54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

🌻انسان کو کتنا تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی🍁
ہیر کیا ہوا ہے تم کدھر گم ہو. …ادھر کیا کررہی ہو. … آئش نے ایک نظر دور جاتے سٹریچر پر ڈالتے ہیر کو جھنجھوڑتے قدرے اونچی آواز میں کہا تھا. ..
دل میں ایک انجانا سا خوف بھی در آیا تھا. ..الیانہ بھی تو ان کے ساتھ ہی تھی. …
ہیر نے چونک کر آئش کو دیکھا. …نجانے وہ کب آیا. … وہ تو نجانے کہاں گم تھی. .جو آئش کے آنے کا بھی پتا نہیں چلا تھا. …. آئش کو یوں دیکھ کر وہ ایک پل ڈری تھی. ..بے ساختہ ہی اسنے راج کی طرف دیکھا. …..جو اب آئش کو ہی دیکھ رہا تھا. .. سبز آنکھیں لال انگار ہوئی تھی. ….ضبط کی انتہا تھی. …
وہ جو کسی گہری سوچ میں گم تھا. … آئش کی اونچی آواز سنتے اسکی طرف دیکھا تھا. …
اسے لگا کہ اسنے پہلے کہیں دیکھا تھا اسے. ..یا. .پھر. ….پتا نہیں اسے وہ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا. ….مگر و پہچان نہیں پایا تھا. ..
پیر کے اچانک راج کو دیکھنے سے آئش بھی راج کی طرف مڑا تھا. ….
اب ہیر آئش اور. .راج اور آئش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے. ….
آئش درانی. … آخر آئش نے ہی ہاتھ سامنے کرتے اپنا تعارف کروایا تھا. … جانچتی نظریں اسکے چہرے پر ٹکی اسکا تاثر دیکھنا چاہا رہی تھی. …
اسے سمجھ سمجھ آگیا تھا. .ہیر نے گڑبڑائی تھی. ..راج کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا. …اسے راج کو دیکھ کر غصہ تو بہت تھا. ..مگر فلحال وہ دونوں ہی قابلِ رحم حالت میں لگے تھے اسے. …
راج نے چونک کر اسے دیکھا تھا. …اور پھر اسکے بڑھائے ہاتھ کو. …آئش کے چہرے پر طنزیہ سی مسکراہٹ آئی تھی اسکے حیران کن تاثر دیکھتے. …
آئش درانی. …الان درانی. ….ہمم. .. اسکے ہاتھ ملاتے وہ خود سے ہی دل میں بولا تھا. ..پل میں سمجھا تھا کہ اسے وہ دیکھا دیکھا کیوں لگا تھا. ….
منان مرزا. …وہ بمشکل مسکرا پایا تھا. …..
آہاں. …جانتا ہوں. … وہ سرسرے سے انداز میں بولا تھا. ..مگر اسکا سرسرا انداز میں بولنا بھی منان کو لگا وہ اسے کچھ باور کروانا چاہتا تھا. ….
ہیر دونوں کو ایک نظر دیکھتی. …لب بهیچتی آنسوؤں روکتی باہر کی طرف نکل گئی. …. دل تکلیف سے پھٹ رہا تھا. … اسکا دل کررہا تھا وہ چیخ چیخ کر روئے. ..مگر وہ سہی سے سسک بھی نہیں سک رہی تھی. ….
ہاشم. ..پھر ..آریان. … پھر عائشہ. … اور پھر اسنے آج آدیان کو بھی کهو دیا تھا. ….
باہر آکر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی. … چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. … وہ مضبوط لڑکی آج ایک بار پھر ٹوٹی تھی. …..
ن نہیں. ..را راجرر. …ن نہیں. …نہیں مر. ..نہیں مر سکتا. ..ای ایس ایسا نہیں ہوسکتا. … ہاتھ منہ پر رکھتی گھٹی گھٹی آواز میں روتے بولی. ….ہچکیاں بند ہورہی تھی. .. ایسا تو اسنے کبھی نہیں سوچا تھا. …ایک دم سے اتنی بڑی اور اتنی بری خبر. .. وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی. … برداشت ہو ہی نہیں رہا تھا. ….. دو ہی دو خونی رشتے بچے تھے. …کیسے یکدم سے سب برباد ہوگیا تھا. ……
آئے ویل نیور فارگیو یو. …. کارلوس کو سوچتی وہ نفرت سے بولی. …یہ سب اسی کی وجہ سے تو ہوا تھا. … وہ نہ آتا انکی زندگی میں تو آج صورتحال مختلف ہوتی. …. مگر ہونی کو کون ٹال سکتا تھا. ….
