Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
تیری یاد دل میں بساتے نہیں ہیں.
تیرے شہر میں اب جاتے نہیں ہیں
تیرا زکر ہوتا تھا ہر وقت
تیری بات اب ہم سناتے نہیں ہیں
کچھ ہی دیر میں وہ الیانہ ہاشم سے الیانہ منان مرزا بن گئی تھی. .. ایک ایسے مرد سے اسکا نکاح ہوگیا تھا. .جس کا نام بھی اسنے مولوی صاحب سے ہی سنا تھا. .. اسے تو پتا بھی نہی تھا کہ وہ تھا کون.. کیا تھا. ..وہ تو کچھ بھی نہیں جانتی تھی فقط اسکے نام کے. .. ادھر رہنا تو کچھ لمحوں کے لیے مشکل ہوگیا تھا. .کجا کہ پوری زندگی گزارتی. ..اسے کیسے بھی کر کے ادھر سے نکلنا تھا. ..ایک دفعہ وہ نکل جاتی پهر تو وہ ہاشم سے بات کرسکتی تھی اور وہ اسے بچا سکتے تھے. .مگر اسکے لیے اسے پہلے یہاں سے نکلنا تھا. … وہ انہی سوچوں کھڑی تھی. .جب راج کمرے میں آیا تھا. .. اسے دیکھ کر نئے سرے سے اسے غصہ آیا تھا مگر اسکے منہ بھی نہیں لگنا چاہتی تھی جبھی اسے اگنور کئے وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوکر جو کوئی جیولری پہنی بھی تھی اب اسے اتار رہی تھی. …
کیوں اتار رہی ہو رپینزل. …ابھی تو میں نے تمہیں دیکھا بھی نہیں. .راج ڈریسنگ کے اسکے بلکل پاس پیچھے کھڑے ہو کر بولا تھا. ..
تم جاؤ یہاں سے مجھے تمہاری شکل محترم بھی نہیں دیکهنی. … بنا اسکی طرف دیکھے ٹاپس اترتے ہوئے کہا تھا. .لہجے میں بے زاری واضح تھی. ..
تم چلو اب میرے ساتھ میرے روم میں اب تمہارا نکاح ہوچکا ہے مجھ سے. . اب تم ادھر میرے ساتھ ہی رہو گی. … اسکی بد تمیزی پر فلحال قابو پاتا تحمل سے بولا تھا. .
پاگل ہوگئے ہو کیا. ..میں کیوں رہوں تمہارے روم میں. ..میں ادھر ہی ہوں جب تک ہوں. . اسکی بات پر اسے غصہ ہی تو آگیا تھا. .جبھی اسکی طرف مڑتی بولی تھی البتہ آخری بات دل میں سوچی ہی تھی. …. بول کر اسے پہلے سے خود پر شک نہیں ہونے دینا چاہتی تھی. .
پاگلللل. ..چھوڑو مجھے. . راج کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھا کر دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھ دئے تھے. .جبھی وہ چلائی تھی. ….
اب تو کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا … تم میری ہو اب. .. صرف میری. .. رپینزل. ..جس کا انتظار میں نے نجانے کتنے سال. .کتنا تڑپ تڑپ کر کیا. .. کتنا مانگا تمہیں. .. عشق بن گئی تم. ..تمہیں دیکھے بنا تمہارا طلب گار بن گیا. .. تمہیں دیکھے بنا.. تم سے جنونی محبت کر بیٹھا. .. اب جب مجھے ملی ہو تو کیسے چھوڑ سکتا ہوں. .کبھی نہیں. .جانم کبھی. ..اسکے لمبے کالے بالوں میں چہرہ چھپائے جنونی انداز میں کہہ رہا تھا. .بولتے ہوئے اسکے ہونٹ الیانہ کے کان کو چھو رہے تھے. .. اس کی اتنی سی قربت پر وہ مرنے والی ہوئی تھی. .. دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. .جیسے وہ پیچھے نا ہوا تو اسکا دل باہر آجائے گا. ….
ت تو اب آپ. .ک کیا چاہتے. .ہ ہیں مجھ سے. … اسکو خود سے کچھ دور کرتی کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی..
چاہتا کیا ہوں. .. وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتا سوچنے والے انداز میں بولا تھا. ..
پهر اسکے کان کے پاس چہرہ لے جاتا گھمبیر لہجے میں سرگوشی کررہا تھا. .. ایک ہاتھ کمر کے گرد باندھ کر اسے اور قریب کرلیا تھا. ..
وہی جو ایک شوہر نئی نویلی دلہن سے چاہ سکتا ہے. … وہ بول کر لبوں سے اسکا کان چھوتا پیچھے ہوگیا تھا. ..
پ پیچھے ہٹ ہٹیں. ..مجھے. ..جانے دیں پھر پلیززز. … اسکی بات پہلے تو سمجھ ہی نہیں آئی مگر جب آئی اسکی جان لبوں کو آئی تھی. .. اب اسے راج سے خوف محسوس ہورہا تھا. … تب ہی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی بولی تھی. .چہرہ لال ہوگیا تھا. ..
ایک دفعہ بولو کہ صرف میری ہو صرف میری رپینزل. .. اسکا خود کا پیچھے کرنے کو اگنور کرتا اور قریب ہوتا الٹے ہاتھ کا انگوٹھا اسکے لبوں پر پھیرتا بولا تھا. …
وہ چپ ہی رہی تھی. .. اسے دور کرنا چاہا تھا مگر ہمت زرا سے ہلنے کی بھی نہیں ہوئی تھی. ….وہ آنکھیں بند کرگئی تھی. .. وہ کتنے آزاد ملک میں پلی بڑی ہوئی تھی. .مگر کبھی کوئی مرد اسکے زرا قریب نہیں ہوا تھا. .. اسے اپنی حدود اچھے سے پتا تھی. .. اور آج اس کے قریب تھا بہت قریب. .مگر وہ تو اسکا محرم بن گیا تھا. .. اسکی جسم و جان کا مالک. .. اسکا سب کچھ. ..
رپینزل تمہارے بال مجھے بہت پسند ہیں. .. انہی سے تو مجھے عشق ہوا. .. وہ اسے خاموش دیکھ کر اسکے بال ہاتھ میں لیتا بہت دهمیی گھمبیر لہجے سے بولا تھا. ….
آپکو پتا ہے. .مجھے osaka میں ایک عورت امبروز نے ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ میرے سیاہ بال ہی میری سیاہ بختی ہیں. … بالوں والی بات سے اسے امبروز کی بولی ساری باتیں یاد آئی تھی جبھی ایک ہاتھ سے اسکے ہاتھ سے اپنے سیاہ بال لیتی بولی تھی. ….
ایسا ہی ہے. .جبھی تو آپکو میرے بالوں سے عشق ہوگیا. .جبھی تو آپ مجھے اٹھا کر ادھر لے آئے ..جبھی تو مجھے ادھر قید کر کے رکھ دیا. .. نجانے کون ہیں آپ کیا ہیں. .میں تو جانتی بھی نہیں آپکو. .. اور اس امبروز نے یہ بھی تو کہا تھا کہ کوی میرا ایک عرصہ سے انتظار کر رہا ہے. اور اسکا انتظار ختم ہونے والا ہے. .اور پھر آپ آئے میری زندگی میں. … اور آپ بھی اس کہتے ہیں کہ آپ مجھے کئی سالوں سے ڈھونڈ رہے تھے. .. انہی بالوں کی وجہ سے. . میں ادھر سے جا کر انہیں ہے کٹوادوں. …. پٹر پٹر بولتی اسے ایک دم چپ ہونا پڑا تھا. . جب راج نے اپنے دہکتے ہونٹ اسکے گلابی ہونٹوں پر رکھ دئے تھے. ……..
■■■■■■■■■
مبارک ہوں تجھے جہاں بھر کی خوشیاں
مجھے اب یہ غم بھی رلاتے نہیں ہیں
تیری جستجو میں خود ہی کو بگاڑا
تیرا غم مگر اب مناتے نہیں ہیں
آپ جو بھی ہیں مجھے اتنا بتا دیں میں نے لیا کیا ہے اپکا،مجھے تو نام بھی نہیں آتا اپکا. …. جیسے ہی گاڑی کورٹ کے سامنے رکی علزے پهر سے بولنے شروع ہوگئی تھی. .اسے بھی سمجھ نہیں آررہی تھی کہ کیوں وہ اسے تنگ کر رہا تھا. ….
وائز مرزا نام ہے. .. اور کیا کہا. ..؟؟؟ تم نے میرا سکون چرا لیا ہے. ..میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے میں سکون سے سو نہیں سکا. ..تم جادوگرنی ہو. ..تمہاری آنکھوں میں جو دیکھتا ہے وہ سب بھول جاتا ہے. تم بہت معصوم سی لگتی ہو سب سے الگ. … وائز اسکے معصوم چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے کهوئے کهوئے لہجے میں بولا تھا. ..
