Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Last updated: 13 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

Novel Code : NovelR50499

 

کیسےہو۔۔۔ آفتاب شیر خان۔۔؟؟ آواز اور لہجہ چال سب پٹھانوں والا تھا۔

ٹھیک ہوں۔ اتنی ہی بے رخی سے آفتاب نے جواب دیا۔

بیٹھو۔۔۔ہمیں تم سے کچھ بات کرنا ہے۔ شیر خان کے کہنے پے وہ واپس بیٹھا۔ جبکہ ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔

آفتاب شیر خان۔۔۔! ہم چاہتے ہیں۔ تم واپس آجاؤ۔۔ اپنے گھر۔۔۔! بنا تمہید کے وہ مدعے پے آئے۔

کونسے گھر۔۔؟؟ بھنوئیں سکیڑتے ہوئے تیکھے انداز میں پوچھا۔

وہی ماڑا۔۔۔ جو تمہارا گھر ہے۔۔ تمہارے باپ کا گھر ہے۔۔ اور کون سے گھر کی بات ہورہی ہے۔۔؟

وہ۔۔گھر۔۔۔ جہاں سے۔۔ بائیس سال پہلے آپ نے۔۔اور۔۔ آپ کی ماں نے مجھے۔۔ اور میری ماں کو نکال دیا تھا۔۔ وہ گھر۔۔؟ آفتاب جتنا ہو سکتا تھا خود پے قابو رکھتا بولا۔

ماڑا۔۔۔ اس غلطی کی سزا۔۔ کیا باپکو ساری زندگی دے گا۔۔۔؟؟ وہ زچ سے آگئے۔

باپ نہ ہوتے میرے تو۔۔ ۔۔آپ کو بتاتا کہ سزا کیا ہوتی ہے۔۔۔؟؟ نپے تلے انداز میں کہتا وہ وہاں سے اٹھا۔

آفتاب شیر خان۔۔۔! یاد رکھنا۔۔ تم ہم سے دو نہیں ہوسکتے۔۔ چاہے سو بہانے بنا لو۔۔۔ تمہارا باپ۔۔۔ ہم ہی رہے گا۔ شیر خان۔۔۔ دبنگ اندا میں سینے پے ہاتھ مارتےکہا۔

اور آپ کا نام۔۔۔ میرا بس چلے تو۔۔ اپنے نام کے ساتھ سے کھرچ کے پھینک دوں۔ دانت چباتے نفرت سے کہا۔

جبکہ شیر خان نے مسکرانے پے ہی اکتفا کیا۔ منہ پھیرتا وہ ریسٹورینٹ سے باہر نکلتا مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار سفید قمیض شلوار میں کالی واسکٹ پہنے۔ پاؤں میں پشاوری چپل پہنے۔ عنابی لبوں کے اوپر ہلکی مونچھیں۔ ماتھے پے پڑے دو بل۔ اور گہری کالی آنکھیں۔ وہ کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگا تھا۔ جو ایک بار دیکھنے والے کو دوبارہ دیکھنے پے مجبور کر دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *