھی چراغ کے جن کی طرح حاضر ہوا۔
صدیقی صاحب۔ یہ مس کنول ہیں۔ انہیں نیو سیکرٹری کی جاب پے اپاٸنٹ کیا گیا ہے۔ انہیں انکا کیبن بھی بتا دیں۔ اور کام بھی سمجھا دیں۔
کہتے ساتھ ہی لیب ٹاپ کھولا۔اوربزی ہوگیا۔
یکدم ہی اسکے تیور بدلے تھے۔ وہ اب ایک پیور بزنس مین لگ رہا تھا۔ پہلے والے جذبات کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
کنول صدیقی صاحب کے ساتھ باہر آگٸ۔
آج وہ اپنے پہلے مقصد میں کامیاب ہوٸ تھی۔ چہرے پے دھیمی مسکان تھی۔
جاری ہے۔