مگر میں نے تو کچھ نہیں کیا. .. اسے اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس سب میں اسکی کیا غلطی ہے کیا وہ اسے گهینچ کر لائی تھی اسکی آنکھوں میں دیکھے. .. نہیں تو پھر کیوں اسے تنگ کر کے رکھ دیا تھا. …..
تمہیں میرا ہونا ہوگا بس. ..اسکی آواز سے ہوش میں آتا حکمیہ لہجے میں بولا تھا. . آواز کافی سخت ہوگئی تھی. ..
مگر مجھے واپس جان. .. وہ اتنا ہی بول سکی تھی. .جب وائز نے اچانک بازو سےپکڑ کر اسے اپنے بہت قریب کیا تھا. ….علیزے نے گھبرا کر نظریں جھکا لی تھی. .وائز کی سانسوں کی تپش اسکا گیلا چہرہ جلا رہی تھیں. … مگر وہ ہچکیوں میں روتی اس لمحے کو کوس رہی تھی جب وائز نے اسے ان لوفر لڑکوں سےبچایا تھا اب خود اسے پیچھے پڑ گیا تھا. …
پهر کس کے کرنی ہے. .. اسکے بیگهے چہرے سے بال کان کے پیچھے کرتا بلکل سٹاپ لہجے میں بولا تھا. . آنکھوں کے سامنے وہ منظر وہ گھوم گیا تھا. .جب مارک نے اسکے چہرے کو چھوا تھا. .جب وہ وکی کے گلے لگی روئی تھی. … غصے سے اسکی رگیں تن گئی تھی. ..
ک کسی سے بھی نہیں. ..وہ ہچکیوں میں روتی بولی تھی. …
مارک سے بھی نہیں. … وہ نجانے کیا سننا چاہتا تھا. .. وہ بس چاہتا تھا وہ معصومیت کا لبادہ اتار دے. …
کیوں. ..نکاح کے بغیر کوئی مسئلہ نہیں ہے تمہیں. .. کمر پر گرفت مضبوط کرنا زہر خند لہجے میں بولا تھا. ..
آپ غلط باتیں نہیں کریں. .پیچھے ہٹیں نہیں تو میں اونچا اونچا روں گی. .. اسکی بات پر علیزے کو غصہ آیا تھا جبهی سوں سوں کرتی دوسرے ہاتھ سے اسے پیچھے کرتی بولی تھی. ..مگر پیچھے کرنے سے پہلے اسی کی شرٹ سے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کرنا نہیں بھولی تھی. …
اسکا چہرہ اپنے دل کے مقام محسوس کرتا وہ سکون سے آنکھیں موند گیا تھا. .ایک عجیب سا سکوں اور اسکی رگوں میں دوڑا تھا. .. مگر وہ جلد ہی پیچھے ہوگئی تھی. .وہ اسے بہت محسوس ہوا تھا. ..مگر وہ ابھی اسکی نہیں تھی ..وہ چپ ہوگیا تھا. .. کافی دیر بعد اسکی بات سوچتا دلکشی سے مسکرایا تھا. ..
جتنا ٹائم ویسٹ کرو گی اتنا تمہاری بیمار دوست تمہارا انتظار کرتی رہی گی. . وائز بولتا گاڑی کھول کر باہر نکل آیا تھا. . اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسے باہر آنے کا اشارہ کیا تھا. ..
مگر آپ پهر مجھے اپنے گھر تو نہیں لے کر جائیں گے نا. .. اور نا ہی اگلے چھ مہینے میرے سامنے آئیں گے. .. علیزے کچھ سوچتی مان تو گئی مگر اسے نئی فکر لاحق ہوگئی تھی. …..
وہ کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا تھا. .جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ چهه مہینے نکاح نامہ دیکھنے کے لئے نکاح کرہا ہوں. نا. .مگر پهر ہمممم پر ہی اکتفا کرتا ہاتھ کے اشارے سے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتا خود بھی گلاسز لگتا اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر اسے دیکھتا ہوا بڑها تھا. ……
■■■■■■■
خفا ہیں مجھے معلوم ہے. .ہاتھ میرا
پکڑتے ہیں مگر دباتے نہیں ہیں
پڑے ہیں نجانے کہاں سب تیرے دیئے
تحائف اب دل ہمارا لبھاتے نہیں ہیں
تیری سوچ حاوی نہ رہی من پر
محبت کا حق اب جتاتے نہیں ہیں
ہر جگہ ہیر ہیر کا شور گونج رہا تھا. .. وہ سٹاپ لائیٹ کے ساتھ ڈانس فلور کی طرف بڑھی تھی. .. وہ آج 12 سال میں پہلی دفعہ کافی اپسٹ تھی. .. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کب وہ ڈانس فلور پر پہنچی تھی. .. اس کے دماغ میں صرف دو چیزیں گھوم رہی تھی. ..ایک وہ ساری پینٹنگ جو راج بناتا تھا. .دوسری دو فوٹو جو صبح اسنے آئش کے موبائل میں دیکھی تھی. … اسے ملنا تھا راج سے اسے بتانا تھا. .مگر وہ بتانا بھی نہیں چاہتی تھی. .. یہ سوچ کر کہ وہ بھی تو ایک معصوم لڑکی تھی. …اور وہ راج کے پاگل. .پن سے بھی واقف تھی. .پهر یہ سوچ کر کہ اگر آئش کو پتا چل گیا تو. .. وہ بھائی کی محبت اسکی خوشیوں کے لیے خود غرض بن رہی تھی. ..پر بننا نہیں چاہتی تھی. …
اب میوزک پلے ہوگیا تھا. .. اس نے موو کرنا شروع کیا تھا. .. سلو بیٹ پر وہ سلو ڈانس کررہی تھی. .. اسکے موو مختلف تھے سب سے. .. کیونکہ وہ خود خود سے ہی سیکھتی تھی. .کوئی ڈانس ٹیچر نہیں رکھا تھا. ….
مگر بے دھیانی میں اسکا پاؤں مڑا تھا. ..اسے پہلے وہ گرتی وہ خود کو سنبھال چکی تھی. .ساتھ ہی کچھ منٹ کی پرفارمنس ختم ہوئی تھی میوزک کی کانوں کو چیڑتی آواز بھی رکی تھی. .پورے ہال میں روشنی پھیل چکی تھی. …
زبردست …بریلینٹ. ..بہت کمال کی ،زبردست پرفارمنس تھی. … تب ہی انکر ان کے سامنے آیا تھا. .. وہ کافی امپرس لگ رہا تھا. ..
تو میری طرف سے سارے ووٹ آپکے ہیں ہیر. .مگر فیصلہ تو ججز کو کرنا ہے. ..سو. … اپکا کیا خیال ہے. ..ان کی پرفارمنس کے بارے میں. … انکیر پہلے ہی سے کہنے کے بعد اب ججز کی طرف دیکھتا بولا تھا. .
بہت زبردست پرفارمنس تھی. .ہیر.مرزا .. بہت. .زبردست میں ہمیشہ کی طرح آج بھی شاکڈ ہوگیا اپکا ڈانس دیکھ کر .. اور وہ جو اپنے راؤنڈ موو کیا. …کماللل. .. زبردست تھا. … آپ بہت آگے جائیں گی. .. راہل سر سے اپنے سامنے سکرین پر اپنے دئے سکور شو کیا تھا. …
ہیر آپ ہیں ہی اک نایاب ہیرا. ..میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جو کہہ سکوں. .. بٹ اینڈ میں آپ مس بیلنس ہوگئی تھی. … مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی بارہ سالوں میں ایسا ہوا ہو. .. اینی وے. .. امیزنگ پرفارمنس. .. جولیا میڈم نے تعریف کے ساتھ اس کی غلطی بھی ہائی لائیٹ کرتے ہوئے اپنے دئے سکور شو کیا تھا. .جو آئیش سے کم تھا. .جسے دیکھتے ہی ہر جگہ آئش .. آئیش گهونجنا شروع ہوگیا تھا. .. ہیر کو کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا. .یہ بھی نہیں کر و اپنے بارہ سال کے کیرئیر میں پہلی بار ایسی بات سن رہی تھی. .یہ بھی نہیں کہ اس نے آئش سے شرط لگائی تھی جو ہو ہار چکی تھی. …. اسے کچھ یاد نہیں تھا. .وہ بس خاموشی سے آکر اپنی جگہ بیٹھ گئی تھی. .اسکے بعد کچھ پرفارمنس ہوئی تھی. .. اور ڈهیڈ گھنٹے تک بعد شو ختم ہوا تھا. ..بنا کسی سے ملے وہ باہر نکل گئی تھی. ..
