Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
سب کچھ گروی رکھ دیتا ہے کچھ وعدوں کے بدلے میں
اک مســـکان پہ بک جاتا ہے دل بھی کتنــــا سستا ہے
میرے سامنے ہی چینج کرلوں. …ویسا بھی شوہر ہوں تمہارا. …اسکے کان کے پاس گھمبیر آواز میں کہتا اسکے کان پر لو بائیٹ کرتا پیچھا ہوا تھا. ..
وہ خوف اور حیرت سے آنکھیں اور بڑی کئے اسے دیکھ رہی تھی. ….
ن نہیں. ..جاو. .تم ادھر سے. … اسکے سینے پر ہاتھ رکھے اسکے دور کرتی … بولی تھی. ..چاہنے کے باوجود لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو نہیں کرپائی تھی. ..دل خوف کے مارے زور سے دھڑک رہا تھا. ..مگر کہیں دور دل مطمئن بھی تھا کہ اب وہ محفوظ تھی.
وہ ہونٹ دانتوں میں دبائے. غصہ ضبط کرنے کی کوشش کرتا اسے دیکھ رہا تھا. … گرین آنکھیں شرارے اگل رہی تھی. … اسکا دل تو چاہ رہا تھا کہ اسکے ادھر ہی چھوڑ کر چلا جائے. .. پھر جو ہونا ہو. .بیشک ہو. … مگر. … مگر وہ ایسا چاہ کر بھی نہیں کرسکتا تھا. … دل کمبخت بغاوت کرنے کو آگیا تھا. ….. وہ تو اسکے اتنے سالوں کا ثمر تھی. … اسکی محبت. …عشق. .. جنون. … سکون. .. وہ تو زندگی بن گئ تھی. … اسکا دل خوف سے کامپ رہا تھا. … دماغ بلکل گھوم چکا تھا. ..یہی سوچ کر کہ اگر وہ لیٹ ہوجاتا تو …..وہ اسکے آگے سوچ بھی نہیں سکا تھا. ..نا ہی سوچنا چاہتا تھا. . ایک گهوری نظر اسکے کپڑوں پر لگے خون پر ڈال کر… وہ دور ہوتا اسکے. ..دوسری طرف مڑ گیا تھا……
اسکے کپڑوں پر لگے لگا خون اور اسکا خون جلا رہا تھا. ..
اسکے دوسری طرف مڑتے ہی. ..الیانہ سکهه کا سانس لیتی جلدی جلدی وہ فراک اتار کر راج کی وائیٹ شرٹ پہن چکی تھی. …
پ پہن لی. .. شرٹ کا آخری بٹن بند کرتی راج کی طرف دیکھتے ہوئے بولی …. جو شرٹ لیس. صرف بلو جینز میں کھڑا تھا. . اسکے 6 پیک اسے کافی پرکشش بنا رہے تھے. .. اسے یوں دیکھ کر الیانہ کچھ لمحے دیکھتی رہ گئی تھی. ..بلاشہ وہ کافی ہینڈسم تھا. …
. .دور کہیں جنگلی جانوروں کے چنگارنے کی آوازیں اسکے اور خوف زدہ کررہی تھی. .. وہ اب جلدی جانا چاہتی تھی. … ایک جانور تو ساتھ تھا. ..یہ الیانہ کا کہنا تھا. …
راج جو ماتھا مسلتا خود کو نارمل کرنا چاہ رہا تھا. ..الیانہ کی آواز پر بے اختیار مڑا تھا. ..اور وہ دیکھتا رہ گیا تھا. .. اپنی وائیٹ شرٹ جو اسے کافی کھلی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی تھی. … جینز کا شاٹس جو گھٹنوں تک مشکل سے ہی آتا تھا. .. لمبے کھلے بکهرے بال …. جو مٹی پر لگ کر گندے ہورہے تھے. …وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا. چاند کی روشنی اسپر پر کر اسے اور خوبصورت بنا رہی تھی. …. یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا وہ اسکی خوبصورتی. … اسکے دلکش سراپے میں الجھ کر رہ گیا تھا. .. .. دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. … وہ بھول گیا تھا وہ کدھر ہیں. ..سب بهلائے وہ کھویا کھویا اسکی طرف بڑھا تھا. ..
اسکے قریب ہوتا ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے سے بال ہٹائے تھے. .. طلسم اب بھی برقرار تھا. …
الیانہ جو اسے دیکھ رہی 6..اسکے خود کی طرف متوجہ ہوتے ہی دوسری طرف دیکھنے لگی تھی. .. وہ اسکی بے قرار نظروں سے کافی کنفیوز ہورہی تھی. .. اسکی لو دیتی نظروں سے اسے اپنا وجود جهلسا محسوس ہورہا تھا. .. مگر اسکے خود کے قریب آنے پر وہ ڈر کر اسکی طرف دیکھنے لگی تھی. … دھڑکنیں منتشر ہونے لگی تھی. … اسکے قریب بہت قریب اور پھر لمس پر اسنے آنکھیں زور سے بھینچ لی تھی. … راج کی گرم سانسیں اسکا چہرہ جهلسا رہی تھی. …وہ راج کا ہاتھ اپنے چہرے پر ہلکے ہلکے پھیرتا محسوس کررہی تھی. …
راج اسکے چہرے پر ہاتھ پهیر رہا تھا. .یک دم اسکا ہاتھ رکا تھا. … آنکھوں سے خماری پل میں اوجھل ہوئی تھی اسکی جگہ سرد مہری نے لے لی تھی. ..اسکا انگوٹھا اسکی صراحی دار گردن پر تھا. .جہاں خون لگا ہوا تھا. .. اسنے الیانہ کو پیچھے دھکا دیا تھا. … چہرے غصے کی شدت سے لال ہوگیا تھا. … گہرے سانس لے کر وہ خود کو نارمل کرہا تھا. ..
الیانہ گردن پر ہاتھ رکھے حیرت و خوف سے اسے دیکھ رہی تھی. ..اسکے دھکا دینے پر وہ گرتی گرتی بچی تھی. ..
چلو. .یا ادھر ہی گزارنی ہے رات. … راج نے بالکل کولڈ آواز میں کہا. … نگاہیں اسپر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی. ..وہ ایک دفعہ پھر بہکنا نہیں چاہتا تھا. …
شوز کے بغیر چلو گی. ..اسکو اپنے شوز اٹھاتے دیکھ کر سٹاپ انداز میں بولا تھا. …
مگر پھر چلوں گی کیسے. .. الیانہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا. ..
ننگے پاؤں چلو گی. ..انہی پاؤں سے بھاگ کر آئی تھی نا. .. ..جب تمہارے ان خوبصورت نازک پاوں چلنے کے قابل نہیں رہیں گے پهر اج کے بعد یہ غلطی… غلطی سے بھی کبھی نہیں کرو گی. .. دوسرے پاوں کا لات مار کر دور کرتے سٹاپ انداز میں کہتا. ..اسکو بازو سے پکڑے اپنے ساتھ گھسیٹ چکا تھا. ..
مجھے لگ رہی ہے. .پلیز. ..شوز دیں. ..الیانہ نے روتے ہوئے کہا تھا. … اسکے پاؤں پر چھوٹے چھوٹے پهتر لگ رہے تھے. .جس سے اسے در ہورہا تھا. .. وہ نازوں پلی شہزادی کہاں درد برداشت کرنے کی عادی تھی. .. اب تکلیف سے اسکی آنکھیں برسنے لگئ تھی. .. مگر وہ ظالم کان بند کرگیا تھا اسکی طرف سے. .جبھی. .بنا اسکے چلانے کی پرواہ کئے. ..اسکے درد کی پرواہ کئے ..بس اسے اپنے ساتھ جنگل میں گھسیٹے جارہا تھا. … وہ کئی بار گرتے گرتے بچی تھی. .. اب تو پاوں سے خون نکل کر مٹی پر لگ رہا تھا. ..مگر وہ بے حس بنا رہا تھا. … اسکے رونے میں روانی پر بھی وہ رکا نہیں تھا. …
راج نے لب بھینچے ہوئے تھے. … اسے الیانہ کا رونا تکلیف دے رہا تھا. … وہ جانتا تھا کہ وہ تکلیف میں تھی. …وہ تو اسے شہزادیوں کی طرف رکھنا چاہتا تھا. ..راج کی رپینزل. … وہ اسے سزا دے رہا تھا. ..اس بات کی نہیں کہ وہ بھاگی تھی. .. بلکہ اس بات کی کہ وہ ان گنڈوں سے خود کو بچا کیوں نہیں سکی تھی. ..
وہ جانتا تھا وہ بھاگنے کی کوشش کرے گی. .. راجر کے ساتھ وہ ایک بزنس پارٹی میں گیا تھا. ..مگر جب وہ گھر آیا وہاں کہیں الیانہ نہیں تھی …اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی. ..وہ جانتا تھا کہ وہ جنگل سے نہیں نکل سکتی. ..مگر اسے خوف تھا. .ڈر تھا. ..تو اس بات کا کہ اسے کچھ ہو نا جائے. .اتنی رات گئے کئی جانور ہوتے تھے. .. جو اسے تکلیف پہنچا سکتے تھے. .. اوپر سے رات اندھیرا. … اسے لگ سکتی تھی. ..اور کوئی مسئلہ ہوسکتا تھا. … وہ ڈر گیا تھا. .. بنا دیری کئے وہ گاڑی لیے نکلا تھا. .. مگر دور کافی دیر کہیں نظر نہیں آئی. .. گھنٹے بعد جا کر کہیں اسے دور سے چیخ کی آواز آئی تھی. .. گاڑی ادھر ہی پارک کئے وہ باہر نکلا تھا. .. پاگلوں کی طرح اسے آوازیں دیتا اسے ڈھونڈ رہا تھا. .. کچھ لمحے بعد اسے دوبارہ آواز سنائی دی تھی … بنا دیر کئے وہ اس طرف بھاگا تھا. … مگر اسے رکنا پڑا تھا. … سامنے کا منظر دیکھ کر غصے سے پاگل ہی ہوگیا تھا. ..اسے ان کالے حبشیوں سے زیادہ الیانہ پر غصہ آیا تھا. … جو خود کو بچانے کے بجائے چیخ رہی تھی. .یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جنگل تھا. ..ادھر جانور ہی ہوسکتے تھے. .. جینز کے بیک پاکٹ سے ریوالور نکالے اسے الیانہ پر جھکے حبشی کے عین سر پر ماری تھی. …
اچانک اسے اپنے بازو پر بہت وزن محسوس ہوا تھا. .. وہ رکتا پیچھے مڑا تھا. .جہاں الیانہ اب شاید بہوش ہوگئی تھی. ..اتنی ہی تکلیف برداشت کرسکتی تھی جبھی .. اب گر گئی تھی. ..
راج نے اسکے بازو پر گرفت ہلکی کرتے پھر ختم کردی تھی. ..وہ اب زمین پر گری ہوئی تھی. .. چہرہ سارا بالوں سے چھپا ہوا تھا. …
راج اسکے پاس نیچے بیٹھا تھا. … اسکا پاؤں اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا. .. جو خون سے رنگے ہوئے تھے. .. مٹی سے بھرے. .. وہ الیانہ کے خوبصورت پاوں تو لگ نہیں رہے تھے. … کچھ لمحے اسکے پاوں دیکھنے کے بعد اسکا نازک مومی وجود اپنے مضبوط بازوؤں میں بھر چکا تھا. ..زمین سے اٹھا وہ واپس چلا تھا. .. الیانہ کو تکلیف میں دیکھ کر اسے بھی تکلیف ہوئی تھی. ..مگر وہ اسے سبق سیکھانا چاہتا تھا کہ وہ اب غلطی سے بھی نا بھاگے. …
رستے سے بجائے اسکی نظریں اسکے خوبصورت چہرے پر ٹکی ہوئی تھی. .. جو اسکا سب کچھ بن چکی تھی. … سب کچھ. .. اس سے دوری اب وہ برداشت بھی نہیں کرسکتا تھا. … وہ کسی قیمت اس سے دستبرداری نہیں کرسکتا تھا. .کسی بھی قیمت پر. …
■■■■
“کیسے کہوں کہ وہ غمِ الفت فریب تھا
کیسے یقین کروں کہ زلیخا چلی گئی..🥀.
ساری رات بےچینی سے گزارنے کے بعد اب جا کر صبح ہوئی تھی. .. وائز کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھی. .. کل کال کے بعد کچھ دیر ادھر رہنے کے بعد. .لنچ کر کے وائز نے اسے واپس ہاسٹل چھوڑ دیا تھا. … اور ساتھ سختی سے کہا بھی تھا کہ وہ کل اسے لے جائے گا اپنے ساتھ. ..وہ کافی پریشان دی سونیا سے بھی اسنے کچھ نہیں کہا تھا. .. اب وہ کافی پریشان کے ساتھ خوفزدہ بھی تھی. .. اسے وائز سے ڈر بھی لگتا تھا. .اسکی باتیں. .. غصہ ..ڈاٹنا. .. وہ کچھ دیر برداشت نہیں کرسکتی تی کجا کہ چھ مہینے. ..
دوسری بات وکی کو کیا کہتی. …وہ تو کنٹینٹ میں تھا ادیان کے. … اسے یاد تھا کہ. ..
اس دن. .ریان صاحب کے نام ماننے پر آدیان نے اسے یہاں بیج دیا تھا. .. فلائیٹ اسنے پہلے ارجنٹ. .. بک کروائی ہوئی تھی. .. اس سے پہلے وہ ایک دفعہ ریان سے بات کرنا چاہتا تھا. ..جانتا توتا ان کا جواب مگر پهر بھی وہ علیزے کو دور نہیں بھیجنا چاہتا تھا. .. مگر ہانیہ بیگم سے اسنے پہلے ہی بات کرلی تھی. .. وہ پہلے و زرا نہیں مانی. .. علیزے کو وہ جانتی تھی کہ وہ کتنی معصوم اور ڈرپوک تھی. … وہ اکیلی نہیں رہ سکتی تھی. ..مگر آدیان کی اصرار پر انہیں ماننا پڑا تھا. .. وکی جو. .. آدیان کا بچپن کا بہت اچھا دوست تھا. .. وہ ان کے گھر بھی کافی آتا رہتا تھا. .مگر پهر کچھ سالوں پہلے وہ جاپان چلا گیا تھا. .جبھی آدیان نے علیزے کی زمہداری اسپر ڈالی تھی. .. اور ساتھ ہی اسے ادھر یونی میں آدمیشن کا کہہ دیا تھا علیزے کے. .. وکی کے کسی دوست کے زریعے سمسٹر کے مڈ میں اسے مل گیا تھا آدمیشن. … آدیان نے کہا تھا کہ کچھ عرصہ وہ اسے فون نہیں کرے گا وجہ ریان تھا. ..وہ جانتا تھا کہ وہ اس پر شک کریں گے کہ اسکو پتا ہے کہ علیزے کدھر ہے. .جبھی یہاں آنے کے بعد اسنے ایک بار کی آدیان سے بات نہیں کی تھی. … اب و کافی پریشان تھی کیونکہ وہ وکی سے تقریباً روز ملتی تھی. ..اس نے ہی بتایا تھا کہ وہ آدیان س سے رابطہ میں تھا. ..وہ علیزے کی ہر خبر دیتا تھا. .. اب اگر وہ وائز کے ساتھ ہی رہے گی تو وکی کو کیا کہے گی. .. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا. …
کیا ہوا. ..میں کب سے نوٹ کررہی ہوں تم اسی پوزیشن میں کھڑی ہو. .کسے سوچ رہی ہو. .. سونیا جو کب سے اسے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ایک ہی طرف کے بالوں میں کنگھی کرتا دیکھ کر آخر جھنجھلا کر بولی تھی. .
اسکی آواز پر علیزے ہوش میں آتی سونیا کی طرف مڑی تھی. ، جو یونی جانے کے لیے تیار تھی. ..
ن نہیں. .. سب رات میں سہی سے سو نہیں سکی تو تب ہی. .. واپس ڈریسنگ کی طرف مڑتی جلدی سے بولی تھی. ..وہ نہیں چاہتی تھی کہ سونیا کو بھی اپنی وجہ سے پریشان کرے. … جبھی واپس مڑے بالوں میں برش کرنے لگی تھی. .. بالوں کو ہائی پونی کئے. .. ہلکے میک اپ میں. .. سی گرین فراک نما سٹائلش شرٹ. . وائیٹ جینز پہنے. ..وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی. … وہ بہت کم تیار ہوتی تھی. .. آج بھی بے خیالی میں وہ تیار ہوئی تھی. .،،
علیزے کوئی پریشانی ہے تو شیئر کرسکتی ہو. ..سونیا نے اسکے کندھے سے پکڑتے خود کی طرف کرتے فکرمندی سے کہا. .. وہ اتنا کھویا کھویا اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی جبھی پریشان ہوگئی تھی. …
نہیں. ..ایسی کوی بات نہیں ہے. .خیر چلو. ..لیٹ ہورہیں ہیں ہم. .. اسکا ہاتھ کندھے سے ہٹاتی بولنے ساتھ. .اپنے بیگ میں بکس رکھنے لگی تھی. ..وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسکی چوری پکڑ لے. ..
تھوڑی دیر بعد دونوں تیار ہوکر یونی کے لیے نکل گئی تھی. …
■■■■
“- یونہی رنجشوں میں گزر گئے ،
کبھی وہ خفا کبھی ہم خفا! -” 🖤
پورا ہال شور سے گونج رہا تھا. … ہر طرف ہوٹنگ کی آوازیں آررہی تھی. … لوگوں کا ایک نا ختم ہونے والا ہجوم اکٹھا تھا. …، سٹیج پر کوئی سنگر اپنی بینڈ کے ساتھ گانا گا رہا تھا. .،…..
وہ دونوں بھی ویٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے. … اگلی پرفارمنس ان کی تھی. .. ان دونوں نے ساتھ گانا گانا تھا. . ہیر تو اکیلی گانا چاہ رہی تھی مگر آئش کے کافی فورس کرنے پھر وہ دونوں ساتھ ہی گاہ رہے تھے. … ان کے ساتھ کئی بڑے بڑے سنگرز موجود تھے. .کئی فارغ ہوگئے تھے. … کئی ابھی بیٹھے خوشگپیوں میں لگے ہوئے تھے. …
وہ کافی بور ہوگئی تھی. . موبائل یوز کرکے بھی تهک گئی تھی. .. اب وہ سامنے بیٹھے آئش کو دیکھ رہی تھی. …
وائیٹ شرٹ پر سٹائلش راک سٹار والی جیکٹ پہن. ..بلو جینز. .بالوں جو خوبصورت سے جل سے سیٹ کئے وہ کسی دوسرے سنگر کے ساتھ بات کرتے قہقہہ لائے ہنس رہا تھا. ..ہیر یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی. … وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. …
خود پر کسی کی نظریں محسوس کرتے وہ مڑا تھا. .. ہیر کو اپنی طرف دیکھتا پا کر .. اکسیوز کرتا وہ پیر کے پاس آیا تھا. …
کیا ہوا جانم …زیادہ اچھا لگ رہا ہوں. .. اسے ساتھ صوفے پر بیٹھتا شوخی سے بولا تھا. .. نظریں اسکے دلکش سراپے میں الجھ سی گئی تھی
وائیٹ سلیو لیس لانگ جرسی کی میکسی پہنے. .. بلیک پینسل ہیل پہنے بالوں کو بلکل سٹریٹ کئے درمیان سے مانگ نکالے کانوں کے پیچھے کئے کھلے چھوڑے ہوئے تھے. … بڑے بڑے بلیک کلر کی نفیس سے ایئر رینگ. .. بلیک ہی شکر پہلے. . ڈارک میک اپ میں وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی. …
فضول مت بولا کرو. .. اسکی نظروں سے نروس ہوتی جل کر بولی تھی. .. ابھی کچھ بولتا کہ ان کی باری آئی تھی. .. آئش ہیر کا ہاتھ پکڑے اسکے ساتھ باہر نکلی تھا. ..ہیر کی نظریں اسکے اور اپنے ہاتھ میں ٹک گئی تھی، .. دل زور سے دھڑکا تھا. ..
سپوٹ لائیٹ میں وہ دونوں سٹیج پر پہنچے تھے. .. آئش کے گلے میں گٹار تھا. .جبکہ ہیر میوزک مائیک کے پاس کھڑی تھی. …
ہر طرف ان کے ناموں کو شور گونج رہا تھا. .کوئی ان کی پکچرز پکرے انہیں سپورٹ کررہا تھا. .. کوئی ویڈیو بنا رہے تھے. .. اس نے چاروں طرف دیکھنے کے بعد مائیک ایک ہاتھ میں پکڑا تھا. .. ایک نظر ہیر کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی. . اس نے اسے شروع کرنے کا اشارہ کیا. ..
میری نظر بهی عجیب تھی. .. اسنے دیکھے تھے منظر سبھی. ..
دیکھ کر تجھے ایک دفعہ. ..پهر کسی کو دیکھا نا کبھی. ..،..
مائیک میں اسکی سحر انگیز آواز گونجی تھی. .. وہ آئش کو دیکھتی گا رہی تھی. .. اسکے نام کی آوازیں اب کانوں کو پھاڑ رہی تھی. …شور کافی حد تک بهر گیا تھا. ..
میرا پہلا جنوں. …تو میرا پہلا جنوں. …..
عشق آخری ہے توووووو. .. ایک ہاتھ مائیک پر رکھے دوسرے سے گٹار بجاتا. آئش اس کو دیکھتے گانا شروع ہوا تھا. ..
میری زندگی ہے تو. .
میری زندگی ہے تو. …
…. وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی. .. کائی بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ زیادہ خوبصورت آواز کس کی تھی. ….
غم ہے یا خوشی ہے تو. …
میری زندگی ہے تو. …
میری زندگی ہے تو. …
کچھ دیر رکنے کے بعد آئش دوبارہ گانے شروع ہوا تھا. ..
کبھی نا بچهرنے کے واسطے. …
تجھ سے جڑے ہیں ہاتھ میرے. …ہیر کی آواز ایک دفعہ پھر گونجی تھی. ..
سایہ بھی میرا جہاں ساتھ چھوڑے. .
وہاں بھی تو رہنا ساتھ میرے. …
وہ ہیر کے رکتے ہی اسے دیکھتے گانا شروع ہوا تھا. .. آڈیئینز کا شور رکتا پهر شروع ہوجاتا تھا. ..
حال ایسا ہے میرا. ..
آج بھی ہے عشق تیرا. …
رات ساری جگائے مجھے. …
کوئی نیند کے سوا جو. ..
پاس آئے تیرے تو. .
..بے قراری ستائے مجھے. ..
جلتا ہے یہ دلللل. ….میرااا. ..
ہووو یارا جتنی دفعہ. …
چاند دیکھتی ہے توووووو. ….
اسے دیکھتا. .. ایک جزب کے عالم میں گا رہا تھا. .. دونوں ہر کسی سے بے گانے ایک دوسرے کو دیکھ کر گا رہے تھے. .. جو ان کے دل میں تھا. .. گانا اسی کا عکاسی تھا. ….
میری زندگی ہے توووووو.
میری زندگی ہے توووووو. .
تو میرا پہلا جنوں. ..
ہووو تو. میرا پہلا جنوں. …
عشق آخری ہے توووووو. …
. … . اب کی بار دونوں نے ایک ساتھ گایا تھا. ..ساتھ ہی ان کی پرفارمنس ختم ہوئی تھی. .. بے انتہا شور پر وہ دونوں ہی چونکے تھے. .. مسکرا کر سب کو دیکھتے وہ سٹیج سے اترے تھے. …
■■■■■■
ہر طرف تیز میوزک چل رہا تھا. .. لڑکے لڑکیاں ڈانس فلور پر بس بهلائے اپنے آپ میں مگن تھے. … پینک ..بلو. .پرپل کلر کا کانچ کا ڈانس فلور. ..انہی کلر کی لائیٹس. … کلب کی اور بھی خوبصورت بنا رہیں تھیں. ..
وہ وہیں صوفے پر بیٹھا کب سے ڈرنک پر ڈرنک کئے جا رہا تھا. … سامنے کانچ کے ٹیبل پر وائن کی بوتل کے ساتھ کانچ کا نازک چھوٹا سا گلاس بهی پڑہا تھا. … گرین آنکھیں بہت ڈرنک کرنے کی وجہ سے لال ہوگئی تھی. ..
ایک اور پیگ بناتا اس نے سبز سٹاپ نظریں پورے کلب میں گھمائیں تھیں. .. اور ایک طرف جا کر اسکی تلاش ختم ہوئی تھی. … سٹاپ نظریں سرد پڑ گئی تھی. .. گلاس پورا ایک ہی گهٹ میں پیتا …گلاس واپس ٹرے میں رکھ کر صوفے پر ٹیک لگا کر بازو بهی صوفے پر پھیلا لیا تھا. .. اس سب میں اسکی نگاہیں ایک پل کو بهی نہیں ہٹی تھیں سامنے سے. ……
گرے شرٹ جس کے اوپری دو بٹن کھلے تھے. … بلیک جینز. .. بالوں شانوں تک آتے بهورے بال کھلے تھے. … چہرے کے تاثرات کافی سرد تھے. .. جیسے ہی اپنے سامنے بیٹھا شخص پسند نہیں آیا تھا. …
اسکے بالکل سامنے ہی ایک تقریباً اسی لی عمر کا ایک بندہ بیٹها ہوا تھا صوفے پر. .. آس پاس کئی گوری لڑکیاں. .. تقریباً برہنہ حالت میں اسکے پاس چپکے بیٹهی اسکے ساتھ وائن پی رہی تھی. .مگر وہ بندہ جو شکل سے جاپانی ہی لگتا تھا. .. وائیٹ شرٹ. . بلیک شاٹس پہنے وہ ان لڑکیوں کے بجائے پورے کلب میں نظریں گهما رہا تھا. .جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا تھا. .. اچانک اپنے سامنے ہی راجر کو دیکھ کر وہ ہنسا تھا. ..
راجر نے اپنی نگاہیں اسپر سےہٹا لی تھی. .مگر دھیان سارا اسی پر تھا. … وہ دیکھ چکا تھا کہ وہ اسے دیکھ چکا تھا. .. اسے یو انفارمیشن ملی تھی. ..اس کے مطابق کارلوس ادھر ہی ہوتا تھا. .. اب وہ اسکے سامنے آیا تھا. ..یہ جاننے کے لیے کہ کیا وہ اسے ماسک کے بغیر بھی پہنچانتا تھا کہ بس نام اور کام ہی جانتا تھا. .مگر اسے خود کو یوں دیکھتے اور مسکراتے دیکھ کر وہ جان گیا تھا کہ وہ اسے جانتا تھا. ….
اب کنفیوژن دور کرنے کے لیے وہ صوفے سے اٹھ کر بائیں جانب بڑھا تھا جدھر رومز تھے. . چال میں اسنے لڑکھڑاہٹ رکھی تھی. ..دیکھنا والا یہی سمجھ سکتا تھا کہ وہ فل نشے میں دھت تھا. .. مگر وہ جانتا تھا کہ نشہ اب اس پر اثر نہیں کرتا تھا وہ اتنا عادی ہوگیا تھا. …. جاتے جاتے اسکے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے. ..پرسرار مسکراہٹ. .. وہ جان گیا تھا کہ وہ اسکے پیچھے آرہا تھا. ..
روم کا دروازہ کھول کر پهر بند کرتے وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں الٹا لیٹا تھا. …. آنکھیں موند گیا تھا. …کچھ لمحے بعد ہی اسے دروازہ کھولنے کی آواز آئی تھی. … آنے والے نے دروازہ بند نہیں کیا تھا. ….قدموں کی چاپ اسکے پاس آئی تھی. …اسے پہلے وہ اس پر وار کرتا راجر جهٹ سے اٹھا تھا. .. اسکے پسٹل والے ہاتھ سے اسے پکڑ کر بیڈ پر پھینکتے اسپر جهکا تھا. ..
تو نے کیا سمجھ رکھا ہے راجر کو. ..تجھ جیسے کتے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے. .. اسکی گردن پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالتے. .. سرد مہری سے گویا ہوا. …
کارلوس خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کررہا تھا سانس بند ہورہا تھا. .اوپر سے راجر کی اتنی کولڈ آواز. … .. اسکی آنکھوں میں خوف واضح تھا. ..
ایک ہاتھ سے راجر کا ہاتھ گردن سے ہٹاتا دوسرے سے. اتنی ہی جلدی جینز کے پاکٹ سے گن نکال کر اسکے سر پر رکھ چکا تھا. .
ہهه. ہهه. … اسے راجر کے ماتھے پر گن رکھتے ہی کچھ کہنا چاہا مگر بے سود. ..آواز حلق میں دب سی گئی تھی. …
ہاہاہاہااہ. .. اسے خود پر گن تانے دیکھ کر قہقہہ لگایا ایک جھٹکے سے اسکی گردن. چھوڑتا دور ہٹتا اپن پاؤں کے پاس جهکتا چاقو نکال چکا تھا. …
تجھے ختم کردوں گا آج راجر. .تیری کہانی ختم. .گن اسکی طرف کئے کارلوس نفرت سے پھنکارا تھا. ..
اوووو. .. اچھا. … تو انتظار کس کا ہے. .. جلدی چلاو نا گن. ..ختم کرو مجھے. .. چاقو پر ہاتھ پھیرتا تمسخر اڑانے انداز میں بولا تھا. ..
اس سے پہلے وہ گن چلاتا … راجر نے یک دم آگے ہوکر اسکے پاوں پر لات ماری تھی. .جس سے وہ توازن برقرار ن رکھتے ہوئے گرا تھا. .مگر اسکے گرتے ہوئے راجر بهی اسکے ساتھ ہی گرا تھا. ..جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ میں پکڑا تیز دھار چاقو اسکے پیٹ میں گهپ گیا تھا. ..
آہہہہہ. ..وہ پیٹ پکڑ کر چیخا تھا. …. راجر حیرت سے خون سے رنگے کارلوس اور خون آلود چاقو کو دیکھ رہا تھا. ..یہ کیسے ہوگیا تھا. .اتنا اچانک. .. وہ کیسے گر گیا تھا. .. اور پھر چاقو. .. اسنے کہا اسے مارنا نہیں چاہا تھا. … چاقو اسکے پیٹ سے گهینچتا وہ اٹھا تھا. .. دو لمحے کے لیے اسے شرمندگی ہوئی تھی مگر پهر دوبارہ سرد مہری چها گئی تھی. ..آنکھوں میں نفرت لئے وہ پڑتے کارلوس کو دیکھتا اپنی شرٹ جهرکی تھی. … مگر اچانک وہ رکا تھا. .. وہ یک دم پیچھے مڑا تھا. .. وہاں کوئی نہیں تھا. ..مگر اسے. پتا چل گیا تھا کہ نیناں تھی وہاں. .. اسے اسکی خوشبو سے پتا چلا گیا تھا. .. چاقو ٹشو سے صاف کرتا وہ چھوٹے چھوٹے محتاط قدم اٹھاتا دروازے کی طرف بڑھا تھا. ….
دوسری طرف نیناں سانس روکے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی. ….. اسے آج جس کی سیکورٹی کے لئے بھیجا تھا. ..اسے راجر مار چکا تھا. … اسنے خود دیکھا تھا. .راجر کو اسکے پیٹ سے چاقو نکالتے…. نیچے پوری ٹیم آئی ہوئی تھی. … جو راجر اور کارلوس کو ڈھونڈ رہی تھی. … وہی پهس گئی تھی. .محبت اور ایمانداری کے بیچ. ……..
