Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 30)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
یا پھر۔۔۔ آزاد کر کے جاٸیں گے۔۔ کہتےہوٸۓ الفاظ کی سختی کا بخوبی انداز ہ ہوا تھا سب کو۔
شامی نے پلٹ کے حیرت سے باپ کو دیکھا۔
جبکہ باہر کھڑے تینوں نفوس کے کان شامی کے جواب پے تھے۔
بہت جلد۔۔۔ آپ کی یہ خواہش بھی پوری کر دوں گا۔
بالآخر انکی آنکھوں میں دیکھتا وہ بھی اتنی ہی سختی کا مظاہر ہ کر گیا۔
آپ کی اتنی جرات کہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ فیاض صاحب غصہ سے آگے بڑھے کہ
رکیے ماموں جان۔۔۔! عبیر کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔ دل درد سے پھٹ رہا تھا۔ لیکن اب اسے لگا تھا۔ کہ اسکا بولنا ضروری ہو گیا تھا۔
عبیر کو اندر آتا دیکھ شاہ میر بھی چونکا۔
ماموں جان۔۔۔! انہیں جانے دیں۔ پلیز۔۔۔ ہمیں انکے پاٶں کی زنجیر مت بناٸیں۔ وہ اپنے آنسوٶں پے بند باندھتے نارملانداز میں کہتی سب کو شدید حیرت میں ڈال گٸ۔
عابی۔۔۔؟؟ رضیہ خاتون کو کچھ صحیح نہ لگا۔
ممانی جان۔۔! فکر نہ کریں۔ ہم بالکل ٹھیک ہوں۔ نرمی سے انکا ہاتھ اپنے کانپتے ہاتھوں میں تھاما۔ اور انہیں یقین دلایا۔
اور ایک نظر سامنے کھڑے شخص پے ڈالی۔ جو کبھی اسکا بنا ہی نہیں تھا۔
دھیرے سے چلتی اس کے سامنے آٸ۔
آپ کو ۔۔کسی کی خواہش پوری کرنے کی ضرورت نہیں۔
آپ کی ۔۔۔خواہش۔۔ ہم پوری کر دیتے ہیں۔۔۔۔ باوجود ضبط کے بھی عبیر کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔
جبکہ شامی یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔
آپ۔۔۔ آزاد ہیں۔۔! آج سے۔۔۔! بھول جاٸیں۔۔ کہ کوٸ۔۔۔ نکاح ۔۔۔ہوا تھا۔۔۔!
کس کرب سے وہ کہہ رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔ جبکہ وہاں کھڑے سبھی اداس اور پیشان ہوۓ تھے۔ بیر کے اس فیصلہ پے کوٸ راضی نظر نہ آیا۔
آپ۔۔۔کے جانے۔۔سے ۔۔پہلے۔۔۔ آپ کو ۔۔۔ خلع کے نوٹس مل جاٸیں گے۔۔۔! آپ۔۔ اپنی زندگی ۔۔۔اپنی۔۔۔مرضی سے۔۔۔۔؟؟
مزید وہ نہ بول پاٸ ۔ سامنے کھڑے شخص کی نظروں میں دیکھنے کی ہمت بھی نہ کر پارہی تھی۔
وہ ظالم بنا تھا۔ تو ظالم وہ بھی بن گٸ تھی۔ اپنے لیے۔
سر جھکاٸے وہ واپس پلٹی۔ اور فیاض سلطان کے پاس آٸ۔ وہ کچھ کہتے کہ عبیر نے انکا ہاتھ تھام لیا۔
ماموں جان۔۔! پلیز۔۔ کچھ مت کہیے گا۔۔! آج پہلی بار۔۔ اپنے حق ۔۔کے لیے بولے ہیں۔۔ ہم۔۔۔! ہمارا ساتھ۔۔ دیں۔۔!
وہ آنسو بہاتی نرم لیکن مضبوط لہجے میں بول ہی تھی۔
فیاض صاحب نے نا چاہتے ہوۓ بھی اپنے آنسو صاف کرتے عبیر کے سر پے ہاتھ پھیرا۔ وہ اسے انکار نہ کر سکے۔ پہلی بار وہ کچھ بولی تھی۔ ورنہ۔۔ اب تک صرف حکم سنتی آٸ تھی۔
انہیں بھی احساس جاگا تھا۔ کہ وہ کہیں نہ کہیں عبیر کا نکاح شامی سے کروا کے غلط کر گۓ ہیں۔
عبیر وہاں سے بھاگتے ہوٸے نکلی تھی۔
حشمت صاحب اور انکی اہلیہ بھی ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے انکو دیکھتے بنا ایک لفظ کہےجانے لگے۔
بھاٸ۔۔جان۔۔۔! رضیہ خاتون نے انہیں بے چین ہو کے پکارا ۔
فکر نہیں کریں آپا۔۔۔! بہن بھاٸ کا رشتہ نہیں ختم کر رہے۔۔ ! بس۔۔ اس کے علاوہ۔۔ سب رشتے ناطے آج ختم۔
آخر میں سختی سے کہتے وہ رکے نہیں۔
ان کے جاتے ہی رضیہ خاتون وہیں ایک طرف کرسی پے ڈھے سی گٸیں۔
شامی کا دل بری طرح ان کے لیے بے چین ہوا۔ آگےبڑھنا چاہا کہ میکال نے انہیں تھام لیا۔
آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟ فکر مندی سے پوچھا۔ جبکہ وہ چپ ہی رہیں۔ فیاض صاحب سب کو نظر انداز کرتے بنا مزید کچھ کہے وہاں سے نکل گٸے۔ میکال رضیہ خاتون کو سنبھالے ان کے روم میں لے گیا۔ جبکہ شامی وہاں اکیلا رہ گیا۔
آپ کی ۔۔۔خواہش۔۔ ہم پوری کر دیتے ہیں۔۔۔۔
آپ۔۔۔ آزاد ہیں۔۔! آج سے۔۔۔! بھول جاٸیں۔۔ کہ کوٸ۔۔۔ نکاح ۔۔۔ہوا تھا۔۔۔!
آپ۔۔۔کے جانے۔۔سے ۔۔پہلے۔۔۔ آپ کو ۔۔۔ خلع کے نوٹس مل جاٸیں گے۔۔۔! آپ۔۔ اپنی زندگی ۔۔۔اپنی۔۔۔مرضی سے۔۔۔۔؟؟
عبیر کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ شاہمیر کے دل و دماغ پے ہتھوڑے کی طرح برسا تھا۔ پاس پڑے ٹیبل کو زور سے ٹھوکر ماری۔
مجھے۔۔۔ شاہ میر سلطان کو خلع کے نوٹس بجھواۓ گی۔۔؟؟
جان لے لوں گا تمہاری عبیر شاہ میر سلطان۔۔۔! بہت بڑی غلطی کر گٸ ہو۔۔۔ یہ سب بول کے۔۔ خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔!
غصے سے ناک کے نتھنے پھلاٸے وہ اسوقت جنونی انداز سے باہر نکلا تھا۔ نجانے وہ اب کیا کرنے والا تھا۔








ابھی کچھ ہی دیر ہوٸ تھی۔ اسکی آنکھ لگی تھی۔ کہ
اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوٸ اسکی سانسوں میں اپنی سانسیں ملا رہا ہو۔۔ مخصوص خوشبو۔۔ وہ اپنے اندر اتار رہی تھی۔ وہ آنکھیں کھولنا چاہ رہی تھی۔ لیکن اسکی پلکیں کھل ہی نہیں رہی تھیں۔
وہ جو کوٸ بھی تھا۔ اس کے بہت قریب تھا۔ کہ کنول کی آنکھیں بند ہونے کے باوجود اسکے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی ۔
اسکے دونوں اطراف ہاتھ رکھتے وہ اس کے چہرے پے جھکا۔
اور کان کی لو کو بے اختیار آنکھیں بند کیے اس نے لبوں سے چھوا تھا۔
بہت تڑپایا ہے تم نے۔۔ مسز۔۔۔! اب وقت آگیا ہے۔۔ کہ تم تڑپو گی۔۔ گن گن کے ایک ایک بدلہ لوں گا۔۔ کہ تمہاری روح تمہاری سانسیں سب میرے اختیار میں ہوں گیں۔
کہتے ہوۓ اسکی گردن تک رساٸ حاصل کی۔
وہ بہکنےلگا تھا۔ کہ یکدم پیچھے ہٹا۔
اب نہیں۔۔ اب نہیں آٶں گا تمہارے فریب میں۔ ۔۔۔
کہتےہی وہ پیچھےہٹا جبکہ سامنے بےہوش سوٸ اپنی بیوی پے ایک نظر ڈالی۔ اور پاس پڑے صوفے پے بیٹھتے سگریٹ سلگایا ۔ جبکہ نظریں ہنوز اس پے ہی تھیں ۔
آفتاب نے اسے بے ہوشی کی دوا سنگھاٸ تھی جس سے وہ چاہ کے بھی ہوش میں نہیں آسکتی تھی۔
دوسرا سگریٹ سلگایا ۔
سگریٹ کے کش لیتا وہ سگریٹ کی طرح اندر ہی اندر جل رہا تھا۔ لیکن مسلسل سگریٹ کے ساتھ شغل کرتے اسکے اند رکی آگ تھی کہ ٹھنڈی ہی نہیں پڑ رہی تھی۔ ایک ساٸیڈ سے نکلتا وہ اسے یک ٹک دیکھے پھر سے قریب آیا ۔ اسکے چہرے پے اپنی انگلیاں پھیریں۔ لیکن پھر سے ضبط سے پیچھےہٹتے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اور وہیں اسکے قریب دراز ہوا۔
وہ چاہ کے بھی اس لڑکی سے شدید نفرت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ خود کو باور کروا رہا تھا۔ کہ وہ اس سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن۔۔۔ دل تھا۔۔ کہ بغاوت کیے جا رہا تھا
اسکے پاس ہوکے لیٹتا وہ اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا۔
دو۔۔ماہ۔۔۔۔دو ماہ۔۔۔ کومے میں تھا۔۔۔ سب کے لیے زندہ ہوتے مر۔۔ چکا تھا۔۔۔! لیکن۔۔ کومے میں ہوتے ہوۓ بھی۔۔ تمہاری یاد سے ایک لمحے کو غافل نہ ہوا میں۔۔ !
وہ آنکھیں موندے زیرلب جذبات کی رو میں بہکتا چلا جا رہا تھا۔ شاید وہ ہوش میں ہوتی تو۔۔ آفتاب کا ایک الگ ہی روپ دیکھتی۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے بہت پاس کیا ۔ اسکےچہرے پے بکھرے بالوں کو پیچھے کیا ۔
اور گالوں پے پورے استحاق سے ہاتھ کی پشت سے چھوا۔ جبکہ وہ مکمل بے ہوش تھی۔
اسکی آنکھوں پے پورے حق سے بوسہ دیتے وہ یہ بھول ہی گیا۔ کہ کنول نے اسے کتنے دھوکے دیٸے۔ بس یاد تھا کہ وہ میری ہے۔ صرف میری۔
اس گھر میں کے کے ناموجودگی نے بھی آفتاب کو کچھ حد تک پرسکون کیا تھا۔ ورنہ کے کے کا یہاں ہونا وہ کبھی برداشت نہ کرتا۔
دھیرے سے اسے بستر پے لٹاتا وہ اس پے حاوی ہوتا اپنے جذبات آشکار کرنے لگا۔ وہ بے ہوشی میں بھی اس کے لمس پے سسکی۔
کچھ ہی پل گذرے ہوں گے۔ کہ آفتاب کے موباٸل پے کال آٸ۔ وہ پیچھے ہٹتا بنا اس پے سے نظریں ہٹاٸیں کال رسیو کرتا اٹھ بیٹھا۔
ٹھیک ہے۔۔ آرہا ہوں۔۔ میں۔۔! کہتے ہوۓ کال بند کی۔ ایک نظر سامنے بے سدھ پڑی دشمن جاں پے ڈالی۔ دھیرے سے آگے ہوتے اس کے ماتھے پے پیار سے بوسہ دیا۔
جلدی آٶں گا۔ سارے حساب پورے کرنے۔۔۔ اتنی آسانی سے نہیں بخشوں گا ۔۔۔!
اب کی بار سرد لہجہ اور سپاٹ نظریں وہ وہاں سے نکل چکا تھا۔ جبکہ کنول بے ہوشی کے عالم میں بھی لال سرخ ہوٸ پڑی تھی۔







وہ جو اپنے آنسو بہا کے باتھ روم سے باہر نکلی۔ سامنے دروازہ بند کرتےغصہ سے کھڑے شامی کو دیکھ ٹھٹھکی۔
آپ۔۔۔۔یہاں۔۔۔ ؟۔؟؟ بظاہر مضبوط نظرآتی وہ اندر سے بری طرح گھبرا رہی تھی۔
کیا۔۔بکواس کی باہر۔۔۔ پھر سے بولو۔۔۔؟؟ دھیرے دھیرے ایک ایک قدم لیتا اسکی جانب بڑھا۔ کہ وہ اپنی جگہ سٹل ہوگٸ۔ اور بنا پلک جھپکے شامی کو یکھنے لگی۔ دھڑکنیں پھر سے منتشر ہونے لگیں۔
اسکے قریب آتے وہ اسکے بالکل سامنے کھڑا ہوتا ماتھےپے بل ڈالے دیکھ رہا تھا۔ عابی نے پلکیں جھکا کے ایک طرف سے ہو کے نکلنا چاہا۔ کہ شمی نے کھینچ کےاسے اپنی طرف کیا۔
بہت پر نکل آٸے ہیں۔۔ تمہارے۔۔۔ لگتا ہے کاآ کی ہی جانا پڑے گا۔ دانت کچکچاۓ۔ تو عابی کی ایک ظالم نظر اس پے اٹھی۔ کہ وہ وہیں ایک دم جھاگ کی طرح بیٹھ گٸ۔ گرفت بھی نرم ہوٸ۔ عابی نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے دھیرے سے اپنی بازو چھڑاٸ۔
جب جانا ہی ہے۔۔ تو کیا پر کاٹنے کیا نہ کاٹنے۔۔؟؟ دل کی دنیا برباد کر کے جا رہے ہیں۔۔ اس میں خوش نہیں۔۔۔؟؟
کیاکہنا چاہتی ہو تم۔۔۔؟؟ شامی کو اسکا انداز کھٹک رہا تھا۔
اب کہنےسننے کو کچھ نہیں بچا۔۔۔! جو آپ۔۔ چاہتےتھے۔۔ وہ ہو رہا ہے۔۔۔! طلاق۔۔۔ آپ دے نہیں سکتے تھے۔۔ آپ کو وہ مری کا بنگلہ۔۔ ہاتھ سے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور۔۔ خلع لے کے۔۔۔ آپ کا راستہ صاف کر رہے ہیں ہم۔۔ تا کہ۔۔ آپ کے راستے ہموار ہو سکیں۔ اور۔۔۔
مزید وہ گوہر فشانی کرتی کہ ایک دم سےاسکے بالوں میں ہاتھ ڈالتا اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بہت قریب کر گیا۔ کہ وہ دل و جان سے لرز گٸ۔ ایک انچ کے فاصلہ پے کھڑا وہ اس کے حواسوں پے چھانے لگا تھا۔
زبان۔۔ بہت چلنے لگی۔۔۔! کاٹنی پڑے گی۔۔۔! تمہیں کیا لگتا ہے۔۔ میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔؟ جان سے مار دوں گا۔۔۔۔! اتنے جارحانہ انداز میں کہا کہ عابی نے ڈر سے آنکھیں موند لیں۔ اس کے گلابی گال دہک رہے تھے۔
شامی اس کے چہرے کے نین نقش میں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
آپ۔۔۔ ہمیں۔۔۔؟؟؟ عابی نے بمشکل کچھ کہنا چاہا۔ لیکن بے اختیاری میں شاہ میر کے لب اسکے لبوں سے ٹکراٸے تو وہ جیسے اندر تک لرز گٸ۔ سب کچھ وہیں اندر ہی اندر دم توڑ گیا۔ بس ایک دھڑکن تھی جو منتشر تھی۔
اور دھڑکنوں کا شور اس خاموش فضا میں اپنی دھنیں بکھیر رہا تھا۔
آنکھیں موندے وہ اسکی لبوں کی نرمی کو محسوس کرتا ناک سے ناک جوڑے سب کچھ غافل کر گیا۔