آئش جو کب سے اسے کھویا کھویا محسوس کررہا تھا. ..اسکے نکلتے ہی وہ اسکے پیچھے آیا تھا مگر وہ تب تک کیب رکوا کر چلی گئی تھی. .یا تو اسنے آئش کو خود کو روکتے دیکھا ہی نہیں تھا یا پھر اگنور کر دیا تھا. … وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا تھا. .جب اسے اپنے پیچھے راکیل کی آواز آئی تھی. .
کیا ہوا تم ایسے کیوں کھڑے ہو. .راکیل اور کناٹ اب اسکے سامنے آتے مشکوک نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے. .
کچھ نہیں بس پتا نہیں ہیر مجھے ڈسٹرب لگی اور اب دیکھو نا بنا بتائے چلی گئی. .. آئش سیدھا کھڑا ہوتا بولا تھا نظریں ادھر ہی تھی جہاں سے ہر گئی تھی. .
ارے ٹینشن نہ لو. .وہ مجھے بتا کر گئی ہے ..کہہ رہی تھی کہ پرسوں ممبئی آجائے گی. . آج کوئی کام تھا واپس جاپان چلی گئی ہے. . راکیل اپنے موبائل میں کچھ کرتی سرسری سا بولی تھی. .
چلی گئی. .مگر کیوں. . آئش کو ہضم نہیں ہورہا تھا کہ وہ کیوں چلی گئی. .شو میں بھی وہ ڈسٹرب تھی. .نجانے کیا ہوا تھا. .وہ وہ ہر وقت جنگلی بلی بننی رہتی تھی. ..
اچھا چلو اب کچھ کھائیں. .اور پھر صبح ممبئی کی فلائٹ ہے اوپر سے اندھیرا ہورہا ہے. .. آخر کناٹ ہی بولا تھا. ..کہیں اسنے شکر کیا تھا کہ وہ گئی تھی. .ورنہ دو دن سارے ہی دن میں تین چار دفعہ صفائی کرنی پڑتی تھی. .مگر پهر بھی وہ اسکی اچھی دوست بن ہی گئی تھی. ..
ہمممم چلو. .. آئش نے لٹکے ہوئے منہ سے کہا تھا. .. کناٹ ایک ہاتھ اسکے کندھے پر رکھتا دوسرا راکیل کے کندھے پر رکھتا آگے بڑھا تھا. ..کچھ ہی دیر میں آئش دوبارہ ہنس رہا تھا. … وہ تینوں اونچا اونچا ہنستے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تھے. …
■■■■■■
سنا ہے کسی سے یہ ہم نے. .کہ اب وہ
خوشی کو خوشی سے مناتے نہیں ہی
ارے.. خود پرستی کا ہے یہ عالم. .کہ اب وہ
خود سے خفا شخص کو مناتے نہیں ہیں
نینا رکوو..نیناں لنڑا نے اسکا بازو پکڑ کر اسے روکا تھا. ..کئی آوازیں لگائی تھی. .مگر وہ سن کب رہی تھی. ..جب ہی وہ اسکے روم میں ہی آگئی تھی. …
کیا ہے. .. نیناں نے اپنا پرس کائوچ پر رکھتے ہوئے بے زار سے لہجے میں کہا تھا. .وہ فلحال تو کسی کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی لنڑا کے بھی نہیں. ..
تم پهر آدیان کے ساتھ آئی ہو نا آج. .لنڑا نے اسکے تاثرات جانجتے ہوئے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تھا. ……
ہاں. .مختصر جواب ہی دیا تھا. .
تو کچھ پتا چلا. ..لنڑا کی نظریں اب بھی اس کے تاثرات جانچ رہی تھی. ..مگر نیناں کا چہرہ پر تاثرات کے عاری تھا. ..وہ نہیں جان پائی تھی اس کے اندر کی حالت. ….
نہیں. .. یک لفظی جواب دے کر پهر خاموشی سے آنکھیں موند گئی تھی. …
تم کہیں کمزور تو نہیں پڑ رہی ہو اب. . تم کہیں اس کے لیے کچھ فیل تو نہیں کرنے لگی ہو. .. لنڑا کچھ منٹ خاموش ہونے کے بعد دوبارہ بولی تھی. ..
نیناں نے جٹ سے آنکھیں کھولی تھی….یہ تو وہ سوال تھا جس کا جواب اس کے اپنے پاس بھی نہیں تھا. ..
ایسا کچھ نہیں ہے. .. مجھے اپنا فرض پتا ہے. … نیناں نے مضبوط لہجے میں کہا تھا. .مگر آنکھیں ملانے کی غلطی نہیں کی تھی اسے لگا تھا جیسے اس کی آنکھیں چغلی کھا لیں گی. …
نیناں سلطان. .. آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی کب سے چھوڑی ہے. . لنڑا کا لہجہ طنزیہ تھا. .نہیں بھی تھا تو اسے پهر بھی لگا تھا. …
ایسا کچھ نہیں ہے. .ارے تمہارے بلو ٹوتھ آن ہیں. . کس سے بات کررہی تھی. .یا کررہی ہو. .. نیناں نے بات گھمانے کی خاطر اسکے بلو ٹوتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. .جس کی ریڈ لائیٹ بلنک کررہی تھی. .
ارے ہیں. .وہ میں لومبار سے بات کررہی تھی. .. لنڑا نے بلو ٹوتھ اتار کر مسکرا کر کہا تھا. .
مگر ہمیں تو گروپ کے لوگوں سے بات کرنا منع ہے. .. نیناں نے حیرت سے کہا تھا. .کیوں کہ اسے یاد تھا کہ سر بیٹراس ٹیلر نے سختی سے منع کیا تھا کہ جب تک مشن کمپلیٹ نا ہوجائے انہیں کسی کو نہیں اپنے پلین کے بارے میں بتانا تھا نا ملنا تھا. ..مگر ان دونوں نے بھی تو رول بریک کیا تھا. ..نیناں تو کیس حل ہونے تک نہیں ملنا چاہتی تھی مگر لنڑا کے اسرار پر وہ مان گئی تھی. .اب پچھلے کچھ دنوں سے تو وہ اس کے پیچھے ہی پڑی رہتی تھی. …
کیس کے ریلٹڈ نہیں کی بات یار. ..چلو ریسٹ کرو میں بھی اپنے روم میں جاتی ہوں. .. لنڑا اور سوالوں سے بچنے کے لیے بے زاری سے کہتی باہر نکل گئی تھی. .س اتھ ہی بلو ٹوتھ واپس کان میں فٹ کئے تھے. …
■■■■■■■■■
Past ★★
وہ تینوں ط اب الگ الگ بینڈرک کے بارے میں پتا کرنے کی کوشش کررہے تھے مگر حیرت کی بات تھی وہاں کسی کو بھی اسکے بارے میں نہیں پتا تھا. … لوگ تو بس پارٹی انجوائے کررہے تھے. …
ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں ہے ہی نہیں. …ریا نے جھنجھلا کر دهمیی آواز میں کہا تھا. …
ریا تم کس طرف نکل گئی ہو. .نظر کیوں نہیں آرہیی. … راجر کی آواز بلو ٹوتھ میں گونجی تھی. …
آفففف اس ٹائم مجھے نہیں بینڈرک کو ڈھونڈیں. .. ریا نے تپ کر کہا تھا. .
اکسیوز می. .. ابھی راجر کچھ کہتا کہ ریا کو اپنے پیچھے کسی سنوائی آواز آئی تھی. .
ہائے. . ایمان ہائیشم ریا نے بھی مسکرا کر ہاتھ ملایا تھا
نیناں سلطان. .. مقابل کھڑی لڑکی نے بی مسکرا کر کہا تھا. … مگر کیونکہ ان دونوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے جبهی چہرے نہیں دیکھ سکی تھی. .. وہاں کئی لوگوں نے سٹائلش ماسک پہنے ہوئے تھے. .جبھی ان تینوں نے بھی پہن لئے تھے. .
آپ بینڈرک سر کو ڈھونڈ رہی تھی. ..نیناں نے بغور اسکا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا. .
جی. . وہ آئے نہیں پارٹی میں تو بس اسی لیے. .. پہلے تو ریا کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہے پهر یہی کہہ دیا تھا. …
ہاں وہ ادھر باہر کی طرف ہیں اپنے کسی دوست کے ساتھ. ..نیان نے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. .. اسے یہ لڑکی کوئی مشکوک لگ رہی تھی. ..جسے وہ ہر کسی سے الگ بلو ٹوتھ پر بات کررہی تھی. .اوپر سے اسکا بینڈرک کو ڈھونڈنے کا سن کر اسے شک ہوا تھا. .جبھی وہ اسے بینڈرک کے پاس جانے کا کہہ رہی تھی. .کیونکہ اگر وہی ریا یا ان کی گینگ کی کوئی ہوتی تب ضرور اپنے ساتھیوں کو بھی بتاتی اور وہی سب وہاں جاتے. .. اور وہاں بینڈرک تو تھا مگر وہ ایک ان دیکھا جال بھی تھا. .. اگر وہ وہاں چلی جاتی اور ریا ہوتی تو اپنے ہی پلین میں مرتی. …
راجر کیا جائیں ادھر. .. ریا نیناں سے دور ہوتی دهمیی آواز میں ادھر ادھر دیکھتی بولی تھی. …
تم جاؤ ہم آتے ہیں. ..دھیان سے اگر وہاں بینڈرک ہے تو وہاں سیکورٹی ٹف ہوگی. … یہ نا ہو اس کو مارتے مارتے ہم ہی پهس جائیں. .جواب راج نے دیا تھا. …
ریا ایک نظر چاروں طرف ڈالتی باہر ایک بہت بڑے ہال کی طرف بڑھی تھی. …
سر وہ لڑکی باہر ہی کی طرف آئی ہے. .میں شور نہیں ہوں. .مگر مجھے شک ہوا. .. اس کے جاتے ہی نیناں نے کہا تھا. … دوسری طرف کا جواب سن کر وہ مطمئن سی ہوتی ..اب ڈرنک کررہی تھی. …….
کون کہتا ہے انسان کو مارنا دشوار ہے
لہجہ بدل, تیور بدل, نظریں بدل اور مار دے.
■■■■■■■
زندگی تیرا سبھی حسن بجا ہے لیکن
جوتجھے غور سے دیکھے گا دہل جائے گا
وہ اندر ہال میں داخل ہوئی تھی. ..مگر سامنے اس وائیٹ ڈرس لڑکے کو دیکھ کر تیوری چڑھا کر دوسری طرف چلی گئی تھی. …
ہال میں زیادہ لوگ نہیں تھے. .. کافی سیکورٹی بھی تھی. .. وہ ایک طرف کھڑی ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں پکڑ کر گھماتے ہوئے چاروں طرف کا موازنہ کر رہی تھی. .. اسے وہ چھ کے چھ لڑکے ادھر نظر آگئے تھے. .. جن میں سے صرف ایک کے چہرے پر ماسک تھا. … دور سے ہی اسے راج آتا نظر آیا تھا کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ. …
مگر راجر کہیں نہیں تھا. …وہ گلاس منہ سے لگائے اپنے شکاری کو دیکھ رہی تھی. .جو ایک انگریز لڑکی کے ساتھ ہنس کر بول رہا تھا. …
یہاں تو لوگ ہیں. … سب کے سامنے تو مار نہیں سکتے. … راج کی آواز بلو ٹوتھ میں گونجی تھی. …
ریا اب گلاس سامنے ٹیبل پر رکھے جہاں بینڈرک تھا ادھر چلی گئی تھی. …
مرے گا تو آج ہی. .. راجر کی آواز دوبارہ گونجی تھی. …
مگر. ..یہ تو کسی کے نشانے پر ہے. .ریا نے جیسے ہی اسکی گردن پر ریڈ لائیٹ اسکی گردن پر دیکھی جبھی فکرمندی سے بولی تھی. ….
مگر تب ہی راج آکر بینڈرک کے سامنے کھڑا ہوا تھا. .جانتا تھا اب شوٹر شوٹ نہیں کرے گا. .کیونکہ اسکا نشانہ تو بینڈرک تھا. … مگر عین اسی وقت اسکو اپنے کندھے پر بہت درد محسوس ہوا تھا. … اور وہ درد سے گھٹنوں کے بل نیچے گرا تھا. سلائینسر گن تھی جبھی آواز نہیں آئی تھی. ..یقیناً شوٹر نے پہلے شوٹ کیا تھا تب ہی راج آیا تھا. …
ریا نے جیسے ہی اسے گرتا دیکھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی. عین اسی وقت لائیٹ دو منٹ کے لیے بند ہوئی تھی. ….. کئی لوگ اب ان کے پاس جمع ہوگئے تھے. .. راج نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے ٹھیک ہوں کا اشارہ کیا تھا. اور جانے کا کہا تھا. ..کیونکہ اس وقت سب کا دھیان اسکی طرف تھا. .. ریا نہ چاہتے ہوئے بھی الٹے قدم پیچھے ہوئی تھی. .. اور جا کر اب بینڈرک کے سامنے کھڑی ہوئی تھی. ..مگر جہاں پہلے بینڈرک تھا اب ادھر کوئی نہیں تھا. ..
