Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 08)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

صبح سورج کی پہلی کرن سے ہی شہیر کیآنکھ کھل گٸ۔ آنکھیں ملتا اس نے ایک نظر اپنے پاس سوٸ انابیہ پے ڈالی۔ جو مکمل نیند کی آغوش میں تھی ۔ اسکے گول گول لال گال دیکھ کے شہیر کا دل ایک بار پھر ان پے آگیا۔ آگے بڑھ کےدھیرے سے اسکے داٸیں گال پے اپنے لب رکھے۔ وہ نیند میں تھوڑا سا کسماٸ۔ تو شہیر مسکراتا ہوا پیچھے ہو گیا ۔ انا کی آنکھ کھل گٸ تھی۔ شہیر سوتا بن گیا۔

انا نے ادھ کھلی آنکھ سے شہیر کو سوتے دیکھا۔ کچھ پل تو حواس کوجگانےمیں لگی۔ لیکن دھیرے دھیرے سب یاد آگیا ۔ جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔

ایک چھوٹی سی کھڑکیسے سور ج کیروشنی اندر آرہی تھی۔ جس کا مطلب تھا۔ رات گزرگٸ ہے۔

انابیہ پریشان ہوٸ ۔ اور شہیر کو زور زور سے ہلانے لگی۔

ہمممممم۔۔۔۔کیا؟ شہیر نے ایک آنکھ کھول کے ایکٹنگ کرتے پوچھا۔

صب۔۔۔صبح ہوگٸ ہے۔۔ اٹھیں پلیز۔۔ گھر جانا ہے۔۔ جلدی کریں ۔ انابیہ پریشانی سے بولی۔

یار ابھی سونے دو۔۔۔۔ کیاصبح صبح ہی جگا دیا ۔

شہیر نے انا کو بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔ اور سینے سےلگا کے پھر سے سوتا بن گیا ۔

أنا کو اپنی سانسیں منتشر ہوتی محسوس ہوٸیں۔ وہایسے پہلی بار کسی مرد کے اتنے نزدیک ہوٸ تھی۔ بھلے وہ اسکےنکاح میں تھی۔ لیکن ۔۔ اسکا دل بری طرح دھڑکا۔ اور جھٹکے سےپیچھے ہوٸ۔

پپپپلیز۔۔۔۔اٹھ جاٸیں۔ آواز میں منت تھی ۔

ہممممم۔۔۔لو اٹھ گیا ۔ شہیر نے اٹھتے اسے پیار سے دیکھا ۔

یہاں سے۔ چلیں ۔ دھیمی آواز میں کہا۔

انا۔۔۔! جانتی ہو۔۔۔۔ میرا دل چاہ رہا ہے۔ یہ پل یہیں تھم جاٸے۔۔ جن پلوں میں ہم ساتھ ہیں۔ خوشیوں بھرے جذبات ہیں ۔۔۔ گہری نظروں سے انا کو دیکھتے وہ جذب کے عالم میں بولا۔

دددیر۔۔۔۔ ہورہہیی ہے۔۔۔۔ پلیزززززز۔۔ چلیں۔۔۔۔! انا دل کی دھڑکن کو سنبھالتی بمشکل بولی ۔

شہیر نے گہرا سانس خارج کیا۔

سو ان رومینٹک۔۔۔۔! زیرِ لب کہتاوہ اٹھا ۔ اور شرٹ پہننے لگا۔ بٹن بند کرتا ایک نظر سر جھکاٸے اپنی انا کو دیکھا۔

تمہارے گال آج بھی لال ٹماٹر کی طرح ہیں۔۔۔ ! کہتے ہوٸے ایک انگلیسے اسکے پھولے ہوۓ گال کو چھوا ۔ تو انا نےآنکھیں پھیلا کےاس دیوانےکودیکھا۔ جو پٹری پے چڑھا نہیں۔ لیکن پٹری سے اتر رہا تھا ۔

مسٹر شہیر خانزادہ۔۔۔!اگر آپ کا یہ ٹھرکی پن ختم ہو گی ہوتو چلیں۔

اب کی بار انا نے چبا چباکے کہا۔

لڑکی۔۔۔۔! میری محبت کو ٹھرک کا نام دے رہی ہو۔۔ کچھ خدا کا خوف کرو ۔۔۔ شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ !

کف کے بٹن بند کرتے منہ بنایا۔

جی صرف نکاح ہوا ہے۔۔۔ رخصتی نہیں۔۔ تو زیادہ پھیلیں مت ۔ انا بیہ نےپاس آکے اسکے شرٹ کے کالر کو درست کرتے مسکراکےکہا۔ تو ایک لمحے کو شہیر اسکی بھوری آنکھوں کی چمک دیکھتا وہیں سٹل ہوگیا۔

دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی ۔

چلیں۔۔۔۔! انابیہ فوراً سے پیچھے ہوتی داٸیں باٸیں دیکھتی بولی۔

ہمممممم۔۔۔ شہیر کو لگا اگر وہ اور زیادہ وہاں رکے تو شاید اپنے جذبات پے قابو کھو دے ۔

دونوں ہی دروازہ کھولتےباہرنکلے ۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

ساری رات آنکھوں میں کٹی۔ ایک پل کو بھی شامیبکو سکون نہ آیا۔

بے سکون تو سبھی تھے۔ لیکن لب سب کے ہی خاموش تھے ۔ اور دعا گو تھے کہ وہ دونوں ٹھیک ہوں۔

دی جے تسبیح کر رہی تھیں۔ اور اللہ سے دعا گو تھیں۔ وہیں دوسری طرف فیاض صاحب بہت چپ چپ سے تھے۔ انہیں یوں تو شہیر پےپورا بھروسہ تھا۔ لیکن ابھی تک کوٸ خبر نہیں آٸ تھی اسلیے وہ پریشان ہو رہے تھے۔

میکال بھی انہی کی طرف آگیا ۔ انا اور شہیر کیابھی تک واپسی نہیں ہوٸ تھی۔ وہ بھی پریشان ہو گیاتھا۔

شہیر کوکال کر رہا تھا۔لیکن فون بند جا رہا تھا ۔

اب کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔ آپ کا لاڈلا ہے۔ چہیتا سب کا۔۔۔ خود سے بھی زیاہ حفاظت کرے گا انا کی۔ ایسا ہی کہا تھا ناں۔۔۔! شامی نے باہر آتے غصہ ضبط کرتے کہا۔

سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔

کیا بول رہے ہو تم؟ ہاں۔۔؟؟ نجانے وہ کس پریشانی میں ہیں۔۔ الٹا۔۔ یہ اول فول بول رہے ہو؟

فیاض صاحب غصے سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔

پریشانی میں وہ نہیں۔۔۔ پریشانی میں ہم ہیں۔۔!

خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا۔

شاہ میر۔۔۔! چپ رہیں۔۔ اور جاٸیں یہاں سے۔۔۔

جمیلہ خاتون نے بیچ میں ٹوکا۔

یوں آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت نہیں بدل جاۓ گی۔۔۔ یاد رکھیے گا۔۔ آپ کا اندھا اعتبار آپ کو ایک دن لے ڈوبے گا۔

شامی اونچی آواز میں کہتا وہاں سے اپے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

یہ۔۔۔۔یہ لڑکا۔۔۔؟؟؟ فیاض صاحب کا دل بہت برا ہوا۔

چھوڑیں چچا جان۔۔۔! آپ کو اسکی لا ابالی طبعیت کا پتہ تو ہے۔۔۔ ایسا ہی ہے وہ۔۔۔! آپ بیٹھیں ۔ ٹینشن نہ لیںس میں دیکھتا ہوں۔۔! فیاض صاحب کو حوصلہ دیتے بٹھایا۔ اور میکال خودانہیں ڈھونڈنے گھر سے نکلا۔

آپ پریشان نہ ہوں۔۔ اللہ سب بہتری کرے گا۔

جمیلہ خاتون کا دل کتنا کٹ رہا تھا ۔ یہ وہی جانتی تھیں۔ لیکن ان کے شوہر شوگر کے مریض تھے۔ ان کے لیے ٹینشن لینا صحیح نہیں تھا۔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

یہ لیں صاحب جی۔۔! آپ کی گاڑی کی چابی۔ گاڑی ایک دم فٹ فاٹ ہوگٸ ہے۔

ساتھ دو گھر چھوڑ کے خالد میکینک کو بولا کے شہیر کی گاڑی کو اس شخص نے ٹھیک کروا دیا تھا۔

آپ لوگوں کا یہ احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

شہیر نے ہزار کے کچھ نوٹ دونوں کو تھماۓ۔

ارے۔۔ یہ کیا ہے۔۔؟ نہیں صاحب جی۔ یہ ہم نہیں لے سکتے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اور لاہور والے مہمان نواز ہیں۔ آپ انہیں واپس رکھیں۔

اس شخص نے پیسے واپس کر دیے۔ شہیر مسکرا دیا۔ اسے انا کی بات یاد آگٸ۔ وہ واقعی سچی تھی۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں وہاں سے نکلے ۔ اور سلطان ہاٶس کیجانب گامزن تھے۔ راستے بھر دونوں ہی چپ رہے۔

گھر کے پاس گاڑی پہنچی تو انا کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸ۔ اسکے چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔ شہیر نے گاڑی کی سیڈ آہیستہ کر دی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ شہیر نے اسکی جانب دیکھتے پوچھا ۔

انا نے حلق تر کیا۔ اور شہیر کی طرف پریشان نظروں سے دیکھا۔

سب۔۔گھر۔۔۔ والے۔۔۔ کیا سوچیں گے۔۔؟؟ ہم۔۔۔نے۔۔ اایک ۔۔رات۔۔ گھر سے۔۔۔ باہر۔۔۔گزاری۔۔۔؟؟ انا کا لہجہ نم ہوا۔

تو۔۔۔؟؟ شہیر کے ماتھےپے بل پڑے۔ اور گاڑی دروازے کے آگے روکی۔

انا۔۔۔! ادھر دیکھو ۔میری طرف۔۔۔! اس میں اتنا گھبرانے کی کیا بات ہے۔۔۔؟؟ تم۔کسی غیر کے ساتھ تو نہیں تھی۔ اپنے شوہر کے ساتھ تھی۔

شہیر نے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑا۔ اور ہر لفظ پے زور دیتےکہا۔

آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔ گھر میں۔۔۔؟؟ انا نے کچھ کہنا چاہا۔

شییییییی۔۔۔ سب سمجھتا ہوں۔ بس تم۔۔اتنا یاد رکھو۔ کہ تم۔۔۔ میرے نکاح میں ہو۔۔

ایک ایک لفظ جذب کے عالم میں کہتا وہ انا کو ایک گونا سکون دے گیا۔

آٶ میرے ساتھ۔ کہتے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

دوسری جانب سے انا باہر نکلی۔ شہیر نے اسکا ہاتھ تھاما۔اور گھر کی دہلیز کے اندر داخل ہوا۔

جہاں سے میکال باہر نکل رہا تھا۔

اوہ۔۔صد شکر۔۔۔ کہ تم لوگ آگۓ۔۔۔ میکال نے شہیر کو خوشی سے دروازے میں ہی گلےلگایا۔

اور انہیں لیے اندر بڑھا۔

چچا جان۔۔! شہیر اور انا آگۓ۔۔ ہیں۔۔ میکال بہت خوشی سے اونچی آواز میں بولا۔

سبھی کی نظریں دروازے کی جانب اٹھیں۔ جہاں سے وہ دونوں اندر آرہے تھے۔

شامی کے کانوں تک بھی آواز جا چکی تھی ۔ وہ بھی کمرے سے باہر نکلا۔ لیکن سامنے کا منظر دیکھ وہیں ٹھٹھکا۔

شہیر کے ہاتھ میں انابیہ کا ہاتھ۔۔۔ وہ وہیں تھم گیا تھا۔ اسے لگا جیسے اسکے اندر کچھ ٹوٹا ہو۔

بھلےنکاح بچپن میں ہوا ہو۔ لیکن یہ مت بھولو انا کوٸ چھ ماہ کی بچی نہیں تھی۔ نو سال کی تھی۔ اور تم جانتےہی کیا ہو؟ ہاں۔۔؟ وہ انابیہ سلطان کبھی رہی ہی نہیں ۔ اس کی ایک ایک سانس اس نکاح سے جڑی ہے۔ پل پل جیا ہے اس نے اس نکاح کو۔ اور جس دن یہ نکاح ختم ہوا۔ انا کی سانسوں کی ڈور بھی ٹوٹ جاۓ گی ۔

فضا کی باتیں یاد کرتے وہ ایک ایک قدم پیچھے لیتا گیا ۔ اور وہاں سے واک آٶٹ کر گیا۔

