Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 16)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
آپ۔۔۔ اور میں۔۔ ایک روم میں۔۔ کیسے سو سکتے ہیں؟
کنول شش و پنج میں پڑی ہوٸ تھی۔
جیسے سب ہزبینڈ واٸف سوتے ہیں۔۔۔ !
کلاٸ سے گھڑی اتار کے ساٸد پے رکھتے نارمل انداز میں کہا۔
وہ اور بات ہوتی ہے۔۔ ہمارا تو۔۔ وہ سین ہی نہیں۔۔ کنول زچ آٸ۔
اچھا۔۔۔۔۔ کیا سین چاہتی ہو۔۔؟ آفتاب اسکے پاس آیا۔ کنول دانتوں سے لب کاٹنے لگی۔جو کہ آفتاب کو ناگوار گزرا۔
یہ کام۔۔میں بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔! ذومعنی انداز میں کہتے اسکےلبوں پے نگاہیں جماٸیں۔
ایک منٹ کےلیے تو کنول کو سمجھ ہی نہ آٸ بات۔اگلے لمحے حیرت سے اس بے باک شخص کو گھور کے دیکھا۔
آپ ۔۔۔۔میرے لیے دوسرا روم۔۔۔؟؟
مسز۔۔۔! آپ اسی روم میں سوٸیں گیں ۔ سمجھیں آپ۔۔۔! بات کاٹتے رخ بدل کے کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالے۔
لیکن۔۔ آپ نے کہا تھا۔۔ بنا کسی شرط کے آپ کے ایپارٹمنٹ میں۔۔۔ اور حق سے خان ولا میں۔۔ پھر۔ یہ ایک کمرے کی شرط کیوں۔۔؟؟
وہ دوبدو ہوٸ اور سامنے آٸ۔
اسکے ماتھے کے بل آفتاب نے آنکھ ترچھی کر کے دیکھے۔
یہ شرط نہیں۔۔۔ ایک سمپل سی بات ہے۔۔ تم۔۔ میرے ساتھ اسی روم میں رہو گی۔ اتنا بڑا کمرہ ہے۔۔۔ الگ روم کی وجہ۔۔؟
آفتاب اسکے پاس ہوتا گھورتے بولا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔
میں۔۔کمفرٹیبل نہیں۔ ۔۔۔! نظریں چراتے کہا۔
اچھھھھھا۔۔۔ شوہر کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں۔۔۔؟ آفتاب نے دانت پیستے کہا۔
شوہرنہیں۔۔ زبردستی کا شوہر۔۔ آپ نے خود کو ۔۔مجھ پے مسلط کیا ہے۔
کنول کی بات پے آفتاب طیش میں آگیا۔ ہاتھ میں پکڑے کپڑے صوفے پے پھینکے۔
کیا مسلط کیا خود کو۔۔؟ تمہارے ساتھ زور زبردستی کی۔۔؟یا تم سے اپنے شوہر ہونے کے حقوق حاصل کرنے چاہے۔۔۔؟؟ یا کوٸ ظلم و تشدد کیا۔۔۔؟ بولو۔۔؟؟ نکاح کیا ہے۔۔ باقاعدہ شرعی طریقے سے۔ اور۔۔ اس میں تمہاری رضا مندی شامل تھی۔
قدم بقدم اسکی جانب بڑھاتا وہ اسے بیڈ تک لے آیا۔ اور وہ یکدم بیڈ پے گری۔
آٸندہ لفظوں کا انتخاب سوچ سمجھ کے کرنا۔۔! غصے سے اسے وارن کرتا پیچھے ہٹا۔ صوفے سے اپنے کپڑے اٹھاٸےاور باتھ روم میں گھس گیا۔ کنول وہیں پیچ و تاب کھاتی رہ گٸ۔
فوراً سے موباٸل سے وہ سم بند کی جس سے وہ کے کے سے بات کرتی تھی۔
بیڈ پے بیٹھتے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اور بیڈ کرواٶن سے ٹیک لگا لی۔
اپنا احتساب کرنے لگی۔ لیکن بیٹھے بیٹھے ہی وہ نیند کی وادیوں میں کھونے لگی ۔
آفتاب کمرے میں آیا تو وہ اسےبیٹھے ہوۓ سوتا پایا۔ حیرت سے چلتا اسکے پاس آیا۔ اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھتے اسکے چہرے کے پاس جھکا۔ اور اسکے چہرے کے نین نقش کو بہت فرصت سے دیکھنے لگا۔
اپنے دل کی ایک ہارٹ بیٹ مس کی۔ آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں۔ وہ ویسے ہی سو رہی تھی۔
کیا بات ہے مسز۔۔۔ آپ۔۔۔۔بیٹھے بیٹھے بھی سو جاتی ہیں۔۔؟نجانے اور کتنی خوبیاں ہیں آپ میں۔۔ جو دھیرے دھیرے سامنے آٸیں گیں۔
دھیرے سے کہتے ہوۓ کنول کے چہرے پے پھونک ماری۔ تو وہ کسمساتی ہوٸ رخ پھیر گٸ۔
آفتاب نے اسکے گلابی گال دیکھے تو شدت سے جی چاہا ان پے اپنی شدت دکھاۓ۔ لیکن کچھ سوچتے ہوۓ پیچھے ہٹا۔ اور کنول کو دھیرے سے اپنی گود میں اٹھا کے بستر پے لٹایا۔ وہ گہری نیند میں تھی۔ اس لیے کوٸ خیل خجت نہ کی۔
اس پے اچھی طرح کمفرٹر ڈال خود لیپ ٹاپ لے کے بیٹھ گیا۔
کافی دیر یونہی کام کرتے گزر گٸ۔ ٹاٸم پے نظر پڑی تو۔۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
لیپ ٹاپ بند کرتا اور لاٸٹ آف کرتے وہ ساٸیڈ لیمپ آن کر گیا۔
اور کنول کی طرف کروٹ لے کے اسکے چہرے پے نظریں جماۓ سونے کی کوشش کرنے لگا۔ جو کہ آج تو مشکل سے ہی آنی تھی۔
وہ کنول کو خان ولا لے جانا چاہتا تھا۔ لیکن پہلے وہ تبسم خان کو اپنے اعتماد میں لے کےانہیں نکاح کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔ تا کہ وہ اسکا ساتھ دیں۔
اسے باقی کسی کی پروا نہ تھی۔ اسکے بعد ہی وہ کنول کے قریب جانا چاہتا تھا۔
سوچتے ہوۓ وہ بھی نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔











میں نے بھی یہی سوچا ہے۔ کہ آپ کا اور انابیہ کا گرینڈ ریسپشن کروانا چاہیے۔ تا کہ سب لوگو کو پتہ چلے۔ کہ ہماری بہو آٸ ہے۔
خانم نے پیار سے پاس بیٹھے شہیر کے گال پے پیار کرتے کہا۔ انابیہ نے شرما کے نظریں جھکا لیں ۔
آپ کی مما جان ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔ کیوں نہ کل ہی۔۔۔؟ یہ نیک کام کر لیں۔۔؟؟ ارباز خان نے راٸے دی ۔
آپ کی بات ٹھیک ہے۔۔ بابا۔۔ لیکن۔۔۔ دیجے کےبنا کچھ۔۔؟؟
بیٹا۔۔۔! ایک بار ولیمہ ہو جانے دو۔۔۔ پھر دیجے کو بھی جا کے لے آٸیں گے۔۔ منانا پڑا مناٸیں گے۔ پاٶں بھی پڑنے پڑے تو پڑ جاٸیں گے۔ اور مجھے یقین ہے۔۔ وہ آجاٸیں گیں۔ لیکن۔۔ ابھی یہ ولیمہ بہت ضروری ہے۔ تا کہ یہاں کراچی کے فرینڈز سرکل میں سب کو پتہ چل جاٸے۔ اور انابیہ کا رتبہ بھی سب کو پتہ چل جاٸے۔۔
ارباز خان نے اپنی پلاننگ بتاٸ۔
اور ویسے بھی جب د جے آجاٸیں گیں تو ایک بار پھر سے گرینڈ سرمنی کرلیں گے۔۔۔!
کس دل سے خانم نے یہ کہا۔ یہ بس وہی جانتی تھیں۔
شہیر نے ایک نظر انابیہ کو دیکھا ۔
ٹھیک ہے۔۔ جیسے آپ کی مرضی۔
مسکراتے ہوۓ ماں باپ سے کہا۔ اور ان دونوں کے چہرے پے ایک مخصوص چمک تھی۔ جو شہیر نہ دیکھ پایا۔
اولاد کو ماں باپ پے بھروسہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے سب لوگوں کے ساتھ چال کھیل سکتے ہیں۔ لیکن۔ اولاد کے ساتھ نہیں۔۔ لیکن۔۔ کچھ والدین ۔۔ ارباز اور خانم جیسے بھی ہوتے ہیں۔ جو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اولاد کا بھی استعمال بخوبی کرتے ہیں









کنول ۔۔؟؟ کیاکر رہی ہو۔۔؟؟
مما۔۔۔؟؟ سفید کپڑوں میں اسکی مما اس سے ناراض سی تھیں۔
مما۔۔آپ ۔۔؟؟ کنول کے آنسو بہہ نکلے۔
کنول۔۔؟؟ اپنے مقصد کو پانے کے لیے۔۔ غلط راستے کا انتخاب کیوں کیا۔۔؟ وہ دکھی تھیں۔
نہیییں۔۔۔۔ مممما۔۔۔۔؟؟ کنول کے آنسو بہے جا رہے تھے۔
وہیں رکو۔۔۔! کنول ماں کی طرف بڑھنے لگی۔ کہ ہاتھ اٹھا کے روک دیا۔
یہ شخص۔۔اس کا کیا قصور۔۔؟؟ اسے کیوں مہرہ بنایا۔۔؟؟ ایک شخص کا ہاتھ تھامے اسے کنول کے سامنے لا کھڑا کیا۔
کنول کے تو دل کی دھڑکن ہی رک گٸ۔ وہ اور کوٸ نہیں آفتاب تھا۔
جو ایک ٹک کنول کو یکھے جا رہا تھا۔
جب وہ سب کچھ ہوا۔۔ تب۔۔ یہ بھی بچہ تھا۔۔۔! اسے کیا پتہ ۔۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟ اس کا استعمال کیوں کیا۔۔؟ پاس کھڑی ماں نے جواب مانگا۔ کنول نے پلٹ کےماں ک دیکھا۔ جو اب آہیستہ آہیستہ دور ہوتی جا رہی تھیں۔
کنول ان کے پیچھے بھاگی۔ لیکن ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ آفتاب بھی نہیں تھا۔۔ہر طرف دیکھا۔ کچھ نظر نہ آیا۔
بس بھاگے چلی جا رہی تھی۔
مما۔۔۔۔مما۔۔۔۔؟؟ پلیز۔۔ واپس آجاٶ۔۔۔ مما ۔۔پلیز۔۔۔ ؟؟؟
وہ روۓ جا رہی تھی۔ اور ورتے ہوۓ بستر سے بھی اٹھ گٸ۔ وہ اب باقاعدہ چلانے لگی۔ کہ آفتاب کی آنکھ کھل گٸ۔ وہ بیڈ سے نیچے گر جاتی۔ آفتاب نے ایک جست میں اسے جا لیا ۔اور اپنے سینے سے لگایا۔
وہ مسلسل مچلے جا رہی تھی۔
مما۔۔۔مما۔۔۔ مت جاٸیں۔۔ مجھے۔۔ چھوڑ کے۔۔۔ پلیز۔۔۔ مت جاٸیں۔
وہ آنکھیں بند کیے روتے ہوۓ خود کو چھڑا رہی تھی۔ لیکن آفتب کی گرفت سخت تھی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ ضرور اس نے کوٸ خواب دیکھا ہے۔اوروہ ایسے ری ایکٹ کر رہی ہے۔
شیییییی۔۔۔۔ کنول۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ ہوا۔۔۔۔
مما۔۔۔؟؟؟وہ۔۔وہ آٸیں۔۔ تھیں۔۔۔ دھیرے سے آنکھیں کھولتے روتے ہوۓ آفتاب کے آگے وہ کھلنے لگی۔
وہ۔۔وہ مجھ سے۔۔۔ ناراض ہیں۔۔ وہ۔۔۔؟؟؟؟
کنول مزید بول نہیں پا رہی تھی۔
کیوں؟ کیوں ناراض ہیں وہ۔۔؟ آفتاب کی گھمبیر آواز نے اسے ہوش کی دنیا میں لاپٹخا۔ آنکھیں پھاڑے وہ حیرت سے اپنے اوپر جھکے شخص کو دیکھنے لگی۔
یہ شخص۔۔اس کا کیا قصور۔۔؟؟ اسے کیوں مہرہ بنایا۔۔؟؟
الفاظ کی بازگشت پھر سے ہوٸ۔
ممججھھے۔۔۔ نیند آرہی ہے۔۔۔ کہتے ہی کروٹ بدلی۔
جب وہ سب کچھ ہوا۔۔ تب۔۔ یہ بھی بچہ تھا۔۔۔! اسے کیا پتہ ۔۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟ اس کا استعمال کیوں کیا۔۔؟
آنکھیں بند کیں تو پھر سے سب دماغ میں گردش کرنے لگا۔
یہ بچہ۔۔؟؟ وہاں رہا۔۔ جہاں میری جگہ تھی۔۔۔
اس بچے نے حق مارا۔۔ اس ایک ماہ کی بچی کا۔۔۔ !
کنول کی آنکھیں پھر سے خاموشی آنسو گرانے لگیں۔
اور اسکی سزا اس شخص کو ضرور ملے گی۔
ہاتھ کی بیک سے آنسو پونچھتے وہ مضبوط اندازمیں خود سے عہد کر رہی تھی۔
جبکہ دوسری طرف آفتاب کا دماغ اسکی باتوں پے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔
ضرور کوٸ بات کوٸ گہرا راز تھا۔ جو کنول نے اپنے اندر چھپایا ہوا تھا اور وہ اس تک پہنچنا چاہتا تھا۔







کیا ہوا۔۔؟؟ تم خوش نہیں۔۔۔؟؟ لاٸٹ آف کرتے اسکے پاس بستر پے آتے انابیہ کی خاموشی کو نوٹ کرتے وہ بالآخر پوچھ بیٹھا ۔
شہیر۔۔۔۔؟؟ ممانی جان۔۔۔ اتنی آسانی سے کیسے یہ سب۔۔۔؟؟ کیا واقعی۔۔۔ وہ ؟؟ دل سے یہ سب۔۔؟؟
اگر کر رہی ہیں۔۔ تو۔۔ یقین کر لینے میں کوٸ حرج نہیں۔۔
انابیہکا ہاتھ پیار سے تھاما۔ تو اس نے اپنا سر شہیر کے کاندھے پے ٹکا دیا۔
دی جے کی کمی۔۔۔ امی ابو۔۔۔؟؟ کوٸ بھی تو۔۔ نہیں ہوگا۔۔؟؟ عجیب سا لگ رہا ہے۔۔سب۔۔؟؟ انابیہ کی چھٹی حس اسے خبردار کر رہی تھی۔کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔
ابھی کے لیے جو ہور ہا ہے۔۔ ہو جانے دو۔۔ میں ہمارا رشتہ مضبوط کرنا چاہتا ہوں۔۔ انابیہ۔۔۔! گھمبیر آواز میں کہتا وہ انابیہ کا دل دھڑکا گیا۔
لو دیتی آنکھیں۔ انابیہ زیادہ دیر ان میں نہ دیکھ سکی۔ تو نظریں جھکا لیں۔
شہیر نے اپنا چہرہ انابیہ کے بالوں میں چھپایا۔ آنکھیں موندے وہ اسکے وجو کی مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا۔
شہہہیر۔۔۔۔ ؟؟
شہیر کے دہکتے لب اپنی گردن پے محسوس ہوۓ تو وہ تڑپ ہی گٸ۔
شہیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
وہ۔۔۔وہ۔مجھے۔۔ نیند آرہی ہے۔۔۔! کہتے ہی مفرآر اپنے اوپر اوڑھ کے دھڑکتے دل سے خود ک چھپا لیا ۔
شہیر نے نفی میں سر ہلایا ۔
جانِ خان۔۔۔ صرف آج تک۔۔۔ جو چاہے کر لو۔۔۔ کل سے ایک نہیں سنوں گا۔۔۔! سمجھی۔۔ اپنے پیچھے شہیر کی سخت آاواز پے اس نے اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالا کہ اتنے میں شہیر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے سینے سے لگایا۔
اور آنکھیں موند لیں ۔
زرا کا زرا سر اٹھا کے شہیر کو دیکھنا چاہا۔
آن۔۔۔؟؟ سو جاٶ۔۔۔ ورنہ۔۔ ؟؟
اسکی بات ادھوری رہ گٸ۔ انابیہ نے سر جھکا کے آنکھیں موند لیں۔
شہیر نے اسے مزید خود میں بھینچا ۔ لیکن انا کی ہمت نہ ہوٸ کوٸ بھی مزاحمت کرنے کی۔








شہیر انا کو شاپنگ کروانے بہت بڑے مال میں لایا تھا۔ یہ بھی خانم کا حکم تھا۔
شہیر۔۔ پلیز۔۔ اب تھک گٸ ہوں۔۔ پلیز۔۔ گھر چلیں۔۔؟؟
انا نے تھکے انداز میں کہا۔
ہمممم۔۔۔ چلتے ہیں۔۔ شہیر نے موباٸل کان سے لگایا۔
کسے فون کر رہے ہیں۔۔؟؟ ہاتھ سے شاپنگ بیگ دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے پوچھا۔
شہیر نے وہ شاپنگ بیگ اسکےہاتھ سے لے لیے ۔
آفتاب بھاٸ کو۔۔۔! جب سے آۓ ہیں۔ ایک بار بھی ملاقات نہیں ہوٸ۔ گھر بھی نہیں آرہے؟ فون بھی نہیں اٹھا رہے۔۔۔!
ہممممم۔۔۔ میں نے بھی یہ نوٹ کیا ہے۔ وہ واقعی گھر نہں آتے کیا۔۔؟؟ انابیہ بھی پریشان ہوٸ۔
چلو۔۔۔ بعد میں کال کرتا ہوں۔۔ کیا کھاٶ گی۔۔؟؟ بھوک لگی ہوگی۔۔؟؟ شہیر کو اسکے چہرے پے پریشانی اچھی نہ لگی۔
ہممم۔۔۔۔ بھوک تو واقعی بہت لگی ہے۔۔ انا نے مسکراتے ہونٹ پھلا کے کہا۔ تو شہیر اسے ایک بڑے ریستوران میں لے کے آیا۔
شام ہورہی تھی۔ اور اب گھر بھر میں ریسپشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ پارلر والی نے گھر ہی آنا تھا ۔ انابیہ کو تیار کرنے۔ بس شہیر کی شاپنگ ہی مکمل نہیں ہو رہی تھی۔
تم آرڈر دو۔۔ میں ایک منٹ آیا۔ فون آتا دیکھ وہوہاں سے اٹھا۔ انابیہ مینیو دیکھتی شہیر کا انتظار کرنے لگی
لیکن شہیر واپس نہ آیا ۔ کافی دیر گزر گٸ۔وہ واپس نہ آیا۔ انابیہ اپنی جگہ سے اٹھی۔ اور جہاں شہیر گیا تھا۔ وہاں پہنچی۔لیکن اسطرف کہیں بھی شہیر نظر نہ آیا۔ وہ بہت پریشان ہوگٸ۔
ایسا ۔۔ کیسے۔۔۔کر سکتے ہیں۔۔ شہیر۔۔؟؟ انابیہ کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔ کہ تبھی اسکے موباٸل پے بیپ ہوٸ۔
انابیہ۔۔۔! ایمرجنسی ہوگٸ ہے۔۔ مجھے جانا پڑا۔ کچھ دیر تک ڈراٸیور پہنچتا ہوگا ۔ تم اسکے ساتھ آجانا۔۔۔!
شہیر کے نمبر سے آۓ میسج کو پڑھتے اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گۓ۔
چپکے سے آنسو صاف کیے۔ اور واپس ٹیبل کی جانب بڑھی۔ اور ڈراٸیور کا ویٹ کرنے لگی۔ جبکہ اب کچھ بھی کھانے کو جی نہ چاہا۔
کافی دیر انتظار کرنے پے بھی ڈراٸیور نہ آیا تھا۔ بلکہ۔۔۔ سامنے آفتاب آتا دکھاٸ دیا۔
آفتاب بھاٸ آپ۔۔۔؟؟ انابیہ کو کچھ حوصلہ ہوا ۔ اور اپنی جگہ سے فوراً اٹھی۔
چلو۔۔۔! انابیہ۔۔۔ ! چہرہ سپاٹ تھا۔
آفتاب بھاٸ۔۔۔؟؟ شہیر۔۔۔ وہ کہاں ہیں۔۔؟؟ انابیہ کے دل کو کچھ ہوا۔ آج تو انکا ریسپشن تھا ناں۔۔؟؟ پھر اتنی رات ہوگٸ۔ انابیہ کوکچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔
ہمممم۔۔۔وہ گھر پےہے۔۔! آفتاب نے نظریں چراٸیں۔
وہ۔۔ مجھے یہاں چھوڑ گۓ۔۔۔ اور میری کال بھی مہیں اٹھا رہے۔۔؟؟
گاڑی میں بیٹھتے گلہ کیا۔ آفتاب نے لب بھینچے۔
اور گاڑی اسٹارٹ کی۔ سارا راستہ خاموشی سے کٹا۔
کیا بات ہے آفتاب بھاٸ۔۔۔؟؟ آپ چپ چپ ہیں۔۔؟ سب ۔۔ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ انابیہ کا دل بر طرح دھڑک رہا تھا۔
آفتب نے ایک نظر انابیہ پے ڈالی۔ اور گاڑی روکی۔
یہ۔۔آپ۔۔کہاں۔۔؟؟ لے آۓ ہیں۔۔؟إ یہ خان ولا تو نہیں۔۔؟؟
یہ۔۔۔ میرا گھر ہے۔۔ انابیہ۔۔۔! آٶ۔۔ اندر چلکے بات کرتے ہیں۔۔؟
آفتاب نے نظریں چراتے کہا۔
کیوں۔۔ میں کیوں ۔۔ آپ کے ساتھ اندر جاٶں۔۔؟ مجھے۔۔ خان ولالے کے چلیں۔۔ میرے گھر۔۔۔! انابیہ کو کسی انہونی کا احساس ہو رہا تھا۔
موباٸل پے آتی کال کو دیکھتے آفتاب نے فون انابیہ کی طرف بڑھایا۔
شاہ میر کالنگ۔
شامی۔۔۔؟ انابیہ کو اپنی آواز بھی سناٸ نہ دی۔
انا۔۔۔۔؟؟ جیسا آفتاب بھاٸ کہتےہیں۔۔ بس ویسا کرو۔۔۔ میں پہلی فلاٸیٹ سے آرہا ہوں۔۔ بس۔۔ تب تک۔۔ خود کو سنبھال لینا۔۔ میری بہن۔۔۔!شامی کا لہجہ نم تھا۔
کی۔۔۔کیا۔۔۔ ہوا۔۔؟؟ سب ٹھیک ہیں ناں۔۔ امی ابو۔۔۔؟؟ انابیہ کو انکی فکر ہوٸ۔
یہاں سب ٹھیک ہیں۔۔ بیٹا۔۔بس آپ فکر نہ کرنا۔۔۔ شامی پہنچ جاۓ گا۔۔ کچھ ہی دیر میں۔۔ آپ ۔۔ آفتاب کے پاس ہی رہنا۔۔! جمیلہ خاتون کی روتی آواز ان کے کانوں سے ٹکراٸ۔
آپ ۔۔سب ۔۔۔مجھ سے۔۔۔ کیا چھپا رہے ہیں۔۔؟ انابیہ کی آنکھیں آنسوٶں سے بھرنے لگیں۔
آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا۔
انابیہ۔۔۔! شہیر۔۔۔ ؟؟
کیا ہوا۔۔ شہیر کو۔۔ ؟ وہ۔۔ ٹھیک ہیں۔۔نا۔۔۔۔؟؟ ڈرتے ہوۓ پوچھا۔
شہیر۔۔۔نے۔۔نکاح کر لیا ہے۔۔ عروج سے۔۔۔!
بالآخر کہہ ہی دیا۔
انابیہ کو اپنے کانوں پے یقین نہ آیا۔ ایک لمحے کو وہ ڈگمگاٸ۔ گرنے لگی۔ کہ آفتاب نے آگے بڑھ کے اسے تھاما۔
جبکہ ریلنگ کے پاس کھڑی کنول نے آنکھیں چھوٹی کرتے ان دونوں کو گھور کے دیکھا۔ اور نیچے ان کی جانب بڑھی۔
سنبھالو۔۔ خود کو انابیہ۔۔۔۔! آفتاب شرمندہ تھا بہت خود سے۔
آپ۔۔ کہہ دیں۔ آفتاب۔۔ بھاٸ۔۔۔کہ۔۔یہ سب۔۔۔ جھوٹ ہے۔۔۔! اپنی رکتی سانس کے ساتھ انابیہ بس اتنا ہی بول پاٸ۔
دوسری طرف فون پے فیاض سلطان ہیلو ہیلو کرتے ہی رہ گۓ۔
یہ۔۔سچ ہے۔۔۔ انابیہ۔۔۔! شہیر۔۔۔ یہ سب کرے گا۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ آفتاب نے لب بھینچے۔
کنول جو صبح سے گھر پے ہی تھی۔ اسے بخار تھا۔ آج سارا دن اس نے گھر رہ کے ہی گزارا تھا۔ یہ اور بات تھی۔ کہ آفتاب کی دو کالز اور ایک میسج اسے آیا تھا۔ کہ وہ آفس آۓ۔ لیکن اس نے نظرانداز کر دیا۔
باہرجانے لگی۔ تو سعدی جن کیطرح ساتھ چپک گیا۔ جسکی وجہ سے وہ کہیں بھی نہ جاسکی۔ اور غصہ میں گھر ہی رہی۔ البتہ فون پے اپنے رابطے بحال رکھے۔
رات کو آفتاب کو آتا دیکھ دو ٹوک بات کرنے والی تھی۔ لیکن۔۔۔۔ساتھ میں کوٸ اور لڑکی دیکھ وہ بری طرح چونکی۔ اب جبکہ انکی کچھ باتیں وہ سن چکی تھی۔ تو وہیں پاس کھڑے افسوس سے سر ہلاتی ہی رہ گٸ۔
مجھے۔۔۔ ابھی۔۔ لے کے چلیں وہاں۔۔ بھاٸ۔۔
انابیہ نے روتے ہوٸے کہا۔
فون بند ہو چکا تھا۔ کال دوبارہ آرہی تھی۔ لیکن کوٸ اٹینڈ نہیں کر ررہا تھا۔
نہیں۔۔ انابیہ۔۔۔ ۔! اس وقت وہاں جانا ٹھیک نہیں ہوگا۔۔ ان سب نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب تم نے لاہور واپس جانا ہے۔۔
بس ا۔۔۔۔ایک بار۔۔۔ مجھے۔۔۔ شہی۔۔۔رررر۔۔۔سے ملنے۔۔ دیں۔۔ پھر۔۔ جیسا آپ۔۔۔ سب ۔۔کہیں گے۔۔۔ ویسا ۔۔کروں گی۔۔۔۔! دل بڑا کرتے وہ آنسو صاف کرتی بولی۔
پاگل مت بنو۔۔۔ ! نہیں دیکھ پاٶ گی۔۔ وہ سب۔۔۔! آفتاب نے سمجھایا۔
یہی تو دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ کتنا سہن کر سکتی ہوں میں۔۔ ؟ بنا کسی تاثر کے پرسکون ہوتے بولی۔
میری آخری خواہش سمجھ کے پوری کر دیں۔۔۔؟؟ انابیہ نے حسرت سے کہا۔ تو آفتاب کا دل پسیج گیا۔
اثبات میں سر ہلاتا۔ اسے لیے گاڑی میں بٹھایا۔
جبکہ تھوڑی دور کھڑی نظر کنول سے جا ٹکراٸ۔ لیکن اس وقت وہ اس سے کوٸ بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اسے اگنور کیے خود بھی گاڑی میں بیٹھا۔ اورگاڑی اسٹارٹ کرتا اپنے اپارٹمنٹ سے نکل گیا۔
کنول نے لب بھینچے گہرا سانس خارج کیا ۔
مطلب۔۔ آج۔۔ خان ولاز۔۔۔۔کے حصے میں ایک اور گناہ۔۔۔ ایک۔۔۔ بے قصور۔۔۔ کا دل توڑنے کا گناہ بھی شامل ہو گیا۔۔۔ انہاٸ سفاک اور سنگ دل ہیں۔۔ یہ لوگ۔۔ اور بہت جلد۔۔۔ سب اپنے انجام کو پہنچیں گے۔۔۔
کنول نفرت کی انتہا گہراٸیوں تک پہنچی دل کے اندر لگی آگ کو بجھا رہی تھی۔











گاڑی مین گیٹ پے رکی۔ آفتاب نے ایک نظر خاموش بیٹھی انابیہ کو دیکھا۔اور دوسری نظر روشنیوں میں نہاۓ خان ولا پے ڈالی۔ جو اس وقت دلہن کی طرح سجی ہوٸ تھی۔ آفتاب نے لب بھینچے۔ انابیہ دھیرے سے گاڑی سے اتری۔ آفتاب بھی باہر آیا۔
آپ۔۔۔۔ یہیں۔۔ میرا۔۔۔ انتظار کریں۔۔۔ ! انابیہ نے بنا آفتاب کی طرف دیکھتے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
آفتاب کے بصھتے قدم وہیں تھم گۓ۔ اور اثبات میں سر ہلاتا گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا گیا۔ وہ خود بھی س وقت اندر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسکا اندر جانا ۔۔۔ سب کے لیے ہی خطرہ تھا۔ اور بنا ساری سچاٸ جانے وہ کوٸ ایکشن نہیں لے سکتا تھا۔
انابیہ دھیرے دھیرے چلتی اندر تک پہنچی۔۔
سامنے ہی اسٹیج پے سارے منظر واضح ہونے لگے تھے۔
آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔ آنکھوں نے یقین دلانا چاہا لیکن۔۔ دل تھا کہ مان ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ بس دھڑکے ہی جا رہا تھا۔
لیکن اگلے ہی پل سختی سے اپنے آنسو پونچھتی وہ قدم آگے بڑھا گٸ تھی۔













شادی کی بہت بہت مبارک ہو شہیر خانزادہ۔۔۔ !
سفید کلیوں کے فراک میں سوگورا سا حسن لیے وہ اسکے پاس اسٹیج پے پہنچی۔ اسکی سوگورایت میں بھی حسن کی دیوی کا گمان ہوا۔ کہ ایک پل کو شہیر خانزادہ اسکے روپ سے سخت گھاٸل ہوا۔ کہ اردگرد کا ہوش کھو بیٹھا۔
انابیہ شہیر خانزادہ۔۔! سرد اور گھمبیر آواز۔ کہ حق پے ہوتے ہوۓ بھی انابیہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گٸ۔
مت لیں میرا نام۔۔۔ آپ۔۔۔ کے نام کے ساتھ جڑ کے بے مول ہوگیا ہے۔ آنسو ضبط کے باوجود بے وفاٸ کرتا گال پے لڑھکتا ہوا شہیر کے دل کو زخمی کر گیا۔
ایک نظر شہیر کے ساتھ کھڑی دلہن بنی عروج پے ڈالی۔ جو بہت فخر سے دلہن کے لباس میں کھڑی تھی۔ کہ انابیہ اندر تک ٹوٹ گٸ۔
انا۔۔۔ ! میری بات سنو ۔۔۔ شہیر نے اسکی جانب بڑھنا چاہا کہ وہ اتنے ہی قدم پیچھے ہوٸ۔ اور ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک دیا۔ سبھی کی نظریں اس وقت اسٹیج پے تھیں۔
بس۔۔۔۔! اب کچھ بھی کہنے کو نہیں بچا ۔۔۔۔ شہیر خانزادہ۔۔۔ سب ختم ہو گیا ہے۔۔۔ نٸ زندگی مبارک ہو۔۔۔ ہم۔۔۔میں اب۔۔۔کچھ نہیں بچا۔۔۔ اب سے ۔۔۔آج سے۔۔ ۔۔۔صرف تم ہو۔۔ اور صرف میں۔۔۔
ہم۔۔ کہیں نہیں۔۔۔۔
اپنے آنسوٶں پے بندھ باندھتی وہ اسٹیج سے نیچے اترتی چلی گٸ۔
شہیر کے قدم بھی اسکے یچھے ہی جانے کو بڑھے کہ ساتھ کھڑی عروج نے کلاٸ تھام لی۔
جانے دیں اسے۔۔۔ آج ہمارا ولیمہ ہے۔۔ آپ ولیمہ چھوڑ کے نہیں جا سکتے۔ بظاہر مسکرا کے کہتی۔۔ اسکے اندر انتہا کا زہر بھرا تھا۔
شہیر خانزادہ نے ایک تیز نظر اسکے ہاتھ پے ڈالی۔ اور دوسری اپنی بازو پے۔ ایک سخت تنبیہہ تھی اسکی نظر میں جھٹ سے بازو چھوڑا۔ اور شہیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا خان ولا سے باہرنکلتا چلا گیا جہاں انابیہ گٸ تھی۔
روکا کیوں نہیں اسے۔۔۔!
سامعہ پھوپھو غصہ ضبط کرتے بولیں۔
عروج نے ایک قہر کی نظر ان پے ڈالی۔ جیسے کہہ رہی ہو۔ میں روکتی تو وہ رک جاتا۔۔۔۔













انا۔۔۔ انا۔۔۔ رکو۔۔۔۔! اسے کھینچ کے اپنی جانب موڑا۔ وہ جو یہاں گھر والوں کے منع کرنے کے باوجود یہ سوچ کے آٸ تھی کہ اپنے شوہر کو اسکی شادی کی مبارک دے گی۔ اور دل بڑا کرے گی۔۔ اسے بتاۓ گی کہ اسے کوٸ فرق نہیں پڑا۔۔
جبکہ۔۔۔ اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ اور آنسو بہا کے سامنے کھڑے شخص کو ظاہر کر گٸ۔ کہ اسے فرق پڑتا ہے۔
چھوڑیں۔۔ میرا ہاتھ۔۔۔۔
اسکی بانہوں میں وہ بری طرح مچلی تھی۔ جبکہ وہ اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ کے اسکو اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔
کافی دیر وہ خود کو چھڑاتی رہی۔ لیکن خانزادہ کی مضبوط گرفت سے نہ نکل سکی۔ پھر مزاحمت چھوڑ دی۔ لیکن۔۔ آنسو جاری رہے۔
جانِ خان۔۔۔ !, رونا بند کرو۔۔۔ تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔۔
اس کا آنچ دیتا لہجہ اور بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
گرفت ڈھیلی پڑی تو انابیہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔
دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔! اب آپ ۔۔۔ میرے خان نہیں۔۔۔ آپ نے۔۔ خود کو بانٹ لیا ہے۔۔ جبکہ۔۔ میرا خان۔۔ مر سکتا تھا۔۔۔۔ لیکن خود کو بانٹ نہیں سکتا تھا۔
بس اتنا بھروسہ تھا اپنے خان پے۔۔۔|
اسکے الفاظ نے شہیر کو سخت تکلیف سے دوچار کیا۔
دانتوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے وہ خود پے قابو کرتا اس تک پہنچا۔ انا کا دل زور سے دھڑکا۔
وہ کہاں اس شخص کی آنکھو ں میں دیکھ کے بات کر سکتی تھی۔۔۔۔| شور کرتی آنکھیں۔۔۔۔۔! اسکا اعتماد ہمیشہ ہی چھین لیتیں۔
بھروسہ ہی تو ٹوٹا ہے۔۔۔ وہ بھی بہت بری طرح۔۔ کہ اب۔۔ میں ۔۔میں رہی ہی نہیں۔۔۔!!
وہ کہتی پلٹی ۔ کہ اس بار شہیر نے اسے پیچھے سے ہی کھینچ کے سینے سے لگایا۔ انا نے سختی سے آنکھیں بند کر لیں۔
خان کل بھی اپنی انا کا تھا۔۔ آج بھی اسی کا ہے۔۔ اور ہمیشہ۔۔ اسی کا رہے گا۔۔۔
کان کی لو کو لبوں سے چھوتا وہ جنونی اور ضدی لگا۔
انا کو اپنی دھڑکنوں کا شور کانو ں میں سناٸ دیا۔
آپ جھوٹے ہو۔۔۔ ہچکی لیتے وہ آنکھیں موندے بس اتنا کہہ پاٸ۔
صرف تمہارا ہوں۔۔۔ اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
آپ نے مجھے دھوکا دیا۔۔۔
مجھے۔۔اب۔۔ آپ کے ساتھ کوٸ رشتہ نہیں۔۔ رکھنا۔۔ مجھے۔۔ طلا۔۔۔۔
ابھی اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے۔ کہ شہیر نے اسے گردن سے پکڑ کے اپنی طرف موڑا۔ اور اسکے لبوں کو اپنے شکنجے میں لیا۔ اور سارا غصہ اس کے لبوں پے اتارنے لگا۔وہ تڑپ کے رہ گٸ۔ اسکی سانسیں تھمنے لگیں۔ کہ اسنے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کے اپنا ماتھا اس کے ساتھ جوڑا۔
آج تو یہ بات کہہ دی۔۔ اگر پھر سے یہ الفاظ منہ سے نکالے تو جان لے لوں گا تمہاری۔۔۔
جارحانہ اور جنونی انداز میں کہتا وہ انا کے دل کو بہت بری طرح دھڑکا گیا۔
آپ۔۔۔۔ دغا۔۔باز ہو۔۔۔ !, , بمشکل اسکی ہیزل آنکھوں میں دیکھتی وہ بول پاٸ۔
اور۔۔۔
تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔ !!
اسے خود سے لگاۓ وہ اسے اپنے ہونے کا احساس بخش گیا۔