خیریت یہاں. وہ کون تھا سٹریچر پر…آئش نے سرسرے سے انداز میں پوچھا. ..اسے اب تک نہیں پتا چلا تھا کہ کس کی باڈی تھی سٹریچر پر. ….
آدیان مرزا. .. بھائی ہمارا. … ضبط کرتا وہ بهرائی آواز میں کہتا رکا نہیں تھا. …وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکے آنسوؤ کسی کے سامنے بہیں. …..
آدیان. ….بھائی. ….ہیر کا بھائی. … او گاڈ. … اسنے حیرت و دکھ سے راج کی پیٹھ کو دیکھا
کسی احساس کے تحت وہ یکدم مڑا تھا. … ہیر کو دیکھنے کے لئے. …مگر وہ وہاں ہوتی تو نظر آتی نا. ..وہ بنا دیری کئے باہر بھاگا تھا. … وہ بھول ہی گیا تھا وہ یہاں کیوں آیا تھا. ..اسے فلحال ہیر کو فکر لگ گئی تھی
□□□□□□
پھر چاند کھلا پھر رات ہوئی
پھر دل نے کہا ہے تیری کمی
پھر یادوں کے جھونکے مہک گئے
پھر پاگل ارماں بہک گئے
پھر گزرے لمحوں کی باتیں
پھر جاگی جاگی سی راتیں
پھر ٹھہر گئی پلکوں پہ نمی
پھر دل نے کہا ہے تیری کمی۔ 💝😞
نیناں کیا ہوگیا ہے تمہیں. ….کیا حالت بنا لی ہے اپنی. ..دیکھو زرا اپنی طرف. ..لنڑا اسکے ڈرپ لگے ہاتھ کو چھوتی فکرمندی سے گویا ہوئی. …
مجھے لگا تھا میں مر جاؤں گی. ..اور میں بہت خوش تھی. …موت کا ڈر تو تھا. ..مگر یہ خوشی بھی تھی کہ موت جیسی زندگی بچ گئی. …مگر ہاسپٹل کے بستر پر جب آنکھ کھلی تو اتنا اچھا نہیں لگا جتنا کسی اور کو لگتا. … چهت کو گھورتی وہ بےتاثر لہجے میں بولی تھی. …..
ایسے تو مت بولو. .. شکر کرو تم زندہ ہو. ..لنڑا پہلے توکچه پل اسے دیکھتی رہی پھر دھیمی آواز میں اسے سمجھانے کے انداز میں بولی. …
ہمم …اسنے صرف ہم پر اکتفا کیا تھا. ….وہ سچ میں خوش نہیں لگ رہی تھی خود کے بچنے پر. … چهت کو گھورتی وہ جانے کن خیالوں میں گم تھی. …
کیا تم راجر سے محبت کرتی تھی. ..لنڑا نے اسکے تاثرات کھوجتے دل میں مچلتے سوال کو زبان پر لے آئی. ……
نیناں نے چونک کر اسے دیکھا تھا. ….وہ اس سے ایسے سوال کی توقع نہیں کررہی تھی. …..
وہ تھا ہوگیا ہے مگر میری محبت تھی نہیں ہوئی،…..وہ تو مر گیا ہے مگر اسکی محبت اسے میرے دل میں زندہ رکھے گی. … کهوئے لہجے میں کہتی پرازیت سی مسکرائی تھی. …. چہرے پر مسکراہٹ ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں نمی بھی تھی. ……
ریا اور راج کو دیکھ لیا تم نے. … تو اب انکے بارے میں کیا خیال ہے. …. اسکی بات کا جب کوئی جواب نہ بن پایا تو وہ بات گول کر گئی. …
تمہیں کس نے بتایا کہ میں نے انہیں دیکھ لیا ہے. .نیناں نے حیرت سے پوچھا تھا. .کیوں اسنے ابھی تک اسے کچھ نہیں بتایا تھا. …..
وکٹر نے. … دو لفظی جواب دیا تھا. …
کون وکٹر. .نیناں نے آٹھ کر بیٹھتے ناسمجھی سے پوچھا. ….
راج راجر ریا کا پرسنل سیکرٹری. ..یا پھر اسے ان کا اچھا دوست بھی کہہ سکتی ہو. ..کندھے اچکائے اسنے بے فکری سے جواب دیا تھا. ….
مگر اسے تم کیسے جانتی ہو. ..تمہاری کیسے بات ہوئی. …وہ مجھے کیسے جانتا ہے. … نیناں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ لئے تھے. ….
میں وکٹر کو ہی نہیں بلکہ میں منان عرف راج. ..راجر عرف آدیان. … ایمان ہیر عرف ریا تینوں کو جانتی ہوں. …. لنڑا نے جیسے اس پر بم پھوڑا تھا. …
کی کیسے. ..خشک پڑتے ہونٹ تر کرتے بمشکل کہا ….
اوکے. ..سنو. …آج سے ڈیڑھ سال پہلے. ..جب بلیک وے کا کیس ہمیں ملا تھا. .تب ہماری سر بیٹراس کے ساتھ میٹنگ ہوئی. … اس دن تم ہمیں جوائن نہیں کرسکی تھی. .. اس دن سر نے ہمیں کہا تھا کہ سب اپنے اپنے طریقے سے ان تینوں کے بارے میں پتا لگانے کی کوشش کریں. …. میں نے بھی کی. ..اور تقریباً چھ مہینے بعد جا کر مجھے انکی رہائش گاہ پتا چلی. … چونکہ ایک تو مجھے کنفرم نہیں تھا کہ وہ ادھر ہی رہتے ہیں دوسرا ہمیں ہمارے پلینز کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے منع کیا گیا تھا. .جبھی میں ادھر اکیلی گئی. .. جنگل تھا پورا. .. سیکورٹی کافی ہائی تھی. ..پر مارنا مشکل لگ رہا تھا. ..کافی پاپڑ بیلے کے بعد میں ویلا میں پہنچ ہی گئی. … میں شیف کا ڈرس اپ کئے پورے ویلا میں گھومی. …مجھے ان کے خلاف کافی ثبوت ملے ….جو ان تیوں کو راج راجر ریا ثابت کر سکتے تھے. …میں بہت خوش تھی. ..کہ اتنا مشکل کام اتنی آسانی سے کریا کسی کو پتا بھی نہیں چلا. …..اگلے دن مجھے نکلنا تھا واپس. … رات میں میں راجر کے کمرے میں گئی ادھر سے بھی کافی کچھ اگهٹا کیا. ..
پھر جا کر رات کافی دیر سے اپنے کوارٹر میں گئی. .. کافی تهکی ہوئی تھی. ..تو لیٹتے ہی سو گئی. ….اگلے دن جانتی ہو کدھر اٹهی. …ہاتھ میں پن گمائے بولتے بولتے آخر میں سوال کیا تھا. …
نیناں نے ٹرانس کی کیفیت میں سر نا میں ہلایا تھا. ….
اگلے دن میں انکے بلیک روم میں کرسی پر بندھی ہوئی اٹهی جب پوری بالٹی ٹھنڈا پانی میرے اوپر پڑا. ….کچھ پل تو مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے. .. پهر جب حالت سنبھلی تو سمجھ آیا کہ ہوا کیا ہے. .میں جو خوش ہو رہی تھی کہ میں کامیاب ہوگئی. …. اصل میں تو میں ٹریپ ہوئی تھی. … کافی دنوں سے ان کا پیچھا کرتے انہیں پتا چل گیا تھا تبھی انہوں نے میرے لیے جال بچھایا. ….. میں خوشی خوشی دانوں کے پیچھے آتی رہی. ….
لڑکی ہونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے ٹارچر تو نہیں کیا. ..مجھے سارا ریا نے ڈیل کیا. ..پہلے ان کا رویہ کافی سخت تھا. .مگر جب انہیں پتا چلا کہ میں کون ہوں تب وہ کچھ نرم پڑ گئے. .. ان تینوں کا کہنا تھا کہ میں اپنی ڈیوٹی کر رہی جو مجھ پر فرض ہے. … اگر کسی گینگ کا حصہ ہوتی تو مجھے مار دیتے. .. اور انہوں نے مجھے جانے کا کہا. … ثبوت کے طور پر مجھے جو ملا وہ سب جھوٹ تھا. .. میں کافی ایمپریس ہوئی ان سے اپنے اتنے سال کے کیرئیر میں میں نے پہلی بار ان کے جیسے مجرم دیکھے. ..مجھے تجسس ہوا کہ وہ کیا ہیں. . کیوں ہیں. … میں نے کافی کوشش کی وہ مجھے اپنے بارے میں کچھ بتائیں. .کہ وہ کیوں بنے کریمنل. ..مگر انہوں نے کچھ نہیں بتایا. ..میں وہاں سے آگئی اور پهر روز ہیر عرف ریا سے ملنے جاتی آخر تنگ آکر اس نے مجھے سب بتا دیا. …
کہ کارلوس بینڈرک جسے انہوں نے مارا تھا. … اسنے ان چاروں بہن بھائیوں اور ماں کے سامنے ان کے باپ کو مارا یہی نہیں. .اسکے بعد اسکی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کروایا …جن میں راجر کا جڑواں بھائی مر گیا. .. ہاشم کے بعد بیٹے کی موت کو نا سہنے انکی موم بهی مر گئی. …اچھی بھلی فیملی پل میں برباد ہوگئی. .ہیر اپنے چاچو اور خالہ کے ساتھ چلی گئی جبکہ یہ دونوں انہیں چھوڑ آئے. … اور پھر انہوں نے بدلہ لیا بینڈرک سے. ….وہ پہلا قتل. کیا تھا انہوں نے. .. وہ لوگ معصوم لوگوں کو نہیں مارتے ہیں. ..بینڈرک مافیا باس تھا. .اسکے بعد اسکا بیٹا کارلوس بینڈرک وہ باس بن گیا. .. اور اب وہ ان سے بدلہ لینا چاہتا ہے. ..راجر کا قتل اسنے کروایا. .. یہی نہیں کچھ دن پہلے ان کے چاچوں اور خالہ کا ایکسیڈنٹ کروایا وہ تو بچ گئے مگر ان کا ڈرائیور موقع پر مر گیا. .. اور ہفتے سے جتنے قتل ہو رہے ہیں. .. جو غلط کام ہورہا ہے وہ بلیک وے بن کر کارلوس کروا رہا ہے. .. وہ ہیر کو چاہتا ہے. .. مگر ہیر نہیں ہے اس میں انٹریسٹڈ اسی لئے وہ زیادہ جنونی ہوگیا ہے. .اسکا کہنا ہے کہ جب ہیر کا کوئی نہیں بچے گا تو وہ اس کے پاس ہی آئے گی. …. لنڑا سب بتا کر خاموش ہوگئی تھی. ….
نیناں منہ کھولے سانس روکے بس اسے دیکھے جا رہی تھی. ….
ت تو مطلب. ..ت تم ان کا ساتھ. .دیتی. .رہی جبھی وہ کبھی پکڑے نہیں گئے. ..، تم غ غدار ہو. .. نیناں حیرت سے بولی …اپنی ہی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی. …..
نہیں. …اگر وہ لوگ مجرم ہوتے تو میں بنا جان کی پرواہ کیے ان کے خلاف جاتی. ..مگر وہ لوگ مجرم نہیں ہیں. ..خون کا بدلہ خون ہی ہے. ..انہوں نے تو پهر دو خون معاف کئے. … لنڑا اب بھی اسی اعتماد کے ساتھ بولی تھی. …..
ل لیکن. …اب. ..کیوں. .بتا رہی ہو. ..اب تو وہ مر گیا ہے. … میں کیسے غلطی سدهاروں ..کوششوں کے باوجود آنسوؤں کو روک نہیں سکی تھی. .. چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. … سانسیں پھول سی گئی. …..بے ساختہ سر پیچھے کو گر گیا تھا. ..ہمت ختم ہوگئی تھی. ….
لنڑا نے لب بهیچهے اسے ٹھیک کر کے لٹایا تھا. ..ایک آنسو پلکوں کی بار توڑتا بے مول ہوا تھا. ..اس سے اپنی بہن جیسی دوست کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی. ………
□□□□□
اے عشق ادھر آ تجھے عشق سکهائوں…
در یار میں تجھے بیٹها کر بعیت کروائوں…
تهک جاتے ہیں لوگ اکثر تیرے عین پر آکر…
عین ، شین سے آگے تیرے قل میں سماوں…
اے عشق تیرا عشق ہوں آ سنگ تو میرے…
سینے سے لگا کر تجھے سر مست بنائوں…
تو جھوم اٹھے دیکھ کر دیوانگی میری…….
آ وجد کی حالت میں تجھے رقص دکهائوں. …..!
کمرے میں آکر اسنے چاروں طرف نظریں گمائی مگر خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا. ….
دو دن سے پہنی شرٹ کو دیکھتے اسنے بٹن کھولتے صوفے پر پھینکا. ..واڈروب سے دوسرا ڈرس لیتے وہ واش روم میں چلا تھا…
بے بی پینک کلر کا سلو لیس پاؤں کو چھوتا فراک پہنے. .. لمبے سیاہ بالوں کو کھلا چھوڑے. .. بنا میک اپ کے وہ ننگے پاؤں. .ہاتھ میں مختلف کلرز کی بوٹلز اٹھائے وہ بے زار سی لگ رہی تھی. .. چہرے پر.. ہاتھوں میں اور فراک کے سامنے مختلف رنگ لگے ہوئے تھے. …
کمرے میں انٹر ہوتے ہی وہ یکدم سے رکی تھی. … کلون کی مخصوص خوشبو پورے کمرے میں بکھری ہوئی تھی. ..سانسیں منتشر سی ہونے لگی تھی. ..
گلابی لبوں کو دانتوں تلے دبائے اس نے پورے کمرے میں جھانکا. … وہ تو اسے کہیں نظر نہیں آیا مگر اسکی سفید شرٹ اسے صوفے آدهی زمین پر گری. ..روتی بلکتی نظر آگئی تھی. …
ہونٹ تر کرتی پھونک پھونک کر قدم بڑھاتی وہ آگے بڑھی. … اسکی شرٹ اٹھانے کی جلدی میں ہاتھ میں پکڑے سارے رنگ زمین کو سلامتی پیش کررہے تھے. ….
اسنے بے اختیار واش روم کی طرف دیکھا جہان سے اب پانی گرنے کی آواز بند ہوگئی تھی. … پهر ووڈن فلور پر گرے رنگوں کو دیکھا جس نے براؤن رنگ رنگین ہوگیا تھا. …
اسے اب ڈر لگا رہا تھا جبھی انہیں اٹھانے کے لیے نیچے بیٹھی. …
کیسی ہو. … جان ہوا تب ہوئی جب بهاری گھمبیر آواز اسے اپنے کانوں کے بالکل پاس سنائی دی. …سانس روکے وہ جھٹ سے سے مڑی تھی. .نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سے رنگین ہاتھ رنگوں میں ڈوبتے اور خوبصورت ہوگئے تھے. …
مگر وہ سب بهالئے اسے دیکھنے میں مگن تھی. .. وہ اسکے بالکل قریب جذبے لٹاتی سبز آنکھوں سے اسے دیکھتا دل میں سمائے جا رہا تھا. …
بلیک ٹرائوزر میں شرٹ لیس …. بال اور کسرتی جسم گیلا تھا. …. بالوں سے گرتے پانی کے قطرے پہلے سے گیلے گیلے سینے پر گر رہے تھے.
وہ سانس روکے اسے دیکھے جارہی تھی. ..جب اچانک راج نے آگے ہوکر ایک بازو اسکی کمر میں ڈالے اسے اٹھائے بیڈ کی طرف بڑھا. ….
اچانک حملے پر وہ بکهلا ہی گئی. .. دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھے دور کرنا چاہا. …. مگر. … اسکے کسرتی سینے پر اپنے ہاتھ دیکھ کر نازک لب دانتوں تلے دبا گئی. ….
اسکی نظروں کے تعاقب میں جب راج نے دیکھا تو حیرت کی زیادتی سے آنکھیں پهیل گئی تھی. … جبھی اسنے اسکو بیڈ پر گرایا تھا. …..
م. .میں نے. ..نہیں کیا. …یہ یہ آپ ہی کی. .وجہ سے ہوا ہے. …. بیڈ پر پیچھے کھسکتی وہ بڑبڑاتے ہوئے بولی تھی. ….
راج نے ایک نظر اسے دیکھا جو دونوں ہاتھ بیڈ پر رکھے پیچھے ہورہی تھی. .سکائے بلو بیڈ شیٹ پر دونوں طرف اسکے ہاتھوں کے نشان بن رہے تھے. .پهر یکدم سے اسے پاؤں سے پکڑ کر قریب کرتا اسپر جهکا تھا. ……
اب جتنا مجھے رنگین کرنا تھا کر لیا اب مجھ پر دوبارہ رنگ مت لگانا ورنہ سزا جو ملے گی وہ تم جهیل نہیں سکتی ابھی. … اسپر جهکے بوجھل لہجے میں معنی خیزی سے گویا ہوا …. وہ دونوں اتنے قریب تھے کہ ایک دوسرے کی سانسوں کی تپش بخوبی محسوس کررہے تھے….. الیانہ دونوں ہاتھ اوپر کئے آنکھیں موندے سانسیں بحال کررہی تھی. .جو اسکی زرا سی قربت پر مچل رہی تھی. .جبکہ راج لو دیتی گہری پیاسی نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر جمائے …تشنگی مٹا رہا تھا. ….
ت تو پهر آپکو پیچھے ککیسے کرو. ..بنا آنکھیں کھولے …اس نے کافی مسئلے کی بات بتائی تھی. ….
شیشش. ..شوہر اتنے دونوں بعد لوٹے تو اسکو یوں منع نہیں کرتے. ..، چہرے پر بکهرے بال کانوں کے پیچھے کرتا سرگوشی نما کہتا اسکے گال پر شدت بهرا لمس چھوڑ کر اسکے چہرے پر بکهرے خوبصورت رنگ دیکھ رہا تھا. ..
وہ جو اسکے بات کی معنی خیزی پر بکهلا گئی تھی. .اسکا شدت بهرا لمس گال پر محسوس کرتی جان لبوں کو آئی تھی. ..اپنے چہرے پر گرتا اسکے بالوں سے پانی. … وہ عجیب سی صورتحال میں پهس گئی تھی… دھڑکنیں منتشر سی کانوں میں گونج رہی تھی. … رنگ گلال پڑ گیا تھا. ….
تو تو. … ش شوہر. .م مجھے مار. .کر گیا تھا. .. میں نے. .ت تو نہیں بھیجا تھا. ..ج جو. .اب خ خدمتیں. .کروں. ..ن نا ج جاتا نا. .تو. .مگر پهر عادت سے مجبور اس حالت میں بھی زبان کے جوہر دکھانے سے باز نہیں آئی تھی. …آنکھیں کھول تو لی تھی مگر اسکے بجائے چهت پر جمی ہوئی تھی. ..
راج یکدم اس کے اوپر سے اٹھا تھا. … اسکا پاؤں گود میں رکھے اب اسے ٹٹول رہا تھا. ….. ساری شوخی ہوا ہوئی تھی. .جب یاد آیا تھا وہ کس حال میں چھوڑ کر گیا تھا. …
درد تو نہیں ہوتا نا اب. .. پاؤں کو دیکھتا فکرمندی سے گویا ہوا. ….
الیانہ بس اسے دیکھے جا رہی تھی. ….بولی کچھ نہیں تھی. ..آنکھیں لبالب پانی سے بھرے لگی تھی. …..
کیا ہوا. ..درد ہورہا ہے. ..رو کیوں. .رہی ہو. …. جب کوئی جواب نہیں آیا تو سر اٹھا کر جب الیانہ کو دیکھا اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کے دیکھتے وہ گڑبڑا گیا تھا. .جبھی اسے قریب کرتے. … بے چینی سے پوچھا تھا. …
ج جب مارا تھا. ..تب تو دیکھا. .بهی نہیں مڑ کر. .. ہفتے سے گم ہو. . اب جب میں ٹھیک بهی ہوگئی ت تب یہ یاد آئی. … الٹے ہاتھ کی پیشت سے گال صاف کرتی شکوہ کناں لہجے میں بولی تھی. .وہ بات الگ تھی صاف کرنے کے بجائے اب پورا گال مختلف کلرز سے سج گیا تھا. …..
