Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 31)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
شاہ میر عابی کو لیے اپنے قریبی دوست اسفر کی طرف آیا تھا ۔ جو اسکا دوست تو تھا۔ پر بہت قریبی نہ تھا ۔ لیکن اس وقت اسے مدد چاہیے تھی۔ اور اسفر اور منزہ دونوں کزن تھے۔ اور یہی دونوں مل کے شامی کو کینیڈا بھیج رہے تھے۔ اسلیے شامی نے اس وقت عجلت میں اسی سے مدد لے لی۔
فکر نہیں کرو یار۔۔۔! مما سے میں نے بات کر لی ہے۔انہیں کوٸ ایشو نہیں۔۔ تم بھابھی کو لے آٶ۔۔۔ روم سیٹ کروا دیا ہے۔
اسفر سے بات کرتا وہ عابی کو لیے کمرے میں آیا۔ جو بہت زیادہ اپ سیٹ تھی۔
اسکا زہن بالکل ماٶف ہو چکا تھا۔ اسے کچھ نہیں سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ کس منجدھار میں پھس گٸ تھی۔ نہ وہ آگے کی طرف جا سکتی تھی۔ نہ پیچھے کی طرف۔۔نجانے شامی نے کیا سوچا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟ وہ۔۔۔ کینیڈا جاٸیں گے۔۔۔تو۔۔؟؟ تب اسکا کیا ہوگا۔۔۔؟؟یہی سوچتے اسکا دماغ سن ہو چکا تھا۔
دونو ں ہی خاموش تھے۔
شامی نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا اب وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔ کیسے کینیڈا جاپاۓ گا۔۔؟؟ سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ عابی کی حالت بھی اس سے الگ نہ تھی۔
ہمیں ۔۔ واپس چھوڑ کے آٸیں۔ عابی نے آنسو صاف کرتے سر جھکاۓ بیٹھے شامی سے کہا۔ تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ اٹھ کے اس کے پاس آگیا۔ وہ پھر سے سہم گٸ۔
آپ۔۔۔نے۔۔ بہت غلط کیا۔۔۔! آپ۔۔ کینیڈا۔۔۔ جا رہے تھے۔۔ ہمیں کیوں۔۔ بےگھر کر دیا۔۔؟ اس نے نم آنکھوں سے شکوہ کیا ۔ شامی اسکےقریب ہوتا اسکے چہرے پے رقم کرب کو دیکھتا رہا۔
مطلب۔۔؟؟ تم چاہتی ہو۔ کہ میں ۔۔کینیڈا چلا جاٶں۔۔ تمہیں۔۔ آزاد کر کے تاکہ۔۔ تم۔ کسی اور کی ہوجاٶ؟ اتنے غصیلے انداز میں کہا۔ کہ عابی دو قدم ڈر کے پیچھے ہٹی اسے اس شخص کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ کہ وہ آخر کیا چاہتا ہے؟؟
ایسی باااببباااتتتت۔۔۔نہہہییی
چپ۔۔۔! ایک دم چپ۔ بہت سن لی تمہاری بکواس۔ اب میرا دماغ خراب مت کرنا۔ مجھے پتہ ہے۔۔ مجھے کب کیاکرنا ہے۔۔ تم اپنے چھوٹے سے دماغ پے زیادہ زور مت ڈالو۔ کہتے ہوۓ موباٸل پے آتی کال سنتا وہ باہر نکل گیا۔ عابی وہیں ایک کرسی پے بیٹھی گٸ۔ اسے اس گھر میں بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔شامی کے دوست نے اس سے کہا تو تھا کہ اسکی امی کو کوٸ اعتراض نہیں۔ وہ یہاں رہ لیں۔ لیکن۔۔ اسکی امی سامنے کیوں نہیں آٸیں تھیں۔ ؟؟ یہی بات عابی کو مسلسل کھٹک رہی تھی۔کافی دیر گزر گٸ۔ لیکن شامی واپس نہ آیا ۔ اب عابی کو وہاں ڈر لگنے لگا۔ ایک دل کیا۔ وہاں سے نکل جاۓ ۔ لیکن۔۔کہاں۔۔؟اسے تو راستوں کا بھی علم نہیں۔۔ گھر کیسے جاۓ گی۔ اور شامی تو اسکا محرم ہے۔ اسے چھوڑ کے کہاں جانا۔۔۔؟؟ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی۔ کہ دھیرے سے دروازہ کھلا۔ عابی نے شکر کا کلمہ پڑھا۔۔ کہ شامی لوٹ آیا ہے۔ لیکن۔۔ دروازے سے اسفر کو اندر آتا دیکھ عابی کی ٹانگوں سے جیسے جان نکلنے لگی۔ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ ۔
کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپکو؟ بہت نرم لہجے میں پوچھا گیا۔
جججی۔۔نہییں۔۔۔! وہ۔۔شاہمیر۔۔۔کہاں ہیں؟ عابی نے سر جھکاۓ جھجھکتے ہوۓ پوچھا ۔
وہ۔۔۔؟؟ وہ تو جا چکا ہے۔۔! وہ شخص اسفر آگے بڑھا۔ عابی کو کچھ ٹھیک نہ لگا۔ وہ اتنے قدم پیچھے لیتی گٸ۔
کیا مطلب؟ کہاں۔۔؟؟ عابی کے ماتھے پے بل پڑے۔
اپنی دوست کے پاس۔ کینیڈا جانا ہے ناں اس نے۔ اب تیاری بھی تو کرنی ہے۔۔ناں۔۔ اس نے۔۔ جانے کی۔! اسکی آنکھوں میں ٹپکتی ہوس عابی کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔
کون۔۔۔؟؟ دوست۔۔؟؟ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ۔۔۔! عبای کو اس کی باتوں پے یقین نہ آیا۔
ارے۔۔ اس نے آپ کو نہیں بتایا۔۔۔؟وہی اسکی دوست۔۔ جا کے ساتھ وہ اکثر اپنا وقت گزارتا ہے۔ اسکی دوست۔۔۔ کیانام ہے اسکا۔۔۔۔؟ کنپٹی پے ہاتھ رکھتے ایکٹنگ کی۔
ہاں۔۔ یاد آیا۔ ڈاکٹر منزہ۔۔۔! وہی ہے ناں۔۔ جو آپ کے شوہر کو کینیڈا لے کے جا رہی ہے۔ اور۔۔ اب بھی وہ اسی کے پاس ہے۔ اسفر نے صحیح عابی کو شامی سے بدظن کیا۔
نہیں۔۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ شامیر ایسا نہیں کر سکتے۔۔ عابی کی آنکھوں میں آنسو بہہ نکلے۔
اچھا۔۔۔ تو پھر بتاٸیں اس۔۔ وقت کہاں ہے آپ کا وہ نام نہاد شوہر۔۔؟ اسفر کے ماتھے پے بل پڑے۔ عابی سے جواب نہ بن پڑا۔
میں بتاتا ہوں۔ وہ اپنی بیوی کو اپنے دوست کے پاس چھوڑ خود دوسری عورت کے ساتھ عیاشی کرنے گیا ہے۔
ابھی وہ مزید گوہر فشانی کرتا۔ عابی کا ہاتھ اٹھ گیا۔ اور اسکے چہرے پے اپنی چھاپ چھوڑ گیا ۔
خبردار۔۔۔ خبردار۔۔ جو ہمارے شوہر کے بارے میں ایک لفظ بھی کہاہو تو۔۔ منہ توڑ دیں گے آپ کا۔ انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ کہیں سے بھی کمزور نہ لگی۔ اسفر کو اس پے بے انتہا غصہ آیا۔ اسے پکڑ کے بیڈ پے دھکا دیا۔ کہ وہ لڑکھڑا کے گری ۔
مجھ پے ۔۔ اسفر جہانگیر پے ہاتھ اٹھا یا تو نے۔ اب دیکھ کیا کرتا ہوں۔۔ تیرے ساتھ۔ کہتے ہی اس نے شرٹ کے بٹن کھولے۔ ایک بار پھر سے اسکی عزت خطرے میں تھی۔ بس فرق اتنا تھا۔ اس بار اسکی غلطی صرف اپنے محرم کا ساتھ دینا تھا۔ جو اسے یوں اس حال میں چھوڑ کے خود نجانے کہاں چلا گیا۔
