54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

پھٹ جائے گی رگیں کسی روز کو آ خر
چیخوں گا اتنا کہ لوگ مدتوں یاد رکھے گے
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ چھوڑو مجهےےے. … وہ اسکے ساتھ گهینچی جاتی چلا کر بولی تھی. .. مگر وہ ہنوز خاموش تھا. .. بازو پر گرفت مضبوط تھی. ..
درددددد ہورہا ہے. .. اب کی بار اسکی آنکھیں نم ہوئی تھی. … آواز بھی روند گئی تھی. …
اسکی بات سن کر راج نے گرفت ہلکی کردی تھی. ..ساتھ ہی اسے درخت سے پن کیا تھا. …
اب وہ ای پارک کے دورے ویران گوشے میں تھے. ….وہ اسکے بہت قریب کھڑا تھا. .. بازو چھوڑ کر درخت پر ہی دونوں طرف ہاتھ رکھ دیئے تھے. … وہ اب مکمل اسکے مضبوط حصار میں تھی. …
اسکو اتنا قریب دیکھ کر .. جان لبوں کو آئی تھی. . سفید شفاف مکهرا غصے. .بے بسی. . سے لال ہورہا تھا. … راج کی گرم سانسیں اسکے چہرے پر پر رہی تھی. .. وہ اسکے کندھے تک آتی تھی. .جبھی وہ جهکا ہوا تھا. ….
مجھے تو یاد کیا ہی ہوگا. … اسکو دیکھتا گہری گھمبیر. .. بوجھل آواز میں کہا. ..
پیچھے ہو. .. ہو ک کون تم. … اسکی بات نظر انداز کرتی. . ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھتی پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کرتی گویا ہوئی. … دل خوف سے زیادہ ہی تیزی سے دھڑک رہا تھا. ..
ہممم. .. اپنی بات نظرانداز ہوتی دیکھ کر اسنے غصہ قابو کرتے ہم پر ہی اکتفا کیا. …
ہو کون تم . .. چاہتے کیا ہووو. .. جب اسکی مضبوط گرفت سے نکل نا سکی تب ہی ہاتھ پیچھے غصے میں جھنجھلا کر بولی تھی. …
راج کہہ لو تم. … … اور چاہتا کیا ہوں. …؟؟ یہ اچھا سوال کیا ہے. …تو سنو رپینزل. .میں تمہیں چاہتا ہوں. .صرف تمہیں. .. چاہیے ہو مجھے ہر صورت. .. درخت سے ہاتھ ہٹا کر اسکی نازک کمر پر رکھ کر اسے اوپر اٹھا کر اپنے مقابل کیا تھا. ..
ک کیا. ..کیا کررہے ہو. .. سائیکووو. … چهوڑووو. .. اتارو مجهےےے. ..، الیانہ کو پہلے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے. جب سمجھ آیا. . اسکے کندھے پر ہاتھ مارتی چلا کر بولی تھی. .. اسکا چہرہ راج کے چہرے کے بلکل سامنے اور کافی قریب تھا. ..
تم میری رپینزل ہو. … مجھے چاہئے ہو. … اس کے گال سے اپنا ناک مس کرتا گھمبیر بوجھل آواز میں گویا ہوا تھا. …
میں کوئی رپینزل نہیں ہوں. .. الیانہ نام ہے میرا..ہٹو چهوڑووو مجھے. دم گھٹ جائے گا میرااا. … اسکی بات پر اسے آگ ہی لگ گئ تھی. .جبھی چلا کر بولی تھی. .ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں بھی ہلا رہی تھی. …
اسکی دم گھٹنے والی بات پر ایک دم آرام سے اسے نیچے اتارا تھا. ..
گھٹیا. … نیچے اترتے ہی اسے نئے لقب سے نوازنا نہیں بھولی تھی. ..
آہاں. .. جا کدھر رہی ہوو. .. بات تو سن لو پہلے. .. اسے وہاں سے جاتا دیکھ کر یک دم اسکی کلائی گیهینچ کر اپنے قریب کیا تھا. .. وہ اسکے لئے تیار نہیں تھی جبھی اسکے سینے سے آلگی تھی. ..
بہت ہی کوئی بیہودہ شخص ہو. .. اسے خود سے دور کرتی غصے سے بولی تھی. .. اسے سمجھ نہیں آریا تھا. .کون تھا. .کیا تھا. ..کیوں. .اسکے پیچھے پڑ گیا تھا. .. چچر کی طرح چپک ہی گیا تھا. .. اب اسے سہی معنوں میں غصہ آرا تھا. …
جو بھی ہوں تمہارا ہوں اور. …
او جسٹ شٹ اپ. … یو. … تم نا دفعہ ہو جاو مرووو. .. کئی نہیں ہو میرے. ، نا مجھے تم جیسے کسی چهچهوڑے کی ضرورت ہے. . اب دوبارہ اپنی منحوس شکل نا لے کر آنا میرے سامنے. … راج کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسے ٹوک کر انگلی اسکی طرف کرتی دو ٹوک انداز میں بولی تهی. ….
ہاہاہاہاہاہاہاہا. …….. تم. ….ہاہاہاہاہاہاہاہا. .. وہ اسکو خود کو وارن کرتا دیکھ کر بےساختہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا. .. اسطرح کئی عرصے بعد ہنسا تھا وہ. ..
الیانہ نے اسے غور سے دیکھا تھا. … اسکا دمپل. .. وہ واقعی کافی پوکشش. .ہینڈسم تھا. . مگر کچھ دیر پہلے والی اسکی حرکتیں اور باتیں یاد کر کے اسنے اپنی سوچ پر ہی لعنت بھیجی تھی. ….
پہلی بات تو یہ کہ. … دفعہ تو میں جدھر ہوں گا اب. .تمہیں ساتھ لے کر ہی ہوں گا. ..دوسری. … میں نے خود کو تمہارا مان لیا ہے. .. اب تم مجھے خود کا اور خود کو میرا مان لو. .جتنا جلدی ہوسکے. .. اور تیسری. .. تم بیشک میری ضرورت نا ہو. ..مگر مجھے تمہاری بہت ضرورت. ..بلکہ تم ضرورت نہیں رہی. . اب ضروری ہو گئی ہو. .. اسکے گال کو انگلیوں کے پوروں سے مس کرتا بولا تھا. … آخر میں لہجہ میں دیوانگی سی آگئی تھی. ..
ڈونٹ یو ڈئیر. ٹو ٹچ می اگین. . .. اسکا ہاتھ گالوں سے جهڑکتی دانت پیس کر بولی تهی. …
ہمم اوکے. .جارہا ہوں ابھی تو. .. دوبارہ ملیں گے. ..اور ہاں اگلی دفعہ تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آؤں گا. … انتظار کرنا. .. اور ہاں لے تو میں تمہیں ابھی بھی جاسکتا ہوں. ..مگر وقت دے رہا ہوں. .کچھ. … خود کو میرے لئے تیار کرو ..ڈارلنگ. .. دماغ کو بھی. .دل کو بھی اور. … پوری کی پوری تیار ہوجاوں. … لٹل پرنسز. .. ایک دفعہ میری دسترس میں تو آجائو. …پھر تمہیں خود کی نازک جان پر. .. اپنے گرین مونسٹر کو برداشت کرنا ہوگا. … اسکے بالوں کو ہاتھ میں بھرتا جنونیت سے بولا تھا. .
.. گرین آنکھیں لال ہوری تهی. … جو اسکے غصے سے لال چہرے پر ٹکی ہوئی تھی.
الیانہ نے کئی دفعہ اسے اپنے بال چھڑانے چاہیے. .مگر اسکی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اسے ہی درد ہورہا تھا. .. اوپر سے اسکی بے باک. ..گفتگو. .. وہ کانوں تک سرخ ہوئی تھی. .. اسے رونا آگیا تھا. …کیوں پیچھے پر گیا تھا وہ اسکے. .. کیا سچ میں اسکے بالوں کی وجہ سے. ..؟..کیا سچ میں اسنے کئ سال بنا اسے دیکھے اسکا انتظار کیا تھا. …؟کیا سچ میں وہ اسے اس کے اپنوں سے دور کردے گا. .؟ یہ سوچ ہی اسکی جان نکالنے کے لیے کافی تهی. …
وہ اسے بال چھوڑتا اپنے دہکتے لب اسکے ماتھے پر رکھتا. .پیچھے ہٹا تھا. … اور اسے دیکھتا ہی واپسی کے لیے مڑا تھا. …
توبہہہہہ. … اسے دور ہوتے ہی الیانہ نے ماتھا رگڑ کر اسکا لمس ہٹانا چاہا. …مگر دوبارہ اسکی آواز اور بات سن کر اسے دل کیا کاش وہ اسے جان سے مار سکتی. .
ابھی تو مٹا لو میرے لمس. …میری خوشبو. .. مگر جلدی ہی تمہاری روح میں سما جاوں گا. .. تب کچھ نہیں کر پاؤ گی. … وہ کچھ اور بولنے رکا تھا مگر اسے اپنا ماتھا مسلتا دیکھ کر مسکرا کر بولا تھا. ..
تم. ….
جا رہا ہوں. .آنے کے لیے. .. اور ہاں. .. ایک بات بتا دوں. .. آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ مجھ سے اس لہجے میں بات کرسکے. … صرف تمہیں ہی یہ حق دیا ہے. …دھیان سے. …اسے کہتا وہ گرین آنکھوں پر گاگلز لگاتا چلا گیا تھا وہاں سے. ….
غمِ حیات کی ناگن نے ڈس لیا جن کو
وہ اپنے دور کے مانے ہوئے سپیرے تھے
■■■■■
راجر نے گاڑی آکر نینا کے ہاسٹل کے سامنے روکی تھی. …. گاڑی کے رکتے ہی اسنے گاڑی انلاک کرکے باہر نکلی تھی. ..تب ہی کوئی انگریز لڑکی اسکے پاس آئی تھی. ..
نیناا کدھر تھی رات سے. ..میں کتنا پریشان ہوگئی تھی. …اسنے نینا کے پاس آکر فکرمندی سے سے پوچھا تھا. …
وہ. ..میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا. .چھوٹا سا. … نینا نے گاڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا. .جدھر سے راجر باہر نکلا تھا. ….
لنڑا کی پیٹھ تهی راجر کی طرف تب ہی وہ اسے دیکھ نہیں سکی تھی. …
کیااا ایکسیڈنٹ. .مگر. …..
ہیلوو. ..اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی راجر نے نینا کی طرف اسکا کلچ بڑھاتے ہوئے لنڑا کو کہا تھا. ..
ایک بھاری آواز سن کر اسنے راجر کی طرف دیکھا تھا. …
ہائے. .. لنڑا میک. .. ہاتھ اسکی طرف بڑھاتے بغور اسکو دیکھتے ہوئے کہا. .. اسے ایک پل کو لگا تھا کہ یہ گرین آنکھیں اسنے پہلے بھی کہیں دیکھی ہوں. ..جبھی اسے اب غور سے دیکھ رہی تھی. .
……..را…..آدیان مرزا. … راجر نے ہاتھ اسے ملاتے ہوئے کہا. … وہ راجر کہتے کہتے رکا تھا. .. راجر کے نام سے اے بلیک ولڈ میں جانا جاتا تھا. … بزنس کی دنیا میں وہ ایک بہت بڑا بزنس ٹائیکوں تھا. … آدیان مرزا. …اے ایم. …
نائس ٹو میٹ یو. … ہاتھ واپس لیتی. .. بولی تهی. .. اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ. .را. ..کچھ کہتے کہتے رکا تھا. ..
مگر پھر اسے ایک اور شاک ملا تھا. .
راجر کی وائٹ شرٹ کے بٹن کهلے تھے. .. اسکی نظر اسکے گلے میں پہنے لاکٹ میں گئی تھی. …
بلیک کلر کی بڑی سے چین میں سٹائلش سے آر لکھا تھا. .. لاکٹ اسے چورے سینے پر نظر آرا تھا. …
لنڑا نے شاک کی کیفیت میں دوبارہ اسکی گرین آنکھوں کو دیکھا تھا. …
اسکے ساتھ ہی اسکے دو گرین آنکھیں ماسک کے پیچھے نظر آئی تھی. … ہوبہو وہی .. وہی کلر. .. اسنے ایک نظر بے زار سی کھڑی نینا پر ڈالی تهی دوسری راجر پر جو نینا کو ہی دیکھ رہا تھا. …
امیزنگ. .. آپکی آئیز کا کلر کافی اچھا ہے. … ریئل ہے یا لینز. … اسنے راجر کو دیکھتے سرسری سا پوچھا تھا. ..
اسکی بات پر راجر بے اختیار اسکی طرف مڑا تھا. .. لنڑا کی آنکھوں کا کلر کافی لائیٹ گرین تھا. .جبکہ راجر کی کا کافی ڈارک. ….
ریئل ہے. … اوکے اب میں چلتا ہوں. .کام ہے مجھے. … کچھ لمحے خاموشی کے نظر کرتے اسکے بعد کہتے ساتھ ہی ایک نظر نینا پر ڈالنے کے ساتھ ہی گاگلز لگاتا واپس مڑا تھا. .. اور پھر زن سے گاڑی بھاگا کے لے گیا. ..
لنڑا کی نظروں نے دور تک اسکی گاڑی کا پیچھا کیا تھا. ..
اسکے جاتے ہی اسنے نینا کا ہاتھ پکڑے ہوئے اندر کی طرف بڑھی تهی. .
ارے. ..نینا ارے ارے ہی کرتی رہ گئی تھی. ..مگر لنڑا نے اسے لاکر روم میں چھوڑا تھا. .آکر روم کو لاک لگا کر … خود کبٹ سے لیپ ٹاپ نکال کے بیٹھ گئی تھی. ..
لنڑا کیا ہوا ہے. … نینا نے حیرت سے اسے دیکھتا پوچھا تھا. …
پہلے مجھے کنفرم کرنے دو. .. اسکی انگلیاں کی بورڈ پر تیزی سے کام کررہی تھی. ….نینا بھی کرسی لے کر اسکے پاس ہی رہ گئی. …
وہ دونوں بچپن سے دوستیں تھیں. .. سیکرٹ ایجنٹ کے ساتھ دونوں کام کرتی تھی. .. لنڑا کے پرنٹس کی اسکے بچپن میں ہی ڈیٹهه ہوگئی تھی. .. اسکے بعد اسے نینا کے باپ. . ہمزہ سلطان نے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا. … کیونکہ وہ نینا کی بہت اچھی دوست تهی. .. ان کا اپنا گھر تھا جاپان میں ہی. مگر وہ لوگ خود ہی ہاسٹل میں رہتی … دونوں الگ الگ رومز میں ہوتی تهی. ..اور سب کے سامنے بھی ایک فاصلے پر ہی رہتے تھے. .. لنڑا کرسچن تهی. .جبکہ نینا مسلم. … ان دونوں کے ماں باپ کے پاس ادھر کی نیشنیلٹی تهی. .. وہ خود بھی جاپان میں ہی پیدا ہوے تھے. ..
اب کچھ سال پہلے ہی ہمزہ سلطان اور فزا سلطان کے مرنے کے بعد ہی نینا نے سیکریٹ سروس جوائن کی تهی جبکہ منڑا کافی پہلے سے ہی سیکریٹ ایجنٹ تهی. . بلیک وے کا کیس پر وہی کام کررہی تھی. .نینا بھی اسکے ساتھ اسکی سیکرٹری کی طرح تهی. .. نینا بھی ڈارک وے اور بلیک ویل گینگسٹر کے بارے میں سرچ کررہی تھی. ..
مائےے گاڈڈڈڈ. … منڑا کی حیرت سے ڈوبی آواز سن کر وہ ہوش کی دنیا میں آئی تھی. .
اکی نظریں لیپ ٹاپ پر اٹهی تهی. .. سامنے ہی راج. .راجر. ..ریا کی ماسک میں فوٹوز آئی تهی. .. جو یقیناً کسی سی سی ٹی فوٹیج سے کلک کی گئی تھی. ..
اس فوٹو میں وہ تینوں لوگوں کو مار رہے تھے الگ الگ. .. ..
منڑا نے نیکسٹ کی تهی. ..
اب کی فوٹو میں. .. ایک ہی مرد تھا. .. پورا خود کو بلیک ہوڈی سے کور کیا ہوا تھا. .. ماسک کے پیچھے گرین آنکھیں واضع تهی. . وہ ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر اٹھ رہا تھا. .تب ہی اسکے گلے میں پڑا لاکٹ نظر آرہا تھا. ..سیم وہی لاکٹ. ….
نینا کے دل کو کچھ ہوا تھا. .. اسے کوئی راجر سے محبت وغیرہ نہیں ہوگئی تھی. .مگر پھر بھی … اسکے دماغ میں دوبارہ سارا راستہ گھوما تھا جب وہ اسکے ساتھ آررہی تهی. ..
ہممم …ہم اپنے سے ثبوت سے کچھ نہیں کرسکتے. .یہ بھی ہوسکتا ہے. .یہ ایک اتفاق ہو. .. مگر اب ہمیں اس پر نظر رکھنی پڑے گی. … تم اسکے سامنے آتی رہنا. .مجھے لگا کر شاید وہ تم میں انٹرسٹڈ ہو. .. نہیں بھی ہوا تو. . کوئی بات نہیں تم اسے دوستی کرسکتی ہو. .. وہ اور تم مسلم ہو. .. .لنڑا نے کچھ سوچ کر کہا تھا. .
ہممم نینا کہنے ساتھ وہاں سے اٹھ گئی تھی. .. دل میں کہیں اسے بے دھیانی میں ہی دعا کی تھی کہ آدیان ہی راجر نا ہو. ..
ہر شخص یہاں ” دلفریب ” ہے!!
ہر ” دلفریب ” اِیک ” فریب ” ہے!!
■■■■■■■■
گرے ڈنر سوٹ پہنے ، بلیک گاگلز لگائے. . جیل سے بال سیٹ کئے. ..وہ گاڑی سے اترا تھا. …
گاڑی لاک کر کے وہ مال کی طرف بڑھا تھا. …
رات کو وہ کافی دیر سے سویا تھا. .. ایک عالیہ کی بات سے پریشان تھا تو دوسرا وہ پری پیکر اسکے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی. … رات گئے اسکی آنکھ لگی تھی. .جس کی وجہ سے وہ صبح بھی کافی لیٹ اٹھا تھا. … آفس فیض صاحب چلے گئے تھے جبھی وہ مال کچھ ضروری چیریں لینے آگیا تھا. …
اپنی ضرورت کی چیزیں لینے کے بعد وہ بے وجہ ہی مال میں گھوم رہا تھا. ..جب اسکی نظر ایک منظر، پر ٹک سی گئی تھی. …
وہ سامنے ہی. . وائیٹ پلین ٹی شرٹ. . بلو جینز پہنے. ..بالوں کو درمیان سے مانگ نکالے کھلا چھوڑا ہوا تھا. .. کوئی دوسری لڑکی جو اسکی ہم عمر ہی لگ رہی تھی. .اسے کھینچ کر کسی شاپ میں لے کر جارہی تھی. ..وہ وہ شاید جانا نہیں چاہ رہی تھی. …..
ٹرن ٹرن. …. تب ہی ہاتھ میں پکڑے فون کے بجنے کی آواز سے وہ ہوش میں آیا تھا. ..ایک نظر موبائل کو دیکھنے کے بعد اسنے دوبارہ سامنے دیکھا تھا. ..جہاں اب دو دونوں ہی نہیں تھیں. ..
یہ. ..اتنی جلدی کدھر چلی گئی. ….جادگرنی ہی ہے سچ میں. .. وہ ادھر ادھر اسے دیکھتا خود سے ہی بولا تھا. ..
وہ الٹا چل رہا تھا. .کہ اچانک کوئی اسکی پشت سے آکر لگا تھا. .. وہ ایک منٹ میں پیچھے مڑا تھا. ….
اسے ایک دفعہ پھر حیرت ہوئی تھی. .. وہ اتنی جلدی ادھر کیسے آگئی. …. وہ حیرت سے اسکی خوف میں ڈوبی بهوری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا. …
علیزے کو آج سونیہ یونی کے بعد زبردستی ہی اپنی ساتھ شاپنگ پر لے آئی تھی. …. اور اب گھنٹے سے اسے پورے مال میں گما چکی تھی. .تب بھی دل نہیں بھرا تھا. .تب ہی علیزے واپسی کا کہہ رہی تھی. .. چلتے ہیں، چلتے ہیں کہہ کر کافی دیر لگا دی تهی. .. اور اب علیزے تنگ آکر کنٹین میں جانے کا بول کر نیچے آگئی تھی. .مگر ادھر بھی جلدی جلدی میں وائز سے ٹکرا گئی تھی. … اور اب اسے دیکھ کر پریشان ہی ہوگئی تھی. ..اسے یاد آگیا تھا کہ وہ کون تھا. .
وائز نے سب سے پہلے اسکے پاؤں دیکھے تھے. .. جو سیدھے ہی تھے. …
س.سو. .سوریی… علیزے نے ڈرتے ڈرتے ہوئے کہا تھا. .مبادہ کہیں غصہ ہی نا کرلے. ..
ہمم؟؟ او اوکے. .. وائز بغور اسے دکھتا بولا تھا. …
میں جاؤں. .. علیزے نے جیسے اسے اجازت مانگی تھی. ..
وائز اسکے خوبصورت معصوم چہرے میں گهو گیا تھا. …
ارے لیزا. .. تم کینٹین نہیں گئی. .. سونیہ کی آواز سن کر جہاں علیزے کی جان میں جان آئی تهی. .ادھر ہی وائز ہوش میں آیا تھا. ..
اسے ایک دفعہ پھر سے علیزے پر غصہ آیا تھا. .. جس کی وجہ سے وہ رات بھر سو نہیں سکا تھا. … اور اب پھر اسے دیکھ کر بے اختیار ہوگیا تھا. … اسے اسکے چہرے پر معصومیت ڈرامہ لگ رہی تھی. ..
ہاں. …میں جارہی تهی. … بس. . چلو. . علیزے نے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا تھا. …وہ اب سرے سے وائز کو اگنور کر گئی تھی. .. وائز کا خون ہی جلا تھا. .اس چھوئی موئی سے اگنور ہوکر. ..
سونیہ نے بھی ایک نظر وائز کو دیکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں دیکھا تھا. .. وہ کب سے نوٹ کررہی تھی کہ وائز کی نظریں علیزے پر تهی. .جبھی اسے وائز کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا. .. وہ ایک دو دنوں میں ہی علیزے کو جان گئی تھی کہ وہ کتنی معصوم اور ڈرپوک ہے. .. اسی لیے اب وہ اس کے ساتھ ہی رہتی تهی
بنا اسے طرف دیکھے وہ علیزے کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے گئ تھی
.. پریٹی. .ڈائن. …تمہیں تو میں دیکھ لوں گا. .. ادھر میرا چین برباد کردیا ہے. .اور اگنور بھی مجھے ہی کیا جا رہا ہے. .وائز ان دونوں کو دور ہوتا دیکھ کر. . دانت پیس کر خود ہی سے بولا تھا. …
یوں غلط تو نَہیں چہروں کا تَصـــــــــــور بهی مگر،
لوگ ویسے بھی نَہیں ہوتےـــــــ جیسے نَظر آتے ہیں.
■■■■■■■
وہ کافی بنانے کا سوچتا کچن کی طرف آیا تھا. . مگر اسے پہلے ہی وہاں سے آوازیں سنائی دی تھی. .. کوئی تھا شاید پہلے سے ہی. .. ایک ہاتھ بالوں میں پھیرتا کچن میں آیا تھا. ..
بےبی پینک نائیٹی پہنے. .بالوں کا میسی کا جوڑا بنائے. .. وہ کچن کی شلف پر بیٹھی کچھ کها رہی تھی. …
کیا کها رہی ہو. .آئش نے اسکے ساتھ شلف پ بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا. ….
میں تو پستہ کها رہی ہوں. .تم میرا سر کها لو. …ہیر نے جل کر کہا تھا. …
پورا دن انہوں نے باہر خوار ہوتے گزار دیا تھا. ..راہل سر جو ڈانس دیوانے کے ڈائریکٹر تھے. .. انہوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اس بار کوئی اکیلا ڈانس کر ہی نہیں سکتا. .ہر کسی کی ٹیم ہونی ضروری ہے. .. آئش لوگوں کی ٹیم میں تو ایک ہی ممبر کی کمی تهی. .. جو ہیر پوری کرسکتی تهی. .مگر اسے قبول ہی نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے انڈر ہو. .. یا یہ کہ لیڈ ڈانسر آئش ہو. … آئش کے بہت بار کہنے کے باوجود بھی وہ نہیں مانی تهی. . پہلے ایک ایک ڈانسر کے درمیان مقابلہ تها. . 50 ڈانسر میں سے آخر میں 5 کو لینا تها. … کل کا کمپیٹیشن ہیر اور آئش کے درمیان تها. ..اور پھر انہیں پرسوں صبح ہی ایک میوزک کانسرٹ کے لیے ممبئی جانا تھا کچھ دنوں کے لئے. .کیونکہ میوزک پروگرام کے بعد ادھر بھی کئی ڈانس کمپیٹیشن ہونے تھے. …وہ لوگ شام میں واپس فلیٹ آگئے تھے لنچ تو کیا ہی باہر تها اور ڈنر لے آئے تھے. .. ہیر آنے ساتھ سو گئی تھی. .. جگانے کے باوجود بھی نہیں اٹهی تهی. . تو ان تینوں نے ڈنر کا لیا تھا. .. اب جب ہیر کو رات کو بھوک لگی تو تو کچن میں کچه کھانے آگئی تھی. ..
اچھا چهوڑووو. ..یہ بتاؤ. .کل کون جیتے گا. .. آئش نے لڑائی کو چھوڑتے اپنے کام کی بات کی
ظاہر سی بات ہے میں. .. ہیر چمچ منہ میں ڈالتی تحمل سے گویا ہوئی. ..
اور اگر ہار گئی. .. وہ اپنے مقصد پورا کرنا چاہتا تھا. .
میں تم سے نہیں ہار سکتی. .. اطمینان قابل دید تها. .
چلو ٹھیک ہے ..اگر تم ہار گئی تو جو میں کہوں گا. .وہ کرو گی. ..میں ہار گیا تو. .جو تم کہو گی وہ میں کروں گا. .. آئش نے اسکے منہ کی طرف جاتی چمچ خود کھاتے ہوئے کہا. ..
زیادہ فری نہ ہو. . کھانا ہے تو. .فریج سے نکال لو. .. اور مجھے چیلنج پسند ہیں. .. بیٹ لگی. .. ہیر نے پرستہ کی پلیٹ شلف پر رکھتے ہاتھ کا مکا بنا کر آیش کی طرف کیا تھا. ..
لگی. ..آیش نے بهی مکا بنا کر اسکے ہاتھ سے ملایا. ..
اوکے. . گڈ نائٹ. . ہیر کہہ کر نکل گئی تھی. پلیٹ لے کر. ..
ہارنا تو تمہیں پڑے گا نکچڑی. .پہلی اور آخری دفعہ. ..آیش نے اسکے جاتے ہی خود سے کہا تھا. …اور پھر کافی بنانے آٹھ گیا. …..
غوث قطب سب تیتھوں صدقے
کون فرید فقیر؟ وے سانولا !!!
نہ مار نیناں دے تِیر 🙏