عابی چاہ کے بھی خود کو اس سے دور نہیں کر پارہی تھی۔
بہت شوق ہے جدا ہونے کا۔۔؟؟ آنکھیں موندے ہی وہ پھر سے زہر خند لہجےمیں بولا۔ عابی نے جھٹ سے آنکھیں وا کیں۔
آج ہی ہماری رخصتی ہوگی۔۔۔ آج ابھی اسی وقت۔
کہتےہوٸے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں اسکی کلاٸ تھامی اور باہر نکلا۔
سامنے صحن میں پھوپھا اور پھوپھو بیٹھے اسی کےانتظار میں تھے۔ انہیں باہر آتا دیکھ فوراً اٹھ کھڑے ہوٸے۔
کیا ہے یہ سب۔۔؟؟ اور۔۔۔؟؟ عابی کو کہاں لے کے جا رہی ہیں۔آپ۔۔۔؟؟ حشمت صاحب ناراضی سے مخاطب ہوٸے۔
اپنی بیوی کو۔۔۔اپنے ساتھ۔۔ لیے جا رہا ہوں۔ رخصتی ہے۔۔ آج ابھی اسی وقت۔۔۔! اور۔۔۔ پلیز۔۔۔ پھوپھا۔۔۔!آج کسی قسم کی روک ٹوک نہیں۔۔ آج اگر گیا۔۔ تو لوٹ کےنہیں آٶں گا۔۔ پھر کبھی۔
شامی کے الفاظ پے حشمت صاحب ایک دم چپ سے کر گۓ۔
ان کی اہلیہ بولنے لگیں۔ کہ حشمت صاحب نے بولنے سے منع کرتے خود شامی سے مخاطب ہوۓ۔
برخوردار۔۔۔۔! یہ بھی بتا دیں۔۔جاتے جاتے۔۔ کہ واپس کب چھوڑنے آٸیں گے۔۔۔؟ کیونکہ۔۔۔ آپ نے یہ رشتہ تو۔۔؟؟
مرتےسانس تک نبھانا ہے۔۔۔! شامی نے بات اچک لی۔
حشمت صاحب اسکی آنکھوں میں ایک جنون دیکھتے پیچھے ہٹ گۓ تھے۔
شامی عابی کو لیے باہرنکلا۔ عابی کو شدید غصہ آیا۔
چھوڑیں۔۔۔۔ چھوڑیں۔۔ ہمارا ہاتھ۔۔۔۔! وہ خود کو چھڑانے کی سعی کرتی رہی لیکن بے سود۔
گھر کے دروازے پہنچتے ہی شامی نے اسے کھینچ کے پھر سے قریب کیا۔
سب کے سامنے کسی بھی قسم کا تماشا لگانے کی ضرورت نہیں۔۔ میری ہاں میں ہاں نہ ملاٸ۔۔تو بھول جاٶں گا۔۔۔ کہ ابھی تم اٹھارہ سال کی نہیں ہوٸ۔ اور سارے حقوق سود سمیت لوں گا۔۔۔ اسلیے۔۔ سمجھداری کا مظاہرہ کرنا۔۔۔
اسکا گال دھیرے سے تھپتھپاتا وہ سخت الفاظ میں کہتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
عابی کا چہرہ شدت شرم سے لال ہوگیا۔
سلطان ہاٶس۔
جہاں اس وقت سبھی اسے عابی کے ساتھ آتا دیکھ ٹھہر سے گۓ تھے۔
میکال نے چھوٹے بیٹے جو ابھی صرف ایک ماہ کا تھا۔ اسے گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ جبکہ فضا ساس کے ساتھ کچن میں تھی۔ رضیہ خاتون اور فیاض سلطان تو انہیں۔دیکھتے ہی رہ گۓ۔
کیا ہے یہ سب۔۔۔؟؟ فیاض سلطان کی کرخت آواز گونجی۔
رخصتی۔۔۔! کروا لایا ہوں۔۔ لٹھ مارنے والے انداز میں کہا ۔
جبکہ عابی کا سر شرم کے مارے جھکا جا رہا تھا۔فیاض صاحب نےانداہ کر لیا تھا۔ کہ پھر زور زبردستی کر کے لایا ہے۔ وہ کرسی پر گر سے گٸے۔
رضیہ خاتون نے فوراً انہیں پانی پلایا ۔
ٹھیک ہیں آپ۔۔۔؟؟ پرشانی سےپوچھا۔
یہ۔۔لڑکا۔۔۔ سکون سے جینے نہیں دے گا۔۔۔!
ہر وقت کچھ نہ کچھ شیطانی پلان کرتا رہتا ہے۔۔ اب بتاٸیں۔۔؟؟ کیایہ تک بنتی ہے۔۔ اسطرح لے کے آنے کی؟
وہ بری طرح بھڑکے تھے۔ جبکہ شامی کےکان پے جوں تک نہ رینگی۔
اب ہو گٸ ہےرخصتی۔۔تو قبول کریں۔
شامی نے آرام سے بات کی۔۔ جیسے کوٸ بہت خاص بات نہ ہو۔
تم۔۔۔؟؟ چلےجاٶ۔۔۔ میری نظروں سے دور۔۔۔! فیاض صاحب کو شدید غصہ آیا اسکے انداز پے۔
شامی نے ایک شکوہ کناں نظر ماں پے ڈالی ۔
عابی ۔۔۔! تم اندر جاٶ۔۔ روم میں۔۔! شامی نے سختی سے عابی کو کہا۔ وہ لب بھینچے ایک قدم ہی بڑھی تھی کہ۔
خبردار جو میرے خلاف جا کے کوٸ بھی فیصلہ لیا ۔ چلو جاٶ۔۔ ابھی واپس عابی کو چھوڑ کے آٶ گھر۔۔! اگلا حکم صادر کیا۔
عابی۔۔۔۔! سناٸ نہیں دے رہا۔۔۔؟؟ میں نے کہا اندر جاٶ۔۔۔
شامی نے سارا غصہ عابی پے اتار دیا۔ وہ سہم کے ماموں کو دیکھنےلگی۔ عجیب دوراہے ہی پھسی تھی۔
اگرتم نے یونہی اپنی من مانیاں کرنی ہیں۔۔ تو۔۔ اس گھر میں تمہاری کوٸ جگہ نہیں۔۔
دو ٹوک الفاظ۔۔ شامی کو اندر تک سلگا گۓ۔
ٹھیک ہے۔۔۔! اپنی بات پے قاٸم رہیے گ۔۔آپ۔۔ ! جا رہاہوں میں۔۔۔!
شامی نے غصے سے عابی کا ہاتھ تھاما اور گھر کی دہلیز تک پہنچا۔
شامی۔۔بیٹا۔۔؟؟ رضیہ خاتون نےتڑپ کےبیٹے کو پکارا ۔
اگر کسی نےبھی اس ناہنجار سے تعلق رکھا۔ تو میرا اس سے کوٸ ناتا نہیں ہوگا۔ ایک بار کرخت آواز میں کہتے وہ سب کو ہی چپ کرا گۓ۔
شامی نے پلٹ کے ماں کو گلے سے لگایا۔ انکی آنکھو ں کو چوما ۔ اور بنا کچھ کہے عابی کو لیے باہر نلتا چلا گہا ۔








صبح اپنےمعمول پے اسکی آنکھ کھلی۔ گھڑی پے ٹاٸم دیکھتی وہ نماز کے لیے اٹھی۔ وضو کرتے اسے مسلسل کسی کلون کی خوشبو تنگ کر رہی تھی۔ لیکن اس نے زیادہ دھیان نہ دیا۔ یکبارگی وہ گیلے چہرے کے ساتھ باہر نکلی کہ اسے محسوس ہوا اس سے آتیتی مخصوص کلون کی خوشبو۔۔۔ صرف۔۔آفتاب ہی اسعتمال کرتے ہیں۔ مطلب۔۔؟؟
اسکا دل زور سے دھڑکا۔
کیا رات کو۔۔؟؟ آفتاب۔۔؟؟ اس نے اپنے آپ کو آٸینےمیں دیکھا۔ اسکا چہرہ گلنار ہوا تھا۔ کیا وہ خواب تھا یا حقیقت۔۔؟؟
اسے آنکھیں بند کرتے وہی لمس پھر سے محسوس ہوۓ تو جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
نننہی۔نہیییں۔۔۔۔ یہ میررا وہم ہے۔۔۔ وہ بھلا۔۔ کراچی سے۔۔ یہاں ۔۔کیسے۔۔؟؟ نہیں۔۔؟؟ لیک۔ن۔۔۔۔۔؟ کیا۔۔ وہ زندہ۔۔؟ یہ سوچ آتے ہی جہاں دل بلیوں اچھلا وہیں اس کی نفرت یاد کرتے اسکا دل ویسے ہی بنجر ہوا۔ آنکھوں میں آۓ آنسو پونچھے۔ اور نماز کی نیت سےکھڑی ہوٸ۔
نماز پڑھ کے دعا کےلیےہاتھ اٹھاۓ تو ہاتھ کانپنے لگے۔
دل لرز اٹھا۔۔ لب وا کیےتو وہ بھی لرز رہے تھے۔ بس بند آنکھوں سے اللہ سے محو گفتگو تھی۔ اسکی خاموشی رب کے لیے زباں بنی تھی۔
کافی دیر یونہی بیٹھے رہنے پے اسے دل کے اندر سکون اترتا محسوس ہوا۔
