Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 13)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
دی جے فیاض اور جمیلہ خاتون کو منا ہی لیا۔
شہیر نے کل کی ٹکٹس بک کراٸیں تھیں۔ اپنی اوردی جے کی۔ لیکن اب فیصلہ یہ ہوا تھا۔کہ کل کی فلاٸیٹ سے شہیر کے ساتھ انابیہ جاۓ گی۔ دی جے نے ابھی جانے سے انکار کر دیا تھا۔
وہ اپنی اولاد سے ناراض تھیں۔ اور فیاض سلطان نے بھی ان کے جانے پے اعتراض اٹھایا تھا۔کہ جسطرح خان ولا سے خانم اور اربازنے بے عزت کر کے نکالا۔ویسے ہی واپس پورے مان اورعزت سے وہ انہیں یہاں سے معافی مانگ کے لے جاٸیں گے۔ورنہ یوں وہ دی جے کو کبھی جانے نہ دیں گے۔شہیر آخری لمحات تک نہ مانا۔ لیکن آفتاب کے سمجھانے پے وہ چپ ہوگیا۔
ایک دن پہلے فضا کی رخصتی ہوٸ تو اب ایک دن چھوڑ انابیہ کی رخصتی تھی۔ اس اچانک رخصتی پے انابیہ کا دل بری طرح گھبرایا ہوا تھا۔لیکن وہ ماں باپ کے فیصلہ کے سامنے خاموش تھی۔ بس اتنا ہی کہا تھا کہ وہ نکاح دوبارہ کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ بچپن کا ہوا نکاح اسکے ہوش و حواس میں نہیں ہوا۔اور نہ ہی وہ بالغ تھی۔ وہ اب مکمل ہوش و حواس میں شہیر سے دوبارہ نکاح کی خواں تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد اسکی خواہش کو مدنظر رکھتے مولوی صاحب کو بھی کل کے لیے بلوا لیا گیا تھا۔ جس پے انابیہ دل سے پرسکون ہوٸ تھی۔
اوہ۔۔میں تو بھول چلی بابل کا دیس ۔۔۔
پیا کا خان ولا پیارا لگے۔۔۔۔
فضا نے لہک لہک کے گایا۔تو انابیہ نے گھوری سے نوازا۔
آپ کو اپنے روم میں سکون نہیں۔۔۔۔؟
میٹھا سا طنز کیا۔
ارے نہ پوچھو۔۔ بڑی مشکل سے آج کی رات اجازت لے کے آٸ ہوں۔۔ صرف تمہاری خاطر اجازت دی ہے انہوں نے۔۔۔
فضا نے احسان چڑھایا۔
انہوں۔۔۔۔۔۔ واہ ۔۔۔ ایک ہی رات میں رنگ چڑھ گیا۔
انابیہ نے چھیڑا۔ تو فضا کے گال گلابی ہوۓ۔
ویسے آپ ہو بڑی چھپی رستم۔۔منہ دکھاٸ میں کیا ملا ۔۔ بتا یا ہی نہیں۔۔۔
ارے۔۔ یار۔۔ ریڈیو پاکستان ۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔ یہ ایم ایف۔۔۔۔نہیں۔۔ ایف ایم دیا ہے۔
گلے میں پڑا ہارٹ شیپ گولڈ لاکٹ نکا ل کے سامنے کیا۔
واٶ۔۔۔ بہت خوبصورت ہے۔۔۔ انابیہ نے دل سے تعریف کی۔
اسے دیکھ کے لگ رہا ہے۔۔ کافی رومینٹک کپل ہے آپ کا۔۔۔۔
انابیہ نے بستر ٹھیک کرتے کہا۔
ہمممم۔۔۔ کچھ دن گزرنے دو۔۔ پھر تم سے پوچھوں گی۔۔۔بچو۔۔۔فضا نے بھی حساب برابر کیا توانابیہ چپ سی ہوگٸ۔
کیا ہوا۔۔؟
آپی۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔
کس بات کا ڈر۔۔۔ ؟
آپی۔۔ وہ خان ولا۔۔ کے لوگ۔۔ مجھے قبول نہیں کریں گے۔۔۔ نجانے کیا کریں وہ۔۔۔ یوں مجھے اچانک شہیر کے ساتھ دیکھ کے۔۔۔ پتہ نہیں کیا کیا مشکلات آتی ہیں۔۔ آپ تو لکی ہو۔۔ شادی کے بعد بھی اپنا گھر ملا ۔۔۔اور۔۔ سب نظروں کے سامنے۔۔ تاٸ امی کتنا پیار رکرتی ہیں۔۔ آپ سے۔۔ اور۔۔ نجانے میری ساس۔
پوری ففے کٹن ہے تمہاری ساس۔۔۔
فضا نے اسکی بات کاٹتے کہا۔
اس لیے پوری تیاری سے جاٶ۔۔ میری بہن۔۔بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔ شہیر تمہارے ساتھ کھڑا ہے۔۔ سامنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنا۔۔ کوٸ بھی ظلم برداشت نہیں کرنا۔۔ معلوم ہے ناں۔۔ ظلم سہنے والا بھی ظالم کا بھاٸ ہے۔۔ تم نے ڈٹ کے اپنے حق کے لیے لڑنا ہے۔۔ چاہے پھر سامنے کوٸ بھی کیوں نہ ہو۔۔۔
فضا نے اسکا برین واش کیا۔
انابیہ کو کافی ڈھارس ملی اسکی باتوں سے۔
وہ مزید بھی اس سے اسطرح کی باتیں کرتی اسے حوصلہ دیتی رہی۔ فضا کی باتوں سے انا کافی حد تک خود کو سنبھال پاٸ تھی۔ اس نے فضا کو زور سے ہگ کیا ۔
تھینک یو آپی۔۔۔
لو یو۔۔ میری جان۔۔اب سو جاٶ۔۔۔
فضا نے بھی اسے پیار سے چمکارا۔
ساری سوچیں ساری پریشانیاں وہ اپنے دماغ سے نکالے آنے والے وقت سے بے خبر پرسکون سونے کی کوشش کرنے لگی۔















دل ملے بنا ہی ٹوٹ گۓ
ہتھ ملے بنا ہی چھٹ گۓ
کھیل یہ کھیلے قسمت نے۔۔۔
کنول برستی بارش میں رات کے وقت سنسان سڑک پے بھیگتی چلی جا رہی تھی۔ہوش و خرد سے بیگانہ۔۔ وہ ایک جگہ زمین پے بیٹھ گٸ۔
بار بار رون اکھیاں ۔۔
تینوں جو نہ ویکھ سکیاں۔۔
کھو لیا اے یار۔۔ قدرت نے۔۔۔
اپنے بازوٶں کو مضبوطی سے اپنے گرد لپیٹے وہ بارش میں مسلسل کانپتی خود پے ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی تھی
کرب سے آنکھیں بند کرتی وہ بے اختیار آفتاب کو یادکررہی تھی۔
کٹاں میں کیویں دن۔۔۔
تیری سوں۔۔ تیرے بن۔۔۔
دس۔۔ میں ۔۔تاں جیوا۔۔۔نا۔۔مراں۔۔۔
وہ بری طرح رو دی۔۔
اگر بلال کی خیر چاہتی ہو۔۔ تو کل ٹھیک جمعہ کے بعد نکاح کے لیے رجسٹرار کے آفس پہنچ جانا۔ورنہ۔۔ بھول جانا ۔۔کوٸ بلال اس دنیا میں آیا بھی تھا۔۔
چھن سے جو ٹوٹے کوٸ سپنا۔۔۔۔۔
جگ سونا سونا لاگے۔۔
کیوں۔۔کیوں۔۔۔۔ !!
