Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan NovelR50499 Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho (Episode 11)
Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha Chohan
نظریں اٹھا کےچلو تا کہ چوٹ لگنے کا خطرہ نہ ہو۔
شامی نے عابی کو طنز کیا۔
جب ۔۔قسمت میں ہی چوٹ لگنا لکھا ہے تو۔۔۔ نظریں اٹھا کے چلیں یاجھکا کے۔۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔
نظریں اٹھاتی وہ دکھی انداز میں بولی۔
بہت زبان نہیں لگ گٸ۔۔۔ تمہیں۔۔؟؟ لگام دو اسے۔۔ ورنہ کاٹ دوں گا۔۔۔! شامی نے غراتے ہوۓ کہا۔
عابی نے نظریں چراٸیں۔ اور ساٸیڈ سے ہو کے نکلنا چاہا۔
کہاں جار ہی ہو۔۔؟ مزید سوال داغا۔ لیکن وہ چپ رہی۔
سناٸ نہیں دیتا کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟ شامی کی آواز تھوڑی اونچی ہوٸ۔
گگگھر۔۔۔۔! وہ اسکے اونچا بولے سے سہم گٸ۔
وقت دیکھا ہے۔۔ ؟ شامی نے کلاٸ پے بندھی گھڑی پے ٹاٸم دیکھتے ٹوکا۔
تمہیں اپنے گھر سکون نہیں ملتا جو ہر وقت یہاں منڈلاتی رہتی ہو۔۔ ؟ شامی نے سنجیدہ انداز میں اسے کہا۔
ہم۔۔۔۔۔ہمم۔۔۔ گھر جا رہے تھے۔۔۔ !
عابی منمناٸ۔
کتنی بار کہا ہے۔۔ یہ ہم کا صیغہ مت استعمال کیا کرو۔۔ خاص کر میرے سامنے۔ شامی اسکے پاس ہوتا منہ بنا کے بولا۔
ہم۔۔۔۔میں۔۔۔ جاٶں۔۔۔؟؟ کہتے کہتے فوراً صیغہ درست کیا۔
نہیں۔۔ میرے ساتھ آٶ۔ شامی نے کہتے اسکا ہاتھ تھاما۔تو عابی کا دل بہت سخت دھڑکا۔
کہاں۔۔؟؟ عابی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
no questions only follow my instructions.
شامی نے مڑ کے ماتھے پے بل۔ڈالتے کہا۔ اور اسے لیے کچن میں آگٕیا۔
چلو۔۔۔ روٹی بنا کے دو مجھے۔۔۔۔! کچن میں لاتے ہی آرڈر لگایا۔
روٹی۔۔؟؟ اس وقت۔۔۔؟؟ آپ نے ۔۔۔شای پے کھانا نہیں کھایا۔۔؟ عابی کو تو اسکی با ت پے کرنٹ ہی لگا۔
تمہیں ایک ات سمجھ نہیں آتی۔۔۔؟؟ کہ مجھ سےسوال۔نہیں کرنے۔۔۔ جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔بناٶ روٹی۔
پاس ہو کےغصہ سے کہا۔
عابی نے منہ بناتے فریج سے آٹا نکالا۔ گھر میں اور چھوٹے موٹے کام تو وہ کر ہی لیتی تھی۔ لیکن کبھی روٹی بنانے ک اتفاق نہ ہوا تھا۔۔آٹا دیکھتے وہ سوچ میں پڑ گٸ۔ اسکو روٹی کی شکل کیسے دیں۔۔۔۔؟؟
شامی نے خشک آٹا کیبن سے نکال کے اس کے سامنے رکھا۔
چلو۔۔۔ شروع ہوجاٶ۔ اسے کہتا خود ڈاٸننگ ٹیبل پے بیٹھ سیب کھانے لگا۔ عابی نے مڑ کے ایک مسکینی نظر اس پے ڈالی۔ لیکن وہاں بالکل کوٸ رحم نہ تھا۔
مجبوراً تھوڑا سا آٹا نکال کے وہ پیڑے کی شکل بنانے لگی۔
کیسے شوہر ہیں یہ۔۔۔؟؟ بیوی تیار ہوٸ ہے۔ بجاۓ تعریف کرنے کے اس سے اس حالت میں روٹی بنوا رہے ہیں۔
کچھ کہا تم نے؟اسکو بڑبڑاتے دیکھ شامی نے پوچھا۔
ننننہیں۔۔۔۔ تو۔۔۔! عابی نے بنا مڑے کہا۔
سیدھی گول روٹی بنانا۔۔۔سمجھی۔۔۔! اگلا آرڈر جاری کیا۔
آپ۔۔۔ ہمیں مطلب۔۔۔ ہم کو کنفیوز کر رہے ہیں۔۔۔!
اس میں کنفیوز ہونے والی کیا بات ہے۔۔؟؟ پاس آکےکھڑے ہو کے نارمل انداز میں پوچھا۔
چلو۔۔بناٶ۔۔۔ روٹی۔۔۔! آنکھوں کے اشارے سے آٹے کی طرف اشارہ کیا۔
سیدھی یا گول۔۔۔؟؟ عابی نے کنفیوز ہوتے پوچھ ہی لیا۔
روٹی۔۔۔ ؟؟ بھی کھاٸ نہیں۔۔؟ جو مجھ سے پوچھ رہی ہو۔۔؟؟ ماتھے پے بل پڑے۔۔
آپ نے ۔۔کہا۔۔۔سیدھی۔۔ گول روٹی بناٶ۔۔۔اب۔۔ روٹی یا تو سیدھی ہوتی ہے یا گول۔۔۔؟ کیسی بناٸیں۔۔؟
تم۔۔۔۔۔؟؟؟منہ کم لاٶ۔۔ اور ہاتھ زیادہ چلاٶ۔۔۔ روٹی بناٶ۔۔ بالکل گول۔۔۔ میری امی جان کیطرح۔۔۔
شامی نے منہ بگاڑ کے کہا۔
اب ہم آپ کی امی جان تو ہیں نہیں۔ کہ انکی طرح گول روٹی بناٸیں ۔ دھیرے سے منمناٸ۔ جبکہ پاس کھڑے شامی نے سن لیا۔
بیوی تو ہو۔۔۔۔۔۔! اور رخصتی کےبعد یہ سب کام کرنےپڑیں گے۔ اس لیے تیاری کرکے آنا ۔کیونکہ میں نے امی جان کو آرام دینا ہے صرف۔ اور کسی بھول میں نہ رہنا۔۔ میں نے کسی قسم کی کوٸ رعایت نہیں دینی۔ اسلیے پہلے ہی مینٹلی تیار رہو۔۔۔ چلو۔۔۔ شاباش۔۔ بہت ہوگٸیں باتیں۔ روٹی بنا بھی لو۔
اتنےبڑے لیکچر کے بعد عابی کی دوبارہ کچھ کہنےکی ہمت نہ ہوٸ ۔ روٹی بیل کے توے پے ڈالی۔ ساتھ ایک نظر شامی کو دیکھا۔ جو فریج سے پانی کی بوتل نکال کے پانی گلا میں انڈیل رہا تھا۔
فٹ سے روٹ کو سیکنے لگی۔ کہ سیکتے ہوۓ اسکا ہاتھ جل گیا۔ ایک چھوٹی سی چینخ نمودار ہوٸ۔ وہ جو گلاس منہ کو لگاۓ ہوۓ تھا۔ واپس اسکی طرف پلٹا۔ فٹ سے چولہا بند کیا۔ اور روٹی کو نیچے اتارا۔ جو اچھی خاصی جل چکی تھی۔ اور دیکھنے میں بھی عجیب لگ رہی تھی۔
یہ روٹی ہے یا ۔۔۔آسٹریلیا کا نقشہ۔۔۔؟؟ ہر اینگل سے اس نے روٹی کو دیکھا۔
عابی جسے لگا کہ وہ اسکا ہاتھ دیکھے گا جو جل گیا۔لیکن اس نے اسکے ہاتھ کی بجاۓ روٹی کو دیکھنا ترجیح دیا۔ عابی کی آنھکوں میں آنسو آگۓ۔
حد ہوتی ہے۔۔۔ بس باتیں کرنا آتی ہیں۔۔ ان محترمہ کو۔وو کر وا لو۔۔۔ کام دیکھو۔۔ ایک روٹی تک بنانی نہیں آتی۔۔۔کیا سیکھا ہے۔۔؟؟ ان سترہ سالوں میں۔۔؟؟
شامی نے اسے اچھے خاصا ڈانٹ دیا۔ جواب میں عابی کچھ بول ہی نہ پاٸ موٹے موٹے آنسو پھسلتے گالوں پے بہنے لگے۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔؟ جمیلہ خاتون کی آمد پے دونوں چونکے۔
اور ۔۔۔یہ۔۔۔۔کیا ۔۔۔ہے۔۔؟ شامی کے ہاتھ سے روٹی پکڑتے حیرانی سے پوچھا۔ انہیں دیکھ عابی نے آنسو پونچھے۔
یہ آپ کی بہو کا کارنامہ ہے۔۔۔! شامی نے طنز کیا۔
عابی۔۔۔ بیٹا۔۔۔؟؟ آپ سےکس نےکہا۔۔ یہ سب کرنے کو۔۔؟؟ بیٹا۔۔ روٹی کھانیتھی تو مجھے بتا دیا ہوتا۔۔؟میں بنا دیتی۔۔۔! جمیلہ خاتون دکھ سے بولیں۔
کیوں ۔۔؟؟ آپ کیوں۔۔؟؟ یہ خود کیوں نہیں بنا سکتی کیا۔۔۔؟؟ شامی نے بیچ میں ٹوکا۔
بیٹا۔۔۔ اسے۔۔۔ ابھی۔۔۔ یہ سب نہیں آتا۔۔۔ سیکھ لےگی۔۔ !
جمیلہخاتون کے اسکیساٸیڈ لینےپے جہاں عابی پرسکون ہوٸ۔ وہیں شامی کو تپ چڑھی ۔
جب سیکھ لیتی تو نکاح بھی تب کرتے۔۔۔ اتنی بھیکیا جلدی تھی۔۔۔اس کے ماں باپ کو۔۔؟؟ بیٹی کو بندہ پہلے گھر داری سکھاتا ہے۔۔۔ پھر۔۔۔؟؟
شامی۔۔۔۔! جمیلہ خاتون نے اسے گھرک کے بیچ مں ہی ٹوکا۔
ور عابی کی جانب متوجہ ہوٸیں۔ جو اپنا ایک ہاتھ تھامےہوٸ تھی۔ جو لال ہو رہا تھا۔
یہ۔۔۔یہ کیاہوا ہاتھ پے۔۔؟؟ جمیلہ خاتون کے کہنے پے شامی کی نظر بھی اسکی طرف گٸ۔
کککککچھ۔۔۔نہیں۔۔۔ ممانی۔۔۔ وہ۔۔بس۔۔ ایسے ہی۔۔۔! ہم گھر جاٸیں۔۔؟؟ عابی نے مسکرا کے ہاتھ دوپٹے میں چھپاتے اجازت مانگی۔
جمیلہ خاتون سمجھ تو گٸیں۔ لیکن نظر انداز کر گٸیں۔ انہیں شامی پے غصہ تو بہت آیا۔ لیکن عابی کے چھپانے پے وہ پ ہو گٸیں۔
بیٹا۔۔۔ گھر جاٸیں۔ بہت دیر ہوگٸ ہے۔ جمیلہ خاتون نے پیار سے کہا۔ تو عابی فوراً سے پہلے باہر نکلی۔
کبرڈ سے اناٸمنٹ نکال کے شامی کے ہاتھ میں تھماٸ۔
شامی۔۔۔! آپ سے یہ امید نہیں تھی مجھے۔ دکھ سے کہتیں وہ بھی باہر نکل گٸیں۔ جبکہ شامی ماتھا مسلتا ہاتھ میں پکڑی اناٸمنٹ دیکھتا عابی کے پیچھے گیا۔
رکو۔۔۔ دروازے کے پاس پہنچتے عابی کو آواز دے کے روکا۔
اسکےجاتے قدم وہیں تھمے۔
دکھاٶ اپنا ہاتھ۔۔؟؟ اسکا ہاتھ تھامتے دھیرے سے اپنے ہاتھ میں لیا۔ ایک نظر اس کے چہرے پے ڈالی۔ اور بے اختیار نظر اسکی آنکھوں پے جا ٹہری۔ جو رونے کی وجہ سے ہلکی ہلکی لال ہو رہی تھیں۔
شامی کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔
اگلےہی پل سر جھٹکتا اسکے ہاتھ پے اناٸمنٹ لگاتا وہ عابی کو بہت اچھا لگا۔
مجھے نہیں تھا پتہ اتنی پھوہڑ دماغ بیوی ملے گی۔۔۔
روٹی بنانے کی بجاٸے آسٹریلیا کا نقشہ بنا دیا۔ امی جان سے ڈانٹ الگ پڑواٸ۔ اور یہ ہاتھ پے جلا لیا۔۔۔
نفی میں سر ہلاتا وہ اپنی شرمندگی مٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔
زیاہ درد ہے؟ ہاسپٹل چلیں؟ شامی نے اس کے آنسو دیکھتے نرمی سے پوچھا۔
ہسپٹل کے نام پے عابی کو وہی لڑکی پھر سے یاد آگٸ۔۔
نننہنہیں۔۔۔ اب۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔! سوں سوں کرتیوہ دھیعے سے بولی۔
چلو۔۔۔ گھر چھوڑ دوں۔۔۔! اسکا دوسرا ہاتھ پورے استحاق سے تھامے وہ اسے لیے گیٹ سے باہر نکلا۔ جبکہ یہ پیارا منظر شہیر اور انا نے دیکھتے ایک دوسرے کو سماٸل دی۔
لگتا ہے سالے صاحب کو بھی احساس ہو ہی گیاہے۔۔ محبت کا۔۔۔؟؟؟
ایک منٹ۔۔۔یہ کیا کہا آپ نے۔۔۔؟؟ انا نے گھوری ڈالی ۔
اب سالے کو سالا نہیں کہوں گا تو کیا کہوں گا۔۔؟؟
کہتے ساتھ انا کو اپنے پاس کیا۔ اسکا ہاتھ تھامے وہ اللہ سے اپنے اور اس رشتے کے داٸمی ہونے کی دعا مانگ رہا تھا۔















کمرےمیں داخل۔ہوتے میکال نے گلہ کھنکھارا۔
ہاۓ اللہ آپ کوکھانسی ہو رہی ہے؟
فضا نے فکرمندی سے گھونگھٹ ہٹا کے میکال کو دیکھا۔
نہیں۔۔۔تو۔۔۔؟؟ میکال اسکی باتپے حیران ہوتا اکے ہوشربا وجود کو دیکھنےلگا۔
پھر کھانسی کیوں کی ؟ خفگی سے پوچھا۔
یار۔۔۔۔ آپ ک متوجہ کرنے کے لیے۔۔۔میکال نے سر تھاما۔ اور اسکےپاس بیڈ پے براجمان ہوا۔
اس کے لیے آپ کو کھانسنے کی ضرورت تو نہ تھی۔۔۔ آپ میرا نامبھی لے سکتے تھے۔۔میں نے فوراً متوجہ ہو جانا تھا۔ میں بہت فرمانبردار بیٹی ہوں۔
اپنی تعریف کی۔
اور۔۔؟بیوی۔۔؟؟ میکال نے ایک آٸ برو اچکاتے اکی باتوں کو انجواۓ کرتےپوچھا۔
آزما کے دیکھ لیں۔ شہد رنگ آنکھیں اسکی آنکھوں میں ٹکاٸیں۔ لیکن اگلے ہی پل جھک گٸیں۔
ہممم۔۔۔ ہیوی ڈریس ہے ناں۔۔ چینج کر لیں۔ کمفرٹیبل ہوجاٸیں گیں۔
میکال نے دھیرے سے کہا۔
جی اچھا۔۔۔! فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھنے لگی کہ۔۔ میکال نے ہاتھ تھام لیا۔ فضا جو پہلے ہی کنفیوژ ہو رہی تھی۔ مزید دل دھڑکنے لگا۔
واقعی بھٸ۔۔۔ بہت فرمانبردار ہیں آپ۔۔۔!
میکال نے مسکرا کے کہا۔
بیٹھیں یہاں۔۔۔! ہاتھ تھام کے واپس بٹھایا۔
کیاہوا۔۔؟ فضا نے اسے یوں مہبوت ہو کے خود کو فیکھتے میکال سے پوچھا۔
میک اپ بہت اچھا ہوا ہے۔۔۔! میکال نے اسے تنگ کیا۔ اور وہ ہنس دی۔
سچ میں ناں۔۔۔۔۔! میں نے بھی یہی کہاتھاانا کو۔۔۔۔ زنیرہ بہت اچھا میک اپ کرتی ہے۔ اب آپ نے بھی تصدیق کر دی۔
میکال اسکی بات سن کے سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ کیا بیوی ملی تھی اسے۔
کیا ہوا۔۔؟ سر میں درد ہے کیا۔۔؟؟ دبا دوں ؟ فکر منی سےپوچھا۔
نہیں۔۔۔ یہاں درد ہے۔۔۔ اسکا ہاتھ تھام کے اپنے دل کےمقام پے رکھا۔
ہاۓ۔۔اللہ۔۔۔ آپ کو دل میں درد ہو رہا ہے۔۔؟؟ میں۔۔۔ میں ابھی بڑے ابو سے۔۔۔؟؟
شی۔۔۔۔۔۔! کیا ہوگیا ہے فضا۔۔۔؟ بچوں والی باتیں کیوں کر رہی ہو۔۔؟؟ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔ پاگل۔۔۔! میکال سچ میں زچ آگیا۔
پھرر۔۔۔؟؟؟ مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
اچھا چھوڑو۔۔ یہ سب۔۔۔یہ بتاٶ۔۔ منہ دکھاٸ کیا لوگی۔۔؟؟ میکال نے اسے دوسری بات کی جانب گھومایا ۔
منہ دکھاٸ دیں گے آپ؟ حیرت سے پوچھا۔
کیوں۔۔؟إ کیا نہیں دینی چاہیے۔۔؟؟ اب کے میکال کو اسکی بات پے شدید حیرت ہوٸ۔
نہیں۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔کزنز کی شادی میں تو زیاہ تر منہ دکھاٸ دی ہی نہیں جاتی۔۔ کہ اتنی دفعہ کے دیکھے ہوۓ منہ پے کون منہ دکھاٸ دیتا ہے۔۔؟؟ کہتے ہوۓ تالی بجا کے ساتھ ہنسی۔ جبکہ میکال کو لگا ۔۔اس نے رخصتی میں جلد بازی کر لی ہے۔۔ یہ لڑکی تو کچھ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔
صحیح کہا۔ جاٸیں چینج کریں۔ اور آرام کریں۔ رات بہت ہوگٸ ہے۔ سنجیدہ انداز میں کہتا وہ لاٸیٹ آف کرتا واپس اپنی جگہ پے آکے لیٹتا فضا کے ہوش ٹھکانے لگا گیا۔ فضا نے دھیرے سے میکال کا ہاتھ تھام لیا۔ میکال نے مڑ کے اس کے دلہن کے سراپے کولیمپ کی روشنی میں بھرپورانداز سے دیکھا۔
میکال کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔
منہ دکھاٸ تو دیتے جاٸیں۔ ہتھیلی پھیلاٸ۔
ہممم۔۔۔ اگر میں یہ کہوں کہ۔۔ میں نے آپ کے لیے کچھ لیا ہی نہیں۔۔ تو۔۔؟؟ میکال نے اب اسے تنگ کرنے کا ارادہ کیا۔
تو ۔۔۔ کوٸ بات نہیں۔۔ کل آپ کے ساتھ چل کے اپنی مرضی کی اپنی پسند سے لے لوں گی۔۔۔ ! فضا نے سمپل سے حل پیش کیا۔
ٹھیک ہے ناں۔۔۔! کہتے ساتھ تصدیق چاہی۔
آنکھیں بند کرو۔۔۔! اب میکال کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
چٹکی تو نہیں کاٹیں گے؟ ڈرتے ہوۓ کہا۔
Close your eyes…
کہتے ہوۓ خود ہی اسکی آنکھوں پے ہاتھ رکھتے بند کردیں۔ اسکی پلکوں کیباڑ کو دیکھتے میکال کا دل بری
طرح اسکے حصار میں جکڑا۔
ساتھ دراز سے ایک ڈبیہ نکالی۔ اس میں سے ایک پیاری اور نازک سی گولڈ کی چین نکالی۔اسکے آگے ہارٹ بنا تھا۔ ہارٹ پے ایم ایف لکھا تھا۔ یہ اسپیشل میکال نے فضا کےلیے لی تھی۔
آگے بڑھ کے اسکے قریب ہوتے اسکے گھونگھٹ کے اندر ہاتھ ڈالتے اسکے گلے میں پہنانے لگا۔
فضا نے سانس روک لیا۔
جینٹس پرفیوم کی خوشبو۔۔ اور ہاتھوں کالمس فضا کواپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔ اسکے لب کانپ رہے تھے۔ بلکہ پورا وجود ہی کانپے جا رہاتھا۔ جو میکال سے چھپا نہ رہ سکا۔ ایک مسکراہٹ نے میکال کے چہرے کو چھوا۔
چین پہنا کے وہ پیچھے ہٹا۔ تو فضا کا رکا سانس بحال ہوا۔
اوپن یور آٸیز۔۔۔ دھیرے کہا۔ تو فضا نے آنکھیں کھول دیں۔ اور گلے میں پہناٸ گٸ چین کو دیکھا۔
واٶ۔۔ یہ تو بہت پیاری ہے۔۔۔! اس میں چھیدے دو لفظوں کو پڑھا۔
ایم ایف۔۔۔۔! میکال۔۔۔ میں کیا کہہ رہی تھی۔۔ ان ایلفابیٹس کو آگے پیچھے کروالیتے۔۔ ایف ایم۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ ایف ایم ریڈیو پاکستان۔۔۔۔ ! کتنا سویٹ لگتا ناں۔۔
فضا اپنی ہی کہی جا رہی تھی۔اور ساتھ مسکراتی جا رہی تھی۔ جب کہ میکال نے اسکی بات پے اب ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے نفی میں سرہلاتے ساتھ ہی لیمپ کی روشنی بھی آف کی۔ اور اسکے لبوں پے جھکا۔ اسی میں فضا کی چٹر پٹر بھی بند ہوٸ۔















کوٸ حال نہیں۔۔ اچھا بدلہ لیا ہے۔۔۔ اس کھڑوس بوس نے مجھ سے۔۔۔۔ !!
کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں موڈ خراب ہے۔۔۔؟؟ عالیہ نے صبح صبح اسکا موڈ خراب دیکھا تو پوچھ لیا ۔
مت پوچو۔۔ کیا ہوا۔۔؟ یہ صادیقی صاحب کہاں ہیں۔۔؟؟
کنول نے منہ بنا کے پوچھا۔
اپنے آفس میں۔۔۔!عالیہ نے بھی ناک سے مکھی اڑاٸی۔
وہ سیدھی ان کے آفس پہنچ گٸ۔
سر۔۔۔۔آپ بھی ان کے ساتھ ملے ہوۓ تھے؟ ناراضگی سے پوچھا۔
کیا مطلب؟ صدیقی صاحب کو کچھ سمجھ نہ آیا ۔
کل آپ کے سامنے کہا۔ کہ اس ہوٹل میں پہنچ جاٶ۔۔ میٹنگ ہے۔۔ پورے دو گھنٹے۔۔۔۔ انگلیاں اٹھا کے گنوایا۔
دو گھنٹے وہاں پے ویٹ کیا۔۔۔ اس کے بعد فون کر کے کہتے ہیں۔۔ میٹنگ کینسل۔۔۔۔؟؟ واپس چلی جاٸیں۔۔
نہ یہ کیا بات ہوٸ۔۔۔؟؟ کنول بھری بیٹھی تھی۔
مس کنول۔۔ ہم حکم کے غلام ہیں۔۔۔ جو سر کہیں گے۔۔ وہی کریں گے۔۔ ویسے سر کو کچھ ضروری کام آن پڑا تھا۔ اسلیے کینسل کر دی ۔
سرسری انداز میں بتایا۔
لیکن۔۔ مجھے بتانے کے لیے دو گھنٹے لگے۔ خیر۔۔ ان سے ہی پوچچھتی ہوں۔۔
ارے۔۔۔ سر آفس میں نہیں ہیں۔ صدیقی صاحب جھٹ سے بولے۔
نہیں۔۔۔ہیں۔۔؟ ماتھے پے بل پڑے۔
جی۔۔ کچھ دنوں کے لیے نہیں آٸیں گے۔۔۔ مزید بتاتےکہ۔۔؟
سر۔۔۔! آپ کو سر مہراب بلا رہے ہیں۔۔
اتنے میں دروازے پے ناک ہوٸ۔ پیون نے وہیں سے بولا۔
اوکے۔۔۔ میں آرہا ہوں۔۔!
اور مس کنول ۔۔ آپ سے میں تھوڑی دیر تک بات کرتا ہوں۔
کہتے ساتھ ہی باہر نکل گۓ۔
یہ۔۔۔سب۔۔۔کیا ہے۔۔؟؟ ایک کام کرتی ہوں۔۔ اس کھڑوس بوس کو ہی فون کر کے پوچھتی ہوں۔کہ آخر وہ ہیں۔ کہاں۔۔؟؟
بیل جا رہی تھی۔ لیکن۔۔ پک نہ ہوٸ۔
ہیلو۔۔۔؟؟ لاسٹ منٹ پے کال رسیو ہوٸ۔
سر۔۔۔آپ کہاں ہیں۔۔؟؟
کیوں۔۔؟آگے سے وہ ھی سوا سیر بندہ تھا۔
سر۔۔۔! آپ ۔۔۔ کہاں ہیں۔۔؟
At lesat…
مجھے پتہ ہونا چاہیے ناں۔۔؟؟
مس کنول۔۔۔ اب میں کہاں جا رہا ہوں کہاں نہیں۔۔میں آپ کو بتا کے جایاکروں گا۔۔؟؟ آفتاب کے سپاٹ انداز پے کنول لب بھینچ گٸ۔
سر۔۔۔! میں آپ کی پی اے ہوں۔۔ مطلب۔۔ پرسنل سیکرٹری۔۔تو اس صورت۔۔ مجھے علم ہونا چاہیے کہ آپ کہاں ہیں۔۔؟؟ کنول نے اپنا آپ کلیٸر کیا۔
پی اے ہیں۔۔ پی اے ہی بن کے رہیں۔۔۔ بیوی بننے کی ضرورت نہیں۔۔!
آگے سے کرارے جواب پے کنول کا دل دھڑکا۔ اور موباٸل کو گھورا۔ جیسے وہ خود آفتاب ہو۔
سر۔۔۔؟؟
مس کنول۔۔ ! صدیقی صاحب کےپاس کچھ فاٸلز ہیں۔ ان پے کام کریں۔ میرے آنے تک وہ کام مکمل ہو جانا چاہیے۔ سمجھیں آپ۔۔۔!
کہتے ہی کھٹاک سے فون بند ہوگیا۔
کنول کو بے انتہا سبکی محسوس ہوٸ۔
یہ انسان بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتا ہے۔۔ نفی میں سر ہلاتی۔۔وہ باہرنکلنے لگی۔ کہ صدیقی صاحب اندر آۓ۔
اچھا ہوا۔۔ آپ یہیں ہیں۔۔ سر خان آپ کے لیے کام چھوڑ کے گٸے ہیں۔ ان کے آنے تک مکمل کر نا ہے ہر حال میں۔
چھ فاٸلز کنول کے سامنے رکھتے وہ اسے بریف بھی کر رہے تھے۔
یہ ناول تم میرے نکاح میں ہو۔ منتہا چوہان کا ہے۔ مزید قسطوں کی اپ ڈیٹ کے لیے میری آٸ ڈی پے کلک کریں۔
ویسے۔۔۔ صدیقی صاحب سر۔۔ آٶٹ آف کنٹری کیوں گۓ ہیں۔۔؟؟ فاٸلز دیکھتے ٹوہ لنے والے انداز میں پوچھا۔
آپ سےکس نے کہا۔۔ وہ آٶٹ آف کنٹری گٸے ہیں۔۔؟؟ صدیقی صاحب نے حیرانی سےدیکھتے پوچھا۔
تو پھر۔۔؟؟ آٸ برو اچکاٸ۔
وہ لاہورگۓ ہیں۔ ان کا وہاں کچھ ضروری کام ہے۔ اپنا کام کرتے ہوۓ ساتھ ساتھ اطلاع بہم پہنچاٸ۔
لاہور۔۔۔؟؟ کنول کا دل زور سے دھڑکا۔ پورا وجود کانپا۔
مزید بنا کوٸ سوال کے وہ وہاں سے اپنے کیبن کی جانب بڑھ گٸ۔ ماتھے پے پسینہ چمکنے لگا۔
دو انگلیوں سے ماتھا مسلا۔ اور کانپتے ہاتھوں سے نمبر ڈاٸیل۔کرنے لگی۔















آفتاب لاہور کے لیے اڑان بھر چکا تھا۔ وہ جلد از جلد شہیر تک پہنچنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ شہیر سے بہت پیار کرتا تھا۔ اسی لیے اسے خود سے بدظن نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سر۔۔۔! میں آپ کی پی اے ہوں۔۔ مطلب۔۔ پرسنل سیکرٹری۔۔تو اس صورت۔۔ مجھے علم ہونا چاہیے کہ آپ کہاں ہیں۔۔؟؟ کنول نے اپنا آپ کلیٸر کیا۔
پی اے ہیں۔۔ پی اے ہی بن کے رہیں۔۔۔ بیوی بننے کی ضرورت نہیں۔۔!
اس ایک لمحے اسے کنول کی بات یاد آٸ۔ تو چہرے پے مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
پاگل۔۔۔۔ لڑکی۔۔۔ ! زیرِ لب دہراتے وہ سیٹ کے ساتھٹیک لگاۓ آنکھیں موند گیا۔















دی جے۔۔۔! یہ آپ کیاکہہ رہی ہیں؟
شہیر نے حیرانی سےپوچھا۔
وہی بیٹا۔۔ جو آپ نے سنا۔۔۔۔
دی جی نے مطمیٸن انداز میں کہا۔
لیکن دی جے۔۔۔ وہ۔۔ گھر آپ کا ہے۔آپ۔۔۔ وہاں نہیں جاٸیں گیں۔۔ تو۔۔۔؟؟
بیٹا۔۔ میں پچھلے پانچ سالوں سےیہاں ہوں۔ اور
الحَمْدُ ِلله ایک دن بھی ان بچوں نے میری عزت میں میری چاہت میں کمی نہیں آنی دی۔
لیکن دی جے۔۔۔ وہ گھر آپ کا ہے۔۔ یہ نہیں۔۔ شہیر نے اپنی بات پے زور دے کے کہا۔ جبکہبپاس کھڑے شامی نے تمسخر سے دیکھتے منہ پھیر لیا۔
خان بیٹا۔۔!ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس دن مجھے لگا ہو۔۔ کہ یہ میرا گھر نہیں۔۔اس گھر نے جو مجھے مان اور عزت بخشی ہے۔۔ وہ مجھے اپنے گھر میں کسی نے نہیں دی۔۔۔ ! دی جے نے صاف لفظوں میں دل کی بات کہہ دی۔
ایسا۔۔۔ کچھ نہیں دی جے۔۔۔!سب آپ سے پیار کرتے ہیں۔۔۔ آپ خان ولا کی بڑی ہیں۔ ہماری بڑی ہیں۔۔ اس گھر میں آپ کا ہونا۔۔ میرے لیے اہم ہے۔ پلیز چلیں ۔۔ انکار مت کریں۔
شہیرنے بچوں کی طرح منمناتےہوۓ کہا۔ دی جےکا ل پسیج گیا۔ لیکن اپنے فیصلے سے دستبردار نہ ہوٸیں۔
نہ بیٹا۔۔۔!مجھ بوڑھی کو اس بڑھاپے میس مزید دھکے نہیں کھانے۔ مجھے یہیں رہنے دو۔۔۔ میں خوش ہوں ۔ یہاں۔۔ آپ جاٸیں۔۔ اپنےماں باپ کے پاس انکو آپ کی ضرورت ہوگی۔ دی جے نے دل پے پتھر رکھتے کہا۔
لیکن۔۔ مجھےآپ کی ضرورت ہے دی جے۔۔ پلیز۔۔۔! انکے ہاتھ تھامے کہا۔
آپ بتا کیو ںنہیں دیتیں انہیں۔۔ کہ آپ وہاں کیسے جاسکتی ہیں۔؟ جبکہ اسی گھر میں انکی والدہ محترمہ نے آپ کو دھکے دے کے گھر سے باہر نکالا تھا۔
شامی کے اچانک بیچ میں بولنے سے سب نے اسکی طرف دیکھا۔ جبکہ شہیر کی نظروں میں بے یقینی سی تھی۔
شامی۔۔۔! چپ رہیں آپ۔۔۔!جمیلہ خاتون نے ٹوکا۔ جبکہ فیاض سلطان گھر پے نہ تھے۔
بس۔۔ہمیں چپ کروا دیجیے گا۔۔ انکو سچاٸ بتاٸیں۔ ۔۔بتاٸیں ان کو ۔۔ کہ انکے ماں باپ نے دی جے کے ساتھ کیا کیا۔
شامی آگے بڑھا۔
کیا کیا۔۔۔؟؟ شہیر بھی خود پے ضبط کرتے اٹھا۔
بیٹا۔۔۔! آپ دی جے سے بات کریں۔ وہ آپ کو سب بتا دیں گیں۔ اور شامی۔۔۔ آپ چلیں میرے ساتھ۔۔۔! جمیلہ خاتون نے شامی کا ہاتھ تھاما۔ اور باہر لے جانے لگیں۔
شامی ماں کا ہاتھ نہ جھٹک سکا۔ وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اپنی ماں سے پیار کرتا تھا۔ دیوانہ وار پیار۔ یہی وجہ تھی کہ کسیبکانہسنے لیکن ماں کی سن لیتا تھا۔
اب کمرے میں صرف دی جے اور شہیر رہ گٸے تھے۔
دی جے۔۔۔؟؟ مجھے بتاٸیں۔۔ کیاہوا تھا۔۔؟ پانچ سال پہلے؟
شہیر دی جے کی طرف مڑا تھا۔
پانچ سال پہلےنہیں۔۔ یہ کہانی۔۔۔ تو ۔۔آپ کے اس دنیا میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔
دی جے کا لہجہ روندھ گیا۔
مجھے جاننا ہے سب کچھ دیجے۔ سب کچھ۔۔۔! شہیر نے پھر سے انکا ہاتھ تھامتے کہا۔
سن لو گے؟سوالیہ نظروں سے سے دیکھا ۔
ظلم اور بربربیت کی یہ داستاں سن نہیں پاٶ گے۔۔ میرے بچے۔۔۔! وہ رو دی تھیں۔
بتانا تو پڑے گا ناں۔۔ دی جے۔۔۔! تا کہ وہ بھی سچ جان سکے
آفتاب کی آمد پے وہ دونوں ہی چونکے۔
آفتاب نے آگے بڑھ کے دی جے سے پیار لیا ۔ انکا ماتھا چوما۔ تو شہیر آفتاب سے بغل گیر ہوا۔
آپ یہاں أچانک؟ شہیر نے حیرت سے پوچھا۔
جاری ہے۔
