Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 09)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

بڑے خان ! آپ کا اندازہ درست تھا۔

جمیل نے ہاتھ باندھے مودبانہ انداز میں کہا۔

ماتھےطپے گہرے بل پڑے۔رواولنگ چیٸر پے بیٹھے وہ جھولے جا رہے تھے۔

٢٣ جون کی صبح کی پہلی لاہور کی فلاٸیٹ سے چھوٹے خان لاہور روانہ ہوۓ۔

چیٸر رکی۔

چھوٹے خان کو لاہور کا راستہ کس نے دکھایا۔۔۔؟؟ اتبا بڑا قدم ۔۔ وہ اچانک پاکستان آکے نہیں اٹھا سکتا۔

پرسوچ انداز میں وہ ماتھے پے دو انگلیاں جماۓ بولے۔

جی۔۔۔ وہ۔۔۔ سیٹ۔۔کی ٹکٹس ۔۔۔ کسی اور نے بک کرواٸی تھی۔ جمیل مزید بولا۔ تو ارباز خان کے کان کھڑے ہوۓ۔

کون؟ پراسرار انداز میں پوچھا۔

جی۔۔۔ وہ۔۔۔ آفتاب۔۔۔ شیر ۔۔خان۔۔۔! جھجکتے ہوۓ کہا۔

ارباز خان دانت پیستے کھڑے ہوۓ۔

اسکی اتنی جرات کے۔۔۔وہ۔۔؟؟ ہاتھ بڑھا کے ٹیبل پے موجود سب چیزیں نیچے گرا دیں ۔

چھوڑوں گا نہثس ۔۔ تمہیں آفتاب شیر خان۔۔۔! تم نے بہت۔۔ غلط جگہ ۔۔اس بار پنگا لے لیا ہے۔

کہتے ساتھ ہی وہ باہر نکلے۔

جمیل بھی ان کےپیچھے بھاگا ۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

آفس میں وہ اپنا کام مکمل کر کے فاٸل لیے باہر نکلی۔ او صدیقی صاحب کے روم کی جانب بڑھی۔ انکو چیک کروانے۔ کہ ایک دم سے ریسپشنسٹ کےپاس آکے کوٸ بہت زور سے چلایا ۔

کہاں ہے وہ۔۔؟؟ نکالو اسے باہر۔۔ابھی اسی وقت۔ ! وہ شخص اوننچی آواز میں چلایا۔

سر۔۔۔اس وقت وہ آفس میں نہیں۔۔! پلیز۔۔۔ شور نہ کریں ۔

ریسپشنسٹ پے بیٹھی کرن منمناٸ۔

اب یہ کون ہے جو اتنا شور مچا رہا ہے۔۔؟؟ صدیقی صاحب بھی باہر نکلے۔ جب کہ کنول صدیقی صاحب کے آفس کےدروازے میں کھڑی اس آنےوالے شخص کو بنا پلک جھپکے دیکھے جا رہی تھی ۔

اف۔۔ یہ شخص۔۔۔ جان کا عذاب۔۔ پیچھلی بار کی بے عزتی بھول گیا کہ اس بار پھر آگیا ہے۔۔۔

صدیقی صاحب اس طرف بڑھے۔ جہاں وہ کن سے بحث کر رہا تھا۔

بھٸ کیا مسٸلہ ہے آپکو؟ صدیقی صاحب نے چشمہ اتارتے پوچھا۔۔

کہاں ہے آفتاب۔۔؟؟ بولو اسے۔۔۔ باہر نکلے۔۔ ابکی بار وہ زیادہ اونچا بولا۔

نہیں ہیں آفس میں۔ ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی آپ کو۔۔؟ صدیقی صاحب بھی غصے سے بولے۔

جب بھی آۓ ۔۔تو اسے کہہ دینا۔۔ کہ اس بار میں اسے چھوڑنے والا نہیں۔۔

غراتے ہوۓ کہا۔ کہ تبھیایک نظر صدیقی صاحب کے پیچھے کھڑی لڑکی پے گٸ۔ تو وہ ٹھٹھکے۔ انہیں لگا انہیں کوٸ دھوکا ہوا ہے آنکھوں کا ۔ اگلے پل آنکھیں جھپکیں تو وہ لڑکی غاٸب تھی۔ انہوں نے سر جھٹک ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ دوبارہ نہ دکھی۔

انہیں لگا انہیں وہم ہوا ہے۔ وہ یہاں کیسے آسکتی ہے۔۔؟؟ وہ بھی اتنے سالوں بعد۔۔؟؟

اب جاٶ بھٸ۔۔ ! صدیقی صاحب نے سیکیورٹی گارڈر کو بلا کے انہیں ارباز خان کو وہاں سے لےجانے کی ہدایت کی۔

ارباز خان لب بھینے باہر آگۓ۔

گاڑی کے پاس پہنچتے ماتھےپے آیا پسینہ صاف کیا ۔

واپس پلٹ کے اس بلڈنگ کی طرف دیکھا۔

نہیں۔۔ وہ۔۔ وہ مر چکی ہے۔۔ واپس کیسے۔۔؟ خود کو یقین دلاتے وہ گاڑی میں بیٹھے۔ ڈراٸیور نے گاذی خان ولا کی روڈ پے ڈال دی ۔

💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦
💦

کنول وہیں ایک طرف کو ہوتی خود کو چھپا گٸ تھی۔

آنسو بے دردی سے گالوں پے بہے۔

نفی میں سر ہلاتی وہ آنسو پونچھے ونڈو کے پاس ہوٸ۔ جہاں سے اس نے ارباز خان کو دیکھا۔ جو واپس پلٹ کے ایک نظر بلڈنگ کو دیکھ رہا تھا۔

ایک کو بھی نہیں بخشوں گی۔۔ سب سے گن گن کے بدلہ لوں گی۔ یہ وعدہ ہے میرا۔

گال پے آۓ آنسو صاف کرتے دل سے ایک عہد لیا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

صدیقی صاحب نے آفتاب کو فون پے ساری بات بتا دی ۔ وہ جو صبح کا غصے میں تھا۔ اور اپنا غصہ شانت کرنے وہ مسجد میں بیٹھا تھا۔ ایک بار پھر سے غصہ عود کر آیا۔ فوراً وہاں سے اٹھا۔ اور خان ولا کی جانب جانے کا ارادہ کیا۔ وہ جانتا تھا۔ ارباز خان اب گھر مثس ایک نیا تماشا لگاۓ گا۔ اور اسکی ماں کو نشانہ بنایا جاۓ گا۔ اور ایسا تو وہ قطعی نہیں ہونے دے گا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

دیجے۔۔ ایک بار پھر سوچ لیں وہ تو بچہ ہے۔۔ ایسے ہی ضد لگا کے بیٹھ گیا ہے۔ آپ اتنا بڑا فثصلہ یوں نہ کریں۔

فیاض سلطان نے انہیں مری والے بنگلے کے پیپرز تھماتے دھیمے لہجے میں کہا۔

فیاض بیٹا۔۔۔! جو بھی ہے ان بچوں کا ہے۔ میں نے کبھی بھی۔۔ خان اور شامی میں فرق نہیں کیا۔۔۔ ہاں۔۔ خان سے ایک قدرتی لگاٶ ہے۔۔ لیکن شامی کی اپنی جگہ ہے۔ جو خان کیا کوٸ بھی نہیں لے سکتا۔ اور وہ سمجھتا ہے۔۔ کہ اسکی دی جے۔۔ اس سے کم پیار کرتی ہے۔

وہ ہلکا سا مسکراٸیں۔

اماں جان۔۔۔ آپ ۔۔ اسے معاف کردیں ۔

جمیلہ خاتون نے ماں کے بازو پے ہاتھ رکھا۔

معافیکس بات کی ۔۔؟؟ وہ بھی میرا بچہ ہے۔۔ بلاٶ اسے۔۔۔ اور یہ بتاٶ۔۔ کہاں ۔۔ انگوٹھا لگانا ہے۔۔؟؟

دی جے نے چشمہ پہنتے کہا۔

اتنے میں میکال اور شامی اندر داخل ہوۓ۔ جبکہ شہیر صبح سے غاٸب تھا۔ اور اب تک واپس نہ آیا تھا۔ انا کو گھر چھوڑنے کے بعد۔ اور گھر میں کیا ہورہا تھا۔ اسے کوٸ خبر نہ تھی۔

یہ لوبیٹا۔۔۔ ان کاغذوں پے لگا دیا انگوٹھا۔ بنگلہ آپ کا ہوا۔۔۔! دی جے نے مسکراتے کہا۔

شامی نے ایک نظر پیپرز کو دیکھا۔ اور پرسکون انداز میں آیپرز کو ہاتھوں میں تھاما۔

شکریہ دی جے۔۔۔! ان کے پاس جا کے بیٹھتا مسکرایا۔

فیاض صاحب نے رخ بدلا۔

اب آپ جس سے بھی کہیں گیں۔ شاہمیر سلطان آنکھ بند کر کے نکاح کر لے گا۔

بہت فرمانبرداری سے کہا۔

جمیلہ بیگم۔۔! اپنے بیٹے سے کہہ دیں۔۔ آدھےگھنٹے تک مولوی صاحب نے آنا ہے تو نکاح کے لے تیار رہے۔

لیکن۔۔۔ نکاح تو کل ہے ناں۔۔ فضا کی مہندی کے ساتھ۔۔؟إ

جمیلہ خاتون کنفیوز ہوٸیں۔

تھا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔اب مزید کسی قسم کا کوٸ رسک نہیں لےسکتے۔۔ کیا پتہ۔۔ پھر سے کوٸ نٸ ڈیمانڈ کر دی جاۓ۔

فیاض صاحب نے کمر پے ہاتھ باندھے رخ موڑے کہا۔ اور باہر نکل گۓ۔

جبکہ شاہمیر ایک گال سے مسکرایا تھا۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

خان ولا پہنچتے ہی ارباز خان نے جیسے ہی شہیر کے لاہور جانے کے بارے میں خانم کو بتایا۔ وہ تو ہتھے سے اکھڑ گٸیں۔ اور سونے پے سہاگہ۔۔۔ یہ بھی بتا دیا۔ کہ آفتاب نے اسکی مدد کی۔

اس بات پے تو انہیں پتنگے لگ گۓ۔ اور وہ دندناتی ہوٸ باہر نکلیں۔

تم۔۔ اپنے بیٹے کو سنبھال لو۔۔ تبسم ۔۔۔؟؟ وہ میرے بیٹے سے دور رہے۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

اب کیا ہوا بھابھی۔۔؟؟ تبسم گبھراٸیں۔

جانتی ہو۔۔ اس نے کیا کیا۔۔؟ میرے۔۔ میرے خان کو میرے بیٹے کو ہمارے خلاف بھڑکا کے لاہور بھیج دیا۔۔

ہاتھ لہر لہر کے بولتی وہ کہیں سے بھی پڑھی لکھی نہیں لگ رہی تھیں۔

ایسا۔۔۔ ایسا۔۔ نہیں ہے۔۔ بھابھی۔۔ بھلا۔۔ آفتاب۔۔ وہ ایسا۔۔ کیوں کرے گا۔۔؟؟

تبسم خان منمناٸیں۔ نہ شوہر گھر نہ بیٹا۔۔!

ہمیشہ کی طرح خود کو۔کمزور محسوس کیا۔

کیوں کرے گا۔۔؟؟ یہی تو میں پوچھتی ہوں۔۔کیو ں کیا اس نے ایسا۔۔۔؟؟ چاہتا کیا ہے۔۔ وہ۔۔؟؟ اس گھر میں رہتا ہے۔۔۔ اس گھر کا کھاتا ہے۔ اور اسی میں چھید کرتا ہے۔۔ نمک حرام۔۔۔! آج تو خانم کے الفاظ نے تبسم کو بھی لرزا کے رکھ دیا۔

کیا۔۔۔کیا ۔۔کہے جا رہی ہیں۔۔آپ۔۔؟؟ غلط بات نہ کریں۔ میرے بیٹے کے بارے میں۔۔ میں برداشت نہیں کروں گی۔

تبسم نے ہاتھ اٹھا کے وارن کرتےکہا۔ جبکہ آنسو بھی بہنے لگے۔

شمسہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ مسکراتی بہن کے ہمنوا ہوٸ۔

اور نہیں تو کیا۔۔ میری بہن نے اتنا احسان کیا تم پے۔۔ اور تم ماں بیٹے ایسے احسان اتارو گے۔۔؟

زہر خند لہجے میں وہ بھی بولیں ۔

تبسم نے لب بھینچ کے دونوں کو دیکھا۔ جبکہ ارباز خان پاس کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔

یہ کیا سمجھیں ۔۔احسان کو۔۔۔؟ احسان فراموش۔۔۔!

خانم کے یہ الفاظ مریم کو رلا گۓ۔

جبکہ خانم کو تبسم کے آنسو مزید سلگا گۓ۔

بس ۔۔رو دھو کے یہ عورت سچی بننے کا ناٹک کر لیتی ہے۔۔ اور۔۔۔غلط کہا ہی کیا ہے۔۔۔؟؟

وہ اس گھر کا بیٹا نہیں اسکے باوجود اسے۔۔ اس گھر میں رکھا۔۔۔ اور کیا یہ احسان کم ہے۔۔؟؟ تم جیسی طلاق یافتہ کی شادی اپنے دیور سے کراٸ۔۔ اس لیے کہ آج یہ صلہ دو۔۔؟؟

لہجے میں سخت نفرت اور حقارت تھی۔

بس۔۔۔! آفتاب کی اچانک آمد پے سبھی ایک دم چونکے۔

بلکہ سہم گۓ۔

وہ شیر کی طرح غراتے ہوۓ آگے بڑھا۔ ماں کا چہرہ دیکھا جو آنسوٶں سے تر تھا۔ آگے بڑھ کے ماں کے آنسو بہت پیار سے پونچھے۔ اور خانم کیجانب گھورتے ہوۓ پلٹا۔

بہت ہوگٸ بکواس آپ کی۔۔۔! آپ کو کس نے حق دیا ہے۔۔ میری ماں سے ایسے بات کرنے کا۔۔؟ آفتاب کی للکار شیر کی دھاڑ سے کم نہ تھی۔ خانم تو اندر سے سہم گٸیں۔ لیکن ظاہر نہ ہونے دیا۔

اور۔۔۔ اور تمہیں کس نے حق دیا۔۔میرے بیٹے کو لاہور بھیجنے کا۔ اسے ہمارے خلاف کرنے کا۔۔؟؟

ارباز خان بھی میدان میں آٸے۔

ہاں کی ہے اسکی مدد بھیجا ہے اسکو لاہور۔۔ آگے بھی کروں گا۔۔ہر طرح سے۔۔۔آپ کے خلاف کروں گا۔۔

آفتاب نے تسلیم کرتے آگے بڑھ کے انکے چہرے کے سامنے کھڑے ہوتے ڈنکے کی چوٹ پے کہا ۔

آپ کو جو کرنا آپ کرلیں۔ میں نہیں ڈرتا آپ سے ۔ سمجھے آپ۔۔۔ ! آنکھو ں میں آنکھیں ڈالے سخت لہجے میں کہا۔

تم۔۔۔ میرے بیٹے سے دور رہو۔۔۔ ورنہ۔۔۔ اچھا نہیں ہو گا تمہارے لیے۔۔۔! ارباز خان نے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

انگلی نیچے کرلیں۔ ارباز خان۔۔ ورنہ میں انگلی اٹھانے والے کا ہاتھ توڑنے کی طاقت رکھتا ہوں۔

آفتاب بھی اتنی ہی سختی سے بولا۔ کہ ارباز خان گنگ رہ گۓ۔

اور رہی بات آپ ک بیٹے کی؟ تو وہ کوٸ دودھ پیتا بچہ نہیں کہ انگلی پکڑ کے لاہور چھوڑ کے آیا ہوں میں۔ ۔۔ وہ خود جانا چاہتا تھا۔

آفتاب جب بولنے پے آیا تو پھر سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھے بولتا چلا گیا ۔

بہترہوگا۔ اپنی اولادکوقابو کرنا سیکھیں ۔ اور آج کے بعد اگر میری امی جان سے کسی نے یوں بدتمیزی سے بات کی۔ تو میں سب کچھ بھول جاٶں گا۔۔۔۔!

لیکن۔۔ یہمت بھولو۔۔۔ کہ یہ گھر۔۔۔ یہ خان ولا ہمارا ہے۔۔۔! تمہارا نہیں۔۔۔ خانم زہر خند لہجے میں بولیں۔

ہونہہ۔۔۔ ! آپ کا خان ولا آپ کو ہی مبارک۔

آفتاب شیر خان کی بازو میں اتنا دم ہے۔ کہ اس جیسے کٸ خان ولا یوں کھڑے کر سکتا ہوں۔

چٹکی بجاتے نفرت سے کہا۔ ایک پل کو وہاں خاموشی چھا گٸ۔ خانم کو تو جیسے اندر ہی اندر آگ لگ گٸ۔

تو پھر جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔۔ اپنا خان ولا بناٶ۔۔۔ یہاں کیوں ڈیرہ جمایا ہوا ہے؟

ہاتھ اٹھا کےکہتیں وہ منہ بگاڑ کے بولیں ۔

جس دن۔۔۔۔ جس دن۔۔۔ ان کے شوہر ۔۔ نے اس خان ولا سے جانے کا کہہ دیا۔۔ اس دن۔۔ ایک منٹ بھی نہیں لگاٶں گا۔ اور اپنی ماں کو۔۔ یہاں سے لے جاٶں گا۔

سمجھیں آپ۔۔۔! آفتاب بھی ان کے دوبد ہوا۔

خانم نے منہ پھیرا۔

اور تب۔۔ تک۔۔ اپنی لمٹس میں رہیے گا۔۔۔! دھیمے لیکن سخت انداز میں کہا۔

اچھا۔۔۔۔ اگر نہ رہوں تو۔۔ کیا کرلو گے تم۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟

وہ اور آگے بڑھتے ہوۓ بولیں۔

آٸندہ میری ماں سے اونچی آواز میں بی بات کی تو۔۔ زبان کاٹ دوں گا۔۔۔! شیر کی طرح غراتا وہ بھی آگے بڑھتے شدید نفرت سے بولا۔ خانم کی بولتی بند ہوگٸ۔

آفتاب بیٹا۔۔۔! چلیں یہاں سے۔۔۔

تبسم خان نے آنسو پونچھتے بیٹے کو ہاتھ پکڑا۔ تو وہ لبیک کہتا ان کے ساتھ ہو لیا۔

جبکہ جاتے ہوۓ مڑ کے ارباز خان کو گھوری سے نوازنا نہ بھولا۔

اس کی اس گھوری میں جو الٹیمیٹم تھا۔ اسے ارباز خان اچھی طرح سمجھ گۓ تھے۔

مجھے شہیر خانزداہ چاہیے ابھی اسی وقت۔

خانم نے اونچی آواز میں ارباز خان سے کہا تو سبھی انہیں دیکھنے لگے۔

یاد رکھیے گا ۔ بڑے خان۔۔۔! شہیر خان میرا ہے۔۔۔ صرف میرا۔۔۔ اور مجھے وہ چاہیے۔۔ ہر حال میں چاہیے۔سنا آپ نے۔

بد تمیزی کی ساری حیں پار کرتی وہ پاٶں پٹخ کے وہاں سے جا چکی تھیں۔

ارباز خان سر پکڑ کے بیہٹھ گۓ۔ انہیں شہیر سے ایسی امید نہ تھی۔ انکا خون تھا وہ۔ کیسے ان سے دغا کر گیا۔۔۔۔؟؟

انہی سب میں وہ چپ چاپ کھڑی اب موباٸل کا کیمرہ بند کر چکی تھی۔ بہت ہوشیاری سے اس نے اس جھگڑے کی ساری ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی۔ اور چہرےپے ایک شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔

شہیر خانزادہ۔۔۔ اب تمہیں میرا ہونے سے کوٸ نہیں روک سکتا۔ تم خود بھی نہیں۔۔! دل ہی دل میں وہ شہیر سے مخاطب ہوٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

یہ سب کیا ہے شامی۔۔؟؟ کیوں کر رہے ہو یہ سب۔۔؟ صرف۔۔ ایک بنگلے کی خاطر۔۔؟؟

شامی اپنے روم۔میں آتا وہ پیپرز بہت دھیان سے اپنے لاکر میں رکھ رہا تھا کہ اسی لمحے انا بہت دکھی ہوتے آٸ۔

شامی کے چہرے پے طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔

لاک لگا کے مڑا۔

تو تمہیں لگتا ہے۔۔ یہ سب تین کروڑ کے ایک بنگلے کے لیے کیا میں نے۔۔؟؟

شامی نے ایک آٸ برو اچکاتے پوچھا۔

تو۔۔۔۔؟ انا نے سوالیہ نظریں اس پے گاڑھیں۔

اما کے شہیر کے ساتھ واپس آنے کے بعد سے دونوں کے بیچ ہونے والی یہ پہلی بات تھی۔

ہممم۔۔۔ تو ماٸ ڈیٸر ٹونز۔۔۔! تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے۔ ۔۔۔

انا کے کاندھے پے ہات رکھتے سرگوشیانہ انداز میں کہا۔

یہ تو آغاز ہے۔۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔؟؟ آنکھ ونک کی۔

انا تو اسے حیرت سے دیکھتی رہ گٸ۔

شامی۔۔!اس سب میں ۔۔۔ عابی کا کیا قصور۔۔؟؟ وہ بے چاری تو۔۔؟؟

بے چاری۔۔۔؟؟؟ تمسخر اڑایا

وہ آپ کی بے چاری۔۔نواب صاحب کی پوری جاٸیداد کی اکلوتی وارث ہے۔۔۔! شامی نے مسکراتے کہا۔

شامی۔۔۔۔! تم۔۔۔ کتنا بدل گۓ ہو۔۔۔؟؟ تم ۔۔۔ تمہارے لیے۔۔ پیسہ ہی سب کچھ ہے کیا۔۔؟؟ مانا کہ ۔۔۔ جو بھی ہوا۔۔۔ صحیح نہیں تھا۔۔۔ لیکن۔۔ تم بھی۔۔ غلط کر رہے ہو۔۔۔!

انا نے اسے باز رکھنا چاہا ۔

یار۔۔۔۔ وہ سن نہیں۔۔

everything is fair in love and war…

بستر پے بانہیں پھیلا کے بیٹھتے وہ مسکرا کے بولا تھا۔

تم۔۔۔ پچھاٶ گے۔۔۔ بہت۔۔۔! ابھی بھی وقت ہے ۔۔ نکاح سے انکار کر دو۔۔ اس سب میں عابی کے جذبات کو مت تکلیف پہنچاٶ۔۔۔ انا نے اسے پیچھے ہٹنے کی پوری طرح کوشش کی۔

جو لیکچر آپ مجھے دے رہی ہیں۔ محترمہ۔۔ وہ آپ گھر والوں کو دے دیں۔ شاید اثر کر جاۓ۔

اجنبیت سے کہتا وہ انا کو کہیں سے بھی پہلے والا شامی نہ لگا۔

انا کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔

شامی نے نظریں چراٸیں وہ کہاں اپنی انا کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی یکھ سکتاتھا۔

شامی۔۔۔ ! پلیز۔۔۔ مت کرو۔۔ عابی کے ساتھ یہ سب۔۔؟؟ اگر اپنانا ہی ہے تو دل سے اس رشتے کو اپناٶ۔۔ اور نکاح کرو۔۔ کیسی ڈیل کے ساتھ نہیں۔

اسکا اندز نظر انداز کرتیپیار سےکہتیاس کےپاس بیٹھی۔ شامی نے گردن موڑ کے ایک کر اپنی بہن کو دیکھا۔

اچھا۔۔۔ میں کیا سوچ رہا تھا۔۔۔؟؟ آج سے اپنی اپنی لاٸف۔۔۔! آپ کی اپنی لاٸف۔۔ میری اپنی۔۔۔ آج کے بعد ہم دونو ں ہی ایک دوسرے کی لاٸف میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔

شامی نے بہت ٹہرے ہوۓ انداز میں کہا تو انا اسکا چہرہ دیکھتے خاموشی سےوہاں سے اٹھ گٸ۔

وہ جانتی تھی اس وقت شامی کو سمجھانے کا کوٸ فاٸدہ نہیں۔ وہ نہیں سننے والا۔

انا کے جانے کے بعد شامی نے کرب سے آنکھیں موندیں۔

ہر رشتہ ہی چھوٹتا جا رہا ہے۔۔۔

ریت کی طرح سب کچھ ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

عبیر حشمت بنت نواب حشمت پانچ لاکھ سکہ راٸج الوقت آپ کا نکاح شاہمیر سلطان ولد فیاض سلطان سے طے کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کویہ نکاح قبول ہے؟

میں نکاح بھی کروں گا۔۔ اور مری کا بنگلہ بھی اپنے نام کروں گا۔

مولوی صاحب کے الفاظ عابی کے کانوں سے ٹکراٸے۔ تو شامی کے الفاظ کی بازگشت ہونے لگی۔ آنکھیں نمکین پنیوں سے لبالب بھر گٸیں۔

دل چاہا۔ کہ فوراً انکار کر دے۔ لیکن ہاٸے رے لڑکیاں۔۔ مجبور۔۔ ماں باپ کی عزت کے آگے۔

قبول ہے۔۔۔۔۔!

دل پے پتھر رکھے بالآخر مولوی صاحب کو بول ہی دیا۔

مولوی صاحب باہر نکلے۔ حشمت صاحب نے عبیر کے سر پے شفقت سے ہاتھ رکھا۔ اور وہ بھی باہر نکلے۔

شاہ میر سلطان ولد فیاض سلطان آپ کو پانچ لاکھ سکہ راٸج الوقت عبیر حشمت بنت نواب حشمت سے نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟

جی۔۔ قبول ہے۔ شامی نے دل سے کہا۔

مولوی صاحب نے تین بار اپنے الفاظ دہراٸے۔ اور شامی نے اللہ اور اسکے رسول کو حاضر ناظر جان کے قبول کیا۔

مولوی صاحب کی دعا کے بعد مبارک باد کا شور اٹھا تو سبھی گلے لگے ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے تھے۔

شیری جو صبحکا غاٸب تھا۔ نکاح کے وقت پہنچ گیا۔ اور شامی کے نکاح سے بے حد خوش ہوا۔ اسے گلےلگا کے مابرک باد دی۔ شامی نے بھی کھلے دل سے مبارک باد لی۔

بہت خوش ہو۔۔ نکاح کر کے۔۔۔! کیا خیال ہے ۔۔؟ نکاح کے ساتھ رخصتی ہی نہ کروالیں۔۔؟؟

شیری نے اسے پیار سے چھیڑا۔

شامی نے مسکراتے ہوۓ شہیر کی جانب دیکھا۔

میرے نکاح کو تو ابھی مشکل سے س منٹ ہوۓ ہیں۔ اور آپ رخصتی کروانے کا سوچنے لگے۔۔۔؟؟ آپ کے نکاح کو تو دس سال گذر گۓ ہیں۔۔ اپنی فکر کریں۔۔!

میٹھا ساطنز۔۔ شہیر کے چہرےکی سمکراہٹ پل بھر میں غاٸب ہوٸ ۔

ایکسکیوز می۔۔۔! شامی مسکرا کے کہتا اپنے دوستوں کی طرف بڑھا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ کوٸ پریشانی ہے کیا۔۔؟؟

میکال شیری کے چہرے پے اداسی دیکھ اس کے پاس چلا آیا۔

ارے نہیں بالکل بھی نہیں۔۔بس۔۔ ! اب واپس جانا ہے۔۔ ناں۔۔ مما جان۔۔ اور بابا جان انتظار کر رہےہوں گے۔۔۔! یہاں آیا تو۔۔۔؟؟ ایک گہرا سانس خارج کیا۔لیکن۔۔ آپ کی شادی اٹینڈ کر کے ہی جاٶں گا۔۔۔

دی جے کو چھوڑ کے۔۔؟؟ میکال کے اچانک پوچھنے ے وہ یکفم چپ ہو گیا۔

کیا مطلب۔۔؟؟ انہیں کیوں چھوڑ کے جانےلگا۔۔؟؟ وہ میرے ساتھ جاٸیں گیں۔ انہیں ہی تو لینےآیا ہوں۔۔!

شہیر کے ماتھےپے بل پڑے ۔

بھاٸ۔۔۔ اللہ تمہاری مدد کرے۔ میکال نے دل سے اسے دعا دی۔ جبکہ اسکے چہرےپےپریشانی کے آثار شہیر سے چھپے نہ رہ سکے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

سر آپ بھول گۓ۔۔؟؟ آپ کے ضروری ڈاکومنٹس میرے پاس ہیں۔۔۔

آفتاب شاور لے کے نکلا تو موباٸل پے کنول کا میسج ملا۔

انہثس سنبھال کے رکھیے گا۔ صبح آپ سے لےلوں گا۔۔

آفتاب نے بھی میسج کیا۔

اگر ۔۔۔ وہ گم گۓ تو۔۔۔؟؟ میسج ٹاٸپ کرنے کے بعد ایک مسکراہٹ تھی۔ کنول کے چہرے پے۔

پھر آپ بھی گم ہوجاٸے گا۔۔ مس کنول۔۔ اس بار معافی کی گنجاٸش نہیں۔۔

میسج کا جواب پڑھ کے وہ جو لیٹی تھی فوراً اٹھ بیٹھی۔ او رمنہ بگاڑا۔

کھڑوس کہیں کا۔۔۔

لڑکی سے بات کرنےکی بھی تمیز نہیں۔

سر۔۔ آپ کے ڈاکومنٹس بالکل سیو ہیں۔ملجاٸیں گےآپ کو صبح۔ فکر نہ کریں ۔ 😏

لکھتے ہوۓ ساتھ میں سماٸلی کا برا فیس بھی سینڈ کیا۔

سمجھدار ہیں۔ صبح بات ہوگی۔ گڈ ناٸیٹ۔

آگے سے ملے جواب کو پڑھ کے وہ تھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے کھڑکی سے باہر چمکتے چاند کو دیکھنےلگی ۔

آج نجانے کیوں اسے آفتب سے پہلی بار میسج پے بات کرنے کا دل کیا۔ اور اب ادکو بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

میسج ٹون پے وہ چونکی۔

اسے لگا شاید آفتاب کا میسج ہوگا۔ لیکن۔۔ میسج پڑھ کے اسکے لب آپس میں پیوست ہوگۓ۔ سختی سے آنکھیں بند کیں۔ اور موباٸل ساٸیڈ پے پٹخا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *