Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
سنا ہے مجھ سے دامن چھڑانا چاہتے ہو
اب سفر پے کسی اور کے ساتھ جانا چاہتے ہو
میں نے پہلے کب _ روکا ہے یار تجھ کو
جا سکتے ہو تم اگر سچ میں جانا چاہتے ہو
وہ چاقو واپس رکھتا دروازے سے باہر نکلا تھا. ..وہ حیران رہ گیا تھا. ..وہاں کوئی نہیں تھا. …. ایسا ہی نہیں ہوسکتا تھا. … وہ غلط نہیں پہچان سکتا تھا نیناں کی خوشبو اس کا احساس. … مگر وہاں کوئی نہیں تھا. …. اسنے ماحول پر غور کیا. ..میوزک کی کوئی آواز نہیں آرہی تھی. … ابھی کچھ دیر پہلے والا کلب تو لگ ہی نہیں رہا تھا. … بلکل خاموشی تھی. ….
ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا. ..کارلوس شاید اب بہوش ہوگیا تھا. ..چہرے پر ایک پرسرار مسکراہٹ پھیل گئی تھی …. اسے پتا چل گیا تھا کہ نیناں آئی تھی. … غیر معمولی تو تھا کچھ. ..شاید ان کی ٹیم اسے ہی پکڑنے آئی تھی. … تمسخر ہنسی ہنستا وہ اس روم کی کھڑکی کھول کر باہر گود گیا تھا. ….. نیچے زیادہ گہرائی تو نہیں تھی. .. ت چوٹیوں بھی نہیں آئی تھی. …
اسنے نیچے سے آٹھ کر اپنا ڈرا جهاڑا تھا. … ایک حقارت بهری نظر کلب پر ڈالتا وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا. …
نیناں جو سانس روکے دروازے کے پاس کھڑی ہے. . قدموں کی چاپ سنائی دیتے ہی وہ پل بھر کو وہاں سے ہٹی تھی. … اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ور کیا کرے ساری ٹیم جو کو ڈھونڈ رہی تھی. ..وہ اسکے سامنے تھا. .. خود گواہ تھی کہ وہ قاتل تھا. …. مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا. …وہ وہاں سے ہٹتے ہی واپس اپنا ٹیم کے پاس پہنچی تھی. … وہاں پولیس کا یونیفارم پہنے کافی لوگ تھے جن میں مرد اور عورت دونوں تھے.جو کلب میں پہلے سے موجود افراد کو کنٹرول کررہے تھے. .. اور ان چھ افراد پر مشتمل سیکرٹ ایجنٹ کی ٹیم جو اسوقت سیول پولیس کے یونیفارم میں ملبوس تھیں. .. چہرے ماسک کے پیچھے چھپے ہوئے تھے. .. ہاتھوں پر ٹرانسپیرٹ گروز پہنے تھے. …
کیا ہوا نیناں کدھر تھی تم اور تمہارا رنگ کیوں اتنا اڑا ہوا ہے. ..لنڑا اسے دیکھتے ہی اسکے پاس. آتی فکرمندی سے گویا ہوئی. …
..سارا کلب سیل کردیا گیا تھا. .. جو اندر تھا ..واہ ادھر ہی رہ گیا تھا. … پولیس سب پی نظر رکھے ہوئے تھی. .. سیکرٹ ایجنٹ کی ٹیم اپنا کام کررہی تھی. .. یہ کیس انکا تھا تو سیول پولیس صرف سیکورٹی کے لئے ساتھ تھی. ..
ہاں. .نہیں کچھ بھی نہیں تو. ..نیناں سٹون کو اس کمرے کی طرف جاتا دیکھی بولی تھی. ..دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. …. اگر ابھی راجر پکڑا جاتا توکیا ہوتا اسکے ساتھ. .. یقیناً وہ ہمیشہ کی طرح سرینڈر نا کرتا اور پھر مجبوراً انکائونٹر کرنا پڑتا. ..اب ضروری تو نہیں تھا کہ ہو اس بار بھی بچ جاتا پچھلی بار قسمت نے ساتھ دیا تھا. … ہر بار تو نہیں دے سکتی تھی. …
سر ….سر…. سٹون اس روم میں پہنچتے ہی سر بیٹراس ٹیلر کو آواز دی تھی. …
سٹون کی آواز سننے ہی بیٹراس. ..لومبار. ..نیناں. ..لنڑا. .. برنٹ. ..پانچوں اس طرف بڑھے تھے. ….
یہ کون ہے. … لومبار ہاتھوں پر گلوز پہنتا کارلوس کے پاس بیٹھتا. ..اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا. ..حیرت سے بولا تھا. .کیونکہ اتنے کھلے عام کوئی کیسے کسی کو مار کر جاسکتا تھا. … کارلوس کا جسم خون سے رنگا گیا تھا …
جو بھی ہے. .وہ بعد میں پتا کرلیں گے. .. اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا. .. لنڑا نے لومبار کی بات کاٹنے اسکے ساتھ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھتی بولی تھی. ..
ہاں. … اسکو باہر نکالو. ..پلیز چل رہی ہیں. ..زندہ ہے یہ. … برنٹ اسکی پلیز چیک کرتی فکرمندی سے ان کی طرف دیکھتی بولی تھی. .اسکے کہتے ہی کچھ پولیس میں آگے بڑھتے کارلوس کو اٹھاتے باہر لے گئے تھے. …
سر یہ کارلوس ہے. ..بینڈرک کا بیٹا. … نیناں سر بیٹراس ٹیلر کے ساتھ کھڑی ہوتی اپنا پسٹل جینز کے پاکٹ میں رکھتی سرسری سا بولی تھی. ….
نہیں. مس.نیناں سلطان. ..یہ بینڈرک کا بیٹا کارلوس نہیں ہے. .یہ کوئی اور ہے. .یقیناً اس مونسٹر نے اسے کارلوس سمجھ کر مارنے کی کوشش کی. ..سر بیٹراس کے بجائے لومبار خون آلود گلوز اترتا انہوں باسکٹ میں ڈالتا بولا تھا. ..
ہممم. ..سر یہ لوگ بہت خطرناک ہوتے جا رہیں ہیں. ….آج ایک معصوم کو مارا ہے نجانے اور کتنوں کو اور ماریں گے. ..ہمیں انکا کچھ کرنا ہی پڑے گا. .مس برنٹ بلکل سنجیدگی آواز میں کسی غیر مرئی نقطے پر غور کرتی بولی. …
ہممم. .. ان جیسوں کو جینے کا حق ہی نہیں ہے. ایسے لوگ کسی کے نہیں ہوتے. . وہ زندہ رہتے ہیں تو صرف خون کرنے کے لیے. ..معصوم لوگوں کا خون کر کے انہیں سکون ملتا ہے. . آپ سب سہی کہہ رہیں ہیں. .ہمیں انہیں جلدوں سے جلد ختم کرنا ہوگا. . … سر بیٹراس چاروں کو دیکھتے اپنی بهاری سنجیدہ آواز میں گویا ہوئے. ..
اس سب میں. .نیناں اور لنڑا دونوں خاموش تماشائی سی بنی کھڑی تھی. … وہ دونوں شاید وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی. ….
■■■■■■
ویسے کون سا سکون ہے مجھے زندگی میں
تم بھی لو ستا اگر _ ستانا چاہتے ہو
سب کو بتا رکھا ہے تیرا یہ جانتے ہوۓ بھی
تم کیوں مجھے سب کینظروں میں گرانا چاہتے ہو بیٹھو. .. وائز گاڑی علیزے کی پاس روکتا مرر نیچے کرتا بهاری گھمبیر آواز میں بولا تھا. … علیزے یونی کے بعد سے ہی اسکا انتظار کررہی تھی. … یونی میں ہی اسے وائز کی کال آئی تھی. …سونیا کو اسنے کسی کام کا کہہ کر بھیج دیا تھا. .. اب وہ ڈری سہمی کھڑی تھی کہ وائز کی گاڑی آئی. .. بنا کچھ بولے خاموشی سے دروازہ کھولے اندر بیٹھ کر دروازہ بند کرگئی. … وائز اسکی مدہوش کردینے والی خوشبو خود کے قریب محسوس کرتا آنکھیں موند گیا تھا. .. اسکی خوشبو. …اسکی آواز. … اسکی باتیں. .. اسکا ڈرنا. ..سب سب کا وہ ایڈیگٹ ہوگیا تھا کچھ ہی دنوں میں. .. آپ کیوں کرتے ہیں میرے ساتھ ایسا. ..کافی دیر اسے خاموشی سے سیٹ کی بیک سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے دیکھتا دیکھ کر آخر تنگ ہوتی. .. روہانسی ہوتی بولی تھی. .. اسکی آواز سے سے ہوش میں آتا اسکی طرف متوجہ ہوا تھا. … وہ اسے آج ہر دفعہ سے. .زیادہ خوبصورت لگی تھی. … ہر بار س کچھ الگ سی. .. وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا. …. ک کیا دیکھ رہیں ہیں. ..اسے اپنی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھتا دیکھ کر نروس ہوتی بولی تھی. ..نگاہیں گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر تھی. … وہ اسکو نہیں دیکھ رہی تھی. .مگر وہ جانتی تھی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا. … ہممم. .ہاں. ..میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ. .. تم آج کافی تیار ہوئی ہو. … لگتا ہے تم نے شادی کے ارمان پورے کرنے چاہیں ہیں. … تم نے سوچا ہوگا پہلی بار اپنے شوہر کے ساتھ اسکے. ..نہیں ..اپنے گھر جارہی ہو تو کچھ تیار ہوکر جانا چاہیے. ..اسکے قریب ہوتا سیٹ بلٹ بند کرتا گھمبیر جذبات سے بوجھل آواز میں بولا تھا. .ل آواز اتنی ہلکی تھی کہ اگر وہ اپنی سیٹ پر ہوتا تو شاید ہی وہ سہی سے سن سکتی. . علیزے اسکے خود کے قریب ہوتے ہی خوف سے بهری آنکھیں زور سے بھینچے سیٹ سے چپک گئی تھی. .. اسکے اور قریب ہوتے پهر بوجھل آواز سن کر وہ مرنے والی ہوگئی تھی. ..دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. …اسکے کلون سی خوشبو اسکے اپنے حواس باختہ کرنے پر تلی ہوئی تھی. .. لیزاا. .. وائز ایک ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکا گال تهپتهپاتا اسے بوجھل آواز میں پکار گیا تھا. ..وہ اس وقت سب کچھ بھول گیا تھا. ..یاد تھا تو اتنا کہ ہ اسکی تھی صرف اسکی. ..وہ اپنے حواس کھو رہا تھا. … اسکی قربت. ..اسکی معصومیت. ..اسکا ڈرنا. … اسکی معصوم ادائیں. ..وہ سب کا دیوانہ ہوگیا تھا. …. .پ پلیز. ..و وائز. … علیزے خوف سے کامپتی ہوئی بولی. ..آنکھیں کھولنے کی کوشش ہر گز نہیں کی تھی. .. اسکے منہ سے اپنا نام سنتا اسے اپنا نام اور بھی خوبصورت لگا تھا. ..وہ اندر تک سرشار ہوگیا تھا. …. گال سہلاتا انگوٹھا اب اسکے لبوں پر رینگ رہا تھا. .. اسکے نازک گلاب سے لب اسے کوئی بری جسارت پر اکسا رہے تھے. .. دل کی بات پر لب بیئک کہتا وہ ابھی جهکا ہی تھا کہ علیزے کی بات پر سارا خمار اڑن چهو ہوا تھا. . آنکھوں میں خماری کی جگہ اب سرد مہری نے لے لی تھی. .. پ پلیز. .وائز. …ن ن نکاح. .تو اپنے مجھ. …سے زیادہ زبردستی. .ک کرلیا. ..ا اب پلیز مجھے مت چھوئیں. …مجھے ب برا لگتا…. ہے. . اسکو اور قریب ہوتا محسوس کرکے ہمت کرکے جلدی سے بولی تھی. .. .، گر مقابل کا دماغ خراب کرگئی تھی….. شوہر کا چهونا ہی صرف کیوں برا لگتا ہے. .مس بیوٹی. … اور تو کسی کا چهونا برا نہیں لگتا. … اسکے نازک لبوں پر اپنے انگوٹھے کا ناخن سختی سے رب کرتا سٹاپ انداز میں بولا تھا. ..اسکے دماغ میں پهر سے ہوئی لحمہ گھوم گیا تھا جب مارک اسکے چہرے کو چهو رہا تھا. ..تب تو اسنے کچھ نہیں کہا تھا. …اور وائز کا چهونا اسے برا لگا تھا. …. پ پلیزز درد ہورہا. .. دروازے کے ہینڈل سے اپنا ہاتھ ہٹاتی. .. اسکے کندھے پر رکھے اسے خود سے دور کرتی بولی تھی. .. ہونٹوں پر شدید جلن محسوس ہورہی تھی. .. آنکھوں سے کئی انمول موتی بہہ کر بے مول ہوگئے تھے. .. مگر وہ سنگدل بنا سب نظر انداز کررہا تھا. …. جو پوچھا اسکا جواب دو. ..مجھے اگنور ہونا برداشت نہیں. .. لبوں سے انگوٹھا ہٹائے. .. انگلیوں کے پوروں سے اسکے آنسو صاف کرتا بولا. … لہجہ ہنوز سٹاپ تھا. .. م مجھے نہیں معلوم آپ ک کس بات کے تانے دیتے رہتے ہیں …م مارک صرف میرا اچه. …… شیشش. … اسکے لبوں پر ہاتھ رکھے اسکا مزید بولنے سے روک گیا تھا. .. وہ اسکی زبان سے کسی اور کا نام تک سننا برداشت نہیں کرسکتا تھا. ..وہ اسکے معاملے میں جنونی ہوتا جارہا تھا. …وہ اسے صرف خود تک محدود رکھنا چاہتا تھا. … جیسے وہ صرف اسکا تھا. ..دل سے تھا. .. بس مانتا نہیں تھا گر. ..مانتا تھا بھی تو اظہار نہیں کرتا تھا. .. وہ چاہتا تھا وہ بھی اسکی کی ہوجائے. ..اسکا سوچے. .اس کو چاہے. ..پھر بیشک اظہار نا کرے. …اسکی نظریں ایک دفعہ پھر اسکے کپکپاتے لبوں پر جا ٹهری تھی. …مگر دل کے منہ زور جذبات کا گلہ گھونٹتا اپنے دہکتے انگارے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھ گیا تھا. .وہ اسکا بس کچھ بن چکی تھی .. کچھ پل اسے محسوس کرتے خود ہی پیچھا ہوتا .گاڑی سٹارٹ کرگیا. … علیزے خوف سے آنکھیں موندے بیٹهی رہی تھی. …مگر اسکا لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتی وہ دل جان سے کامپی تھی. … دل الگ ہی لے پر دهڑک رہا تھا. ..آج اسے وائز کے لمس میں عقیدت. .محبت محسوس ہوئی تھی. ..چہرہ شرم و حیا کے باعث لال ہوگیا تھا. .. ■■■■■■■ رکھ کے تمام عمر ___ قید میں مجھے
اب ہو گیا ہوں عادی _ تیرا تو تم اڑانا چاہتے ہو خود بن کے فرشتہ ___ زمانے کی نظر میں
میں جانتا ہوں الزام بے وفائیمجھ پے لگانا چاہتے ہو .پ پانی. … وہ خشک پڑتے لبوں کو تر کرتی بولی تھی. .. پیاس سے برا حال ہورہا تھا. ..اوپر سے سر اور پاؤں میں بےتحاشا درد محسوس ہورہا تھا. ….. میم یہ پانی. ..اسے اپنے پاس ہی کسی کی آواز سنائی دی تھی. .ساتھ ہی کوئی اسے اٹھانے کی کوشش کررہا تھا. … اسنے ایک ہاتھ سر پر رکھا تھا. … اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا تھا. … سر اور پاؤں کیوں درد کررہے تھے. … مگر اگلی آواز سن کر اسے سمجھ آگیا تھا. ..ساتھ ہی ایک ڈر اسکے پورے وجود میں سرایت کر گیا تھا. .. تم جاؤ. .میں خود دیکھ لوں گا. .. راج جو ابھی ہی روم میں آیا تھا. .. الیانہ کو ہوش میں آتا دیکھ چکا تھا. . جولی کے ہاتھ سے گلاس لیتا اسے باہر کی طرف اشارہ کرتے خود الیانہ کے پاس ہی بیٹھ گیا. … اٹهو. ..یہ پانی پیو. ..اسے کندھے سے پکڑ کر تکیہ اسکے پیچھے رکھتا اسے بیٹھایا تھا. ..ساتھ ہی گلاس اسکے لبوں کے قریب کیا. .. وہ جو آنکھیں موندے سونے کی ایکٹنگ کررہی تھی. .راج کے یوں اٹھاتے پر. .. خوف سے آنکھیں پھاڑے اسکے دیکھتی بیٹھ گئی تھی. …وہ اب انتظار کررہی تھی کہ کب اسے اس سے تهپر لگے گا. … پیوو یہ. .راج کے گلاس اسکے لبوں سے لگاتے سختی سے کہا. .ایک بازو اسپر سے گزار کر دوسری طرف رکھ چکا تھا. .وہ اب اسے کافی قریب ہوگیا تھا. …. الیانہ نے اسکے اتنے قریب ہوتے. ….بے اختیار اسکے گلاس پکڑے ہاتھ پر ہاتھ رکھے گلاس اپنے خشک لبوں کو لگائے گٹا گٹ پورا گلاس ایک ہی سانس میں حلق سے اتار گئی تھی. . درد ہورہا ہے. … خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے بهاری ہاتھ سے پشت سے اسکا گال سہلاتا فکرمندی سے گویا ہوا. .. نہیں تو. ..پیار ہورہا ہے. … اسکے لہجے میں نرمی محسوس کرتے وہ جل کر ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ گال سے جهٹکتی بولی. … اچھا. …. مگر ابھی تو میں نے پیار کیا ہی نہیں. ..تم پہلے سے محسوس کرنے لگی ہو. .کچھ لمحے سنجیدگی سے اپنے ہاتھ کو دیکھنے کے بعد وہ سنجیدگی سے گویا ہوا. .البتہ گرین آنکھوں میں شرارت واضع تھی. …. درد ہورہا ہے مجھے پاؤں اور سر میں. …اور. …اور…. وہ اس کی بات مکمل نظر انداز کرتے اپنے پاؤں کودیکهتی جہاں پٹی باندهی ہوئی تهی کو دیکھتی بولتے بولتے رکی تھی. .. میں بیج دیتا ہوں جولی کو. وہ لے جائے گی واش روم…جب تک تم پراپر ٹھیک نہیں ہوجاتی وہ تمہارے ساتھ رہے گی. ..وہ اسکی بات سمجھتا نرمی سے کہتا اٹھا تھا. . درد بھی خود ہی دیا ہے …اب اتنی فکر بیشک نا کرو. .جھوٹی فکر کر کے اپنا اور میرا برباد نا کریں. … اسکی اپنی پروا ہضم نا کرتے ہوئے جل کر بے رخی سے کہا …… وہ تمہاری سزا تھی رپینزل. …. تم جب جب ایسا کرو گی میں تمہیں سزا دوں گا. .یہ تو فسٹ ٹائم غلطی ہوئی تم سے. .جبھی ..نا دینے کے برابر سزا دی ورنہ جو میں سزا دیتا. .. وہ تمہاری نازک جان جهیل نا پاتی. … اسکی بدتمیزی کو اگنور کرتا تحمل سے بولتا باہر نکل گیا تھا. .. یہ لڑکی ہر وہی کام کرتی تھی. .جو اسکے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا. . برااا. ….سزا تھی میری. … اور کیا کہہ کرگئے. ..نا ہونے کے برابر سزا تھی یہ. .. یہاں میں واش جانے تک کے لیے دوسرے کسی کا محتاج ہوگئی ہوں. .وہ اور کہہ رہے ہیں کہ نا ہونے کے برابر سزا. … اسکے جاتے ہی. ..آگے ہوتے اپنے پاؤں پر ہاتھ پهیرتی. .. بے زاری سے خود سے ہی بڑبڑائی تھی. ….. ■■■■■ کل تک تو میں تھا __ نا تیرا سکون دل
مطلب کہ اب اپنے دل کو بھی تم رولانا چاہتے ہو میری تو رکھ دی ___ اجاڑ کے زندگی تم نے
ہاں ہاں جاؤ اب جس__کے ساتھ بھی نبھانا چاہتے ہو
یار ….کافی تهک گیا ہوں میں تو. …کناٹ چیئر گھسیٹا بیٹھتا بولا. …
اسکے ساتھ ہی وہ تینوں بهی اپنی اپنی چیئر پر بیٹھ گئے تھے. ..
ہاں یار. … آج کافی تهک گئے ہیں. … اب میں تو ہوٹل جا کر سووں گا آرام سے. .. آئش نے ایک نظر اونگھتی ہیر پر ڈالتے ہوئے کہا. ..ساتھ ہی مینو کارڈ دیکھنے لگا تھا.
کنسرٹ 5 بجے کا تھا. .. مگر وہاں سے نکلتے نکلتے اب 9 بج گئے تھے. .. اب وہ چاروں تھکے ہارے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے. …
تم دونوں کی پرفارمنس کافی زبردست تھی. ..راکیل اپنے موبائل پر اسکے کنسرٹ کی ویڈیو دیکھتے ہوئے بولی تھی. …
ہاں اچھی تو تھی. …مگر. ..سانگ جو گیا تم دونوں نے گایا وہ کس کی پسند کا تھا. .کناٹ دونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتا بولا تھا. .تب تک آئش نے سب کے لئے آڈر کردیا تھا. …
کیا مطلب. …ہیر کناٹ کو دیکھتی ناسمجھی سے بولی. …
مطلب صاف ہے. … تم دونوں ایک دوسرے پھر اپنے دلی جذبات عیاں کرنا چاہ رہے تھے ناا. .. کناٹ کی جگہ راکیل موبائل ٹیبل پر رکھتی ان دونوں کو دیکھتی شوخی سے گویا ہوئی. …
اسکی بات پر بے اختیار ہی دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا. …ہیر توجهمپ سی گئی تھی. .. مگر آئش پرشوخ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا. ..
مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں یہاں مس فٹ ہیں راکیل. ..ان دونوں کو ایک دوسرے میں کھویا دیکھ کر کناٹ راکیل کو دیکھتا بولا تھا. …
ہر نے ایک دم نظروں کا زاویہ بدلا تھا. …
بس کیا کریں کوئی لوگ ہیں. .بےحس. ..سمجھتے نہیں دل کی آواز. ..آئش ٹھنڈی آہ بھرتا ہیر کودیکهتا. .مصنوعی معصومیت چہرے پر سجائے بولا. …
شٹ اپ. .. ہر جگہ یہ ٹهرک پن جھرنا ضروری نہیں ہوتا. … جب دیکھو بکواس ہی کررہے ہوتے ہو. ..اسکی بات سن کر راکیل اور کناٹ کو دیکھتے وارننگ انداز میں بولی تھی. .وہ دونوں اسے ہی دیکھ کر که که که کررہں تھے جو اسکو غصہ دلا رہی تھی. .
ہاہاہا. .. آئش کهل کے مسکرایا. .. وہ کب سے اپنی جنگلی بلی. .نکچڑی کو مس کررہا تھا. .ہیر کو بدل ہی گئی تھی. .کھوئ کهوئی سی رہتی تھی. ..جبھی ابھی اسے اپنی ٹون میں آتا دیکھ کر مطمئن سا ہوا تھا. …مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا سارا سکون غارت ہوا تھا. .. جہاں تین چار لڑکے. ہیر کو ایکسرے کرتی نظروں سے گھورنے میں معروف تھے. ..ساتھ ہی ساتھ کچھ بولتے ہنس رہے تھے. .
آئش کی آنکھوں میں یک دم ہی آگ سی لگی تھی. .. غصہ سے برا حال ہوہا تھا. .وہ بالکل سٹاپ نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا. …
اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہیر ساکن ہوئی تھی. ..سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر بڑبڑا سی گئی تھی . جو اسے دیکھ کر پرسرار سا مسکرایا تھا. .. یا پھر ہیر کو لگا تھا. ….خود پر کنٹرول کرتی وہ اپنی پلیٹ پر جھکی تھی. ..دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. …
▀
