Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 17)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
انابیہ نے ایک دم سے خود کو شہیر کی گرفت سے چھڑایا۔ اور روتے ہوۓ اسکی طرف دیکھ نفی میں سر ہلاتی وہ خان ولا سے باہر نکلتی چلی گٸ۔ شہیر نے لب بھینچے اسکے پیچھے جانا چاہا کہ۔۔۔
چھوٹے خان۔۔۔! آواز پے نفرت اور غصے سے آنکھیں موندیں اور پلٹ کے آنے والے کو گھورا۔
اندر چلیں۔۔۔! خانم کی سخت اور کرخت آواز شہیر کو کانو ں میں زہر کی طرح لگی۔
دل پے پتھر رکھے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اند رکی جانب بڑھا۔ جبکہ خانم نے ایک ادا سے ساڑھی کا پلو ٹھیک کیا۔ اور خود بھی اندر کی طرف بڑھ گٸیں۔
آج وہ پھر اپنی چال میں کامیاب ہوگٸ تھیں۔۔ انہوں نے جو چاہا پالیا۔










کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیسی ہے۔۔انابیہ۔۔؟؟
اور اسکا فون کیوں نہیں لگ رہا۔۔؟ دی جے کےلہجے میں صرف دکھ ہی دکھ تھا۔
آفتاب بھاٸ کا فون آیا تھا۔۔وہ ٹھیک ہے۔ اسکا موباٸل۔کھو گیا ہے۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔
امی۔۔۔۔جان۔۔۔!۔۔ میری بہن۔۔۔ اکیلی ہے۔۔۔وہاں۔۔۔!
شامی رو دیا۔۔۔
جمیلہ خاتون اسکے مضبوط کندھے سے لگ گٸیں۔
دیکھیں ساری سچاٸ کوٸ نہیں جانتا۔۔۔ہو سکتا ۔۔ ہے۔۔؟؟
کیا ہوسکتا ہے۔۔؟ میکال کی بات پے شامی کو غصہ آگیا۔
وہ شخص۔۔ یہاں۔۔ ہمارا ۔۔ ہماری بہن کا مزاق ۔۔اڑانے آیا تھا۔۔ دھوکہ دینےآیا تھا۔۔ اور۔۔ ہم۔۔سب۔۔۔ سب ۔۔اسکے دھوکے میں آگۓ۔ ۔۔۔!
شامی کا خود پے سے اختیار کھوتا جا رہا تھا۔
سبھی کو شامی کی باتیں آج سچی لگ رہی تھیں۔
میں ہی بدقسمت ہوں۔۔ بنا سوچے سمجھے ۔۔۔ اپنی بیٹی۔۔ کو۔۔ اس شخص کے حوالے کر دیا۔۔۔
فیاض سلطان دل پے ہاتھ رکھے وہیں بیٹھے۔
سلطان صاحب۔۔؟؟ سنبھالیں خود کو۔۔۔! جمیلہ خاتون آگے بڑھیں۔ اور انہیں کندھے سے تھاما۔ شامی ان کے پاس گھٹنوں کے بل جا بیٹھا۔
میں اپنی۔۔بہن کو واپس لینے جا رہا ہوں۔۔ واپس۔۔۔ مطلب۔۔ واپس۔۔۔۔! اس نے سب کو باور کروایا۔
اور غصہ سے اٹھا۔
شامی۔۔۔۔! میں بھی جاٶں گی تمہارے ساتھ۔
دی جے کی آج پہلی بار سخت آواز سناٸ دی تھی۔ کہ سب نے ایک نظر انکی طرف دیکھا۔
ہاں۔۔۔ میں بھی چلوں گی۔۔۔ ! بس بہت ہوگیا۔۔ بہت سہہ لیا۔۔ اپنی زات تک تو ۔۔بہت سہا۔۔ لیکن۔۔ میری بچی۔۔ انا۔۔۔ اسکے ساتھ۔۔ میں یہ ۔۔زیادتی نہیں کروں گی برداشت۔۔۔ خانم۔کو ۔۔ جواب دینا ہوگا۔۔۔ ! اب ۔۔ ہر سوال کا جواب بھی دینا ہوگا۔۔ اور حساب بھی۔۔۔!
آخر میں مضبوط انداز سے کہتے وہ سب کو حوصلہ دے گٸیں۔
سب کی باہمی رضا مندی سے دی جے اور شامی کراچی کے لیے اٸیر پورٹ روانہ ہوٸے۔
فیاض سلطان کی زمہ داری میکال کو سونپتے شامی کی آنکھیں بھر آٸیں۔ کیونکہ انکی طبعیت سے سبھی پریشان ہوگۓ تھے۔
بی بریو۔۔ برو۔۔! جاٶ۔۔ اور لے آٶ۔۔ میکال نے اے گلےلگا کے حوصلہ دیا۔
ایک عزم سے وہ اور دی جے گھر سے نکلے تھے۔
سب کی دعاٸیں انکے ساتھ تھیں۔





کاش ایک دوجے سے ہم ملتے ہی نہیں۔۔
جب مل ہی گۓ تھے تو۔۔۔ بچھڑتے ہی نہیں۔۔
ہونا تھا جو ہوا ہے۔۔۔
اب پا کے۔۔۔ کیا بچاہے۔۔۔
چھوٹا ہے ہاتھ سے سب۔۔۔
کچھ۔۔حاصل نہ ہوا۔۔۔
بارش آج پورے زور و شور سے برس رہی تھی۔
ویسےہی آج جیسے آسماں بھی رو دیا تھا۔ انا کے لیے۔۔
اسکی محبت پے۔۔
اسکی ازیت پے۔۔۔
گاڑی کی ونڈو سے چہرہ باہر کی طرف کیے وہ بنا آواز کے روۓ جا رہی تھی۔ بارش کی بوندیں اسکے چہرے پے گرتیں اسکا بھرم رکھ رہی تھیں۔
میرے ہاتھوں میں ۔۔۔۔
نہ تیری لکیریں۔۔۔
ختم نہ ہوگی۔۔۔
میرا زمیں پے چلنا۔۔۔
تیرا ہوا سا اڑنا۔۔۔
ہاں۔۔ ناممکن سا ہے۔۔۔
تیرا میرا ملنا۔۔۔
کہ دھوپ سے اندھیرا۔۔۔
اب جڑ نہیں سکتا۔۔
یہ عشق اپنا۔۔۔ اب مکمل ہو نہیں سکتا۔۔۔۔








اپارٹمنٹ میں آتے آفتاب نے ملازمہ سے کہلوا کے انابیہ کے لیے روم سیٹ کروا دیا تھا۔ملازمہ کھانا لے کے گٸ تو اس نے منع کر دیا۔ آفتاب نے بھی زیادہ زور نہ دیا۔ وہیں ڈراٸننگ روم میں بیٹھا شہیر کی اس حرکت کا سوچ رہا تھا۔
آج صبح جب وہ اٹھا تو ۔۔؟؟





آنکھ موباٸل کی چنگھاڑتی آواز پے کھلی۔ ہاتھ بڑھا کے نیند میں ہی کال اٹنیڈ کی۔
ہیلو۔۔۔؟؟ رات کو دیر تک کام کرنے کی وجہ سے آنکھ مشکل سے ہی کھلی۔
سر۔۔۔ ! آپ کے کہے کےمطابق ہم۔۔ بڑی بیگم کی سیکیورٹی تو کر رہے ہیں۔ لیکن۔۔ ابھی ابھی۔۔خبر ملی ہے۔ کہ شہیر خانزادہ اور انکی بیوی کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔! دو مشکوک لوگ پکڑے گٸے ہیں ۔
سعدی کی بات پے آفتاب ک نیند بھک سے اڑی۔
تم وہیں رکو۔۔۔ اور پوری نظر رکھو۔ میں کچھ دیر میں پہنچتا ہوں۔۔
کہتے فون بند کیا۔ اور کنول کی طرف دیکھا۔ جو اسکے سینے پے سر رکھ کے سوتی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ جبکہ ایک ہاتھ اسکے اوپر رکھے اسکے ساتھ چپکی ہوٸ تھی۔
یہ سب نیند میں ہی تھا۔۔ جاگتے ہوۓ الٹا اس نے آفتاب پے ہی الزام لگانا تھا اس میں بھی اسی کی غلطی ڈھونڈنی تھی۔
آفتاب نے دھیرے سے اسکا بازو اپنے اوپر سے ہٹایا۔ اوراحتیاط سے اسکا سر تکیے پے رکھا۔
جس سے آفتاب کو اسکا جسم گرم محسوس ہوا تو ماتھے پے ہاتھ لگا کے ٹمپریچر چیک کیا۔
اسے بخار تھا۔
اور کوٸ وقت ہوتا تو وہ ضورور خود ہی کچھ کرتا۔ لیکن ۔۔ اس وقت اس کے بھاٸ اور بہن کی جان کو خطرہ تھا۔ وہ فوراً اٹھتا شاور لیتا تیار ہوتا اپنی چیزیں اٹھاۓ باہر نکلنے لگا۔ کہ پلٹ کے ایک نظر بے سدھ سوٸ اس اپسرہ کو دیکھا۔
ایک۔۔۔ خوبصورت راز ہو تم۔۔۔
بہت جلد۔۔ کھل جاۓ گا۔۔۔!
ہمکلامی سے کہتا وہ باہر نکلا۔
ملازمہ نیلی کو کنول کے بارے میں ہدایت دیتا خود بنا ناشتے کے گاڑی لے کے نکل گیا۔
اپنی مطلوبہ جگہ پہنچتے ہی سعدی اسے نظر آیا۔
کہاں ہیں وہ۔۔؟ سعدی نے آفتاب کے پوچھنے پے ایک روم کی طرف اشارہ کیا۔
یہ انکی ایک خاص جگہ تھی۔ جہاں یہ اپنے دشمنوں کو رکھتے تھے۔ اور یہاں کس کے ساتھ کیا ہوتا کوٸ نہیں جانتا تھا۔ زندہ رہتا یا ۔۔۔مردہ۔۔چڑیا کو بھی خبر نہیں لگتی تھی۔
آفتاب نے انہیں دیکھا تو وہیں تھما۔
جمیل۔۔۔۔لالا۔۔آپ۔۔۔؟ ساتھ میں ان کے انکی بیوی تھیں۔
آفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔
سرخان۔۔۔ یہ ان سے ملا۔
سعدی نے ایک چھوٹی سی بوتل آفتاب کی طرف بڑھاٸ۔ جس میں زہر تھا۔
یہ۔۔سب کیا ہے۔۔؟؟ آفتاب کو کچھ صحیح نہ لگا۔
ہمیں چھوٹے خان اور انکی بیوی کو مارنے کا حکم تھا.
جمیل نے بنا ڈرے کہا۔
کس کے حکم سے؟ آفتاب نے چباتے ہوٸےپوچھا۔
خان صاحب کے۔۔۔! اب کی بار نظریں چراتے کہا۔
آفتاب کے ماتھے پے بے شمار بل پڑے۔ اسکا غصہ ساتویں آسمان پے پہنچا تھا۔
سعدی کو اشارہ کیا۔ کہ وہ انکولے جاۓ۔
مجھےنہیں پتہ تھا۔۔ آپ۔۔ نفرت میں اتناگر جاٸیں گے۔۔۔ کہ۔۔ اپنے۔۔ ہی بھاٸ کے۔۔۔بچے کے دشمن بن جاٸیں گے۔۔۔
آفتاب نے سختی سے آنکھیں موندیں۔
اگر شہیر یا انبیہ کو ایک کھروچ بھی آٸ۔۔۔ عباد خان۔۔ میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ جان سے مار ڈالوں گا۔
دل ہی د ل میں وہ پختہ ارادہ کیے کیف کی طرف مڑا۔
مجھے رباد خان کی پل پل کی رپورٹ چاہیے۔۔۔وہ کہاں جاتا ہے۔۔ کس سے ملتا ہے۔۔ سب۔۔ !کڑی نگرانی کرو۔۔۔
آفتاب آرڈر دیتا باہر نکلا۔
ابھی وہ شہیر کوکال کرتا کہ باپ کے نمبر سے کال آتی دیکھ ٹھٹھکا ۔
فن کان سے لگایا۔ آگے سے جوخبر سننے کو ملی۔ اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔
إکمنٹ کی دیری کیے۔ وہ ہاسپٹل پہنچا۔
جہاں شیر خان آٸ سی یو میں تھے۔
آپ آفتاب شیر خان ہیں؟
ایک شخص فوراً آفتاب کےپاس آیا۔
آفتاب نے ایک نظر اس پے ڈالی۔
میں نے آپ کو فون کیا تھا۔ یہ لیں۔
شیر خان کا موباٸل آفتاب کو تھمایا۔
میرےسامنے ایکسیڈینٹ ہوا۔د۔۔ بہت برا۔۔ ایک بہت بڑے ٹرک نے گاڑی کو کچلا۔ وہ شخص افسوس کر رہا تھا۔
میں انہیں ہاسپٹل لے آیا۔
آپ ڈاکٹر سے مل لیں۔
اس شخص نے کہا۔ اور آگے بڑھ گیا۔ اتنے میں ڈاکٹر آٸ سی یو سے نکلا۔
اس شخص نے جاتے ہوٸے پیچھے مڑ کے ایک نظر آفتاب کو دیکھا۔
اور اپنا فون کان سے لگایا۔
آپ کاکام ہو گیا ہے۔ ۔کہتے ہی وہ باہر نکلا۔
آپ۔۔۔پیشنٹ کے ساتھ ہیں۔؟ ڈاکٹر نے آٸ سی یو کے باہر خاموش کھڑے آفتاب سے کہا۔
آفتاب خاموش نظروں سے بس باپکو دیکھے جا رہا تھا۔
دیکھیں۔۔ پیشنٹ کا بہت سارا خون بہہ گیاہے۔ ہمیں انکا بلڈ نہیں مل رہا۔ بلڈ بنک میں بھی۔۔اس وقت او نیگیٹیو موجود ۔۔۔
آپ میرا بلڈ لے سکتےہیں۔ سپاٹ انداز میں کہا۔
ہمیں۔۔۔ آپ کا بلڈ چیک۔۔۔؟؟
سیم ہے۔۔۔! بیٹا ہوں ان کا۔۔۔۔! آفتاب کے سرد لہجے پے ڈاکٹر چونکا۔
چلیں ۔۔ میرے ساتھ۔ وہ ڈاکٹر فوراً آگے بڑھا۔
جبکہ آفتاب نے ایک نظر شیر خان کو مشینوں میں جکڑا دیکھا۔
آپ۔۔۔۔۔۔اس حال میں کیسے پہنچ گۓ۔۔ ؟؟ آفتاب دوسرے بیڈ پے لیٹا خون دیتا باپ کو دیکھےجا رہا تھا۔ وہ اس وقت سب کچھ بھول گیا تھا۔
بس یاد تھا تو باپ۔۔۔
ابھی تو آغاز ہے میرے بچے۔۔ ابھی تو جشن ہو گا۔۔ جشن۔۔ خان حویلی سجے گی۔۔ دلہنوں کی طرح۔۔ اس خان حویلی کے جانشیں کی تاج پوشی ہوگی۔۔
ساتھ میں اپنے بیٹے شیر خان کے لیے کفن کا بھی بندوبست کر لیجیے گا۔
اپنی ہی کہی بات یاد کرتاآفتاب درد سے آنکھیں موند گیا۔
کبھی کبھار انسان بنا کچھ سوچے سمجھے بہت کچھ بول جاتا ہے۔ یہ سوچے بنا کہ۔۔ اگر وہ سچ ہوجاۓ ۔۔۔ تو۔۔؟؟
ایک آنسو بہتا اسکے بھرم کو توڑ رہا تھا۔








کچھ دیر گزری ہوگی۔
ایسا آفتاب کو لگا۔ لیکن۔۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ کہ ڈاکٹر نے اسے بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا تھا۔
جب کاظم وہاں پہنچا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا۔
اسی وقت آفتاب کو ہوش آیا تھا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آفتاب کو وہ تھکا ہوا لگا۔
کچھ صحیح نہیں ہو رہا۔۔۔ وہ آفتاب کے پاس آبیٹھا۔
ڈاکٹر نے وہاں آکے ڈریپ اتاری۔ اور آفتاب اٹھ بیٹھا ۔
سر۔۔۔ آپ ریسٹ کریں۔۔۔ آپ۔۔۔؟؟
میں ٹھیک ہوں۔۔۔! آفتاب نے خود کوکمپوز کیا۔
میرے بابا ۔۔؟؟ وہ کیسے ہیں۔۔؟؟ آفتاب کے منہ سے آج پہلی بار اپنے باپ کے لیے بابا کا لفظ ادا ہوا تھا ۔
کاظم بھی حیران رہ گیا۔
وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔ لیکن ابھی انہیں ہش نہیں آیا۔ اللہ پے بھروسہ رکھیں۔ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
ڈاکٹر نے آفتاب کا کاندھا تھپتپھایا۔ اور مسکرا کے کہتا باہر نکلا۔
کاظم۔۔۔! بابا بنا سیکیورٹی کے کہیں نہیں جاتے۔۔۔ پھر۔۔ اتنی سیکیورٹی ہوتے۔۔ ان کا ایکسیڈینٹ کیسے ہوا۔۔؟؟ اور ۔۔ جب۔۔ میں یہاں پہنچا۔۔ کوٸ بھی ان کے پاس نہیں تھا۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے۔۔؟؟
کوٸ ہو نہ ہو۔۔۔ اللہ رکھا۔۔ ہمیشہ انکے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ وہ۔۔ بھی۔۔نہیں۔۔ تھا۔۔۔ !
آفتاب گہری سوچ میں ڈوبا۔۔ اپنی جگہ سے اٹھا۔
خان۔۔! اتنی دیر بعد کاظم کی آواز گونجی۔
ہممممم۔۔۔ آفتاب نے اسکیجانب دیکھا ۔
چھوٹے خان نے۔۔۔ نکاح کر لیا ہے۔۔۔!
اپنی کزن ۔۔۔ عروج کے ساتھ۔۔۔۔دکھ سےکہا۔
آفتاب کو تو بات ہی سمجھ نہ آٸ۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟ اس بات کا۔۔؟؟
کاظم اسے ساری بات بتانے لگا۔
آفتاب نے آگے بڑھ کے اسکی گھڑی پے دکھا۔ جہاں شام کے سات بج رہے تھے۔
میں۔۔ اتنی دیر۔۔ سے یہاں ہوں۔۔ مجھے۔۔۔ ہوش۔۔۔؟؟؟
آفتاب کا دماغ صحیح معنوں میں گھوما۔
خان۔۔۔! ہم سب یہیں ہیں۔۔ آپ بلڈ دے رہے تھے۔ اسکے بعد نجانے کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ آپ بے ہوش ہوگۓ۔۔۔! اور ۔۔ میرے لیے سب سے اہم ۔۔ آپ ہیں۔۔ ! آپ کو چھوڑ کے۔۔ لہیں نہیں جا سکتا تھا۔۔۔
سعدی۔۔عباد خان کی نگرانی پے تھا۔۔ اور خان ولا میں یہ سب ہوگیا۔۔۔۔!
کاظم نے ساری بات بتاٸ۔
آفتاب نے شہیر کو کال ملاٸ لیکن اس نے نہ اٹھاٸ۔
پھر سر نفی میں ہلاتا وہ انابیہ کے نمبر پے کال۔ملانے لگا۔وہ بند ملا۔
انا۔۔۔انابیہ کہاں ہے۔۔۔؟؟ اچانک سے دماغ میں اسکا خیال کوندا۔
لاسٹ لوکیشن شاپنگ مال تھی۔ اس کے بعد سے موباٸل آف ہے۔۔۔! کاظم نے فوراً بتایا۔
مطلب۔۔۔وہ خان ولا میں نہیں۔۔۔؟ آفتاب کا دل دھڑکا۔۔۔
کاظم نے نفی میں سر ہلایا ۔
میں شہیر خان کو چھوڑوں گا نہیں۔۔ اگر انابیہ کو کچھ بھی ہوا۔۔۔! وہ کیسے اتنی لاپرواہی کر سکتاہے۔۔؟؟
آفتاب لب بھینچے باہر نکلا۔
خان۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کاظم بھی پیچھے لپکا۔
کاظم۔۔۔ ! بابا کو تمہارےحوالےکر رہا ہوں۔۔ ! خانم۔۔۔ اپنی چال چل چکی ہے۔۔۔ ! مجھے انابیہ کو سیو کرنا ہے۔۔۔۔
لیکن آپ اکیلے۔۔؟؟ کاظم کا دل نہ مانا۔۔۔
خان ہوں۔۔ خان۔۔۔ ! کسی ماٸ کے لال میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ آفتاب شیر خان پے ہاتھ ڈالے۔۔ آفتاب شیر خان ۔۔۔ چیر پھاڑ کے رکھ دے گا۔
غراتے ہوۓ کہتا وہ شاپنگ مال کی جانب نکلا۔
جہاں کچھ ہی دور اسے انابیہ نظر آگٸ۔تو آفتاب نے سکون کا سانس لیا۔
آفتاب کو دیکھ انابیہ کو بھی سکون آگیا۔ ورنہ وہ اب تک اکیلی بیٹھی بس رونے والی تھی ۔
آفتاب اسے ساتھ لے آیا۔










خان جی۔۔۔!کھانا لگاٶں آپ کے لیے۔۔؟؟
نیلو نے ڈرتے ڈرتے آفتاب سے پوچھا۔ جو سر صوفے کی پشت سے لگاۓ آنکھیں مودنے ہوۓ تھا۔
اسکی کاظم سے بات ہوٸ تھی۔ شیر خان کو ہوش آگیا تھا۔ اور ان کے خاص آدمی بھی ان تک پہنچ چکے تھے۔ آفتاب نے کاظم کو اپنے دو خاص آدمی وہیں چھوڑنے کا کہا۔
اب وہ شیر خان کے کس بھی بندے پے بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔
اس سب کے پیچھے کیا سازش تھی۔۔۔؟؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
کنول نے کھانا کھایا۔۔؟؟
الٹا سوال کیا۔
جی۔۔۔کھا لیا تھا ۔۔۔!ڈرتے ڈرتے جواب آیا۔
میڈیسن لیں۔۔؟؟ بنا دیکھے ہی پوچھ گوچھ ہورہی تھی۔
جی۔۔۔اسکا۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔تھوڑا۔۔ غصے میں تھیں۔۔۔!
ٹھیک ہے۔۔ تم جاٶ۔۔اورسرونٹ کوارٹر میں ہی رہو۔۔ انابیہ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو۔۔ سب زمہ داری تمہای ہے۔
آفتاب بنا ایک غلط نظر نیلی پے ڈالے کہتا اٹھا اور اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
اسکے جاتے ہی نیلی نے گہرا سانس خارج کیا۔ سبھی کی جان جاتی تھی اس شخص سے۔
آج سارا دن کا وہ تھکا ہارا روم میں داخل ہوا۔۔۔تو سامنے نظر بیڈ پے سوتی کنول پے جا ٹہری۔
کتنے سکون سے وہ سو رہی تھی۔۔
دھیرے دھیرے چلتا اسکے قریب آیا۔ گھڑ اتار کے ساٸڈ پے رکھی۔لیکن بنا پلک جھپکے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
نجانے کیوں۔۔ اسکے چہرے کو دیکھ آفتاب کو ایک سکون کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ وہ سب کچھ بھول جاتا تھا۔
گہرا سانس خارج کیا۔ موباٸل پے میسج ٹون بجی۔
شامی کا میسج تھا۔ جس میں اس نے اپنے اور دی جے کے آنے کی اطلاع دی تھی۔
آفتاب نے اسے اپنا ایڈریس سینڈ کر دیا تھا۔ کہ اس کی طرف آٸیں۔ خان ولا فی الحال نہ جاٸیں۔
موباٸل ساٸیڈ پے رکھتا وہ شاور لینے چلا گیا۔
کنول کی آنکھ کھلی۔ اور وہ اٹھ بیٹھی۔ اس نے اپنے دل کے مقام پے ہاتھ رکھا۔
جادوگر۔۔۔! دھیرے سے نیا لقب دیا۔
ابھی آفتاب کے موباٸل میں چھڑ خانی کا سوچ رہی تھی۔ کہ موباٸل پےکال آتی دکھاٸ دی۔
مما جان کالنگ۔ تبسم کی تصویر بنی تھی۔
نفرت کیاک شدید لہر کنول کے تن بدن میں دوڑی۔
اور کال کاٹ دی۔
لیکن کال پھر سے آٸ۔ اب کی بار بھی کنول نے کال کاٹ دی۔ کہ تبھی باتھ روم کا دروازہ کھولتے آفتاب باہرنکلا۔
ایک نظر جاگتی کنول پے اور دوسر اپنے موباٸل۔پے جا ٹہری۔ ماتھے پے دو بل پڑے۔
آگے بڑھ کے موباٸل اٹھایا۔ اور کنول کو گھورتا باہر بالکونی میں چلا گیا۔
اچھا۔۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔آپ ٹنشن نہ لیں۔۔ مجھے سب پتہ ہے۔۔ شہیر نےکیا کیا۔۔لیکن۔۔ کیوں کیا۔۔۔؟؟ یہ میں اسی سے جاننا چاہوں گا۔۔ آپ ان کے معاملے سے دور رہیں۔
پیار سے سمجھایا۔
بیٹا۔۔۔! انابیہ کا کچھ پتہ نہیں۔۔کہ۔ وہ۔۔؟؟
میرے پاس ہے۔۔ اور وہ چھوٹا خان اچھی طرح جانتا ہے۔۔ جب اسے لے کے آیا۔تو وہ مجھے دیکھ چکا تھا۔
آفتاب نے انکو مزد تسلی دی۔
صد شکر۔۔۔ مجھے تو اسبچی پے ترس ہی آیا۔ آج۔۔۔! تبسم خان دکھی ہوٸیں۔
مما جان۔۔ آپ آرام کریں۔۔ ان سب کا خلاصہ صبح تک ہوجاۓ گا۔
آفتاب انکو تسلی دیتا واپس رم میں آیا۔ جہاں ر منہ لپیٹے دوبارہ سونے کی پوزیشن میں تھی۔
میرے موباٸل پے آتی کال کیوں کاٹی؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔
کمفرٹر سے زرا کا زرا منہ نکال آفتاب کو دیکھا۔
میری نیند خراب ہو رہی تھی۔۔ناک سے مکھی اڑاٸ۔
آٸندہ میرے موباٸل کو ہاتھ نہیں لگانا۔۔۔سختی سے وارن کیا ۔
مجھے بھی کوٸ شوق نہیں۔۔۔جاتے ہوۓ ساتھ لےجایا کریں۔میرے کان کے پاس بجنے کے لیے چھوڑ گۓ۔
منہ بگاڑ کے کہتی وہ واپس کمفرٹر لے چکی تھی۔
اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔۔۔ ورنہ۔۔ کاٹنی آتی ہے مجھے۔۔۔ !آفتاب کو آج اس سے بحث کر کے عجیب سی ہی فیلنگز محسوس ہو رہی تھیں۔
کمفرٹر ہٹا کے گھوری سے آفتاب کو نوازا۔ اور سر جھٹک کے واش روم کی جانب بڑھی۔
آفتاب سر جھٹک بیڈ پے بیٹھتا سعدی کو میسج کرنے لگا ۔
اوپس۔۔۔۔۔! بچاٶ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔!
باتھ روم سے دوپٹہ کانفھے پےایک طرف لٹکاۓ بھاگتی ہوٸ کنول باہر آٸ۔ آفتاب ایک دم سے چونکتا کھڑا ہوا۔ وہ آتے ہی آفتاب کے سینے سے لگی۔
کیا مسٸلہ ہے؟ آفتاب نے اسے پیچھےکیا۔
پلییییز ۔۔۔ پلیز۔۔۔ بچا لیں۔۔۔ وہ میرے پیچھے۔۔۔۔؟؟
کنول نے روہانسے ہوتے اپنے پیچھے کمر پے اشارہ کیا۔
آفتاب نے اسکے پیچھے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔
کیا ہے۔۔۔؟؟ آفتاب نے دانت پیسے۔
وہ۔۔۔ وہ کاکککروچ۔۔۔۔۔؟؟ کنول نے اپنے پیچھے مڑ کے دیکنھنا چاہا۔ لیکن اسے نظر نہ آیا ۔
آپ ٹھیک سے دیکھیں ناں۔۔۔ وہ۔۔۔ یہیں ۔۔۔ تھا۔۔ پیچھے۔۔۔! کنول کو تسلی نہ ہورہی تھی ۔
کنول۔۔۔ تنگ مت کرو۔۔۔ ! کچھ نہیں ہے۔۔۔! آفتاب نے اب کی بار نرمی سے کہتے پیچھے ہوکے بیٹھنا چاہا۔ کہ کنول کو گردن پے کچھ رینگتا محسوس ہوا۔
کہ چینخ مارتی آفتاب کے گلے سے جا لگی۔۔۔
پپپپلیز۔۔۔۔ وہ۔۔۔ گردن۔۔۔پے۔۔۔؟؟ آنکھیں پانیوں سے بھر گٸ تھیں۔
آفتاب نے گہرا سانس خارج کرتے گردن سے اسکے بال ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک چھوٹا سا بچھو تھا۔
جسے دیکھ ایک لمحے کو آفتاب بھی سانس روک گیا۔
کنول ۔۔۔ڈونٹ موو۔۔۔۔! آفتاب نے اسے سرگوشی میں کہتے آرام سے اس کا دوپٹہ ہاتھ میں پکڑا۔
کنول کی گرفت اسکے شرٹ پے مزید مضبوط ہوگٸ۔ اس نے آفتاب کے سہنے سے سر نہ اٹھایا۔ آنکھیں میچے وہ آیت الکرسی کا ورد کر رہی تھی
آفتاب نے اس کے دوپٹے سے اس بچھو کوفوراً پکڑا۔ اور ساٸیڈ پے کیا۔
Now you r save… mrs….
دھیعے سے کان میں کہا۔ لیکن وہ ابھی بھی آفتاب کو پکڑے ہوۓ تھی۔
کنول۔۔۔۔۔!وہ جا چکا ہے۔۔۔! زچ آتے کہا۔
کنول فوراً جھٹکے سے پیچھے ہٹی اپنی گردن پے ہاتھ مار کے دیکھا کچھ نہ تھا۔ سارے کپڑے جھاڑے ۔۔داٸیں باٸیں ہوتے سب اینگل سے خود کو دیکھا ۔ بال سارے ہی بکھر گۓ تھے۔ اس دوران وہ بھول گٸ کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی آفتاب کے سامنے پوز بنا رہی تھی۔
صد شکر۔۔۔۔! لیکن۔۔۔ ایسے محسوس ہو رہا ہے۔۔ جیسے ابھی بھی۔۔۔ میرے ۔۔ اوپر ہی ہے۔۔۔
کہتے ہوۓ کنول نے جھرجھری لی۔ جبکہ ایک دم خود پے نظریں مرکوز کیے آفتاب سے جا ٹکراٸیں۔ فوراً احساس ہوا۔ اپنے آپ پے نظر ڈالی تو شرمندگی نے آن گھیرا۔
وہ۔۔۔۔ میرا دوپٹہ۔۔۔؟؟ آگے بڑھ کے آفتاب کے ہاتھ سے دوپٹہ لینا چاہا۔
یہ نہیں دے سکتا۔۔۔۔!آفتاب نے اسے تنگ کیا۔
کیوں۔۔؟؟ ماتھے پے چھوٹے چھوٹے بل ڈالے دیکھتی وہ آفتاب کے دل کی ایک ہارٹ بیٹ مس کرگٸ۔
جبکہ وہ غصے سے آگے بڑھ کے اپنا دوپٹہ وہ کھنچنےوالی تھی کہ
اسی میں آپ کا دوست قید ہے۔۔! آفتاب کےطنزیہ الفاظ پے کنول جمپ مار کے آفتاب کے پیچھے چھپی آفتاب نفی میں سر ہلاتا رہ گیا۔








تجھےیاد نہ میری آٸ ۔۔۔
کسی سے اب کیا کہنا۔۔۔۔؟؟
دل رو رو کے اکھ بھر آٸ۔۔۔۔
کسی سے اب کیا کہنا۔۔۔؟؟
تجھے یاد نہ میری آٸ۔۔۔
کسی سے ۔۔ا۔۔۔اب۔۔؟؟
آپ۔۔۔؟؟ جانے کے لیے آٸے ہیں۔۔ !! تو۔۔۔ ؟؟
سارے حق ہی تو دینے آیا ہوں۔۔۔!
۔۔۔۔آپ مجھے۔۔ بھروسے کی ڈور ۔۔ تھما رہے ہیں۔۔بعد میں ۔۔ توڑ دیا تو۔۔؟ انا نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
شہیر خانزادہ مر تو سکتا ہے۔ لیکن بھروسہ کبھی نہیں توڑے گا۔
اپنی ہر خوشی دے دی۔۔۔
لبوں کی ہنسی دے دی۔۔۔
زلفوں کی گھٹا لہراٸ۔۔
پیغام وفا کے لاٸ ۔۔۔
تو نے اچھی پریت نبھاٸ ۔۔۔
کسی سے اب کیا کہنا۔۔۔۔؟
میری جان۔۔۔ کوٸ ایکسپٹ کرے یا نہ کرے۔۔۔
doesnُ t matter
میرے لیے میری انابیہ انمول ہے۔۔
تجھے یاد نہ میری آٸ۔۔
کسی سے اب کیا کہنا۔۔۔؟؟؟
ونڈو میں بیٹھی وہ برستی بارش کو بس دیکھے جا رہی تھی۔ جبکہ اسکی آنکھوں کےآنسو ان بارش کی بوندوں کی طرح اسکے گالوں پے رقص کر رہے تھے۔
سب جذبے ان بوندوں میں بہتے چلے جا رہے تھے۔۔
آج کا دن اسکی زندگی کا سب سے خاص دن تھا۔۔
اپنی زندگی کو اپنے شوہر کے ساتھ آغاز کرنے کا دن۔۔۔؟؟ اور ۔۔۔اس دن کی شام ایسے ڈھلے گی۔۔؟؟
اس نے کب سوچا تھا۔۔؟
کاش۔۔ ؟؟ محبت میں نفرت کا وجود نہ ہوتا۔۔؟؟
تو عشق بھی رسوا نہ ہوتا۔۔۔







شہیر نے انابیہ کو آفتاب کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کے جاتے دیکھ لیا تھا۔ لیکن وہ خاموش رہا۔ اس وقت انابیہ کا وہاں سے جانا ہی ٹھیک تھا ۔
اک نظر ملی تھی دونوں کی آپس میں۔ لیکن اگلے لمحے دونوں رخ موڑ گۓ۔
شہیر خانم کی آواز پے پلٹا اور بنا ایک لفظ بولے اندر کی جانب بڑھا۔ ہال میں داخل ہوا۔ جہاں سب ہی اپنے تھے۔ لیکن۔۔ اپنا کوٸ نہیں تھا۔
آٸیں بیٹا۔۔۔! خانم نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھتے اسٹیج کی جانب بڑھنا چاہا۔
لب بھینچے وہ وہاں ایک ٹیبل کو ٹھوکر مارتا وہاں سے واک آٶٹ کر گیا۔
پورے ہال میں خاموشی چھا گٸ۔ شہیر کے اس رویے پے سبھی دم سادھے دیکھنے لگے۔
جاری ہے۔