پہلے اللہ کی طرف سے مدد آٸ اور وہ بچ گٸ۔ آج ۔۔ بھی اللہ سے مدد مانگ رہی تھی ۔ وہ شخص شرٹ دور اچھال کے اسکی جانب بڑھنے لگا۔ پاس پڑے گلدان سے ہاتھ ٹکرایا۔ تو وہی اس شخص کو دے مارا۔ لیکن وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹتا بچ گیا۔ عابی نے اسکے قریب آنے پے اسے پورے زور سے دھکا دیا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ عابی کی دونوں کلاٸیاں اپنی مضبوط گرفت میں لیں۔
بہت شوق ہے۔۔ تمہیں لڑنے کا۔ چلو۔۔ پیار پیار کی لڑاٸ لڑتے ہیں۔ کہتے ہوۓ وہ عابی کے چہرے پے جھکا۔ عابی نے روتے بلکتے اسے خود سے دور کرنا چاہا ۔ لیکن اس بار شاید قسمت بھی اسکے ساتھ نہ تھی۔ اور اس نے خود کو بے بس پایا۔ شاید ۔۔۔؟ جس کی خاطر وہ پہلے اپنی عزت کو بچا گٸ تھی۔ آج اسی کی وجہ سے اسکی عزت داٶ پے لگ گٸ تھی۔ اس سوچ نے اسکے اعصاب مفلوج کر دٸیے تھے۔ اور وہ جو بہت کچھ کر سکتی تھی۔ شامی کی بے وفاٸ پرٹوٹ کر رہ گٸ تھی۔








آفتاب کنول کولیے مری ہی کے ایک علاقے میں سعدی کے نام پے لیے ایک فلیٹ میں پہنچا تھا۔ فلیٹ میں لےجا کے کنول کو ایک کمرے میں بند کیا۔ اور خود واپس سعدی کی جانب آیا۔
کل صبح اسلام آباد جاٸیں گے۔ اور وہیں سے کراچی کی فلاٸیٹ بک کروواٶ۔ اب اس کہانی کا ڈراپ سین ہونے کا وقت آچکا ہے۔ سخت گیر الفاظ میں سعدی سے کہتا وہ سعدی کو بھی ڈرا گیا۔
سر۔۔۔! آپ۔۔ بہت غصہ میں ہیں۔آپ ۔۔ میرے ساتھ چلیں۔
نہیں۔۔ ! ابھی اس ۔۔ بے وفا کا حساب باقی ہے۔ آفتاب نے سرد انداز میں کہا۔ تو سعدی پریشان ہوگیا۔ ۔
آپ۔۔؟؟ غصہ میں کچھ۔۔غلط۔۔؟ سعدی اسے واپس اندر جاتا دیکھ فوراٗ سے پیچھے آیا ۔
تم۔۔۔؟؟ ابھی اسی وقت یہاں سے جا رہے ہو سعدی۔ ورنہ۔۔؟ آفتاب کا انتہا کا غصیلہ انداز۔ سعدی کو چپ کرا گیا۔ سعدی وہاں سے پلٹ آیا۔ جبکہ اب سب دروازے بند ہوگۓ تھے۔
اللہ خیر۔۔! سرخان۔۔ غصہ میں کوٸ غلط قدم نہ اٹھا دیں۔ سعدی اس کے لیے دعاٸیں کر رہا تھا۔




دروازے کے ساتھ لگی وہ سانس بند کیے بیٹھی تھی۔ اسے آفتاب سے خوف آرہا تھا۔ اسے زندہ دیکھ جہاں اسکے دل کو گونہ سکون ملا تھا۔ وہیں اسکی نفرت کا سوچ سوچ وہ پاگل ہوۓ جا رہی تھی۔ اور اس سے بہت خوف زدہ تھی۔ بے اختیار ہاتھ اپنے پیٹ پے گیا۔ تو اسے بہت کچھ یاد آنے لگا ۔ آنکھیں جھلملا گٸیں۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ کہ وہ پریگننٹ ہے یا نہیں۔۔! لیکن۔۔ اتنا جانتی تھی۔اگر آفتاب نے اس پے کوٸ بھی ظلم کیا۔ اور وہ پریگننٹ ہوٸ تو وہ اپنے بچہ کو کھو دے گی۔ یہ سوچ آتے ہی وہ بری طرح رو دی۔ اسے اپنی نہیں اپنے ہونے والے بچے کی فکر ستا رہی تھی۔ قدموں کی چاپ سنتے وہ فوراً سے اٹھتی دروازے کو اندر سے لاک کر گٸ۔ دروازہ کے ہینڈل کو دو تین دفعہ گھومایا گیا۔ لیکن نہ کھلا۔ بے اختیار کنول ایک ایک قدم پیچھے لیتی گٸ۔ اب دروازہ کو جیسے کسی چابی سے لاک سےکھولا جا رہاتھا کنول کا دل بہت سخت دھڑکا۔ اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات سماٸ تھی۔ اسے بس اپنے بچے کو بچانا تھا۔ وہ یہی سوچ رہی تھی۔آفتاب اس پے تشدد کرے گا۔ اور اس سب میں ۔۔ وہ اپنا بچہ کھو دے گی۔ وہ اسکا مقابلہ تو نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن خود کو کسی طرح بچا تو سکتی تھی۔ اسی اثنا میں دروازہ کھلا۔ کنول نے ایک نظرسامنے ظالم بنے کھڑے اپنے شریک حیات کو دیکھا اور فوراً باتھ روم کی دروازے کی طرف بھاگی۔ آفتاب اسکا ارادہ جان گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ باتھ روم کے دروازے کو بند کرتی آفتاب نے اسکی کمر سے بازو حماٸل کرتے اسکے پیٹ سےپکڑ کے اسکو زور سے اپنی طرف کھینچا۔ اس سب کے دوران وہ مزاحمت نہ کر سکی ۔
آفتاب کا ہاتھ اسکے پیٹ پے تھا۔ اسکی پشت آفتاب کے سینے سے لگی تھی۔ دل تھا کہ اتنا زور سے دھڑک رہا تھا۔ کہ ابھی نکل کے باہر آجاۓ گا۔ کنول کی نظریں اسکےہاتھ پے جا ٹکیں۔ جس نے مضبوطی سے اسکے پیٹ پے بازو حماٸل کیے اسے اپنی گرفت میں لیا تھا۔
بےاختیار اسکے دونوں ہاتھ آفتاب کےہاتھ پے جا ٹکے۔ جو انتہاٸ سرد ہوۓ تھے۔ برف کی طرح ٹھنڈے۔ آفتاب کے ہاتھوں کو خود سے دور کرنا چاہا لیکن گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ اور کنول کی برداشت سے باہر۔ اس نے ایک زور کی ہچکی لی۔اسکا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔ لیکن غصہ میں آفتاب کو یہ سب دکھاٸ نہ دے رہا تھا۔ کنول نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ وہ جانتی تھی۔ آفتاب لوٹ کےآۓ گا ۔۔ اسکی سانسیں چھننے۔اور وہ اسکی ہر سزا کے لیے خود کو تیارکر چکی تھی۔ لیکن آج یہ سب سہنا اتنا ہی مشکل ہو رہا تھا۔ جتنا اس نے سوچا تھا۔۔۔۔کہ یہ آسان ہوگا۔






بہت جلدی ہے ان بانہوں سے نکلنے کی۔۔؟تمہیں تو اس زندگی سے ہی آزاد کر دوں گا۔ کہتے ہوۓ جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا۔ وہ خاموش آنسوبہاتی آنکھیں سختی سے میچے اس شخص کے بہت قریب کھڑی تھی۔ جو کبھی اس سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ہاں وہ جانتی تھی۔ اسکی محبت اسکا جنون۔۔ تبھی خود کو اسکے حوالے کر گٸ۔ اور اس بات کا اسے کبھی افسوس نہ ہوا۔ لیکن آج۔۔ اسکی آنکھوں میں وہ اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
اسکے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو رہا تھا۔ ابھی تو آفتاب نے اس کے ساتھ کچھ بھی برا نہ کیا تھا۔ اور اسکا یہ حال تھا۔
آفتاب نے غصہ سے اسکاچہرہ دبوچا ۔ اس نے کوٸ مزاحمت نہ کی۔ اسکا ٹھنڈا پڑتا جسم آفتاب کے اندر بھڑکتی آگ کو ایک دم سے سلا گیا ۔
کنول۔۔۔؟؟ کنول۔۔؟؟ آنکھیں کھولو۔۔۔؟؟ وہ جو اس سے حساب لینے والا تھا۔ اسکو یوں سرد پڑتا دیکھ ایک دم سے پریشان ہوا تھا۔ اسکی پکار پے کنول نےآنکھیں کھولنی چاہیں ۔ لیکن وہ نہ کھول پاٸ ۔ وہ شدید اعصابی تناٶ میں آگٸ تھی۔ آفتاب نے اسے دو تین بار پکارا۔ آفتاب کی آواز اسکے کانوں سے دور ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اور ایک بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی ۔ بچہ۔۔۔؟؟میرا بچہ۔۔؟ دل ہی دل میں وہ بولتی غنودگی میں جا رہی تھی۔ بچہ کوکھونےکا خوف اس پے اس قدرطاری ہوگیا تھا۔ کہ وہ مضبوط اعصاب کی لڑکی آج آفتاب کے سامنے کمزور پڑگٸ تھی۔ اور یہی بات آفتاب کو کھٹکی ۔ وہ ہوش و حواس کھوتی آفتاب کی بازوٶں میں جھول گٸ۔







تم ایک انتہاٸ گھٹیا لڑکی ہو۔ تمہیں شرم نہیں آٸ ۔ ۔۔ کسی نامحرم کے سامنے یوں اپنا آپ۔۔ بےلبا س کرتے۔۔؟
شامی نے زور سے منزہ کا بازو جھٹکا۔
شامی۔۔۔ بھولو مت ۔ تمہیں کینیڈا لےکےجا رہی ہوں۔ اور بدلے میں صرف تمہارا ساتھ مانگا ہے۔ اور تمہیں کیا چاہیے۔۔؟ اتنی خوبصورت لڑکی تمہاری۔
اتنی اچھی جاب تمہاری۔ یو آر ویری لکی ۔ منزہ نے مغرور انداز میں کہا۔
شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔۔! تم۔۔۔ ! انگلی اٹھا کےوارن کیا ۔تم نے مجھے دھوکے سے یہاں بلایا۔اور۔۔۔میں۔۔۔؟؟ لاپن غصہ کنٹرول کرتے وہ مزید بنا کچھ کہے وہاں سے نکلنے لگا۔ کہ منزہ نے اسے روکا۔
کہاں جا رہے ہو؟ اس لڑکی کے پاس؟ جبکہ وہ تو آج تمہارے دوست کی بانہوں میں ہوگی۔ منزہ کے کہے الفاظ شامی کو برچھی کی طرح لگے تھے۔ اسکا منہ غصے سے دبوچے اس پے پھنکارتےہوۓ جھکا۔ ۔کسی ماٸ کےلعل میں اتنی جرات نہیں کہ وہ شاہمیر کی بیوی کو ہاتھ لگا سکے۔ہاتھ توڑ دوں گا۔ جان لے لوں گا اسکی۔ کہتے ہوٸے زور سے منزہ کو دور جھٹکا دے کے گرایا۔ وہ بہت مشکل سے بچی۔ شامی وہاں سے زور سے دروازہ کھولتا جا چکا تھا۔ منزہ میں ہمت نہہوٸ کہ مزید اسے روکتی۔ ورنہ وہ اسے بھی مار ہی دیتا۔ اسفی۔۔۔؟ ایک دم سے اسفر کی یاد آٸ۔ اسے فون کرنا چاہا بیل جا رہی تھی۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔ اف۔۔۔ اب کیا ہوگا۔۔؟ اسفی۔۔ تم تو گۓ۔۔۔! دل ہی دل میں وہ اسفر کے لیے دعاٸیں کر رہی تھی۔








وہ جیسےہی گھر داخل ہوا۔ اسے احساس ہوا۔ گھر میں کوٸ نہیں۔ بنا ایک لمحےکی دیری کیے وہ دھڑکتے دل سے اوپر کمرے میں گیا۔ جہاں وہ عابی کو چھوڑ کے گیا تھا۔ کمرے کے پاس پہنچتے دروازے کو کھولا۔
اسفر اسکے ہونٹوں پے جھکا تھا۔کہ شامی نے بنا ایک منٹ کی دیری کیے دروازے کے پاس رکھی ٹیبل سے چھوٹا سا گلدان اٹھاتے کھینچ کے اسفر کے منہ پے مارا۔ وہ تڑپ ہی گیا ۔ تڑپتے ہوۓ منہ پے ہاتھ رکھے وہ پیچھے ہٹا۔ موقع کا فاٸدہ اٹھاتی عابی نے اسے دھکا دیا۔ اور بیڈ سے اٹھتی دور جا کھڑی ہوٸ۔ جبکہ شامی بنا عابی کی طرف دیکھے اسفر کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھا۔ اور اسکے منہ پے مکا جڑ دیا۔ وہ چکرا کے زمین پے گرا۔ اسے یقین نہ آیا کہ شامی اتنی جلدی واپس آجاۓ گا۔
شامی نے اسے زمین پے گراۓ اس پے مکوں اور لاتوں کی بارش کردی۔ کہ وہ ادھ موا ہوگیا۔ ہاتھ اٹھاۓ معافی کے لیے جوڑتے وہ خون میں لت پت تھا۔ شامی نے وہی اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے زور لگا کے پیچھے کی طرف مروڑتے ہوۓ اسکی بازو کی ہڈیاں توڑ دیں۔ اس کی چینخوں سے پورا گھر گونج اٹھا۔ دہل کے عابی نے شامی کی طرف دیکھا۔ اسے بھی شامی کے اس جارحانہ انداز سے سخت ڈر لگا۔
اپنے شدید غصہ کو قابو کرتا وہ عابی کی طرف پلٹا۔ اسکا غصہ بھرا چہرہ دیکھ عابی کی آدھی جان نکل گٸ۔ دیوار کے سہارے کھڑی وہ گرنےوالی ہوگٸ تھی ۔ شامی اسے اس طرح دیکھ اپنے آپ کو قابو کرتا اسکی جانب بڑھا۔ عابی کا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ دیوار توڑ کے اسکے اندر گھس جاۓ۔ اس وقت اسے شامی ویمپاٸر ہی لگا جو اسکا خون پینا چاہتا ہو۔ اس نے شامی کو اتنا غصہ کرتے آج پہلی بار دیکھا تھا۔
شامی نے اسکا دوپٹہ أٹھا کے اسےاوڑھایا۔ عابی بنا پلک جھپکے اسے دیکھتی رہی۔ شامی نےسکا ہاتھ بہت نرمی سے تھاما۔ جبکہ عابی کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ جو شامی سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔ فوراً آگے بڑھ کے اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھرا۔ اور باہر کی جانب قدم بڑھاٸے۔ عابی بس اس دیونے کو دیکھتی رہ گٸ۔ آج اس نے اسے نہیں اپنی عزت کو بچایا تھا۔ وہ جہاں بھی تھا۔ اسکے لیے لوٹ آیا تھا۔ عابی نے پرسکون ہوتے اسکے سینے پے سر رکھ دیا۔ اندر کا ڈر کہیں دور جاتا رہا۔ شامی کے اسکے پاس ہونے سے وہ خود کو ہمیشہ ہی محفوظ سمجھتی تھی۔ آج دل میں اسکے لیے محبت کے ساتھ عزت کا مقام بھی بڑھ گیا۔
************
آفتاب کی نظر اسکے کپڑوں پے جا ٹہری۔ تو ایک دم اسے احساس جاگا۔ کہ ہ کس طرح بری حالت میں اسے بارش میں گھسیٹتا لے کے آیا تھا۔ لب بھینچتے اسے بانہوں میں اٹھاۓ بستر پے لٹایا تھا۔ اسکا ماتھا چیک کیا۔ جو انتہاٸ ٹھنڈا پڑا ہوا تھا۔ اسکا پورا جسم سرد ہو رہا تھا۔آفتاب کو پرشانی لاحق ہوٸ۔ سعدی کو کال ملاٸ کہ فوراً کسی قریبی کلینک سے لیڈی ڈاکٹر کا بندو بست کرے۔ وہ بھی پیشان ہوتا ماتھےپے ہاتھ مار گیا۔ جیسے جانتا تھا۔ یہی ہوگا۔
آفتاب نے کبرڈ میں ہاتھ مارا۔ تو اسے دو لیڈیز سوٹ نظر آٸے۔ ان کپڑوں کو دیکھتا اسے سعدی پے شدید غصہ آیا۔ لیکن فی الحال غصہ قابو کرتا ۔ وہ لاٸیٹ آف کرگیا۔ اور کنول کے کپڑے چینج کیے۔ جو کیچڑ سے اٹے تھے۔ لاٸیٹ آن کی تو اسکی ددھیا بازو پے نظر جا ٹہری۔ اور زخمی کلاٸ دیکھنےلگا جس پے چوڑیاں ٹوٹ کے چبھی تھیں۔
کیوں۔۔؟ کنول۔۔؟ کیوں مجھے۔۔ انسان سے درندہ بنا رہی ہو۔ ؟ میرے لیے عورت بہت مقدم ہے۔۔۔ کیوں مجھے سب کچھ سچ نہیں بتا دیتی؟
کرب سے سوچتے ہوٸے اسکا ہاتھ تھام گیا۔اپنے ہاتھوں میں لیتے وہ بس یہ یقین کر رہا تھا۔ اسکی سانسیں چل رہی ہیں۔
اتنی آسانی سے نہیں جانے دوں گا۔۔۔ کرب سے آنکھیں کھولتا اسکا ہاتھ چھوڑا۔ اوربے اختیار اسکے زخم پے کریم لگانے لگا۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ کب اسکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
ہوش میں تب آیا۔ جب دروازے پے دستک ہوٸ۔
پیچھے ہوتا کنول کو کمفرٹر اوڑھایا۔ اور اٹھ کے دروازہ کھولا۔ سعدی کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ آفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔
یہ۔۔۔کشمالا۔۔ ڈاکٹر کشمالا۔۔۔! منہ بنا کے بتایا۔ آفتاب نے اسے اندر آنےکا راستہ دیا۔ ڈاکٹر کشمالا نےکنول کو دیکھا تو ٹھٹھک گٸ۔وہ اسے پہچان گٸ تھی۔ کل ہی تو وہ اسکے کلینک آٸ تھی۔ اور پریشان سی تھی۔ اور غلطی سے کسی اور کی رپورٹس لے گٸ تھی۔ اپنی رپورٹس وہیں کشمالاکے پاس چھوڑ گٸ تھی۔ لیکن ابھی وہ کچھ نہ بولی۔ خاموشی سے اسکا چیک اپ کرتی وہ اسکی حالت سے پریشان ہوٸ۔
کہاں سے لے کے آٸے ہو ؟ سینے پے ہاتھ باندھتے دروازے میں کھڑے سعدی سے تیکھے انداز میں پوچھا۔
پڑو س سے۔۔۔! برجستہ جواب آیا۔ تو وہ خود سٹپٹا گیا۔
میرا مطلب۔۔۔۔۔ کافی دور سے لایا ہوں۔۔ بارش تو رک گٸ ہے۔۔ لیکن ٹھنڈ بہت زیادہ ہے۔ تو کوٸ آہی نہیں رہا تھا۔ بس۔۔ یہی آٸیں۔ سعدی نے بات گڑھی۔
دیکھیں۔ انکا بی پی لو ہے۔ انہیں ڈرپ لگے گی۔ میرا گھر ساتھ ہی ہے۔ اور سامان بھی موجودہے۔ مجھےلانا ہوگا۔ آپ ویٹ کریں۔ میں پانچ منٹ میں آٸ۔
چلو سعدی۔۔۔! اس نے آفتاب کو پروفیشنل انداز میں کہتے آخر میں سعدی پے دھونس جماتے کہا۔ جبکہ وہ آفتاب کی کڑی نظروں سے بچنے کے لیے وہاں سے کشمالا کے پیچھے بھاگا۔
اس حالت میں تو شوہر کو بیوی کی کٸیر کرنی چاہیے۔ راستے میں کشمالا نے منہ بنا کے سعدی سے کہا ۔
کیا مطلب ؟ کیسی حالت؟ سعدی کے کان کھڑے ہوۓ۔
ڈونٹ ٹیل۔۔۔ ! کہ اب آپ یہ بھی نہیں جانتے؟
کشمالا نے دانت پیسے۔
کیا نہیں جانتے؟ سعدی کے ماتھے پے بل پڑے۔
تمہارے ان بھاٸ کو پتہ بھی ہے۔ کہ وہ بابا بننے ولے ہیں؟ کشمالا نے اسکی طرف رخ موڑتے کہا۔
واٹ۔۔۔؟ سے اگین۔ سعدی چلایا تھا ۔ کشمالا نےکان پے ہاتھ رکھا ۔
میں نے پوچھا۔ تمہارے خان بھاٸ کوپتہ ہے۔ انکی بیوی مما بننےوالی ہیں؟ اس بار آنکھیں دکھاٸیں۔
مطلب۔۔۔؟ میں۔۔ چچا بننے والا ہوں؟ سعدی کی خوشی کا کوٸ ٹھکانہ نہ رہا۔ ۔
کشمالا نے سر پے ہاتھ مارا۔
کچھ ہی دیر میں انکی واپس ہوٸ۔ کشمالا نے کنول کو ڈرپ لگاٸ۔ اسکا اچھے سے چیک اپ کرتی باہر نکلی ۔
خیال رکھیے گا۔ ایسی کنڈیشن میں زیادہ خیال کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پہلےہی کافی ویک ہیں۔تو اس کنڈیشن؟
ایک منٹ۔۔؟؟ کونسی کنڈیشن۔۔؟؟ کیاہوا؟ آفتاب کا دل دھڑکا۔
کشمالا نے سر نفی میں ہلایا۔ اور پاس کھڑے سعدی کو گھورا۔
یہ آپ اپنی بیوی سے پوچھیے گا۔ تو زیادہ بہتر ہے۔اور یہ رہیں انکی رپورٹس۔ جو کل یہ غلطی سے کلینک چھوڑ آٸیں تھیں ۔ کشمالا نے ایک اینولپ آفتاب کی جانب بڑھایا۔ اور باہر نکل گٸ جبکہ سعدی مسکاتا ہوااسکے پیچھےبھاگا۔ اب یہ۔۔ کس چیز کی رپورٹس ہیں۔؟؟
کیا ہوا کنول کو۔۔؟
اب اور کیا کیا چھپایا ہے اس نے۔۔؟؟
آفتاب وہیں ایک صوفے پے ڈھے سا گیا۔
اس لڑکی نے اسے اچھا خاصا خوار کیا تھا۔ اب نجانے اور کیاکیاہونا تھا آگے۔
وہ وہیں بیٹھا اینولپ کو دیکھتا اسے کھولنےلگا۔ جبکہ سامنے وہ دشمن جاں بے ہوش تھی۔ اور اسے یک ٹک دیکھے گیا۔
اینولپ کھولا۔ رپورٹ آنکھوں کے سامنے تھی۔ آفتاب جیسےجیسے رپورٹ پڑھتا جا رہاتھا۔ اسکے دل کی دھڑکن تھمتی جا رہی تھی۔









شاہ میر عابی کو لیے گھر واپس آگیا تھا۔ میکال کو کال کر کے دروازہ کھلوایا تھا۔ میکال نے اسے خاموشی سے اندر آنے دیا۔ وہ معاملہ سلجھانا چاہتا تھا۔ عابیکو اپنےروم میں چھوڑے وہ واپس میکال کے پاس آتا اسے مختصراً ساری بات بتاتا شرمندہ ہوا تھا ۔
مطلب۔۔؟؟ عقل آگٸ تھی میکال مسکرایا۔ اور اسے کچھ باتیں سمجھا کے روم میں بھیج دیا۔ اب وہ صبح ہی بات کرنے والا تھا۔ تاکہ مزید بگاڑ نہ ہو۔





عابی۔۔۔! شامی کے پکارنے وہ سمٹی سمٹاٸ ایک طرف بیٹھی چونکی۔ شاہ میر اسکے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
ایم سوری۔۔۔!اسے احساس تھا۔ اسے عابی کو وہاں اکیلا چھوڑ کے نہیں جانا چاہیے تھا اگر وہ زرا سا دیر کر دیتا تو۔۔۔؟؟ آگے کا سوچ ہی نہیں پا رہا تھا۔
وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ہمیں۔۔؟؟؟ عابی ابھی بھی ڈری سہمی تھی۔
شامی نے اسکے پاس بیٹھتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ تو اس معصوم کے آنسو چھلک گۓ۔
خود شامی کی آنکھیں بھی نم ہو گٸیں۔ عابی کی تکیلف اسے اپنے اندر محسوس ہر رہی تھی۔
اسے اپنے سامنے کرتا اسکے ماتھے پے مان بھرا بوسہ دیتا وہ اسکے آنسوٶں کو لبوں سے چن گیا۔
میں ہوں ناں۔۔؟؟ جب تک میری سانس ہے۔۔ تب تک کوٸ میری عابی کو چھو نہیں سکتا۔۔۔ جان سے مارڈالوں گا اسے۔
کہتےبوۓ بہت سختی سے عابی کو سینےمیں بھینچا۔ عابی کو وہ اس وقت جنونی ہی لگا۔
جاری ہے۔
