Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
ادھورے خوابوں کے خستہ کاغذ
سنبھال رکھنا حساب ہوگا ��
وائیٹ شرٹ پر بلیک جیکٹ، بلیک جینز. پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے وہ ڈریسنگ. کے سامنے کھڑا. خود پر پرفیوم سپرے کررہا تھا. … اسکی ارادہ علیزے کی یونی جانے کا تھا. …
دو تین دن سے. .جب سے وہ علیزے سے ملا تھا. .وہ ایک رات بھی آرام سے سو نہیں سکا تھا. … اب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اس سے ملے جارہا تھا. .. مانا جاتا اب بھی نہیں تھا کہ اسے محبت ہوگئی تھی. …
اسے بقیہ ایک اٹریکشن لگ رہی تھی. …
آخر تفصیلی نگاہ خود پر ڈال کر. ..اپنی گاگلز موبائل اور چابیاں اٹھا کر باہر نکل آیا تھا. ….
ارے وائز بیٹا کہیں جانے رہے ہو. … عالیہ بیگم نے اسے آفس ڈریس کے بجائے کیجول میں دیکھ کر پوچھا تھا. ..
ہاں موم بس ایک کام تھا. .. ان کے پاس آکر بولا تھا. …
وائز یہ کیا. ..تم ٹھیک تو ہو نا. …. تمہاری آنکھیں اتنی لال کیوں ہورہی ہیں. .. اسکو غور سے دیکھتے فکرمندی سے پوچھا تھا. …
اتنا نہ یاد آیا کرو کہ سو ہی نہ سکیں
صبح سرخ آنکھوں کا سبب پوچھتے ہیں یہ لوگ. .
نہیں موم کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہوں. … شاور لیا ہے نا تب ایسا لگ رہا ہے. … وائز نے آنکھیں ملتے ہوئے سرسری سا کہا. ..
اچهااا. …. خیر جاو تم. … عالیہ مطمئن تو نہیں ہوئی مگر زیادہ کردیا بھی نہیں تھا. .
اوکے موم. … نکلتا ہوں. ..ٹیک کیئر. .. ان کا ہاتھ چومتا باہر کل گیا تھا. …
عالیہ کافی دیر اسے جاتا دیکھتی رہی تھی. …..
■■■■■■
وہ دھیرے دھیرے ہوش میں آرہی تھی. … سر بهاری ہوا ہوا تھا. ….
اففف گاڈ. .. اسنے اٹهے کی کوشش کی مگر آٹھ نہیں سکی تھی. …
کچھ دیر سر پر ہاتھ رکھے ویسے ہم لیٹی رہی. …مگر پھر اچانک کچھ یاد آتے اسنے آنکھیں کھولی تھی. … ادھر ادھر دیکھ کر کمرہ پہچاننے کی کوشش کی.
..
گلاس وال جس سے باہر کا منظر نظر آرا تھا. . کمرے کی بیچ میں کنگ سائز بیڈ. . جس کے سائیڈ پر بیڈ کے ساتھ کے ہی سائیڈ ٹیبل تھے. … ایک کونے میں ٹرانسپورٹ کلر کی چیئر تھی اسکے سامنے کانچ کا خوبصورت چھوٹا سا ٹیبل تھا. … جس پر گلدان میں تازہ سرخ گلاب تھے جن کی خوشبو کمرے میں بکھری ہوئی تھی. … دوسرے سائیڈ پر ایک اور گلاس کا دروازہ تھا. ..جو یقیناً واش روم ، ڈریسنگ روم کی طرف تھا. …
کمرے کی باقی تینوں گلاس وال پر سکائے بلو کلر کے خوبصورت پردے لگے ہوئے تھے. .. جو تھوڑے تھوڑے ہٹے ہوئے تھے. ..
یہ بلاشہ بہت خوبصورت روم تھا. . مگر یہ اسکا روم تو نہیں تھا. ..
پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو آج صبح ہی ایبک اور سب دوستوں سے ضد کر کے وہ واپس گھر کے لئے نکلی تھی وہ راج کی وجہ سے کافی ٹینس ہوگئی تھی. .. .وہ تو ایئرپورٹ کے لئے نکلی تھی. .جب اسکی گاڑی رستے میں ہی خراب ہوگئی تھی. . وہ دیکھنے کے لئے نکلی تھی. .تب ہی کسی نے پیچھے سے اسکے منہ پر کوئی رومال رکھا تھا. .. جس کی وجہ سے وہ بہوش ہوگئی تھی. .. اور اب ادھر. …
تولیا وہ کیڈنیپ ہوگئی تھی وہ ایک دم آٹھ کر بیٹھی تھی. .. پہلا شک ہی راج پر گیا تھا. …
چپل پاؤں میں اڑیستی وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی تھی. . بال جو اسنے رول کر کے ہانی پونی کئے ہوئے تھے. ..اب وہ بھی کھلے اسکے ساتھ ہی بیڈ سے گرے تھے. ..
کوئی ہے. … وہ گلاس ڈور کا ہینڈل گھماتی بولی تھی. … مگر وہ لاک تھا. ..
کون ہے. … وہ ایک دفعہ پھر چلائی تھی. .. ساری والز سے پردے ہٹائے تھے. ..مگر باہر کوئی نظر نہیں آیا تھا. .. وہ روتی ہوئی ادھر ہی ایک وال سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ کر سر ٹانگوں میں چھپا کر اونچا اونچا رونے لگی تھی. .. اسے خوف آرہا تھا. .. وہ جو سوچ رہی تھی. .. اگر ویسا ہوتا تو کیا کرتی وہ. … اسے یہ سب راج کا ہی کیا لگ رہا تھا. ..وہ تو پہلے ہی اس سے ڈری ہوئی تھی. ..اس کی پرسرار گرین آنکھوں سے. .. سٹاپ چہرے سے. .. اسکی جنونیت بهری باتوں سے. ..
. کل کے ہی ریڈ سلیو لیس فراک میں تھی. . ٹانگیں اور بازو نظر آرے تھے. ..بال اسکے ساتھ ہی زمین پر بکھرے ہوئے تھے. ..
ابھی وہ رو رہی تھی. .جب دروازہ کھلے کی آواز پر اسنے آنسوؤ سے تر چہرہ اٹھا کر دیکھا تھا. …
کیوں ہے مغرور ؟ تُو لاچار بھی ہو سکتا ہے
تیرے جیسے سے تجھے پیار بھی ہو سکتا ہے
پہلے دستور تھا قاتل، کوئی دشمن ہوگا
ہاں مگر اب تو کوئی یار بھی ہو سکتا ہے
■■■■■■■
عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ
حسن بِکتا ہوا بازار تلک آیا تھا_ محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی جب میں اس شخص کے معیار تلک آیا تھا__��
کیا ہوا ہے. .تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو. .. لیٹ نہیں ہورہے ہم. …ہیر نے نے لائونچ میں آکر کناٹ اور راکیل سے کہا جو صوفے پر بیٹھے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہے تھے. .. اسکی آواز پر اسکی طرف مڑے تھے. ..
تمہارا اور آئش کا انتظار کررہے تھے تم تو آگئی مگر آئش لڑکیوں سے بھی زیادہ دیر لگاتا ہے. تیار ہونے میں. .. ابھی تک نہیں آیا. … جواب راکیل نے دیا تھا. …
اچھا. .. میں دیکھتی ہوں. .. فرسٹ ڈے ہی لیٹ کروائے گا. .. ہیر آئش کے کمرے کی طرف بڑھتی بولی تھی. ….
دو دفعہ ناک کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں آیا تب ہی وہ روم میں انٹر ہوئی تھی. ..
آیش. … وہ کمرے میں داخل نہیں تو. ..واش روم سے آواز آرہی تھی تب ہی اسنے اسے آواز دی تھی. …
کلک کی آواز کے ساتھ ہی وہ واش روم سے باہر نکلا تھا. ..
ہاں بس آرہا ہوں یار. .. جلدی جلدی واش روم سے نکلتا ڈرنسگ کے سامنے گیا تھا. .. گرے شرٹ بلیک پینٹ پہنے وہ بالوں کو کهنگی کررہا تھا. …
ایسے کیا دیکھ رہی ہو. . اسکو اتنی طرف دیکھتا پا کر بغور اسکا جائزہ لیتے ہوئے کہا. ..
بلو جینز پر فل سلیو والی ہاف بلائوزر شرٹ پہنے. .. وائٹ ہی جاگر شوز پہنے. .بالوں کو ہائی پونی میں مقیم کئے. … نفاست سے کیا ہوا میک اپ. .وہ خوبصورت لگ رہی تھی. …..
ڈفر تمہیں. …..
ٹن ٹن ٹن. .. اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی آئش کا موبائل بجا تھا. ..
پلیز ہیر موبائل دے دو. … آئش پرفیوم خود پر چڑکتا بولا. ….
ہیر نے موبائل بیڈ سے اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا تھا. ….
ی یہ کون ہے. .. تب ہی ایک دم کال بند ہوگئی تھی. . سکرین پر لگی الیابہ آر آئش کی فوٹو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی. …
اوور یہ. ..یہ میری بہن ہے. ..الیانہ. .. آئش اسے موبائل لیتا بولا تھا. ..
د دکهاو. . دوبارہ اسے فون لے کر اب وہ سکرین پر دیکھ رہی تھی. .جہان الیانہ اور آئش کھڑے کسی بات پر دونوں ہنس رہے تھے. .مگر جس چیز نے اسے حیران کیا. . وہ اسکے بال تھے. … جو کھلے بکهرے زمین سے لگ رہے تھے. . اور اسنے کچھ بال ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے. ….
ارے نکچڑی ہر کسی کی طرح تم بھی اسکے بال دیکھ کر حیران ہوگئی نا. … آئش نے اسے حیرت سے موبائل دیکھتے ہوئے دیکھ کر موبائل لیتے ہوئے کہا. …
یہ. .. مطلب. .. اسنے ہونٹ تر کئے تھے. …
مطلب یہ اسکے اپنے بال ہیں یا. .وگ. .. مطلب. ….. دماغ سائیں سائیں کررہا تھا. .
یار اپنے ہیں. .ریئل بال. …، ہماری اوما. ..مطلب جو ہماری دادی ہیں نا. .انہیں اسکے بال بہت پسند تھے. … اسی لئے انہوں نے کبھی کٹوانے نہیں دیئے. .. پہلے تو بہت چڑتی تھی کہ سنبھال نہیں سکتی مگر پھر عادت ہوگئی. … اسے دیکھتا بولا تھا. ..خیر چلو اب لیٹ ہورہےے ہیں. …. اسے کہتا وہ باہر نکلا تھا. ..مگر وہ ہلی بھی نہیں تھی. ..
ہیررررررر. … تب ہی باہر سے کناٹ کے چلانے کی آواز سن کر سر جهڑتی باہر نکلی تھی. مگر دماغ ادھر ہی ٹک گیا تھا. ….
چلو. .. گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا. .جہان پہلے سے ہی وہ تینوں بیٹھے ہوئے تھے. .اسکے بیٹھتے ہی آئش نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی. ….
■■■■■■■
گاڑی چڑچڑاہٹ کی آواز کے ساتھ ہی آکر یونی کے پارکنگ میں رکی تھی. …
وہ جیکٹ سہی کرتا باہر نکلا تھا. ..گاڑی لاک کر کے علیزے کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا تھا. …
اسے زیادہ خوار نہیں ہونا پڑا تھا. .. وہ سامنے ہی سونیہ کے ساتھ بیٹھی تھی. …وائیٹ فلیپر جینز پر. . ریڈ سٹائلش شرٹ پہنے. .. بالوں کو ہمیشہ کی طرح درمیان سے مانگ نکال کر کھلا چھوڑا ہوا تھا. … اسکے مقابلے سونیا نے بلیک سکرٹ پربلو ہاف بلائوزر شرٹ پہنی ہوئی تھی. . میک اب بھی تیز تھا. … مگر اسکا دماغ خراب ہوا تھا یا دیکھ کر کہ اسکے لیف سائیڈ پر ایک انگریز لڑکا بیٹها ہوا تھا. ..جو باتوں باتوں میں ہی اسے چھو رہا تھا. … صاف نظر آرہا تھا کہ وہ نروس ہورہی ہے. ..مگر اسے تو صرف اس انگریز کا علیزے کو چهونا نظر آرہا تھا. ….
اب اسے یقین ہورہا تھا کہ وہ اتنی معصوم ہے نہیں جتنی لگتی ہے. .. جبھی اس انگریز کو روک نہیں رہی. . اسے پسند تھا نا تب ہی. …
ایک گہرا سانس بھرتا وہ اسکی طرف بڑھا تھا. …
ہیلوو. … دونوں ہاتھ جینز کے پاکٹ میں ڈالے اسنے سامنے کھڑے ہوتے نگاہیں علیزے پر ٹکائے ہوئے کہا. …
اسے دیکھ کر تینوں نے چونک کر اس لمبے تگڑے وجود کی طرف دیکھا تھا. ….
جہاں سونیا کا موڈ آف ہوا تھا. .وہیں علیزے کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا. .. پتا نہیں کیوں وہ ہر جگہ اس کی مل جاتا تھا. ..
مارک ناگواری سے اسے دیکھ رہا تھا. …
ہائے. .. کسی کو نا بولتے دیکھ کر مروّت سونیا نے ہی اسے وش کیا تھا. …
بات کرنی ہے تم سے. … اے دوبارہ سے خود کو اگنور کر کے نوٹس میں گم ہوتا دیکھ کر دانت پیس کر کہا تھا. …
اسکی آواز پر اسنے سر اٹھایا تھا. .. اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر اسکے ہونٹ تر کئے تھے. . ایسے کرنے پر ایک ساتھ ہی مارک اور وائز کی نظر اسکے گلابی نازک ہونٹوں پر گئ تھی. ..
اٹهوو. .. وائز نے مارک کو بنا پلکائے اسے دیکھتے ہوئے دیکھ کر اب کی بار قدرے اونچی آواز میں کہا. .. اسے برداشت ہی نہیں ہوہا تھا کہ کوئی اور اسکے بارے میں سوچے. …
م. .میں آتی ہوں. .. سونیا نے اسے منع کرنے کے لیے کچھ بولنا چاہا ہی جب علیزے ہاتھ سے بکس سونیا کو پکڑتی آٹھ کر وائز کی طرف بڑھی تھی. ..
تمہیں لڑکوں کے قریب ہونے کا. .. یہ معصومیت …اسے چہرے پر سجا کر تم لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہو نا. … تھوڑا دور جا کر وائز نے اسے وہیں پلر کے ساتھ پن کرتے ہوئے کہا. ..
ی. .یہ آپ. .کیا کہہ رہے ہیں. .. وہ تو اسے اپنے قریب دیکھ کر ہی مرنے والی ہوئی تھی. … اسکی بات سن کر حیرت غصے. . خوف ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے کہا. ….
تمہیں یہ بتانا تھا کہ تم کامیاب ہوگئی ہو. .. میں تمہاری معصومیت کے جال میں پھنس گیا ہوں. ..مجھے تمہاری معصومیت نے بہت اٹریکٹ کیا. … اب بتاؤ کتنے پیسے لو گی. .مجھے بس تم چائیے ہو. .. جتنے. ….
چٹاخخخخ… اسکی اتنی چیپ باتیں سنتی علیزے کی بس ہوئی تھی. .جبھی بنا کچھ سوچے اسکے چہرے پر تھپڑ مارا تھا. …
آپکی ہمت کیسے ہوئی میرے بارے میں یوں بات کرنے کی. … آپ کون ہوتے ہیں میرے کردار پر انگلی اٹھانے والے. ..جیسے خود ہیں ویسا ہی سب کو سمجھ رکھا ہے. .. نفرت ہے مجھے اپسے. .. وہ روتی ہوئی بولی تھی. .نجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی. .. جب ہی اسے تهپر جهڑ دیا تھا. …
کئی سٹوڈنٹ ان کی طرف دو پل کو متوجہ ہوئے تھے. … مگر پھر اپنے کاموں میں مگن ہوگئے. ..
تم نے مجھے تھپڑ مارا. ..مجھے. .. وائز مرزا کو. … کیا سمجھتی ہو خود کو. .بہت پارسا ہو. .. بہت خوبصورت ہو. .. جو کوئی بھی مل جائے گا. .ہاں. .سچ میں مل تو کوئی بھی جائے گا. ..اور نجانے کتنے ملیں بھی ہوں. .. کیا ہوا. ..کیا نہیں دیکها مجھ میں جو اتنا پارسا بننے کی کوشش کرنی شروع کردی. .ابھی اس. .. اسکا اشارہ مارک کی طرف تھا. .. آنکھیں لال ہوگئی تھی. . گردن بازو کی رگیں تنی ہوئی تھی. . غصے سے اسکا دل.. کررہا تھا کہ ابھی سب کے سامنے ہی اسے سیدھا کردے. .. ایک ہاتھ پر رکھے ہوئے کہا. ..
جب وہ مارک مارک چهو رہا تھا. .تب تو کچھ نہیں بولی …کیا اسکا چهونا زیادہ پسند آرہا تھا یا. .اسکی مجھ سے زیادہ گوری رنگت. .یا. ..ایک منٹ. … وہ کہتے کہتے ہاتھ گال سے اٹھا کر دونوں ہاتھ اب پلر پر رکھ کر اسکے اور قریب ہوا تھا. …
علیزے کی سانسیں اکھڑ رہی تھی. .خوف سے جان نکل رہی تھی. . اوپر سے اسکے باتیں. ..
پیسے کتنے دئے تھے. ….؟؟؟ پرامس اس سے زیادہ دوں گا. .. اسکے کان کے پاس جهکتے راز داری سے گویا ہوا. .ساتھ ہی اسکے کان کی لو کو اپنے دانتوں سے کاٹا تھا. ..
پلیززز. .. علیزے گہرے گہرے سانس لیتی ایک ہاتھ سے اسے پیچھے کرتی بولی تھی. … اسکی باتیں سکا دل چھلنی کررہی تھی. .. اس سب سے انجان وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا. ..
قصور تو اسکا بھی نہیں تھا. … اسنے اپنے قریب ایسی ہی زیادہ لڑکیاں دیکھی تھی. .. اسے اب علیزے کی معصومیت ہزم نہیں ہورہی تھی. .
پریٹی گرل. .. ابھی جا رہا ہوں. .. شاید تم میں ابھی اور جان نہیں. .اسے زیادہ قریب ہوا ابھی تو شاید بہوش ہوجاو. ..مگر جلد ہی دوبارہ ملاقات ہوگی. ..یقیناً ایک حسین انداز میں. .. اسے گہرے گہرے سانس لیتا دیکھ کر پہلے تو زرا ڈرا تھا مگر بھی جلد ہی اپنے خول میں واپس آتا. .. کاٹ دار لہجے میں کہتا. .ایک ہاتھ سے اسکا گیلا پھولا گال چهونا اس سے دور ہوتا چلا گیا تھا. .اسے لگ رہا تھا کہ یہ بھی ایک چال ہی ہے اور اٹینشن لینے کے لیے. ..
اسکے جاتے ہی. .علیزے واپس بھاگی تھی. .اسے انہیلر چاہئے تھا. .سانس بند سا ہو رہا تھا. …….
دھڑکنیں ربط سے بے ربط ہوئی جاتی تھیں
ہوش سب بھول گئے دیکھ کے بہکے ایسے
جس طرح شاخ پہ کِھل اُٹھیں مہکتی کلیاں
آج وہ ہونٹ ذرا دیر کو مہکے ایسے
اُٹھ گیا تھوڑا حجابات سے پردہ یک دم
اک قیامت ہی اُٹھا دی ذرا ظاہر کر کے
اُس نے تھوڑا سا دبایا تھا ذرا ہونٹ کو بس
رکھ دیا ایک مسلمان کو کافر کر کے
■■■■■■■■■
وہ چاروں اب سٹ پر آگئے تھے جہاں شو ہو رہا تھا. … یہ بس ویسے ہی ایک مقابلہ کروایا تھا. .سب ڈانسر میں. .. اسکے بعد ہی ممبئی میں میں سہی کمپیٹیشن ہونے تھے. .. اس کے بعد ہی کچھ ٹیمز جو آخر تک جاتی ان کا انٹر نیشنل لیول پر کمیشن ہونا تھا. .. اور جیتنے والے کو ڈانسر آف دا یئیر کا سرٹیفکیٹ ملنا تھا. ..
اب راکیل ڈانس کررہی تھی. … اسکا کمپیٹیشن اس اور ڈانسر لیلا سے تھا. …
زبردست پرفارمنس. .. زبردست. … تینوں جج نے اسے پوائینٹ دیا تھا. .جبکہ لیلا کو دو نے ہی دیا تھا. ….اب راکیل سب کا شکریہ ادا کرتی ڈانس فلور سے اتری تھی. ….
اب جو ڈانسر آرہے ہیں. ..بہت زبردست ڈانسر ہیں. .جن کا تعلق جاپان سے ہے. .. سو. …مسٹر آئش درانی. .کم ان دا سٹیج. .انکر کے کہنے کے ساتھ ہی ہر طرف اندھیرا پھیل گیا تھا. … ڈانس فلو کے علاوہ پورے ہال میں ڈم لائیٹ تھی. .
آئش سٹیج پر آیا تھا. … سانگ پلے ہوگیا تھا. .. اسنے ڈانس کرنا شروع کیا تھا. ..
وہ ہائی بیٹ پر ڈانس کررہا تھا. وہ اپنا بیسٹ دے رہا تھا. .اور اب تو اسے ہیر سے جیتنا تھا. .. .. اسکے اسٹیپس بہت یونیک اور زبردست تھے. ..جج اور گیسٹ ہوٹنگ کر کے اسے داد دے رہے تھے. ..
لاسٹ اسٹیپ لیتے ہی ہال تالیوں سے گونجتا اور لائیٹس واپس روشن ہوگئی
..واوو. ..زبردست. …بہت اچھی. …پرفارمنس تھی. .. میں تو اپکا فین ہوگیا آئش. .. اور آپ کیا کہنا چائیں گے. .. تب ہی انکر خوشی سے آئش کو بولتا ججز کی طرف متوجہ ہوا تھا. ….
ان کے ڈانس کا تو ای زمانہ فین ہے. .. توہم کیسے نا ہوں. ..کہتے ہی تینوں ججز نے ریڈ گول بٹن کو پرس کر کے اسے پوائنٹس دئے تھے. .. بس کا شکریہ کہتے ہی وہ واپس اپنی جگہ پر گیا تھا. ..جاتے جاتے ایک دل جلانے والی مسکراہٹ ہیر کی طرف اچهلانا نہیں بھولا تھا. …..
تو اب ہم بلائیں گے ایک ایسی ڈانسر کو. ..جو اپنے کیرئیر میں کبھی کہیں کسی سے نہیں ہاری. .جن کے ڈانس کا میرے ساتھ ساتھ ایک دنیا فین ہے. .. جن کے ڈانس کو بہت سہرایا جاتا ہے. … جو پچھلے بارہ سال سے ڈانسنگ کررہی ہیں. ..
اور آج ان کا مقابلہ ہمارے بہت زبردست ڈانسر آئش درانی کے ساتھ ہے. .. ویسے تو جیتنا ہارنا اس مقابلے میں زیادہ معانی نہیں رکھتا. ..مگر ہیر مرزا اور آئش درانی کے مقابلے کا فیصلہ کا ہمیں بے چینی سے انتظار ہے. … اس کے لیے ہم. .. دا موسٹ ٹیلنٹڈ. . موسٹ پریٹی. ..ڈانسر. ..ہیر مرزا کو ڈانس فلور پر انوائیٹ کرتے ہیں. .پلیززز. ہیر مرزا کم ان دا فلور. ….کچھ ادھر ادھر ہی چولیں مارنے کے بعد انیکر پرشوق آواز میں بولا تھا. .. اسکے ساتھ ساتھ کئی اور لوگ. .ججز. . دوسرے ڈانسر اب انتظار کررہے تھے. .کہ دونوں میں سے کون جیتتا ہے. ..ایک شیر تھا تو دوسرا سوا شیر. ….
ہر جگہ سے اپنے نام کی پکار سن کر ہیر سائیڈ سمائل پاس کرتی آٹھ کر فلور کی طرف بڑھی تھی. …..
میرے وجود میں کاش تو اتر جائے 💓
میں دیکھوں آئینہ اور تو نظر آئے💓
تو ہو سامنے اور یہ وقت ٹھہر جائے💓
ہائے یہ زندگی تجھے دیکھتے ہی گزر جائے💓
■■■■■■■
