Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
۔
بناوٹ نہیں آئی مجھے زندگی میں
میرا لہجہ، میرا مزاج ذاتی ہے…….
ہیر پلیٹ پر جھکی فاک کو پلیٹ میں گهما رہی تھی. …… ایک طرف چہرے پر ہاتھ رکھ کر چہرہ کو چھپا سا لیا تھا. …. کناٹ اور راکیل اپنی کسی بات پر بهس کررہے تھے. .جبکہ آئش اب ہیر کو دیکھ رہا تھا. .. اس نے نوٹ کرلیا تھا کہ ان لڑکوں کو دیکھ کر وہ ڈری سی تھی. ..
میں ایسے کیوں ڈر رہی ہوں. .. اس نے کون سا میرا چہرہ دیکھا ہوا ہے. . میں دنیا کے لئے ہیر ہوں. ..ریا نہیں. .. فاک مسلسل پلیٹ میں گھماتی خود ہی سے بڑبڑائی تھی. … اس سوچ کے آتے ہی وہ مطمئن سی ہوتی ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اب فاک سے چکن روسٹ توڑتی منہ تک لے کر گئی تھی. .جب اس کی نظر آئش پر پڑی تھی. …جو اب دوبارہ ان لڑکوں کو دیکھ رہا تھا. .غصہ سے چہرہ لال سا ہوگیا تھا. .
کیا ہوا. .. کون سی پکچر لگی ہوئی ہے جو نظریں نہیں ہٹ رہی سکرین سے. .فاک منہ میں لے کر جاتی سرسرے لہجے میں بولی. .اب کافی حد تک نارمل ہوگئی تهی. ..
نہیں. .پکچر ادهر تو نہیں رہی مگر ادهر ضرور چل رہی ہے جبھی ان —کی نظریں نہیں ہٹ رہی. … دهمیی آواز میں دانت پیستے ہوئے کہا. . ہاتھ میں پکڑے فاک پر گرفت کافی حد تک سخت ہوگئی تھی. .گردن بازوؤں کی رگیں واضع ہورہی تھی. ..ل
رکو میں دیکھتی ہوں. .تم ادهر ہی بیٹھو. … مت آتا. .. پلیٹ کهسکاتی چیئر سے اٹھتی بولی. ..تهی ساتھ ہی ان تین لڑکوں کی طرف بڑھ گئی تھی. .
کیا مسئلہ ہے تم لوگوں کے ساتھ. … سینے پر ہاتھ باندھتی ایک ایک لفظ کو چپا کر بولا تھا. … سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر غصہ تو پہلے ہی بہت آگیا تھا. .مگر موقع کی نزاکت کو دیکھتے تحمل کا مظاہرہ ہی کرسکی تهی. ….
وہ اسکے خوبصورت چہرے میں کھو سا گیا تھا. … دل نے بے اختیار بیٹ مس کی تهی. … وہ آج تک اسے تصویروں یا ویڈیوز میں ہی دیکھتا آیا تھا. .. بلکہ یوں کہنا ٹھیک تھا کہ دل جلاتا آیا تھا. ..مگر آج اسے روبرو دیکھ کر آس پاس کا ہوش گنوا چکا تھا. …
ہیلووو. … ہیر نے اسکو یوں ٹکٹکی باندھے خود کی طرف دیکھتا پا کر اسکے چہرے کے سامنے ہاتھ ہلاتی اسکو ہوش دلانا چاہا تھا. ..دل میں کہیں خوف سا ضرور پیدا ہوا تھا. ..
ہا. ہاں. . کیا کہہ رہی تھی. … گرے آنکھوں والے انگریز لڑکے نے سر جھڑکتے اپنی بهاری گھمبیر آواز میں اسکو ایکسرے کرتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا. .. رائیل بلو شرٹ. .. جس سے اوپری دو بٹن کھلے سے جس سے اسکا سکرتی سینا نظر آرہا تھا. .. بلیک جینز پہنے. .. گولڈن بال جیل سے سیٹ کئے گئے تھے. .. کسرتی. .مضبوط جسم کا مالک ..گرے آنکھیں. …. وہ کافی ہینڈسم تھا جو بھی تھا. ….
کیا کبھی کوئی لڑکی نہیں دیکھی. .. اسکا دماغ ہی گھوم گیا تھا. .. اسکی نظریں خود پر محسوس کرتے. …جبھی قدرے اونچی آواز میں کہا. .
تب تک آئش کناٹ اور راکیل بھی اسکے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے تھے. …
دیکھی ہے مگر اتنیی خوبصورت نہیں. …. گرے آنکھوں والا لڑکا کھوئے ہوئے انداز میں اسے قریب ہوتا اسکے چہرے کے قریب ہاتھ لے کر جاتا اپنی گھمبیر آواز میں بولا تھا. .
ڈونٹ یو ڈیئر. بوائے. … دس گرل از مائین …. ابھی اسکا ہاتھ ہیر کے چہرے کے نقوش کو چھوتا کے آئش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے جھٹکتے ہوئے وارن کرتے انداز میں کہا تھا. ..اسکا دماغ ہی گهما گیا تھا وہ جو بھی تھا. .. آئش تو اسکی نظریں ہیر کے وجود پر برداشت نہیں کرسک رہا تھا. .کجا کہ اسکا ہیر کو چھونا کرتا. ….
آئش کے ہاتھ جھٹکنے پر ایک طلسم تھا جو ٹوٹا تھا. ..وہ ہوش میں آتا ایک نظر ہیر کو دیکھنے کے بعد آئش کی طرف مڑا تھا. . اسے آئش کا خود سے ہاتھ جهڑکنے کے ساتھ ساتھ اسکے الفاظ بھی چبھے تھے. …
پیر کو آئش کے لبوں سے ادا ہونے والے الفاظ پر ہی خاموش ہوگئے تھے. .جبکہ کناٹ راکیل. .اور دوسرے لوگ. .. ٹکٹ کے بغیر مووی انجوائے کررہے تھے. ..
اس نے ایک طائرانہ نظر آئش پر ڈالی تھی. . لبوں پر ایک دلفریب. .مگر پرسرار مسکراہٹ چها سی گئی تھی. .. وہ دوبارہ ہیر کی طرف مڑا تھا. …
قسمت بدلتے لمحے نہیں لگتے. .. آج تمہاری ہے. ..کل میری بانہوں میں بے بس پڑی ہوگی. … ہیر کے آئیر رنگ کو ہلاتا. زہر خند لہجے میں کہتا .. اپنی بات سے دو نفوس کا خون جلا گیا تھا. ..
یووو بلڈی. .. آئش نے غصے سے آگے بڑھتے اسکے چہرے پر پنچ مارنا چاہا مگر وہ مہارت سے اپنا بچاؤ کرگیا. ..
بے بی. ..سی یو سون. … ہیر کی طرف آنکھ مارتا تنزیہ مسکراہٹ آئش کی طرف اچھال کر دونوں لڑکوں کو ایک مخصوص اشارہ کرتا باہر نکلا تھا. ….
آئش نے اسکے پیچھے جانا چاہا مگر کناٹ اسے روک چکا تھا. ..
■■■■■■■■
کمرے میں چار سو اندھیرا پھیلا ہوا تھا. …. صرف ایک طرف تھوڑی سی لائیٹ لگتی. پھر بند ہوجاتی تهی. …..
وہ رولنگ چیئر پر بیٹھا. ..ہاتھ میں لائیٹر پکڑے اسے جلاتا. .پھر بجھا دیتا تھا. ..کچھ دیر جلتے لائیٹر میں اسکا وجہی چہرہ روشن ہوتا تھا. …
کالی سیاہ پرسرار آنکھیں. . جو لال لہو. .چھلک رہی تھیں… گولڈن بال. ..جو فلحال تو بکهرے سے اسکے وجہی چہرے پر بکهرے ہوئے تھے….گلابی لب جو سائڈوں کے بلیک تھے. .. اسکے کافی نشہ کرنے کی علامت تھے. .. لبوں کو سختی سے بهینچا ہوا تھا. …..
لائیٹر بند کر کے پھینکتا. ..وہ چیئر سے اٹھتا لائیٹ لگا گیا تھا. … وہ ایک کافی بڑا اور خوبصورت کمرہ تھا. .. درمیان میں کنگ سائیڈ بیڈ پر کچھ فائیلز کھلی بکهری پڑیں تھیں. ..کچھ پیپرز نیچے ووڈن فلور پر بھی پڑے تھے جو شاید ان فائیلز سے ہی گرے تھے. .. بیڈ کے دونوں سائیڈ پر بیڈ کے ساتھ کے ہی سائیڈ ٹیبل پڑتے تھے. .جن پر لمپ. .جگ. .. موبائل. آلام کلاک اور کچھ دوسری چیزیں پڑہی تهی. …
گلاس ڈور ..پردے سے چھپے ہوئے تھے. ….
وہ مغرور چال چلتا بیڈ تک آیا تھا. .. جھک کر اسنے ان پیپرز میں سے ایک فوٹو اٹھائی تھی. …تین پرسرار گرین آنکھوں والوں کی فوٹو. …. اس فوٹو میں ایک چہرے پر اسنے ہاتھ پھیرا تھا. .لبوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ چها گئی تھی. … مگر صرف کچھ پلوں کے لئے. … پھر وہی دلفریب مسکراہٹ ..ایک پرسرار مسکراہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی. ….
بہت جی لیا تم لوگوں نے. …اب ایک کے بعد ایک کو مات ملے گی. …بہت بری ، ،مات. ..اسنے ہاتھ میں پکڑی فوٹو میں سے ایک چہرے پھاڑتا. .. پھر اسی چہرے کی دوسری فوٹو. .. بیڈ پر بکهری کئی الگ الگ چہروں کی فوٹوز میں سے ایک فوٹو اٹھائی تھی. ..
صرف ایک کو چھوڑ کر. …وہ تصویر لبوں سے لگاتا پرسرار آواز میں بولا تھا. …کالی پرسرار آنکھوں میں ایک جنون تھا جو نجانے کیا طوفان لانے والا تھا. … .جس نے نجانے کیا کیا تباہ کرنا تھا. .
بیڈ پر تقریباً چار لڑکوں اور چار لڑکیوں کی مختلف تصویریں تھیں. …. ان میں سے ایک خوش نصیب. ..وہ تو وہ اس طوفان سے بچا کر نجانے کیا بد نصیب بنا گیا تھا. ……
آئے ایم بیککک. …. آئے ایم بیک. …. مافیا بیک واپس آگیا ہے …..کارلوس بینڈرک واپس آگیا ہے. …سب برباد کر دے گا. …بسسس. … بس ختم کر دے گا. ..
دونوں بازو کھولے. .خوبصورت وجہی چہرہ چهت کی طرف کئے. … پرسرار سا کہتا. .دیوانہ وار قہقہہ لگاتا بولا تھا. … اسکیم پرسرار … آواز باتیں. ..قہقہے. .. پورے کمرے میں گونجے تھے. ..اور ادهر ہی دفن ہوگئے تھے. ….
■■■■■■■
کمرے میں گلاس وال سے آتی سورج کی روشنی کی وجہ سے اسنے آنکھیں کھولی تھی. .پھر بے زار سا منہ بناتی اپنا چہرہ تکیہ میں چھپانے کی کوشش کی تھی. …
اسے یاد تھا کہ کل وائز اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا. … شاپنگ اور ڈنر انہوں نے باہر ہی کیا تھا. .. فلیٹ آتے آتے دس بج گئے تھے. ..پھر علیزے کے نا نا کرنے پر بھی اسے اپنے ساتھ سلایا تھا. … مگر نیند تو اسے آنی نہیں تهی. .. پھر وہ اپنی کلاکاری کا شوق پورا کرتی رہی تھی اسکے سونے کے بعد اسپر. …
آخری سوچ آتے ہی اسنے جهٹ سے آنکھیں کھولی تھی. ایک ٹانگ وائز کی ٹانگ پر تهی جبکہ سر اسکے سینے پر تھا. ..اب اسے پتا چلا تھا کہ اسکا تکیہ یوں اچانک اتنا سخت کیسے ہوگیا تھا. … اپنی پوزیشن کا احساس ہی وہ پیچھے ہٹی تهی. ..
آہہہہہہ. ..مگر جیسے ہی وائز پر نظر پڑی ..وہ چیختے ہوئے دوبارہ اسپر گری سی تهی. ..
اسکی کانوں کو چیڑتی چیخ سن کر وائز بڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھا تھا. ..
کیا ہوا. ..یہ کون سا طریقہ ہے اٹھانے کا. .وائز اونگھتا قدرے سخت آواز میں علیزے کی طرف دیکھتا بولا تھا. .جس کے چہرے پر خوف کے تاثرات تھے. .مگر دونوں ہاتھ منہ پر رکھے وہ اپنے قہقہے کا گلا گھونٹ رہی تھی. ..
ایسا کیا دیکھ لیا ہے صبح صبح جو خوف سے لال پیلی ہورہی ہو. ….وائز نے اسکو بازو سے پکڑ کر اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے دانت پیس کر کہا. .
زکوٹا جن. .. بولتے ہی نچلے ہونٹ کو دانتوں کے درمیان چپاتی ہنسی روک گئی تھی. .
واٹٹٹ زکوٹا جن. …. وہ ادهر کدھر سے آگیا ہے. .. اسکی سر پیر کے بغیر بات سن کر قدرے چلاتے ہوئے کہا. ..
پتا نہیں. شاید.پرستان کے قیدی جنون میں سے کوئی چھوٹ کر ادهر آگیا ہوگا. .اچھا میں. .باہر جاتی ہوں. .آپکے لئے ناشتہ بناتی ہوں. .. آپ جلدی سے فرش ہوکر آجائیں. … علیزے جواب دیتی اب بھاگنے کے انداز میں بیڈ سے اٹھتی بنا چپل کے باہر بهاگی تهی. .. اسکی بات تو سر سے گزر گئی مگر یوں بھاگنے پر تاسف سے سر ہلاتا وہ کمفٹر خود سے ہٹاتا سلیپر پہنتا واش روم کی طرف بڑھا تھا. …
علیزےےےےےے. … ابھی گئے دو لمحے ی گزرے تھے کہ وہ چلاتا ہوا باہر نکلا تھا. چہرے سے رنگ برنگی پانی ٹپک کر اسے سچ میں ہی زکوٹا جن سا بنا گیا تھا. …. غصے سے نتهے پھول گئے تھے. …
لیزا. ..کیا بد تمیزی ہے یہ. ..کدھر ہو. .میں کہہ رہا ہوں باہر نکلو. وائز پورے فلیٹ میں نظر گھماتا. چلاتا ہوا بولا تھا. .مگر وہاں تو جیسے اس کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں. .
علیزے لاسٹ وارننگ دے رہا. ..مجھے ملی تو بہت برا پیش آؤں گا. … دوسرے روم کا دروازہ کھول کر اندر دیکھتا بولا تھا. ..مگر وہاں بھی کوئی نہیں تھا. …اپنے پیچھے آواز سن کر وہ غصے سے پیچھے مڑا تھا. …
آہہہہہہ. .. علیزے نے چیخ مار کر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے تھے. ..
اس حرکت کو میں کیا سمجھوں. . پریٹی گرللل. . اسکو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتا اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتا سنجیدہ سخت آواز میں اسے گویا ہوا. ..
و وائز. .پرامس. ..میں آپکے اپنے چہرے سے بھی بہت. ..ڈ ڈرتی ہوں. .آ آپکو. ..اتنی م محبت کی ضرورت نہیں تھی. …آنکھیں ہنوز سختی سے موندے کپکپاتے لبوں سے معصوم سی شکل بنائے. .بڑے صاف طریقے سے سارا الزام اسپر لگا چکی تھی. ..
واٹٹٹ. … میں. .میں نے یہ کلاکاری کی اپنے چہرے پر. .. حیرت و غصے سے اسکو پیچھے کی طرف دکھا دیتے. .. حیرت سے گهنگ آواز میں اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا. ..
اچھا. .آپ نے نہیں کیا. …پھر م مجھے لگتا ہے کہ یہ کن کٹے جن کا کام ہے. .وہی آیا ہو گا رات میں. … اپسر سے الزام ہٹانے کا احساس کرتے. . کسی کنکٹے جن پر الزام لگاتی وہ معصومیت سے آنکھیں گھماتی. . اپنی طرف سے اسکے علم میں اضافہ کیا گیا تھا جیسے. ساتھ ہی ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گئی تھی… دل خوف سے دھڑک رہا تھا کہ اگر اسے غصہ آگیا تو وہ کیا حال کرے گا. .مگر کچھ ڈرامہ کرنا تو تھا خود کو بچانے کے لیے. …
ہمم رات کو زکوٹا جن آیا. …..
نہیں. .نہیں. ..زکوٹا جن تو آپ ہیں. .کن کٹا جن آیا تھا. ..مطلب کہ کن کٹے جن نے آکر آپکو زکوٹا جن بنا دیا. ..آپ تو بہت پیارے ہینڈسم ہیں. ..اسکی بات درمیان میں ہی کاٹتی ہاتھ نچاتے کسی بڑے استاد کی طرح اسے گائیڈ کیا تھا. .. ساتھ ہی اسکی گهوری کی وجہ سے اپنی طرف سے مسکے لگا کر اسے کول کرنا چاہا تھا. ..
ہممم. .. مطلب کہ زکوٹے جن نے آکر مجھے کنکٹا جن. …..
نہیں پھر غلط بول رہے ہیں. …کنکٹے جن نے اکر. ….
شٹ اپ…. جسٹ شٹ اپپپ. .یہ کیا کن کٹا جن اور زکوٹا جن لگائی ہوئی ہے. ..دو قدموں میں ہی سارا فیصلہ طہ کرتا اس تک پہنچتا اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے. .. غصے سے چلاتے ہوئے کہا. ….
پتا نہیں. شاید.پرستان کے قیدی جنون میں سے کوئی چھوٹ کر ادهر آگیا ہوگا. .اچھا میں. .باہر جاتی ہوں. .آپکے لئے ناشتہ بناتی ہوں. .. آپ جلدی سے فرش ہوکر آجائیں. … علیزے جواب دیتی اب بھاگنے کے انداز میں بیڈ سے اٹھتی بنا چپل کے باہر بهاگی تهی. .. اسکی بات تو سر سے گزر گئی مگر یوں بھاگنے پر تاسف سے سر ہلاتا وہ کمفٹر خود سے ہٹاتا سلیپر پہنتا واش روم کی طرف بڑھا تھا. …
علیزےےےےےے. … ابھی گئے دو لمحے ی گزرے تھے کہ وہ چلاتا ہوا باہر نکلا تھا. چہرے سے رنگ برنگی پانی ٹپک کر اسے سچ میں ہی زکوٹا جن سا بنا گیا تھا. …. غصے سے نتهے پھول گئے تھے. …
لیزا. ..کیا بد تمیزی ہے یہ. ..کدھر ہو. .میں کہہ رہا ہوں باہر نکلو. وائز پورے فلیٹ میں نظر گھماتا. چلاتا ہوا بولا تھا. .مگر وہاں تو جیسے اس کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں. .
علیزے لاسٹ وارننگ دے رہا. ..مجھے ملی تو بہت برا پیش آؤں گا. … دوسرے روم کا دروازہ کھول کر اندر دیکھتا بولا تھا. ..مگر وہاں بھی کوئی نہیں تھا. …اپنے پیچھے آواز سن کر وہ غصے سے پیچھے مڑا تھا. …
آہہہہہہ. .. علیزے نے چیخ مار کر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے تھے. ..
اس حرکت کو میں کیا سمجھوں. . پریٹی گرللل. . اسکو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتا اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتا سنجیدہ سخت آواز میں اسے گویا ہوا. ..
و وائز. .پرامس. ..میں آپکے اپنے چہرے سے بھی بہت. ..ڈ ڈرتی ہوں. .آ آپکو. ..اتنی م محبت کی ضرورت نہیں تھی. …آنکھیں ہنوز سختی سے موندے کپکپاتے لبوں سے معصوم سی شکل بنائے. .بڑے صاف طریقے سے سارا الزام اسپر لگا چکی تھی. ..
واٹٹٹ. … میں. .میں نے یہ کلاکاری کی اپنے چہرے پر. .. حیرت و غصے سے اسکو پیچھے کی طرف دکھا دیتے. .. حیرت سے گهنگ آواز میں اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا. ..
اچھا. .آپ نے نہیں کیا. …پھر م مجھے لگتا ہے کہ یہ کن کٹے جن کا کام ہے. .وہی آیا ہو گا رات میں. … اپسر سے الزام ہٹانے کا احساس کرتے. . کسی کنکٹے جن پر الزام لگاتی وہ معصومیت سے آنکھیں گھماتی. . اپنی طرف سے اسکے علم میں اضافہ کیا گیا تھا جیسے. ساتھ ہی ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گئی تھی… دل خوف سے دھڑک رہا تھا کہ اگر اسے غصہ آگیا تو وہ کیا حال کرے گا. .مگر کچھ ڈرامہ کرنا تو تھا خود کو بچانے کے لیے. …
ہمم رات کو زکوٹا جن آیا. …..
نہیں. .نہیں. ..زکوٹا جن تو آپ ہیں. .کن کٹا جن آیا تھا. ..مطلب کہ کن کٹے جن نے آکر آپکو زکوٹا جن بنا دیا. ..آپ تو بہت پیارے ہینڈسم ہیں. ..اسکی بات درمیان میں ہی کاٹتی ہاتھ نچاتے کسی بڑے استاد کی طرح اسے گائیڈ کیا تھا. .. ساتھ ہی اسکی گهوری کی وجہ سے اپنی طرف سے مسکے لگا کر اسے کول کرنا چاہا تھا. ..
ہممم. .. مطلب کہ زکوٹے جن نے آکر مجھے کنکٹا جن. …..
نہیں پھر غلط بول رہے ہیں. …کنکٹے جن نے اکر. ….
شٹ اپ…. جسٹ شٹ اپپپ. .یہ کیا کن کٹا جن اور زکوٹا جن لگائی ہوئی ہے. ..دو قدموں میں ہی سارا فیصلہ طہ کرتا اس تک پہنچتا اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے. .. غصے سے چلاتے ہوئے کہا. ….
وہ اچانک اسکے غصے سے چلاتے اور پھر خود کے قریب آنے پر خوف سے آنکھیں میچ گئی تھی… خوف سے دھڑکنے منتشر ہونے لگی تھی. . حلق تر کرتے بےساختہ ابھرے والے گلٹی اندر ہی اتار گئی تھی. …
آنکھیں کهولو اپنا. ..اسکا خوف سے بدلتا رنگ دیکھتا قدرے نرم لہجے میں مگر حکمیہ لہجے میں بولا تھا. … اسکا خوبصورت چہرہ دیکھتے وہ اپنا زکوٹا جن جیسا چہرہ بھی بهول گیا تھا. …
ن نہیں آ آپ زکوٹا. …
لیزااااا. ..اسکا دوبارہ زکوٹا نامہ شروع کونے سے پہلے ہی اسے سختی سے وارن کرتے انداز میں کہا. ..
اوکے. … اب آپ جا جائیں. .میں. .اگلے پورے ہفتے کا آج ہی ڈر گئی. .. آپکی محبت رائیگاں نہیں گئی. .. دھیرے سے آنکھیں کھولتے. .. صلہ آمیز لہجے میں کہتی. .آخر میں عادت سے مجبور. .خون جلا گئی تھی. ..
وہ گہرا سانس لیتا کچھ سخت کہنے یا کرنے سے خود کو باز رکھتا. ..ایک سخت ترین نظر اسپر ڈالتا اندر کی طرف بڑھا تھا. …
پیچھے علیزے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی گہرا سانس صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتی. .اونچا اونچا ہنسنے لگا گئی تھی. ..
میں خود تو نہیں آئی نا. .خود ہی لائیں ہیں. .. دیکھنا اب کیسے خود ہی واپس چھوڑ کر آئیں گے. … کوشن اٹھا کر گود میں رکھتے روموٹ سے ٹی وی لگاتی بیٹھ گئی. …
■■■■■■■
یہاں کھڑی کیا کررہی ہو. … الیانہ کو ٹیرس پر بیٹھا دیکھ کر اسکے پاس آتا بولا تھا. .گرے شرٹ بلیک پینٹ پہنے. .بالوں کو ماتھے پر گرائے وہ ڈیشنگ سا لگ رہا تھا. ..
لائیٹ پینک شارٹ سلیو لیس فراک پہنے. …. وائیٹ شاٹس پہنے. ..بولوں کو کھلا چھوڑے وہ ہاتھ میں سیکچ بک پکڑے کچھ بنا رہی تھی. .راج کی آواز سن کر سکیج بک بند کرتی اسکی طرف مڑی تھی. …
کیوں اپکا کوئی بل آرہا ہے جو پوچھ رہیں ہیں. .یا. …یا تو میں ایک ایک قدم اٹھانے سے پہلے آپسے پرمیشن لے لیا کروں. .. ہاتھ میں پنسل گھماتی جل جلانے والے انداز میں بولی تھی. …ایک تو اسکی وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے دور تھی. .پھر اوپر سے پاؤں کی چوٹوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی.
کھڑی ہو پہلے. .پھر جواب دیتا ہوں. .. اسکو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کرتا بولا تھا. .. اسکے اتنے برے لہجے کو جیسے وہ برداشت کرتا تھا وہی جانتا تھا. .اگر اسکی جگہ کوئی اور ہوتا تو. .شاید اب تک نا ہوتا. .. مگر وہ اسپر زیادہ سختی نہیں کرنا چاہتا تھا. .. وہ چاہتا تھا وہ اسے گهل مل جائے. .. پھر وہ خود فیصلہ کرے اسکے پاس رہنے کا. .مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اتنا آسان تھا. .. ابھی تو اسے کئی مشکلات دیکھنی تھی. .. ابھی تو اسنے اور ٹرپنا سسکنا تھا. ..پھر جا کر کہیں قسمت نے کوئی بہتر فیصلہ کرنا تھا. …محبت ..عشق. .. اس کی منزل پانے کے لئے وہ کئی قربانیاں دینی پڑتی ہیں. .اور اب تک اسنے کچھ قربان نہیں کیا تھا اپنا. .. پہلے تو وہ اسکے پاس نہیں تھی. .تو دوری قابلِ برداشت تھے. .مگر حاصل کر کے کهو دینے کا غم تو اسنے دیکھا ہی نہیں تھا. … ابھی تو اسے کئی گھٹن راہوں سے گزرنا تھا. .. وہ قسمت کے سبھی فیصلوں سے یکسر انجان …الیانہ کو سٹائلش جھولے سے اٹھتا خود بیٹھتا. .اسے اپنی گود میں بیٹھا کر اسکے گرد اپنا احصار تنگ کر گیا تھا. ..
یہ سب انتا جلدی ہوا تھا کہ الیانہ بهکلا سی گئی تھی. …
یہ. .یہ. .چھوڑیں، مجهے…چھوڑیں. ..اسکے مضبوط بانہوں کا احصار خود سے ہٹانے کی کوشش کرتی بهکلائی سی بولی تھی. ..
خاموش ہوجاو. .بلکل خاموش ہوجاو. …بس کچھ دیر خود کو محسوس کرنے دو. ..تهک گیا ہوں. …
گرفت سخت کرتا اسکے بالوں میں چہرہ چھپائے مخمور لہجے میں بولا تھا. .بولتے ہوئے اسکے لب الیانہ کی گردن کو چھو رہے تھے. …جو دونوں کے دل کی دھڑکنوں کو منتشر کرنے کا باعث بن رہے تھے. ..
را راج. ..پلیززز. ..اسکو کندھے سے پکڑ کر خود سے دور کونے کی تگ و دو کرتی بمشکل اپنی دھڑکنوں کو نارمل کرتی بولی تھی. ..دل مانو کانوں میں دھڑک رہا تھا. ….اسے راج کا چهونا. .قریب آتا برا نہیں لگتا تھا. ….مگر جب وہ یہ سوچتی تھی کہ کیسے اسنے زبردستی اسے پاس رکھا تھا نکاح کیا تھا. سب سے دور کیا تھا. … پھر جو اسکے پاؤں کا. حشر کیا تھا. ..و کیسے بهولتی سب…اتنی آسانی سے تو کچھ بھی نہیں بهول سکتی تھی. …
تمہیں میں کیسا لگتا ہوں. .رپینزل. … گردن سے چہرے نکالتا ایک ہاتھ سے چہرے پر جھولتی کچھ لٹوں کو پکڑ کر کھینچتا یک دم سے سوال دغ گیا تھا. .وہ سوال جو اسے کافی دنوں سے پریشان کئے ہوئے تھا. ..وہ سوال جس کا جواب وہ اچھے کے علاوہ نہیں سن سکتا تھا. .یہ جانتے ہوئے بھی کہ جواب اچھا وہ ہی نہیں سکتا تھا. ..وہ سوال پوچھ بیٹھا تھا جس کا جواب الیانہ کے پاس بھی نہیں تھا. …یا پھر شاید وہ اس سوال حل ہی نہیں کرنا چاہتی تھی. .. وہ سوالوں میں الجھ کر ہی رہنا چاہتی تهی. ..
کیسے بھی نہیں لگتے. .. بلکے کچھ لگتے ہی نہیں ہیں سوائے مونسٹر کے. .. اسکے یوں اچانک سوال پوچھنے پر دل نے بیٹ مس کی تهی. … وہ دل کو یکسر اگنور کرتی اسکے کندھے پر سر رکھتے خفا سے لہجے میں بولی تهی. اسے ایک ہفتے میں ہی اسکی عادت سی ہوگئی تھی. … دل میں کہیں اسے وہ اچھا بھی لگتا تھا. .مگر وہ اچھائی ..برائی کے آگے کم. .بلکہ بہت ہی کم پڑ جاتی تھی. ..
ہممم مونسٹر. …اچھا یہ بتاؤ. .کہ. ..اگر ایک طرف میں ہوں. ..اور دوسری طرف کوئی اور. … تو تم کسے چنو گی. … اسکو سختی سے سینے میں بھینچے دوسرے ہاتھ اسکے لمبے سیاہ بالوں میں پھیرتا عجیب سے سرسرے لہجے میں بولا تھا. ….
پاگل. … یہ تو بتائیں کہ دوسرا کون ہے. ..مطلب دوسرا آپشن کلئیر تو کیا نہیں آپنے. .یوں کسی کو سڑک سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے بولیں گے تو یقیناً میں آپکو ہی چنوں گی. .. اسکے سینے سے سر ہٹاتی دوسرے ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتی راج کے چہرے کی طرف دیکھتے بولی جو سب بے خود سا ہوتا اسی کو دیکھے. .سنے جا رہا تھا. …..
ہممم. ..تو دوسرا آپشن ہے. …تمہاری فیملی. …میں یا فیملی. .. اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتا بولا تھا. …
ہمم ظاہر سی بات ہے میں. ……وہ سامنے جنگل میں درختوں کو دیکھتی بولتی بولتی رکی تھی. ..نظریان جنگل کی طرف سے ہٹائے راج کی طرف مڑی تهی. … جو اسکے جواب کا بے چینی سے انتظار کررہا تھا. .. چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ بے اختیار ہی قہقہہ لگا کر ہنسی کے. ..ایک ہاتھ منہ پر رکھے. .. چہرہ آسمان کی طرف کئے وہ ہنستی چلی گئی تھی. ….
وہ اسکو یوں ہنستا شاید پہلی بار دیکھ رہا تھا. ..وہ جب سے آئی تھی. .شاید سہی سے مسکرائی بھی نہیں تهی. اور اب اسے یوں ہنستا دیکھ کر وہ ٹکٹکی باندھے اسی کو دیکھے جارہا تھا. ..واہ ہنستے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی. . بڑی بڑی آنکھیں ہنستے ہوئے چھوٹی ہوگئی تھی. .. ساتھ ہی آنکھوں میں نمی آگئی تھی. …
میں جواب نہیں بتاتی. .. اسی طرح کنفیوز رہیں. …مجهے کیا. … ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتی کندھے اچکائے بے فکری سے جواب دیا تھا. …مگر راج کے عمل پر بےفکری ہوا ہوئی تھی. ..
وہ جو کب سے اسے ہنستا دیکھ کر بے خود سا ہورہا تھا. .. اچانک ہی اکی گردن میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے قریب کئے وہ اسکے نازک ہونٹوں پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھے خود کو سیراب کرنے لگا تھا. ..مگر تشنگی تهی کے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی تھی. …کچھ ہی دیر بعد جب اسے احساس ہوا کہ الیانہ مشکل سے سانس لے رہی تھی. .وہ نرمی سے اس سے دور ہوا تھا. …..
اسکے دور ہوتے ہی گلابی چہرے لیے وہ گہری سانسیں لئے اپنی سانسیں نارمل کررہی تھی. …
سوری. .. آئے ایم سوری. …میں پتا نہیں چلتا کب بے خود ہوجاتا ہوں. ..میں تمہیں تمہاری مرضی کے بغیر نہیں چهونا چاہتا. … اپنی بے خودی کا احساس ہوتے ہی زور سے اپنے سینے میں بھینچے وہ نادم لہجے میں گویا ہوا. …
اور میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گی. … تهک کر چھوڑنا پڑے گا مجهے. …اسکے سینے سے لگے وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی تھی. …
■■■■■■■■
وہ ٹیرس پر کھڑا سامنے جنگل کی طرف دیکھے جارہا تھا. .آج موسم کافی خوشگوار تھا. ….. شام کے وقت پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف جارہے تھے. .. پرندوں کی خوبصورت آواز کافی تیز تهی. … مگر اسکے سوچوں میں خلل نہ ڈال سکی تهی. ….
ٹیرس پر موجود کرسی پر بیٹھے وہ ہاتھ میں موبائل پکڑے نیناں کی تصویر دیکھے کسی گہری سوچ میں پڑا تھا. …بلیک اینڈ ریڈ چیکس والی شرٹ پہنے. . بلیک پینٹ پہنے ..شانوں تک آتے بال کھلے ہوئے تھے. …..
نجانے کیوں لگتا ہے کل تم نے مجھے دیکھ لیا ہے. …میں جانتا ہوں. .تم جانتی ہو کہ کون ہوں میں. .کیا ہوں. …سب تو جانتی ہو تم. ….مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ تم مجھے دیکھو. … نجانے کیا سوچتی ہوگی میرے بارے میں. .کیا سوچتی ہو گی. …فوٹو کو زوم کئے وہ اسکی فوٹو دیکھتا بولا تھا. .جیسے وہ سامنے ہو. ..
کیا محسوس کرتی ہو میرے لئے. ….کرتی بھی ہو کہ نہیں. …. موبائل پر گرفت مضبوط کرتا کرسی سے ٹیک لگا گیا تھا. ..گرین آنکھوں لہو برستے کو تیار تهی. .. وہ کلمہ رات سے سو نہیں سکا تھا. …وہ جانتا تھا کہ اسنے راجر کو دیکھ لیا ہوگا. .مگر پھر بھی وہ چاہ رہا تھا کہ شاید نا دیکھا ہو. .رات سے ایک ہی بات سوچے دماغ خراب سا ہوگیا تھا. …
تم تو شاید. ..پانچ سال پہلے ہی میرے دل میں بیٹھ گئی تھی. …مگر میں نے قبول نہیں کیا. ..ہمیشہ چاہا کہ تم کبھی واپس ناملو. ..کبھی تمہارا میرا سامنہ نا ہو. …یا پھر کاش میں تمہیں نا پہنچان پاتا. ..کاش میں اپنی یادداشت کهو دیتا. …… مگر میں تو تمہیں دیکھتے ہی. .تمہیں تمہاری خوشبو سے پہچان گیا تھا. .. مگر حیرت ہے. …کہیں میرا ایک دفعہ قتل کرنے کے باوجود مجهے نا پہچان پائی. .. ابھی بھی نا پہچانتی ہوتی اگر. .تمہاری دوست تمہیں نا بتاتی. .. آسمان کی طرف دیکھتے وہ دل میں ہی نیناں سے مخاطب تھا. …
وہ وائیٹ پاؤں کو چھوتے لانگ سلیولیس فراک …بلو جینز پہنے. ..بالوں کو کھلا چھوڑے. ..ایک ہاتھ میں اپنے سینڈل پکڑے. .سمندر کے کنارے چل رہی تھی. .. ہوا سے بال اڑ رہے تھے. .جنہیں پیچھے کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی. …. شام کا وقت. .ڈھونڈتے سورج کا منظر. .. امبر پر اڑتے پرندے. ….. لہروں کا شور. … اسے اتنا خوبصورت. .مکمل منظر بھی خوش نہیں کر سکا تھا. …
تم وہ کیوں ہو راجر. .جو تم ہو. … تم ایک نارمل ایک. .اچھے انسان کیوں نہیں ہو. .
کاش تم ایک کریمنل نا ہوتے. .یا پھر. …کاش میں تمہارے متضاد نا ہوتی. …یا. ..کاش ہم ملتے ہی نا. …اگر ملتے تو پھر کاش ہم ایک. ..کریمنل اور ایک ایجنٹ کے طور پر ہی ملتے. …میں اپنا کام کرتی. ..تم اپنا. …پھر بیشک ہار جیت کسی کی بھی ہوجاتی. .. مگر مگر یہ دل کہاں. .کب کیسے. .کیوں کام کرگیا. .کیوں بازی لے گیا. …اب ہماری ہار. …شاید محبت کی ہار ہوگی. … تم ہار گئے تو میں جیت کر بھی ہار جاؤں گی. ..اور اگر تم جیت گئے. …تو. …میں پھر بھی ہار جاؤں گی. ….وہ سوچتے سوچتے کافی آگے لہروں تک آگئی تھی. .. دماغ سوچوں سے پھٹ رہا تھا. …. کل رات سے وہ بھی سو نہیں سکی تھی. …وہ نہیں جانتی تھی کہ. کیا ہونا تھا. ..وہ پریشان تهی بہت. ..
اچھی لگتی ہو مجهے. ..راجر کی بهاری گھمبیر آواز اسے دور کہیں سے سنائی دی تھی…. وہ پیچھے مڑی تهی. … وہ پاگلوں کی طرح چاروں طرف دیکھ رہی تھی. .مگر وہاں کہیں راجر نہیں تھا. .. بالوں کی کان کے پیچھے کرتے وہ واپسی کے لیے بڑهی تهی. ..
کیا ..کیا تم سچ میں مجهے چاہنے لگے ہو. ..یا تم. .یا تم. .مجهے جاننے لگے ہو..
میں کس سے وفا کروں. …تم سے وفا کی تو. .ملک سے بیوفائی کرنی پڑے گی. .ملک سے وفا کی تو. ..تو تم سے دستبردار ہونا پڑے گا. ….میرے لئے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے. … وہ ڈوبتے سورج کو دیکھتی خود سے ہی بڑبڑائی تهی………
دونوں الگ الگ کشمکش میں مبتلا تھے. ..فیصلہ. .کوئی اٹل فیصلہ کر نہیں سک رہے تھے. …. اپنی سوچوں میں گم وہ اپنے ہی پلین بنا رہے تھے. .الگ الگ. .. ایک دوسرے کے سے یکسر مختلف. … مگر ان سے پہنے قسمت فیصلہ لے کر مہر لگا چکی تھی. … اب انہیں کهٹ پتلی کی طرف رہنا تھا. .بڑھنا تھا. ….نجانے محبت کا انجام کیا ہونا تھا. .. فرض اور محبت میں سے کسی ایک نے جیتنا تھا. …ایک نے ہارنا تھا. ..اور ایک ہارون سے کئی ہاریں جڑ گئی تھی. …
اندھیرا گہرا ہورہا تھا. .پرندوں کا شور اب قدرے کم ہوگیا تھا. ..وہ ساری سوچوں کے جهٹکتی اپنی گاڑی کی طرف بڑهی تهی. ….
راجر موبائل بند کرتا پاکٹ میں ڈالتا. .ایک نظر … سورج کی آخری کچھ کرنوں پر آخری نظر ڈالتا کمرے کی طرف بڑھا تھا. …..
■■■■■■■