انا نے اے وہاں آتے اور وہاں سے نم آنکھوں سے جاتے یکھ لیا تھا۔ لیکن ابھی وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔

میری بچی ۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ جمیلہ خاتون نے انا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے پیار سے پوچھا۔

جی۔۔۔۔۔! باری باری سب کو اپنا چہرہ دکھا کےاور دعاٸیں لے کے وہ فضا کے ساتھ اپنےکنرے میں آگٸ۔

کسی نے اس سےکوٸ سوال نہ کیا تھا۔ سب اسکی غیر موجودگی کو لے کے غصہ نہیں تھے۔ پریشان تھے۔ سواۓ ایک انسان کے۔

شہیر نے باہر سب کو ساری بات بتا دی تھی۔ کیا کیا کہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن وہ اتنا جانتی تھی۔ کہ وہ شخص اسکی عزت کا رکھوالا ہے۔

اس ایک رات نےاسکی سوچ کو بدل دیا تھا۔ جو جو ل میں غلط فہمی تھی۔ سب ختم ہوگٸ تھی۔

دل تو پہلےہی شہیر کے نام پے دھڑکتا تھا۔ اب جذبات بھی اسی کے نام کے تھے۔

اب یوں ہی چپ بیٹھی رہو گی ۔۔ یا کچھ بولو گی بھی۔۔۔؟؟ فضا کو اسکے سوالوں کے جواب نہیں ملے تھے۔ تو اسے خیالوں سے چونکایا۔

کیا پوچھ رہی ہیں۔۔؟؟ وہ ایک دم ہوش میں آٸ۔

لگتا ہے ۔۔ لڑکی گٸ کام سے۔۔۔!فضا نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔

آپی۔۔۔! آپ کو ساری کہانی سننی ہے۔۔ تو آپ باہر جا کے۔۔ انکی زبانی سن لیں۔ مجھے کیوں چھیڑ رہی ہیں۔۔۔؟؟

انا نے دامن بچانا چاہا۔ اور اٹھ کے کبرڈ سے کپڑے نکالے۔

ہاۓ۔۔۔۔ اب وہ ان ہوگۓ۔۔۔۔؟؟؟ فضا نے بات اچکی۔

میں شاور لے لوں۔۔ اسکے بعد آپ سے بات کرتی ہوں۔ بلکہ آپ کی تیمارداری کرتی ہوں۔

بہت آرام سے کہتے باتھ روم کا رخ کیا۔

تیمارداری مطلب؟ فضا حیران ہوٸ۔

وہی۔۔ جو رات کو آپ کو ہوا۔۔۔ پیٹ درد۔۔؟؟ اسکی تیمارداری۔۔۔

مسکرا کے جواب دیتے وہ باتھ میں گھس گٸ۔ جبکہ فضا کی ہنسی کو اب بریک لگا۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

میٹنگ اٹینڈ کرتا وہ بہت پر اعتماد اپنے پواٸنٹس بتا رہا تھا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ تھے۔ اسکی بات سن رہے تھے۔ جبکہ تھوڑی دور بیٹھی کنول صرف اسی کو دیکھے جا رہی تھی۔ بے اختیار۔۔ اسے اردگرد کا بھی کوٸ ہوش نہ رہا تھا۔ بس بار بار آفتاب کے ہلتے لب دیکھتی وہ کھوٸ ہوٸ تھی۔

میٹنگ ختم کرتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔ جبکہ اسکی نظر وہاں موجود دوستوں اور دشمنوں سب پے تھی۔ اور ان سب سے ہٹ کے وہ کنول۔۔ جو اتنے انہماک سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ آفتاب سے کچھ بھی چھپانہ تھا۔ وہ باہر نکلا تو وہ بھی ایک دم ہوش میں آتی اسکے پیچھے لپکی۔

وہ لفٹ کی جانب بڑھا۔ دومنٹ ہی لگے تھے۔ لفٹ اوپن ہوٸ۔ خالی لفٹ میں آفتاب اندر داخل ہوا۔ تو جھٹ سے کنول بھی پیھے ہی داخل ہوٸ۔ لفٹ چلی۔ آفتاب نے موباٸل نکال کے چیک کیا۔

آفس کی گاڑی آۓ گی ۔ تو آپ آفس چلی جاٸیں۔ مجھے کچھ ضروری کام ہے۔ اور یہ ۔۔۔۔۔۔

لیپ ٹاپ اور کچھ فاٸلز کنول کی جانب بڑھاٸیں جسے اس نے فوراً تھام لیا ۔

میں آفس پہنچتے ہی آپ سے لوں گا۔ انہیں سنبھال کے رکھیے گا۔ تنبیہہ والے انداز میں کہا۔ کنول نےاثبات میں سر ہلایا ۔

میں جلدی آٶں گا۔ اوکے۔

موباٸل واپس جیب میں ڈالتا ماتھے پے دو بل ڈالے وہ کلاٸ پے بندھی گھڑی دیکھتا سنجیدہ انداز میں کنول سے بولا۔ کنول اسکے پیچھے ہی ایک طرف کھڑی تھی۔

اوکے۔۔۔۔! بنا کوٸ سوال جواب کے کنول نے سر اثبات میں سر ہلایا۔ کہ تبھی لفٹ رکی۔ اور دو لڑکے لفٹ میں داخل ہوۓ۔ شکل سے وہ غنڈے ٹاٸپ لگ رہے تھے۔ لفٹ میں انٹر ہوتے ہی ان میں سے ایک نے لفٹ کا بٹن دبا دیا۔ اور آفتاب کو دیکھنےلگے۔

آفتاب بھی انکی حرکات نوٹ کر رہا تھا۔ایک اسکی داٸیں طرف اور دوسرا باٸیں طرف کھڑا ہوگیا ۔ کنول کو دونوں ڑواں بھاٸ لگے۔ دونوں کے منہگول مٹول اور گنجے تھے۔

ابھی مزید کچھ سمجھنے کا موقع ملتا کہ لفٹ رکی۔ ان میں سے ایک نے آفتاب پے وار کیا۔اور گھما کے بازو آفتاب کو مارنی چاہی۔ آفتاب تو جیسے پہلے سے ہی تیار تھا۔ فوراً اسکی بازو کو پکڑا۔ اور مروڑتا ہوا پیچھے لے جا کے ایک جھٹکے سے چھوڑا۔ کہ وہ تڑپ کے نیچے گرا بازو کو پکڑتا آفتاب کو دیکھتا رہ گیا ۔

جبکہ خود آفتاب پیچھے لفٹ سے جا لگا۔ دوسرا جو اپنے ساتھ کو یوں تڑپتا دیکھ سکتے میں آگیا تھا یکدم ہوش میں آتا آفتاب کی طرف بڑھا اور اپنی لمبی ٹانگ سے آفتاب کے چہرے پے مارنا چاہا۔ لیکن آفتاب نے دوسری طرف ہوتے اپنا منہ بچایا۔ جہاں کنول سہمی کھڑی تھی۔ اس سےپہلے کے وہ پھر وار کرتا۔ آفتاب نے مڑتے اسے زور سے ٹانگ ماری۔ پے در پے وار کیے وہ وہیں ادھموا ہو کے گرا۔ آفتاب کی کلاٸ مڑ گٸ تھی۔ جسے وہ جھٹکے سے سیدھا کر رہاتھا ۔ اور کنول کی طرف دیکھا۔ جو سانس روکے کھڑی تھی۔ لفٹ کا بٹن دبایا۔ تو لفٹ جھٹکا کھاتے چل پڑی۔

ان دونوں آدمیوں میں سے پہلے والا پھر سے اٹھا۔ اسکے ہاتھ میں چاقو تھا۔ اب اسکا نشانہ وہ لڑکی تھی۔ جس کے ہاتھ میں آفتاب کی ساری چیزیں تھیں۔ اس نے کنول کے چہرے پے وار کیا۔ اس اچانک افتاد پے وہ بوکھلاٸ اور اپنی آنکھیں میچ لیں۔

لیکن چاقو کا وار اس پے ہوا نہیں۔ آنکھیں کھلیں تو چاقو کو آفتاب نے اپنے ہاتھ پے روکا ہوا تھا۔ او اسکے ہاتھ سے خون گر رہا تھا۔ آفتاب نے اس چاقع پے اتنا دباٶ ڈالا کہ وہ چاقو اس آدمی کے ہاتھ سے چھوٹ گیان اور آفتاب کے ہاتھ میں آگیا ۔ وہ آدمی گھبرا کے اپنی بازو پکڑتا پیچھے ہوا۔ آفتاب نے غصے سے چاقو دور پھینکا۔ اور اسکی جانب بڑھا۔ کہ اتنے میں لفٹ رک گٸ۔ تو آفتاب چوکنا ہوتا۔ کنول کی طرف مڑا۔

کوٸ بعید نہیں تھا ۔ لفٹ کھلتے مزید کوٸ دشمن اٹیککرنے کو تیار ہوتا ۔

لیکن صد شکر کے سب کچھ کلیٸر تھا۔

لفٹ رکتے ہی وہ کنول کا ہاتھ تھامے باہر نکلا۔ کہ فیضی باڈی گارڈ اور سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ وہاں پہنچا۔

سر ہمیں اطلاع ملی ہے۔ کہ آپ پے اٹیک۔۔؟؟

فیضی کے باقیکے الفاظ منہ میں رہی رہ گٸے۔ جب کھلی لفٹ پے نظر پڑی۔

ان دونوں ک سنبھالوں۔ اچھے سے۔ ۔۔ غراتے ہوۓ کان کے پاس ہوا۔

مجھے چوبیس گھنٹے کے اندر قیصر ڈارک روم میں چاہیے۔ سمجھے۔

کہتے پیچھے ہٹا اور فیضی کے گلے سے مفلر نکال کے اپنے ہاتھ پے باندھا۔ اثبات میں سر ہلاتے ان آدمیوں کی طرف بڑھا۔ جبکہ آفتاب کنول کا ہاتھ تھامے سیکیورٹی گارذ کے ساتھ باہر کھڑی گاڑی کی طرف۔

آپ آفس جاٸیں۔ میں کچھ دیر تک پہنچتا ہوں۔ یاد رہے۔ ان ڈاکومنٹس کی حفاظت کرنی ہے۔ بہت امپورٹنڈ ہیں یہ۔ آفتاب کنول کو بلیک گاڑی کے پاس لاتا آرام سے بولا۔

آپ۔۔۔کو۔۔۔۔۔چچووٹ۔۔۔؟ کنول کا دھیان اسکے ہاتھ پے تھا۔ جو اسے بچاتے اس نے خود کو زخمی کر لیا ۔

مس کنول۔۔! ڈونٹ یو وری۔ آپ کو جتنا کہا گیا ہے آپ ہی کریں۔ بیٹھیں گاڑی میں۔

آفتاب نے سپاٹ انداز میں کہا ۔ کنول لب کاٹتی خاموشی سے بیٹھ گٸ۔ گاڑی اسٹارٹ ہوٸ۔ آفتب بھی دوسری گاڑی کی طرف بڑھا۔

کنول نے دیکھنا چاہا۔ لیکن بلیک شیشوں سے کچھ نہ دیکھ پاٸ۔

پھر گود میں رکھا لیپ ٹاپ اور فاٸلز پے نظر پڑی۔

انکی حفاظت۔۔۔ تو اپنی جان سے بھی زیادہ کروں گی۔

کنول نے سوچتے ہوۓ آنکھیں موند لیں ۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

اچھا۔۔۔ یہ بتاٶ۔۔ آپ دونوں کی غلط فہمی ت دور ہوٸ ناں۔۔؟؟ فضا نے اسے پھر سے چھیڑا۔

بس کریں یار۔۔ فضا آپی آپ بھی ناں۔۔ ! کیاکیا اخذ کر کے بیٹھیں ہیں آپ یار۔۔۔! ایسا کچھ نہیں ۔

اور۔۔ آپ نے دیکھا شامی کو۔۔۔! مجھے ۔۔ اس سے بات کرنی ہے۔۔ وہ پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہا ہوگا۔۔۔؟

انا کو ایک دم سے شامی کا خیال آیا۔

سوچ۔۔۔إ؟ واقعی۔۔ اسکا دماغ ہم سب سے زیادہ چلتا ہے۔ خیر۔۔ اسکا بھی امی جان اور دی جے نے بندوبست کر دیا ہے۔

فضا نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔

کیا مطلب؟ انا نے حیرت سے دیکھا۔

میری رخصتی میں گھر والے شامیاور عابی کا نکاح کرنے کا ارادہ رکھتےہیں ۔ دھیمے لہجے میں کہا۔

واٹ۔۔۔؟؟ آپ کو کس نے کہہ دیا۔۔؟ انا کی حیرت سے آنکھیں کھل گٸیں۔

شامی۔۔۔ ابھی انیس سال کا ہوا ہے۔۔اتنی بھیکیا جلفی ہے۔۔ یار۔۔ یہ ہمارے گھر وللے بھی ناں۔۔؟؟ انا کے ماتھے پے بل پڑے۔

اچھا ہے۔۔۔ ! بڑے جو بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ اچھا کرتے ہیں۔ فضا نے سنجیدگی سےکہا ۔

شامی نہیں مانے گا۔۔۔! انا نے پرسوچ انداز میں کہا۔ عابی بھی تو۔۔ابھی چھوٹی ہے۔۔ اتنی سمجھدار نہیں۔۔اور۔۔۔۔وہ آگے عابی سے اتنی چڑ کھاتا ہے۔ نکاح۔۔؟؟؟ نکاح کیسے کر لے گا۔۔۔؟؟ انا کو حیرت ہوٸ ۔

جیسے میں نےکیا تھا ۔ تم نےکیاتھا۔ وہ بھی کر لے گا۔ فضا نے ایک طرف بستر پے پھیلتے ہوۓ کہا۔

ایک طوفان لاۓ گا وہ۔۔۔۔؟ انا نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔ کہ اتنے میں باہر سے شور کی آوازیں ابھریں ۔

دونوں نے ایک دوسرے کی جااب دیکھا۔

لگتا ہے طوفان آگیا۔ فضا نے کہا۔ تو دونوں پلک جھپکتے اٹھیں اور باہر بھاگیں۔ جہاں شامی دی جے سے ہمکلام تھا۔

اچھا۔۔ تو آپ اب یہ چاہتی ہیں ۔ کہ میں بھی نکاح کرلوں۔۔؟؟ تو ٹھیک ہے۔ مری والا بنگلہ میرے نام کر دیں۔ میں کر لوں گا نکاح ۔ شاہ میر لب بھینچے بولا ۔

کیا بولے جا رہے ہو شامی؟ ہوش میں ہو۔۔؟ فیاض صاحب غصے سے آگے بڑھے۔

ابھی ہی تو ہوش میں آیا ہوں۔ بابا جان۔۔۔! ہاتھ پیر کٹوا کے اب ہوش آیا ہے۔ جہاں وہ اونچی آواز میں بولے جا رہا تھا۔ تو وہیں سامنے دی جے کی آنکھیں نم ہوٸیں تھیں۔

ایساکچھ نہیں ہوگا۔ کوٸ نام نہیں ہو گا کسی کے کچھ۔ کوٸ شرط نہیں رکھو گے تم نکاح کی۔ فیاض صاحب نے بھی اونچی آواز میں للکارا۔

بھول ہے آپ کی بھی۔۔ کہ میں پھر کوٸ نکاح کروں گا۔۔۔۔ بیٹا آپ ہی کا ہوں۔ وہ بھی دھمیے لیکن مضبوط لہجے میں بولا۔

شامی۔۔! وہ نانو ہیں تمہاری۔۔ ایسے مت دل دکھاٶ انکا۔۔! جمیلہ خاتون بھی ماں کی طرف داری میں آگے بڑھیں۔

اچھا۔۔۔ اور جو انہوں نے کیا اب تک ہمارے ساتھ۔۔ اسکا کیا۔۔؟؟ آج تک کبھی ہم سے پیار نہیں جتایا۔ ہر وقت خان خان کہتے نہیں تھکتیں۔ بس اسی کی پرواہ کی۔ سب کچھ اسی کے نام کر دیا۔ کوٸ کچھ بولا۔۔۔۔؟؟؟ نہیں ناں۔۔ اور آج ایک بنگلہ کہا ۔۔ کہ میرے نام کریں۔ آپ سب بول پڑے۔ ۔۔۔۔! شامی آج کسی کا بھی لحاظ نہیں کر رہا تھا۔

انابیہ نے آنکھیں بند کرتے نفی میں سر ہلایا۔

وہ انکا پوتا ہے۔۔۔وہ جو مرضی اسکے نام کریں۔ تمہیں بولنے کا حق نہیں۔۔ ! فیاض صاحب کو آج بیٹے پے بے انتہا غصہ آیا۔ انہوں نے بیٹے کی تربیت ایسی تو نہ کی تھی۔

