Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
دو سال بعد
الفاظ ابھی منبدل کرلو یا پھر احساس منتقل کرلو
سنور جانا اچھی عادت ھے پہلے آنکھوں کو مضمحل کرلو
پہلے کتاب حیات پڑھ لو پھر خیالات مستقل کرلو
ہر چال شهکار ادا ھے تیرا طرز حکایت کو مقفل کرلو
خوبصورتی عطیہ قدرت ھے حسن تجلی کو معتدل کرلو
آئینہ لکیریں نہیں دیکھتی چہرہ کو نہ کبھی متزلزل کرلو
کوئی غرض نہ رکھ تکبر سے شدتوں کو پہلے رد و بدل کرلو
اے تشنگی غیر معروف نہ ہو جاو ساقی وحشت کو نیم مشتعل کرلو
…………..
پ پیچھے .. ہو…. میرے پاس مت آنا ….. وہ بڑبڑاتے ہوئے کہتے پیچھے کو کھسکی تھی … خوف سے چہرہ لئے کی مانند سفید پڑ گیا تھا۔ وہ جو کبھی کسی سے نہیں ڈرتی تھی …. … . آج شدید خوف میں مبتلا تھی
تم خود آئی تھی میرے پاس ….. تمہارے بدلے میں نے تمہارے عاشق اور اسکی بہن کو چھوڑا تھا … . اب یہ جانے جانے کی کیا رٹ لگا رکھی ہے … بیڈ پر اسکے دونوں اطراف …. ہاتھ رکھتا وہ سٹاپ انداز میں بولا تھا
ت تم نے مجبور کیا۔ مجھے ورنہ میں کبھی تمہیں نا چنتی ….. اسکی سیاہ آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں ڈالتی وہ بھی اسکی کے انداز میں بولی .. . دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیا تھا …. . دو سال بہت صبر بہت انتظار کیا تھا … . مگر اب اسے لگتا تھا کہ اگر وہ خود کچھ نا کر پائی تو کوئی بھی اسے نہیں ڈھونڈ سکتا تھا …. کارلوس اس کی سوچ سے
بھی زیادہ پہنچا ہوا تھا …. ان دو سالوں میں کئی دفعہ وہ کوشش کر چکی تھی بھاگنے کی …… مگر مجال ہو تو کوئی رستہ ملتا
… مجبور کیا… چلو مان لیا میں نے تمہیں مجبور کیا…. اب تو ہو گئی نا مجبور اب یہ کیا ڈرامے ہیں .. میں نے ایک ہزار بار کہا ہے کہ میں تمہاری خاطر مسلمان ہو جاتا ہوں .. پھر ہم نکاح کر لیں گے … ایک دفعہ نکاح ہوگیا تو میں تمھیں اس قید سے رہائی دے دوں گا… مگر اسکے لئے تمہیں میرا ہونا ہوگا… نکاح کر کے یا جیسے بھی . . بس میری ہو جاو… کارلوس اسکے اوپر سے ہٹتا اسکے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھتا نظریں اسکے سراپے …. میں جمائے سٹاپ انداز میں کہا تھا
ہیر نے اپنے سائیڈ پڑے لمپ کی طرف دیکھا …… پھر دروازے کی طرف دیکھا.. جو آج کھلا تھا ….. دروازے پر کوڈ لگا ہوا تھا …… جو صرف کارلوس کو ہی پتا تھا ….. آج .. دروازہ کھلا دیکھ کر اسکے دماغ میں ایک ہی حل آیا تھا
.. مگر کارلوس اسے ہی دیکھ رہا تھا… اسکے لمپ کو اٹھاتے ہی وہ سمجھ جاتا
ت تم اپنی شرٹ پہنوں …. حلق تر کرتی اسکی صوفے پر پڑی شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا…. خوف سے پسینا آرہا تھا۔ ۔ وہ جانتی تھی اگر وہ ناکام ہوگئی تو اسکا …… . حال کافی بے حال ہوگا. جسے سوچ کر ہی جان ہوا ہو رہی تھی
… کارلوس نے ایک نظر اسے دیکھا جس کا خوف سے چہرہ اترا ہوا تھا گہرا سانس بھرتا وہ اپنی شرٹ کی طرف بڑھا … وہ چاہ کر بھی اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا … وہ اسے اس کی مرضی سے اپنا بنانا چاہتا تھا، …. ہیر نے نامحسوس انداز میں …. لمپ کا ہینڈل اٹھایا تھا. . دبے قدموں میں چلتی وہ استک پہنچی
کارلوس کچھ غلط محسوس کرتا پیچھے مڑا ہی تھا کہ سر پر لگتے کسی سخت چیخ کے باعث چکر کر رہ گیا
… آہ … پاگل ہوگئی ہو …. سر – ہو …. سر سے نکلتے خون پر ہاتھ رکھتا وہ تقریباً چیختے ہوئے بولا تھا چکر آنے کے باعث لڑکھڑا رہا تھا …. تب ہی اسکی نظر کھلے دروازے پر پڑی تھی …. وہ سمجھ گیا تھا … اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا…
ہیر نے ہاتھ میں پکڑے ہینڈل کو دیکھا اور پھر کارلوس کی طرف جو خود کو سنبھالنے کی …. ناکام کوشش کر رہا تھا
ہیر نے ایک بار پھر پوری قوت سے اسکے سر پر مارا تھا… سبز رنگ آنکھیں لہو ٹپکنے لگی تھی … اسکا بس نہیں چل رہا تھا اسکو خون پی جائے. تھوڑی دیر پہلا ولا خوف تو جیسے …. تھا ہی نہیں .. . وہ ایک بار پھر ریا بن گئی تھی
…… کارلوس سر پکڑتے نیچے گرا تھا…. سر سے بہتا خوف پورے وجود پر پھیل رہا تھا
…. وہ ایک پاؤں پر گھٹنے کے بل بیٹی تھی
جب کسی پنجی کو قید کیا جائے نا تو . . وہ قیدی پرندے ہر پل ایک موقع کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ ایک موقع ملے اور وہ آزاد ہو جائیں …. انسان کی قید ہوکر . . انہی قیدی پرندوں کی طرح سوچنے لگتا ہے … اور تاک میں رہتا ہے کہ ایک موقع . . صرف ایک موقع مل جائے کہ وہ فرار ہو سکے …. تمہیں کیا لگتا تھا کہ میں بیر مرزا . . مطلب ریا تم سے …. خوفزدہ رہتی ہے …. اسکو تڑپتے دیکھتے وہ اپنے مخصوص سٹاپ لہجے میں بولی تھی
کارلوس نے درد بھولتے ہیر کو دیکھا ….. وہ سچ میں یہی سوچتا تھا کہ وہ کیوں اتنی خوفزدہ رہتی ہے اس سے … وہ تو جانتا تھا وہ ایک بلیک بیلٹ تھی . . مافیا گرل تھی … خطروں …. کا کھیل کھیلا اسکا پسندیدہ تھا۔ پھر کیوں
کیونکہ میں جانتی تھی اگر میں تم سے لڑوں گی …. تو تم مجھ پر زیادہ دھیان رکھو گے … اور یہ …. اسنے کہنے کے ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے ہینڈل جس سے خون ٹپک رہا تھا .. … سے کھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا
یہ موقع مجھے کبھی نا ملتا …. مجھے خوف تھا تو صرف اس بات کا کہ میں یہاں اکیلی تم جیسے مرد کے ساتھ مجھے اپنے سے پہلے اپنی عزت کی حفاظت کرنی تھی …. تم سے لڑتے جھگڑتے شاید میں اسکی حفاظت نا کر پاتی …. اسلئے میں نے ایک الگ روپ دھارا … اور تمہیں لگا کر رہا کمزور ہو گئی ہے …. طنزیہ مسکراہٹ اسکے خوبصورت چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی …… کارلوس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی جب ریا اسکے پاس سے ….. اٹھی تھی … شام ہونے میں کچھ ٹائم تھا اسے کسی صورت بھی یہاں سے نکلنا تھا
جلدی سے واڈ روب سے اور رکوٹ نکالتی پہنا تھا … ہاتھ جلدی سے کام کر رہے تھے ….. فروٹ باسکٹ سے چھری نکالتے لانگ بوٹ پہنتی اس میں ڈالا تھا ….