ہر بار۔۔ میری ہی آزماٸش کیوں۔۔۔۔ وہ اپنا دکھ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔
اپنا درد وہ آنسوٶں کے زریعے نکالے جا رہی تھی۔














انابیہ سلطان بنت فیاض سلطان آپ کا نکاح ایک کروڑ سکہ راٸج الوقت حق مہر شہیر خان ولد ارباز خان کے ساتھ طے کیا جاتا ہے۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔
انابیہ کا دل بہت زوروں سے دھڑکا۔
اسے تو شہیر سے نکاح دل و جان سے قبول تھا۔لیکن اتنا زیاہ حق مہر۔۔ وہ پریشان ہوٸ۔ پاس کھڑی فضا کو اپنی طرف ہلکے سے کھینچا۔
کیا ہوا۔۔ مسکراتے ہوۓ اسکے گھونگھٹ کے نیچے سے پوچھا۔
اتنا زیادہ حق مہر کیوں۔۔؟
یہ شہیر کی خواہش ہے۔اس لیے۔۔!
تو چپ چاپ نکاح کی اجازت دو۔۔ فضا نے دانت پیستے مسکراتے کہا اور کچھ ہی دیر میں نکاح کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ آفتاب نے شکر کا سانس لیا۔ اب اسے خانم کے دوبدو ہونا تھا۔
وہ سب سے باتو ں میں مگن تھا۔ کہ موباٸل پے عظمی کی کال آتی دیکھ وہ فوراً ایکسکیوز کرتا بار نکلا۔
جبکہ شہیر کی نظریں بار بار گھونگھٹ اوڑھے انابیہ پے جا ٹک رہیں تھی۔صد شکر تھا کہ شامی خوش تھا۔اسنے کوٸ رکاوٹ نہ ڈالی۔
مبارک ہو۔۔۔ شہیر بھاٸ۔ شامی نے دل سے کہا۔تو شہیر نے اسے آگے بڑھ کے گلے سے لگا لیا۔
امید کرتا ہوں۔۔مجھ پے اتنا بھروسہ تو ہے۔۔ کہ اپنی بہن کو میرے ساتھ رخصت کرنے پے کوٸ دقت نہیں ہوگی۔
شہیر نے پیار سے کہا۔
ہرگز نہیں۔۔ لیکن۔۔ صرف اتنا کہوں گا۔۔ کہ میری بہن۔۔میری جان ہے۔۔ اسکی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دیے میں نے۔۔ بچپن سے لے کے اب تک۔۔ کبھی کانٹا بھی چبھنے نہیں دیا۔ جڑواں ہے میری۔۔ اسکی تکلیف پے میں تڑپ جاتا ہوں۔۔ میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا۔ کہ میری بہن کا خیال رکھیے گا۔۔کیونکہ میں جانتا ہوں۔ آپ رکھیں گے خیال خود سے زیادہ۔۔
بس اتنا چاہتا ہوں۔ اسکی آنکھ میں آنسو نہ آٸے۔ وہ روۓ گی وہاں۔۔اور آنسو میرے یہاں نکلیں گے۔۔ اور اس لمحے۔۔ میں خود پے قابو نہیں رکھ پاٶں گا۔
کہتے ہوۓ شامی کا لہجہ روندھ گیا۔
انشا اللہ ۔۔کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا۔
شامی کی محبت پے شہیر نے اسے پھر سے گلے لگایا۔ تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیا۔
کال پے عظمی کی ساری بات سنتے آفتاب کی رگیں تنیں۔اسکا رونا ایک ایک آنسو آفتاب کے دل پے گر رہا تھا۔
فکر مت کرو۔عظمی۔۔ میں کچھ دیر میں تمہارے پاس ہوں گا۔مجھ سے وعدہ کرو۔۔ خود کو کوٸ نقصان نہیں پہنچاٶ گی۔۔ تمہیں تکلیف دینے والے کو میں آٹھ آٹھ آنسو رولاٶں گا۔ یہ ایک بھاٸ کا اپنی بہن سے وعدہ ہے۔
آفتاب نے سختی سے کہا۔
ناول نیم ۔ تم میرے نکاح میں ہو۔
راٸٹر۔ منتہا چوہان
لالا۔۔۔ وہ آج نکاح کر رہے ہیں۔۔روتے ہوۓ کہا۔
اس وقت وہ ہاسپٹل کے بستر پے تھی۔ اور اسکی پڑوسن جو کہ اسکی سہیلی بھیتھی۔ وہ بھی اسکے ساتھ تھی۔ اسکا بی پی لو ہو گیا تھا۔ اور اسکی دوست اپنے بھاٸ کی مدد سے اسے ہاسپٹل لاٸ تھی۔
اب تھوڑا ہوش آیا تو۔۔ فوراً آفتاب کو کال کر کے سب بتا دیا۔ گھر میں فی الحال کسی سے کچھ نہ کہا۔
عظمیکی ساری بات سن آفتاب نے لب بھینچے۔
کر رہے ہیں۔۔ کیا تو نہیں ناں۔۔۔فکر نہ کرو۔۔آفتاب شیر خان کس وقت کیا کر جاۓ کوٸ نہیں جانتا ۔
بس تم فکر نہ کرو۔
فون بند کرتا وہ سعدی کو کال ملانے لگا۔
سعدی نے پہلی کال پے اٹھا لی۔
سعدی کو اپنا پلان بتاتا فون بند کرتا وہ واپس اندر کی جانب بڑھا۔
شہیرکو ایل طرف بلایا۔
ایمرجنسی ہوگٸ ہے۔۔ مجھے جانا پڑے گا ابھی۔
کیا ہوا۔۔ آفتاب بھاٸ۔۔سب ٹھیک ہے ناں۔۔۔
ہمممم۔۔ بس۔۔ ابھی جا کے پتہ چلے گا۔۔آپ دونوں کی فلاٸیٹ رات کی ہے۔ تو میں ابھی نکل رہا ہوں۔
سب سے اجازت لیتا وہ باہر نکلا۔کیب کرواتا وہ اسوقت اٸیرپورٹ پے تھا۔
أایک فلاٸٹ تھی۔ جس پے وہ جاسکتا تھا۔ آفتاب شیر خان نے پیسے کے زور پے ٹکٹ خریدا اس وقت لاہور سے کراچی کے لیے اڑان بھر چکا تھا۔
سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے کنول کی شبیہ آنکھوں میں آن سماٸ۔
کیا ۔۔ کیا ہو تم۔۔ اتنی بڑی دھوکہ باز نکلو گی۔۔میں نے سوچا نہ تھا۔۔ لیکن تمہاری وجہ سے جو تکلیف میری بہن کو اٹھانا پڑی اسکا تو تمہیں حساب دینا ہی ہوگا ۔
مس کنول۔۔۔
i am coming.
دل ہی دل میں اس مخاطب ہوتا اسکی رگیں تنی ہوٸ تھیں۔وہ بہت طیش کے عالم میں تھا۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کنول سامنے ہو۔ اور وہ ایک لمحہ میں سےشوٹ کر دے۔















میں یہ نکاح نہیں کروں گی۔ جب تک بلال میرے حوالے نہیں کرتے تم۔۔۔!
مسلسل ارسل کی کالز پے کنول نے کال پک کرتے اپنی شرط رکھی ۔ جبکہ ساری رات جاگتے اور بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اسے بہت تیز بخار چڑھ چکا تھا۔
مجھے پاگل سمجھا ہوا ہے۔۔ نکاح کے بعد ہی تمہیں بلال ملےگا۔ ورنہ بھول جاٶ۔۔ صرف۔ آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس۔۔ اسکے بعد۔۔ تمہارے پاس پچھتانے کے لیے بھی کچھ نہیں بچے گا۔
ارسل کی سخت گیر آواز پے کنول نے لب کاٹے۔
اگر بلال۔۔۔۔؟؟؟
ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔!
ابھی وہ کال کر رہی تھی۔ کہ اسے کال آٸ ۔
کہاں ہو۔۔؟؟ چھوٹتے ہی کنول نے پوچھا۔
مجھے ضرورت ہے تمہاری۔۔۔ پلیز کم بیک۔۔۔۔ کنول کا لہجہ روندھا۔
تم واپس آجاٶ۔۔۔ جیسا چاہو گی ویسا کروں گی۔ لیکن۔۔ ابھی میں مشکل میں ہوں۔۔ بلال۔۔۔؟؟؟
آگے کچھ سنتی وہ آنسو ضبط کرتی آنکھیں میچ گٸ۔
نہیں ہٹ رہی اپنے مقصد سے میں۔۔۔ پورا کروں گی۔۔۔ لیکن۔۔۔ بلال۔۔۔؟؟ اسے میں اس مقصد کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے سکتی۔۔۔۔
تم۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا کہہ رہی ہو یہ۔۔۔؟؟؟
جانتی بھی ہو۔۔؟؟ کنول غصے سے بولی
بلال۔۔۔ میرے لیے اہم ہے۔۔۔ وہ بچہ ہے۔۔۔ میں اسے مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔سمجھی تم۔۔۔۔۔
کہتے ہی کنول نے کال کاٹ دی۔ سر پکڑ کے وہ وہیں کھڑی رہی۔ وہ رات بھر سے بلال کا پتہ لگوارہی تھی۔ اپنے دو دوستوں کی مدد سے۔ لیکن۔۔۔ کہیں کچھ پتہ نہ چل رہا تھا۔ وہ آج خو کوبہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔
ارسل خان۔۔۔ اس نکاح کو تمہاری بربادی نہ بنا دیا تو میرا نام بھی کنول نہیں۔
بخار کی شدت سے اسکا چہرہ تمتما رہا تھا۔ کہ اتنے میں وارڈن نے کہا کہ کوٸ اس سے ملنے آیا۔
وہ مرے قدموں سے باہر نکلی۔
سامنے کسی شخص کو کھڑا دیکھ وہ حیرت زدہ ہوٸ۔
آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔۔ ارسل خان کا حکم ہے۔ اس شخص نے پاس آتے دھیرے سے کہا۔
کنول نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔ لب بھینچے۔
اگر کسی قسم کی کوٸ ہوشیاری دکھاٸ۔۔۔ تو۔۔۔ ؟؟
اس شخص نے وارن کیا۔
کنول خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لی۔ گاڑی میں بیٹھتے گاڑی اسٹارٹ ہوٸ۔ کنول کا دل بری طرح لرز رہا تھا۔ اسکا دل چاہا وہ آفتب سے مدد لے لے۔
لیکن۔۔ وہ عظمی کا بھاٸ ہے۔۔ اور وہ بہن کی ہی ساٸی ڈلے گا۔ بنا کچھ جانے وہ اسے ہی قصور وار ٹھہراۓ گا۔
ابھی وہانہی سوچوں میں غلطاں تھی۔ کہ گاڑی ویران راستے پے دوڑنے لگی۔
یہ۔۔۔یہ کونسا راستہ ہے۔۔۔؟؟ کنول نے آگے ڈراٸیور کو دیکھتے فرنٹ سیٹ پے بیٹھے شخص سے پوچھا۔ لیکن وہ خاموش رہا۔
کوننننن۔۔۔کون۔۔ ہو۔۔تم۔۔؟؟ کنول کو کچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔
وہ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ گاڑی کے درواشے کو کھولنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن وہ لاکڈ تھے۔
کنول نے اپنے آپ کو پرسکون کرنا چاہا۔ وہ فریش دماغ سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔
گاڑی جھٹکے سے رکی۔ وہ شخص باہر نکلا۔ اور کنول کی طرف کا دروازہ کھولا۔
میم۔۔۔۔ آپ اس طرف اندر چلی جاٸیں۔ آپ کو سارے سوالوں کے جواب مل جاٸیں گے۔ وہ شخص بہت احترام سے بات کر رہا تھا ۔
کنول نے تھوک نگل کے حلق تر کیا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا۔ کہ وہ کسی بڑی مشکل میں پھسنے والی ہے۔ اسے سمجھ نہ آیا کیا کرے۔ خاموشی سے وہ گاڑی سے اتری اور اس اپارٹمنٹ کے دروازےپے کھڑی اس شخص کو پلٹ کے دیکھا۔
چلیں۔۔۔! وہ اسے لیے اندر داخل ہوا۔
مین انٹرس پے درخت ہی درخت تھے۔ وہ دونوں آگےبڑھتے جا رہے تھے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد
ایک طرف کو راہداری جاتی تھی۔ اور دوسری طرف سیڑھیاں۔۔۔!
کنول نے پیچھے مڑ کے اس شخص کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
اس طرف۔۔۔! اس نے راہداری کی طرف اشارہ کیا۔
کنول مرے مرے قدموں سے اس کے ساتھ چل دی۔ اس دوران ارسل کی پھر سے کال آٸ۔ کنول کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ خیال پھر سے بلال کی طرف چلا گیا ۔
یا اللہ اس بچے کی حفاظت فرمانا۔
اس شخص نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔ اور کنول کے ہاتھ سے موباٸیل جھپٹ کےاندر کی طرف دھکیلا۔ اور باہر سے دروازہ بند کر دیا۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا۔ کہ کنول کچھ سمجھ ہی نہ پاٸ۔
کون۔۔۔کون۔۔ہو تم۔۔۔اور۔۔ دروازہ کیوں بند کردیا۔۔۔؟؟ کھولو دروازہ۔۔۔؟؟ کنول نےاندھیرے میں ہی درازہ پیٹا۔ لیکن جواب ندارد۔
پلیز۔۔۔ دوازہ کھولو۔۔۔۔وہ۔۔۔ بلال کو مار ڈالے گا۔۔۔ خدا کا واسطہ۔۔ہے۔۔ دعوازہ کھولو۔۔۔ کنول روتے چلی جا رہی تھی۔ اور وہیں دروازے کے ساتھ لگتی بیٹھتی لی گٸ۔ آنسو میں روانی آگٸ۔ اسےرہ رہ کے اس معصوم کی فکر ستاٸے جا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی۔ ارسل کتنا خطرناک انسان ہے۔۔ اسلیے وہ اس سے پنگا نہیں لے رہی تھی۔ لیکن اب نجانے وہ کہاں پھس گٸ تھی۔ کس نے اسے کڈ نیپ کر لیا تھا۔۔؟؟
اس نے بے اختیار دکھتے سر کو تھاما۔













کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟ اپارٹمنٹ کےاندر قدم رکھتے ہی سیدھی نظر سعدی پے گٸ۔
سر۔۔ بلیک روم میں۔۔۔! دھیرے سے کہا۔
آفتاب نے اس طرف جارحانہ انداز میں قدم بڑھاۓ۔
سر!! یہ موباٸل۔۔۔۔ سعدی نے فوراً موباٸل آفتاب کی جانب بڑھایا۔
آفتاب نے موباٸل کو گھورا۔
مجھے ارسل خان کی پل پل کی رپورٹ چاہیے۔۔ اور۔۔ پتہ لگاٶ۔۔۔ ایسا کیا ہوا۔۔ کہ جسے وہ بہن کہتا تھا۔۔ اچانک اس سے نکاح۔۔؟؟
سر۔۔! کاظم یہ کام کر رہا ہے۔۔۔ بس کچھ یر میں پتہ لگ جاۓ گا۔
سعدی نے فوراً سے کہا۔ تو آفتاب اثبات میں سر ہلاتا اس بلیک روم کی جانب بڑھا۔ جہاں کنول تھی۔
وہ جو سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی۔ دروازہ کھولنے کی آواز پے چونکی ۔ اور فوراً سے اٹھی۔
کون ہو تم۔۔۔۔؟؟ کیوں قید کیا ہے مجھے؟
کنول نے سختی سے پوچھا۔ وہ یکھ نہ سکی اندھیرے میں آنے والا کون ہے۔۔؟؟
بھاری بوٹوں کی چاپ پے کنول کی نظریں اس شخص کے چہرے پے پڑیں۔ جو باہر سے اندر آت روشی سے واضح ہوا تھا۔
سر۔۔۔۔۔۔آ۔۔ففففتتتاب۔۔۔۔۔۔! کنول نے زیر لب بڑبڑایا۔ جبکہ دل کسی قیدی پنچھی کی طرح تڑپا تھا۔