تو ہم بھیڑ بکریاں ہیں کیا۔۔؟؟ جو یہ کہیں گیں۔ وہ ہم کریں گے۔۔؟؟ غلام ہیں ہم کیا۔۔؟؟ وہ بھی دوبدو بولا۔

شاہ میر۔۔۔۔! فیاض صاحب کا ہاتھ اٹھا۔ جسے جمیلہ بیگم نے بیچ میں آتے روکا۔ شامی بھی ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔

پلٹ کے دی جے کو دیکھا۔ جن کی آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو تھے۔

پہلے فضا کا نکاح کر دیا بچپن میں۔ بنا اسکی رضا مندی کے۔

اپنے زکر پے فضا کا دل دھڑکا۔

پھر انابیہ کا نکاح کر دیا۔ نو سال کی عمر میں۔۔ اور دس سال گزرنے کے بعد بھی۔۔ کوٸ یاد نہیں کرتا اس نکاح کو۔۔۔

اور آج۔۔ میرے انیس سال کا ہونے پے ہی… اب انکو میرے نکاح کی فکر پڑگٸ ہے۔۔۔؟؟ یہ سارے حقوق ہم سے لے کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں۔۔؟؟؟ کہنے کو ہم ان کے آگے کچھ بولیں نہ۔۔ ! تو ٹھیک ہے نہیں بولتا۔۔۔ لیکن۔۔ میری زندگی۔۔ کوٸ کاغذ کی کشتی نہیں۔۔ جب چاہا۔۔ پانی میں تیرا دیا۔ جب چاہا۔۔ جلا دیا۔

کہتے ہوۓ وہ باہر جانے لگا۔

ایک بات میری بھی سن لو۔۔۔ شاہ میر سلطان۔۔! فیاض صاحب کی آواز پے وہ رکا۔ لیکن پلٹا نہیں۔

جمیلہ خاتون نے روکنا چاہا ۔ لیکن وہ نہ رکے۔

اگر تم۔۔ نے عبیر سے نکاح کے لیے انکار کیا۔ تو اس گھر میں تمہاری کوٸ جگہ نہیں۔

ان کی بات پے سبھی نے دہل کے انکی طرف دیکھا۔

شامی بھی مڑا۔ اور ان کے پاس آیا۔

میں آپ کا بیٹا ہوں۔ اور میرا حق ہے اس گھر پے۔۔

آپ پے۔۔

امی جان پے۔۔۔

مجھے آپ نہیں نکال سکتے۔۔

اور رہی بات نکاح کی۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ وہ دی جے کے پاس آیا۔

میں نکاح بھی کروں گا۔۔ اور مری کا بنگلہ بھی اپنے نام کروں گا۔

دی جے جو پاندان میں پان بنا کے رکھے ہوۓ تھیں۔ مزے سے وہ اٹھایا۔ آخری بات پے دی جے کو آنکھ ماری۔ پان منہ میں رکھا۔ اور وہاں سے اٹھ کے باپ کے پاس سے ہوتا باہر کی جانب بڑھا۔ ۔ اندر فیاض صاحب اسکے اسطرح پرسکون انداز سے بولنے پر غصہ ہو رہے تھے ۔ لیکن وہ کان لپیٹے باہر نکل چکا تھا۔

باہر نکلتے ہی سامنا عبیر سے ہوا۔ جو آج بھی دو چوٹیاں آگے کیے اس کے سامنے موجود تھی۔ شامی نےپان کا زاٸقہ لیتے ایک اچٹتی نظر اس پے ڈالی۔ ایک نظر۔۔۔ بس۔۔۔

اور آج پہلی بار۔۔ اس کو دیکھنے کاشامی کا انداز بدلا تھا۔ نظر بدلی تھی۔ لیکن دل میں ابھی کونپل کھلنی باقی تھی۔ منہ میں رکھا پان دانتوں سے زور سے چبایا۔ اور اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا۔ جبکہ دو آنسو بہتے عبیر کے گالوں پے آن ٹہرے۔ رخ پھیرلیا۔ اس معصوم کا دل بری طرح زخمی ہوا تھا۔ یہ احساس ہی اسے تکلیف دے رہا تھا۔ کہ کسطرح آج وہ اسکی زات کی نفی کر کے گیا سب کے سامنے۔

آنکھیں بند کرتی وہ بھی انہی قدموں پے واپس پلٹ گٸ۔

محبت مار دیتی ہے۔ سنا تھا آج دیکھ لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *