Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 10)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
جمیلہ۔۔۔! ارباز خان کو شادی کاکارڈ بجھوایا تھا۔۔؟؟
ایک دم سے دی جے کو بیٹوں کی کمی محسوس ہوٸ۔
جی دی جے۔۔۔ دونوں کو بجھوایا تھا۔۔۔! لیکن جانتی تو ہیں۔۔ وہ نہیں آٸیں گے۔۔
جمیلہ خاتون نے انکو کھڑا کرتے دکھ سےکہا ۔
سب شادی ہال کی جانب جا رہے تھے ۔ آج کا فنکشن شادی ہال میں تھا۔ سبھی صبح سےاپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔
آپ کی طبعیت ٹھیک ہےناں۔۔ اب۔۔؟؟
جمیلہ خاتون کو وہ آج چپ چپ سی لگیں ۔
ہمممم۔۔۔۔ شہیرکہاں ہے۔۔؟؟ دکھاٸ نہیں دے رہا۔۔؟؟
جی۔۔ وہ بچیوں کو پارلرسے پک کرنے گیا ہے۔ سیدھا شادی ہال ہی پہنچےگا۔
آپ چلیں ۔۔ شامی باہر گاڑی میں ویٹ کر رہاہے ۔۔ہم وہاں پہنچیں گے تو۔۔ شمسہ بھابھی بارات کےساتھ آٸیں گے ۔
ہمممم۔۔۔ چلو۔۔۔! دی جے نے کہتے ساتھ قدم آگے بڑھاۓ۔
شامی جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔ انہیں آتا دیکھا تو کان کےساتھ موباٸللگاۓ گاڑی کا دروازہ کھولا۔
اوکے۔۔۔۔ بس دس منٹ۔۔۔ پہنچ رہا ہوں۔
کہتے فون جیب میں ڈالا۔ اور ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالی۔
اور گاڑی شادی ہال کی جانب موڑ دی۔ جہاں سارے مہمان اکھٹے تھے۔















انا فضاکو چادر سے ڈھانپے باہر لاٸ تھی جہں شہیر کھڑا انکا ویٹ کر رہا تھا۔
انا نے آج راٸل بلیو کلر کی میکسی پہنی تھی ۔ جس پے گولڈن کٹ ورک کا کام تھا
چھوٹی سی بندیا اور لاٸیٹ سے میک اپ میں اسکا حسن مزید چار چاند لگا رہا تھا۔ ایک پل کو شہیر تو اس چھوٹی موٸ کو دیکھتا رہ گیا۔ نظر تھی کہٹہنا ہی بھول گٸ تھی۔
سہج سہج کے وہ فضا کو سہارا دیتی ساتھلاتی شہیر کینظروں سےبے حد کنفیوز ہو رہی تھی ۔
انا نے اسے گاڑی کا دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ ایک دم ہوش میں آتا مسکراتا دروازہ کھولتے پیچھا ہٹا۔ دونوں کو پیچھےبٹھا کے خود ڈراٸیونگ سیٹ پے آیا ۔
مرر کو انا پے فکس کیا۔
یار سے تو پیچھےکر لو۔۔ میرا سانس بند ہوجانا ہ۔ فضا نے گاڑیمیں بیٹھتے چادر پیچھے کرتے دوہاٸ دی۔
گاڑی میں اے سی آن ہے۔ اسکے باوجود آپ کا سانس بند ہو رہا ہے۔۔ تو آپ کا اللہ ہی حافظ ہے۔
انا نے دھیرے سے کان میں کہا۔
تمہیں پہننا پڑے ناں۔۔ اتنا بھاری لہنگا تو تمہیں پتہ چلے۔۔۔ کہنا آسان ہوتا ہے۔۔ سہنا مشکل۔
سیٹ کے ساتھ آرام سے ٹیک لگاتی تبصرہ کیا۔
آپ سے کوٸ نہیں جیت سکتا ۔
انا نے ونڈو سے باہر جھانکا۔جبکہ شہیر کی نظریں بار بر اسی کاطواف کر رہی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں وہ شادی ہال پہنچ گۓ۔