اٹھتے ہوۓ باہر آٸ۔ آج بلال نے اپنی سگھی ماں کے پاس جانا تھا۔ اسکے ماں باپ کا پتہ چل گیاتھا۔ والد ایک کار ایکسیڈینٹ میں فوت ہوچکے تھے۔ وہیں ان کے ساتھ انکا بیٹا بلال بھی تھا۔ جو معجزاتی طور پے بچ گیا تھا۔بعد ازاں وہ سب اپنوں سے جدا ہوگیا۔ اب۔۔ کنول ان سے مل چکی تھی۔ کسی حد تک وہ بلال کو بھی راضی کر چکی تھی۔
آگے کا سوچ رہی تھی۔ کہ ایک دم سے دماغ ان رپورٹس کی جانب گیا۔ جو فاٸل میں رکھی تھیں۔ فوراً اندر گٸ۔ لیکن۔۔ وہ فاٸل نہ ملی۔ اور نہ ہی رپورٹس۔۔ پورا۔۔ کمرہ چھان مارا۔
کہیں۔۔ گر تو نہیں گٸ فاٸل سے۔۔؟؟ کنول نے ماتھےپے ہاتھ مارا۔




آج اسکول سے اس نے چھٹی لے لی تھی۔ اور بلال کی والدہ سے مل کے بلال کو انکے حوالے کرتے وہ بہت روٸ تھی۔ اور بس تیزی سےہٹتی وہاں سے نکلی تھی۔
آج ایک آخری سہارا جینے کا۔۔ وہ بھی چھوٹ گیا۔
آنکھیں تھیں کہ بھیگتی چلی جا ہی تھیں۔آ سمان بھی مینہ برسانے لگا۔
وہ جلد از جلد وہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔
بہت تیزی سے برستی بارش میں بھاگتی چلی جا رہی تھی اسے جتنی جلدی ہوسکے وہاں سے نکلنا تھا۔ وہ پوری بھیگ چکی تھی۔ لیکن اس کے قدم ایک بار بھی نہیں ڈگمگاۓ۔ اسی اثنا میں وہ گلی سے نکل کے سڑک پر پہنچ چکی تھی۔ دور دور تک کوٸ رکشہ کوٸ گاڑی نظر نہ آرہی تھی۔ ماتھے پے بل ڈالے وہ داٸیں باٸیں دیکھتی اب پریشان سی ہونے لگی۔
کہ بہت تیز رفتار گاڑی اسکے پاس سے گزری اور کیچڑ اس پے اچھالتی آگے بڑھی۔
اس کے سارے کیچڑ سے بھر گٸے۔ ہاتھ میں پکڑی فاٸل سے منہ کو بچاتے بچاتے بھی اس پے بہت سارا کچڑ اچھلا تھا۔ جو اچھا خاصا اسکی حالت کو ابتر کر گیا تھا۔
واٹ دا ہل از دس۔۔۔۔! پوری قوت سے وہ چلاٸ۔
گاڑی آگے جا کے رکی۔ اور ریورس ہوٸ۔
اس نے اپنے چہرے سے کیچڑکو صاف کرتے سخت نظروں سے گاڑی کی جانب دیکھا۔جو اس کے پاس آکے رک گٸ تھی۔
وہ کچھ کہتی کہ گاڑی کا دروازہ کھلا۔ ایک مردانہ ہاتھ باہر نکلا۔ اسکے ہاتھ میں چھتری تھی۔ جو وہ کھول چکا تھا۔
بلیک سوٹ بوٹ میں وہ اترتا گاڑی سے باہر آیا۔
ایک لمحے کو وہ آنکھیں پھاڑے سامنے والے کو دیکھتی رہ گٸ۔ اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہیں آرہا تھا ۔ کہ وہ جو بیچ راہ میں چھوٹ گیا تھا ۔ وہ آج یوں سرے راہ مل جاۓ گا۔
بارش پورے زور و شور کے ساتھ برس رہی تھی۔
وہ دھیمی چال چلتا اس کی جانب بڑھا۔
کنول کے دل کی دھڑکنیں آج بھی اسے روبرو دیکھ کے بے ترتیب ہوٸ تھیں۔
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کود یکھے جا رہے تھے۔
ایک کی نظروں میں بے یقینی تھی۔ تو دوسرے کی نظروں میں دنیا جہان کی نفرت۔
welcome back in my life
Mrs… kanwal aftab…
ہر لفظ زہر میں بجھا تیر کنول کے دل کو تار تا ر کر گیا۔
سختی سے اسکا ہاتھ تھاما اور کیچڑکی طرف زور سے دھکا دیا وہ توازن بر قرار نہ رکھ پاٸ۔
اور بری طرح اس کیچڑ میں جاگری۔
ہاتھ میں پہنی چوڑیاں ٹوٹی تھیں۔ اور کلاٸ میں چبھی تھیں۔
کنول نے رخ پلٹ کے اس ستم گر کو شکوہ کناں نظر سے دیکھا۔ جس کا چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے۔ ۔۔ کنول کا پھول کیچڑمیں ہی اگتا ہے۔۔۔ تمہیں دیکھ کے آج جی چاہ رہا ہے ۔ اس کنول کے پھول کو بھی مسل کے رکھ دوں۔
گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ کنول کو اچھا خاصا سہما گیا تھا۔
اور پھر ایک جھٹکے سے اسے کھڑا کرتا مزید اس کے اوسان خطا کر گیا تھا۔
چھوڑو مجھے۔۔۔ ! کہاں۔۔ لے کے جا رہے ہو؟
وہ بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپی۔لیکن سامنے والے کو پرواہ کب تھی۔
لے جا کے گاڑی میں پٹخا۔ اور خود بھی بیٹھتے ڈراٸیورکو چلنے کا کہا۔
گاڑی روکو۔۔۔ تم۔۔ میرے ساتھ یوں زبردستی نہیں کر سکتے۔۔ کنول تڑپ کے بولی۔ وہ کیسے اس شخص کے ساتھ جا سکتی تھی۔۔۔؟
میں کیا کر سکتا ہوں کیا نہیں۔۔۔؟یہ تم سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔۔؟؟ ایک ہاتھ سے مضبوطی سے اسکی کلاٸ تھامے وہ سرد لہجے میں بنا اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہلے اسکے اوسان خطا کر گیا۔ باہر بارش اب بھی پورے زور وشور سے برس رہی تھی۔ کنول کا دل اچھل کے حلق میں آرہا تھا۔
یہ تو مر گیا تھا۔۔۔ زندہ ہو کے کیسے واپس آگیا۔۔؟ چور نظروں سے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا جس کے چہرے پے چٹانوں سی سختی تھی۔ اور نجانے وہ اب اسکے ساتھ کیاکرنے والا تھا۔؟
چھوڑو ۔۔۔ مجھے۔۔۔ اپنا ہاتھ چھڑایا۔ تو آفتاب نے غصے سے اسے اپنے اوپر کھینچ کے گرایا۔
وہ اسکے سینے پے سر رکھے اسکے پرفیوم کی مخصوص خوشبو محسوس کرتی ہمیشہ کی طرح اسکے سحر میں جکڑنے لگی۔ سر اونچا کرتے اس شخص کی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں پہلے کبھی اسکے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج صرف نفرت تھی۔ جلا کے بھسم کر دینے والی نفرت۔
تمہیں کیا لگا۔۔۔ تم۔نے مجھے مار دیا اور۔۔ میں مر گیا۔۔۔؟؟ ان گزرے لمحات کو یاد کرتے آفتاب کے چہرے پے درد اور غصہ رقم تھا۔
شیر کا شکار تم جیسے گیدڑ کبھی کرہی نہیں سکتے۔
کہتے اسکی بھوری آنکھوں میں آفتاب نے اپنا عکس دیکھا تھا۔
اب میں آفتاب شیر خان۔۔۔ تمہیں۔۔۔اپنی سوکالڈمسز کو سکھاٶں گا۔ شکار کیسے کرتے ہیں۔
استہزایہ انداز۔۔ غصیلی آنکھیں مضبوط لہجہ جو نفرت سے گھلا تھا۔ محبت کا تو نام ونشان بھی نہ بچا تھا۔
کنول کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔
جاری ہے
