Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 06)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 06)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha chohan
آگیا شیر خان کا وارث۔۔ میرا پوتا۔۔ خان حویلی کی شان۔۔ اوۓ۔۔۔ بجاٶ۔۔ شادمیانے۔۔۔ڈھول۔۔۔۔باجے۔۔ !
صدقہ اتارو۔۔ مٹھاٸیأں تقیسم کرو۔۔ آج شیر دا شیر آیا جۓ۔۔۔۔!
ثریا خانم اونچی اونچی آواز میں شور کرتیں نیچے اتر رہیں تھیں۔ آفتاب کی غصیلی نظروں کا مفہوم بھی ان دیکھا کر دیا تھا۔ بس اپنی ہی دھن میں لگی تھیں۔
میرا لعل۔۔میرا جانشیں۔۔ اس خان حویلی کا وارث۔۔ لوٹ آیا ہے۔ آفتاب کے سامنے کھڑے ہوتے خوشی سے اونچی آواز میں چہک رہی تھیں۔
ملازمہ بڑے سے تھال میں ڈھیروں پیسے لے آٸ۔
جو مٹھی بھر بھر آفتاب کے اوپر سے وار کے ہوا میں اڑا دیٸے۔
بس۔۔! ہو گیا آپ کا۔۔۔؟؟ آفتاب نے ہاتھ اٹھا کے سخت انداز میں انہیں روکا۔
ابھی۔۔ کہاں۔۔؟؟ تھوڑا قریب آٸیں۔
ابھی تو آغاز ہے میرے بچے۔۔ ابھی تو جشن ہو گا۔۔ جشن۔۔ خان حویلی سجے گی۔۔ دلہنوں کی طرح۔۔ اس خان حویلی کے جانشیں کی تاج پوشی ہوگی۔۔
ساتھ میں اپنے بیٹے شیر خان کے لیے کفن کا بھی بندوبست کر لیجیے گا۔
انکی بات کاٹتا وہ سختی سے بولا۔ کہ ثریا خانم کی آنکھوں کے دیپ ایک دم ہی بجھے تھے۔
یہ۔۔۔یہ کیا۔۔۔؟؟؟ کہہ رہے ہو۔۔؟؟ وہ بپھرے انداز میں آگے بڑھیں۔
ٹھیک کہہ رہا ہوں۔۔ اور غور سے سن لیں آپ بھی۔ اور سمجھا دیں اپنے بیٹے کو۔ اگر اب دوبارہ۔۔ میری ماں کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھا۔ یا انہیں زرا سی بھی کھروچ آٸ۔۔۔ میں بھول جاٶں گا۔ کہ۔۔ وہ میرے ۔۔ باپ ہیں۔
انگلی اٹھا کے وان کرتا وہ انہیں بہت کچھ باور کرا گیا۔
کہتے ساتھ وہ واپس پلٹا۔
خان۔۔۔۔! وہ بے چینی سے پیچھے آٸیں۔
وہیں رک جاٸیں۔ آفتاب نے انہیں وہیں روک دیا۔
میرے پیچھے آنے کی بھول کبھی مت کیجے گا۔ صرف ٹھوکریں ہی ملیں گیں۔ یاد رکھیے گا۔
اب کی بار ان سے کہتا وہ رکا نہیں۔
ثریا خانم نے رخ پلٹا۔ انکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پاس کھڑی ملازمہ کے ہاتھ میں پکڑا تھال دور اچھالا۔
کب تک۔۔۔ کب تک۔۔؟ آفتاب شیر خان ۔۔
تم واپس آٶ گے۔۔ضرورآٶ گے۔۔ اور مجھے انتظار ہے اس وقت کا۔۔ جب تم خود کہوگے۔
دادی خانم۔۔۔ میری تاج پوشی کریں۔ اور پھر اس دن دنیا دیکھے گی۔ میرے خان میرے پوتے کی تاج پوشی۔
وہ دیوانوں کی طرح ہنسیں تھیں۔
جبکہ وہیں پاس کہیں دبک کے بیٹھیں وہ چھوٹی سی دو گڑیاں۔۔ اپنی دادی کی ہر چال ڈھال دیکھ رہی تھیں۔ وہ چھ سال کی تھیں جڑواں۔ شیر خان کی تیسری بیوی سے۔ جو ان کے پیدا ہورے ہی چل بسی۔
زمل نے انکو نہ صرف پالا۔ بلکہ ہر طرح سے انکی ایک اچھی ماں ثابت ہوٸ۔
ان دونوں نے آفتاب کی طرح اسکی گرین آٸز چراٸ تھیں۔ دونوں ہی بالکل آفتاب کی کاپی تھیں۔
آفتاب ان سے بہت محبت کر تا تھا۔ لیکن۔ ان کوہر ہفتے کے آخر میں یہاں سے لے کےجاتا ۔ اور پورا دن ان کے ساتھ گزراتا۔ اور وہ دن شینا اور مینا کے لیے عید کا دن ہوتا۔















آفتاب سے ٹکرانے پے اسکے ہاتھ میں تھامی فاٸل کے صفحے بکھر گۓ تھے۔ کافی ڈھونڈنے کے بعد بھی کچھ صفحے نہ ملے۔ وہ ازحد پریشان تھی۔ یہ فاٸل کل کی میٹنگ کی فاٸل تھی۔ کنول سر پکڑ کے بیٹھ گٸ۔
اب کیاکروں ؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
بیٹا۔۔! ایک بار پھر کوشش کر لیتے ہیں۔ ڈھونڈنے کی۔ مل جاٸیں گے۔
صدیقی صاحب کو اس پے ترس آیا۔
صدیقی انکل۔۔! یہ فاٸل کل ہر حال میں چاہیے۔صبح میٹنگ ہے۔ اور۔۔ فاٸل کے سب سے اہم صفحات گم ہوۓ ہیں۔
مجھےتو۔۔ اتنی پریشانی ہو رہی ہے۔۔ سر۔۔ چھوڑیں گے نہیں اگر۔۔ یہ فاٸل صبح تک انہیں نہ ملی تو۔
کنول رونے والی ہوگٸ تھی۔
آپ ! سر۔۔سے بات کر لیں۔ انہیں بتا دیں۔ شاید کوٸ۔۔ یو ایس بی وغیر ہ میں ڈیٹا سیو ہو۔۔۔! کیونکہ یہاں تو آپ کا لیب ٹاپ بھی خراب ہو گیا ہے۔ کیا ہوگا اب۔۔؟؟
صدیقی صاحب نے مشورہ دیا۔
اور کوٸ آپشن۔۔؟؟ امید سے پوچھا۔ چہرے پے پیشانی عیاں تھی۔
تقریباًسارا آفس خالی ہو چکا تھا۔اور وہ ابھی تک فاٸل میں سر دیٸے بیٹھی تھی۔
بہت سوچ بچار کے اس نے آفتاب کو فون کرنے کا ارادہ کیا۔
دل پھر سے دھڑک رہا تھا۔
کال جا رہی تھی۔
وہ شاور لے کے ابھی نکلا تھا۔کہ کال آتی دیکھ پک کی۔
کنول کا نمبردیکھ وہ تھوڑا حیران ہوا۔ ٹاٸم دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔
یس۔۔۔؟؟ آفتاب کی آواز پے اسکی ہمت جواب دے گٸ۔
کنول۔۔؟؟ واٹ ہیپنڈ؟ آر یو آل راٸیٹ۔ ۔؟ وہ پریشان ہوا۔
سر۔۔۔! وہ۔۔ایک مسٹیک ہو گٸ ہے۔۔ ہمت کرتے کہہ ہی دیا ۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ آفتاب کو کچھ کھٹکا لگا۔
وہ۔۔۔۔۔؟؟؟ کنول کی زبان لڑکھڑاٸ۔
کنول۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ لہجے میں پریشانی تھی۔
کیا۔۔ آپ ابھی۔۔ آفس ۔۔ آسکتے ہیں؟ کنول نے لب بھینچے پوچھا۔
آفس؟ ڈونٹ ٹیل می۔۔ کہ آپ اس وقت آفس میں ہیں؟
آفتاب کو اسکی اس بات پے ایک دم سے شدید غصہ آیا۔
نول کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے۔
پلیز۔۔ آپ آفس آجاٸیں۔ پھر بتاتی ہوں۔
کنول نے کہتے ساتھ ہی فون بند کرنا چاہا کہ۔۔۔؟؟
آپ اس وقت آفس میں کرکیا رہی ہیں ؟
آفتاب نے گاڑی کی کیز اٹھاتے خود پے ضبط کرتے پوچھا۔
آپ۔۔۔۔ آجاٸیں۔۔ تو۔۔۔ ؟؟؟
فٹ سے کال کاٹ دی ۔
یہ لڑکی بھی۔۔ ناں۔۔ ہر الٹے کام کی توقع کر لو اس سے۔۔ گاڑی کو پورچ سے نکالتے وہ بڑبڑایا۔ جبکہ دو آنکھوں نے اسے کھڑکی سے جاتے دیکھا۔














کیا کہہ رہے ہیں؟ صدیقی صاحب نے پریشان ہوتی کنول سے پوچھا۔
آ۔۔۔آرہے ہیں۔۔ بس آپ دعاکریں میری بچت ہوجاۓ۔ موباٸل ساٸیڈ پے رکھتے آج نجانے کیوں اسکا اعتماد ڈگمگا رہا تھا۔ شاید اپنی غلطی پے اسکا یہی حال ہوتا تھا۔
کچھ ہی دیر میں آفتاب اندر آتا دیکھاٸ دیا۔ وہ رش ڈراٸیونگ کرتا وہاں پہنچا تھا اور کنول کولےکے شدید غصہ میں تھا۔ اسکے آتے ہی کنول اپنی سیٹ سے کھڑی ہوٸ۔
کیا ہے یہ سب۔۔۔؟؟اس وقت یہاں۔۔؟؟ اور۔۔ صدیقی صاحب آپ۔۔۔؟؟ آپ بھی یہیں ہیں؟
توپوں کا رخ صدیقی صاحب کی طرف ہوا۔ تو وہ گڑبڑا گۓ۔
انکی کوٸ غلطی نہیں۔ غلطی مجھ سے ہوٸ ہے۔۔ کنول نے فوراً سے بیشترکہا۔
آفتاب دانت پیستا کنول کی طرف مڑا۔
آپ کو وقت کا احساس ہے مس کنول؟ سرد لہجے میں پاس آتے پوچھا۔
کنول نے ایک نظر صدیقی صاحب کو دیکھا۔
آپ غصہ نہ کریں پلیز۔۔۔! منماتے ہوٸے سر جھکا کےکہا۔
آفتاب کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت ہی کہاں تھی اسکی۔
ہمممم۔۔۔ کیابوا۔۔؟؟؟
لہجہ اب بھی غصیلہ تھا۔ لیکن لہجہ دھیما تھا۔
ایسے غصے سے پوچھیں گے تو کون بتاۓ گا۔۔۔؟؟ کنول نے منہ بناتے کہا۔
مس کنول۔۔! کیا مسٸلہ ہے؟ بہت ضبط کرتے پوچھا۔
کنول نے فاٸل آگے کر دی۔
یہ۔۔۔یہ کیا ہے۔۔؟؟ حیران ہوتے پوچھا۔
یہ۔۔ یہ وہ فاٸل ہے۔۔ جسے آپ کے پاس لا رہی تھی۔ اور ۔۔آپ نے اتنے زور کی ٹکر ماری۔۔کہ فاٸل گر گٸ۔ اور تمام صفحے آپس میں گڈمڈ ہوگۓ۔ اب۔۔ بیچ میں سے کچھ اہم صفحے ۔۔۔ہی غاٸب ہیں۔۔۔
دھیرے دھیرے سے بتا دیا۔
آفتاب نے فاٸل پے ایک نظر ڈالی۔ اور مڑ کے صدیقی صاحب کو دیکھا۔
آپ کو کس نے کہا یہاں رکنے کے لیے۔۔۔؟آپ جانتے ہیں ناں۔ اس وقت آپ کا اپنے گھر ہونا ضروری ہے۔ آپ کی مسز کی طبعیت بھی نہیں ٹھیک۔
آفتاب نے پہلے انکی طرف دیکھتےکہا۔
جی سر۔۔! وہ مس کنول کی وجہ سے۔۔؟ تاویل پیش کی۔
آپ جاٸیں۔ آفتاب نے ان سے سپاٹ انداز میں کہا تو وہ کنول کے اشارے سے منع کرنے کے باجود سر جھکاۓ نکل گۓ۔
اور آپ۔۔۔؟؟ کنول کی طرف مڑا۔ جس کا سانس پہلے ہی خشک تھا۔ جھٹکے سے پیچھے ہوٸ۔
فاٸل کو ٹیبل پے پٹخا۔
آپ کو اپنا کوٸ خیال نہیں۔۔إ اس وقت آپ یہاں بیٹھی ہیں۔ کوٸ اونچ نیچ ہوجاتی پھر؟
آفتاب نے ہر ممکن طریقے سے خود پے قابو رکھتے اسے دیکھتے کہا۔
کنول کا دل بہت زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔
چلیں۔۔! آفتاب نے لب بھینچتے اسکا جھکا سر دیکھا تو گہرا سانس خارج کرتا بولا۔
کہاں۔۔؟؟ برجستہ نظر اٹھا کے سوال کیا۔ اور اسی پل دونوں ہی کی نظریں ملیں۔
دونوں ہی کے الفاظ گم ہوگۓ۔
آپ کو ہاسٹل چھوڑ دوں۔ دھیمے لہجے میں کہا۔
لیکن۔۔۔۔یہ۔۔فاٸل۔۔۔؟؟ کنول کے منہ پے بارہ بجے۔
آپ نے مجھے بتا دیا۔ بات ختم۔ اب میں جانو۔ اور یہ فاٸل۔ آپ چلیں۔
آفتاب دوبارہ سے روڈہوا۔
کنول نے جان کی خلاصی پانے پے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ اور خاموشی سے بیگ اٹھایا۔ آفتاب کے آگے سے ہوتی باہر نکلی۔ آفتاب بھی اسی کے پیچھے نکلا۔
دونوں گاڑی میں بیٹھے۔ اب کی بار خاموش تھے۔
ہاسٹل کے باہر گاڑی روکی۔
آپ سے مجھےایسی لاپرواہی کی توقع نہ تھی۔ مس کنول۔۔۔! آٸندہ کچھ بھی ہو جاۓ آفس آورزز کے بعد آپ آفس میں نہیں رکیں گیں ۔
سختی اور فکر سے کہتا وہ آج پہلی بار کنول کے دل کے تار چھیڑ گیا ۔
اثبات میں سر ہلاتی وہ فوراً گاڑی سے نیچے اتری اور ہاسٹل کے اندر داخل ہوگٸ۔ آفتاب کا رخ اب گھر کیجانب تھا۔ جسے ہی وہ خان ولا میں داخل ہوا۔ کھڑکی سے کسی نے اسے آتے دیکھا ۔
اور پھر غاٸب ہوگیا۔ آفتاب کا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔
اسے فاٸل خود سے اب دوبارہ تیار کرنی تھی۔ جو اسکی یو ایس بی میں تھی۔ اس پے اچھا خاصا وقت لگ جانا تھا۔ لیکن وہ گھبرانے والوں میں سے تھوڑی نہ تھا۔











آپ مأنیں یا نہ مانیں۔۔ میں آپ ک بتا رہی ہوں۔۔ شہیر کے غاٸب ہونے میں اس آفتاب کا ہی ہاتھ ہوگا۔
کھڑکی سے آفتاب کو پہلےجاتے اور پھر کچھ دیر بعد واپس آتے دیکھا۔ تو خانم غصے سے لال پیلی ہو رہی تھیں ۔
دیکھیں خانم۔۔! آفتاب کا اس سب سے کیا لینا دینا۔۔؟؟ اور اگر۔۔ جیسے آپ نے کہا۔ اس کا ہاتھ ہے بھی۔۔ تو۔۔ ہمارے پاس کوٸ ثبوت نہیں۔۔ اس کے خلاف۔۔ ! اور بنا ثبوت کے۔۔ ہم اس پے انگلی کیسے اٹھاٸیں۔ جانتی ہیں ناں آپ۔۔؟؟ جب اسکا دماغ پھرتا ہے۔۔ تو پھر وہ کسی کی نہیں سنتا۔
ارباز خان کچھ عرصہ پہلے ہوۓ واقعے کے زیر اثر بولے تھے۔
لیکن یاد رکھیے گا۔ اگر شہیر کے غاٸب ہونے کے پیچھے اسکا ہاتھ ہوا۔ تو میں اسے چھوڑوں گی نہیں۔
انگلی ا ٹھا کے کہتیں وہ ارباز خان کو سوچنے پے مجبور کر گٸیں۔
وہ اس وقت ایسی پوزیشن میں نہ تھے کہ آفتاب سے پنگا لے سکتے۔ وہ بزنس کی دنیا کا کامیاب اور نیا ابھرتا ہوا ستارہ تھا۔ بہت حد تک وہ خود کو مضبوط کر چکا تھا۔ اور اوپر سے اسکا غصہ والے پاگل پن۔ وہ تو اس سے دور ہی رہتے تھے۔ جتنا وہ دیکھنے میں شانت نظر آتا تھا۔ اندر سے وہ اتنا ہی بپھرا ہوا شیر تھا۔















شاپنگ کے بعد وہ سب میکال کے بتاۓ ہوۓ ریسٹورینٹ میں پہنچ گٸے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں میکال بھی وہیں پہنچ گیا۔ فضا اسے دیکھ تھوڑی نروس ہوٸ ۔ لیکن میکال نے کوٸ ری ایکٹ نہ دیا ۔
موباٸل پے بزی لگا۔
آپ لوگ آرڈر کریں۔ میکال نے فون کان سے لگایا ۔
یار کہاں ہو آپ؟ کب پہنچو گے؟ کالملتےہی میکال کی آواز آٸ۔ وہ سب حیران ہوۓ۔اوربھی کس کو بلایا ہوا ہے؟
ٹھیک ہے پانچ منٹ کا مطلب پانچ منٹ ہی ہوں۔
کہتے وہ کال بند کرتا انکی طرف متوجہ ہوا۔
آرڈر کیوں نہ کر رہے آپ لوگ؟
آپ نے اور کسی کو بھی بلوایا ہوا ہے۔ میکال بھاٸ؟
شامی کو تجسس ہوا۔
ہمممم۔۔ وہ۔۔۔؟؟؟ ابگی بات اسکے منہ میں تھی۔ کہ سامنے سے شہیر عابی کے ساتھ آتا دکھاٸ دیا۔
لو آگیا۔ میکال اٹھ کے اسکی بغل گیر ہوا۔
اتنی دیر لگا دی۔۔؟؟ شہیر اور عابی کو بھی چیٸر پیش کی۔
بس وہ ۔۔ٹریفک میں پھس گٸے تھے۔ شہیر نے کہتے ہوٸے ایک نظر ان تینوں پے ڈالی۔ جہاں فضا مسکراٸ۔ جبکہ شامی نے نظریں پھیریں۔ اور انابیہ۔۔؟؟ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ وہیں سامنے پھولوں کے گلدان کو دیکھتی رہی۔
یار۔۔ آپ کو منع کیا تھا۔۔۔ نہ بلاٶ۔۔ اچھا نہیں لگتا۔ یہ آپکا گیٹ ٹو گیدر ہے آپ نے ہمیں بلا کے ایسے ہی رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔
ایسا کچھ نہیں شیری ۔۔ ! تم بھی ہمارے فیملی ممبر ہو۔۔ اور پلیز یہ پرایوں والی باتیں نہ کیا کرو۔
ویٹر۔۔۔!کہتے ہی میکال نے ویٹر کو پکارا۔
مینو کارڈ لیتے سب مزے سے اپنا اپان آرڈر دینے لگے۔ اور خوش گپیوں میں لگ گٸے۔
میکال اور شیری بزنس سے ریلیٹ بات کرتے رہے۔ شامی انا کے ساتھ ادھر ادھر کی باتوں میں لگا رہا۔ جبکہ فضا عابی کو کنپنی دیتی رہی۔
کچھ ہی دیر میں ویٹر ڈنر سرو کر گیا۔
ڈنر کرتے شہیر نے ایک اچٹتی نگاہ انابیہ پے ڈالی جو کھا کم رہی تھی۔ جبکہ پلیٹ میں چمچ زیادہ ہلا رہی تھی۔
چلو بھٸ یہ تو طے ہوا۔ کل گھومنے چلیں گے۔
میکال نے کھانا ختم کرتے ان سب کو دیکھتے کہا۔
گھومنے۔۔؟؟ شیری کو چھوڑ وہ سب حیران ہوۓ۔
گھر میں شادی ہے۔ اور گھومنے۔۔؟ کوٸ لاجک سمجھ نہیں آٸ آپ کی؟ انا نے سوالیہ انداز سے پوچھا۔
اپنی مسز کی اس بات پے شہیر کی نظریں بے اختیار اس پے اٹھیں ۔
ہاں بھٸ۔۔ شادی کیا کہتی ہے۔۔؟؟ کہ گھومنا پھرنا چھوڑ دو۔۔؟؟ خیر۔۔ سب کچھ اپنی جگہ۔ جب سے شہیر آیا ہے۔ کہیں لے کے ہی نہیں گۓ۔ اسے۔۔ ! لاہور گھومانے۔۔ کل چلتے ہیں۔ مینارِ پاکستان اور ۔۔ بادشاہی مسجد۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟
اور واپسی پے جواۓ لینڈ۔! بہت مزا آۓ گا۔۔ !
عابی نے بھی خوش ہوتے لقمہ دیا۔ شامی نے دانت کچکچاتے اسے دیکھا۔
میکال کی جگہ کوٸ اور ہوتا تو شاید بھی کوٸ نہ کوٸ بہانہ بنا لیتے۔ لیکن میکال کے آگے وہ مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
مجھے واش روم جانا ہے۔۔ انا چلو میرے ساتھ۔
فضا اسے گھسیٹ کے ساتھ لے گٸ۔ باقی باتوں میں مصروف رہے۔
چلیں۔؟
فضا واش روم سے باہر نکلی۔ تو انا نے اسے دیکھتے پوچھا۔
ارے یار۔۔۔! یہ دیکھو۔۔ یہ شاپ والے نے غلط سینڈل دے دٸےہیں۔ ایک کام کرتی ہوں۔ تم یہیں رکو۔ میں چینج کر کے آتی ہوں۔
فضا کہتی آگے بڑھی۔
میں بی چلتی ہوں آپ کے ساتھ۔
انا نے اسکے ساتھ قدم بڑھاۓ۔
ننننہیں۔۔۔۔۔ تم یہیں رکو۔ میں بس ابھی گٸ ابھی آٸ۔
مسکرا کے کہتی فوراً وہاں سے نکلی۔ انا وہیں کھڑی ویٹ کرنے لگی۔
ہاۓ۔۔ میرا پیٹ۔۔؟؟ بہت درد ہورہا ہے۔۔۔!
فضا نے ٹیبل کے قریب پہنچتے دہاٸ دی۔
کیاہوا۔۔؟؟ ابھی تک تو ٹھیک تھی۔ اور۔۔انا ۔۔؟؟ وہ کہاں ہے۔۔؟
یہ۔۔۔یہ مچھلی کھاٸ ناں۔۔ اس لیے۔۔ بہت۔۔ اف۔۔ مجھے ۔۔ہاسپٹل لے چلو۔۔۔ فضا پیٹ پے ہاتھ رکھے دہری ہوتی جا رہی تھی۔
جبکہ ایک ہاتھ عابی کے کاندھے پے رکھا تھا۔
چلیں۔۔ ہاسپٹل چلتےہیں۔۔ ابھی۔ میکال نے فوراً سے کہا ۔
لیکن۔۔انا۔۔؟؟ شامی کو اسکی فکر ہوٸ۔
وہ وہیں ہیں۔۔ واش روم ۔۔۔! شامی پلیز۔۔ چلو۔۔۔! بہت درد ہے۔۔۔! کہتے ہی فضا نے مزید دہاٸ دی۔
لیکن۔۔انا کو تو لے آٶں۔۔۔! شامی پریشان ہوا۔
وہ۔۔۔ شہیر لے آٸے گا۔۔ تم چلو۔۔ جلدی کرو۔۔۔! فضا نے اسے آگے کیا اور عابی کے کاندھے پے ہاتھ رکھے باہر نکلتے میکال کو آنکھ ماری۔ وہ تو اپنی زوجہ کی اس ایکٹنگ پے عش عش کر اٹھا۔
شہیر۔۔ ! وہ انا؟
ارے میکال بھاٸ آپ جاٸیں میں لے آٶں گا۔ انابیہ کو۔
شیر نے فوراً بات کاٹتے کہا۔ تو وہ شہیر کاکاندھا تھپکتا وہاں سے ان کے پیچھے نکلا۔
جبکہ شہیر کا رخ اسطرف تھا۔ جہاں انا تھی۔
کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب فضا نہ آٸ تو وہ باہر نکل اسے ڈھونڈتی آگے بڑھی ۔ کہ سمنے سے شیر آتا دکھاٸ دیا۔ اسے دیکھ ایک لمحے کو انابیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸ۔
جبکہ شہیر اتنے ہی اعتماد سے اسکی جانب بڑھا ۔














ہاسپٹل پہنچتے کافی وقت لگ گیا تھا۔ ڈاکٹر کےروم میں وہ میکال کو ساتھلےکے گٸ تھی۔
پول جو کھلنے کا خطرہ تھا۔
کمال کی ایکٹر ہویار۔۔؟؟ اندر آتے ڈاکٹر کو نظر انداز کرتے میکال نے اسے داد دی۔
آپ کے کہنے پے کیا ہے یہ۔۔سب۔۔! اور ہاں۔۔ بھولیے گا مت۔۔ آٸسکریم کا وعدہ۔
فضا نے اسے یاد کروایا۔ جہنوں نے میسجز پے ہی ساری بات کرتے پلان بنایا تھا۔
ویٹ آمنٹ؟ آپ میں سے پیشنٹ کون ہے ؟
ڈاکٹر نے حیرانی سے پوچھا۔ تو وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔















نجانے انا ملی بھی ہوگی۔۔یا نہیں۔۔؟ یہ نمبر کیوں نہثس لگ رہا انا کا ؟ شامی کو غصہ آرہا تھا ۔
مل گٸ ہوں گی۔ اتنی فکر کیو ں کر رہے ہیں۔ شہیر بھاٸ ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ آپ انہیں فون کر لیں ۔
عابی نے لاپرواہی سے بینچ پے بیٹھے شامی کو نادر مشورہ دیا۔
تم ناں۔۔؟؟ اپنے آپ کو ہمارے گھر کے معاملات سے دو رکھا کرو سمجھی۔ شامی نے اپنا غصہ اس پے اتار دیا۔
ہاۓ ہینڈسم۔۔۔! کیسے ہو۔۔؟ یہاں۔۔؟؟ خیریت ہے ناں۔۔؟
ایک لیڈی ڈاکٹر نے شامی کو دیکھتے بہت پیار سے کہا۔
شامی آواز پے مڑا تو عابی کی نظریں بھی اس طرف اٹھیں۔ وہ بہت ہی ینگ لیڈی ڈاکٹر تھی۔ نہایت خوب صورت۔
اوہ۔۔۔ مس منزہ۔۔! آپ یہاں۔۔ ؟ ہاٶ آر یو۔؟ شامی کا لہجہ فوراً بدلا۔
می فاٸن۔۔! تم یہاں کیسے؟ بہت ہی پیار بھری نظر ڈالتے پوچھا۔
وہ دراصل سسٹر کو پین تھا۔تو۔۔؟؟
یہ آپ کی سسٹر ہیں۔۔۔؟؟ فوراً سے عابی کی طرف دیکھتے اشتیاق سے پوچھا۔ عابی تو گڑبڑا ہی گٸ۔
ارے نہیں۔۔ سسٹر ۔۔ڈاکٹر کے روم میں ہیں۔ یہ ۔۔ تو ۔۔کزن ہے۔
شامی نے آخری بات دھیمے لہجے میں کہی۔
اوہ۔۔۔! کسی بھی قسم کی کوٸ بھی مدد چاہیے ہوٸ تو پلیز مجھے کہنا۔ یہ میرے بابا کا ہاسپٹل ہے۔
وہ لڑکی شامی کے کان کے پاس جاتے بہت مسکرا کے بولی۔ عابی کے ماتھے پے بل پڑے ۔
اوہ۔۔ شیور۔۔۔! شامی نے مسکرا کے اثبات میں سر ہلایا۔
میم۔۔آپ کو سر بلا رہے ہیں۔
کسی نرس نے آکے منزہ سے کہا۔ تو وہ شامی کو الله حافظ کہتی پیار سے دیکھتی چلی گٸ۔
اسکے جانے کے بعد شامی نے عابیکو ایک نظر دیکھا۔ جس کا رنگ ماند پڑ چکا تھا۔
سر جھٹک کے پھر سے انا کو کال کرنے لگا۔
جاری ہے۔
