54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

میں نے کہا کہ،،، پیار کے رشتے نہیں رہے
کہنے لگی کہ، تم بھی تو ویسے نہیں رہے
پوچھا، گھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہو گئیں
بولی کہ،،،،،،، اب وہ جھانکنے والے نہیں رہے
جیسے ہی اسنے سر اٹھا کر دیکھا. ..راج تب تک دروازہ کھول کر اندر آگیا تھا. ….اسے دیکھ کر الیانہ کو خوف کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آرہا تها. ….
ارے رپینزل تم ادھر نیچے کیوں بیٹھی ہو اور رو کیوں رہی ہو یار. .. راج اسکے پاس جا کر کھڑا تھا. .. اسے روتا دیکھ کر اسے تکلیف تو ہوئی مگر پھر خودغرض بن گیا. ..وہ اسے خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا. …
ت تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو. ..پلیز مجھے جانے دو. .سب پریشان ہورہیں ہوں گے. .اسے دیکھ کر اسکے سامنے کھڑے ہوتے الیانہ نے روتے ہوئے کہا
الیانہ. .. اس نے پہلی دفعہ اسکا نام لیا تھا. .. آواز جتنی دهمیی تھی اتنی ہی سنجیدہ بھی تھی. ..
تم مجھے بہت مشکل سے ملی ہو. … چار سال ہونے والے ہیں. . میں تمہارے لئے تڑپتا رہا. … اب مجھے مل گئی ہو تو کیسے چھوڑ دوں. … تم یہاں پر رہو. … تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی. … ہر چیز ملے گی. .. مگر تم یہاں سے جا نہیں سکو گی. ..کوشش بھی نا کرنا …رپینزل. … ورنہ میں سزا بہت بری دیتا ہوں. .جو شاید تم برداشت نا کرسکو. .. اور یقین مانو. .مجھے بہت تکلیف ہوگی تمہیں تکلیف دیتے ہوئے. ….سن رہی ہو نااا. .. راج بولتے ہوئے اسے بالکل خاموشی سے زمین کو گھورتا دیکھ کر اسکا گال تھپتھپا کر بولا تھا. …
میں. .یہاں نہیں رہ سکتی پلیز جانے دو. .. الیانہ نے دوبارہ اسے نرمی سے بات کرتے دیکھ کر بغور اسکو دیکھتے ہوئے کہا. ..
گرے ڈرس پینٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. .. الیانہ کو اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوئی کہ وہ کہیں باہر سے سیدھا اسکی طرف ہی آیا تها. …
سوری …ی نہیں ہوسکتا. …تمہیں کہیں نہیں جانے دے سکتا. .سو پلیز بار بار کہہ کر غصہ مت دلوانا مجھے … وہ کہتے کہتے رکا تھا. … لہجے قدرے سخت تها تاکہ وہ بار بار جانے کا نا کہئے. …
اور ہاں یہاں اندر واش روم ، ڈریسنگ روم. ..ہے. ..واڈروب بهرا ہوا ہے تمہاری چیزوں سے. .سب کچھ میں نے منگوا لیا تھا. .. مگر پھر بھی کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے بنا دینا. ..راج اس کے چہرے سے بال ہٹاتا محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا. ….
. .آپ نے مجھے یہاں رکھا کیوں ہے. …الیانہ تو پہلے حیران ہوئی اسکے اچانک بدلتے روئے پر. .پر پھر ہمت جمع کرتی کب سے دماغ میں آیا سوال پوچھ ہی لیا. ..
ہممممم یہ اچھا سوال ہے. … تو ڈالنگ سنو. …تم مجھے چائیے ہو. ..محبت کرتا ہوں تم سے. .جنون ہو تم میرا. .کسی صورت تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دوا. .. کہتے کہتے اچانک سے ہی اسکے لہجہ میں ایک دیوانگی سی آگئی تھی. …
اور ہاں. ..سب سے ضروری بات تو میں بتانا ہی بھول گیا. ..راج نے اچانک کچھ یاد آنے پر کہا تھا. .
وہ ہنوز ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی. ..کہ کہاں پهس گئی تھی وہ. ..گھر والوں کا سوچ سوچ کر وہ اور پریشان ہورہی تھی مگر مقابل بھی سخت جان تھا. ..
یہ لو. .. جا کر پہن لو اسے. ..ابھی ایک لڑکی آئے گی تو تیار ہوجانا. … راج اسکے واڈروب سے ریڈ کلر کا ایک لانگ فراک اس کو پکڑاتے ہوئے بولا تھا. .
مجھے نا یہ پہننا ہے نا کوئی تیار ہونا ہے. .اور ہوں کیوں میں تیار. … الیانہ ضدی لہجے میں بولی اسکے ہاتھ سے فراک لے کر بیڈ پر پھینک چکی ..
کچھ دیر میں نکاح ہے ہمارا. .. پہلے تو اسکی بدتمیزی پر اچانک امنڈے والے غصے کو ضبط کرتا آرام سے اسکے سر پر بم پھینک چکا تھا. ..
ن نکاح. … حیرت سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا. ..
میں کھوئی نکاح نہیں کرنے والی جو کرنا ہے کرلو میرے ڈیڈ ڈھونڈ لیں گے مجھے. .. میں بہت جلدی چلی جاؤں گی. .. اس لئے اچھا ہے زیادہ خواب نا دیکھو،…. اسکو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے دوسرے سے اپنے بال سنبھالی بیڈ پر بیٹھی تھی. .. دل توکامپ رہا تھا اندر سےمگر سامنے کمزور بھی تو نہیں پڑہنا تھا … جبھی خود کو نارمل ہی رکھا تھا. …
ہمممم. … ایک بات کلئیر کردوں. ..تم راج کی قید ہو ..مائے پرنسز. …. تم پر بھی راج کا راج ہے. .. تو ایک بات تو بھول جاؤ. .جو کبھی تم ادھر سے میری مرضی کے بغیر. جاسکتی ہو. …. اور میری مرضی ایسی ہو نہیں سکتی. ..اس لئے یہاں سے جانے کا تو سوچنا ہی چھوڑ دو. ..راج اسکے پاس آتا بیڈ پر اسکے قریب بیٹھتا بلکل سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا. ….اسکے قریب آتے ہی وہ دور ہوئی تھی. .جو راج کو محسوس تو ہوا تھا. .مگر وہ اگنور کرگیا تھا. ….
نہیں کروں گی نکاح کہہ دیا تو کہہ دیا. .. وہ بھی ضدی لہجے میں بولی تھی. .یہاں سے تواسنے سوچ لیا تھا کہ وہ بھاگ جائے گی. .مگر اگر وہ نکاح کرلے گی تو پھر مشکل ہوسکتا تھا. ..اور وہ تو ہر قیمت پر اس سے دور جانا چاہتی تھی. ..
اوووو. ..تو تم نہیں کررہی نکاح. .. ٹھیک ہے. .مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے. .. راج نے نبا اسے دیکھے کہا. .
اسکے اتنے جلدی مان جانے پر وہ حیران تو ہوئی مگر یہ حیرت بھی راج نے جلدی ہی ختم کردی. …
مگر تمہیں آج سے ہی میرے روم میں. .میرے ساتھ رہنا ہے. .. اب تم پر ہے. .نکاح کرنا چاہو تو. .. مجھے لگا مسلمان ہو تو نکاح کے بغیر نہیں رہو گی مگر خیر مرضی تمہاری. ..اطمینان اب بھی قابل دید تھا. ..وہ اسے دیکھنے سے گریز ہی کررہا تھا. ..نہیں چاہتا تھا تها. .کچھ بھی غلط کردے جبھی سامنے دیکھے جارہا تھا. .جیسے کوئی بہت ضروری چیز دیکھ رہا ہو. .
ت تو کیا تم مسلمان بھی نہیں ہو. .. الیانہ نے گلہ تر کرتے ہوئے کہا. .. اسکی تو یہ سوچ سوچ پر جان ہوا ہورہی تھی کہ نکاح کے بغیر. .اسکے ساتھ رہ لے. . دوسرا جو بڑے آرام سے اسے مسلمان کہہ دیا. .تو خود کون تها پھر. ..اسے تو پہلے بھی وہ گرین مونسٹر کوئی مشقوق ہی لگ رہا تھا. ….
تم تیار ہوجانا. .نہیں تو مجھے مسئلہ نہیں ہے بنا نکاح کے تمہیں اپنے پاس رکھنے میں. ..بنا اسکے سوال کا جواب دئے اپنی کہہ کر باہر نکل گیا تھا. ..
یہ. …بنا کر کیوں نہیں گیا. …. اب کیا کروں گی. … مجھے نہیں کرنا اس سے نکاح. .پتا نہیں کون ہے. .کیا ہے. .میں کیسے اس گرین مونسٹر سے نکاح کرسکتی. .. اوپر سے اسے ساتھ اسکے روم میں …ن نہیں. .. وہ اسکے جاتے ہی سوچتے سوچتے خود ہی ڈر گئی تھی. ..
نہیں. .ورنہ تو مجھے نکاح کے اس کے ساتھ رہنا پڑے گا. ..یا اللہ. .کدھر جاؤں میں. .کدھر پهس گئی. . وہ خود ہی سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی. …..
نکاح تو کرنا پڑے گا. ..ہاں بھی کر لیتی ہوں. .ادھر سے بھاگ کر ڈیڈ کے پاس چلی جاؤں گی. ..پھر خلہ لے لوں گی. .. وہ اس لال فراک کو دیکھتی سوچ رہی تھی. .
اگلا سوال تھا،،،،،، کہ میری نیند کیا ہوئى ،؟
بولی،،،،. تمہاری آنکھ میں سپنے نہیں رہے
پوچھا، کہاں گئے میرے یاران خوش خصال،؟
کہنے لگی کہ،،،، وہ بھی تمہارے نہیں رہے
■■■■■
پوچھا کرو گی کیا،؟ جو کبھی میں نہیں رہا
بولی،،، یہاں تو تم سے بھی اچھے نہیں رہے
آخر وہ پھٹ پڑی کہ سنو،،،،،،، اب میرے سوال
کیا سچ نہیں کہ تم بھی کسی کے نہیں رہے،؟
Past. …..
ڈیڈڈڈڈڈڈڈڈ. .10 سال کا بچا خوف سے چلا رہا تھا. ..مگر اسے سامنے کھڑی تقریباً 5 سال کی گرین آنکھوں والی خوبصورت سی بچی ایک ہاتھ منہ پر ہاتھ رکھے دوسرے سے ہولڈر میں مرا ہوا چاہا اسے دیکھا کر ڈرا رہی تھی. ..ساتھ ساتھ اسے آنکھیں دیکھا کر چپ ہونے کا بھی کہہ رہی تھی. .کہ کہیں کوئی آنا جائے. .
دیکھو. .مانی. .. میں. اپنی ساری چاکلیٹس تمہیں دے دوں گا پلیز اسے پیچھے کرو. .. پلیز. .م مجھے ڈر لگ رہا ہے. .. اس کالی آنکھوں والے بچے نے ایک ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے صلہ آمیز لہجے میں کہا تھا. …..
اوکے مگر تم مجھے باہر لے کر جاو گے. .تن ورنہ میں یہ چوہا تمہاری شرٹ میں ڈال دوں گی. ..ایمان عرف مانی نے بھی اس پر ترس کھاتے ہوئے کہا. ..