وہ ایک ایک قدم آگے بڑھاتا آیا ۔ چہرے پے انتہا کی سختی اور غصہ تھا۔
کنول کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑتی مسحوس ہوٸ۔
بہت۔۔۔۔ بڑی ۔۔۔ کھلاڑی ہو تم۔۔۔۔! داد دنے پڑی گی تمہیں۔۔۔
آفتاب کے ہر لفظ پے وہ ایک ایک قدم پیچھے لیتی گٸ۔
نننہیں۔۔۔ سر۔۔۔! ایسا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ ایک بار۔۔بات۔۔۔؟؟
کیا بات ہاں؟۔۔۔۔۔۔
غصے سے آگے بڑھتا اسے دیوار کے ساتھ پن کیا۔
کنول کا سر زور سے دیوار کے ساتھ لگا کہ درد سے اس نے آنکھیں میچ لیں ۔ اس کا سر بری طرح چکرانے لگا ۔
تمہیں کیالگا۔۔؟؟ کہ تم میری بہن کا گھر برباد کرو گی۔ اور آفتاب شیر خان چپ چاپ تماشا دیکھتا رہے گا۔۔
کنول کے گلے پے آفتاب کی انگلیوں کا دباٶ بڑھتا جا رہا تھا۔ کنول کو سانس لینے میں بھی دشواری محسوس ہو رہی تھی۔
ایسا سوچ بھی کیسے لیا تم نے۔۔۔؟؟ میری بہن کے گھر پے ڈاکہ ڈالو گی تم۔۔؟؟ ہاں۔۔؟ اس وقت آفتاب شیر خان غصے اور طیش میں سب کچھ بھول چکا تھا۔ اسکا غصہ اس قدر شدید ہوتا تھا۔ کہ وہ خود بھی اپنے غصے سے خاٸف تھا ۔ غصہ میں اسکا دماغ ماٶف ہو جاتا تھا۔
کنول نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ اسکا سانس اب بند ہونے کو تھا۔ آنکھیں بھی اب دھیرے دھیرے بند ہونےلگیں تھیں۔ آفتاب کی گرفت اسکی گردن پے جتنی مضبوط ہوتی جا رہی تھی ۔ کنول کی اتنی ہی کمزور۔۔اور۔۔۔ اگلے پل۔۔ اسکا ہاتھ ڈھیلا پڑتا نیچے گر گیا۔ اسکا سانس گلے میں جیسے اٹک گیا۔
آفتاب کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔ جھٹ سےگرفت چھوڑی۔ اور وہ یوار کے سہارے کھڑی نیچے گرتی چلی گٸ۔ کہ آفتاب نے اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔ اور دیوانہ وار اسے دیکھے گیا۔
وہ کالی آنکھیں جو اسے پسند تھیں۔ گہری کالی آنکھیں۔۔ وہ اس وقت ادھ کھلی تھیں ۔
اسکے دل کی دھڑکن کو کان لگا کے سنا۔۔۔ جو بہت مدھم چل رہی تھی۔ لیکن وہ سانس نہیں لے پارہی تھی۔
بنا کچھ سوچے سمجھے وہ اس کے ہونٹوں پے جھکا۔ اور اسے سانس دینے لگا۔ اپنی سانسیں قطرہ قطرہ اس میں انڈیلنے لگا۔ جبکہ دل تھا کہ بس دھڑکے جا رہا تھا۔
لیکن کنول میں کوٸ حرکت نہ ہوٸ۔
اسکو جھنجھوڑا۔۔
اٹھو۔۔۔ ! تم ایسے ۔۔۔نہیں جا سکتی۔۔۔ ابھی۔۔ تمہاری سزا باقی ہے۔۔۔ میرا دل توڑنے کی سزا۔۔ ابھی۔۔باقی ہے۔۔۔۔
کہتے ہوٸے آواز دھیمی پڑگٸ۔ آنکھیں نم ہوگٸیں۔آگے ہوتے اس نے پھر سےاپنی سانسیں اسکی سانسوں میں الجھاٸیں۔
جاری ہے۔
