Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
خُدا کی قسم بخت اسی کے ھیں
جس کے حصّے میں فقط آپ آ ے
وائیٹ پلین شرٹ پر بلیک سوٹ پینٹ پہنے. … بالوں کو ڈهیلی سی پونی کئے. … چہرے پر بلیک ماسک لگائے. .. بلیک ہی ہائی ہیل شوز پہنے وہ گاڑی سے نکلی تھی. ….
گاڑی لاک کرتی وہ اندر بڑهی . …. راج ویلا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا. … صبح کے 4 بج رہے تھے. ..وہ ابھی ابھی ہی پہنچی تھی. … شام میں شو کے بعد ہو 6 بجے کی فلائیٹ سے ادھر پہنچ گئی تھی. ..اسکا دل بے چین تھا. …
بٹن دبا کر اسنے سارے گھر کی لائیٹس آن کر دی . ..
کچھ دیر صوفے پر بیٹھنے کے بعد ون اوپن کچن میں چلی گئی تھی. .. سارے سفر میں سوئی ہی رہی تھی. .اسی لیے اب نیند تو نہیں آئی تھی. .بس بھوک ہی لگی تھی. …
یہ اتنا سارا کھانا کس نے بنا دیا. …فریج کھول کر دیکھا تھا. ..جو کئی ڈشز میں بهرا تھا. ..تب ہی خود سے بولی تهی. ..
پھر سب پر لعنت بیجهتی. … شامی کباب کی ٹرے نکال کر اس میں سے تین پیس نکال کر پلیٹ میں رکھ کر اسے اوون میں رکھنے کے بعد بقایا دوبارہ فرج میں رکھ دئے تھے. …
تب تک کافی بنا کر اوون بند کر کے پلیٹ نکال کر ٹرے میں دونوں چیزیں رکھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی. ..
ٹرے بیڈ پر رکھنے کے بعد کوٹ اتار کر بیڈ پر رکھتے واش روم میں فرش ہونے کے بعد واپس آکر بیڈ پر بیٹھی تھی. …
کمفٹر سیدھا کر کے بیڈ پر بیٹهتی گود میں ٹرے رکھ کر ٹی وی لگا لی تھی. ..جبھی اچانک کسی خیال کے تحت اسنے آگے ہوکر کوٹ کے پاکٹ سے موبائل نکال کر دیکھا تھا. ..
جس میں بے شمار آئش کی کالز تهی..کچھ راکیل کی بهی تهی. .راجر کی بهی تهی. …فلائیٹ میں تو وہ موبائل یوز کر ہی نہیں سکی جبھی اب دیکھ رہی تھی. …
کچھ سوچ کر اسنے بلو ٹوتھ کنیکٹ کرتی وہ آیش کو کال بیک کر چکی تھی. ….کچھ بلز جانے کے بعد کال اٹھا لی گئی تھی. …
ہیلو ہیر نے فاک سے کباب منہ میں ڈالتے ہوئے کہا. .
دوسری طرف آئش نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روک کر موبائل دیکھا تھا جہان ہیر کا نمبر شو ہورہا تھا. .. بنا دیر کئے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا کر دوبارہ بستر پر ٹن ہوا تھا. ..
ہاں ہیلوو. ..ہیر کدھر چلی گئی تھی یوں اچانک. …. نا کچھ بتایا بس اچانک چلی گئی. ..آئش موبائل کان سے لگتا ہی شروع ہوگیا تھا. …
ارجنٹ کام آگیا تھا جبھی آنا پڑا. .. منہ سے نوالہ حلق سے اتارتی ہوئی بولی تهی. ..
ایسا بهی کیا کام آگیا جو یوں سب چهور کر بھاگ گئی. … جانتی ہو کتنا پریشان ہوگیا تھا میں. …اسی طرح لیٹے ہوئے کہا تھا. .لہجے میں فکرمندی واضع تهی. …
تم کیوں اتنا پریشان ہوگئے تھے. ..کافی کی سیپ لیتی مزے سے بولی تهی. .
کیونکہ میں تم سے پ. ……وہ یک دم چپ ہوا تھا. .نیند بنگ سے بھاگی تهی. ..وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا. ..
ہیر کافی کا سپ لیتی لیتی رکی تھی. … ایک پل کو دھڑکن بهی رکی سی تھی. …
کیونکہ ….ہاں. کل رات کو ہمارا کنسڑٹ ہے نا. …. اسی لئے. …چہرے پر ہاتھ پھیرتا بات سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا. .. ساتھ ہی بنا کوئی بات سنے کال کاٹ دی تھی
پہنچ جاؤں گی میں رات میں. .کچھ گھنٹوں کے لئے ہی آئی. ….. ہوں. … نہیں خراب ہوگا تمہارا کنسڑٹ. … ہیر نے کافی کا کپ ٹرے میں تقریباً پٹختے ہوئے. جلے ہوئے لہجے میں کہا. … اسکا موڈ ہی آف ہوگیا… اسکا دل کیا تھا وہ اپنی بات پوری کرتا. …وہ سننا چاہ رہی تھی. .مگر. …… ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ آنکھیں موند گئی تھی. …..
دوسری طرف آیش حیرت سے موبائل کو دیکھ رہا تھا کہ اب میڈم کو غصہ کیوں آیا. ..کچھ نا سمجھ آنے پر موبائل بیڈ پر پهینکتا. ..دوبارہ نیند کی وادیوں میں جانے کی تیاری کرلی تهی. ……
■■■■■■■
کوئی دھاگہ تجھ سے جوڑے تو
منت کی باندھوں ڈور پیا…
چل مجھ سے عشق دوبارہ کر
چل پھر سے نا تا جوڑ پیا..!!
وہ بیڈ پر چپ لیٹا چهت کو گھور رہا تھا …… کمفٹر آدھا بیڈ پر اور آدھا ووڈن فلور کو چھو رہا تھا. …. بیڈ پر سگریٹ کے خالی ڈبے پڑے تھے کچھ سگریٹ بیڈ پر ہی پڑے تھے. ..ایش ٹرے جلے ہوئے سگریٹ سے بھری ہوئی تھی. …. وہ نجانے کن سوچوں میں گم تھا. …. آنکھیں لال انگار ہوئی تھی. ..جب اسکے رات بھر جاگنے کی چغلی کھا رہی تھی. ….
گلاس فلور کے پردے آگے ہونے کے باوجود سورج کی پہلی کرنیں کمرے میں آکر کمرے میں موجود تاریکی کو ختم کر گئی تھی. …..
وائز نے کمرے میں روشنی دیکھ کر مندی مندهی آنکھوں سے پورے کمرے کا جائزہ لیا تھا. .. فلحال تو اسے یہ روشنی بلکل پسند نہیں آئی تھی. .جبھی ماتھے پر پہلا سے ہی موجود بلوں میں اضافہ ہوا تھا. ….
بیڈ پر سے ایک سگریٹ نکال کر اسے سلگا کر وہ الٹے ہاتھ سے کمفٹر پورا ہو نیچے پهینکتا آٹھ کر سارے پردے ہٹا دئے تھے. … کمرہ پورا روشن ہوگیا تھا. .. گلاس ڈور کو ہٹاتا وہ کمرے سے ی منسلک بالکنی میں موجود ایک سٹائلش جولے پر بیٹھ کر اب دوبارہ سگریٹ پی رہا تھا. …..
اس نے آج شاید اپنی پوری زندگی میں پہلی بار رات سے صبح ہوتی دیکھی تھی. .پوری رات آنکھوں میں کاٹ دی تھی. …..
اسنے آنکھوں موند کر سر جولے کے بیک سے ٹکا کر ہاتھ میں موجود سگریٹ نیچے پھینک کر اسے بجا گیا تھا. …
رات کو علیزے کو رستے میں ہی اترانے کے بعد وہ کچھ آگے گیا تھا. ..مگر پھر چاہ کر بھی وہ اسے یوں رات کو اکیلا سڑک پر نہیں چھوڑ سکتا تھا. ..جبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ واپس پلٹا تھا. ….مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ پاگل ہی ہوگیا تھا. ..
علیزے مارک کے ساتھ کھڑی مسکرا کر بات کر رہی تھی. …. وہ گاڑی سے باہر کھڑا اس سے کچھ بول رہا تھا. .جبھی وہ کهلکها کر ہنسی تھی. …. وہ دونوں اسکے مخالف سمت کھڑے تھے جبھی اسے دیکھ نہیں سکے تھا. … دیکھ تو وائز بھی ان کے چہرے نہیں سک رہا تھا. .مگر اسے پتا تھا وہ مارک ہی تھا. ….
اور پھر مارک نے علیزے کو بازو سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھایا تھا. … وائز نے زور سے آنکھیں بند کرلیں تهی. ..سٹرانگ پر گرفت انتہائی سخت ہوگئی تھی. … وہ گاڑی جا چکی تھی. ..کافی دیر ادھر ہی کھڑے ہونے کے بعد وہ گھر آگیا تھا. … بنا کسی سے ملے. .یا کچھ کھائے وہ اپنے کمرے میں بند ہوگیا تھا. ….
رات کا منظر یاد کرتے اسنے ایک دم آنکھیں کھولی تھی. .جو اب پہلے سے زیادہ لال ہورہی تھی. …. .
جو بھی ہے. .جیسا بھی ہے. … وہ اب صرف اور صرف تمہاری ہے. …. اچانک دل نے جیسے اسے تسلی دی تھی. .. اسکے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی. …….
ہاں وہ صرف میری ہے. …صرف وائز مرزا کی. ..اسے میں لے آؤں گا اپنے پاس. ..بہت پاس. … وائز نے مسکرا کر سر دوبارہ پیچھے ٹکا لیا تھا. .. آنکھوں کے سامنے اسکا خوبصورت معصوم چہرہ گزرا تھا. ..مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی. …
ہاہاہا. …. دماغ کو جیسے اسکی مسکراہٹ پسند نہیں آئی تھی جبھی وہ ہنسا تھا. ….
وہ تمہیں تو پسند ہی نہیں کرتی. …. تمہیں دیکھنا نہیں چاہتی. … تم اسکے زرا سے قریب ہو تو وہ ڈر جاتی ہے. …. دماغ اسکے ورغلا رہا تھا. …. جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا. ..
وائز کے چہرے سے مسکراہٹ یک دم غائب ہوئی تھی. …..
وہ تمہیں نہیں مارک کو پسند کرتی ہے. .جبھی تو اس دن اسکے خود کو چھونے پر کوئی ریئیکٹ نہیں کیا. ..تبھی تو تمہارے جاتے ہی مارک کو بھلا لیا رات کو. … وہ تمہاری ہو کر بھی تمہاری نہیں ہے. ..دماغ نے اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر دوبارہ بولنا شروع کیا تھا. …
وہ معصوم ہے. ..وہ یہ باتیں نہیں سمجھتی. … وہ مارک کو پسند نہیں کرتی. …. وہ تمہاری ہے. .صرف تمہاری وائزز. … اسکے پاس تو کوئی موبائل نہیں تھا جو رات کو وہ مارک کو بلاتی. …دل نے ایک بار پھر علیزے کی سائیڈ لی تھی. …
مگر وہ صرف چھ مہینے کے لئے تمہاری ہے بس. .دماغ دوبارہ بولا تھا. ….دماغ کی بات کر وہ کهل کر ہنسا تھا. .جیسے اسنے یہ بات انجوائے کی ہو. …
وہ معصوم بهی ہے. ..وہ میری بھی ہے. …. اسے بہت جلد لے آؤں گا اپنے پاس. … سر دوبارہ جولے پر ٹکا خود ہی سے بڑبڑاتا وہ آنکھیں موند گیا تھا. ……. سورج اب کافی اوپر آگیا تھا. ……
■■■■■■
✨اسے کہنا اس کی یاد میں بے حد اذیت ہے🖤.
یا اپنے نقش دھو جائے یا میرا پھر سے ہو جائے
کمرے میں روشنی کی وجہ سے اسکی آنکھ کھلی تھی. …. مگر خود کو راج کے اتنے قریب دیکھ کر اس کے ہوش اڑے تھے. …..وہ راج کے سینے پر سر رکهے ہوئی تھی. .. راج کے دونوں ہاتھ اسکے گرد حصار باندھے ہوئے تھے. ….
یہ. ..یہ. … میں یہاں کیا کررہی ہوں. .. وہ راج کے ہاتھ خود سے ہٹانے کی کوشش کرتے خود سے ہی بڑبڑائی. …
پیچ پیچھے. ..ہ ہٹیں. ..پلیزززز. … چ چھوڑیں مجھے. ..جب اسکی گرفت سے نہیں نکل سکی تبھی ہاتھ اسکے سینے پر مارتی اونچی آواز میں بولی. ..
کیا ہوا رپینزل. ..یہ تم میرے اوپر کیا کررہی ہو. …راج جو اسکے ہلتے ہی جاگ گیا تھا. .. اسکے یوں چڑنے پر اسے اور چڑاتا سنجیدہ لہجے میں بولا تھا. .مگر گرین آنکھوں میں شرارت واضع تھی. …
میں نہیں آئی ….تم ہی لائے ہو. …… اب پلیز ہٹووو. …میرے بالوں پر بھی لیٹے ہوئے ہو. ..درد کررہں ہیں. …وہ رو دینے کے قریب تھی. …
آخری دفعہ سمجھا رہا ہوں. ..تم نہیں بولا کرو شوہر ہوں عزت کیا کرو. ..راج نے اس پر گرفت سخت کرتے بلکل سٹاپ لہجے میں کہا. …
زبردستی کا شوہر. …میں نہیں مانتی تمہیں شوہر. ..ہٹووو. … دل میں ڈر کے چهپاتی مضبوط لہجے میں گویا ہوئی. .ساتھ ہی ساتھ اپنے کمر سے اسکے بازو ہٹانے کی کوشش بھی کررہی تھی. …
ہمممم. ….. تو تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں یقین دلاوں کے شوہر ہوں تمہارا. … اسکی گردن میں چہرا چهپاتی مخمور لہجے میں بولا تھا. ….
پلیزز چھوڑو مجھے. … مجھے واش روم جانا ہے. ..ہٹووو. … اسکے ہاتھوں پر اپنے ناخن مارتی غصہ سے بولی تھی. ..بال سارے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے. …
تھوڑی دیر لیٹی رہو. .. غصہ مت دلاو. …. اسکی بار بار ایک ہی رٹ سے تنگ آکر غصے سے بولا تھا. ..ساتھ ہی اپنے دانت اسکی گردن پر گاڑھے دیے. ….
آہہہ. ..جنگلی. … وہ گردن پر اٹھتے درد سے چلائی تھی مگر وہاں فرق کسے پڑتا تھا. ….
اتنے میں ہی تمہاری چیخیں نکل رہی ہیں. ..آگے کیا کرو گی رپینزللللل. …اسکی گردن پر اپنا چہرہ پھیرتا مخمور لہجے میں سرگوشی نما بولا تھا. ….ساتھ ہی کروٹ بدل کر اسکے اوپر آگیا تھا. …
پلیزز. ..ہٹو اوپر سے مجھے سانس نہیں آرہا ہے. …مجھے جانے دو مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ ادھر پلیز. …میں باگ جاؤں گی. ..دیکھنا تم. ……ایک ہاتھ اسکے کندھے پر رکھے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے بےبسی سے بولی تھی. …..
رپینزل ادھر سے جانے کا تو سوچنا ہی چھوڑ دو. …..کیونکہ میرے ہوتے یہ ناممکن ہے. ..ایسا کبھی نہیں ہوسکتا. ..تمہیں میں خود سے دور کسی قیمت پر نہیں جانے دوں. .تم میرا سکون ہو. …. اور اپنا سکون اپنے ہاتھوں سے کوئی برباد نہیں کرتا. … تمہیں اب ہمیشہ میرے پاس. …راج کی قید میں رہنا ہوگا. ..تم چاہو یا نہ چاہو. …پہلے تو ادھر سے نکل ہی نہیں سکتی. ..اگر نکل بھی گئی تو جنگلی جانوروں کی خوراک بن جانا ….. ان سے بھی بچ گئی تو. ….تو یاد رکھنا. …تم مجھ سے کبھی نہیں بچ سکو. ..بہت بری سزا دوں گا. ..بہت بری. …
.اسکی شہ رگ پر انگوٹھا پھیرتا. .. جنونیت سے بولا تھا. .گرین پرسرار آنکھیں. .لہو ٹپک رہی تھی. …. گردن کی رگیں وضع ہورہی تھی. … وہ اسکے خود سے دور جانے کا سوچ کر ہی پاگل ہورہا تھا. …کتنے سالوں بعد ملی تھی. ….اب ایسے کیسے جانے دے سکتا تھا. …..
مجھے جانے دو. …بهوری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھی. … یہ سوچ کر ہی ہو ہلکان ہوری تھی کہ اب اسے ادھر رہنا پڑے گا. ….
رپینزل میں. ……..ابھی وہ کچھ بولتا تبھی دروازہ ناک ہوا تھا. …. ہلکے سے اسکے ماتھے پر لب رکھے وہ پیچھے ہوا تھا. …
اسکے پیچھے ہوتے ہی الیانہ گہرے سانس لینے لگ گئی تھی. .. آنسو لگا تار. بہ رہے تھے. …
سر نیچے راجر سر آپکی بلا رہیں ہیں. …. راج کے یس بولتے ہی میڈ جاپانی زبان میں بولتی چلی گئی تھی. …
میں فریش ہوکر نیچے جا رہا ہوں. …. تم بھی فریش ہو جاو، ..تمہارا بریک فاسٹ ادھر ہی لے آؤں گا. …راج اسکی طرف دیکھتا نرم لہجے میں بولتا بیڈ سے آٹھ گیا تھا. …..
زہر لادو بس مجھے. ..نہیں کھانا اور کچھ بھی. …. غصے سے بولتی وہ کمفٹر اپنے اوپر کھینچ کر دوبارہ لیٹ گئی تھی. ….
راج کچھ دیر خاموشی سے کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا. ..پھر واش روم کی طرف بڑھ گیا. ….
■■■■■■
ریا تم ..تم کب آئی. … نیچے آتے ہی اسکی نظر ریا پر پڑی تھی جو کسی بات پر راجر سے بهس کررہی تھی. ..راج کی آواز سنتے ہی وہ پیچھے مڑی تھی. ..
آو نا راج. ..کھڑے کیوں ہو. ..بیٹھو. …. کچھ خاطر تواضع کرنے دو اپنی اکلوتی بہن کو اپنی….جسے نکاح کے چھوارے تک کھلانا گوارا نہیں کیا. ..اسکو دیکھتے ہی اسکے سامنے کھڑی ہوتی اسے صوفے کی طرف اشارہ کرتی ایک ایس لفظ چبا کر بولی تھی. …
وہ راجر کے اٹھتے ہی باہر اسکے پاس آگئی تھی. …مگر اسے پھر یہ جان کر جھٹکا لگا کہ راج نے الیانہ کو کڈنیپ کر کر کے نکاح تک کرلیا ہے. … اسے تو سب بھول کر یہ صدمہ لگ گیا تھا کہ اسنے اپنی اکلوتی بہن. .. کو بلانا پڑے دور کی بات بتانا تک ضروری نہیں سمجھا. …. اور ابالے سامنے دیکھتے ہی وہ شروع ہوگئی تھی. ..
راج نے ایک نظر راجر پر ڈالی تھی جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ کیا ضرورت تھی ابھی بتانے کی. …
ہاں. ….اب اسے گهورو. … اپنی زبان بیچ کر چهورارے منگوائے تھے نا. … اسے چپ چاپ راجر کی طرف دیکھتا پا کر دوبارہ بولی تھی. …
ایسی کوئی بات نہیں ہے ریا. ….. سب جلدی میں ہوا. …وقت نہیں ملا. ..راج صوفے پر بیٹھتا نارمل انداز میں بولا تھا. …
ہاں. ..وقت نہیں ملا. ..ایک لڑکی کو کڈنیپ کر کے لے آئے. … پھر جلدی ہی نکاح کرنا تھا نا. .. جانتے بھی ہو کون ہے وہ. ..کیا بیک گراؤنڈ ہے اسکا. …ریا اسکے اتنے نارمل ری ایکشن پر ضبط سے مٹھیاں میچی. .. قدرے دیمهی آواز میں صوفے پر بیٹھتی بولی تھی. …
تم کیسے جانتی ہو کون ہے وہ. ….راج نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا. ..
ابھی راجر نے بتایا ہے. … ریا سنجیدگی سے گویا ہوئی. .. وہ ادھر بتانے تو الیانہ کے بارے میں ہی تھی مگر ادھر آکر جو سنا تھا. … واہ ہکا بکا رہ گئی تھی. ..جبھی اسنے ارادہ بدل لیا تھا. … اب وہ نہیں بتانا چاہتی تھی …..
اب تم دونوں. … ٹوم اینڈ جیری کا سیزن ٹو. ..بند کرو گے کچھ دیر میں نے ضروری بات کرنی ہے. ..راجر جو کب سے خاموش بیٹھا ان دونوں کو لڑتا دیکھتا تهک گیا تھا. .جبھی اب غصے سے بولا…….
کیا ضروری بات. …. راج سیدھا ہوکر بیٹھتا سنجیدگی سے بولا تھا. ..ریا بھی سنجیدہ ہوگئی تھی. …
6 سال پہلے ہم نے بینڈرک کو مارا تھا. .. اب اسکا بیٹا ہمارے بارے میں جان گیا ہے. پہلے تو میں بات وائیرل ہوگئ تھی کہ ہم مر گئے ہیں. ..مگر اب اسے پتا چل گیا ہے کہ ہم زندہ ہیں. …. اور ہو جو آدمی ادھر تک پہنچا تھا وہ بھی کارلوس کا تھا. … وہ اب ہمارے بارے میں جان گیا ہے. ..وہ ہم سے اپنے باپ کا بدلہ لینا چاہ رہا ہے. … اور اس میں اسنے پولیس. .. اور سیکرٹ ایجنٹ کے لوگوں کو شامل کرلیا ہے. … دنیا کے سامنے پیش وہ بھی ایک بزنس ٹائیکون ہے ..مگر اسکا لنک مافیا کے ساتھ بھی ہے. … اور اب بہت سے مافیا مین ہمارے پیچھے ایک دفعہ پھر پڑ گئے ہیں.
….راجر ووڈن فلور کو دیکھتا. . سٹاپ لہجے میں بولا تھا. … گرین آنکھیں لال ہوگئی تھی. .. وہ جب جب بینڈرک کا نام لیتا اسکا یہی حال ہوتا تھا. …. اس نے خود مارا تھا بینڈرک کو. ..اپنے ہاتھوں سے. ..مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا. ..وہ سمجھتا تھا کہ جتنی سزا اسے ملی وہ بہت کم تھی. ..جبکہ وہ چاہتا تھا کہ اسے تڑپا تڑپا کر مارے. …جیسے اسکی وجہ سے وہ اپنے بچپن میں تڑپے تھے. ..اپنا بچپن برباد کر گئے تھے. ….
تمہیں یہ سب کس نے بتایا. … راج نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا. …
ریا بھی حیرت سے منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی. …..
وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے. ….. جس نے بتانا تھا بتا دیا. .. وہ بلکل سٹاپ لہجے میں بولا تھا. ….
تو اب. … مطلب اب ہم کیا کریں گے. … دوبارہ سے وہی لڑائی جھگڑے. …. اوو گاڈ. … ریا …. پریشانی سے ماتھا مسلتی بولی تھی. … مطلب سارے مسئلے ایک اور ہی نازل ہونے تھے نا. ….
اب بس دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے. … اسکے بعد ہی کچھ سوچا جا سکے گا. ..راجر ان دونوں کی حیران و پریشان شکلیں دیکھتا بولا تھا. …..
ہمممم اچھا. .. راج گہری سوچ میں بولا تھا. … 6 سال پہلے کی بات اور تھی تب و اکیلا تھا. ….مگر اب. ….اب وہ اپنے ساتھ ایک معصوم جان کو باندھ چکا تھا. … وہ جو خطروں کے کھیل. .کھیل سمجھ کر کھیلتا تھا. …. اب اسے ایک انجانا سا خوف تھا. … وہ الیانہ کے بارے میں سوچ رہا تھا. ….
تو تمہیں کب نکلنا ہے. … کافی دیر کی خاموشی کے بعد راجر ریا کو دیکھتا بولا. ..
کهنٹے تک. … مختصر جواب دے کر دوبارہ خاموش ہوگئی تھی. ..
ہمممم کے تم الیانہ سے مل لو نا. …پھر ساتھ ہی بریک فاسٹ کرتے ہیں. .. وہ ایک نظر راج کودکهتا بولا تھا. ..
نا جی. .شکریہ بہت بہت. …. برا اس سے مل لو. …کیا بولوں جا کر اسے. ..میں اس کی بہن ہوں کہ تمہیں زبردستی اٹھا کر بیوی بنا چکا ہے. …اوو پلیزز. ..لڑکی ہوں میں بھی ایک. …. اپنے سامنے ہی اپنی جیسی لڑکی کو اتنا بے بس نہیں دیکھ سکتی. … وہ غصے سے بولتی آٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی. …
اسکے اٹھتے ہی راجر بھی کام کا بولتا باہر نکل گیا. ….
راج کافی دیر ادھر ہی بیٹھا. ..نجانے کن سوچوں میں گم ہوگیا تھا. .. پھر کچھ سوچتا آٹھ کر کچن کی طرف بڑھا تھا. …….
■■■■■
وہ بار بار فون بجنے کی آواز سے اٹھی تھی. …. بیڈ پر ہاتھ مارتی بنا دیکھے کال یس کرتی موبائل کان سے لگا گئی تھی. …
ہیلوو. ….. وہ اپنے بڑے سے ٹیڈی کو ہگ کرتی بولی تھی. …آواز سے صاف پتا چل رہا تھا. ..وہ ابھی ہم اٹهی تھی. ….
رات کو وائز کے اسے رستے میں اتارے کے بعد وہ ادھر ہی بینچ پر بیٹھ گئی تھی. … کچھ ہی دیر بعد اسے وہاں مارک آتا دیکهائی دیا تھا. … پہلے ت وہ نہیں مانی تھی اسکے ساتھ جانے کی پهر اور کوئی چوائس نا ہونے پر اسے اسی ساتھ آنا ہی پڑا تھا. … کلچ تونجانے اسکا کدھر رہ گیا تھا. ..مگر لکی لی کل اسکا موبائل گھر ہی رہ گیا تھا. … جس کی وجہ سے وہ گم ہونے سے بچ گیا تھا. ….
دوسری طرف وائز اسکی آواز سن کر سر گاڑی کی سیٹ کے بیک پ ٹکاتا آنکھیں موند گیا تھا. … ایک سکون سارے جسم میں پھیلا تھا. …
کون ہے. …بولو بھی. ..نیند سے جگا دیا. ..جب کچھ لمحے کوئی نہیں بولا تھا. ..تبھی ایک نظر موبائل کی سکرین پر ڈال کر بے زاری سے بولی تھی. …
کیا ہوا …. پریٹی گرل. ..تم اتنے جلدی بھول گئی. ….مجھے. … ابھی ایک ہی تو رات گزری ہے تمہیں میرا ہوتے ہوئے. … وائز بات کررہا ہوں. …
اسی طرح آنکھیں موندے سرشاری سے بولا تھا. ….
ک کیا. . وہ دوبارہ سونے کی تیاریوں میں تھی. … اسکی بات سنتے ہی چینخ کر بولی تھی. .. ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھ گئی. … نیند تو جیسے آئی ہی نہیں ہوئی تھی. .. وہ تو بھول گئی تھی کہ رات کو اسکے ساتھ ہوا کیا تھا. ….
وہی ڈارلنگ. ..جو سنا ہے. …. لگتا ہے ایک رات میں اپنے شوہر کو بھول گئی. ..مگر مجھے ایک پل نیند نہیں آئی. ..اسکی چیخ سننے کے بعد وہ منٹ موبائل کان سے دور کرتے دوبارہ کان سے لگاتے ہوئے کہا. …
میں کوئی نہیں جانتی آپکو. …. اور آپکو کہا بھی تھا. … 6 مہینے تک اپنا منہ نہ دیکھنا پهر کال کی. … وہ ڈر کو چھپائے مضبوط لہجے میں بولی تھی. … کون سا ابھی وہ سامنے تھا جو اسے ڈرتی. ..جبھی پٹر پٹر زبان چلی تھی. ….
اچھا تم نے کہا تھا کہ چھ مہینے نظر نا آنا. ..مگر تم تو کہہ رہی تم مجھے جانتی ہے نہیں. …اور کیا خوب کہا ہے. ..میں کدھر نظر آہا ہوں تمہیں. …. وائس کال ہے. ..ویڈیو نہیں. ….. وائز اب قدرے سنجیدگی سے بولا تھا. .یقیناً اسے علیزے کا لہجہ اور بات پسند نہیں آئی تھی. …
مجھے کچھ نہیں سننا. ..سونا ہے مجھے بس. … اسکی اپنی کولڈ آواز سن کر اپنے خوشک لبوں پر تر کرتی. .دهمیی آواز میں بولی تھی. …
بہت سو لیا ہے. … آٹهو. ..نیچے آو. … اگلے دس منٹ میں مجھے نیچے ملو. .. انتظار کررہا ہوں میں. … اسکے فون بند کرنے سے پہلے ہی دو ٹوک لہجے میں بولا تھا. .
کدھر نیچے آؤں. .. میں ہاسٹل میں ہوں. .. آج میں یونی بھی نہیں گئی. ..، صرف اس لئے کہ مجھے سونا تھا. … اسکی بات سنتے ہی جلدی سے بولی تھی. ..
جتنا کہہ رہا ہوں اتنا کرو. ..دس منٹ میں سے ایک منٹ ضائع ہوگیا. ..نو منٹ رہ گئے. . .. نا آئی تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تمہیں سب سے سامنے اٹها کر لیا آنے میں. .. اور اس گر لیٹ ہوئی تو بھی میرے پاس ہی آو گی. …اتنی ہی سخت سزا ملے گی. .. اپنی بات کہہ کر بنا اسکی سنے کال کاٹ گیا تھا. …
ادھر علیزے حیرت سے موبائل کو دیکھ رہی تھی. .مگر پهر وقت دیکھتی. .جلدی سے کپڑے لیتی واش روم میں بھاگی تھی. ……
■■■■■■
