Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 35)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan

صبح وہ نکھری نکھری سی۔ کچن میں کھڑی اپنے لیے ملازمہ سے بادام والا دودھ بنوا رہی تھی۔ جو وہ پینا بہت ہی پسند کرتی تھی۔ چہرےپے بکھری دلکش مسکراہٹ نے اندر آتی سفیہ کو چونکا دیا۔ اسکا یہ روپ دیکھ اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ اندر ہی اندر ایک آگ سی بھر گٸ۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ حقارت سے پوچھتی وہ کنول کو مڑنے پے مجبور کر گٸ۔ کنول نے اسے پیاری سی سماٸیل پاس کی۔اسکا حسن دیکھ وہ ایک پل کو مبہوت ہوٸ تھی۔

تھینک یو برکت آنٹی۔ ! دودھ کاگلاس لیتی وہ وہیں کچن میں موجود ڈاٸینگ ٹیبل پے بیھٹی۔

کسی چیز کی ضرورت ہوتو۔۔ بتا دیا کرو ۔ یوں پوری حویلی میں گھومنے کی ضرورت نہیں۔

سفیہ نے منہ بنا کے کہا تو کنول کو اسکی بات پے حیرت ہوٸ ۔

حویلی کی مالکن کہیں بھی آجا سکتی ہے۔ اسے آپ کی پرمیشن کی ضرورت نہیں۔

دودھ کاگھونٹ بھرتی وہ سفیہ کی طرف دیکھتی بہت حق سے بولی تھی ۔

مالکن۔۔؟؟ کسی بھول میں مت رہنا۔ آفتاب شیر خان کی بیوی بھی میں بنوں گی۔ اور اس حویلی کی مالکن بھی۔ سفیہ کو اسکی بات پے غصہ ہی آگیا۔

برکت آنٹی! میرا اور آفتاب کا بریک فاسٹ لگا دیں۔ آج ہم ایک ساتھ بریک فاسٹ کریں گے۔

کنول اسکی بات کو نظر انداز رکرتی اٹھ کے وہاں سے اپنے کمرےمیں چلی گٸ۔ جبکہ سفیہ پیج و تاب کھاتی رہ گٸ۔ اور بڑی بیگم سے جا کے شکایتیں لگانے لگی

آپ کیوں فکر کرتی ہیں۔۔؟؟ ہماری آفتاب سےبات ہوچکی ہے۔ اس نے ہماری بات مان لی ہے آپ ہی بنیں گیں۔ آفتاب کی بیوی اور ہمارے خاندان کی بہو۔ بڑی بیگم نے سفیہ کی اچھی خاصی تسلی کروادی۔ لیکن کنول کے انداز و اطوار دیکھ وہ مطمین نہ ہو پا رہی تھی۔

💨
💨
💨
💨

وہ جو آٸینے کے سامنے کھڑا خود پے پرفیوم کی بارش کر رہا تھا۔ کنول کو اندر آتا دیکھ ٹھٹھکا ۔ لیکن پھر اگنور کر گیا۔

آج ہم۔۔ ایک ساتھ ناشتہ کریں گے۔ اسکے قریب آتے چہرے پے معصومیت سجاۓ وہ پورے حق سے بولی تھی۔

تم کرلو۔۔۔ مجھے بھوک نہیں۔۔ دیر ہورہی ہے۔ منہ پھیرتے کوٹ پہنا اور آٸینےمیں خود کو دیکھتا سرسری سا کہا۔

نو۔۔۔! ہم ایک ساتھ ناشتہ کریں گے۔ تو بس کریں گے۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔؟؟

ورنہ کیا۔۔۔؟؟ آفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔

میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ میرے بچے کو مہرہ مت بنانا۔۔۔ اور۔۔ تمہیں یہاں لانے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ بچہ ہے۔۔۔ ! میں نہیں چاہتا کہ وہ تمہاری کسی سازش کا شکار ہو۔۔ لیکن۔۔ گر تم مجھے۔۔ اس طرح بات بے بات بلیک میل کرو گی۔ تو ۔۔مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔ مجھے اچھی طرح پتہ ہے۔ اس لیے۔۔۔ ڈونٹ۔۔۔۔!

بہت سختی سے انگلی اٹھا کے وارن کرتا وہ باہرنکل گیا۔ جبکہ کنول کی آنکھیں نم ہوٸ تھیں۔

خاموشی سے نکلتی باہر آٸ تو سامنے ہی سفیہ ٹیبل پے ناشتہ لگاتی نظر آٸ۔ ۔

آٸیں خان جی۔۔۔! ناشتہ تیار ہے۔۔ کر کے جاٸیے گا۔

بہت پیار محبت اور مان سے کہا۔ آفتاب ایک پل کو سوچتا وہاں بیٹھ گیا۔ جبکہ دور ٹیبل کے پاس کھڑی کنول یہ سب دیکھ اندر ہی اندر مر رہی تھی۔ سفیہ آفتاب کی چٸیر کے پاس کھڑی بریڈ پے جیم لگا رہی تھی۔ اور بے انتہا خوش تھی۔ جبکہ کنول کی آنکھوں سے آنسو بہتے گالوں پے جا گرے ۔

ایک لمحے کی دیری کیے بنا وہ وہاں سے ہٹتی اپنے روم میں آتے ہی بند ہوگٸ۔ اسکے جاتے ہی آفتاب بھی ٹاٸم دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔

خان جی۔۔ ! ناشتہ؟ سفیہ نے روکا۔

بھوک نہیں۔ سرسری سا بنا دیکھے جواب دیتا وہ باہر نکل گیا۔ اسے آج کراچی جانا تھا۔ اپنی ماں کےپاس۔ اور وہ بنا کسی کو بتاۓ جا رہا تھا۔ جتنا وہ تڑپ رہا تھا۔ اپنی ماں سے منلے کو۔ اتنا ہی اسکی ماں بھی تژپ رہی ہوگی۔

پلین میں بیٹھا وہ کنول کی آنکھوں کے آنسو نہ بھول پا رہا تھا۔اسے بے چینی ہو رہی تھی۔ وہ سب اس نے کنول کے لیے ہی کیا تھا۔ یہی تو طے ہوا تھا۔ بڑی بیگم کے ساتھ ۔ کہ وہ کنول کا خیال رکھیں گے۔ ہر طرح سے ۔ اسےکوٸ تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔ وہ سفیہ کو اہمیت دے گا۔ صبح اس سب کی وجہ بھی یہی تھی۔ کیونکہ وہ جا رہا تھا ۔ اورنہیں چاہتا تھا کہ اسکے ساتھ کچھ برا ہو۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتاتھا۔ کہ کیا کیا ہو سکتا تھا۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

عابی کی آنکھ کھلی تو خود کو شامی کی بانہوں پے پایا۔ اسکی نیند بھک سے اڑی ۔ فوراً جھٹکے سے شامی کو پیچھے دھکیلتی وہ جھٹ سے اٹھی۔ شامی نےکسمسا کے آنکھیں کھولیں۔

کیا مسٸلہ ہے۔۔؟؟ کوٸ بھوت دیکھ لیا ہےکیا؟ مذاق بنایا تھا۔

آپ کو دیکھ لیا۔۔۔! آپ یہاں۔۔؟؟ ہمارے پاس ۔۔؟؟ کیسے۔۔؟؟ وہ گھبراۓ انداز میں بولی تو شامی نے منہ پےہاتھ پھیرتے نیند کو بھگایا اور ایک بازو کے سہارے اوپر اٹھ کے بیٹھا ۔

شوہر ہوں۔۔ تمہارا۔۔۔ کمرہ ہے میرا۔۔۔ میں یہاں نہیں ہوں گا۔۔۔ تو کہاں ہوں گا؟ الٹا اسکی جھیل جیسی آنکھوں میں جھانکتےوہ اسے ڈرا سا گیا۔

عابی لب دانتوں تلے دباتی اسے پیچھے ہو کے دیکھ رہی تھی۔

اب انکو چھوڑ دو۔۔۔ پنک سے ریڈ کر دیا ہے۔۔ اگر اتنا شوق ہے۔۔۔ تو مجھےبتا دو۔ میں یہ کام زیادہ اچھے سے کر سکتا ہوں ۔ معنی خیزی سے کہتا وہ اس پے جھکنےلگا۔ کہ عابی جھٹ سے اٹھ کےبھاگی۔

نننہیں۔۔۔ ! ہم ۔۔ایسےہی ٹھیک ہیں۔ کہتے وہ باتھ میں گھس گٸ۔ جبکہ شامی زیرِ لب مسکراتا رہ گیا۔

عابی کا اسکے قریب ہونا اسے سکون بخشتا تھا۔ ایک انجانا سا سکون ملتاتھا۔

💨
💨
💨
💨
💨

اتنی ساری شاپنگ ۔۔۔؟ آپ بھی حد کرتےہیں۔ شہیر۔۔۔! ساری مارکیٹ ہی اٹھا لاۓ۔

ڈھیر ساری بچوں کی شاپنگ دیکھ وہ ہر شاپر کو کھولے بہت پرجوش ہوتے شہیر سے بولی ۔

ٕیہ تو کچھ نہیں۔ ابھی تو اور بہت کچھ آۓ گا… پھر تو میری انا بے ہوش ہی ہو جانا۔۔۔! شہیر نے اسے اپنے قریب کرتے محبت سے کہا تو وہ مسکراتی اسے دیکھتی کچھ اداس سی ہوگٸ۔

کیا ہوا۔۔؟؟ میری جان اداس کیوں ہے؟ شہیر کو اسکی اداس آنکھیں اچھی نہ لگیں۔

شہیر۔۔۔؟؟ ہم واپس پاکستان کب جاٸیں گے۔۔؟؟ نجانےکس احساس کے تحت پوچھا۔ کہ شہیر ایک دم سے سنجیدہ ہوگیا۔

یہ دیکھو۔۔! یہ پرام کیسی ہے۔۔؟؟ دونوں کی الگ الگ ہی لی۔۔! شہیر نے اسکی بات کاٹی۔

یہ میری بات کا جواب نہیں۔ وہ برا منا گٸ۔

کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوا کرتے انا۔۔۔ ! کہتے ہوۓ وہ دکھی ہوتا اٹھ گیا۔ کہ انابیہ نے راستہ روکا۔

پلیز۔۔شہیر۔۔۔ ! کب تک یہاں رہیں گے۔۔؟؟ ہمیں اپنوں کے پاس جانا چاہیے۔۔۔! ان کےبنا۔۔۔ ہم ادھورےہیں۔۔ اسنے سمجھانا چاہا ۔

کون اپنے۔۔۔؟ میرا کوٸ اپنا نہیں۔۔ سواۓ تمہارے اور میری اولاد کے۔۔ اس لیے نو مور ڈسکشن۔۔۔! شہیر نے سختی سے منع کر دیا۔ انا اسے نم آنکھوں سے دیکھتی وہاں سے ہٹنے لگی۔ کہ شہیر نے نفی میں سرہلاتے اسکی کلاٸ تھامی۔

اے جاناں۔۔۔! اداس نہ ہوا کرو۔۔۔ کیا میں تمہارے لیے کچھ نہیں۔۔؟؟ کیا میرا ہونا۔۔۔کوٸ معنی نہیں رکھتا۔۔جو اپنوں کی یاد آنےلگی؟ ناچاہتے ہوۓ بھی وہ گلہ کر گیا ۔

ایسی بات نہیں۔۔ شہیر۔۔۔! آپ کا ہونا۔۔ میری سانسوں کا چلنا ہے۔ آپ کے بنا تو انا ادھوری ہے۔ لیکن ۔۔۔ سب اپنوں۔۔؟؟

اگر میرے وجود سے آپ کو مکمل ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔۔ تو پھر۔۔۔ کچھ بھی کہنا فضول ہے۔۔۔

شہیر نے وہاں سے ہٹنا چاہا ۔

آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔ ! ہر شتہ اپنی جگہ اہم ہوتا ہے شہیر۔۔! ماں باپ اپنی جگہ دادا دادی اپنی جگہ۔۔ نانا نانی اپنی۔۔جگہ۔۔! اور بچے کا حق ہے کہ وہ ہر رشتے کو جیۓ۔۔۔!

میرے بچے اپنے سارے رشتے مجھ میں جیٸں گے۔ میرے ہوتے انہیں کسی کی ضرورت نہیں۔۔

اب کی بار لہجہ تھوڑا سخت ہوا۔ تو انا خاموش ہوگٸ۔ جبکہ آنکھیں بھیگ گٸیں۔

شہیر کو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ سخت کوفت ہوٸ۔ اسکا دل سخت برا ہوا۔

انا۔۔۔؟؟ کیاچاہتی ہو یار۔۔؟ اگر ۔۔تم یہ چاہتی ہو۔۔ کہ میں ان سب کو معاف کردوں۔۔تو یہ میرے اختیار میں نہیں۔۔ میرے باپ نے ایک جیتی جاگتی انسان کی عزت کو روندھ ڈالا۔ جب جب یہ سوچتا ہوں۔۔خود سے گھن آتی ہے۔ کہ میں ایک۔۔۔ گناہگارانسان کا بیٹا ہوں۔۔ شہیر کا درد آج بہت واضح ہو رہا تھا۔ انا پے۔ وہ دم سادھے کھڑی رہی۔

میں نہیں چاہتا۔۔ کہ میرے بچے ۔۔ایک ناپاک اور گناہ گار انسان کے زیر سایہ پلیں۔۔ !

تم بات کرتی ہوناں۔۔ اپنی فیملی سے۔۔؟؟ انا کے پاس آتے بھیگےلہجےمیں کہتے اسکے آنسو صاف کیے۔

مجھے دیکھو۔۔۔ سارے رشتے صرف تم سے جیتا ہوں۔۔ کوٸ نہیں میرا۔۔ صرف تم ہو۔۔ ! تم تو پھر اپنا دکھ درد اپنوں سے بانٹ لیتی ہو۔ سن لیتی ہو۔۔میں۔۔؟میں کس سےکہوں۔۔؟؟ مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔۔ انا۔۔۔! یہ۔۔۔ دل کے مقام پے انگلی رکھی۔ شدت کرب سے کہتے وہ انا کو بھی رلا رہا تھا۔

یہاں درد اٹھتا ہے۔۔۔ کہ سہا نہیں جاتا۔۔۔!

انا نے آگے بڑھ کے شہیر کوبھینچ کے گلے سے لگایا ۔ اور دونوں ہی بری طرح رو دٸیے۔۔

وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔ وہ زیادہ درد میں تھا۔ اس لیے انابیہ نے سوچ لیا تھا۔ اب وہ کبھی بھی شہیر کوپاکستان جانے کا نہیں کہے گی۔ جس بات سے اسے درد ہو۔۔ وہ کبھی نہیں کرے گی۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

تم۔۔۔ تمہیں کیالگا۔۔؟؟ تم جیسی لڑکی کو جسے میں ۔۔ پاٶں کی جوتی بھی بناٶں۔۔۔اسے بستر کی زینت بناٶں گا۔۔؟؟تمہاری میری نظر میں کوٸ اوقات نہیں۔۔ جس لڑکی کو اپنی عزت کی زرا بھی پرواہ نہیں۔۔اور نشے میں بہک کے وہ کسی مرد کی بانہوں تک رساٸ حاصل کر لے ۔ ایسی لڑکی پےکاظم شاہ تھوکے بھی ناں۔۔۔!

وہ بار بار منہ دھوۓ جا رہی تھی۔ اور جب بھی آٸینہ دیکھتی ۔۔کاظم کے الفاظ اسے دل میں پیوست ہوتے۔

وہ بار بار ایک ہی عمل پچھلے کٸ منٹوں سے دہراۓ جا رہی تھی۔ چہرہ اسکا لال ہو چکا تھا۔

آٸینہ دیکھتے ہی پھر سے لگتا وہ گندی ہوگٸ ہے۔ لیکن اسکا چہرہ گندا نہ تھا۔ اسکی روح پے وار ہوا تھا۔ اسے روح کو پاک و صاف کرنا تھا ۔

گرد روح پے جمی تھی۔۔۔

اور ہم چہرہ صاف کرتے رہے۔۔۔

بالآخر تھک ہار کے وہ نیچے بیٹھتی چلی گٸ۔ آنسو بھی بہتے جا رہے تھے۔

میں۔۔۔ میں۔۔اسی لڑکی نہیں ہوں۔۔۔سنا تم۔نے۔۔۔ کاظم۔۔۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔۔ وہ بلک بلک روتی چلاٸ تھی۔ بہن ہوں میں ۔۔کنول کی۔۔ اسکا عکس ہوں۔میں۔۔ایسی لڑکی نہیں۔۔ہوں۔۔۔۔ نہیں۔۔ہوں۔۔میری ماں۔۔ کا عکس ہوں میں۔۔ وہ بھی پاک دامن تھی۔۔۔ میری بہن بھی۔۔ پاک دامن ہے۔۔۔ میں ۔بھی۔۔۔؟؟ ؟میں ایسی لڑکی نہیں۔۔۔ہوں۔۔۔

چلاتے چلاتے اسکی آوازروندھ گٸ۔ وہ وہیں زمین پے گر گٸ۔ جیسے آج سب کچھ ہار گٸ ہو۔۔

ہاں۔۔میں بری ہوں۔۔ بہت بری۔۔۔! لیکن۔۔ میرے ساتھ بھی برا ہواہے۔۔۔ میں پیدا کرتے ہی بوجھ کی طرح سر سے اتار پھینک دی گٸ۔ باپ نے تو اپنایا نہ۔۔۔ ماں بھی چھوڑ گٸ۔۔ اگر ایک بیٹی کو لے جا سکتی تھی۔۔ تو مجھے لے جاتیں۔۔۔۔ کنول کو کیوں لے کے گٸیں۔۔۔۔؟؟ وہ تڑپ کے اٹھی تھی۔

میرا کیا قصور تھا۔۔۔ ماں باپ اولاد پیدا تو کر لیتے ہیں۔۔ لیکن پھر۔۔ مرنے کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔۔

مجھے بھی چھوڑ دیا۔

ہونہہ۔۔ جس کی خاطر چھوڑا۔۔ وفا اس نے بھی نہ کی۔ اور رہ گٸں خالی ہاتھ۔۔بہتان بھرے دامن کے ساتھ۔کیا ملا۔۔۔؟ سواۓ دکھ اور موت کے؟ آنکھیں سختی سے رگڑیں۔

بہت انتظار کے بعد لوٹی تھی۔ کنول۔۔۔ واپس مری۔۔۔! لیکن اکیلی۔۔۔ و پانچ سال کی لڑکی۔۔۔ میری بہن اکیلی لوٹی تھی۔۔ باپ نے چھوڑ دیا۔ اور ماں مر گٸ۔۔۔۔ مر گٸ ہماری ماں۔۔۔ ؟؟ وہ پھر چلاٸ تھی۔

لیکن۔۔میری ماں تو میرے پیدا ہوتے ہی مر گٸ تھی میرے لیے۔۔۔ ہاں اس دن کنول کی ماں مری تھی۔ پھر جینا سیکھا۔۔۔ ہر اس چیز سے مجھے نفرت ہوتی گٸ جو کنول کو اچھی لگتی۔۔ وہ مجھ سے پیار کرتی تھی۔ اور میں اس سے نفرت۔ جوانی کی دہلیز پے قدم رکھا تو۔۔ کنول نے اپنے دشمنوں تک رساٸ حاصلکر لی وہ ان سے اپنی ماں کی موت اور انکی عزت کی بے حرمتی کابدلہ لینا چاہتی تھی۔ اس سب میں کومل کا ساتھ بھی مانگا اس نے۔ لیکن کومل کو اسکے بدلے سے کوٸ دلچسپی نہ تھی۔ وہ تو خوش تھی۔ کہ اسکے ساتھ اسکی ماں نے برا کیا۔ آگے سے انکا انجام بھی برا ہوا۔ وقت گزرتا گیا۔ کنول اکیلے ہی ہر معرکہ سرانجام دیتی رہی۔

ارسل بیٹا تھا انکا۔۔ جہنوں نے مدد کی تھی مریم کی ۔ جب وہ خان ولا سے نکالی گٸ تھیں ۔ مریم کی دوست کا بیٹا۔ جسطرح ارسل کی ماں نے مریم کا ہر موڑ پے ساتھ دیا۔ ویسے ہی ارسل نے کنول کو بہن مانا تھا۔ اس نے بھی کسی موقع پے کنول کو اکیلا نہ چھوڑا۔

اور پھر وہ دن بھی آگیا۔ جب۔۔۔ کنول نے بدلہ لینا تھا۔ اس سے پہلے کنول نے کومل کو آفتاب سے ملوا دیا۔ یہیں وہ سب سے بڑ غلطی کر گٸ۔ وہیں کومل کے دل کے اندر نفرت کی ایک چنگاری بھڑکی۔ ہمیشہ کی طرح بہن سے اسے بھی چھیننا چاہا۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظورتھا۔ اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ پاٸ۔ اور یہی کومل کو تکلیف ہوٸ۔ اس نے کنول کی آڑ لے کے اسے اچھا خاصا پھنسانا چاہا۔ آفتاب کے مرنے کے بعد کومل۔کو کسی حد تک سکون آیا۔ لیکن یہ سکون پھر سے غارت ہوا۔ جب کنول نے اس سے ہر تعلق توڑ لیا ۔ وہ یہاں سے بلال کو لے کے چلی گٸ ۔اور پھر اسے یہ شک گذرا۔ کہ آفتاب کا زندہ ہے۔ ایک بار پھر اسے مات ہوٸ۔ جب جب اسکا دل ٹوٹا۔ اسے سنبھالنے والا کوٸ اور نہیں کاظم ہی تھا۔ اورآج وہ سہارا بھی چھن گیا۔ ہارے ہوۓ جواری کی طرح وہ اٹھتی باہر آٸ۔ دراز کھولی کانپتے ہاتھوں سے اپنی مطلوبہ چیز نکالی۔ وہ سفید پاٶڈر جو اسے اس دنیا کے غم سے نکال دیتا تھا۔ وہ کبھی بھی زیادہ مقدار میں نہ لیتی تھی۔ ور کاظم سے ملنے کے ب تقریباً اس نے ڈرگز لینا چھوڑ دیا تھا۔ اور وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ رات کو اس نے ڈرگز لی۔ اور۔۔کاظم نے اسے۔۔ اس حالت میں دیکھ لیا۔۔۔ وہ اسے بری لڑکی سمجھ رہا تھا۔ وہیں سوچیں ایک بار پھر سے دماغ پے حاوی ہونے لگیں۔ اس نے پاٶڈر نکال ہتھیلی پے ڈالا۔ اسکے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ آنکھیں رو رو کےلال ہوچکی تھیں ۔

نشے میں بہک کے وہ کسی مرد کی بانہوں تک رساٸ حاصل کر لے ۔ ایسی لڑکی پےکاظم شاہ تھوکے بھی ناں۔۔۔!کاظم شاہ تھوکے بھی ناں۔۔۔!

لفظوں کی بازگشت ہوتی جا رہی تھی۔ اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ کہ ایک جھٹکے سے سارا پاٶڈر نیچے گرا دیا۔

اور جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔ ای عزم اور ہمت کے ساتھ۔ اسے کاظم کی باتوں کا جواب دینا تھا۔ اسے بتانا تھا۔ کہ وہ بری لڑکی نہیں ہے۔۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کنول نے کمرے کی ہر چیز کو تہیس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔ بالآخر تھک ہار کے وہ وہیں دروازے کے پاس دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گٸ۔ اسے آفتاب کے رویے پے بے انتہا دکھ ہوا تھا۔ اور یہ دکھ بڑھا تب۔۔ جب آفتاب نے سفیہ کے ساتھ سلوک اچھا رکھا۔ اور اسکو ناشتے سے انکار کیا۔ کافی دیر رو لینے کے بعد اسکا دل کا غبار ہلکا ہوا تھا ۔ اور اب بھوک ستا رہی تھی۔ گلا خشک ہو چکا تھا۔ پانی پینے کے لیے جگ دیکھا۔ تو وہ خالی تھا۔ جگ اٹھاتی وہ باہر جانے کے لیے دروازے کی جانب بڑھی۔ لیکن دروازے پے لاک دیکھ وہ بری طرح سٹپٹاٸ۔ دو تین بار لاک کھولنا چاہا ۔لیکن دروازہ لاکڈ تھا ۔

ہیلو۔۔۔؟؟ کوٸ ہے۔۔؟؟ پلیز اوپن دا ڈور۔۔۔؟ کنول گھبراٸ تھی۔ کافی دیر وہ اونچا اونچابولتی رہی۔ لیکن دروازہ نہ کھلنا تھا۔ نہ کھلا۔ اور تھک ہار کے وہیں بیٹھ گٸ ۔ لیکن کب تک۔۔؟؟ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اور وہ بیوی ظالم ہو سکتی تھی۔ لیکن۔۔ماں ۔۔نہیں۔۔ آنکھیں پھر سے بھیگنے لگیں۔ فوراً سے انا کو ایک طرف رکھتے آفتاب کو کال ملاٸ۔ لیکن نمبر بند جاتا دیکھ وہ مزید دل چھوڑ بیٹھی۔ ایک بار دو بار۔۔ لیکن نمبر ہنوز بند تھا۔ اٹھا کے موابٸل دیوار پے دے مارا۔

اس سے تو بہترتھا۔ میں یہاں آتی ہی ناں۔۔ ! نجانے کیوں مجھے یہاں اکیلا چھوڑ گۓ ہیں۔۔۔؟؟ وہ دل سے دلھی ہوتیوہیں واپس بیٹھ گٸ۔ اے اپنی ایسی حالت پے بہت رونا آرہا تھا۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

آفتاب نے کراچی کی سر زمین پے قدم رکھا تو دل بےاختیار ماں سے ملنے کو بے چین ہوا۔ وہ خان ولا کے اندر کا سارا حال احوال جانتا تھا۔ سعدی سے اسے سب انفارمیشن ملتی رہی تھی۔ لیکن اب۔۔ماں سے آمنا سامنا تھا۔ اسکا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ۔ خان ولا میں داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنافون آف کر دیا تھا۔اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

کہاں ہے سارا۔۔؟؟ عروج۔۔؟ بتاٶ مجھے؟ سامعہ پھوپھو پاگل ہوٸیں تھیں۔ صبح سے وہ سارا کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن سارا گھر پے ہوتی تو ملتی ناں۔۔؟؟ عروج الگ پریشان تھی۔

مجھے نہیں پتہ مما۔۔!مجھے بتا کے تھوڑی جاتی ہے وہ ہر جگہ ۔۔۔؟ عروج کا دل گھبرایا تھا۔ کیونکہدو دن پہلےہی عروج سے سارا کو ایک لڑکے کے ساتھگاڑی میں دیکھا تھا اور دونوں کی نزدیکثیاں دیکھ عروج ٹھٹھکی تھی۔ پوچھنےپے سارا نے ٹال دیا۔ اور آج اپنیلاپرواہی پے غصہ آرہا تھا۔

معلوم نہیں صبح سے غاٸب ہے یا رات بھر ہی۔۔۔؟ سامعہپھوپھو نے ماتھےپے ہاتھ مارا۔

عروج کوٸ جواب دیتی کہ گیٹ سے آفتاب کو داخلہوتے دیکھ وہ دونوں چپ ہوگٸیں۔ ان کے سامنے آفتاب تھا۔ آفتاب شیر خان۔۔؟؟

وہ ۔۔۔زندہ تھا۔۔۔؟؟ یہ سوچ آتے ہی وہ بری طرح گھبراٸیں۔

اندر آتے ہی ان دونوں ماں بیٹی کونظر انداز کرتا وہ ماں کے کمرے کی جانب بڑھا ۔

تبسم بیگم بیڈ پے بیٹھیں ایک تصویر کو گلے سے لگاٸے لگاۓ ہوۓ تھیں۔

آفتاب بہت خاومشی سے اندر آیا تھا ۔ اور ماں و دیکھتے اسکے اندر ٹھنڈک سی اتری تھی۔ ان کے پاٶں کے پاس بیٹھتے انکے پاٶں کو ہاتھوں سے چھوا۔ تو تبسم بیگم نے ایک دم سے آنکھیں وا کیں۔ سامنے اپنے بیٹے کو دیکھ وہ انتہاٸ حیرے و مسرت میں ڈوب گٸ تھیں۔ انہیں اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا۔

آفتاب نے انکو مسکرا کے دیکھا۔ تسبم بیگم نے ہاتھ بڑھا کے آفتاب کو چھوا۔ کہوہ سچ میں ہے یا انکا وہم۔۔؟ لیکن آفتاب نے ان کے ہاتھوں پے بوسہ دیا تو انہیں یقین ہوگیا اللہ نے انکی سن لی ہے۔ دونوں ماں بیٹے نے ایک دوسرے کو گلےسے لگایا ۔ تبسم بیگم پھوٹ پھوٹ کے رو دیں۔ آفتاب انہیں سینے سے لگاۓ بیٹھا تھا۔

کہاں چلے گۓ تھے؟ مجھے چھوڑ کے۔۔۔؟؟ اپنی ماں کو چھوڑ کے۔۔۔؟ وہ کرب سے بولیں تھیں۔

کہثس نہیں گیا تھا امی جان۔۔۔!آپ کو چھوڑ کے کہاں جاسکتا تھا آپ کا بیٹا؟ آفتاب نے انہیں تسلی دی۔

اور۔۔وہ جو ۔۔۔گولی۔۔۔؟؟ لگی۔۔؟؟ وہ سب۔۔؟؟

تبسم بیگم کے پوچھن ے پے آفتاب نے انہیں چیدہ چیدہ ساری بات بتا دی۔ جسے جان کے وہ بہت دکھی ہوٸیں۔

کنول نے۔۔ باقی سب کے ساتھ تو جو کیا سو کیا ۔ لیکن۔۔آپ کے ساتھ۔۔۔؟؟ بہت غلط کیا۔۔۔

امی جان۔۔۔! آپ۔۔۔ دادی بننے والی ہیں۔۔۔!آفتاب نے انکی سوچ سے کنول کے لیے نیگیٹیوٹی مٹانی چاہی۔۔

کیا سچ میں۔۔؟؟ اتنی بڑی خوشی کی خبر اکیلے دے رہے ہو۔۔؟؟ میری بہو کہاں ہے؟ ایک دم سے تبسم بیگم کا دل بدلا تھا ۔ اور آفتاب جانتا تھا۔

لے آٶ ں گا۔۔جلد ہی۔۔ ! لیکن۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے ؟ اسے یہاں آنا چاہیے؟ جہاں اس کے ساتھ اسکی امی کی ساتھ اتنا برا سلوک ہوا۔۔۔؟؟ آفتاب ایک دم سے سنجیدہ ہوا۔

آجاۓ گی۔۔بیٹا۔۔! کیونکہ بدلہ لینے والے سے معاف کر دینے والا افضل ہوتا ہے۔ دل بڑا کرنا پڑتا ہے اپنوں کےلیے۔۔۔! سمجھانا چاہا ۔

شہیر کیوں نہیں دل بڑا کر سکا۔۔؟؟ اس نے کیو ں نہیں معاف کیا؟ امی جان۔۔؟؟ غلطیاں او رکوتاہیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ لیکن ۔۔گناہ نہیں۔۔۔ اور یہ۔۔سب گناہ گار ہیں۔۔ مریم آنٹی کے۔۔ انکی بیٹی۔۔ کنول کے۔۔۔اور۔۔ کومل کے بھی۔۔! دھیرے سے کہا۔

کیا مطلب۔۔؟؟ کومل کون؟ ماتھے پے بل پڑے۔

کومل۔۔ کنول کی جڑواں بہن ہے۔ کہتے ہوۓ انہیں دیکھا۔ اور اسکے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

اوہ۔۔میرے اللہ۔۔۔؟ أتنا سب کچھ ہوگیا۔

بیٹا۔۔؟؟ پھر بھی۔۔آپ کنول سے بات کریں۔۔ مجھے۔۔ اپنے پوتے یا پوتی کو اپنے سامنے دیکھنا ہے۔۔۔ اسے معاف کردینا چاہیے۔۔۔!

کاش۔۔امی جان۔۔ ! آپ خود کو اسکی جگہ رکھ کے سوچیں ۔۔ جب آپ کے وجود سے سرے سے ہی انکار کر دیا جاۓ۔ تو کیا بیتتی ہے؟ اور۔۔ انکی جگہبکوٸ اور لے لے۔۔؟؟ امی جان آپ خوش قسمت تھیں۔ آپ کو مجھے گھر مل گیا۔۔۔ہم نےاچھے سےاپنی زندگی جی۔۔۔! اگر ہمارے ساتھ بھی اللہ نےکرے وہی سب کچھ ہوتا تو۔۔؟؟ آفتاب نے وقت دیکھتے اٹھتے ہوۓ کہا۔

بیٹا۔۔؟؟ آپ نے بھی تو معاف کیا ہے۔۔ اسے۔۔۔! آپ پے تو گولی چلاٸ اس نے؟ تبسم بیگم نے آخر بار اسے سمجھانا چاہا ۔ اپنی طرف کرنا چاہا ۔

امی جان۔۔! ابھی مجھے جانا ہو گا۔جلد آٶں گا۔۔۔! فلاٸیٹبکا وقت ہو گیا ہے۔

کہتے ہوۓ ان کے ماتھے پے بوسہ دیا۔

بیٹا۔۔! میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔؟ انہوں نے آفتاب کے دروازے کی طرف بڑھتے قدم دیکھے تو بولیں ۔

امی جان۔۔۔! گولی۔۔ کنول نے نہیں چلاٸ تھی۔

آفتاب کی بات پے تبسم بیگم گنگ ہی رہ گٸیں ۔ وہ جاچکا تھا۔ جبکہ تبسم بیگم آج اتنی سچاٸ جان کے وہیں دمسادھے بیٹھی رہ گٸیں۔ لیکن ۔۔ بیٹے کو دعا دینا نہ بھولیں ۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

کیا ہوا۔۔۔۔؟؟شام گۓ آفتاب نے خان حویلی پہنچتے ہی کمرے کے دروازے کے باہر سب کو اکھٹا دیکھا تو گھبرا گیا ۔

دیکھیں ناں۔۔ خان جی۔۔ کتنی دیر سے دروازہ بجا رہے ہیں۔۔ لیکن۔۔ دروازہ کھول ہی نہیں رہی یہ۔۔! سفیہ کے لہجے میں چھپے طنز کو وہ اچھے سے محسوس کر گیا۔ دروازے کوجھٹکا دیا لیکن دروازہ لاکڈ تھا۔

کنول۔۔۔؟؟ ایسا کیسے ۔۔؟؟

کب سے بند ہے دروازہ؟ آفتاب کی انچی آواز پے بڑی بیگم بھی وہاں پہنچیں۔

کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں شور ہو رہا ہے؟

یہ۔۔ یہ لیں۔۔ چابی۔۔۔! برکت آنٹی نے فوراً سے ڈبلیکیٹ چابی لاٸ ۔

آفتاب نے فوراً سے لاک کھولا۔

سامنے کا منظر دیکھ وہ دھک سے رہ گیا۔ گھٹنوں میں سر دیۓ۔وہ ایک طرف دیوار کے ساتھ لگ کے بیٹھی تھی۔

آفتاب نے ایک منٹ کی دیری کیے بنا اسکیجانب قدم بڑھاۓ۔

کنول۔۔۔؟؟ کنول۔۔؟؟ اوپن یور آٸیز۔۔۔! وہ بہت سخت گھبرایا تھا ۔ لیکن آفتاب کے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی اسنے اپنی نیم وا آنکھیں کھولیں اسکے چہرے پے ایک سکون آگیا تھا۔

آپ۔۔۔۔آپ آگۓ۔۔۔؟؟ کنول نے آفتاب کے چہرے کو چھونا چاہا۔ جبکہ آفتاب نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ اور بازو سے پکڑ کے اٹھایا ۔ کنول بوکھلا ہی گٸ۔

کہا تھا۔۔۔! ایسا ویسا۔۔ کچھ مت کرنا۔۔ لیکن تم۔۔۔ بازنہ آٸ۔۔؟؟ آفتاب کے سخت الفاظ ۔۔اور نفرت انگیز لہجہ کنول نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

جای ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *