Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
بلیک شرٹ پینٹ پہنے. ..بالوں کو جیل سے سیٹ کئے. ..ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ موبائل پر جھکا ہوا تھا. ..چہرہ بالکل سٹاپ تھا. …اس کے ساتھ ہی ورن کھڑا تھا. ….وہ بھی واپس جارہا تھا. ..دونوں ساتھ ہی آگئے. وہ الیانہ کے بارے میں کسی کو بتانا تو نہیں چاہتا تھا. .. مگر بار بار ورن کے اسکی پریشانی اور یوں جانے کی وجہ پوچھنے پر آئش نے اسے بس بتا دیا تھا. ..اور ورن کا کہنا تھا وہ اسکی ہر صورت مدد کرے گا. .جیسے بھی ہوا. ..وہ کچھ لوگوں کو بھی جانتا تھا جو اس معاملے میں اسکی مدد کرسکتے تھے. …..اب دونوں ائیر پورٹ پر کھڑے اناؤنسمنٹ کا انتظار کررہے تھے. ..
یار آئش وہ دیکھ. ..وہ توتیری دوست ہے نا. .. ورن نے اسکا کندھا ہلاتے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. …
اسکی آواز سن کر آئش کے اسکے ہاتھ سے گزارتا نگاہیں سامنے کی طرف کی. ..
ہممم آئش نے ہم پر ہی اکتفا کیا. …ابھی بهس کا دل نہیں کررہا تھا ورنہ وہ اسے کچھ پوچھتا. ….
واہ حیران ضرور ہوا تھا. …کہیں ہیر کیوں جارہی تھی واپس. .کل ان کا ایک بڑا ڈانس کمپیٹیشن تھا. … وہ وہ کیوں سکپ کررہی تھی. …. مگر وہ سر جھٹک کر کھڑا ہوگیا تھا تھا. …..
دوسری طرف ہیر وائیٹ فراک نما شرٹ. .. بلیک جینز پہنے. ..بولوں کو کھلا چھوڑے. .. ہلکے ہلکے میک اپ کئے گرین سرد آنکھوں پر سٹائلش گاگلز لگائے وہ ہاتھوں میں پکڑے چپس کها رہی تھی. ..اسنے آئش کو دیکھ لیا تھا. …مگر ابھی وہ کوئی جواب نہیں دے سکتی تھی اسی لئے اسے اگنور کرتے دوسری طرف مڑ گئی تھی. … وہ تو آئش کے سامنے بھی نہیں آنا چاہ رہی تھی. … اسکا جلدی جانا ضروری ہوگیا تھا. .ورنہ وہ نیکسٹ فلائیٹ سے چلی جاتی. ..اسے کارلوس کی باتیں خوف میں مبتلا کرگئی تھی. ….اسے یہ بات راجر راج کو بتانی تھی. ….اسنے کال خود ہی نہیں کی وہ یوں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی. …
ابھی وہ دونوں اپنی سوچوں میں گم گم تھے کہ فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ کوگئی. .بنا ایک دوسرے کو دیکھے وہ دونوں اپنا اپنا لگیج سنبھالتے جہاز میں بیٹھ گئے. ..دونوں کی سیٹیں میں کافی فاصلہ تھا. …..
دونوں آج ایک ساتھ دوسری بار سفر کررہے تھے. .مگر پہلی بار سے یکسر مختلف. ..دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہوئے بھی انجان بن گئے تھے. .جبکہ پہلی بار نا جانتے ہوئے بھی یوں لگ رہا تھا کہ برسوں سے جانتے تھے. ….
■■■■■
وہ دونوں ابھی ہی روم میں آئے تھے. …. باہر بہت شور سے بارش ہورہی تھی. …
وائز چینج کر کے لیٹ گیا تو علیزے بھی اپنا نائیٹ ڈرس لیتی واش روم میں چلی گئی. …..کچھ دیر بعد وہ فریش ہوتی باہر آئی تھی. … آیا نظر وائز کو دیکھا جو اپنے موبائل میں بزی تھا. … برا سا منہ بناتی وہ اپنی جگہ جا کر لیٹ گئی. …
وائز نے ایک نظر اسے دیکھا. .لمپ آف کرتا نائیٹ بلب لگاتا وہ بھی چپ لیٹ گیا تھا. ….دونوں لمپ کی روشنی میں چهت کو گھور رہے تھے. … وائز اپنی کسی سوچ میں گم تھا. .جبکہ علیزے باہر ہوتی تیز بارش اور ہوا کی وجہ سے کافی ڈری ہوئی تھی. ..اسے ہمیشہ سے ہی طوفانی بارشوں سے سخت نفرت تھی. ..جو سب برباد کر دیتی تھی. ….
ابھی وہ سوچوں میں گم ہی تھی کہ کمرہ میں جلتا واحد لمپ بھی بجهه گیا. ..شاید لائیٹ چلی گئی تھی. …مگر علیزے اور خوف میں مبتلا ہوتی اندھیرے میں ہی وائز ک دیکھنے کی کوشش کی. …..مگر اندھیرا کافی تها. ..تو وہ کچھ خاص دیکھ نہیں سکی تھی. ….
وائز کا دل کافی بے چین سا تها. .. جیسے کچھ ہونے والا ہے. … اسنے ہیر اور باقی سب کو بھی فون کیا سب نارمل تها. ..مگر دل ہنوز بے چین ہی تها. .. اندھیرا ہوتے ہی وہ علیزے کی طرف مڑا. ..اسے پتا تھا کہ وہ کافی ڈرتی ہے تیز بارش میں ایک بار اسنے خود ہی باتوں میں بتا دیا تھا. ..
پریٹی گرل. … اسنے دھیرے سے نرم لہجے میں اسے پکارا. …
وہ جو اسی کے انتظار میں تھی جهٹ اسکے تھوڑے قریب ہوئی. .مگر فاصلہ اب بھی برقرار تها. …
کچھ نہیں ہوتا میں ادھر ہی ہوں. ..کچھ ہی دیر میں لائیٹ آجائے گی. … اسنے ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھیرتے نرم لہجے میں کہا. …علیزے نے آنکھیں موند لی تھی. ….ڈر ہنوز قائم تها. ..بارش سے بھی وائز سے بھی. ..وہ دن کی روشنی میں جتنی بہادر بن جائے رات میں اتنا ہی وائز سے ڈرتی تھی. ..
کافی لمحے خاموشی کے نظر ہوگئے. ..وائز نے محسوس کیا تھا کہ وہ سو گئی تھی. … اسنے علیزے کے بالوں میں چلتا ہاتھ روک دیا تھا. …..لائیٹ آگئی تھی. … خاموشی کو وائز کے بجتے موبائل کی آواز نے توڑا. ..اسنے حیران ہوتے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا. ..رات کے اس پہر بجانے کس کی کال تھی. ..اننون نمبر دیکھ کر اسنے پہلے تو کال نہیں اٹھائی مگر جب دوسری بار موبائل بجا تو اسنے کال پک کرتے موبائل کان سے لگایا. …
ہیلو …. وائز سپیکنگ. .. اسنے ایک نظر علیزے کو دیکھا وہ اب اٹھ گئی تھی. .اسے اسے ہی دیکھ رہی تھی. ..
مگر سامنے سے جو کہا گیا. ..وائز کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی. ….کال کٹ گئی تھی. .مگر وہ ہونقوں کی طرف موبائل کان سے لگائے ہوئے تها. …
وائز کیا ہوا. …علیزے ان اسکا کندھا ہلاتے بے چینی سے کہا تھا. ..
ہٹو. ..پیچھے ہٹ مجھے نکلنا ہوگا ابھی. ..وہ علیزے کے پیچهے کرتا سرد مہری سے بولا. ….
کدھر. .ج جانا ہے. …مجھے ڈر لگ رہا ہے. …ابھی نہیں جائیں. ..علیزے فٹ سے اٹھتی اسکو بازو سے پکڑتے ڈرے ہوئے لہجے میں بولی تھی. …وائز کا جانے کا سن کر ہر اسے اور ڈر لگ رہا تھا. …
لیزاا ہٹو. .. وائز نے جھنجھلا کر اسے پیچهے کرتے ہوئے کہا. .ماتھے پر پہلے سے پڑے بلوں میں کئی اضافہ ہوا تھا. …… جتنا جلدی وہ جانا چاہ رہا تھا وہ اتنا ہی لیٹ کروا رہی تھی. ….
نہیں صبح. ..چلے جانا پلیززز. …. علیزے اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی. … لائیٹ ڈم ہوگئی تھی. ..بارش بهی کافی تیز ہوگئی تھی. …. ایسا موسم تو اسکی جان نکالتا تها. ….وہ کیسے پوری رات اکیلی گزارتی. ….
علیزے ہٹو دیر ہورہی ہے مجھے. .. وہ اسکی بار چلاتے ہوئے بولا ساتھ ہی اسے دهکا دیا تها. …..
اسنے ویزے کو پیچهے کرتے. .. گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے باہر نکلنا چاہا تھا. …
وائز. ..م مجھے ڈر. ….
چٹاخخخ. ….ابھی اسکی بات پوری ہوتی کہ وائز سے پڑنے والے تھپڑ نے اسے بالکل خاموش کروا دیا تھا. ..و بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی. …اسے اب اس تیز بارش سے زیادہ وائز سے ڈر لگ رہا تھا. ….ج
تمہیں. …وہ ابھی غصے سے بھرا اسکی طرف بڑھتا کہ کچھ سوچتا …ہاتھ جهٹکتا وہ بنا اسکی طرف دیکھے باہر نکلتا چلا گیا تھا. ..
وہ اب بھی آنکھوں میں ڈھیروں آنسوؤں لئے ایک ہاتھ گال پر رکھے دروازے کو دیکھ رہی تھی. ……
■■■■■
وہ جب سے واپس راج ویلا آئی تھی. ..بس خاموش ہی رہی تھی راج بهی راستے پورے خاموش ہی رہا تھا لیکن. پهر ویلا آنے کے کچھ دیر بعد وہ چلا گیا تھا بنا کچھ کہے. ….. …رات کافی گہری ہوگئی تھی. … اسنے راج کو کال پر بات کرتے سنا تھا کہ اسے ضروری کام کی وجہ سے کہیں ایمرجنسی میں جانا پڑا تها. …اسنے سوچ لیا تھا آج وہ ایک بار پھر یہاں سے جانے کی کوشش کرے گی. …. اسے آج پهر اپنوں کی کمی محسوس ہوئی تھی. .جنہیں راج نے کہا تھا کہ اب بھلا دے اب وہ اپنے کمرے میں بیٹھی رات گہری ہونے کا انتظار کررہی تھی. …..
■■■■■
اندهیر ہر جگہ پھیل رہا تھا. … مگر وہ مومی وجود بهاگ بهاگ کر تهک گیا تھا. ..
وہ کافی دیر سے نگے پاؤں بھاگ رہی تھی. … اسے بس کسی قیمت پر بھی اس بیسٹ کی قید سے نکلنا تھا. ….. پاؤں زخمی ہوگئے تھے. … مگر وہ پھر بھی پهولی سانسوں کے ساتھ بهاگ رہی تھی. …. ایک خوف تھا. .. ڈر تھا کہ اگر پکڑ گئی تو اب کیا سزا ملے گی اسے. … دوسری دفعہ کوشش کررہی تھی. … پہلی بار کی سزا اسے یاد تھی. … بلکہ وہی سوچ کر ایک دفعہ پھر اس کی جان لبوں کو آئی تھی. ….. اور اب تو پائوں نے بھی معذرت کرلی تھی جو زیادہ بھاگنے کی وجہ سے اب دهک رہے تھے. ..پرانے زخموں پر اب نئے زخم بن کر اسے دوہری تکلیف میں مبتلا کررہے تھے. …… .مگر وہ پھر بھی زبردستی بهاگ رہی تھی.
…… آہہہہہہہہہہ…. پھر اچانک ہی وہ چیخ مار کر نیچے گری تھی. .. کوئی چیز …اس کے پاؤں کو چیڑتی نکل گئی تھی. .. ساتھ ہی اسے بهاری قدموں کی آواز اپنے پاس آتی محسوس ہوئی. …. پورا وجود. …پسینے سے بھر گیا تھا. …. خوف. .. ڈر تکلیف .. بڑی حالت ہورہی تھی. …. سوچ سوچ کر جان نکل رہی تھی کہ اب کیا سزا ملنے والی ہے. ….
ہیےے ..رپینزل. … کہا تھا نا. … ناممکن ہے راج کی قید سے رہائی پانا. … منع کیا تھا نا. .. دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا. ..مگر شاید …. شاید تمہیں تب میری سمجھ آئی ہی نہیں. … بٹ ڈونٹ وری . .. رپینزل. …. اب کی بار کے بار تم کبھی راج کے علاوہ کسی کا سوچ بھی نہیں سکو گی. …. وہ سیاہ حیولہ اس کے پاس ایک گھٹنے پر بیٹھتے ہوئے. .. سبز آنکھیں وحشت سے بھری تھی لہو ٹپک رہی تھی. …. پرسرار. … گھمبیر. … آواز میں کہا تھا. ….. ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا. . پسٹل واپس پاکٹ میں ڈال کر باریک. چاقو اس کے پہلے سے زخمی پاؤں پر پوری شدت سے پھیرا تھا. ..
آہہہہہہہہہ….. پ پلیزززز. … د..در..درد ہورہا ہے. ..چ هوڑ دو. … .. تکلیف سے وہ بول بھی نہیں سک رہی تھی. ….
آہہہہہہہہہ. … راج نے دوسرے پاوں پر بھی گہرا کٹ لگایا تھا. …. پہلے سے ہی خون رستے پاؤں سے خون اب اور تیزی سے بہہ رہا تھا. … مگر سی چاقو سے اس کی برینہ ٹانگوں پر بھی کٹ لگائے تھے. …. الیانہ چیخ چیخ کا بہوش ہوگئی تھی. …..
اتنے سالوں بعد ملی ہو. ..رپینزل. … اتنی آسانی سے تو خود سے دور نہیں ہونے دوں گا. …. تم میری وحشتوں کا قرار ہو. … تم میرا جنون ہو. … تم عشق ہو… #خودغرض عشق.*. . اس بیسٹ کا…. تم وہ نشہ ہو ..جس کی مجھے لت لگ گئی ہے. …. صدیوں پہلے ایک رپینزل کو ایک جادوگرنی نے قید کیا تھا. .. اور اسے اس کا پرنس آزاد کروا کر لے گیا. …مگر اب کی بار اس رپینزل کو راج نے. … ایک بیسٹ نے قید کیا ہے. …. اور وہی اس کا پرنس بھی ہے. ….اس کی بار رپینزل ہمیشہ کے لیے قید ہی رہ جائے گی. … ایک بلند و بالا محل میں. … اپنے پرنس. .. راج. …. ایک بیسٹ کی. ..رانی بن کر. ..اور اب کی سزا میں ، میں تمہیں اپنا بنا لوں گا. … تمہیں اپنی روح میں سما لوں گا. …..آج کی رات جتنی میرے لیے حسین ہوگی. ..اتنی ہی تمہارے لیے. …خوفناک ہوگی. …. جس کے بعد تم بھول کر بھی تم مجھ سے دور جانے کا سوچ نہیں سکو گی. ….. وہ اس کے نازک. .بہوش وجود کو دیکھتا. … پرسرار. ..جنونیت سے بھری آواز میں اس کا جائزہ لیتے بولا تھا. ….
وائیٹ سلیو لیس گھٹنوں تک آتا سادہ کا فراک …..جو اب خون سے لال ہوگیا تھا.. جینز کا شارٹس پہنے جو گھٹنوں سے اوپر تک ہی تھا. .جس سے اس کی برینہ ٹانگیں نظر ارہی تھی. …. کالے سیاہ. …. ٹانگوں کو چھوتے بال بکھرے ہوئے مٹی پر تھے. .. بہوشی میں بھی اس کے چہرے پر تکلیف نمایاں تھی…..
اس نے آگے بڑھ کر اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں آٹها لیا تھا. … اور لمبے لمبے ڈانگ بھرتا واپس جنگل میں گهم ہورہا تھا. ….. الیانہ کے بال زمین کو چھو رہے تھے. .. خون کی بوندیں بھی مٹی پر گرررہی تھی. …… وہ اندھیرے میں گم ہورہی تھی. … پهر سے راج کی قیدی بن گئی تھی. …. آج کی رات اس پر کیا کہر برسانے والی تھی اس بات سے بے خبر وہ اس کی مضبوط باہوں میں جھول رہی تھی. ..ایک نئی رپینزل کی داستان لکھنے. … دوبارہ قید ہوگئی تھی. .راج کی قید. … جہاں سے رہائی. .راج کی اجازت کے بغیر ناممکن تھی. …
■■■■■■
ہفتے بعد. …….
… وائیٹ شرٹ پینٹ پہنے. .بال ماتھے پر گرائے. ..وہ فلیٹ کے باہر کھڑا تها. . آج وہ پورے ہفتے بعد فلیٹ میں آیا تھا. ….اسنے اندر داخل ہوتے نظریں چاروں طرف دہرائیں تھی مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا. …..
اسنے دونوں لب بهیچ لئے تھے. …. اسے احساس تها کہ علیزے پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا. .. مگر وہ انا زادہ. …یہ بات نا خود سے اسے کہنا چاہتا تھا. .نا ہی اسے ایسا محسوس کروانا چاہتا تھا کہ اسنے کچھ غلط کیا. …. دل اتنے دونوں بعد اسے دیکھنے کا سوچ کر مچل رہا تھا. ..سرد سانس ہوا کے سپرد کرتے اسنے قدم اپنے روم کی طرف بڑھائے تھے. …. اسنے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا مگر وہاں بھی کوئی نظر نہیں آیا. …
پرٹی گرل کدھر ہو. … اس نے کمرے میں نظریں دهڑاتے ہوئے کہا. … اس کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی. … وہ پردے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی. .. نیچے سے سفید خوبصورت پاؤں نظر آرہے تھے. …..
وہ منہ پر ہاتھ رکھے سسکیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی. … اسے اسند کے بعد سے وائز کو سوچ کر ہی خوف آتا تھا. …اس پر کبھی کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تها. ……….. سفید خوبصورت چہرہ آنسوؤں سے تر تھا. … پٹ ٹی شرٹ. .. وائیٹ ٹرائوزر پہنے. .. سنہرے بال بکھرے ہوئے شانوں پر گرے ہوئے تھے. … کانچ سی آنکھیں بھینچی ہوئی تھی…..
ارے میری پرٹی گرل تو مل ہی نہیں رہی رہی. … میرے ساتھ کھیل رہی ہے. .. وہ جان بوجھ کر ادھر ادھر اسے ڈھونڈتا بولا تھا. ….
یہہہہہہہہ پکڑ لیا. … ایک دم اس نے اس کے آگے سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا. …
وہ سانس تک روک گئی تھی. ……
وائز نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا. … وہ کٹی ٹہنی کی طرح اس کے فولادی جسم سے ٹکرائی تھی. … کمر پر گرفت انتہائی سخت ہوگئی تھی..
پلیزززز. ..لیوو می. .م میں اب نہیں روک روکتی آپ کو. .. وہ روتے ہوئے بولی تھی. .. سانسیں مدہم ہوگئی تھی. …..
وہ اس کے چہرے پر جھکا اس کے آنسو پی رہا تھا. .. ..
پرٹی گرل سانس لو. .. اگر اب تم ہیوش ہوئی تو یاد رکھنا. .. بہت بڑا پیش آوں گا. …. اس نے محسوس کیا تھا اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھی. … تب ہی وارن کیا. .. یہ دوسری دفعہ تها جب وائز کے سامنے اسکی سانسیں اکھڑی تھی. ..
وہ لمبے لمبے گہرے سانس لے رہی تھی. ….. سانسیں اکھڑ رہی تھی. … پہلے بهی کبھی کبھی اسے انہیلر کی کی ضرورت پڑتی.. سانسیں بلکل مدہم ہوجاتی. مگر شاید قسمت کو اس پر ابھی رحم نہیں آتا تھا تب ہی دوبارہ ٹھیک ہوجاتی. …
ا. …انہی انہیلر. ….پلیززز. ..پلیززز. …سانس. .سانس نہیں آرہی. … جب تکلیف حد سے تجاوز کر گئی تو اس سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ جمع کر کے سامنے کھڑے ستم گر کو کہا. … جو ماتھے پر بلوں کو سجائے اسے ہی دیکھ رہا تها علیزے کی ایسی حالت اسے بهی تکلیف سے دوچار کر رہی تھی … لیزا. ..نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خود کو گرنے سے بچایا تھا. .. اور گہرے گہرے سانس لے رہی تھی. ..
انہیلر. …. وہ دوبارہ بولی تھی کہ شاید دے دے مگر وہ ستم گر تھا. … ہر جذبات سے عاری. …اسے دیکھ رہا تھا. ..
انہیلر نہیں ہے. …. اسے پیچھے کی طرف دیکھا دیتا. .. سفاکیت سے گویا ہوا. …
دهکا زیادہ تو زور کا نہیں تھا مگر وہ سمنهل نہیں سکی اور نیچے گری تھی. … کانچ کے ٹیبل کی سائیڈ سر پر پوری شدت سے لگی تھی. … سر سے خون بہنے لگا تھا. .. منہ سے بهی خون بہہ رہا تھا. … ازیت کو چھوتی وہ بہوش ہوگئی تھی. ….
دھڑام کی آواز پر وہ پیچھے مڑا تھا. … اس کی سانسیں جیسے بند ہوئی تھی. ..جان لبوں کو آئی تھی. …..
ہے لیزا. … ویک آپ. … اٹهو میں کہہ رہا ہوں اٹهو. … لیزا. … وہ دیوانہ وار اس کا چہرہ دهپاتے ہوئے بولا تھا. … سر اور منہ سے اب بهی خون نکل رہا تھا. ….
سانسیں بہت مدہم ہوگئی تھی. ….. وہ اب اسے اٹھا کر باہر بھاگا تھا. …
ابھی وہ عالیہ اور فیض صاحب کی طرف سے سمبهلا نہیں تھا کہ ایک اور تکلیف. …..