یہ کدھر گیا ہے. وہ حیرت اور فکرمندی سے بولی تھی. ..
راجر جواب کیوں نہیں دے رہا. .اسنے حیرت سے کان پر ہاتھ رکھا تھا مگر وہاں بلو ٹوتھ نہیں تھا. ..
مائے گاڈ. .. یہ کدھر گیا. … وہ اب پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. .. راج کو تو گولی لگ گئی تھی. . اب اسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا. .. اور راجر. .وہ کہیں نظر ہی نہیں آرہا تھا. …
وہ اب ہر جگہ راجر کو ڈھونڈ رہی تھی. .حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ دوسرے لوگوں میں سے بھی کوئی ادھر نہیں تھا. ….
وہ پریشانی سے اب گھوم رہی تھی. …….
■■■■■■■
ہال کے ایک کونے میں بالکل بینڈرک کے پیچھے وہ کھڑا تھا. … راج کو گولی لگتے بھی اس نے دیکھا تھا. …. پھر اسنے یہ بھی دیکھا تھا کہ. . ریا کے جلدی میں نیچے بیٹھنے کے چکر میں اسکے کان سے بلو ٹوتھ نیچے گرا تھا … اور اتنے ہی جلدی وہ ایک ماسک پہنے لڑکی نے اٹھا کر آف کرکے ٹرش کیا تھا. ..
اور اسی وقت لائیٹ گئی تھی. .جب راجر نے بہت اچانک بینڈرک کے منہ پر کپڑا رکھا تھا. .مگر اسکے ہاتھ پر ایک اور ہاتھ آیا تھا. .. اب وہ دونوں اس بہوش کو پکڑے ہوئے تھے. .. جب دوسرے لڑکے نے ہاتھ ہٹا لیا تھا شاید وہ جان گیا تھا کہ ان دونوں کا ایک ہی گول ہے. .. اور لائٹ بھی شاید اسی کے کسی بندے نے بند کی تھی. ..
وہ دونوں اسے لئے بیک ڈور سے نکل کر ویلا کے بیک سائیڈ آئے تھے. ..اور بینڈرک کو لا کر زمین پر پھینکا تھا وہاں وہ دوسرے پانچ لڑکے پہلے سے ہی ادھر موجود تھے ان میں سے ہی ایک نے جگ میں موجود پانی اسپر پھیکا تھا. ….
وہ بڑبڑا کر اٹھا تھا اور خود کو ان ساتھ لڑکوں کے درمیان میں پایا تھا ان سب کی گن کا رخ بینڈرک کی ہی طرف تھا. …..
بلکل گهنجے سر والا بینڈرک پہلے تو ڈر گیا تھا. ..مگر پھر نا محسوس انداز میں اسنے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر کلک کیا تھا
تیرا وقت ختم ہوگیا بینڈرک ڈینل. ….. راجر نے پسٹل لوڈ کرتے ہوئے کہا. ….
ہینڈز آپ. .. اس سے پہلے وہ ٹریگر پرس کرتا کے اس کے سر کے بیک پر کسی نے پسٹل رکھا تھا. … اسنے اپنا پسٹل بینڈرک سے دور کرتا ہاتھ اوپر کرتا پیچھے مڑا تھا. ..
وہ باقی کے لڑکے بھی نشانہ پر تھے. … انہوں نے بھی ہاتھ اوپر کر لئے تھے
راجر پیچھے مڑا تھا. …. اسکے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی جس نے اسکے سر کا نشانہ لیا ہوا تھا. … راجر کو ایک منٹ لگا تھا. ..پہچاننے میں کہ وہ وہی لڑکی تھی جس نے ریا کا بلو ٹوتھ اٹھا کر پھینکا تھا. …
وہ نیناں سلطان تھی. …..
یہ جو میں ہوں. ….زرا سا باقی ہوں
وہ جو تم تھے. ….وہ مر گئے مجھ میں
میرے اندر تھی. …ایسی تاریکی
آکے آسیب بھی. …ڈر گئے مجھ میں
کیسا ….مجھ کو بنا دیا تو نے
یہ کیسے…. رنگ بهر دیئے مجھ میں ؟؟