انا فضا کو لیے براٸیڈل روم کی جانب بڑھ گٸ ۔ جبکہ شہیر مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔۔کہتبھینموباٸل پے میسج ٹون بجی۔ آج ہی اس نے اپنا۔نمبر آن کیا تھا۔ کسی ان ناٶن نمبر سے کوٸ ویڈیو سینڈ ہوٸ تھی۔ لیکن ڈاٶن لوڈنگ پے ٹاٸم لگ رہا تھا۔ سگنل۔ایشو تھا۔ وہ ہال سے باہر نکل آیا۔ ویڈیو ڈاٶن لوڈ ہو چکی تھی۔















سارا دن وہ کنول کا ویٹ کرتا رہا۔ لیکن وہ بنا کسی اطلاع کےآج چھٹی پے تھی۔ جبکہ اسکی امپورٹنٹ فاٸلز اسکےپاس تھیں۔ اور لیپ ٹاپ بھی۔
صدیقی صاحب۔۔ بنا اجازت کے بنا کسی لیو کے مس کنول نے چھٹی کیسے کر لی۔۔۔؟؟؟ آفتاب نے خود پے کنٹرول کرتے سوال کیا۔
سر۔۔۔ انہیں کہیں ارجنٹ جانا تھا۔ تووہ ۔۔۔۔۔
کس کی اجازت سے؟؟ گھوری سے نوازا۔
صدیقی صاحب خاموش رہے۔
پتہ کریں۔ کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟ آفتاب کو کچھ غلط محسوس ہوا۔ اس کے نمبر پے کال جارہی تھی. لیکن نہ ہی وہ کال پک کر رہی تھی۔ نہ ہی کوٸ رسپانس دے رہی تھی ۔
سر وہ کسی مشکل میں نہ ہوں۔۔۔؟ صدیقی صاحب پریشان ہوۓ۔
آفتاب کے چہرے پے بھی فکر ظاہر ہوٸ ۔
آپ نمبر ٹریس کرواٸیں کہ وہ کہاں ہیں ۔۔۔!
آفتاب نے اگلا حکم نامہ جاری کیا ۔
صدیقی صاحب اثبات میں سر ہلاتےباہر نکلے اور حسن کو نمبر ٹریس کرنےکا کہا جسکا کام ہی یہی تھا۔
پانچ منٹ میں اس نے نمبر ٹریس کر لیا ۔
صدیقی صاحب فوراً واپس آفتاب کےآفس کی جانب بڑھے ۔ وہ جو فون پے بزی تھا۔ صدیقی صاحب کو فیکھتا فون بند کر گیا ۔
کیا ہوا۔۔۔؟ پتہ چلا۔۔۔؟؟
سر۔۔۔ ؟؟ وہ۔۔۔۔؟؟یہ رہا پتہ۔۔۔۔ صدیقی صاحب نے پیج آفتاب کیجانب بڑھایا۔ جسے دیکھ آفتاب کے ماتھےطپے بل پڑے۔
فوراً گاڑی کی کیز اور موباٸل اٹھاتا وہ باہرنکلا۔ اب اسکا رخ اس پتےکی طرف تھا ۔ جہاں اس وقت کنول موجود تھی۔















ہاں کی ہے اسکی مدد بھیجا ہے اسکو لاہور۔۔ آگے بھی کروں گا۔۔ہر طرح سے۔۔۔آپ کے خلاف کروں گا۔۔
آپ کو جو کرنا آپ کرلیں۔ میں نہیں ڈرتا آپ سے ۔
انگلی نیچے کرلیں۔ ارباز خان۔۔ ورنہ میں انگلی اٹھانے والے کا ہاتھ توڑنے کی طاقت رکھتا ہوں۔
اور رہی بات آپ کے بیٹے کی؟ تو وہ کوٸ دودھ پیتا بچہ نہیں کہ انگلی پکڑ کے لاہور چھوڑ کے آیا ہوں میں۔ ۔۔ وہ خود جانا چاہتا تھا۔
بہترہوگا۔ اپنی اولادکوقابو کرنا سیکھیں۔
ایڈیٹ کی ہوٸ ویڈیو شہیر کے موباغل۔تک پہنچ گٸ تھی ۔ جسے دیکھنے کے بعد وہ کافی پریشان ہوا تھا۔ اسکا دل بہت پریشان تھا۔ آج ہی اس نے اپنا نمبر آن کیا۔ اقر آج ہی ایک ان ناٶن نمبر سے یہ ویڈیو آٸ تھی۔ جس میں آفتاب کا بولا گیا ایک ایک لفظ اسے دل کے پار محسوس ہوا۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ کیاصحیح ہےکیاغلط۔۔۔؟
لیکن اسکا دل نہیں مان رہا تھا کہ آفتاب اسطرح کا کچھ کر سکتا ہے۔ ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھا۔ کہ موباٸل پے کال آٸ۔
کچھ سوچتے ہوۓ شہیر نےکال رسیو کی۔
السلام علیکم مما جان۔۔۔! بہت مہذب انداز میں کہا۔
کہاں ہو شیری۔۔؟ کدھر چلےگۓ ہو ہمیں چھوڑ کے۔۔۔؟؟ اپنی ماں کا خیال بھی نہیں آیا ایک پل بھی آپ کو۔۔؟؟
خانم کی نم آواز کانوں سے ٹکراٸ تو وہ لب بھینچ گیا۔
مما جان۔۔۔ آرہا ہوں۔۔فکرنہ کریں ۔ آپ کےپاس نہیں آنا تو کہاں جانا ہے میں نے۔ ۔۔؟؟
شہیر افسردہ ہوا۔
بس میری جان واپس آٶ۔۔ فوراً۔ خانم نے مزید پیار اور محبت لہجے میں سموتے بیٹے کو اپنی طرف کیا۔
شیری ۔۔؟؟ فون بندکرکےجیسے وہ پلٹا کہ میکال کو پاس دیکھ کے ٹھٹھکا۔
آپ یہاں۔۔۔؟؟ آپ کو تو اندر ہونا چاہیے۔۔۔یہاں۔۔ کیوں ۔۔آگۓ۔۔؟؟ شہیر اٹھتے ہوۓ بولا۔
تمہیں بھی تو وہاں سب کے بیچ ہونا چاہیٸے ناں۔۔! میکال نےالٹا اس سے کہا۔
میں دلہا نہیں۔۔۔ شہیر نے مسکرا کےہلکے پھلکے انداز میں بات کی۔
مستقبل۔قریب کے تو ہو ناں۔۔ وہ بھی اسی گھر کے ۔۔۔دلہا۔۔۔!! میکال ےاسے اپنے ساتھ اندر چلنے کا اشارہ کیا۔ تو دونوں مسکراتےہوۓ اندر کی جانب بڑھتے چلے گۓ۔






























بابل کی دعاٸیں لیتی جا ۔۔۔
جا تجھ کو سکھی سنسار ملے۔۔
میکےکی کبھی نہ یاد آۓ۔۔
سسرال میں اتنا پیار ملے۔۔۔
رخصتی کے لمحے سب پے ہی بھاری ہوتےہیں
کتنی خاموشی سی چھا جاتی ہے ماں باپ کےاندر ۔ کہ وہ ان لمحوں میں ضبط کے کڑے مراحل سے گزررہے ہوتے ہیں۔
فضا سب سے ملتی دعاٸیں لیتی رخصت ہوگٸ۔
رو کیوں رہی ہیں۔۔؟؟ اپنے ہی گھر گٸ ہے۔۔۔ کہیں اور تو نہیں رخصت ہوکے گٸ۔ آپ کیآنکھوں کے سامنے ہی رہے گی ۔
انا نے جمیلہ خاتون کو اپنے ساتھ لگاتےبہت پیار سے کہا ۔
جی بالکل۔۔۔۔! ابھی گھر کےاندر ہی رخصت کی ہے ایک بیٹی کو تو یہ حال ہے۔ ۔۔ جب دوسری کو دوسرے شہر رخصت کریں گیں تب کیا حال ہو گا آپ کا۔۔؟
فیاض صاحب نے مسکراتے ہوۓ ماحولکی سوگواریت دور کرنے کے لیے کہا۔ جبکہرخصتی کا سنتےانا کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہوٸ۔ بے اختیار نظریں سامنے کھڑے شہیر سے ٹکراٸیں۔ جو بہت محبت بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
گھر چلیں دیر ہو رہی ہے۔
شامی نے سنجیدگی سے کہا۔ انا کی رخصتی کا سن کے وہ بھی اپ سیٹ ہوا۔















گاڑی بتاۓ ہوۓ ایڈریس پے روکتے٠وہ باہر نکلا۔ سیکیورٹی گارڈ بھی فوراً ہم قدم ہوا۔ آفتاب نے اسے اشارے سے وہیں روک دیا۔
او خود سامنے بلڈنگ کے اندر چلا گیا ۔
اورفنج ہہاٶس کی یہ بلڈنگ آفتاب کے دماغ میں کٸ سوالات کو جنم دے رہی تھی۔
جی سر۔۔! کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔؟ ایک صاحب مسکراتےہوۓ سامنے آۓ۔
مس کنول یہاں ہیں۔۔؟؟ ماتھےطپے دو بل ڈالےپوچھا۔ جبکہ اردگرد بچے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے۔
اس شخص نے آفتاب کو سر سے پاٶں تک دیکھا ۔ وہ حیران تھا۔ کہ سیکیورٹی گارڈ باہر بیٹھا تھا۔ یہ اندر کیسے آگیا۔۔۔؟؟؟
اتنیحیرانی سے کیوں دیکھ رہےہیں۔۔؟؟ آفتاب کو اسکا دیکھنا ناگوار گزرا۔
آپ اندر کیسے آۓ؟ اس نے برجستہ پوچھا۔
دروازے سے۔۔۔! برجستہ جواب آیا۔
آپ کو کسی نے روکا نہیں۔۔۔۔؟ اگلے سوال پے آفتاب کے چہرے کے زاویےبگڑے۔
آفتاب شیر خان وہ طوفان ہے۔ جسے روکنے کے لیے ابھی تک اللہ نے کسی کو پیدا نہیں کیا۔
پاس ہوتے غراتےہوۓ کہا۔
سر۔۔آپ آفس میں چلیں میرے ساتھ۔۔۔ آپ کو وہاں سے ہی پتہ چلے گا۔۔ وہ شخص ایک تو آفتاب کی پرسنلٹی سے مرعوب ہو رہا تھا۔ دوسرا اسکا بولنے کا انداز اور الفاظ وہ تھوڑا سہم گیاتھا۔
آفتاب ب بھینچے اسکےساتھ ہو لیا ۔
آفس میں ایک شفیق سی خاتون براجمان تھیں ۔
اس شخص نے آفتاب کا مدعا ان کے آگے رکھا۔
آ۔۔آپ۔۔۔ خان انٹر پراٸز کے اونر ہیں ناں۔۔؟؟ آفتاب شیر خان۔۔؟ اس عورت نے تصدیق چاہی
جی۔۔۔۔! آفتاب کے اقرار پے اس عورت کے چہرے پے مسکان آگٸ۔
دراصل یہ ایک اورفنج ہاٶس ہے۔ یہاں یتیم اور بے سہارا بچوں کی پرورش کی جاتی ہے۔ اور ہر ممکن کوشش کیجاتیہے کہ انکو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔۔
وہ عورت اپنے ادارے کی اچھاٸیاں بیان کرنے لگی ۔
آپ مس کنول کو بلو دیں پلیز۔
آفتاب نے انکی بات کو نظر اندازکرتےکہا ۔ تو وہ عورت دل چھوٹا کر گٸ۔
جی ۔۔۔ ! مس کنول یہاں اکثر آتی ہیں۔لیکن۔۔ آپ ان سے کیوں ملنا چاہتےہیں۔؟
میں آپ کو اسکا جواب دہ نہیں۔۔ ! آفتاب نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔ تو اس عورت نے ایک۔بھر پور نظر آفتاب پے ڈالی ۔ انہیں وہ شخص اوروں سے الگ لگا۔
اس عورت نے ایک بیل بجاٸ۔
ویسے تو ہم یوں کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے۔اب آپ ہی گٸے ہیں تو۔۔ مل لیں مس کنول سے۔۔۔
انہوں نے مسکرا کے احسان کرنے والےانداز میں کہا۔ جبکہ آفتاب نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
بیل کی آواز پے ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔
مس کنول کو بلا لاٸیں۔ ان سے کہیں ان سے کوٸ ملنے آیا ہے۔
میم ۔۔۔۔ وہ بلال کے پاس ہیں۔۔! وہ لڑکا پریشان ہوا۔
کیونکہ جب کنول بلال کے پاس ہوتیتو کسیکو اجازت نہ ہوتی کہ اسکے پاس جا کے اسے ڈسٹرب کرے ۔
اوہ۔۔۔۔ ! سر آپ ویٹ کرسکتےبیں۔۔؟؟ اس عورت نے بہت مہذب انادز میں پوچھا۔
نہیں۔۔۔! مجھے بتا دیں وہ کہاں ہیں۔۔میں خود چلا جاتا ہوں۔سپاٹ انداز میں کہا۔
لیکن ۔۔سر وہ برا منا جاٸیں گیں ۔
وہ لڑکا فکر مندی سے بولا۔
بتاٸیں مجھےکہاں ہے وہ۔۔۔! آفتاب باہر نکلا۔ تو وہ لڑکا۔ اس میڈم کےاشارے سے فوراً آفتاب کےپیچھے بھاگا۔
آفتاب کوپارک کی طرف ایک جگہ لے آیا۔ اور سامنے اشارہ کیا۔ جہاں وہایک بینچ پے بیھی مزے سے ایک بچے کے ناز نخرے اٹھانے والے انداز میں بات کر رہی تھی۔ اور جتنی محبت بھرے انداز میں وہ بات کر رہی تھی۔ آفتاب اسکا انداز دیکھتا ہی رہ گیا۔
وہ لڑکا وہاں سے واپس جا چکا تھا۔۔
آفتاب میکانکی انداز میں آگے بڑھا۔
بلال ۔۔ پلیز۔۔۔ بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ میں روز روز نہیں آسکتی۔۔۔ آج بھی نہآتیاگر آپ نے یوں دھمکی نہ دی ہوتی۔ کنول کی آواز سماعت سے ٹکراٸ تو آفتاب وہیں رک گیا ۔
آپ۔۔۔مجھ سے بلکل پیار نہیں کرتیں ۔ بس اس چڑیل سے کرتی ہیں۔۔۔
بلالنے منہ بنا کے کہا۔
ایسے نہیں کہتے۔۔ بڑی ہیں وہ۔۔ آپ سے۔۔! اچھا بتاٸیں کیاکھاٸیں گے۔ بلال۔۔۔! کنول نے پیار سے ٹوکا۔
نہیں۔۔نہیں۔۔۔ آپ وعدہ کرو۔۔ پہلے۔۔ روز آٸیں گیں۔۔ ورنہ۔۔مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔اور جاٸیں آپ۔۔۔ مجھےبآپ سے بات بھی نہیں کرنی۔۔اس بچے نے منہ بناتے دوسری طرف رخ کر لیا۔
بلال۔۔۔۔! اب آپ پنی آپی کو تنگ کر رہے ہو۔۔۔ سچی۔۔ آپ جانتےنہیں۔۔ میرا بوس بہت کھڑوس انسان ہے۔۔ہر وقت غصہ غصہ۔۔غصہ کرتے رہتے ہیں۔ منہ بنا کے کہا۔
آفتاب جو آگے ہو کےکچھ کہنے کے لیے لب وا کرنے لگا تھا کنول کی اس بات پے گنگ رہ گیا۔
بلال۔۔مری جان۔۔۔ وہ۔۔ کبھی بھی۔۔۔۔مجھے۔۔روز روز یہاں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔لہجےمیں دکھ تھا۔
آپ ۔۔ مان جاٸیں ناں۔۔ اور کچھ کھا لیں ناں۔۔ آپ نے رات سے کچھ نہیں کھایا۔
اب کی بار کنول کا چہرہ اترا تھا۔ جو آفتاب کو ایک اکھ نہ بھایا۔ دل نے کہا وہ مسکراتی ہی اچھی لگتی ہے۔
نہیں۔۔۔نہیں۔۔نہیں۔۔۔ وہ اب بھی ضد کر رہا تھا۔
کنول زچ آگٸ تھی۔
چاکلیٹ کھاٶ گے۔۔؟؟ آفتاب کےاچانک کہنے پے کنول بری طرح چونکی ۔جبکہ بلال نے ایک نظر آنے والے کوگردن موڑ کے تیکھے انداز میں دیکھا۔
کنول اپنی جگہ ساکت ہوگٸ۔
آج وہ کالے لباس میں تھی۔ جس میں اسکا ددھیا رنگت بہت کھل رہی تھی۔ آفتاب کا جی چاہا اسے منع کر دے کالا رنگ پہننے سے۔ نجانےکیوں۔۔ اسے دل کیا کہ اس پری پیکر کو سواۓ اسکے کوٸ نہ دیکھے۔
آپ کی تعریف۔۔؟؟ بلال نے حاضر جوابی سے کہا۔
تعریف ۔۔تو آپ کی آپی نے کر ہی دی ہے۔۔۔! اب میں اور کیاکروں۔۔۔؟؟ ایک نظر جھٹ سے اپنی جگہ سےکھڑی ہوتی کنول پے ڈالی۔ اور بلال کےساتھ بیٹھ گیا۔
میں اسرینجر سے بات نہیں کرتا۔
آفتاب کو کرارا سا جواب ملا تو وہ اس بچے کا منہ دیکھتا رہ گیا۔
ہمممم۔۔۔۔!
بلال۔۔۔یہ۔۔۔۔۔میرے۔۔۔بوس۔۔۔ ہیں۔۔۔! کنول نے بنا آفتاب کی جانب دیکھتے دھیمے سے کہا۔
بلال نےایک نظر کنول اور دوسری نظر آفتاب کو دیکھا۔
وہی کھڑوس بوس۔۔؟؟ بلال کے ماتھےپے بل پڑے۔
کنول نے آفتاب کو ڈرتے ہوۓ دیکھا۔جو اسیکو دیکھ رہا تھا ۔۔ کنول نے زبان دانتوں تلے دباٸ۔ اور رخ پلٹا۔
آپ ۔۔مجھ سے دوستی کریں گے۔۔؟؟ آفتاب نے کنول کو نظر انداز کرتے بلال سے پیار سےپوچھا۔
ایک شرط پے۔۔۔! بلال نے رخ اسکی جانب موڑا۔
آپ آپی کو روز بھیجیں گے مجھ سے ملنے ۔۔۔!
بلال کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
ہمممم۔۔۔ تھوڑا مشکل۔۔۔ہے۔۔ لیکن۔۔۔۔ ڈن۔۔ بھیج دوں گا۔۔ !
یاہو۔۔۔۔۔!
بلال نے نعرہ لگایا۔ اور آفتاب کے گلے لگا۔ آفتاب اس بچے کی ایکساٸٹمنٹ دیکھ دم بخود رہ گیا ۔
اب سب سے پہلے آپ کھانا کھاٸیں گے۔۔سمجھے۔
کنول نے بلال کا ہاتھ تھام کے اٹھایا۔ وہ مسکراتا ہوا اٹھا۔ کنول نے دور کھڑے ایک لڑکے کو اشارہ کر کے پاس بلایا۔ اور بلال کو اسکے حوالے کیا۔
اس کے جانے کے بعد کنول آفتاب کی طرف متوجہ ہوٸ۔
آپ یہاں۔۔؟؟
آپ کو آفس ہونا چاہیے تھا۔۔۔؟؟ آفتاب نے اسکے پاس آتے اسکے چہرے کا طواف کرتے کہا۔
وہ۔۔۔ اچانک۔۔یہاں آنا پڑا۔۔۔۔ ناول نے نظریں جھکا کے کہتی وہ سیدھا آفتاب کے دل۔میں اتر رہی تھی۔
چلیں۔۔؟؟؟ آفتاب نے اس پے سے نظریں ہٹاتے سامنے دیکھتےپوچھا۔ تو کنول اسے دیکھتی اثبات میں سر ہلاتی اس کے ساتھ چل دی ۔















گھر پہنچتےہی تھوڑی بہت رسمیں کرنے کے بعد فضا کو میکال کے روم میں پہنچا دیا گیا۔ جبکہ انا عابی کو لیے میکال کا راستہ روکےکھڑی ہوگٸ۔
نیگ نکالیں۔۔۔! انا نے ہتھیلی پھیلاٸ۔
میکال مسکرایا۔ جبکہ پاس ہیکھڑا شہیر انا کو دیکھتے اندر تک سرشار ہورہا تھا۔ اسکی روح اکے سامنے تھی۔ اسکی روح کیسے نہ سرشار ہوتی۔۔؟؟
کیاچاہیے۔۔۔؟؟ میکال نے بڑے پن کا مضاہرہ کرتے پوچھا۔
انا نے ایک منٹ سوچا۔ عابی کی طرف دیکھا۔ آٸ برو اچکاٸ۔ اس ایک لمحے اسکی چھوٹی سی چمکتی بندیا کو دیکھا تو بےاختیار دل نے چھونے کی خواہش کی۔
اپنی خوشی سے دے دیں۔۔۔! انا نے ہتھیلی پھر پھیلاٸ۔
دے دو بیٹا۔۔ بہن بیٹیوں کا ہی سب سے پہلا حق ہوتا ہے۔ شمسہ بیگم نے مسکراتےہوۓ میکال سے کہاتو میکال نے جیب سے دو رنگ کی ڈبیہ نکالیں۔ ایک عابی اور ایک انا کو تھماٸ۔
واٶ۔۔۔۔ یہ تو بہت پیای ہے۔۔۔ عابی نے خوش ہوتے کہا
واقعی۔۔۔۔ تھینک یو۔۔ میکال بھاٸ۔ انا نے خوشی سے کہتے کمرے کےاندر جانے کا راستہ چھوڑا۔ اور خود عابی سے باتیں کرتی وہاں سے نکلی۔
نظر بچا کے شہیر بھی اس کے پیچھے ہی گیا۔ہم دونوں کی سیم ہے ناں۔۔؟؟
عابی نے مسکراتے ہوۓ بچوں کی طرح کہا ۔
ہممممم۔۔۔۔بہت پیاری اور نازک سی۔ میکال بھاٸ کی پسند بہت اچھی ہے۔
انا نے بھی دل سے تعریف کی۔
عابی۔! تمہیں اندر بلا رہے ہیں۔۔ شہیر نے ان کے پاس آتے عابی سے کہا۔
مجھے۔۔۔؟؟ عابی حیران ہوتی اندر کی جانب بڑھی۔ جبکہ شیر انا کا ہاتھ دھیرے سے تھامے باہر گارڈن میں لے آیا۔۔۔
انا ک چہرے پے دھیمی مسکان آگٸ۔
خیریت ہے۔۔۔ ؟؟ آج آپ بہت چپ چپ سے لگے۔۔؟؟ انا نے رنگ دیکھتے ہوۓ سرسری سے اندز میں پوچھا۔
ہمممم۔۔۔ تو ۔۔ میری۔۔۔ منکوحہ۔۔ مجھے سمجھنے لگی ہیں۔۔؟؟؟ شہیر نے اسکے ہاتھ ک تھامے نظر اسکی بندیا پے ڈالی۔
اور پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے اسکی بندیا کو چھو کے یونہی ٹھیک کرنے لگا۔
انا۔۔۔۔ میں کل واپس جا رہا ہوں۔۔
شہیر کے کہنے پے انا جو اسکے ہاتھوں کے لمس کو ماتھےپے محسوس کرتے دل کی دھڑکن کو سنبھال رہی تھی۔ شہیر کی اگلی بات سنتے ہی جھٹ سے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
دی جے کو لے کے جاٶں گا۔
اگلی بات پریقین انداز میں کہی۔ انا نے نظریں جھکا لیں۔ اے سمجھ نہ آیا ۔ کہ کیا بولے وہ۔۔؟؟
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کچھ کہو گی نہیں۔۔؟؟ شہیر اسے سننا چاہتا تھا۔
ہمممم۔۔۔ کیا کہہ سکتی ہوں میں۔۔ آپ ۔۔۔ واپس جانے کے لیے ہی تو آۓ تھے۔ انا نے اپنا دامن بچایا۔
ہاں۔۔۔ جاٶں گا تو بارات لے کےآٶں گا ناں۔۔۔! انا کے کان میں کہتا وہ اسے واپس اپنی طرف دیکھنے پے مجبور کر گیا ۔
آپ۔۔۔؟؟ سچ۔۔۔ کہہ رہے ہیں۔۔؟؟ انا کو یقین نہ آیا ۔
میں۔۔ پہنا دوں؟ شہیر نے اس سے رنگ کی ڈبیہ مانگی ۔ تو نا نے اے تھما دی۔ رنگ نکال کے اسے پہناٸ ۔
انابیہ شہیر خانزادہ۔۔۔ تم امانت ہو میری۔۔! صرف میری۔۔ہو۔۔۔ ! اور اپنی امانت کو لینےمیں جلد ہی لوٹوں گا۔۔۔ ! اسکی انگلی میں انگوٹھی پہناتے وہ بہت یقین سے بولا۔
انا کےہاتھ لرزے۔
بس مجھے اپنی انا کا بھروسہ چاہیے ۔ ۔۔ شہیر نے اسے دھیرے سے اپنے پاس کیا۔ انا کا دل پھر سے اک سو بیس کی رفتار سے دھڑکنے لگا۔
آپ۔۔۔ہمیشہ۔۔۔مججےاپنےساتھ پاٸیں گے۔۔۔! انا نے شہیر کیآنکھوں میں دیکھتےدھیرے سے اپنے دلکی ات کہی۔ تو شہیر سرشار سا ہوگیا۔ اور اپنا ماتھا انا کے ماتھے کے ساتھ ٹکا کے آنکھیں موند لیں۔
اور یہ شہیر خانزادہ۔۔۔ ضرف اپنی انا کا ہے۔ اور اسی کا رہے گا۔ ہمیشہ۔۔۔ آخری سانس تک۔۔۔
اسکے ماتھے پے بہت پیار او مان سے بوسہ دیا۔ انا کی روح تک سرشار ہوگٸ۔ مان عزت اور بھروسہ۔۔
اس لمس میں کیا کیانہ تھا۔۔؟؟ وہ اس شخص کے حصار میں بری طرح جکڑ ی گٸ تھی ۔















بلال کااس دنیا میں کوٸ نہیں۔۔ وہ اکیلا ہے۔ دوسال پہلے مجھے ایک دن پارک میں ملا ۔ وہیں سے وہ میرے ساتھ اٹیچ ہو گیا۔ میں کبھی کھبار ہی اس سے ملنے آتی تھی۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے نہ آسکی۔ تو یہ ناراض ہو گیا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ مجبوراً مجھے آنا پڑا۔ آپ کو بتا بھی نہ سکی۔ ۔۔۔
کنول نے دھیمے انداز میں ساری بات آفتاب کے گوش گزار دی۔
اس وقت وہ آفتاب کے آفس میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔
آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا۔
صحیح۔۔۔۔! میری امانت کہاں ہے؟ آفتاب نے اپنی چیزیں مانگیں۔ انا نے اسکی جانب دیکھا۔
وہ۔۔۔۔وہ میرے۔۔۔ روم میں۔۔۔۔!
آپ جانتی ہیں۔۔ وہ امپورٹینٹ فاٸلز کا یہاں آفس میں ہونا ضروری ہے یا آپ کے گھر میں۔۔؟؟
اب کی بار آفتاب کا موڈ بگڑا۔
میں۔۔۔ میں لے آتی ہوں۔۔۔! کنول فوراً بولی ۔
جب آرہے تھے۔ تب آپ نے کیوں نہ بتایا۔۔؟؟ ماتھے پے بل پڑے۔
آپ نے پوچھا ہی نہیں۔۔۔؟؟ کنول نے برجستہ جواب دیا۔ تو آفتاب بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
رٸیلی۔۔ مس کنول۔۔؟؟ آپ کی زمہ داری تھی۔ وہ آفس تک پہنچانا۔۔۔ !
سر۔۔۔! آپ مجھے ضولمیں ڈانٹ رہے ہیں۔
کنول نے منہ بنایا۔
صدیقی صاحب۔۔۔ ان کے ساتھ جاٸیں۔ اور میری ضروری ڈاکومنٹس ہیں۔ ان کے پاس وہ لے کے آٸیں۔
آفتاب نے صدیقی صاحب کو بلاتے ان سے کہا۔
ان کو۔۔ جانے کیبکیا ضرورت ہے۔۔ میں خود بھی لاسکتی ہوں۔۔کنول نے بر منایا۔
جو کہا ہے وہی کریں۔ اور وہ ڈاکومنٹس آپ صدیقی صاحب کو دے کے خود اس ہوٹل میں پہنچیں۔ آدھے گھنٹے تک میٹنگ ہے۔
آفتاب نے اگلا لاٸحم عمل ترتیب دیا ۔
اگر فاٸلز صدیقی صاحب کو ہی دینے تھے۔ تو آپ مجھے کل ہی بتا دیتے۔ میں انکو ہی دے دیتی ۔۔ ایسے ہی ساتھ لے کے گٸ۔
کنول منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی باہر نکلی۔ آفتاب کصوے گھونٹ بھر کے رہ گیا۔
جاٸیں آپ بھی۔ صدیقی صاحب کو وہیں براجمان دیکھ آفتاب نے سپاٹ انداز میں کہا۔ تو وہ فوراً باہر نکلے۔














کیاہو گیا۔۔؟ دیکھ کے نہیں چل سکتی۔۔؟؟
شامینے عابی کے اندھا دھند چلنے پے چوٹ کی۔
سوری۔۔ مجھے نہیں پتہ چلا۔۔۔آپ۔۔۔؟؟ عابی سامنے شامی کو دیکھ شرمندہ ہوٸ۔
بندہ سامنے دیکھ کے چلتا ہے۔۔سامنے دیکھ کے چلے تو ٹکر نہ ہو۔۔۔!
شامی نے چوٹ کی۔
جاری ہے۔۔