گلوز پہنتے اسنے کچھ اور انتہائی ضروری چیزیں اٹھائی تھی … ہاتھ کافی تیزی سے چل رہے تھے .. خوبصورت چہرہ بالکل سٹاپ تھا
….. تابہ …. گولی کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی
ہیر نے لب بیچتے بیچ کا گلا گھونٹا تھا … گولی بازو کو چیڑتی گئی تھی . . وہ لمحہ کی دیری کئے … نیچے ہوئی تھی
ٹا بہہ … ایک اور گولی چلی تھی اگر وہ وقت پر نیچے نا ہوتی تو یقیناً اب نیچے گری آخری
…… . سانسیں لے رہی تھی
بت تم میری نہیں ہوئی …. تو… کسی کی… نہیں ہوگی … م میں … مار دو دوں گا۔ تمہیں .. .ت تم میری ہو. . صرف. . میری
وہ کانپتے ہاتھوں میں پسٹل پکڑے بے ربط سے جملے بول رہا تھا…
… بیر پڑتی سے آگے بڑھتے اسکے پسٹل والے ہاتھ پر پاؤں رکھ گئی
…. . آبه … وہ سکا تھا … پسٹل ہاتھ سے چھوٹا زمین پر گر گیا تھا جسے نیچے جھکتے ہیر نے اٹھایا… اور اس کا رخ کارلوس کی طرف کیا … جو خون میں نہا گیا … تھا
….. . وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ پسٹل کا رخ اسکے طرف کئے کھڑی تھی
بووو هووو ہوو
…. کاش تو میرے حق میں ہوتا
… بن کے یقین شک میں ہوتا
… کاش تو میرے حق میں ہوتا
… بن کہ یقین شک میں ہوتا
… تم میری ہو …. میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دے سکتا
… پر ایسا ہوا نہیں
… تو ہے میلوں دور کہیں
.. تیرے سنگ پل دو پل کو
…. ہنسا جو چاہا تو
…. رولا کہ گیا عشق تیرا
.. دلا کے گیا عشق. . تیرا
… کہ مانے نہیں دل یہ میرااا
…. میں کیس کیسے تمہیں کسی .. . او اور کے ساتھ … دیکھ سکتا تھا
م میرا دم گھٹتا تھا … بک کیا کرتا …. تب. تب ہی . . سب کیا .. . ت تمہارے لیے … اور دیکھو تم ہی …. مجھ پر گن تا … تانے کھڑی … ہو…… کاش…. کاش مجھے … ت تم پسند نا … آتی . . کاش ……. تم میرا . . جنون … نا.. بن . بنتی ….. تو؟. حالات . . مختلف ہوتے … . ہم . ہم .. . صرف جنگ کرتے ….. محبت . . نے سب برباد کر دیا …. . م محبت سب کہا جا. . جاتی ہے … جیسے مجھے کہا گئی … . م مگر میں. بے بس … تھا … مجھ پر ہی میرا اختیار . . ختم ہوگیا …. تھا.. میرا… سانس رکتا … تھا. جب… تمہیں … اسکے ساتھ دیکھتا …. تب ہی … میں تمہیں لے آیا . خود..
غرض ہوگیا.. عشق میں …. یقین کرو… میں … آتش … اور گڑیا کو کبھی . . نا مارتا مج مجھے بس . . تم . . چاہئے تھی …. مل بھی گی … او اور دیکھو .. مجھے کئی موقعے . ملے تمہارے ساتھ ، زبردستی کرتے کے. تمہیں … اپنا بنانے کے ….م مگر . میں چاہ کر بھی کبھی ایسا نہیں کر سکا … مجھے مجھے مار ڈالو … بے بسی … سے زمیں پر چپ لیٹتا وہ روتے ہوئے بولا تھا۔ چہرے پر جسمانی تکلیف سے زیادہ اندرونی تکلیف کے تاثرات تھے … . وہ رو رہا تھا ….. بے بسی سے… یہی سوچ کر کہ … اب وہ کسی اور کی ہو جائے گی.. پہلے سے رکتی سانسیں بس رک ہی رہی تھی ..
.. . یار. . بچھرا ملا دے کوئی
… اکھیاں روندیاں زار زار
ہنسا دے کوئی
الا کے گیا عشق تیرا
.. الا کے گیا عشق. . تیرا.
… کہ مانے نہیں دل میں یہ میرا
… کہ چپ میں کروں وے
ہیر نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کر لیا تھا. اسے اس کی حالت پر شاید رحم آگیا تھا … جو موت سے زیادہ اسکی دوری کا سوچ کر اس سے دستبرداری کا سوچ کر مر رہا تھا
س سانسیں رک … جانے تک بیٹھ جاؤ… میرے پاس … لہو رنگ آنکھوں میں اس لئے وہ انتہائی کرب سے بولا تھا
… تو ایسے جدا ہوا
…. میں رات سے صبح ہوا
.. تجھ پر میں مرتا رہا
… تجھے یاد میں کرتا رہا
بہلا کے گیا عشق تیرا
.. الا کے گیا عشق تیرا
یر لب بیچے بیٹھ گئی تھی ….. آنکھوں میں نمی آئی تھی … . وہ اتنا برا نہیں تھا جتنا
اسے محبت نے بنا دیا تھا …… اسکی حالت دیکھ کر اسکے دل میں بھی درد اٹھا تھا یہ کسک تو ساری زندگی رہنی تھی کہ اسکی وجہ سے وہ مر گیا … . وہ اسے بچانا چاہتی …. …
.. تھی مگر جانتی تھی اسکو بچا کر ایک نئی خون کی داستان لکھنے پڑے گی
.. الا کے گیا عشق تیرا
الا کے گیا عشق تیرا
… م محبت … بہت کم . خوش قسمت لوگوں کو را راس … آتی ہے … ورنہ محبت سے زیاد… کوئی چیز … اتنی شدت سے انسان کو پاگل ن نہیں کر… سکتی . ک کوئی چیز
انسان کو جنوبی نہیں بنائی … او اور دیکھو… مجھے محبت … راس نہیں آئی… میرا … جنون …. اصل میں . . میری بربادی تھا . اسکا … . اب مجھے موت کی بانہوں میں جاتے ہوئے … پتا چل رہا ہے …. اپنی حالت پر ہنستا وہ انتہائی کرب سے بولا… سانسیں ….. اب بالکل ہی اکھڑ رہی تھی
م مجھے … سرخ رنگ میں لت پت . . دیکھ کر تمہیں …. انداز… ہوگیا ہو گا کہ … محبت …. ہر کسی کے لئے سرخ گلاب نہیں ہوتی کوئی . . بد نصیب میرے جیسے بھی ہوتے ہیں …. جن کے نصیب میں محبت کا لال رنگ تو ہوتا ہے ۔ مگر گلاب. کی صورت میں نہیں بلکہ خون کی صورت میں … ہیر کے آنسوؤں سے بھری سبز آنکھوں …. میں دیکھتا آخری سانسیں لیتا کرب آلود لہجے میں بولا تھا
یقین کرو.. محبت . . اجاڑ دیتی ….. ہے . بند ہوتی سانسوں کے درمیان وہ اٹک اٹک کر … بولتا اسکے بہتے آنسوؤں کی مزید روانی کا باعث بنا تھا
بیر کا چہرہ تر ہو گیا تھا …. . وہ اسکے لئے کچھ بھی محسوس نہیں کرتی تھی سوائے نفرت کے . مگر اس پل وہ اس سے نفرت نہیں کر پار رہی تھی … وہ لگ ہی اتنی قابلِ رحم …. . حالت میں تھا
میری … اتنی … محبت بہار … ک کر تمہیں … محبت … جیتے. کی دعا. . دیتا ….. ہوں … . جاو تمہاری . . محبت .. لال .. خون کے بجائے .. . لال گلاب کی مانند ہو… تم میری طرح نا.. سکی …. اور ہاں… میں یہ سب اس لئے کہ رہا ہوں … کہ مجھے .. پتا چل چکا ہے کہ …. تم میری ….. نہیں ہے … . اگر میں … ابھی ٹھیک. ہوتا … تو.. خود غرض ہوتا تمہیں … قید ہی رکھتا … مگر اب جب … مجھے پتا چل گیا ہے … …. کہ … تم . . جا رہ رہی ہو تو … تب … دعا . . دے دی …. . ماننے واا .. . مان لے … آنکھیں … بند ہی ہوگئی تھی … سانسیں اب گنی چنی آجا رہی تھی …. چہرے پر تکلیف …… سے تاثرات کہیں نہیں تھے … مگر کچھ کہو دینے کا خوف واضع تھا
محبت ہر کسی کے لیے . . سرخ گلاب نہیں ہوتی …. . آخری جملہ بہت دھیرے …. سے بڑبڑایا تھا …. روح جسم سے پرواز کر گئی تھی
وہ گری سی تھی زمین پر …. منہ پر ہاتھ رکھے اسنے اپنی سسکیوں کا گلہ گھونٹا تھا …. آنسو ….. لڑیوں کی مانند بہہ رہے تھے
عشق میں خود غرض تو وہ بھی ہو گئی تھی …. کارلوس کی طرح … راج کی طرح . وائز کی طرح .. اپنی محبت کو پانے … خود کو بچانے … خود کی فیملی کو بچانے کے لیے اس نے اسے مرنے دیا تھا … اپنے سامنے اسکی سانسیں ٹوٹتی دیکھی تھی . . دل مانوں کسی نے .. مٹی میں قید کر لیا تھا
وہ اسے بچا بھی تو سکتی تھی ….. مگر اس نے نہیں بچایا …. وہ خود بھی … اسکا عشق ……. بھی “… خود غرض عشق تھا
…… . دو مہینے بعد
! میرا ہوجا ، مجھے اے یار مکمل کر دے ! یا مجھے چھوڑ دے ، انکار مکمل کر دے
! تو جو خوش ہے تو یہی بات مجھے ہے کافی ! جیت جا مجھ سے ۔۔۔ میری بار مکمل کر دے
ا لفظ ہے مایہ اگر ہوں گے تو میں چاہوں گا
! ایسی خاموشی جو ۔۔۔۔ اظہار ململ کر دے
تاریکی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی … جب اسنے دھیرے سے دروازہ کھولتے اندر قدم رکھا تھا … اندر آتے اس نے دروازہ لاک کیا.. پھر بیڈ کی طرف بڑھا… جہاں وہ الٹی ترچھی لیٹی سوئی ہوئی تھی … دنیا و مافیا سے بے نیاز … نائیٹ لمپ کی مدھم روشنی اسکے نازک … مومی سراپے پر پڑ رہی تھی
…. بلیک سوئیٹر .. بلیک ٹرائوزر پہنے ۔ ۔ بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے
…… . وہ بس اسے دیکھے جا رہا تھا
…. . دو سال کی تشنگی تھی۔ جو دیکھنے کے بعد اور بھر گئی تھی .. وہ اسکے پاس ہی قریب بہت قریب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا…. پیاسی نگاہیں اسکے چہرے پر .. جمی ہوئی تھیں … جو دو سال پہلے کی نسبت کافی مرجھایا ہوا تھا
.. وہ بے اختیار ہوتا … اپنا مضبوط بازو اپیسر سے گزارا بیڈ پر لگاتا ۔ اسپر جھکا تھا
اسکی خوشو اسے مدہوش کر رہی تھی … پاگل کر رہی تھی …… دوسرے ہاتھ سے اسکی گردن سے بال ہٹاتا. . ادھر اپنا دہکتا شدت بهرا لمس چھوڑا تھا… ایک سرور تھا. . جو پورے وجود میں چھا گیا تھا …. سکون تھا جو شاید پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا
نیناں کسم کائی تھی ….. مگر نیند کی گولی کہا کے سونے کی وجہ سے آٹھ نہیں سکی تھی
راجہ نے اسکی صراحی دار شفاف گردن سے چہرہ نکالتے اسکے چہرے کی طرف دیکھا… وجی … . چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ تھی
…. اتنی یکی نیند …. اسکے نم گال پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتا وہ سرگوشی نما بولا تھا
نیناں نے برے منہ بنائے … اسے . . شاید نہیں . یقیناً … نیند میں یوں کسی کی …… مداخلت پسند نہیں آئی تھی
آٹھ جاو نا … اسکے گال پر اپنے دیکتے ہونٹ رکھتا مدھم مگر بہاری گھمبیر آواز میں بولا تھا
…. نیناں نے یکدم آنکھیں کھولی تھی … اور پھر اسکی آنکھیں کھلی ہی رہ گئی
کسی کے وجود کو یوں خود پر جھکا دیکھتے اسکی جان لبوں پر آئی تھی … سونے پر سہاگہ اسکے ….. دیکتے لمس اسے اپنے گال اور گردن پر جابجا محسوس ہو رہے تھے
پ پیچھے ہٹو کون… بوت ، م … اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کرنے کی ….. کوشش کرتی وہ خوف سے بولی تھی
مگر خوشو…. لمس … کتنا جانا پہچانا تھا …. مگر دل کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا ….. چاہتا تھا
راجہ کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی تھی … دائیں گال پر پڑتا ڈمپل نمودار ہوا تھا …..
….. بنا کچھ کہے . . اپنا دائیں گال اسکے بائیں گال سے مس کیا
ول یو میری می … اسکے کان کی لو کو دانت میں دبا کر چھوڑتا وہ مخمور لہجے میں بولا تھا
آواز …. وہ کیسے نا پہچانتی … . دل جیسں کانوں میں دھڑکنے لگا تھا۔ ۔ اسے لگ رہا تھا جیسے . وہ کوئی حسین خواب دیکھ رہی ہو
… راج …. را جرار …. کو بہت دھیرے سے مسمنائی تھی
وہ یکدم سے اس پر سے ہٹتا اسکے پاس ہی بیٹھ گیا تھا …… نظریں زمین پر گاڑ ہے وہ …… نجانے کیا تلاشنا چاہ رہا تھا
نائیٹ لمپ کی روشنی میں چمکتا اسلامی وجہی چہرہ …… وہ اسے دیکھ کر ساکت ہوگئی تھی
وہ اٹھ کر بیٹھی تھی … اسے خواب سمجھی وہ اسکے قریب ہوئی ….. اسکے چہرے پر اپنی … نازک انگلیاں پھیرتے اسے جیسے محسوس کرنا چاہا …… وہ خواب تو نہیں تھا .. . وہ بالکل
حقیقت تھا. . زنده سی سلامت . . اسکے پاس … اسکے سامنے ….. اسکی آنکھوں بہنے لگی تھی … یہ تو وہی جانتی تھی کہ یہ دو اسنے کس اذیت میں گزارے تھے … کسی ایک رات اسے نیند کی گولی کے بغیر نیند نہیں آئی تھی …… کوئی شام ایسی نہیں تھی۔ جو اسنے …… تڑپ تڑپ کے ناگزاری ہو ….. اور اب وہ کہاں سے آگیا تھا
رو کیوں رہی ہو … شاید تم ایک مجرم کو زندہ دیکھ کر خوش نہیں ہوئی… اسکے گال پر سے .. آنسو صاف کرتا وہ بھاری گھمبیر آواز میں سے سرگوشی نما کہا تھا
… . ت . . تم … خواب . . ہونا …. وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی
اچھا تو تم میرے خواب بھی دیکھتی ہو ….. اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے قریب کرتا وہ بوجھل …. . لہجے میں بولا تھا
تم . . زندہ کیسے ہو … . اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے دور کرتی وہ حیرت خفگی ….. پریشانی ملی جلی کیفیات کے زیر اثر بولی.
…. جیسے تم زندہ ہو۔ اسکے چہرے پر پھونک مارتے بولا تھا
… تم تو مر گئے تھے نا …… اس کی سوئی اب بھی ادھر ہی اٹکی ہوئی تھی
نہیں… کومے میں تھا …. وہ اب سنجیدہ ہوگیا تھا … نیناں کی کمر پر گرفت مضبوط ہو گئی تھی
…… کومے … میں… وہ زیر لب بڑ بڑائی
….. همم … اسکو احتیاط سے بیڈ پر بیٹھا دیا تھا
… نیناں حیرت سے گھونگ … بس اسے دیکھے جا رہی تھی
زندہ بچنے کے چانسز کم تھے …. پہلے بھی تمہاری دی گئی کچھ نوازشیں تھیں …. جبھی کیس زیادہ کریٹیکل ہو گیا تھا . . اسنے ایک نظر نیناں پر ڈالتے طنز کرنا بھولا نہیں تھا .. زندہ بچنے کے چانسز تھے ہی نہیں … مگر پھر زندہ تو بچ گیا. . مگر … مر گیا… دو سال تقریباً مرا رہا …. میں زندہ ہوں … اسکے بارے میں صرف راج جانتا تھا… اسنے نے ریا… اور باقی سب کو یہی بتایا کہ میں مر گیا ہوں …… اسکے خیال میں میری موت کے غم سے شاید سب نکل آتے. مگر روز مجھے مرتا دیکھتے انہیں زیادہ تکلیف ہوتی …. ڈاکٹرز کو میرے ….. . ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں تھی
ایک مہینے پہلے مجھ سے ریا ملنے آئی … اس کے بعد سے مجھ میں ریکویری ہونی شروع …… ہوئی
مجھ پر حملہ کرنے والے کارلوس کے آدمی تھے … میں انہیں جانتا تھا …. وہ مافیا . کے ایک گینگ بلیک ڈیتہ کے ممبر تھے ….. مافیا میں ہی میرا ان سے سامنا ہوتا تھا مجھے دنیا جہاں کی خبریں تھی …. مگر میں کارلوس کے بارے میں زیادہ نہیں جان پایا… کبھی …. میں جانتا تھا وہ دشمن تھا. . بیڈرک کا بیٹا تھا… ہم تینوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا ….. مگر میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ بدلے سے آگے کچھ چاہنے لگا تھا …. وہ رکا تھا .. نظریں ہنوز زمین پر جمی ہوئی تھی۔
کیا چاہنے لگا تھا ۔ اور یہ مافیا … وہ تو بزنس مین تھا نا… نیناں نے خشک پڑتے لبوں کو تر .. نیناں کے شک پڑے ہوں لو تر کرتے ہوئے کہا. . اسکا روم روم سماعت بناہوا تھا… حیرت سے آنکھیں باہر نکلنے کے …… در پر تھی
ہیر کو …. مطلب ریا کو … اور بیزنس مین تو ہم بھی ہیں .. اسکی معمولی محبت اسکا جنون بنتی گئی … اور پھر اسکا جنون ہی اسے کہا گیا ….. وہ ایک بار پھر کچھ لمحوں کے لیے رکا
ک کیا ہوا اسے … نیناں کارلوس کو جانتی تھی …. اسی کا پریشر تھا ان کی ٹیم پر بلینڈرک کا …. وارث ہوتے اسنے ہی کیس کیا تھا … اور پھر پریشر کرتا رہا
… مر گیا . . دو لفظی جواب آیا تھا
م مر گیا.. کیسے … اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا … وہ شاندار پر سنیلیٹی والا . . خوبرو سا زنده دل . . مگر سفاک ….. پرکشش مگر .. خطر ناک . . اسکے تیور … اسکا ئشن ….. اسکی چہا… جانے والی شخصیت …. یکدم سے آنکھوں کے سامنے گھومی تھی۔ کتنی ہی لڑکیوں کا آنیل ہو سکتا تھا . . انکی خوابوں کا شہزادہ … مگر اس شہزادے کو جس شہزادی سے محبت
ہوئی وہ تو برسوں پہلے کیسی اور کی قسمت میں لکھی جا چکی تھی … کتنی غیر یقینی سی … . بات تھی …. دل و دماغ مان ہی نہیں رہا تھا …. اتنی اچانک …. مطلب. کیسے
رو سال پہلے …. مجھ پر حملہ کرنے کے اگلے دن اپنے ہیر عرف ریا کو ملنے کے لیے بلایا وہ پہلے بھی اسے کافی پریشان کر رہا تھا …. ریا نے منع کر دیا. مگر اس نے کہا کہ اسنے … … آئش کو کہ نیپ کیا ہوا ہے اور اگر وہ نا آئی تو وہ اسے مار دے گا۔ مجبوراً اسے جانا پڑا اور میں جو سمجھتا تھا مجھے ہر پل کی خبر ہوتی ہے … یہ بھی نا جان پایا کہ میری اکلوتی بہن کو میری ضرورت ہے …… اسکے وجھی چہرے پر طنزیہ سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی
آئش تمہارے بھائی کی وائف الیانہ کا بھائی … ہے نا … نیناں نے بیڈ سے اٹھتے ….. . لائیٹ آن کرتے ہوئے کہا
ہمممم ….
.. وہ فقط اتنا ہی بولا
… خاموش کیوں ہو گئے . . بولو… اسکے سامنے پانی کا گلاس کرتی بولی تھی
گلاس منہ سے لگائے ایک ہی گھونٹ میں آدھا گلاس پیتا اسنے واپس مہرایا تھا… اور پھر ….. کارلوس آئش ہیر کے درمیان ہوئی ساری باتیں بتائی تھی
الیانہ اور آئش کا کوئی قصور نہیں تھا… آئش کا اگر تھا بھی تو الیانہ بے قصور معصوم تھی بھی ہیر نے کارلوس کے ساتھ جانے کے لیے مان لیا … اسی صورت کارلوس نے … ان دونوں بہن بھائیوں کو چھوڑ دیا کہ ریا اسکی ہو گئی تھی … اسکے ریا چاہیے تھی جو مل گئی … وہ ریا کو لے کر یہاں سے دور …. پہاڑ پر رہنے لگا . . وہ ایک ایسا پہاڑ ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا وہاں کوئی زی روح رہ بھی سکتی ہے . . مافیا مافیا باس ہونے کی وجہ سے اپنے کئی خفیہ جگہ خفیہ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں . . سال اسنے ایمان کو قید رکھا راج وائز آئش تینوں نے مل کر زمین بھی کنگال لی. مگر انہیں ہیر کو کی کوئی خبر نہیں
NOVEL BANK
از قلم صندل
خود غرض عشق
ملی .. وہ کافی ہوشیار بندہ تھا .. . دو سالوں میں ایک پل بھی اسنے ہیر کو موقع نہیں دیا کہ وہ بھاگ سکے …. . دو مہینے پہلے آخر اسے موقع مل ہی گیا …. اور اسنے کارلوس کو مار دیا وہ وہیں . اپنے جنونی جنون کے ساتھ مر گیا ….. بقول ہیر کے اسے مرنے سے ….. ….. ڈر نہیں لگا تھا
…. بیر پہر دو تین دن پہاڑوں پر لگا کر آخر واپس آگئی. . سب سے پہلے وہ راج ویلا آئی راج کے رزیعے مجھے ہر بات کا علم تھا . میں بول نہیں سکتا تھا. . مگر سن سب سکتا تھا وہ آئش سے مل چکا تھا ….. یہ ساری باتیں اسے آئش سے ہی پتا چلی … راج اسے . . میرا زندہ ہونے کے بارے میں بتانا نہیں چاہتا تھا. مگر اسنے اسے ڈاکٹر سے بات کرتے ….. . سن لیا تو وہ زیادہ چھپا نہیں پایا تھا
اسکے بعد ہی مجھے کہیں ہوش آیا ….. اور اب میں تمہارے سامنے ہوں … اسنے گھری . سانس بھرتے بات ختم کی تھی
اور اب کیسے ہیں سب ….. راج الیانہ … آئش ہیر …. نیناں نے اسے دیکھتے ہوئے …. پوچھا
ہم اب ٹھیک ہیں۔ دس دن ہاسپٹل میں لگا کر آئی تھی ہیر. . مینٹلی کافی ڈسٹرب ہو گئی تھی … اب کافی بہتر ہے … مگر پوری طرح نہیں . . وہ لڑاکی چلبلی سی ہیر کہیں اسی پہاڑ پر کھو گئی …. سچ پوچھو تو … یہ جو نئی ہیر ہے ۔ ۔ یہ مجھے کافی چہلتی ہے …. میں اکثر اسکی امیچورٹی سے تنگ ہوتا تھا. . غصہ ہوتا تھا… مگر اب جب ہم میچوٹر ہوگئی ہے تو شاید سب سے زیادہ مجھے ہی پسند نہیں آرہا ۔ اسکے لہجے میں کرب سا تھا… وجہی چہرے پر … دکی سی مسکراہٹ ، احاطہ کئے ہوئے تھی
…. اور باقی کل الیانہ راج اور وائز اور علیزے کی شادی کی ڈنر پارٹی ہے ۔ ۔ اور .. وہ بولتے بولتے رکھا تھا … سبز آنکھیں اسکے خوبصورت چہرے پر لگا دی تھی
…… اور . نیناں نے تجبس ۔ سے پوچھا
اور آئش اور ہیر … اور میرا اور تمہارا نکاح پلس رخصتی بھی … وہ ہلکا سا اسپر جھکتا سرگوشی … نما آواز میں بولا تھا
…. ہمارا نکاح .. . نیناں نے حیرت سے پوچھا
… جی. ہمارا وہ بھی اسکی کے انداز میں بولا۔ ۔ نظریں اسکے ہونٹوں پر جم گئی تھی
مگر … میں نے کب کہا.. میں تم سے نکاح کروں گی … اسکی نظروں کا زاویہ دیکھتی .. نجل ….. ہوتی اسے دور کرتی وہ جھٹ بولی تھی
تم سے میں نے پوچھا تھا … تم خاموش رہی لڑکی کی خاموشی کو ہاں ہی سمجھا جاتا ہے اسکے گال پر ہاتھ کی پیشت پھیرتا وہ مخمور لہجے میں بولا تھا . . سبز آنکھیں خماری کے ….. باعث اور دلکش لگ رہی تھی …… اس کی خوشبو . . وہ مدہوش کن تھی۔ کوئی اس سے
…. پوچھتا
نیناں سانس روکے اسے دیکھے جا رہی تھی …… دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا …. کتنا خوبصورت احساس تھا. وہ اسکا تھا. اسکے مل گیا تھا .. . دو سال کے طویل عرصے کے بعد جب امید تک ختم ہو گئی تب وہ اسے مل گیا تھا …. اسکا ہو رہا تھا ہمیشہ کے لیے
…
ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں راستہ دل تلک تو جاتا تھا
اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس کچھ نہیں تھا، الاؤ آنکھیں تھیں۔
کیا حال سنائیں دنیا کا
کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں
لاکھوں میں ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں
دنیا کو سنانے کے قابل۔۔۔۔
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں
بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں
اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں
!!! پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں
.. ایک مہینہ پہلے
برو نیچے کون مہمان خصوصی آئے ہوئے ہیں ….. جو اتنی تیاری …. علیزے نے آدیان …. کو دیکھتے گھر میں کچھ غیر معمولی سی ہلچل محسوس کرتے ہوئے پوچھا تھا
آدیان کو کلف سٹیٹ کرتا نیچے جانے ہی والا تھا. . علیزے کی آواز سنتے اسکی طرف آیا تھا
بس میں کچھ خاص لوگ …. اسکے چہرے پر نظریں گاڑے جواب دیا تھا
مگر کون … ایک منٹ … ایک منٹ … کہیں آپکو دیکھنے تو کوئی نہیں آیا۔ پہلے سوال کرتے خود ہی جواب دیا تھا …. ریڈ اور بلیک گرم روٹی سانائٹ سوٹ پہنے .. . بالوں کو جوڑے میں مقیم کئے … سردی کے باعث سرخ چهره .. . وہ کافی دلکش لگ رہی تھی
ابھی کدھر …. مجھ سے پہلے تو میری چھوٹی بہن نے کرلی …. . وہ بالکل ہشاش بشاش .. لہجے میں بولا تھا
… مگر علیزے کے چہرے پر سایہ سا گزرا تھا … جو بخوبی آدیان نے دیکھا تھا
دو سال پہلے جس دن علیزے واپس آرہی تھی جبھی اسے ایئر پورٹ پر ہی آدیان مل گیا تھا . . وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے جہاں خوش ہونے وہاں حیران بھی کافی ہونے تھے …. علیزے تو اسے یوں اچانک دیکھ کر حیران ہوئی تھی.. جبکہ آدیان اسے ایئر پورٹ …. پر اور اسکے ساتھ وائز کو دیکھ کر کافی حیران ہوا تھا
علیزے نے وہ فلائیٹ مس کر دی تھی … . وہ تیوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے
……. تھے ….. تینوں ہی خاموش تھے ….. جب آدیان بولا
… علیزے بچے یہ کون ہے … وائز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
….. کی یہ …. وہ جو پہلے ہی کافی ڈری ہوئی تھی اور ڈر گئی تھی
آئے ایم ہر ہیز بنڈ … علیزے کو ایک نظر دیکھتے اس نے خود ہی خود کا تعارف کرواتے
….. اسپر جیسے بم پھوڑا تھا
….. مطلب … حیرت سے آنکھیں باہر نکلنے کے در پر تھی
…. اور پھر وائز نے اسے شروع سے لے کر ساری بات سچ سچ بنا دی
یو. . باسٹرڈ …. غصے سے اسکی نتے پھول گئے تھے … وہ ابھی اس پر جھپٹا جب
… علیزے نے اسے بازو سے پکڑ لیا تھا
…. غصے سے لال چہرہ لئے وہ علیزے کی طرف مڑا … جس نے فقط نا میں سر بلایا تھا
وائز لبس خاموشی سے علیزے کو دیکھ رہا تھا …… یہ سوچ ہی اسے اداس کر رہی تھی کہ وہ جارہی تھی … اسکے بغیر رہنا تھا … نجانے کب تک … وہ بس اسے دیکھتے جیسے آنکھوں …. کی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہا تھا
تم …. تم میری بہن کو طلاق دو ابھی کہ ابھی ….. غصے سے بازو چھڑاتا وہ غصے مگر …… قدری دھیمی آواز میں غراتا ہوا بولا تھا
…… واٹر نے پہلے حیرت اور پھر غصے سے اسے دیکھا …. سفید رنگت لال ہوگئی تھی
میاں بیوی کے معاملے میں تمارا کوئی کام نہیں ہے ….. ڈیبل پر اسکی طرف جھکتا وہ …. سٹاپ لہجے میں بولا تھا
کون سی بیوی ہاں … یہ میری بہن ہے تمہارا کھلونا نہیں … . وہ سبھی اسی کے انداز میں بولا تھا ……
علیزے خاموشی سے لب کانتی دونوں کو دیکھے جا رہی تھی … ایک بھائی تو دوسرا شوہر .. کسی کی سائیڈ نہیں لی تھی ……
بیوی تو ہے میری …. اور تم کا کے تو نہیں ہو جو نہیں پتا ہو کہ میاں بیوی کا رشتہ کتنا مضبوط ہوتا ہے … اور ہمارا رشتہ بھی کافی مضبوط ہے …. تم نہیں تڑوا سکتے … اسکی …. سیاہ آنکھوں میں جھانکتا وہ سرد مہری سے بولا تھا
…… جبکہ آدیان نے حیرت سے علیزے کی طرف دیکھا
….. اسکی طرف کیا دیکھ رہے ہو ….. وہ کہتے ہیں اٹھا تھا
…. بے غیرت انسان …. جھٹکتے سے اٹھتے اسنے وائز کا کالر پکڑا تھا
… وائز نے پہلے اسکے اپنے کالر پر رکھے ہاتھوں کو دیکھا پھر اسکی آنکھوں میں
دونوں ہی غصے کی حدوں کو چھوتے نتے پہلائے ایک دوسرے کو کہا جانے والی نظروں ….. سے دیکھ رہے تھے
آآدیان ….. ہم چلتے ہیں نا… م مجھے بھوک بھی بہت ل لگ رہی ہے … آدیان ….. کے بازو پر ہاتھ رکھتے جلدی سے بولی تھی
……. ان دونوں کے ایک ساتھ اسے دیکھا تھا ..
وانز نے لب بچے تھے ۔ ابھی وائز نے لب بچے تھے… ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس نے کھانے کا پوچھا تھا تب وہ ….. صاف منع کر گئی تھی
آدیان نے جھٹکے سے اسکا کالر چھوڑتے علیزے کا ہاتھ پکڑا تھا… ایک آخری قهر آلود نظر …… اس پر ڈالتا وہ اسے بازو سے پکڑے باہر کی طرف بڑھا تھا
وہ لمحہ لمحہ دور جا رہی تھی ….. وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے جا رہا تھا …. اسے نہیں پتے وہ لمحہ لمحہ دور جاری می … ….. چلا کب اسکی آنکھیں نم ہو گئی تھی
ابھی وہ اسی پوزیشن میں کھڑا تھا جب اسکا فون بجا تھا… نمبر دیکھ کر وہ خاصا حیران ہوا کیونکہ نمبر راج کا تھا .. کافی پرانا نمبر تھا۔ کبھی کال نہیں آئی تھی … اور اسنے کبھی … ….. نمبر ڈلیٹ بھی نہیں کیا تھا
ابھی یوں اچانک کال دیکھ کر حیران ہوا …. تب ہی بنا دیتی کئے کال اٹھائی جہان اسنے ایک ایڈریس پر جلدی پہنچے کا بولا …. بنا دیری کئے وہ نکلا تھا ۔ مگر ایک آخر دفعہ اس ….. دشمن جان کو دیکھنا چاہا… مگر شاید دیر ہوگئی تھی
اکستان آکر اسنے سب کچھ آدیان کو بتا دیا ….. ریان صاحب نے اس سے کافی معافی مانگی ھی …. اس نے معاف بھی کر دیا تھا … اور پھر آدیان نے موقع دیکھتے ساری بات انیہ اور ریان کو بھی بتا دی . پہلے تو ریان کو کافی غصہ آیا مگر پھر آدیان کے سمجھانے پر ہ سمجھ گئے تھے … . وہ انکی بیٹی کا شوہر تھا … اور پھر علیزے اس سے علیحدہ نہیں سونا چاہ رہی تھی جبھی وہ دونوں خاموش ہو گئے … . اب علیزے کی تقریباً ڈیڑھ سال بیٹی تھی ….. جس کا نام خوشی تھا .. . وہ پوری وائز کی کاپی تھی …… یہ بات علیزے …. کو کچھ خاص پسند تو نہیں تھی …… مگر تھی تو اسی کی بیٹی
کر ہر گم ہوگئی ہو… علیزے ہم تمہاری مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے آدیان اسکا گال تھپتھپاتے محبت سے کہا اور خود نیچے کی طرف چلا گیا
خری بات علیزے کے سر سے گزر گئی. جبھی کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں خوشی کو سلا کر گئی تھی …. اسکا موڈ آف سا ہوگیا تھا. . وہ وائز سے دور تو نہیں جانا چاہتی تھی ہ تو بس چاہتی تھی وائز اس رشتے میں اپنی انا نا لائے …. وہ تو اسے ہر روز یاد کرتی …..
تهی ….. ہر صبح اسکی اسی امید سے شروع ہوتی تھی کہ آج شاید آجائے وہ اپنی انا کو مار کر مگر ناامیدی پر ہر دن ختم ہوتا چلا گیا … اب تو وہ اسکا نام سن کر اداس ہو جاتی تھی … جیسے آج ہوگئی تھی.
……. کمرے میں آتے وہ کاٹ کی طرف بڑھی تھی
. مگر یہ کیا وہ تو خالی منہ چڑھا رہا تھا
روشنی .. اسنے ڈر کر پکارا تھا ابھی دو منٹ پہلے ہی تو وہ اسے سلا کر گئی تھی پھر کوئی آیا
….. بھی نہیں تھا اسکے کمرے میں اسکی جان پر آئی تھی … .وہ بنا پیچھے دیکھے بھاگی تھی ۔ ۔ جب اچانک کسی چٹان نما چیز سے ٹکرائی …. ابھی وہ کرتی کہ سامنے والے نے اسے کمر سے پکڑ کر اسے سہارا دیا تھا
اسکی پیشت وائز کے سینے سے لگی ہوئی تھی … وائز کے ایک بازو اسکے پیٹ پر رکھا ہوا تھا …..
کو کون … چھوڑو …. علیزے نے تڑپ کر کہا تھا … روشنی کا ڈر اوپر سے نجانے کون سی ….. مصیب ٹپک گئی تھی
کیسی ہو پریٹی گرل …. ایک ہاتھ میں روشنی کو پکڑتے … دوسرے ہاتھ سے اسکے پیٹ پر دباؤ بڑھاتے اسکے کان کے پاس جھکتا سرگوشی نما آواز میں بولا تھا. . بولتے ہوئے اسکے …. عنابی لب علیزے کے کان سے بچ ہورہے تھے
وہ جو اسکی گرفت سے نکلنے کے لئے مچل رہی تھی. . آواز پہچانتے جیسے ساکت ہو گئی تھی دل کانوں میں گونجنے لگا تھا. . رنگ لال ہو گیا تھا…. وہ لب پہنچ گئی تھی … یکدم کچھ …. … . یاد آنے پر پوری قوت لگا کر اسکی گرفت سے نکلی تھی
اور اسکی طرف مڑی تھی … دونوں اتنے عرصے بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر کچھ نہیں .. تہم سے گئے تھے … مگر صرف کچھ پل ….. وہ ہوش میں آئی تھی
ا اس کو مجھے دیں … اسنے روشنی کی طرف اشارہ کرتے خوف زدہ لہجے میں کہا تھا . . وہ ڈر رہی تھی وہ اس سے روشنی کو لے نا جائے … سبز آنکھوں والی روشنی جو اس کے علاوہ کسی کے پاس ٹکتی نہیں تھی اب بڑے مزے سے اسکی بلکی بلکی داڑھی پر ہاتھ ….. پھیرتے مسکرا رہی تھی
بیٹی ہے میری … اتنا ڈرو نہیں … بے تاب نظریں اسکے چہرے پر جمانے وہ کھوئے .. کھوٹے لہجے میں بولا تھا …. دل آنکھیں سیراب ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی … تشنگی تھی کے بڑے جا رہی تھی
ی یہ میری بیٹی ہے ….. آپکی کوئی نہیں ہے … علیزے نے آگے ہو کر اس سے لینے … کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔ چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھی جیسے
تم تیار ہو جاو نیچے موم ڈیڈ آئے ہوئے ہیں ….. ان سے مل لو۔ ۔ ان کی پوتی کو بھی ملوانا ہے ان سے …… اسکی بات یکسر نظر انداز کرتے وہ دھیمے لہجے میں بولا تھا … نظریں پل … کے لیے بھی اسکے چہرے سے نہیں ہٹی تھی
کافی جلدی یاد آئی ہے.. آپکو بیوی اور بیٹی کی … وہ نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گئی تھی
وائز نے گہرا سانس مہرا تھا .. . اب اسے کیا بتاتا وہ دو سال کد ہر پھسا رہا. پہلے ہیر کو ڈھونڈنے پر دو سال لگ گئے۔ پھر جب وہ ملی اسکی حالت… پھر راجر کا ہوش میں آنا وہ تو جیسے پس کر رہ گیا تھا .. وہ ایک پل بھی اسکی یاد سے غافل نہیں ہوا تھا. مگر …
چاہ کر بھی اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا … ایک طرف سے مطمئن تھا کہ وہ اپنوں کے پاس محفوظ تھی اس وقت اس سے زیادہ باقیوں کو اسکی ضرورت تھی ۔ ۔ جہاں تک بات تھی روشنی کی وہ تو اسے یہاں آکر پتا چلا تھا کہ اسکی ایک عدد بیٹی بھی ہے … اسنے فیض صاحب اور عالیہ کو علیزے کے بارے میں بس بتا دیا تھا وہ کچھ ناراض تو ہوئے مگر اب اپنی بہو لینے آگئے تھے . . وہ سب سے ملا تھا۔ نیچے … معافی بھی مانگی تھی . . وہ جان گیا تھا .. انا . رشتے سے زیادہ اہم نہیں تھی … وہ جانتا تھا علیزے اس سے کافی
… . ناراض تھی … مگر وہ اسے وہاں لے کر جا کر ہی منانا چاہتا تھا
مجھے کہیں نہیں جانا …. اسے دیں مجھے علیزے نے دوبارہ ہاتھ بڑھاتے ہوئے خفگی سے کہا
… لیزا تیار ہو جاو …. اور جاکر موم ڈیڈ سے ملو . . دو دن بعد ہم نے جانا ہے واپس جاپان ….. واٹر نے اسکی بار قدرے سختی سے کہا تھا
… نہیں جاؤں گی آپکے ساتھ… کافی ڈھٹائی سے کہا تھا
ٹھیک ہے . میں اپنی بیٹی کو لے جاؤں گا …. روشنی کے چہرے پر بوسا دیتے وہ لاپرواہی … سے بولا تھا
… وہ پیر پنچ کر باہر نکل گئی
علزے سے چینج …. مگر وہ جا چکی تھی .. وائز نے گہرا سانس بہرا تھا ۔ یکدم سے اسکی نکھوں کے سامنے سے وہ دن گزرے جب وہ دونوں فلیٹ میں رہے تھے کے … علیزے نے اسکے کچھ ہی دنوں میں پاگل کر دیا تھا ….. وہ مسکرا کر رہ گیا
پہر دو دونوں بعد وہ جاپان آگئے تھے ……. علیزے کا منہ تو بنا ہوا تھا …. مگر وہ جانتا تھا ….. . وہ اسے منا لے گا
تجھے الفت نہیں مجھ سے مجھے فرصت نہیں تجھ سے
عجیب شکوہ سا رہتا ھے تمھیں مجھ سے ۔۔۔ مجھے تم سے
نینوں کے کشکول اٹھائے بیٹھے ہیں تو ان میں اپنی دید کے سکے ڈال دے
پورا بال روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا
علیزے .. الیانہ ہیر اور نیناں نے سیم رائل بلو کلر کے لانگ فل سلیوز فراک ……. پہنے ہوئے تھے … بلکے پھلکے میک اپ میں وہ چاروں ہی انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی
الیانہ کے لمبے سیاہ بال کھلے تھے … علیزے نے جوڑا بنایا ہوا تھا۔ جبکہ نیناں اور ہیر نے کھلے رکھے ہوئے تھے … وہ چاروں بیٹی نجانے کن باتوں میں مصروف تھی … دو دن میں … ہی چاروں کی کافی بن گئی تھی … ساری شاپنگ بھی مل کر کی تھی
… . روشنی وائز کے پاس ہی تھی
وائیٹ تھری پیس پہنے وہ چاروں بھی کافی ہینڈ سم لگ رہے تھے .. . وائز راجر ہیر کی کافی … اچھی گپ ہوگئی تھی … مگر نجانے راج اور آئش کی کبھی بھی نہیں بن سکی تھی
…. . دونوں جب بھی اگہئے ہوتے ایک دوسرے کو گوریوں سے ہی نوازتے رہتے تھے
…. نجانے کس جنم کا بدلہ پورا کر رہے تھے وائز راجر آئش .. بلکہ وہ چاروں بھی کبھی جان نہیں پائی تھی …. جانتے تو وہ دونوں بھی نہیں تھے .. بس ایک مقابلہ ساتو دونوں میں ہر وقت بس ایک دوسرے کو ہرانے ….. میں لگے ہوتے تھے
کچھ ہی دیر پہلے ہیر آئش. . نیناں اور آدیان کا نکاح ہوا تھا …… سب کافی خوبصورت ہو گیا … تھا ہیر پہلے کی طرح شوخ تو نہیں رہی تھی. مگر کسی سے کم اب بھی نہیں تھی آئش اور ہیر اب پہر سے پہلے کی طرح لڑتے تھے .. بس اب کناٹ ان کی لڑائیوں کے بعد کے اثرات سے بچا ہوا تھا … راکیل اور کناٹ کی بھی انگیجمنٹ ہو گئی تھی .. . وہ بھی آئش اور ہیر کی شادی سے کافی خوش تھے. ہیر اور آئش نے ڈانسنگ چھوڑ دی تھی جبکہ سینگنگ چھوڑی تو نہیں تھی … مگر کچھ عرصے کے لیے اسے بھی خیر آباد کہہ دیا۔
تھا ….. ابھی پراپرلی ہیر ٹھیک نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب بھی خواب میں کارلوس کو مرتا .. دیکھ کر چیختے ہوئے آٹھ جاتی تھی ……. اس لئے فلحال سب بند کر دیا تھا وہ تو دوبارہ ہیر کو پاکر ہی خوش ہو گیا تھا …. ایک وہ واحد بندہ تھا جو کارلوس کی موت سے کافی خوش تھا …. مگر واضح نہیں کیا وہ جانتا تھا ہیراپسٹ تھی. اسے ہیر کا اسکے لئے خفا … ہونا بھی ایک آنکھ نہیں بہاتا تھا …… مگر بس دانت پیس کر ہی رہ جاتا تھا
یہ خاموشی طوفان سے پہلے آنے والی خاموشی تو کہیں نہیں ہے … آئش جو کب سے ہیر …. کو اکیلا خاموش بیٹھا دیکھ رہا تھا. . اسکے پاس چیئر پر بیٹھتا شرارت بولا تھا
جی بالکل …. ابھی کہ ابھی غائب نا ہوئے تو طوفان آ بھی سکتا ہے . . سر پھاڑ دوں گی .. تمہارا … بیر اسے دیکھ کر بدمزہ ہوئی تھی۔ جبھی جل کر بولی تھی
مجھے لگا کہ آج آج میں شوہر کے رتبے پر فائز ہوا ہوں تو شاید تھوڑی عزت مل جائے تبھی بیزت ہونے چلا آیا. مگر . . ہائے رے قسمت آئش نے نظریں اسکے قیامت خیز … سراپے پر ٹکائے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا تھا
سرتاج … . سر کے سائیں … کیا آپ اپنا تشریف کا ٹوکرا لے کر یہاں سے جانا پسند کریں …. گے کہ آپکی زوجہ محترمہ اپنے طریقے سے آپکی اچھی خاصی خدمت کر کے آپکو بھیجیں …… ایک ایک لفظ چھاتی بولی تھی جیسے دانتوں کے درمیان آتش درانی کرسی لگا کر بیٹھا ہو
بابابابا…. وہ بے ساختہ بنا تھا …. زوجہ محترمہ …. آج دیکھنا آپکی قینچی کی طرف چلتی ….. زبان کو روک کے ہی رہوں گا ….. اسپر نظریں جمائے وہ معنی خیزی سے بولا تھا
….. آتش تم کیا چاہ رہے ہو میں شرما شرما کر دہری ہو جاؤں … . وہ زچ ہو کر بولی تھی
…. ارے نہیں میری لڑکی جیری … میں تو چاہتا ہوں تم نا شرماؤ … بلکہ میرا ساتھ دینا … اسکی آنکھیں میں دیکھتا وہ بے باکی سے بولا تھا
.. شٹ اپ …. لوگوں کا لحاظ کرتی وہ قدرے دھیمے آواز میں ہی بولی تھی
تم نا شرماؤ … مگر یوں. اتنے لوگوں میں مجھے شرٹ اپ کرتے ہوئے تھوڑی بہت شرم آرہی ہے …. اسکی بات کو اپنا ہی رنگ دیتا وہ سنجیدہ لہجے میں بولا تھا۔ ۔ آنکھوں میں …. شرارت واضح تهی
انشششش …. اسکا بس نہیں چل رہا تھا … ہزار لوگوں کے سامنے ہی اسکے بال کھینچے ۔ مگر … … . باے رے دنیا داری ….
……. . بابا بابا … اسکا قہقہ بے ساختہ تھا
تم جس راستے سے چاہو آجانا
میرے چاروں طرف محبت ہے
ادھر اکیلی کیا کر رہی ہو… الیانہ کو کھینچنے اپنے قریب کرتے وہ سنجیدہ آواز میں بولا تھا
دو سال وہ اس سے دور رہا تھا …. وہ آئش سے اسے لینے گیا تھا. مگر جو جو آئش سے اسے پتا چلا تو ساکت ہو گیا تھا …. اسنے کسی اور کی بیٹی بہن کو کڈنیپ کیا تھا… اسکی .. اپنی اکلوتی بہن کے ساتھ بھی ہوئی سب ہوا … اسنے الیانہ کو چھوڑ دیا ادھر ہی … اسے یہی لگتا تھا ہیر کے ساتھ جو ہوا وہ راج کا کیا ہی اسکے سامنے آیا تھا …. دوسری ازیت تهی .. . گن گن کر دن گزارے تھے .. الیانہ کو اسنے ادھر ہی چھوڑ دیا تھا جب تک اسکی پڑھائی مکمل نہیں ہو جاتی … اسنے باشم میرب سے بھی بات کی تھی ۔ ۔ اور انہیں …. سختی سے بتایا تھا کہ وہ واپس آئے گا … ان دو سالوں میں ہر روز اس سے ملتا تھا
ہیر کے مل جانے کے بعد وہ کچھ مطمئن ہوا تھا …. اور پھر اسنے رخصتی کی بات کی پہلے تو وہ نہیں مانے … مگر پھر مان ہی گئے تھے ۔ ۔ اور آج وہ دنیا کے سامنے بھی اسکی …… ہو گئی تھی
و وہ … کال کر رہی تھی …. موبائل دیکھاتی وہ جلدی سے بولی تھی ساتھ ہی اسے دور … … کرنے کی ناکام سی کوشش بھی کی تھی
اب کیوں دور کر رہی ہو … اسکی کمر پر گرفت سخت کرتا اسے کچھ اور قریب کرتے ہوئے بولا تھا …. لهجه هنوز سنجیدہ تھا …. دونوں اتنے قریب تھے کہ ایک دوسرے کی سانسوں کی … تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہے تھے. . دل کانوں میں گونجنے لگا تھا
اندر جاتے ہیں … اسکی سبز جذبے لٹاتی نگاہوں سے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا ……… چہرے پر گلال سا بکھر گیا تھا۔
جب میں تمہارے پاس ہوں تو بس مجھے محسوس کیا کرو …. باقی سوچیں اپنے ننھے سے …. دماغ سے نکال لو …. اسکی گردن پر کان مس کرتا وہ بوجھل آواز میں بولا تھا
…. را راج … وہ اسکی قربت سے گھبرا سی گئی تھی …. کوئی دیکھ لیتا اسکا الگ ڈر
شیشش … کچھ نہیں صرف میں … مجھے محسوس کرو بس … ویسے بھی آج کی رات تم پر …. کافی بہاری ہے … یکدم ہی اسکے پاس پلر سے لگاتا بو جھل گھمبیر آواز میں بولا تھا
اندر … ابھی وہ کچھ کہتی کہ راج نے اپنے لب اسکے لبوں پر رکھتے اسے خاموش کروا دیا … تها …. وہاں معنی خیز خاموشی چھا گئی تھی
وہ سب مل گئے تھے … سب مکمل ہو گئے تھے . خوش تھے … مشکل وقت گھٹن وقت ….. ختم ہو گیا تھا … اب خوشیوں بھری خوبصورت زندگی انکی منتظر دی
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تھی، زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں
حتم شد