لیکن تم باہر کیوں جاو گی. . آریان نے ایک منٹ چوہے کو بھول کر فکرمندی سے پوچھا تھا. ..جانتا تھا کہ موم ڈیڈ کو پتا چل گیا تھا. بہت برا ہونا ہے. …
نہیں پتا چلے گا. ..بس مجھے لے جانا. .مجھے ڈیڈ کی طرح ایک بری سی گن لینی ہے. .تاکہ تم جب مجھے تنگ کرو تو تمہیں شوٹ کرسکو. .مانی نے ہاتھ سے چوہا دور پھینکتے ہوئے. .اسکے ساتھ زمین پر بیٹھ کر بلکل تحمل سے اسکا سکون غارت کیا تها. ..وہ حیرت سے اپنی چھوٹی سی بہن کو دیکھ رہا تھا. .جو ابھی سکول جانا شروع ہوئی تھی. ..مگر کام …
یہاں کیا ہورہا ہے. .ابھی وہ کچھ کہتا کہ دو اور بچے آئے تھے. .دونوں کی آنکھیں بلکل ایمان کی طرح گرین تھی. .. ایک تو تقریباً آریان جیسا ہی لگ رہا تھا سوائے آنکھوں کے. .جبکہ دوسرا بھی ان سے ہی مشابہت رکھتا تھا. …
عادی. … دیکھو یہ پاگل ہوگئی ہے. .اسے گن چائے ہے. .کہہ رہی ہے کہ مجھے لے کر جاو اور گن لے کر دو. . اور اس نے مجھے چوہے سے بھی ڈرایا ہے. … آریان اپنے جیسے دوسرے بچے کو دیکھتا جلدی سے اسکے پاس جاتا رٹو طوطے کی طرح شروع ہوگیا تھا. .کچھ دیر پہلے والا خوف کہیں نہیں تها. ..
مانی یہ کیا کہہ رہا ہے. . آدی نے اب ایمان کو دیکھتے ہوئے قدرے سخت آواز میں کہا تھا. .جانتا تھا کہ اثر تو نہیں ہونا مگر پھر بھی آریان کی خاطر اسے ڈانٹ رہا تھا. ..
جھوٹا ہے یہ. ..میں نے کچھ نہیں کیا. .بلکہ اس نے کیا. .. اسنے مجھے چوہے سے ڈرایا. .. اور گن. ..ہاں گن کا بھی اسنے ہی کہا. … اسے گن چاہئے تھی. .. ایمان نے بهائی وہ غصے میں دیکھ کر ہمیشہ کی طرح آج بھی سارا الزام ہی بیچارے آریان پر لگا دیا تھا. …
آدی اور منان نے تاسف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تها جیسے کہنا چاہ رہے ہوں. .اس کا کچھ نہیں ہونا. . وہ تھی بھی تو ان تینوں کی چھوٹی اکلوتی بہن. .. اسے تو وہ کچھ کہہ نہیں سکتے تھے. …
تمہارا میں موم کو بتاؤں گا دیکھنا. .کیسی مار پڑتی ہے. .پھر تب سوری بھی نا کہنا. …آریان نے جب دونوں بھائیوں کو خاموش دیکھا تو غصے میں کہتا اندر بهاگ گیا تھا. .مگر اس سے پہلے ایمان نے ساتھ ٹیبل پر رکھا انٹیک پیس اٹھا کر اسکی طرف پھینکا تھا. .. مگر وہ تب تک بهاگ گیا تھا. ..
مانی کیوں تنگ کرتی ہو اسے. .منان نے اس کے جاتے ہی ایمان کو نرمی سے کہا تھا. ..
مجھے گن چاہئے بس. .. وہ منہ پهلائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے صوفے پر بیٹھ گئی تھی. .. نچلا ہونٹ بار بار باہر آرہا تها. .. جس سے وہ جان گئے تھے کہ اب اس کا رونا کا شو شروع ہونے والا ہے. .اور وہ تب تک رہئے گا جب تک اپنی منوا نا لے. …..
وہ دونوں بھی سر پکڑ کر اس کے سامنے فرش پر بیٹھ گئے تھے. …
مگر ایمان روتی ہوئی باہر بهاگ گئی تھی. .. اسکے جاتے ہی منان اور آدیان کھڑے ہوگئے تھے. .. آدیان کا رخ اندر کی طرف تها جہاں آریان خفا ہوکر گیا تھا. . اور منان کا باہر کی طرف جہاں اسکی لاڈلی خفا ہو کر گئی تھی. ..
یہ تو روز کی بات تھی. ..ان دونوں کا دن ہی آریان اور ایمان کو منا منا کر ہوتا تها. ..
بائے چانس کبھی ان دونوں کی لڑائی نا ہوتو … ایک کمی سی رہتی تھی. .. یہ اکثر تب ہوتا جب یا تو ایمان بیمار ہوتی یا پھر اپنے چاچو اور آنی کے گھر گئی ہوتی. .اور ایسے دن کم ہی آتے تھے. ..
اب وہ دونوں ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اندر باہر چلے گئے تھے. ..
گو آج تک دیا نہیں،،،،،، تم نے مجھے فریب
پر یہ بھی سچ ہے تم کبھی میرے نہیں رہے
اب مدتوں کے بعد،،،،،، یہ آئے ہو دیکھنے
کتنے چراغ ہیں،،،،، ابھی کتنے نہیں رہے
■■■■
Past♥
میں نے کہا، مجھے تیری یادیں عزیز تھیں
ان کے سوا کبھی کہیں،، الجھے نہیں رہے
کیا یہ بہت نہیں کہ،،،، تیری یاد کے چراغ
اتنے جلے کہ مجھ میں، اندھیرے نہیں رہے
احمد مرزا اور زینب احمد کے دو بیٹے تھے. .. بڑا بیٹا. . ہائیشم مرزا. .. اس سے دو سال چھوٹا فیض مرزا. … وہ شادی کے بعد ہی اپنے والدین کی وفات کے بعد جاپان آگئے تھے. ادھر ہزنس بھی شروع کردیا تھا. .. اور ہائیشم اور فیض کی پیدایش بھی جاپان کی ہی تھی. . . ان دونوں کی شادی انہوں نے ان کی پسند سے ہی کی تھی. …
ہما اور فیاض کی دو بیٹیاں تھیں. .. بڑی عائشہ اور چھوٹی عالیہ. … وہ بھی شادی کے کچھ سال بعد. .خبر دنوں بیٹاں ہوگئی تو جاپان آگئے تھے. … ادھر ہی پهر. .. عائشہ اور ہائیشم کی پسند کی شادی ہوئی تھی. …
شادی میں ہی زینب کو عالیہ بھی بہت پسند آئی تھی. .جبھی اسنے لگے ہاتھوں اسکو بھی اپنی بہو بنا کر اپنے گھر لے آئی. … ہما اور فیاض تو بہت خوش ہوگئے تھے اپنی بیٹیوں کو خوش دیکھ کر. ..
پهر دو سال بعد عائشہ نے دو جڑواں بچوں کو جہنم یا تها. ..چونکہ ہائیشم کی آنکھیں گرین بھی تبھی اسکے ایک بیٹے کی آنکھیں بی گرین بھی جبکہ دوسرے کی بلیک. … ایک کا نام آدیان اور دوسرے کا نام آریان رکھا تھا. .. آدیان جتنا نڈر تها آریان اتنا ہی ڈرپوک طبیعت کا مالک تھا. …. پهر ایک سال بعد عالیہ نے بھی ایک بیٹے تو جہنم دیا. جس کا نام انہوں نے وائز رکھا تھا. .. وائز کی پیدائش پر ہی ڈاکٹرز نے انہیں صاف کہہ دیا تھا کہ اور بچوں کی وجہ سے ان کی جان کو بھی نقصان ہوسکتا ہے. .جبھی انہوں نے وائز کو ہی اپنی زندگی بنا لیا. .. مزید ایک سال بعد عائشہ نے ایک اور بیٹے کو جنہم دیا تها. .. اس کا نام منان رکھا تها. .. .. پهر ایک حادثے میں احمد اور زینب موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے. .. خوشیوں بھرے گھر میں جیسے قیامت آگئی تھی. ..
ان کی موت کے ایک سال بعد ہائیشم نے گھر الگ کرنے کا کہہ دیا تھا. ..وہ اپنے بچوں کو لے کر دوسرے شہر جانا چاہتا تھا. .. فیض کے منع کرنے پر بھی وہ نہیں مانا تها. ..پهر کچھ عرصے میں ہی وہ nayago چلا گیا تھا. … ملنا جلنا تها. ..
ادھر ہائیشم نے اپنا بزنس شروع کیا. .. ساتھ ہی وہ اٹیلین مافیا کے ساتھ بھی مل گیا تھا. … آدونچرز کرنا اسکو شوق تها. .. وہ تو کچھ عرصے کے لیے ہی مافیا میں گیا تھا کہ جب دل بھر گیا تو چھوڑ دے گا. ..مگر پهر جبکہ اسکے پاس بہت سے راز تھے ..تو وہ لوگ اب اسے چھوڑ نہیں رہے تھے. ….
دو سال بعد پھر اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے نوازا تھا. .. جس پر وہ بے انتہا خوش ہوئے تھے. .. اور اسکا نام ایمان رکھا. …. تینوں بھائیوں کی بھی اس ننھی جان میں جان اٹکتی تھی. ….
، چونکہ ہائیشم مافیا میں تها. ..تو اسے پاس بہت سے چاقو پسٹلز. ..ہر طرح کے ہتھیار تھے. ..جو اس نے اپنے سیکرٹ روم میں رکھے ہوئے تھے. .. آدیان اور منان چهپ چهپ کر اس روم میں جاتے تھے. .. نیٹ پر بھی انہیں استعمال کرنے کا طریقہ دیکھتے رہتے تھے. .. پهر ایمان بڑی ہوتی گئی. .ایک دن ویسے ہی وہ منان کو ڈھونڈتے ہوئے اس روم تک آگئی تی جب وہ چار سال سے کچھ مہینے بڑی تھی. .. وہاں آکر اسنے دیکھا تها کے منان اور آدیان اپنا نشانہ ٹھیک کررہے تھے. … ایک بوتل سامنے رکھے وہ اسکا نشانہ لے رہے تھے. …. کیونکہ رومز ساونڈ پروف تھے تو انہیں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا تھا. .. جانے سے پہلے روم کو پہلے کی طرح ہی سیٹ کر دیتے تھے. ….
اس کے بعد ایمان نے روز ہی تقریباً ان کو چهپ چهپ کو دیکھنا شروع کردیا. .ہر وقت ان کی دم چهلی بنی رہتی تھی. .. آریان تو ان سب سے ڈرتا ہی بہت تها… اسی وجہ سے وہ اکثر ایمان کی شرارتوں کے نظر بھی ہوتا رہتا تھا. .. اس کے ڈرنے کی وجہ سے ہی ایمان اس سے چرتی تھی. . اور اس لئے بھی کہ. . ان تینوں بہن بھائیوں کو گرین آنکھیں تھی مگر آریان کی بلیک کیوں ہیں. .. اس وجہ سے وہ اکثر اس کی آنکھوں میں مٹی نمک سرخ مرچیں. . جو بھی جب بھی موقع ملتا ڈل دیتی تھی. .. پهر آریان کی چیخوں سے پورا ہائیشم ویلا ہلتا تها. .. مگر خیر ہو ایمان کی اس سے ساتھ خود بھی رونے لگتی تھی. .. کہ پہلے آریان نے مجھے مارا. .جبھی ہمیشہ بچ جاتی تھی. …….
اب جب کہ چاروں بچے بڑے ہوگئے تھے تو ہائیشم کو اب انہیں لے کر ڈر لگتا تھا کہ کہیں کوئی اس سے دشمنی ان پر نا نکال لے
جبھی اسنے مافیا کو خیر باد کہتے ہی اپنی فیملی کو لے کر راتوں رات انڈر گراؤنڈ ہوگیا تھا کچھ عرصے کے لیے. …..
مزید ایک سال تک تو سب ٹھیک تھا. … مگر پهر ایک دن. .. بینڈرک کو کے مافیا کنگ تها. ..اسے ہائیشم کا پتا مل ہی گیا تھا. اور وہ ان تک پہنچ چکا تھا. … تب آریان اور آدیان 13 سال منان 11 اور ایمان تقریباً 6 سال کی ہونے والی تھی. ….
کہنے لگی، تسلیاں کیوں دے رہے ہو تم،؟؟
کیا اب تمہاری جیب میں وعدے نہیں رہے،؟
بہلا نہ پائیں گے یہ کھلونے حروف کے
تم جانتے ہو،،، ہم کوئی بچے نہیں رہے
آ کر کریدتے ہو تم،،،، اس ڈھیر کو جہاں
بس راکھ رہ گئی ہے شرارے نہیں رہے
■■■■■
پوچھا تمہیں کبھی نہی آیا میرا خیال
کیا تم کو یاد،، یار،،،،، پرانے نہیں رہے
کہنے لگی،،،،،، میں ڈھونڈتی تیرا پتہ مگر
جن پر نشاں لگے تھے، وہ نقشے نہیں رہے
تیرے بغیر شہر سخن،،،،،،، سنگ ہو گیا
ہونٹوں پہ اب وہ ریشمی لہجے نہیں رہے
جن سے اتر کے آتی،،، دبے پاؤں تیری یاد
خوابوں میں بھی وہ کاسنی زینے نہیں رہے
Past♥
آج ایمان کی چھٹی سالگرہ تھی. … ہائیشم نے اب nayago میں اپنا گھر بنا لیا تھا. .یہاں آئے انہیں ایک سال سے زیادہ ہوگیا تھا. … اس سارے عرصے میں منان اور آدیان کے ساتھ ساتھ ایمان بھی اب پسٹل چلانا جان گئی. تھی. .. ان دونوں دھمکی دے کر کے اسے بھی سکھایا جائے نہیں تو وہ ڈیڈ کو بتا دے گی مجبوراً انہیں ایمان کو بھی اب اپنے ساتھ رکھنا پڑا تھا. … آریان کو پتا تو تھا. .وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا. .مگر وہ پسٹل پکڑنے سے بھی ڈرتا تھا. . اسلئے بس دیکھتا رہتا تھا انہیں. .. اب ایمان نے بھی اسے معاف کردیا تھا کیونکہ ان کو ان کا سیکرٹ جانتا تھا. …
..کچھ عرصے وہ دنیا سے چھپا ہی رہا مگر بنڈرک نے اسے ڈھونڈ ہی لیا تھا. …. اب اپنی پورے گینگ کے ساتھ وہ خود اسے ختم کرنے آیا تھا. .. وہ یہ تو جانتا تھا کہ اس نے شادی کی ہوئی ہے مگر کوئی اولاد یا کتنے بچے ہیں یہ وہ نہیں جان سکا تھا. ..
بے بی پنک فیری فراک پہنے ایمان تیار تھی. . تینوں بھائیوں نے بھی سکائے بلو تهری پیس پہنا تھا. … انہوں نے کسی کو انوائیٹ نہیں کیا تھا وجہ. .. ہائیشم نہیں چاہتا تھا کہ کہیں سے بھی کوئی خبر باہر جائے. .. فیض اور عالیہ کو بھی نہیں بلایا تھا. ..ان کا خیال تھا کہ کچھ دن بعد وہ خود ادھر چلیں جائیں گے ….تب دوبارہ سے اسکی سالگرہ منا لیں گے. .. مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا. …
ایمان نے کیک کاٹ کر پہلے عائشہ پهر ہائیشم کے بعد تینوں بھائیوں کو بھی کھلایا تھا. … ابھی وہ لوگ ڈنر کررہے تھے کہ باہر سے فائرنگ کی آواز آئی تھی. .جیسے سنتے ہی ہائیشم نے عائشہ سے ان چاروں کو اندر لے کر جانے کا کہا خود باہر دیکھنے گیا تھا. ..
جاتے جاتے وہ دروازے کے پاس رک کر واپس مڑا تھا. .. چاروں بچوں کو پیار کرتے اس نے عائشہ کی طرح دیکھا تھا. .. جو روتی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی. …
میری بات سنو بیٹا. .. اپنی موم اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنا اگر میں واپس نا آیا بلکہ تم ان سب کو لے کر یہاں سے چلے جانا. …. میری بیٹی ایمان کا بہت خیال رکھنا. … وہ تم تینوں کی بہن ہے ..تم تینوں کی زمہ داری. .. اسکا ہرحال میں خیال رکھنا. … اسنے راجر کی طرف مڑ کر کہا تھا. .. جو باہر جانے کا سوچ رہا تھا. .مگر باپ کی بات سن کر اسنے. اپنے بہن بھائیوں کو دیکھا تھا. . آریان تو آریان اس وقت ایمان اور منان بھی ڈرے ہوئے لگ رہے تھے. … اس نے سر جھکا لیا تھا. ..باہر نکل کر دیکھے کی سوچ کی ترک کردی تھی. …
میں جا کر دیکھتا ہوں تم انہیں لے جاؤ. .. اسنے عائشہ کے سر پر عقیدت محبت بھرا لمس چھوڑ کر کہا تھا. .. .
عائشہ چاروں کو لے کر اندر کی طرف مڑی تھی. ..تب ہی لائونچ کا دروازہ کھلا اور اندھا دھند فائرنگ شروع ہوچکی تھی. ..
وہ پانچویں ایک ساتھ مڑے تھے. .. ہائیشم کو گولیوں سے چھلنی ہوتا دیکھا تھا. .. تب ہی عائشہ جلدی جلدی ان چاروں کو لے کر بیک ڈور سے نکل گئی تھی. … اندر ہر جگہ بینڈرک کے بندے عائشہ کو ڈھونڈ رہے تھے. .. وہ جانتے تھے. .اسکی شادی ہوئی ہے. … مگر وہاں کوئی ہوتا تو ملتا. ….
عائشہ سیکرٹ ڈور سے نکل گئی تھی. .سامنے ہی گارڈر تھے. ..جن میں سے آدھے ان کی طرف بھاگ کر آئے تھے. . اور انہیں گاڑی میں بیٹھایا تھا. ..
جبکہ باقی سے سارے اندر بھاگے تھے. .کیونکہ ان کا باس تو اندر ہی تھا. … اندر ایک دفعہ پھر لڑائی شروع ہوئی تھی. .. کچھ وفاداروں نے نظر بچا کر ہائیشم کو وہاں سے اٹھا لیا تھا. .. جو اپنی آخری سانس لے چکا تھا. ….
بینڈرک کے کئی بندے مارے گئے تھے. ..مگر وہ بچ کر نکل گیا تھا. … اسکے ساتھ دوسرے گینگ کے لوگ بھی تھے. .. جن سے سے کوئی تو مر گئے باقی کے اپنا کام کر کے نکل گئے تھے. …
تھوڑی دیر پہلے جہان قہقہے گونج رہے تھے. ..اب ادھر مکمل خاموشی چھا گئی تھی. .تھوڑی تھوڑی دیر بعد کہیں سے کسی کی کہرانے کی آواز آتی تھی. .کائی مدد تو کوئی پانی مانگ رہا تھا. ..کوئی خوش قسمت کلمہ پڑھ رہے تھے. …
کچھ ہی دیر میں وہ آوازیں بھی آنا بند ہوگئی. …ہائیشم کے گارڈ تو بینڈرک کے نکلتے ہی کچھ ہاسپٹل اور کائی ان کا پیچھا کرنے نکل گئے تھے. .کیونکہ جانتے تھے کہ بچے اور عائشہ بحفاظت نکل گئے تھے. .. ہائیشم کے ایک شوق…. ایک بیوقوفی نے اس سے اسکی زندگی چهین لی تھی. .ساتھ ہی اسکے بچوں کو یتیم اور اسکی محبوب بیوی کو بیوہ کردیا تھا. ……
میں نے کہا، جو ہو سکے کرنا ہمیں معاف
تم جیسا چاہتی تھی، ہم ویسے نہیں رہے
ہم عشق کے گدا تیرے در تک تو آ گئے
لیکن ہمارے ہاتھ میں کاسے نہیں رہے
■■■■■■■■
Past♥♥
عائشہ کو ان کے گارڈز ان کے پرانے ہائیشم ویلا کے آئے تھے. .. وقت پر لگا کر گزر تو گیا تھا.. چونکہ ان پانچوں نے ہائیشم کو مرتے دیکھا تھا. .تب ہی وہ سب خاموش سے ہوکر رہ گئے تھے. …. عائیسہ نے ان چاروں کو ادھر ہی سکول میں داخلہ کروا دیا تھا. .وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان کی وجہ سے عالیہ کی فیملی پر کوئی اثر پڑے جبھی اسنے اسے بھی رابطہ نہیں کیا تها. .. پیسوں کی تو کوئی کمی تی تھی نہیں. .. ہائیشم کا بزنس ان کا میجر ہی سنبھال رہا تھا. …عالیہ اور فیض کو پتا تو سب چل گیا تھا مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کدهر گئی. .کیونکہ انہیں یہی پتا تھا کہ انہوں نے ہائیشم ویلا تو پہلے کا ہی سیل کردیا ہے، .تب ہی کسی کا خیال اسکی طرف گیا ہی نہیں. ….
مگر شاید ابھی اور امتحان باقی تھے جبھی ایک دن سکول سے واپسی پر کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا. .. گاڑی بری طرح متاثر ہوئی تھی ڈرائیور تو موقع پر مر چکا تھا. .. آریان منان اور آدیان کو گاڑی سے نکل گئے مگر ایمان کا فراک کہیں پهس گیا تھا جس کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکل سک رہی تھی. . آریان اسے نکالنے کے لیے اندر گیا تھا. .ایمان کو باہر نکالنے کے بعد وہ خود بھی باہر نکل رہا تھا. .مگر عین اسی وقت ایک دھماکہ ہوا تھا. .اب اس گاڑی بجائے وہاں آگ تھی. ..
وہ تینوں بڑی بہت زخمی ہوگئے تھے. .. اور بہوش ہوگئے تھے. … آریان اور ڈرائیور آگ میں ہی جل گئے تھے. … اب وہاں لوگوں کا کافی ہجوم بن گیا تھا. …. کسی نے ان تینوں کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال منتقل کیا تھا. ….
دو موتوں کی تصدیق ہوگئی تھی. …..
ایک خبر سنتے ہی عائشہ کو ایک دفعہ پھر ٹوٹ گئی تھی. … مگر اسے یہی بتایا گیا تھا کہ اس کے بچے بچے گئے ہیں. ..
مگر ہاسپٹل پہنچ کر جب اسے پتا چلا کہ آریان مڑ گیا ہے اور تینوں بچوں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے. … اور تینوں آئی سی یو میں ہیں. .. شاید اتنی ہی ہمت تھی اس میں جبھی اسے میجر ہائیٹ اٹیک ہوا تھا. ..کچھ دیر بعد ڈاکٹرز نے اسکی موت کی بھی تصدیق کردی تھی. …
آدیان کو بس سے پہلے ہوش آیا تھا. .. تین دن بعد. …
تب اسے پتا چلا تھا کہ کیا قیامت ٹوٹی تھی ان پر. …. فیض وائز اور عالیہ آگئے تھے. .نیوز میں ہی انہوں نے سنا تھا کہ اور بچوں کی تصاویر دیکھ کر پہلے تو وہ کافی شاک ہوگئے مگر پهر پہلی فرصت میں ادھر پہنچے تھے مگر. وہ لیٹ ہوگئے تھے. … تب تک عائشہ بھی جا چکی تھی. … انہیں تو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا تھا. …..
پولیس نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے. .کیونکہ گاڑی کی بریکس کٹ دی تھی. …
آدیان کے بعد ان دنوں کو بھی ہوش آچکا تھا. …. تینوں اور خاموش ہوگئے تھے. …کچھ دن مزید ہاسپٹل رہنے کے بعد عالیہ اور فیض ان تینوں کو اپنے ساتھ osaka لے آئے تھے….
ساتھ ساتھ. فیض نے کافی کوشش کے بعد پتا کروا ہی لیا تھا کہ یہ سب کس نے کیا ہے. … جو باتیں انہیں ہائیشم کے بارے میں پتا چلی تھی. .. وہ بہت خفا ہوئے تھے یہ جان کہ ان کا بهائی مافیا کے ساتھ ملا تها. … جانے کتنوں کی جان لی تھی. …
فیض نے جب گھر میں سب کو بتایا تها کے ی سب کس نے کیا ہے. .. کچھ انفارمیشن کے علاوہ کچھ تصویریں بھی تھی. .جنہیں دیکھ کر ایک دفعہ پھر وہ تین معصوم نفوس چونک گئے تھے. …غصہ، نفرت. .. دکھ. … بدلہ جانے ایک ہی لمحے میں کتنے احسان ان تینوں میں بیقوت جاگے تھے. …. عالیہ اور فیض یہ تو نہیں جانتے تھے کہ ہائیشم کو بھی بینڈرک نے ہی مارا تها. .. وہ تو یہی سمجھ رہے تھے کہ آریان کی موت کی وجہ وہ تها. ..
مگر آدیان. .منان اور ایمان جانتے تھے کہ اس کی وجہ سے ہی ہائیشم عائشہ اور آریان مرا تها. … نفرت. .بدلے کی آگ ان میں لگ گئی تھی. ….
کچھ دن مزید ادھر رہنے کے بعد وہ دونوں. .. آدیان اور منان وہاں سے نکل گئے تھے. ..ایمان کو وہ ادھر ہی چھوڑ آئے تھے. ..عالیہ اور فیض نے انہیں سختی سے منع کیا تھا. ..نتیجتاً وہ دونوں رات کی تاریکی میں بهاگ گئے تھے. … مگر جانے سے پہلے وہ ایمان سے ملے تھے. .اسے منا کر. .یہ بھی سمجھا دیا تها کے وہ ملتے رہیں گے مگر وہ بتائے کسی کو نا. .. وہ پہلے وہ ضد کرتی رہی کہ ساتھ جائے گی. .مگر انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر وہ ساتھ گئی تو وہ بندے ان دونوں بھی مار سکتا ہے. .. آخر وہ مان ہی گئی تھی. .. اور وہ دونوں اس سے ملتے چلے گئے تھے. …..
فیض اور عالیہ نے ایمان کا نام اسکی مرضی سے چینج کردیا تها. کیونکہ آدیان نے اسنے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی پہچان بدل دے. .کیونکہ بینڈرک اور دوسرے گینگز عالیہ اور فیض کے بارے میں نہیں جانتے تھے. .مگر وہ ان تینوں کے بارے میں توجانتے تھے. … اسی لیے ایمان نے اپنا نام آدیان کی مرضی سے یہ کہہ کر کہ ہیر نام اسےپسند ہے. رکھ دیا. .. اور پهر وہ ایمان ہائیشم سے ہیر مرزا بن گئی تھی. …..
ایک خواہش تھی اس سے ملنے کی
پھر وہ خواہش بھی مار دی میں نے
پوچھتے کیا ہو زندگی کا
مجھ پہ گزری ، گزار دی میں نے۔۔۔۔
■■■■■
Past♥
وقت پر لگا کر اڑ گیا. .. اب آدیان 23. .منان 21 اور ہیر19 سال کے ہوگئے. .. اس سب وقت میں آدیان اور منان نے بینڈرک کے بارے میں سب پتا کروا چکے تھے. ..
وہ عالیہ کے گھر سے نکل کر سیدھا ارجن جو میجر تها. ..اسے پہلے ہی سب بتایا ہوا تها. .اس سے اپنے مالک کے بچوں کا جخیال اپنے بچوں کی طرح ہی رکھا. .کچھ عرصہ تو وہ ادھر اسکے گھر ہی رہے… ارجن کے گھر صرف اسکی بیوی رنجنا ہی تھے. …
تین سال وہ اس کے گھر رہے تھے. .. اس سب میں ایک ویران جنگل جو آبادی سے تھوڑا ہٹ کر تها. .. وہاں ہی ایک بہت بڑا محل نما ویلا بنایا تها. … اور ان تین سالوں میں وہ ہیر سے بھی ملتے تھے. …
تین سال بعد وہ اپنے ویلا آگئے تھے. .. اب وہ ہر طرح کے اتهیار استعمال کر سکتے تھے. …. احسان نام کی چیز وہ دونوں ہی بھول گئے تھے. … جنگلی جانوروں کو مار مار کر تقریباً ختم ہی کردیا تھا. …
مگر تب آدیان 16 سال کا تها. .. وہ تب بھی کچھ نہیں کرسکتا تها بینڈرک کا. ..
23 سال کا ہوتے ہی اس اور منان نے مل کر بینڈرک کے کافی ساتھی مار دئے تھے. .. وہ ہیر کو اس بات سے انجان ہی رکھنا چاہتے تھے. .. ہیر دوستوں کا کہ کر ان سے سات رہنے آتی تھی. … جس میں اسکی ضد کی وجہ سے اسے بھی کئی اتهیار. .. استعمال کرنا سیکھا دیا تها. .. کراٹے بی اسنے سیکھے تھے. .. اپنے ماں باپ بهائی کے قاتل تو وہ بھی جانتی تھی. .. مگر کبھی کہا کچھ نہیں کہا. .جس کی وجہ سے انہیں لگا تها کے وہ بھول گئی تھی. ..
مگر ایک دفعہ اسے وکٹر سے باتوں باتوں میں پتا چل گیا تھا کہ وہ آج کل کیا کرتے پهر رہے ہیں. .. پهر کافی بیک میل ضد کرتے کے بعد وہ بھی ان کے ساتھ مل گئی تھی. .. آدیان کا نام راجر. .. منان کا راج اور ہیر کا ریا بن گیا تھا. .. ان تینوں کے گینگ کا نام بلیک ویل تها. …
ان تینوں نے مل کر بینڈرک کے کافی ساتھی مار دئے تھے جو اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے. … اس کے علاوہ بھی وہ کافی کالے دهندے کرنے والوں کو مار دیا تها. ..کیونکہ بینڈرک اور اسکے ستهی بھی ہائیشم کی طرف کامیاب بزنس مین. .. تھے. .تو ان کی موت .. آگے پیچھے بہت سے بڑے لوگوں کا قتل. .جو کافی برے طریقے سے کیا جاتا تھا. .. کہ. بندہ ڈی این اے کے بعد ہی پہچانا جانا مشکل تها. …
ہر طرف ایک خوف پھیل گیا تھا. …. اب بلیک ویل گینگ. …جن میں تین گرین آئیڈ لوگ تھے. .. ان سے لوگ ڈرنے لگے تھے. … کافی لوگ جنہیں ان تینوں نے مارا تها وہ مختلف ممالک سے تھے. .. بڑے بڑے لوگ ہونے کی وجہ سے پولیس پر پریشر تها. .. اب راج راجر ریا. . موسٹ وانٹڈ کرئیمنلز بن گئے. . جاپان. .. امریکہ. .اٹلی ترکی فرانس. .. جیسے بڑے بڑے ممالک ان تینوں کو ڈھونڈ رہے تھے. .. مگر ان کے مال راجر راج ریا. .اور ان کی گرین آنکھوں کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتے تھے. .. پهر تو ہر ان کے کلر کی آنکھوں والو کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا تها. ……..
وہاں عالیہ وائز فیض یہی جانتے تھے کہ وہ اپنے بھائیوں کو بھول گئی تھی. … آدیان منان کے جانے کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے تھے. .. سال میں ایک دفعہ بار ہی پی سی او سے کال کر کے وہ اپنی خیریت کے بارے میں بتا دیتے تھے. .انہوں نے بی یہی ظاہر کیا تها کے ہیر ان سے نہیں ملتی. .. اور یہ بھی کہ وہ ابی اس سے ملنا بھی نہیں چاہتے. … وہ دونوں صرف کچھ منٹ وائز سہی بات کرتے تھے. .. عالیہ اور فیض سے ان کے کہنے پر بھی کبھی بات نہیں کی جانتے تھے کہ واپس آنے کا کہیں گے. ..جبھی وہ صرف وائز سے ہی بات کرتے تھے. ……
جابجا دل لگانے سے کہاں بهولے گا
وہ شخص بهولنے سے کہاں بهولے گا.
ہاں کئی دن سے وہ یاد بھی نہیں آیا
مگر فقط یاد نا آنے سے وہ کہاں بهولے گا
■■■■■■■
‏دس پیرا_ میڈے مونڈھیاں تے
میڈے یار دِی چادر کد چڑھ سی؟
میں دھاگے
بَنھ بَنھ تھک گئی ہاں
مَیکوں دَھاگیاں والا_
کَد لَبھ سی؟۔
گاڑی ایک جھٹکے سے ریسٹورنٹ کے سامنے رکی تھی. .. فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر راجر باہر نکلا تها. .. بلیک چیکس والے شرٹ جس کے اوپری تین بٹن کهلے تھے. .. چوڑے سینے پر کچھ کاسٹس نظر آرہے تھے. … بلیک جینز پہنے. .. بالوں میں پونی کئے. .. ایک ہاتھ سے گاگلز اتار کر وہ باہر نکل کر بونٹ کے پاس کھڑا ہوگیا تها. .. ایک نظر کلائی پر پہنی مہنگی گهڑی میں ٹائم دیکھتا دوبارہ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کی طرف مڑا تها. ….
وہ دن ہوگئے تھے نینا سے ملے. .. وہ تو جیسے اس کے اعصاب پر سوار ہو کر رہ گئی تھی. .. نا چانے کے باوجود بھی وہ ابھی ادھر کھڑا نینا کا ویٹ کررہا تها. ..
اس کے آنے کا وقت تو ہوگیا تھا مگر وہ تھی کہ آ ہی نہیں رہی تھی. ….
کچھ دیر اور انتظار کرنے کے بعد وہ اسے نظر آ ہی گئی تھی. …
ٹی پینک آف بلائوزر شرٹ. .. وائیٹ فلیپر پہنے. .. ایک کندھے پر پرس پہنے دوسرے سے اپنے کهلے بالوں کا پیچھے کرتی وہ باہر نکلی تھی. …
مگر سامنے کھڑے راجر کو دیکھ کر پہلے تو خوش ہوئی مگر کچھ یاد آتے ہی چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے. … وہ اب بھی ادھر ہی کھڑی راجر کو دیکھ رہی تھی جو ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا. ….
پلیزز. .. ہوش تو تب آیا تها جب ایک لیڈی نے اسے راستے سے ہٹنے کا کہا تها. ..
سوری کرتی وہ راجر کو اگنور کرتی آگے بڑھ گئی تھی. ..
گاڑی میں بیٹهوو. ..اسے خود کو اگنور کر کے جاتا دیکھ کر با مشکل غصہ ضبط کرتا اسکا بازو پکڑ کر بولا تھا. ..
مجھے نہیں بیٹھنا. . میں چلی جاؤں گی. .. نینا نے ایک نظر اس کے اپنے بازو پکڑے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے کہا. . اس کے چھونے پر دل کی دھڑکنیں اتھل پهتل ہوئی تھی. …
گاڑی میں بیٹهوو ورنہ اٹھا کر بیٹھاوں گا. ..راجر گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا تھا. .. دل تو کررہا تها ایک لگائے جو ڈرامہ لگا رہی تھی. .مگر ضبط کرگیا. .
کہا نا. .نہیں بیٹهن. …..
چھوڑو مجھے اتروں مجھے بتیمیز، ….
ایک بار پھر نا سنتے راجر نے بنا کسی کی پروا کئے اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھر کر گاڑی میں بیٹھایا تها. ..
اسکو بیٹها کر غصہ دروازے پر نکالتے اسے زور سے بند کئے اس نے آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی. .اچھا خاصا موڈ کا تو وہ بیڑا غرق کر چکی تھی. ..
ایک دفعہ میں مان جایا کرو خود ہی. .. گاڑی پارکنگ سے نکالتا بنا اسکی طرف دیکھے کہا تها. .. اب تک وہ غصہ کنٹرول کر ہی چکا تها. ..
میں کیوں مانا کروں. .میں مانوں گی اتاروں مجھے بس. … وہ بھی ضدی لہجے میں گویاہوئ. .
اسکی بات سن کر راجر نے مین روڈ کے درمیان میں ہی گاڑی کو بریک لگایا تها. …
اب اگر ایک لفظ بھی بولا نا. .تو میں پهر اپنے طریقے سے چپ کروائوں گا جو تمہیں شاید ہی پسند آئے. .. اسکی طرف دیکھتا ایک ایک لفظ چپا کر بولا تها. . آخر میں نظر اسکے گلابی ہونٹوں پر ٹک سی گئی تھی. ……….
مصور هیں تاں من لینداں نظارے قید کر سگدائیں.
عجوبے کل زمانے دے وی سارے قید کر سگدائیں.
منافعے قید کر سگدائیں خسارے قید کر سگدائیں.
توں اپنڑیں فن دے کاغذ تے ستارے قید کر سگدائیں
.میں “شاکر ” ساه وی لکھ دینداں فقط اتنا ڈسا میکوں
میرے دلبر دی اکهیاں دے اشارے قید کر سگدایئں