Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 26)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

کونسی بے وفاٸ کی ہے میں نے۔۔؟ بولو۔۔۔ ؟ عظمی کو بازو سے پکڑ کے زور سے جھٹکتے پوچھا۔

آپ اور کنول۔۔؟؟

بس۔۔۔! ایک لفظ اور نہیں۔۔ ورنہ۔۔۔ میں جو نہیں کہنا چاہتا وہ بول دوں گا۔

غصے سے بھری آنکھیں۔ آفتاب کولگا وہ زلزلوں کی زد میں آگیا ہو۔۔۔ جو الفاظ اس نے کنول کو بولے تھے۔ وہی اسکی بہن کو واپس پلٹے تھے۔ وہ کنول کی تلاش میں آیا۔ یہاں بہن کا گھر اجڑتے دیکھ رہا تھا جبکہ کنول تو شیرنی تھی۔۔ جو اپنا شکار کرنےگٸ تھی۔

ارررسسسللل۔۔۔۔؟؟ عظمی حیرت سے منہ کھولے دیکھتی رہ گٸ۔

بس۔۔۔۔یہی تو ۔۔۔ ہوتا ہے آپ مردوں کے پاس۔۔۔ سب سے بڑی دھمکی۔۔۔ جس سے آپ مرد۔۔۔ عورت کواپنےسامنے جھکا لیتےہیں۔ بنا ۔۔ کسی وجہ کے۔۔۔ سزا دیتےہیں۔۔

گرم سیال مادہ آنکھوں سے بہتا چلا گیا۔ جبکہ ارسل صرف لب بھنچ کے رہ گیا۔

اگر اللہ نے آپ مردوں کو عورت کا محافظ بنا دیا ہے تو اسکا نجاٸز فاٸدہ نہ اٹھاٸیں۔

عظمی کے درد سے چور انداز نے ارسل کے دل کو مٹھی میں لے لیا۔ وہ تو اسکی محبت تھی۔ اسکی زندگی کے ہر پل میں اسکا ساتھ دینے والی۔۔ آج وہ اسے کتنا رلا رہا تھا۔

مرد کو حق حاصل ہوا۔ نکاح کےبول بول کے عورت کو نکاح میں لے لو۔۔۔

عورت بھی نکاح کے بول کے بعد ہی اپنے محرم کے پاس جاتی ہے۔۔۔ ! کہتے پوۓ گردن اٹھا کے اس بے دردی کو دیکھا۔

لیکن۔۔۔ جب بات۔۔۔ طلاق پےآتی ہے۔۔۔تو یہ حق اللہ نے صرف مرد کو دیا ہے۔۔ جانتے ہیں کیوں۔۔؟؟

عظمی اسکےپاس ہوٸ وہ کچھ نہ بول سکا۔

کیونکہ عورت جذباتی ہے۔۔۔اور بعض اوقات وہ سوچے سمجھے بنا فیصلہ کر لیتی ہے۔بعد میں اسے افسوس ہوتا ہے۔ جبکہ مرد۔۔۔عورت کے مقابلے میں جذباتی نہیں۔۔ ! اور آج آپ۔۔۔مجھے اسی بنا پے دھمکا رہےہیں۔۔ کہ طلاق کا اختیار اللہ نے بس آپ کو دے دیا۔۔۔! آپ جو چاپے مرضی کریں گے۔۔۔۔؟؟؟

ارسل اسکی باتیں سن زمین میں گڑنے والا مقام ہوگیا تھا۔ اسے توقع ہی کہاں تھی کہ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلیں گے۔۔ جہنیں سوچنا بھی وہ گناہ سمجھتا تھا ۔

آگے بڑھ کے عظمی کو مان سے تھامنا چاہا کہ ۔۔۔

عورت کےپاس بھی حق ہے۔۔۔ خلع کا ۔۔۔! اور وہ تم لے سکتی ہو۔۔۔!

آفتاب جارحانہ انداز میں ارسل کو گھورتا عظمی کی جانب بڑھا۔

دونوں نے حیرت سے آفتاب کو دیکھا۔

بھاٸ۔۔۔۔! آپ۔۔۔؟؟ عظمی بھاٸ کے سینے سے جا لگی۔ آفتاب نے اسے دلاسا دیا۔

آپ۔۔۔یہاں۔۔؟؟ ہمارے بیچ میں نہ بولیں۔۔۔ یہ ہمارا آپسی معاملہ۔۔۔؟؟ ارسل کے ماتھےپے بل پڑے۔

آپسی۔۔۔۔؟؟؟ آفتاب کے ماتھے پے بے شمار شکنیں نمودار ہوٸیں۔ روتی ہوٸ عظمی کو پیچھے ہٹایا۔ اور ارسل کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

کونسا آپسی معاملہ۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ شہادت کی انگلی اسکے سینےپے رکھی۔

میری بیوی کےمعاملے میں شروع دن سے انوالو ہو۔۔۔اور یہاں میری بہن کا معاملہ ہے۔ اور تم۔۔ مجھے ۔۔۔ یہ کہو گے۔۔ کہ یہ تمہارا آپسی معاملہ ہے۔۔۔؟؟

اتنا جارحانہ انداز ۔۔۔کہ ارسل اسکے یوں دوبدو آجانے پے اور بات کرنے پے بری طرح سٹپٹایا تھا۔

اب۔۔ تم جیسے گھٹیا انسان کے ساتھ۔۔ میں اپنی بہن کو نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔۔ اور جو کرنا ہے تم نے۔۔کرلو۔سمجھے تم۔۔

آفتاب نے کہتے ہی عظمی کا ہاتھ تھاما ۔

ارسل اور عظمی دونوں ہی گڑبڑا گۓ۔

آفتاب بھاٸ۔۔۔! پلیز رک جاٸیں۔ ارسل نے لب بھینچتے آفتاب کو پکارا۔ وہ آفتاب کی دل سے عزت کرتا تھا۔ وہ عمر میں بھی بڑا تھا۔ اور رشتے میں بھی۔ ہمیشہ اسکا احترام کیا۔ اور وہ بھی ھا بھی احترام کے قابل۔ ۔۔ بس۔۔ کنول کے آنے اور اسکا ساتھ دینےکے بعد عظمی کے شک کی وجہ سے معاملہ بگڑتا چلا گیا۔

کیوں۔۔؟؟ یہی چاہتے ہو تم ۔۔۔ عظمی ۔۔ چلی جاٸے یہاں سے ۔۔ تو اب تم آزاد ہو۔۔۔! جو چاہے کرو۔۔۔!

آفتاب نے مڑ کے نفرت سے کہا۔ عظمی کے آنسوٶں میں روانی آگٸ۔ وہ کہاں ارسل سے الگ ہوناچاہتی تھی۔۔

آفتاب نے اسے کس دوراہے پےلاکھڑا کیا تھا۔۔؟؟ وہ تڑپ کے رو دی۔

ایسااکچھ نہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ بات کو سمجھیں۔۔۔میری زندگی میں صرف عظمی ہے۔۔ اور کوٸ نہیں۔۔

اچھا۔۔۔!تو کیا تم۔۔ کنول سے نکاح کرنے والے نہیں تھے۔؟ تم نے اسے مجبور نہیں کیا کہ وہ تم سے نکاح کرے۔۔۔؟؟ آفتاب نے غصہ سے اسے دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑایا۔ لیکن خاموش رہا۔

اور اب بھی۔۔۔ اب بھی۔۔۔ جب کہ وہ میرے نکاح میں ہو۔۔ تم سے رابطے میں ہے۔۔۔ بولو۔۔۔کیا یہ جھوٹ ہے۔۔؟؟

آفتاب انتہا کا غصہ میں تھا۔

ہاں۔۔ وہ رابطے میں ہے۔۔ مجھ سے۔۔ اب سے نہیں۔۔ ۔آپ سے ملنے سے بھی پہلے سے۔۔۔! کیونکہ۔۔ میرے لیے وہ بہت اہم ہے۔۔ اور ۔میں۔۔ نے۔۔ ہر لمحے ہر صورت۔۔ میں۔۔ اسکا ساتھ دیا ہے۔۔ ! ارسل کو بھی غصہ آگیا۔

اسی لیے۔۔۔میں نے اسے۔۔۔ آزاد کر دیا ہے۔۔۔! جاٶ۔۔ دو اسکا ساتھ۔۔۔!

قریب ہوتے غراتی آواز میں ماتھے پے بے شنار بل ڈالے وہ ارسل کو سن کر گیا تھا۔

اللہ گواہ ہے۔۔۔ میں نے ہمیشہ اسکا ساتھ دیا۔۔ ایک بھاٸ کی طرح۔۔۔ اپنی بہن مانتا ہوں اسے میں۔۔

ارسل کی آواز اونچی ہوگٸ۔

ہونہہ۔۔۔ کسے بے وقوف بنا رہے ہو۔۔۔؟؟ جب کہ میں ۔۔ سب کچھ جان چکا ہوں۔۔ میں۔۔۔ اس لیے ۔۔۔ اب مزید۔۔کوٸ جھوٹ نہیں۔۔۔!

چلو۔۔عظمی۔۔۔! کہتے ہی آفتاب نے عظمی کا ہاتھ پکڑا۔ اور لے جانے لگا ۔ کہ عظمی کے قدم وہیں تھمے دیکھ ٹھٹھکا۔ اور پلٹ کے حیرت سے بہن کو دیکھا ۔ جو روتے ہوۓ سر نفی میں ہلا رہی تھی۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

کنول کے ہاتھ میں گن تھی۔ جسے وہ چپکے آفتاب کے گھر سے لے آٸ تھی۔ اب اسکی اگلی منزل خان ولا تھی۔ جہاں اسکی ماظ کا مجرم تھا۔

وہ بہت آرام سے خان ولا میں داخل ہوٸ۔ اور اندر بڑھتی چلی گٸ۔ سامنے ہی خانم سیڑھیاں ق دکھاٸ دیں۔ ان کے پیچھے ارباز خان تھے۔ جبکہ شہیر ، انابیہ اور تبسم خان کھانےکی ٹیبل پے تھے۔

سامعہ پھوپھو بھی بیٹیوں کے ساتھ کونے کھدروں سے نکل آٸیں۔ بس عباد خان اور دی جے ہی ہاں موجود نہ تھے۔

کنول کو بکھرے حلیہ میں اندر آتا دیکھ وہ سب ہی یکبارگی اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔

ارباز خان۔۔۔۔! تمہیں کیالگا۔۔۔؟؟ میں تمہیں چھوڑ دوں گی۔۔۔؟؟ گن والا ہاتھ پیچھے کیے وہ انگارہ بنی مخاطب ہوٸ۔ جبکہ اسکے اس انداز پے سبھی نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔اسے دیکھ ارباز خان کے ماتھے پے بل پڑے۔

ارباز خان… خانم کے ساتھ سیڑھیاں اترتےنیچے آگۓ.

اپنی بکواس بند کرو۔۔ اور نکلو یہاں سے۔۔۔! ارباز خان جار حانہ انداز میں آگے بڑھے۔

وہیں رک جاٶ۔۔ ارباز خان ۔۔! ورنہ۔۔۔؟؟ گن کا رخ ارباز خان کی جانب کرتی وہ سب کو سہما گٸ۔

شہیر آگے بڑھا کہ۔۔

میں نے کہاکوٸ آگےنہیں آۓ گا۔ سنا نہیں۔۔؟؟ کنول کی آواز شدت کرب سے کانپ رہی تھی۔ لیکن غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

تم لوگوں کو کیا لگا۔۔۔ کنول یہاں سے چلی گٸ اور تم سب۔۔۔ بچ گۓ۔۔۔؟؟ نہیں۔۔۔! میں اپنی ماں کی موت کا بدلہ لے کے رہوں گی۔۔۔۔ اور یہ۔۔۔ سامنے کھڑا جلاد صفت انسان۔۔۔ اسے تو سب سے پہلے موت کے گھاٹ اتاروں گی ۔ جس نے۔۔ میری ماں کو۔۔۔ جیتے جی مار دیا۔۔۔ ارباز خان کی طرف گن کیے وہ اپنے آپ پے ضبط کرتے بولی تھی۔

ارباز خان کے پسینے چھوٹ گۓ۔

بڑے خان کے پیچھے کیوں پڑی ہو۔۔۔؟؟ جان لینی ہے تو اپنے باپ کی لو۔۔۔جس نے تمہاری ماں کو گھر سے نکالا تھا۔۔۔ ان کا کیا قصور۔۔۔؟؟ خانم نے دہلتےہوۓ کنول سے کہا۔

ہونہہہ۔۔۔۔ انہوں نے کیا کیا۔۔۔؟؟ کنول نے طنزاً کہا۔

بہت افسوس ہوا یہ جان کے۔۔۔ اس شیطان نے اپنے کار نامےکی بھنک اپنی بیوی کو بھی نہ پڑنے دی۔۔

کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ بھابھی۔۔۔۔؟ اور پلیز۔۔۔ یہ گن نیچےکر دیں۔ بیٹھ کے مسلہ حل کر لیتےہیں۔

ڈونٹ موو۔۔۔۔! شہیر کی نرمی سے کہی بات پے وہ تڑخ کے بولی تھی۔ اور اسے وہیں کھڑا رہنے کی وارننگ دی تھی۔

مسلے سارے حل ہوجاٸیں گے۔۔۔ اس کی موت کے بعد۔۔۔!

کہتے ہی ٹریگر پے باٶ بڑھایا ۔

کنول۔۔۔! رک جاٶ۔۔ بیٹا۔۔! بھاٸ کی کوٸ غلطی نہیں۔۔ سارا قصور میرا ہے۔ جو سزا دینی ہےمجھے دو۔۔۔

عباد خان کی اچانک آمد پے کنول کے ساتھ تبسم خان بھی چونکیں تھیں ۔

یہ۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ کیسی۔۔سزا۔۔۔؟؟ کیا قصور۔۔۔؟؟

تبسم خان کی بات پے کنول قہقہہ مار کے ہنسی۔

تو دونوں شیطانوں نے جھوٹے رشتے بنا رکھے ہیں۔۔ کسی کی ہمت نہہوٸ اپنی اپنی بیویوں سچ بتانے کی۔۔۔!چلو میں بتاتی ہوں۔۔

کنول کے بولنے پے ارباز خان کا رنگ متغیر ہوا۔

منہ بند کرو۔۔۔ اور دفعہ ہو جاٶ یہاں سے۔۔۔ !وہ چلاۓ تھے۔

یہ۔۔ انسان نہیں۔۔ حیوان ہے۔۔۔۔ اس انسان نے۔۔۔ عباد خان کی طرف اشارہ کیا۔۔ میری ماں کو بے عزت کر کے گھر سے نکالا۔ تو اس شیطان نے۔۔۔ ارباز خان کی طرف مڑی۔۔۔میری ماں۔۔کو۔۔۔ بے آبرو۔۔۔ کیا۔۔۔۔!

کہتےکہتے وہ رو دی۔

سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

ببببکواسسسسس۔۔۔ کر رہی ہے۔۔۔! جھھھوٹ۔۔ بول رہی ہے۔۔۔۔! خانم کی سوالیہ نظروں پے وہ گڑبڑاتے ہوۓ بولے تھے۔

شہیر اور انابیہ کی نظریں بھی ان پے اٹھیں تھیں۔ جن میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔

موت کا کھیل کھیلا تھا تم سب نے مل کےمیری ماں کے ساتھ۔۔۔ قصور کیا تھا۔۔۔؟؟ کہ انہوں نے ایک۔۔ گرے ہوۓ انسان سے محبت کی۔۔۔اور محبت کی سزا۔۔۔ میں انکو جیتے جی مار ڈالا۔ میرے ۔۔وجود کو سرے سے ہی تسلیم نہ کیا۔۔۔۔! مجھے۔۔۔ بھی۔۔۔؟؟ ناجاٸز۔۔۔؟؟

کہتے ہوٸے اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا۔

لیکن۔۔ اب بس۔۔۔!بہت ہوگیا یہ آنکھ مچولی کا کھیل۔۔۔!

اب سب کچھ آمنے سامنے۔۔۔ ارباز خان۔۔ جسٹ گو ٹو ہیل۔۔۔۔!

کہتےہی ٹریگر پے انگلی دباٸ۔ اور ایک فاٸر ہوا۔

💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧

بھاٸ۔۔۔۔ ! مجھے۔۔۔ نہیں جانا۔۔۔! عظمی کے الفاظ پے آفتاب نے عظمی کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑ دیا۔

کچھ کہتا کہ موباٸل پے سعدی کی کال آٸ۔وہ ان دونوں کو دیکھتا چوتھی بیل پے کال رسیو کر گیا۔

سر۔۔۔۔! میم یہاں۔۔ خان ولا میں آٸ ہیں۔

سعدی کی گھبراٸ آواز آٸ۔

خان ولا۔۔۔؟؟ کنول۔۔۔؟؟ وہاں۔۔۔؟؟ آفتاب سخت حیران ہوا۔

سر ۔۔۔ وہ بہت غصہ میں اندر گٸ ہیں۔ اور مجھے ۔۔۔ ان کے ہاتھ میں۔۔۔ آپ کا۔۔۔۔ ریوالور۔۔ بھی۔۔۔؟؟ سعدی کہتے کہتے رکا۔

واٹ۔۔۔؟؟ وہ وہاں۔۔ گن لےکے اندر پہنچ گٸ۔۔۔ اورتم۔۔۔۔مجھے فون پے اطلاع دے رہے ہو۔۔؟ جاٶ۔۔ اندر۔۔۔اور روکو۔۔۔ اسے۔۔۔! آفتاب سعدی پے چلایا تھا۔

ارسل آفتاب کی بات سن دنگ رہ گیا۔

فون بند ہو چکا تھا۔

وہ۔۔۔ وہ بدلہ لینےگٸ ہے۔۔۔! ارسل دھیرے سے بولا۔

عظمی نے مڑ کے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

کیسا۔۔۔ بدلہ۔۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ اگر اس نے میری فیملی کے کس بھی فرد کو کوٸ نقصان پہنچایا۔۔۔ آٸ سوٸیر۔۔۔ اسے جان سے مار ڈاولوں گا۔۔۔۔

آفتاب نے لب بھینچتے باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

آپ ک فیملی۔۔۔؟؟ یا اسکی۔۔۔؟؟ کرخت لہجے میں پوچھا۔

آفتاب نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ اسے اس وقت خان ولا پہنچنا تھا۔ کسی بھی قیمت پے۔۔اور اسے کنول کو کسی بھی حال میں روکنا تھا۔

💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧

جیسے ہی آفتاب نے خان ولا میں قدم رکھا۔ اسے گولی چلنے کی آواز آٸ۔ اس کے قدم وپیں پیوست ہوکر رہ گۓ۔

کنول نے گولی۔۔۔؟؟ یہ سوچ آتے ہی اسے لگا۔۔۔ اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیےکنول کو کھو دیا۔

وہ اندر بڑھنا چاہتا تھا۔ لیکن اسکے قدموں نےاسکا ساتھ نہ دیا۔ کہ تبھی ایک اور گولی چلی۔ جس نے آفتاب کے پیروں تلے سے زمین نکال لی۔ وہ بھاگتا ہوا اندر گیا۔ جہاں ایک قیامت کا منظر تھا۔

ایک طرف ارباز خان گرے پڑے تھے۔ جہنیں گولی لگی تھی۔ تو دوسری جانب تبسم بیگم تھیں۔ انہیں بھی گولی لگی تھی۔ خون میں لت پت وہ اپنی ماں کو دیکھتا جا رہا تھا۔ عباد خان ان پے جھکے انہیں اٹھا رہے تھے۔ دوسری طرف خانم ارباز خان کا سر گود میں لیے بین ڈال رہیں تھیں۔

آفتاب کےکان ساٸیں ساٸیں کر رہے تھے۔ اسے سب دکھاٸ تو دے رہا تھا۔ لیکن سناٸ کچھ نہ دے رہا تھا۔

ماں کو اس حال میں دیکھ اسکے حواس کام کرنا چھوڑ گۓ تھے۔

شہیر نے فوراً سے باپ کو سہارا دے کےا ٹھایا۔ اور باہر کیجانب بھاگا۔

سبھی کے چہرے روتے ہوۓ لگے۔

شہیر کے باہر جاتے آفتاب کوکندھےپے ٹھوکر لگی تھی۔ وہ ایک دم سے مڑا تھا۔

نظر اٹھا کے سامنے دیکھا۔ تو دشمن جاں پے نظر جا ٹھہری جو یک ٹک آفتاب کو دیکھتی آنسو بہاتی جا رہی تھی۔ جبکہ اسکے ہاتھ میں گن پکڑی تھی۔

آفتاب۔۔۔۔۔! آفتاب۔۔۔؟؟؟؟ عباد خان چلاۓ تھے۔

آفتاب کوجھنجھوڑ ڈالا تھا۔

اور اسے کھینچ کے تبسم کے پاس لے کے گۓ۔

آفتاب ایک دم ہوش میں آتا ماں پے جھکا۔ انکی سانسیں چل رہی تھیں۔ لیکن بہت ہلکی۔۔۔ فوراً سےبنا کچھ سوچے سمجھے ماں کو اٹھایا۔ اور باہر گیٹ کی طرف بھاگا۔

اسے رہ رہ کے بس ماں کی فکر ستا رہی تھی۔ جبکہ کنول وہیں کھڑی سامنے بے یقینی سے دیکھتی دی جے ک دیکھ رہی تھی۔ جن کی نظروں میں کنول کو اپنے لیے آج کچھ بھی نظر نہ آیا ۔۔ نہ محبت۔۔ نہ نفرت۔۔۔!

وہ بس روۓ جا رہی تھی۔ خود سے کیا وعدہ آج پورا کیا تھا۔ لیکن۔۔ ارباز خان کے بعد گن کا رخ عباد خان کی طرف تھا۔ کہ ۔۔۔ تبسم خان کے آگے آجانے سے گولی انکو لگ گٸ۔ اس نے تو ایسا سوچا بھی نہ تھا۔ کہ عباد خان کی جگہ۔۔؟؟ اچانک وہ آجاٸیں گیں۔اور گولی انکو لگ جاۓ گی۔

💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧
💧

دو دن بعد شامی اور عابی کی رخصتی طےپاٸ تھی۔

عابی نے آج نوٹس لینے یونی جانا تھا۔ شامی نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔

اب دونوں باٸیک پے یونی جا رہے تھے۔ باٸیک کی سپیڈ تیز کی تھی۔ عابی نے شامی کو کس کے پکڑ لیا۔ اسکی شرٹ مٹھی میں دبا لی۔ ایک مسکراہٹ شامی کے لبوں کو چھو گٸ۔

کچھ ہی دیر میں وہ یونی میں تھے۔

میں یہاں ویٹ کرتا ہوں۔۔جلدی آنا۔۔۔! کہتےبوہاں ایک ساٸڈ کیفے میں بیٹھتے کہا ۔

ہم بس ابھی گۓ ابھی آۓ۔ گالوں پے لال بکھری شامی کو بھاٸ تھی۔ اسکو واپس پہلےجیسا دیکھ شامی مطمین ہوا تھا۔

فون پے لگا تھا کہاچانک نظر سامنے عابی پے پڑی۔ جو زکیہ کے پاس ہی کھڑی تھی۔ دونوں کے بیچ تلخ کلامی ہورہی تھی۔ شامی فوراً اٹھا۔انکی جانب بڑھا۔

اپنی بکواس بند رکھو۔۔۔ اور اپنی شکل۔لے کے دفعہ ہو جاٶ یہاں سے۔۔۔! ورنہ وہ حال کرواٶں گی تمہارا کہ کسیکو منہدکھانے کے لاٸق نہیں رہو گی۔

زکیہ کی باتیں سنتے شامی کا دماغ ایک منٹ میں گھوما۔ زیہ کو رخ اپنی طرف کرتا اسکا گلہ بری دبایا۔ کہ اسکا سانس رک سا گیا۔

اس اچانک افتاد پے عابی بھی گھبرا گٸ۔

تمہاری اتنی جرات کے تم اپنی گندی زبان میری بیوی کے لیے استعمال کرو۔۔۔ جان لے لوں گا۔۔ تمہاری۔۔۔!

شامی بری طرح اسکے گلے کو دبا رہا تھا کہ عابی بھی اسے پیچھے نہ کر پاٸ۔ تبھی وقاص اور حزیفہ بھاگتے وہاں پہنچے۔ اور دونوں نے شامی کو پیچھے کیا۔ زکیہ گلہ پلڑے سہمےانداز میں شامی کو دیکھتی پیچھے ہٹی۔ سارے اسٹوڈنٹس وہاں اکھٹے ہوگۓ تھے۔

ابھی اسی وقت یہاں ے نکل جاٶ۔۔۔ ورنہ۔۔۔تمہارے سارے کرتوتوں کی ویڈیو ہے میرے پاس۔ جو ابھی صرف ایک بٹن کے کلک پے سب کے موباٸل کی زینت بن جاۓ گی۔

وقاص نے زکیہ کے قریب ہوتے اسکے کان میں کہا۔ تو اسکا رنگ متغیر ہوا۔ جبکہ شامی بالوں میں ہاتھ پھیرتا پھر سے آگے بڑھنے لگا تھا۔ کہ حزیفہ نے اسے قابو کیا۔ غصہ اسکا بھی شدید قسم کا ہی تھا۔

زکیہ وہاں سے فوراً غاٸب ہوٸ تھی۔

عابی کی آنکھیں پانیوں سے بھر گٸ تھیں۔ وہ شامی کے غصہ سے بری طرح حاٸف ہوٸ تھی۔

وقاص اور حزیفہ اسے سمجھا بجھا رہے تھے۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ شانت ہوا تھا۔ ان سے ملتا وہ آنسو بہاتیعابی کا ہاتھ تھامے یونی سےباہر نکلا۔

پارکنگ سے باٸیک نکالی۔ اور اسٹارٹ کی ۔

بیٹھو۔۔۔! بنا عابی کو دیکھے سپاٹ انداز میں کہا۔ وہ وہیں کھڑی رہی ٹس سے مس نہ ہوٸ۔

شامی نے لب بھینچتے گردن موڑ کے اس روندھو کو دیکھا جس کے ہر چھوٹی بات پے آنسو نکل آتے تھے۔

بیٹھو گی یا ۔۔ پکڑ کے بیٹھاٶں۔۔؟ دھمکی دی ۔ جو کاریگر ثابت ہوٸ۔

جھٹ سے اس کے ساتھ باٸیک پے بیٹھی۔

کس کے پکڑو۔۔۔! اگلا آرڈر آیا۔ عابی نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا۔

شامی نے باٸیک کو جھٹکے سے اسٹارٹ کیا تو وہ شامی کی پیٹھ سے آلگی۔ اور اسے مضبوطی سس پکڑ لیا۔ شامی نے سر نفی میں ہلایا۔ اور باٸیک روڈ پے ڈال دی۔

💨
💨
💨
💨
💨

کنول ہاتھ میں گن لیے وہاں سے خاموشی سے نکل آٸ کوٸ بھی تو نہ تھا۔ وہاں ۔۔۔ جو اسے روکتا۔ سب ہاسپٹل جا چکے تھے ۔ اور وہ مرے مرے قدموں سے خان ولا سے نکلتی نجانے کہاں جاتی جا رہی تھی۔۔۔؟

جہاں ارباز خان کو گولی لگنے کی خوشی تھی ۔ وہیں تبسم خان کو گولی لگنے کا دکھ تھا۔

نجانے کیوں اسکا دل خوش نہ تھا۔ وہ بے چینی جو پہلے ن سے تھی۔ آج بھی وہیں قاٸم تھی۔وہ پرسکون نہ ہوٸ تھی۔

آفتاب کا سوچ سوچ کے اسکے دلمیں ہول اٹھ رہے تھے۔

اسکا انداز یاد کرتی اسکی آنکھیں مزید پانیوں سے بھر گٸیں۔

سبھی کچھ تو اسکے ہاتھ سے ریت کی مانند نکل رہا تھا۔ وہ کچھ بھی نہ کر پا رہی تھی۔ اسکا مقصد ۔۔خان ولا کے بیٹوں کی بربادی تھا۔ پھر آفتاب کے لیے اسکا دل دکھی تھا۔ اسے کھونے کا ڈر آنسو بن کے آنکھوں سے بہتا چلا جا رہا تھا۔

تیری دنیا۔۔۔میرے ربا۔۔ کیوں مجھے ہی راس نہیں۔۔

دل ٹوٹا۔۔۔کوٸ جوڑے۔۔ رہی کوٸ آس نہیں۔۔۔

زخم پہلے ۔۔مٹے نہ۔۔۔آکے اور دیتے ہیں۔۔

مانو جن کو سہارا۔۔۔۔ وہی چھوڑ دیتےہیں۔۔۔

وہوہیں زمین پے ڈھے سی گٸ۔۔۔ بارش کی بوچھاڑ نے اسے ایک دم سے ہی بھگو دیا تھا۔ لیکن درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔

میری تقدیروں میں لکھیا۔۔۔ مولا۔۔۔ تو ہی موڑ دے۔۔

میرے نصیبوں کی اتری ردا تو ہی اوڑھ دے۔۔۔

ربا۔۔۔وےےےے۔۔۔۔۔

آفتاب کے ساتھ بیتے پل اسکی آنکھوں میں ایک فلم کی طرح گھومنے لگے۔ جن کے نشاں اب مٹنے تھے۔ وہ ۔۔ معاف کرتا۔۔اسکی ماں۔۔۔ کا خون اسے۔۔۔؟؟

حال دل ہوا ایسا۔۔۔درد کی لہر جیسا۔۔۔

جس کا نہ علاج کوٸ۔۔۔ درد یہ زہر جیسا۔۔۔

خالی پن یوں اترا ہے۔۔ بن کے اک قہر جیسا۔۔۔

میرے اس اندھیرے میں کوٸ نہ سحر جیسا۔۔۔

دے نہ کوٸ دلاسا۔۔۔غم پے غور دیتے ہیں۔۔۔

مانو جن کوسہارا وہی چھوڑ دیتے ہیں۔

میری تقدیروں میں لکھیا۔۔۔ مولا۔۔۔ تو ہی موڑ دے۔۔

میرے نصیبوں کی اتری ردا تو ہی اوڑھ دے۔۔۔

سر کو گھٹنوں پے گراۓ وہ گن کو گود میں رکھے اس سنسان سڑک پے بیٹھی بس روتی چلی جا رہی تھی ۔ کہ تبھی ایک باٸیک اسکے پاس آکے رکی۔ کنول نے سر اٹھا کے دیکھا۔

وہ اپنا ہیلمٹ باٸیک پے ٹکاۓ وہ اسکی جانب بڑھی تھی۔ اور اس کےپاس گھٹنوں کے بل بیٹھتی مسکراٸ تھی ۔

جیت مبارک ہو۔۔۔ ! اسکے چہرے پے خوشی تھی۔ جبکہ کنول کی آنکھوں میں سرد پن تھا۔

اس نے کنول کو گلےسے لگایا۔ اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔

جبکہ دوسری طرف ہاسپٹل میں تبسم خان اور ارباز خان آٸ سی یو میں زندگی اور موت سے لڑ رہے تھے۔ ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا۔سبھی درد میں تھے۔

آٸ سی یو کے باہر کھڑا وہ ماں کی زنگی کی دعاٸیں کر رہا تھا۔

آفتاب نے آنکھیں سختی سے موند لیں ۔ تو دو آنسو بہہ نکلے۔

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی کے درمیاں۔۔

کہ ہم دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آجاتا۔۔۔

مجھے چھوڑ کر وہ جس شخص کے پاس گیا۔۔۔

برابری کا بھی ہوتا تو۔۔۔ صبر آجاتا۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *