54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

تجھے تو یوں بھی بٹھا لیں گے لوگ آنکھوں پر !
حسین شخص ! تجھے میری کیا ضرورت ہے
وہ آپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا. .جس کا چہرہ ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا. .. بهوری بڑی بڑی آنکھیں نظر آرہی تھی. .. وہ اپنے ریوالور کا رخ اسکی طرف کئے ہوئے تھی. …
اب بھاگے کا کوئی رستہ نہیں ہے تم لوگوں کے پاس …. سرنڈر کردو. .. نیناں نے اپنے سا، نے کھڑے راجر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..
اسے نظر اٹھا کر اسنے اپنے چاروں طرف دیکھا تھا. …مگر کوئی راستہ نہیں بچا تھا. … اسے سرنڈر کونا ہی پڑا تھا. … ایک ہاتھ اوپر کئے وہ نیچے پسٹل رکھنے جهکا تھا. ….. ..
نیناں مطمئن ہوتی اب دوسرے لڑکوں کی طرف مڑی تھی. ..جب اچانک ہی راجر نے اسکے ہاتھ سے پسٹل لیتے اس پشت کو اپنے سینے سے لگائے اسکا ہی پسٹل اسکے سر پر رکھ دیا تھا. .. یہ سب کچھ سیکنڈز میں ہوا تھا. …نیناں کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ اسکے ساتھ ہوا کیا تھا. …. وہ راجر کی گرفت سے نکلنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی. .مگر بے سود. ….
تم اسے چھوڑ دو …… ورنہ تمہارے سارے ساتھی مارے جائیں گے. …. لومبار نے ایک لڑکے کے ماتھے پر پسٹل رکھ کر کہا تھا. ….
مجھے یہ بینڈرک دے دو. ..میں اسے چھوڑ دوں گا. .ورنہ یہ ماری ہی جائے گی بے وجہ. .. راجر نے اپنے بازو جو اس کی گردن پر لپٹا ہوا تھا. .پر زور دیتے ہوئے بینڈرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا. … ..
اچانک ان چھ لڑکوں میں سے دو نے خود کو چهڑا لیا تھا. .. اور ایک پسٹل ان سیکورٹی فورسز دوسرا بینڈرک کی طرف موڑ لیا تھا. …..
سرنڈر ہم نہیں تم لوگ کرو. ..پسٹل جلدی نیچے کرو نہیں تو. .یہ تین بے گناہ مارے جائیں گے. جو میں نہیں چاہتا. ..راجر نے باقی کے دو مردوں کو جنہوں نے اب بھی ان لڑکوں کو پکڑا ہوا تھا. ..دیکھ کر کہا تھا. ..اس کی بات سنتے ہی. … لومبار اور بل نے پسٹل نیچے رکھ دئے تھے. ….
چلو دوستوں. … اب اس کمینے کو گڈ بائے کہو. … اسے مرنا ہی ہوگا. .. راجر نے کہنے ساتھ کئی گولیاں بینڈرک کے آر پار کی تھی. …..
وہ جو دو سیکورٹی اہلکار کے درمیاں اب وہاں سے نکلنے لگا تھا، مگر راجر کی پسٹل سے نکلی گولیاں اس کی پشت پر لگی تھی. ..اسکا وائیٹ قیمتی ڈرس کچھ لمحوں میں لہو رنگ ہوا تھا. ..وہ منہ کے بل نیچے گرا تھا. …
اور پھر ہر جگہ فائرنگ شروع ہوگئی تھی. … راجر نے ایک بازو سے نیناں کو پکڑا ہوا تھا. .جبکہ دوسرے سے وہ بھی فائرنگ کررہا تھا. ..نیناں مسلسل خود کو اسکی گرفت سے نکالنے کی تگ و دو میں تھی مگر وہ اپنا اور اسکا دفاع بھی کررہا تھا. ..
کچھ ہی دیر میں وہاں صرف وہ دو رہ گئے تھے. ….. وہ چهه کے چھ افراد بھی مارے جا چکے تھے. .. سیکورٹی اہلکار میں سے کئی زمین پر پڑے کہرا رہے تھے. ..
راجر نے ایک نظر خون میں لت پت بینڈرک کو دیکھ کر طنزیہ مسکراہٹ اسکی لاش پر ڈال کر نیان کی طرف متوجہ ہوا تھا. .وہ کب سے چلا رہی تھی. ….
وہ کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتا رہا تھا. .. پھر کچھ سوچتا اپنا گال اسکی گردن پر پھیرتا آنکھیں موند گیا تھا. وہ کچھ لمحیں سب بھول گیا تھا. … کچھ سیکنڈز اسکی مدہوش کردیئے والی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا جهٹ سے اسے دھکا دینے والے انداز میں چھوڑ گیا تھا. ..
نیناں کو کافی دیر سے خود کو چهروانے کی کوشش کر رہی تھی. .اسکے اچانک سے چھوڑنے پر گرتے گرتے بچی تھی. ..
جاو لڑکی تمہیں معاف کیا. .. ورنہ ان کتوں کی طرح تم بھی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوتی. … عورت کو جنگ میں مارنے کا حکم نہیں ہے. .. اس لئے چھوڑ رہا ہوں .. اسکو چھوڑتے ہی بالکل سٹاپ لہجے میں کہتا گن لوڈ کرتا اندر کی طرف بڑھا تھا. .
ٹاههه. ..مگر اگلے ہی لمحے میں لڑکھڑایا تھا. ..نیناں کی پسٹل سے نکلنے والی گولی اسکی ٹانگ پر لگی تھی. .. اس نے خود کو گرنے سے بچا لیا تھا. .. اسے ابھی نہیں گرنا تھا. ..ابھی ریا اور راج کو سہی سلامت دیکھنا تھا. …وہ نہیں گرنا چاہتا تھا. …
عورتوں کو مارنے کا حکم نہیں ہے نا. .مردوں کو مارنے کا تو ہے. …. نیناں نے سٹاپ لہجے میں کہا تھا. …
وہ مڑا تھا پیچھے. …. ٹانگ پر شدید قسم کا درد ہورہا تھا. ..کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا. ..
تمہیں بھی مار دینا چاہیے تھا. …. غلطی ہوگئی. . تلخ مسکراہٹ اسکے لبوں پر رینگ گئی تھی. ..
سرنڈر کردو. .. شاید سزا میں کمی ہوجائے. ..نیناں نے ایک دفعہ اور کوشش کی وہ اسے مارنا نہیں چاہ رہی تھی. .وہ بس چاہ رہی تھی کہ وہ سرنڈر کردے. ..مگر سامنے بھی راجر تھا. ..
سرنڈر نہیں کروا سکو گی ….. نا ختم کر سکو گی مجھے تم. .. بے وجہ کا وقت مت برباد کرو. … میری اندر ضرورت ہے. ….راجر طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھلالتا بولا تھا. …
ہاہاہا. …کس کو ضرورت ہے تمہاری. ..کوئی نہیں بچا. .. تمہارے سب ساتھی مارے گئیں ہیں. … وہ لڑکا اور لڑکی دونوں سرنڈر نہیں کررہے تھے. .مجبوراً ان کا انکائونٹر کرنا پڑا. ..نیناں نے ہنستے ہوئے کہنے ساتھ پسٹل کا رخ اسکی طرف کیا تھا. ….. ہاتھ کامپیں تھے مگر وہ نظر انداز کر گئی. ….
راجر کا دماغ شل ہوگیا تھا. …. وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوا تھا. …. آنکھیں لال ہوگئی تھی. .اگر یہ سچ تھا تو وہ کیوں زندہ تھا. ….نہیں ایسا نہیں ہوسکتا تھا. …
سرنڈر کردو. … نیناں کی آواز ایک دفعہ پھر آئی تھی. ..، وہ اس کی طرف مڑا تھا. ..نیناں کو اسکی آنکھوں میں ایک کرب نظر آیا تھا. .عموماً تو ایسے لوگ ہر جذبات سے عاری ہوتے تھے. .مگر وہ. … اسکی آنکھوں میں دکھ کے آثار واضح تھے. ..اسنے اپنی پسٹل کا رخ نیناں کی طرف کیا تھا. ..ٹریگر پر انگلی رکھ کر چلائی تھی. .
ٹهاہ ……ٹهاہ….. ٹهاہ. … ٹهاہ، ،، چار گولیاں ایک ساتھ چلی تھی. … دو . پسٹل گرنے کی آواز ایک ساتھ آئی تھی. ……
وہ منہ کے بل نیچے گرا تھا. .. منہ زمین پر لگتے ہی کافی خون منہ سے نکلا تھا. ..ماسک نے اب تک وفا نبھائی ہوئی تھی. .چہرہ اب بھی چھپا ہوا تھا. .. پسٹل ہاتھ سے گری تھی. .اسکا ایک ہاتھ پسٹل پر ہی تھا. …. آنکھیں تکلیف کے باعث کھل بند رہی تھی. .. دماغ میں دو ہی چہرے تھے. … راج اور ریا کے. ..خون تیزی سے پھیل رہا تھا. …
نیان کے ہاتھ سے بی پسٹل گر گیا تھا. … وہ حیرت سے کبھی اپنے ہاتھ اور کبھی راجر سے خون میں لت پت وجود کو دیکھ رہی تھی. …. اسے نہیں پتا چلا تھا کہ کب ایک باغی آنسو دغا دے گیا تھا. .. وہ نہیں چاہتی تھی اسے مارنا. … وہ ایک سیکرٹ ایجنٹ تھی. .کئی سالوں سے مجرم کو سزا دینے میں گزار دئے تھے. .وہ مجرم کو ایک نظر میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتی تھی. ..اور اسے راجر کہیں سے مجرم نہیں لگا تھا. …
مرے مرے قدموں کے ساتھ وہ اسکے پاس نیچے بیٹهی تھی. … راجر نے آنکھیں کھول کر ایک بار اس ماسک لگی لڑکی کو دیکھا تھا. .جسے اس نے چھوڑ دیا تھا. .یہ جانے بغیر کہ وہ ہی اسکی موت بن سکتی تھی. … طنزیہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر رینگی تھی. .. جسے ماسک نے نمودار ہونے کی اجازت نہیں دی تھی. … اسنے اپنا ہاتھ راجر کے چہرے پر لے جانے کے لیے آگے کیا تھا. . اسکا ماسک اتارتے ہوئے اسکے اپنے ہاتھ خون سے لال ہوگئے تھے. …… ابھی ماسک اتارتی کے پیچھے سے کسی نے اسکے سر پر پسٹل مارا تھا. … آدھا اترا ماسک رہ گیا تھا. .. وہ ایک ہاتھ سر پر رکھے مڑی تھی. …. مگر سر سے اٹھتی ٹیس کے باعث وہ نیچے گر گئی تھی. .. آنکھیں بند کرنے سے پہلے اسنے اپنے پیچھے کھڑا وجود کو دیکھا تھا. … اسے اسپر کسی اپنے کا گمان ہوا تھا. …. وہ سہی سے پہچان نہیں سکی تھی. …. مگر اسے لگا تھا کہ وہ اسے جانتی تھی. … آنکھیں بند ہوگئی تھی. …..
دل نے وحشت گلی گلی کرلی
اب گلہ کیا بہت خوشی کرلی
یار. .دل تو بھلا کا تھا عیاش
پهر اس نے کیسے خودکشی کر لی
■■■■■■
راجررر. .. ریا چیختی اس تک پہنچی تھی. …. اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹهی تھی. … اسکی سانس جیسے بند ہورہی تھی. .. اسے لگا آج عائشہ. ..آریان. ہائیشم کے بعد وہ ایک اور اپنے کو کهو دینے والی تھی. … وہ ضبط نہیں کرسکی تھی. ..وہ چلا کر روئی. …….
ریا. … آٹهو. ..ہمیں ابھی نکلنا ہوگا. ..پولیس کسی بھی وقت آتی ہے. ..جلدی کرو. .راج نے اسکی گود سے راجر کو اٹھاتے ہوئے کہا. …
مگر راجر. … وہ اب بھی راجر کو دیکھ رہی تھی. …
اسے کچھ نہیں ہوگا. ..سانسیں چل رہی ہیں. … پکڑو اسے. … راج بولنے ساتھ. .. بیک ڈور کی طرف بڑھا تھا. .. ایک طرف سے ریا نے سے سہارا دیا تھا. … کچھ ہی دیر میں وہ اس ویلا سے نکل آئے تھے. . سامنے ہی ایک گاڑی تیار کھڑی تھی. ..جیسے انہی کے انتظار میں ہو ….
ریا پہلے بیٹهی تھی. ..پھر راج نے راجر کو بیٹھایا تھا. ..اسکا سر ریا کی گود میں تھا. .. ڈور بند کرتے وہ خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا. … ڈرائیور نے گاڑی فل سپیڈ پر دوڑا دی تھی. …
کچھ ہی دیر بعد وہ راج پیلس میں تھے. … راجر کو کمرے میں لیٹانے کے بعد وہ ادھر ہی بیٹھ گیا تھا. .. ڈاکٹر کو پہلے ہی اسنے گھر آنے کا بول دیا تھا. ..جو ان کا دوست بھی تھا. ..اور اب وہ ان سے پہلے ادھر تھا. …
سروائو کرنا مشکل ہے. … ہاسپٹل ایڈیٹ مرنا پڑے گا. … امن نے راج کی طرف پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا جسکی نرس ڈریسنگ کررہی تھی. …
جلدی کرو پھر. .. یہ تمہاری انڈر ہی ہوگا. ..پولیس کیس نہیں بننا چاہیے. .. بولتے ساتھ وہ امن کی مدد سے راجر کو اٹھا کر گاڑی میں بیٹھا چکے تھے. … خون روکنے کے لیے پٹی تو کر دی تھی. ….
کچھ ہی دیر بعد وہ ہاسپٹل میں تھے. …. اسکے بعد راجر کا پراپر ٹریٹمنٹ ہوا تھا. ..تقریباً دو مہینے بعد وہ پہلے جیسا ہوا تھا. …. ریا نے آوٹ آف کنٹری کا گھر بتا کر وہ کئی دن ادھر ہی رہی تھی. … اور پھر راجر ریکور ہورہا تھا. … انہوں نے صرف بینڈرک کو مارنا تھا. . جو وہ مار چکے تھے. ….. خبروں کے زریعے ہی انہیں پتا چلا تھا کہ بینڈرک مارا گیا ہے اور یہ بھی کیسے مارنے آنے والے نو کے نو افراد بھی مارے گئے تھے. . اب وہ دنیا کی نظر میں مارے گئے تھے
ادھر نیان کو کچھ دن بعد ہوش آیا تھا. ..زخم گہرا ہونے کی وجہ سے کئی دن وہ کومے میں رہی تھی. … ہوش میں آنے کے بعد اسے پہلی خبر یہی ملی تھی کہ وہ گینگ مارا گیا تھا. .نجانے کیوں مگر اسے اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی جتنی ہونی چاہیے تھی. …وہ خاموش ہی رہی تھی. …. پھر کچھ سال گزر گئے. .وہ واپس روٹین میں آگئی تھی. ..وقت کے ساتھ ساتھ وہ کیس بھی ایک کامیاب کیس کی حد تک رہ گیا تھا. ..وہ بھول چکی تھی. …..
تمہارے بعد یہ خسارا ہوا
ہمارا دنیا سے بے کنارہ ہوا
ہماری جنت میں جگہ بنتی ہے
دنیا میں جو حشر ہمارا ہوا
برباد کر کے پوچھا نہیں کرتے
کیسے گزری کیسے گزارا ہوا
گر کر سنبھلتا رہا میں خود ہی
ہم کو میسر نا سہارا ہوا
باہر نکل کر تیری گلی میں
کوئی پھرتا رہا مارا ہوا
وہ جس سے سب کو نفرت تھی.
منیر وہ شخص جدا کو پیارا ہوا
■■■■■■
وہ آنسو ضبط کرتی آکر گاڑی میں بیٹھی تھی. …کچھ ہی دیر میں کیا ہوگیا تھا. ..علیزے ریان سے وہ علیزے وائز بن گئی تھی. .. اب رات بھی گہری ہوگئی تھی. ..اسے رونا آرہا تھا. …. واہ کہاں پهس گئ تھی. ….
وائز بھی آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا. ..گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا. …ایک نظر ان سے علیزے پر ڈالی تھی. ..جس کا نچلا ہونٹ بار بار باہر آرہا تھا. .. صاف ظاہر تھا کہ وہ رونے کی تیاری کئے بیٹهی تھی. …. دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے مسلتے وہ دیکھ سامنے رہی تھی. …
وائز بلکل سنجیدگی کے ساتھ گاڑی ڈرائیو کررہا تھا. .. مگر دل خوشی سے جھوم رہا تھا. .. جیسے نجانے کیا پا لیا ہو. .اب جو بھی تھا جیسا بھی تھا. ..وہ اسی کی تھی. …. اور یہی خیال اسے سرشار کرگیا تھا. .جسے اسنے بری طرح نظرانداز کیا تھا. .. وہ ابھی تک نہیں جان پایا تھا کہ اس نے اسے نکاح کیا ہی کیوں. … وہ نہیں مان رہا تھا کہ وہ اسکی محبت بن گئی تھی. …یا شاید وہ جان کر بھی انجان بن رہا تھا. .
اب تو مجھے اتار دیں. .. علیزے کی بھرائی ہوئی آواز نے خاموشی توڑی تھی. ..
کدھر اتار دوں. .دیکھ نہیں رہی رات ہوگئی ہے. … سامنے ہی دیکھتے سنجیدہ لہجے میں بولا تھا. …
مجھے کچھ نہیں پتا بس اتار دیں. .. وہ ضدی لہجے میں بولی. ….
ڈنر کرلو. ..اتار لوں گا پھر. … وہ جانتا تھا کہ کب سے بھوکی ہے وہ جبھی بولا تھا، ..رت بھی بہت ہوگئی تھی. ..اسے بھی بھوک لگ رہی تھی. ….
نہیں کھانا کچھ بھی. …. بےدردی سے الٹے ہاتھ سے گال سے آنسو صاف کرتی غصے سے بولی تھی. ..یا جانے انجانے میں وہ وائز کے غصے کو ہوا دے گئی تھی. …
سمجھ نہیں آررہی ایک دفعہ کی. … وائز نے اسکی طرف دیکھتے غصے سے کہا تھا. …
مجھے اتار دیں پلیززز. ..نہیں جانا کہیں آپ کے ساتھ. .مجھے. …….
اترو نیچے. ..وائز نے اسکی بات کاٹ کر گاڑی سڑک کے کنارے روکتا سٹاپ انداز میں بولا. …
علیزے نے ایک نظر سڑک کو دیکھا تھا. ..جو قدرے ویران تھا. ..دوسری نظر وائز پر ڈالی تھی. ..جو اسے غصے سے دیکھ رہا تھا. …
وہ سیٹ بلٹ کھولتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی تھی. … بس اسے وائز سے دور جانا تھا. .. اور جدھر جیسے بھی جاتی. …. لگاتار بہنے والے آنسوؤں سے گال سے صاف کرتی وہ گاڑی سے دور فٹ پاتھ پر آگئی تھی. …
وائز کچھ لمحے اسے غصے سے دیکھنے کے بعد. .لاپرواہی سے گاڑی فل سپیڈ سے بھگا کر لے گیا تھا. ….
اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی تھی. …. اسکے پرس میں نجانے کدھر رہ گیا تھا. .نا پیسے تھے نا ہی موبائل. .. وہ بے بسی سے ادھر ہی بینچ پر بیٹھ گئی تھی. .
اس
سُنو یہ چند لمحے ہیں.!
محبت سے بسر کر لو.!
عین ممکن ہے..!
ہوا کے دوش پر اِک دِن.!
تمہیں پیغام یہ آئے..!
وہ جِن کی جان تھے نا تم.!
وہ جاں سے ہار بیٹھے ہیں.!
■■■■■■
وہ واڈروب کھول کر کھڑی تھی. .. اندر سارے کیجول کپڑے تھے. .بلکل ویسے جیسے وہ پہنتی تھی. ..ہر چیز اسکی پسند کی ہی تھی. ..وہ حیرت سے سب کچھ دیکھ رہی تھی. … مگر وہ جو ڈھونڈ رہی تھی وہ اسے نہیں مل رہا تھا. … وہ پریشانی سے ہر چیز ٹٹول رہی تھی. …
ڈنر اسنے اپنے کمرے میں کیا تھا. ..اسکے بعد ہی راج اسے کسی گڑیا کی طرف اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا تھا. .. اور اب وہ بے چاری اس کے کمرے میں رہنے کی خود میں ہمت پیدا کرتی. . وادروب کے سامنے کھڑی خوار ہو رہی تھی. ..
جبھی اسے اپنے پیچھے بہت قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا. … وہ ایک دم پیچھے مڑی تھی جس کے نتیجے میں وہ اسکے سینے سے لگی تھی. ..
آپ. …آ ادھر. .کیا کررہیں ہیں. ..وہ ایک ایسے دور ہوتی واڈ روب سے لگی تھی. .. سہمی نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی. …
وہ خاموشی سے اسکے اور قریب ہوا تھا. .. دونوں ہاتھ اسکے ارد گرد رکھتے اس کے چہرہ کے پاس اپنا چہرہ لے کر گیا تھا. …. الیانہ نے سہم کر آنکھیں بند کر لی تھی. ….
راج نے الٹے ہاتھ کی طرف کبڈ کھول کر … ریڈ نائیٹی نکالی تھی. …
کچھ دیر وہ ویسے ہی کھڑا اسے قریب سے دیکھتا رہا. .. اسکی میچی ہوئی آنکھیں. ..کپکپاتے ہونٹ اسے اپیل کررہے تھے. … مگر وہ الیانہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا. …
اسی لئے ہلکے سے اپنے ہونٹوں سے اسکا گال چھوتا پیچھے ہوا تھا. ….
یہ لو. .چینج کرلو. … کافی رات ہوگئی ہے …پھر سوتے ہیں. .. اسکے کچھ دور ہوتا. .. الیانہ کا کپکپاتے ہاتھ میں نائیٹی پکڑاتا دھیمی آواز میں گویا ہوا. .
الیانہ نے ہلکے سے آنکھیں کھول کر نائیٹی کو دیکھنے کے بعد. .. بے ترتیب سانسوں کے ساتھ چینجنگ روم میں بهاگ گئی تھی. ….
راج بھی اپنا نائیٹ سوٹ لیتا واش روم میں چلا گیا. ….
تقریباً دس منٹ بعد وہ فرش سا باہر آیا تھا. ..مگر سامنے سا منظر دیکھ کر اسکا دماغ ہی آوٹ ہوگیا تھا. ….
الیانہ کمفٹر لیٹے صوفے پر سونے کا شغل فرما رہی تھی. …تهوڑے سے بالوں کے علاوہ وہ ساری کمفٹر میں دبکی ہوئی تھی. ….
رپینزل. ..اٹهو بیڈ پر سو. ..اسکے پاس آتا … غصہ ضبط کرتا. .قدرے تحمل سے بولا. ..
مگر وہ ہنوز ..سوئی بنتی رہی. ..
مجھے پتا ہے تم جاگ رہی ہو. ..جلدی آٹھ کر بیڈ پر جاو. .. سختی پر مجبور مت کرو. .. اسے زرا نہ ہلتا دیکھ کر سختی سے بولا تھا. …
الیانہ نے آنکھیں زور سے بند کرلی تھی. ..وہ کسی صورت اس کے ساتھ بیڈ پر نہیں سونا چاہتی تھی جبھی اس کے آنے سے پہلے ہی سوتی بن گئی. .مگر وہ بھی راج تھا. ..اپنے نام کا ایک. ……
راج نے ایک بار پھر اسے ڈهیٹ بنتا دیکھ کر. ..خود آگے بڑھ کر اسے کمفٹر سمیت اپنے مضبوط بازوؤں میں آٹها کر بیڈ کی طرف بڑھا تھا. ..
چهوڑوو پلیززز. .. الیانہ تواسی سے ڈر رہی تھی. . تبھی چلا کر ہاتھ پاؤں مارتی بولی. ….
آج کے بعد خود ہی ادھر آجانا. .. ورنہ تم مجھے بهاری بلکل نہیں لگی ہو. …. اس کو بیڈ پر لٹاتا. … بولا تھا. ..
الیانہ جهٹ سے اٹھی سے. … دل زوروں سے دھڑک رہا تھا. … وہ پیچھے کی طرف کھسکتی کمفٹر مضبوطی سے تھام گئی تھی. ..بال بیڈ پر بکھر سے گئے تھے. .
ی یہ. ..کیا کررہیں. …پلیزز چھوڑیں. …..راج نے خود بھی لیٹتے. ..اسکو دوسرے کمفٹر سے آزاد کرتا. .اپنے قریب کرکے اپنا کمفٹر اسپر بھی ڈال دیا تھا. .جبھی وہ غصے سے چلاتی بولی تھی. ..اسکی پشت راج کے سینے سے لگی ہوئی تھی. . راج کے دونوں ہاتھ اسکے پیٹ پر باندھے ہوئے تھے. …
رپینزل. ..سو جاؤ یار. …کیوں. . آزمانا چاہ رہی ہو. .. اب آواز آئی تو سب بھول جاؤں گا. .پھر میں سونے نہیں دوں گا رات بھر ..تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ خاموشی سے سو جاؤ. …… اسکی گردن سے چہرے ہی کی مدد سے بال ہٹاتا ادھر اپنا چہرہ رکھتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا. .. آواز مچلتے جذبات کے تحت بهاری ہوگئی تھی. .سانسیں سے بهاری سی تھی. … یہ محبوب کی قربت کا اثر تھا. ..کچھ ملکیت کی خماری بھی تھی. .. وہ اسکا عشق. .. اسکا سکون. .. اسکی محرم بن چکی تھی. …. سرشاری خون کی مانند رگوں میں دوڑ رہی تھی. ….
الیانہ سے زور سے آنکھیں میچ لی تھی. …. سانسیں بهاری ہوگئی تھی. .. اسے غصے کے ساتھ ساتھ رونا بھی آرہا تھا ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں کو مسل کر خود کو ریلکس کررہی تھی. .. مگر کچھ سیکنڈ بعد پیاسے اپنے پاؤں پر راج کا پاؤں محسوس ہوا. … اسے بند آنکھوں کے ساتھ ہی دونوں پاؤں دور کئے تھے. …
سو جاؤ یاررر. … راج کے گرفت اور مضبوط کرتے سختی سے کہا تھا. ….
اسے کہاں یوں نیند آنی تھی…بس اسے حرکت کرنا بند کردیا تھا. ..اگر سونے کی ناکام کوشش بھی کررہی تھی. …..
ہم تھے ٹھہرے ہوئے پانی پہ کسی چاند کا عکس
جس کو اچھے بھی لگے اس نے بھی پتھر پھنیکا💔
■■■■■■■