Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
ہیر تم یہاں. …ابھی وہ گاڑی کا دروازہ کهولنی کہ اسے اپنے پیچھے ہی راکیل کی آواز سنائی تھی. ….بهیچهے لب کهل گئے تھے. … وہ پیچھے مڑے حیرت سےراکیل کو دیکھ رہی تھی. …
راکیل تم یہاں. ..اسنے راکیل سے ہینڈ شیک کرتے لہجے میں حیرت سموئے کہا. .
کیوں. .یہاں میرا آنا منع ہے. .. راکیل اسکا ہاتھ سختی سے دباتی منہ بناتے ہوئے بولی. …
نہیں یار منع و نہیں ہے مگر تم ممبئی میں تھی نا. ..ہیر نے ہاتھ واپس لیتے اسکی بات سے نفی کرتے سوال دغا تھا. ..
یہ تو میں بھی پوچھ سکتی ہوں کہ تم توممبئی میں تھی نا پهر یہاں کیسے. ….راکیل نے اسکی گاڑی سے ٹیک لگائے مزے لیتے ہوئے کہا.
انہیں حیرت ہوئی. ..آئش اور ہیر کے یوں درمیان میں سب چھوڑ کر جانے پر. .. پهر وہ دونوں بھی سب بائینڈ اپ کرتے واپس آگئے تھے. ..انہوں ت اتنا کوئی کریز نہیں تھا وہ تو آئش کی وجہ سے گئے تھے. ..جب آئش ہی نہیں تھا وہ کیا کرتے. .. دو دنوں بعد وہ بھی جاپان آگئے. …یہاں آکر آئش سے ملے. … الیانہ کی گمشدگی کا سن کر انہیں بهی شاک لگا تھا. .
ان دونوں کی الیانہ سے اچھی گپ تھی. ..اچانک ان کے گم ہوجائے پر وہ بھی کافی پریشان ہوئے تھے. ..ان دونوں نے بهی کافی کوشش کی الیانہ کو ڈھونڈنے میں. …مگر ناکام ہی رہے تھے. … اب کو کافی مشکل سے ورن کی مدد سے آئش کو لے کر ڈنر پر آئے تھے. …..کال سننے راکیل باہر آئی جب اسے ہیر نظر آئی. .. وہ کافی دونوں سے کسی کی کال نہیں پک کررہی تھی. .. کال پر اکسیوز کرتی وہ ہیر کے پیچھے بھاگی تھی. ..کئی دفعہ آواز دینے پر بھی وہ مڑی نہیں. .. تب ہی اسکے قریب پہنچتے قدرے اونچی آواز میں پکارا. .تب جا کر کہیں ہیر میڈم کو ہوش آیا تھا. ….
یار بس کام تھا تبھی چھوڑنا پڑا. ..پهر ٹیم بهی پوری نہیں تھی. ..خیر چھوڑو اس بات کو ادھر کس کے ساتھ آئی ہوئی ہو. .ہیر نے ٹالنے والنے انداز میں کہا. .و اب اسے کیا بتاتی کہ وہ کیوں آئی ہے. …جبهی ٹال گئی تھی. ..
میں یہاں کناٹ کے ساتھ آئی ہوں. .تم بهی چلو ہمارے ساتھ ڈنر کرو. .. اب ڈرامے مت کرنا. .پہلے ہی کافی اگنور کرچکی ہو ہمیں. ..راکیل کہتے ہی اسے ایک بازو سے کھنچے اندر کی طرف لے کر گئی تھی. …
راکیل رکو تو. …ہیر نے اسے روکنا چاہا مگر وہ ڈهیٹ بنی ان سنی کر گئی تھی. .
راکیل نے اسے اندر لاکر قریباً پٹخنے کے انداز میں آکر ایک ٹیبل کے پاس چھوڑا تھا. ..
ہیر نے ایک سخت نظر راکیل پر ڈالنے کے بعد اپنا الٹا ہاتھ سیدھی کلائی پر پھیرا تھا جو لال سی ہورہی تھی. …اسنے سختی سے لب بهیچے. .
ارےے ہیر تم. ..بڑی ہی کوئی بیوفا لڑکی ہو. ..ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. ..مڑ کر ہی نہیں دیکھا. … کناٹ کی آواز سنتی اسنے جهٹ سے بازو سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا تھا. …
بلیک جینز پینٹ پہنے. .بالوں کو ماتھے پر گرائے وہ کافی خوبرو لگ رہا تھا. ..
دل کی دھڑکنیں منتشر سی ہونے لگی تھی. …. وہ یک ٹک سب بهلائے اسے دیکھے جا رہی تھی. ..
آئش کو ورن سے کسی بات پر بہس کررہا تھا. .اینٹرس سے راکیل اور ساتھ ہیر کو آتا دیکھ کر بے خود سا اسے دیکھنے لگا تھا. … آج کتنے دونوں بعد وہ اس دشمن جان کو دیکھ رہا تھا. ..ایک سکون تھا جو سارے وجود میں چها گیا تھا. ..دھڑکنیں اسکی کانوں میں بج رہی تھی. ..
اہمم اہمم. ..یہاں اور بھی لوگ ہیں. .دنیاداری نام کی کوئی چیز ہوتی ہے. ..مروت ہی بندہ کچھ احساس کرلیتا ہے…مگر نا جی پهر لیلہ مجنوں کو کون ہرائے گا اگر آپ دونوں احساس اور دنیاداری کے پیچھے پڑ گئے تو. .. راکیل کو کب سے انہیں ایک دوسرے میں کھویا ہوا دیکھ رہی تھی آخر تهک کر اپنی چیئر پر بیٹھتی ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی. …
.ہائے. ..
ساتھ ہی دونوں ہوش میں آئے تھے جیسے. ..ہیر نے بمشکل مسکرا کر سب کو ہائے بولتے چیئر پر بیٹھی جو پہلے ہی راکیل سیٹ کرچکی تھی. ..
کیا ہوا اتنی خاموشی کیوں. .جہاں ہیر اور آئش ہو وہاں خاموشی. ..کیسے ممکن ہے. .کناٹ نے حیرت سے پہلے آئش اور پهر ہیر کو دیکھتے ہوئے کہا. ..
اگر تم کہتے ہو تو ہم یہاں ولڈ وار تهری کی پریکٹس کر سکتے ہیں. ..ہیر نے چیئر سے ٹیک لگاتے ہشاش بشاش لہجے میں کہا. ..وہ تھوڑا جھجک تو رہی تھی آئش کے سامنا کرتے ہوئے. .مگر خود پر قابو پا گئی تھی. ..
آئش کی نظریں اسپر سے ایک پل کو نہیں ہٹی تھی. ..
مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے. …ویسے مجھے یقین ہے ولڈ وار تهری بھی تم دونوں جیسوں کی وجہ سے ہوگی. .. کناٹ نے کندھے اچکائے شان بے نیازی سے کہا. …
یہ. .یہ ہم جیسوں. ..اس سے کیا مراد ہے تمہاری. ..آئش بھی میدان میں اترا تھا. ..
یہ میں اور میرا گاڈ جانتے ہیں کہ میں نے اور راکیل نے تم دونوں کو کیسے جھیلا ہے. ..کناٹ نے دونوں ہاتھ اوپر کرتے مصنوعی معصومیت چہرے پر سجائے ہوئے کہتے آخر میں راکیل کو بھی گھسیٹا. …
نہیں جی. ..مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا. ..تمہیں ہی اداکاری کا شوق ہے جو ادھر پورا کررہے ہو. ..فضول. .. راکیل نے اسکی طرف دیکھتے ٹکا سا جواب دیا. ..
اچھا چھوڑو تم دونوں. ..تم دونوں آڈر کرو. ..اور ہاں. .آئش الیانہ کا کچھ پتا چلا. ..ورن جو تب سے خاموش بیٹھا موبائل یوز کررہا تھا. .تنگ ہوتے پہلے کناٹ اور راکیل سے کہتا پهر ایک نظر ہیر کو دیکھتے آئش کی طرف مڑا فکرمندی سے بولا. .
اسکی بات سنتے جہان ہیر نے گڑبڑا کر مینو کارڈ اٹھایا تھا وہیں آئش کی نظریں اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ جانچ رہا تھا. …
نہیں لیکن بہت جلد وہ مل جائے گی. … ہیر پر نظریں گاڑھے وہ بالکل سٹاپ لہجے میں بولا تھا. …
ہیر نے لب بهیچے تھے. .. اسے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی. ..رنگت زرد پڑ گئی تھی. ..
آئش کسی سے دشمنی تھی یا. .کیا مسئلہ ہے. ..پیسوں کا بھی مطالبہ نہیں کیا. .. ایسے کیسے ڈھونڈ گے. .. کناٹ نے آڈر کرتے آئش کو دیکھتے پرسوچ انداز میں کہا. ..
ضروری تو نہیں ہے کہ دشمنی ، دشمن ہی کرے. .کبھی کبھی اپنے بھی ایسے وار کرتے ہیں کہ مقابل زخموں سے چھلنی ہونے کے باوجود سسک بھی نہیں سکتا. …وہ ان اپنوں کا بھرم رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو کبھی اسکے اپنے ہوتے ہی نہیں. ..اور پھر وہی بهرم ناسور بن کر اچھے بھلے انسان کو بن موت مار دیتے ہیں. .کہ نا کچھ ختم ہوتا ہے. ..اور نا ہی کچھ بچتا ہے. .. نظریں ہنوز ہیر پر ٹکائے وہ سرد و سٹاپ لہجے میں بولتا اسکا پہلے سے غارت سکون غارت کرگیا تھا. .
ہیر لب بهیچ گئی تھی. ..کانچ کا ہاتھ میں پکڑے گلاس پر گرفت مضبوط تر ہوتی گئی. ..گرین آنکھیں لہو چھلکتے پر آئی ہوئی تھی. …اس کا بس نہیں چل رہا تھا یا تو آئش کو کہیں غائب کردے یا پھر خود غائب ہوجائے. . وہ اسی لئے تو آئش کا سامنا نہیں کرنا چاہ رہی تھی. .اسے کہیں نا کہیں ایسا لگ رہا تھا کہ آئش کچھ ت جانتا ہے. .کیا. .یا کتنا یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی. …
اسکے گرفت میں گلاس دیکھتے آئش نے لبوں پر دلفریب سی مسکراہٹ چها گئی. .وہ جان گیا تھا. کہ.وہ جتنی نارمل دکھ رہی ہے وہ اندر سے اتنی ہی پریشان تھی. ..
کیا کہنے ہیں. ..داد دیتا ہوں تمہیں کہ ہر کام میں تیز ہو. ..پهر چاہے و تاثرات چھپانا ہی کیوں نہ ہو. …وہ ہیر کو دیکھتا دل ہی دل میں اسسے مخاطب ہوا تھا. .
عین اسی وقت ہیر نے سرخ پڑتی نظریں گلاس سے ہٹاتے آئش کو دیکھا…
ہیر کے دیکھتے ہی دلفریب مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل گئی. ..اسکی سبز آنکھوں میں دیکھتا لفٹ آئی ونک کرگیا تھا. …
ہیر نے نظریں ہٹاتے ان تینوں کی طرف دیکھا. .راکیل اور کناٹ تو اسے اور آئش کو مشکوک نظروں سے گهور رہے تھے. ..مگر ورن. ..اسکی برائون آنکھوں میں اسے کچھ عجیب سا دیکھا تھا. ..کچھ پل وہ دونوں چیلنجنگ انداز میں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے. …
اوکے اب میں چلتی ہوں. .مجھے کام ہے ضروری پهر، ملیں گے. .ہیر نے سب کی اگنور کرتے گاگلز لگاتے سٹاپ انداز میں کہتے اپنا لیدر کا بیگ اٹھایا تھا. .
اگلی ملاقات اسسے بھی زیادہ خوشگوار ہوگی. ..آئش نے اسے دیکھتے ہوئے کہا. ..بنا جواب دئے وہ ایک نظر اسپر اور پهر ورن پر ڈالتی نکلتی چلی گئی
آئش کی آنکھوں میں ایک دم سے سرد تاثرات چها گئے. .وہ لب بهیچے پلیٹ پر جھکا تھا. ..دل میں ٹیس سی اٹھی. ..تھی. ..انجانا سا درد اسے تکلیف دے رہا تھا. …..
ﻋﺎﺷﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮؔ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ
ﺑﺎﺅﻟﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ🍁
ﺟﺴﺘﮧ ﺟﺴﺘﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦِ ﻭﻓﺎ
ﭘﺮ ﮐﺘﺎﺏِ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺑﺎﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ🍂
ﺍِﺱ ﺗﻤﺎﺷﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ
ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﯾﺮِ ﺁﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ🍁
ﻣﯿﮑﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮑﻠﻒ، ﻣﯿﮑﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﺠﺎﺏ
ﺑﺰﻡِ ﺳﺎﻗﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺏ ﺁﺩﺍﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ🍂
ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺅ ﺗﻮ ﯾﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺧﺲ ﺧﺎﻧﮧ ﻭ ﺑﺮﻓﺎﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ🍁
ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﮐﯽ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺭﮨﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﯾﺎﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ
ﺗﺸﻨﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﺐ ﺑﮭﮕﻮ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﻓﺮﺍﺯؔ
ﺟﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺻﮩﺒﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺯﮨﺮﺍﺏ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﺎ کرﻭ🍁
■■■■■■
کیا ہوا. .کیا بنا. … کو مرا ہے کہ نہیں. .. کچھ پتا چلا. .. کارلوس نے اپنے سامنے کھڑے اپنے خاص بندے کی دیکھتے بے تابی سے پوچھا تھا. ..
آئی سی یو میں ہے. … بچنے کے چانسز نا ہونے کے برابر ہیں. ..سامنے ماسک پہنے بندے کے بھاری آواز میں جواب دیا. ..
ہمم. .. یہی جو بچنے کے چانسز ہیں نا. ..یہ نہیں بچنے چائیے. .مجھے اس شخص کو مرا ہوا دیکھنا ہے. ..کارلوس نے مہنگا سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے پرسرار سے انداز میں کہا. .
سر وہ تو ٹھیک ہے. ..مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب بچ سکتا ہے. ..پہلے بھی وہ ایک دفعہ کافی کریٹیکل سچویشن سے گزرا ہے. .اب گزر ہی جائے گا. ..مگر اس آئش اور ان دوسرے دونوں کا کیا کرنا ہے. … اسکے خاص بندے نے کارلوس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. …
راجر. ..اور راج. .. ان دونوں کا راج تو ختم ہونے کو ہے. .. ایک تو ختم دوسرا بھی جلد ختم ہوجائے گا. …اور ان دونوں کو بھی ختم کردو. … آج رات ہی یا پھر صبح ہوتے ہی ان پر نظر رکھو موقع ملتے ہی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کروا دو. .تاکہ ان دونوں میں سے کوئی نا بچ پائے. …اور آئش. …ہاں. ..وہ بہت گنہگار ہے میرا.. سالا. ..میری محبت سے محبت کر بیٹھا ہے. …اسکو سزا تو میں اپنے ہاتھوں سے دوں گا. ..کارلوس نے شیشے سے باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے سفاکیت سے کہا. .سیاہ آنکھوں میں وحشت سی تھی. …کیا کچھ نا بهسم کرنے کی آگ تھی. …
سر وہ. ..ایک تو آپکی ہے. .باقی دونوں بھی بہت خوبصورت ہیں. ..اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں. ……
خبردار. .خبردار جو ایسی بکواس سوچی بھی تو. …. میں اتنا گرا ہوا نہیں ہوں کہ عورت زات کی اتنی توہین کر سکوں. …مجھے جہنم دینے والی بھی ایک عورت تھی. ..کسی دوسری عورت کے بارے میں ایسا سوچنے سے پہلے اپنی ماں بہن کو دماغ میں ضرور رکھا کرو. ..یہ نا ہو یہاں تم دوسروں کی عورتوں کو بے آبرو کرنے کا سوچو. .وہاں تمہاری ماں. بہن برباد ہوجائے. …اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہی درمیان میں ٹوکتا اسکا گریبان پکڑتے سٹاپ انداز میں غرایا تھا. .غصے سے رگیں تن گئی تھی. ..
سر ہیر میڈم اور باقی دونوں کے ساتھ جوکررہے ہیں وہ بھی ایک اچھا انسان نہیں کرتا. …مقابل نے اسکے ہاتھ سے گریبان چھڑواتے اسکو آئینہ دیکھتے پل کی دیری کئے بغیر اسے چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا. .
م میں غلط نہیں کررہا. … ہیر کو کو خوش رکھوں گا. ..اور ان دونوں. کو روز..م مرنے سے بہتر ہے کہ.. ا ایک دفعہ ہی مار دوں. ……م میں اچھا. …اچھا ا انسان. ..ن نہیں ہوں. ..مگر. ..م میں. ..میں گھٹیا. .بھی نہیں. ..ہوں. …وہ. .مجھے. ..مجھے. ..مل جائے ب بس. .مجهے اور. ..کچھ نہیں. .چاہیے. .م. .میں. .. پاگل ہوجاوں گا. ..میں پاگل ہوجاوں گا. .اسے بغیر. … میں. .مر جاؤں گا. .وہ میرا عشق بن گئی ہے. …م میرا سکون. .بن گئی ہے. ..م مجهے یوں بے سکون نہیں کر سکتی. .م میری ہے. ..وہ. ..میں. .میں گھٹیا. .نہیں. ہوں. ..میں گھٹیا ن نہیں ہوں. ….و وہ میری ہے. .صرف. .میری. ..ا اس. .آئش کی نہیں. .ص صرف میری. ..کارلوس کی. .ہیر. .ہاں. .ہاں میری. …….
جیڑی شام دا تیرا وعدہ ھا
لنگھ شام گئ توں نئیں آیی
میں کئ قاصد بھیج بیھٹاں
تیرا کوئی پیغام وی نئیںآیا
پاسا بدل بدل کےرات کٹی
ھک پل آرام وی نئیں آیا
تیرا ملن تاں شآ کر ھک پاسے
تیرا صرف سلام وی نئیں آیا..
اور اسکے جاتے ہی گلاس وال سے ٹیک لگا کر نیچے ووڈن فلور پر بیٹھتا دونوں ہاتھوں سے بال نوچتا چیختے ہوئے کہہ رہا تھا. ..آنسوؤ لڑیوں کی مانند بہتے چہرہ بھگو رہے تھے. .. وہ جنونی سا ہوریا تھا. …سانس پھول رہی تھی. .. رونے میں شدت آگئی تھی. ….
وہ اٹھائیس سالہ مرد آٹھ سالہ بچے کی طرح ضد کرتا رو رہا تھا. ….شاید وہ سمجھ رہا تھا. ..بچپن کی طرح اب بھی رونے سے مل جاتا ہے. .جبھی وہ ضدی ہوتا رو رہا تھا. …….
کاش تجھے بچپن میں ہی مانگ لیا ہوتا. …
ہر چیز تو مل جاتی تھی. .دو آنسوؤ بہا دینے کے بعد. …..
■■■■■■■
زندگی ختم ہو ہی نہیں رہی. …
ایک مدت سے مرا جا رہا ہوں میں. …
راججج. ….. اسنے راج کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بمشکل آنسوؤں کا گلہ گھونٹتے پکارا تھا. .. لہجے میں انتہائی کرب تھا. ….مگر وہ رونا نہیں چاہتی تھی. …ضبط کے آنسوؤں پر بھی ضبط کررہی تھی. ….
راج نے کندھے پر رکھے ہاتھ کو دیکھتے لب بهیچ لئے تھے. …گرین سرد آنکھیں لہو رنگ ہوئی تھی. …وہ کس تکلیف سے گزر رہا تھا. .یہ وہ اور اسکا خدا ہی جانتا تھا. …اندر اسکا بھائی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا. ..اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسک رہا تھا. …
وہ دونوں اس وقت آئی سی یو کے باہر کھڑے تھے. …کچھ دیر پہلے ہی راج کو کال آئی تھی راجر کے بارے میں. ..وہ شاک بھی نہیں ہوسکا تھا. ..وہ فوراً نکلا تھا ہاسپٹل کے لیے. …غلطی ہوگئی تھی وکٹر کو منع نہیں کیا تھا کہ ریا کو مت بتانا. ….ریا جیسے ہی ویلا پہنچی ویلا میں دونوں نہیں تھے. ..اسکا ارادہ تھا کہ راج اور راجر کو کارلوس کے بارے میں بتائے گی. ..وہاں نہیں تھے. ..دونوں کے نمبر پر کال بھی کی مگر دونوں کے نمبر آف تھے. .پھر مجبوراً اسے وکٹر کو کال کرنی پڑی. ….مگر جو وکٹر نے اسے بتایا. ..وہ شل ہوگئی تھی. ….کافی دیر تو وہ موبائل کان سے لگائے کھڑی رہی. …اسے رہ رہ کر کارلوس کی باتیں یاد آررہی تھی. ….دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا. ..مگر خود پر قابو پانے وہ ہاسپٹل کے لیے بھاگی تھی. ….. وہ کیسے ہسپتال پہنچی یہ وہ ہی جانتی تھی. …مگر سامنے راج کو دیکھ کر وہ اور ٹوٹ گئی تھی. … آزمائشیں تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. ….
آدیان. ..ک کیسا ہے. .ڈاکٹرز. …کیا کہہ رہے ہیں. ..ہیر نے ایک نظر آئی سی یو میں بند دروازے کو دیکھتے پهر راج کی طرف دیکھتے بہت دھیمی آواز میں پوچھا. ..
کافی خون بہہ گیا ہے. ….کچھ. .خاص. .کچھ خاص تسلی نہیں دی. ..پہلے جس جگہ گولیاں لگی وہیں لگی پهر. … تب ہی. …منان فرش کو گھورتا بے تاثر لہجے میں گویا ہوا. ….
ہیر ادھر ہی بینچ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی. …وہ مضبوط لڑکی ہار گئی تھی. ..آنسوؤں لیریوں کی مانند بہہ رہے تھے. ..اس نے آنسو چھپانے یا مٹاتے کی کوشش ہرگز نہیں کی. … وہ ٹوٹ گئی تھی. ….اس سے اپنے اندر کی توڑ پھوڑ ظاہر کردی تھی. …..
راج بخوبی اسکی سسکیاں سن رہا تھا. .. مگر فرش سے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کی غلطی نہیں کی. …وہ اسکے آنسو اسکا بهرم رکھ چکے تھے. … وہ ہرگز آنسو بہانا نہیں چاہتا تھا. …..
ان کو آتا ہی نہیں دل کو تسلی دینا. ..
خود بھی روتے ہیں اور رلا کے چلے جاتے ہیں.
آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹ … ر ہاتھ سے گلائوز اتارتا باہر آیا تھا. ..اسکے ساتھ ایک نرس تھی. …
راج اور ریا دونوں سانس روکے ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے. ..سانس تو کسی اور کا بھی رکا ہوا تھا. …ڈاکٹر کو امید بھری نظروں سے کوئی اور بھی دیکھ رہا تھا. …
ہم خوابوں کے بیوپاری تھے. ..
مگر اس میں بڑا نقصان ہوا. ..
کچھ بخت میں ڈھیروں کالکھ تھی. .
کچھ اب ک غضب کا کال پڑا. .
■■■■■
وجود اپنا نا روح اپنی. ..
بس ایک تماشہ زیست ٹھہری.
عجب چاہت کے مرحلے ہیں. .
نا جیت پائے. ..نا ..ہار پائے. .
ک کدھر لے کر. ..جا رہیں ہیں. …. علیزے نے وائز کو دیکھتے حیرت سے پوچھا
اور …میں کیوں پہنوں. .یہ ڈرس. ….اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی دوبارہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ریڈ ڈرس کی طرف اشارہ کرتے پوچھا. ….
تم پہن کر آو ..پهر بتاتا ہوں. ….وائز نے اسکا گال تهپتهپاتے لہجے میں محبت اور نرمی سموئے کہا. …
علیزے کی بیٹ مس ہوئی تھی. … اسکا نرم لہجہ ..اسے ہمیشہ ہرا دیتا تھا. .
وہ ٹکٹکی باندھے بس اسے دیکھے جا رہی تھی. ….اسکی آنکھوں میں محبت. ..کتنا خوبصورت لگ رہا تھا. …کتنا اچھا ہوتا اگر وہ یوں ہی ہمیشہ محبت کرتا. .ہمیشہ نرمی سے بات کرتا. …انا کو اپنے خوبصورت رشتے میں مت لاتا. .مگر وہ انا کا مارا. ..غلطی کر کے مانتا بھی نہیں تھا. .مان لیتا تو سوری لفظ کہنا اپنی توہین سمجھتا تھا. ..
کیا ہوا. …زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں..اسکو یوں خود کی طرف دیکھتا پا کر. .. اسکے گال پر لب رکھتے رکھتے بوجھل لہجے میں خرگوشی نما بولا تھا. ….
اسکے لمس پر وہ سختی سے آنکھیں بند کرگئی. .ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے ڈرس پر بھی گرفت سخت ہوئی تھی. ..دھڑکنیں دونوں کی منتشر تھی. …کمرے میں معنی خیز سی خاموشی دونوں کو ہی مدہوش کررہی تھی. …
م میں. ..آپکے ساتھ. ..کہیں نہیں جاؤں گی. …ا اور نا ہی. .یہ ڈرس پہنوں گی. ..کانوں میں گونجتی دھڑکنوں کو نظرانداز کرتی دوبارہ اپنی ٹون میں آتی اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسکی دور کرتی ناراض لہجے میں بولی تھی. …
ہمم …تو تم چاہ رہی ہو کہ میں چینج کرواؤں. .دو قدم آگے بڑھ کر ایک ہاتھ اسکی کمر پر رکھتا دوسرے سے کندھے سے جیکٹ ہٹاتا اپنا انگوٹھا شہ رگ پر پھیرتا دھیمی مگر سرد آواز میں بولا تھا. ..علیزے کی نا اسے غصہ دلا رہی تھی. ..مگر ابھی پہلے کئے غصے کا مداوا بھی نہیں کیا تھا. …اسی لئے ضبط کر گیا تھا.
مگر. ..میں آپ نے مجھے مارا بھی تھا. ….اور. ..پهر پورا ہفتہ مجھے ادھر بن بند ر رکھا. ..پ پهر. ..سو سوری بھی نہیں کی. ..اپنی گردن پر رکھے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے وہ منہ بناتی جیسے اسے یاد کروا رہی تھی. ..اور ساتھ ہی سوری کا کہہ کر ایک دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا. …
وائز کچھ لمحے اسکو دیکھتے پهر اسکے بالوں میں ہاتھ رکھتا اسکے گال پر جھکا تھا. .شدت بهرا لمس اسکے گال پر چھوڑتا ہلکا سا پیچهے ہوتا علیزے کو دیکھا. .جو سختی سے آنکھیں میچے ہوئے تھی. ..وہ دوبارہ جهکا تھا. ..دوبارہ اسکے گال پر شدت بهرا لمس چھوڑتے وہ پیچهے ہوا. ….
مداوا ہوا کہ نہیں. …وائز نے اپنی شدت سے لال پڑتے اسکے گال پر انگوٹھا پھیرتے بوجھل آواز میں پوچھا
وائز. …وہ کپکپاتے لبوں سے فقط اسے پکار پائی تھی. .پورا چہرہ گلال پڑ گیا تھا. ..دھڑکنیں کانوں میں ڈھول کی مانند بج رہی تھی. ….
یہ ہوئی گال ہے نا. ..جس پر میں نے تھپڑ مارا تھا. … دونوں اب میں نے مداوا کر دیا. .اب تو نہیں ہو نا خفا. ..اگر ہو بھی تو آج کی رات میں ہر غلطی کا مداوا کردوں گا. ..آج کی رات میں تمہیں بتاؤں گا کہ کتنا چاہتا ہوں میں تمہیں. ..تم پاگل پن ہو میرا. …میرا بس نہیں چلتا کہ تمہیں. ..بس خود میں قید کروں. ..ہر ایک کی نظر سے چھپا کر بس اپنا بنا لوں. ….بتاؤ تم میری ہوگی نا. ..صرف میری. ..وہ اسکے گال رب کرتا بوجھل آواز میں کہتا آخر میں اسکی بهوری خوبصورت آنکھوں میں جھانکتا سوال دغ گیا تھا. …ایک امید تھی اسکے لہجے میں. …آنکھوں میں ایک ڈر تھا. ..کچھ غلط ہوجانے کا. ..اسکے دور ہوجانے کا. ..وہ یہ ڈر ختم کردینا چاہتا تھا. …
وہ جو ابھی تک اسکے سوری نا بولنے پر اٹکی ہوئی تھی. …اسکی معنی خیز بات. .اور بات کا مطلب جان کر ساکت ہوئی تھی. ..
کانوں میں گونجتی دھڑکنیں کچھ پل تهم سی گئی. …وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی. …
و وائز. ….ی یہ. ..کنٹریکٹ. ..میرج. ..ہے. …میں. .ایسا سو سوچ بھی نہیں سکتی. …وہ بمشکل بول پائی تھی. ….
کنٹریکٹ میرج تھی. .علیزے. …اب تم میری محبت ہو. ..میں بہت جلد تمہارے پیرنٹس اور اپنے پیرنٹس سے بات کرلوں گا. …مجھے بس تم چائیے ہو. ..ہرحال میں. ..وائز کو اسکی بات پر غصہ تو بہت آیا مگر وہ ضبط کرتا تحمل سے بولا تھا. …..
مگر. ….
پلیزز علیزے چینج کرو اور ریڈی ہو جلدی. ..ہم لیٹ ہورہے ہیں. …. اسکی بات بیچ میں سے ہی کاٹتے. ..واشروم کی طرف اشارہ کرتے کہتے وہ صوفے پر بیٹھ گیا. ..
علیزے نے رونی صورت بنا کر وائز کو دیکھتے فریش ہونے چلی گئی. …یہ جانے بنا کہ ایک رات کی رات آخری رات تھی وصل کی. …پهر ہجر کی سیاہ راتیں جھیلنی تھی.
و تمہیں میرے حصاروں سے چڑا کر لے گیا ہے…
اسے کہنا. ….
کسی کا حق نہیں مارا کرتے. ..