سوری. … آئیندہ ایسا نہیں ہوگا. …کبھی کچھ نہیں کہوں گا. . ماروں گا. .نا ڈانٹوں گا. …. میں بس پاگل ہوجاتا ہوں. …جب تم دور جاتی ہو. … دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے. .. مجھے نہیں سمجھ آتی میں کیا کررہا ہوں. ..پلیذزز نادم لہجے میں کہتا وہ شدت سے جابجا اسکے چہرے پر لمس چھوڑنے لگا تھا. .. کمر میں ہاتھ ڈالے اسے بیڈ پر لٹائے وہ اسپر جهکا تھا. … چہرے سے اب گردن پر آگیا تھا. سرور تھا کہ سارے وجود میں چها رہا تھا. .. وہ مدہوش ہوتا سب بهالئے اپنی تشنگی مٹانے کی کوشش میں ہلکان تھا. .مگر پیاس تھی کہ بھرتی جارہی تھی. . سکون .نشہ. ..رگوں میں بس رہا تھا. . … شہ رگ پر ہونٹ رکھتے ان نے پوری شدت سے کاٹا تھا. ..
آہہہ. .. اسنے سسکی بهری تھی. … ساتھ ہی اپنے ہاتھ اسکے چہرے پر رکهے اسے دور کیا تھا. …..
ابھی کہا تھا مجھے تکلیف نہیں دیں گے. ..دونوں ہاتھوں کی پیشت سے کلر اسکے گال پر لگاتے وہ خفگی سے بولی تھی. …
وہ جو مدہوش سا اس پر جهکا ہوا تھا اسکے پیچھے کرنے پر رج کر بدمزہ ہوا. .مگر پهر اسکے ہاتھوں کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے سکون سے آنکھیں موند گیا. ..اسکی بات پر مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا. …
یہ میری محبت کی شدت ہے. …. جو تمہیں تمہارے نازک وجود پر برداشت کرنی ہے. …. شہ رگ پر اپنے دیے نشان پر انگوٹھا پھیرتا وہ بے باکی سے بولا تھا. ..
مگر مجھے نہیں برداشت کرنی. ..آپ اٹھیں میرے اوپر سے میرا سانس بند ہوجائے گا ورنہ. … خفگی سے منہ بناتی دوسرے ہاتھ اسکی ہلکی داڑھی پر پھیرتی وہ نروٹهے پن سے بولی تھی. …..
وہ تو وقت بتائے گا. .رپینزلل. … کون برداشت کرے گا اور کون نہیں. … ابھی مجھے جانا ہے ضروری. …. ورنہ تھوڑا بہت ڈیمو دیکھتا. .. اسکے بالوں کو ہاتھ میں لپیٹتے وہ انہیں ناک کے پاس کرتا بوجھل آواز میں بولا تھا. … مگر الیانہ کے آگے عمل پر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی. ….
کدھر جانا ہے. … ہر وقت باہر. ..بس. .. دونوں بازوؤں اسکی گردن کے گرد فولڈ کیے وہ ناراضگی سے بولی تھی. ..مگر پھر جلد ہی اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا جب اپنے دونوں بازو اسکے گرد سے کھولتے وہ سٹپٹا کر رہ گئی. ….
راج کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ چها گئی تھی. …
گلابی لبوں پر جهکتا وہ مدہوش ہوگیا تھا. .. اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ بھی اس کے لیے کچھ محسوس کرتی ہے یہ سوچ ہی سرشار کر گئی تھی. ….
جب اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائی گی جبھی وہ پیچھے ہٹا تھا. …
الیانہ گہرے سانس لیتے اپنا سانس ہموار کررہی تھی. ….پورا چہرہ لال ٹماٹر ہوا تھا. ..
زیادہ دیر رکا تو شاید تمہارا سانس بند ہی ہوجائے. … ابھی جانا ہوگا. ..ورنہ تمہارے اور میرے دونوں کے لیے مشکل ہوجائے گی. .مگر فکر مت کرو جلدی آوں گا. …انتظار کرنا. .. ماتھے پر عقیدت بهرا لمس چھوڑتے وہ بنا اسکی سنے آٹھ کر باہر نکل گیا. …..
پیچھے وہ ایک ہاتھ سینے پر رکهے اپنا سانس ہموار کررہی تھی. ……
مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھکو
□□□□□□
یہ سانولی رنگت، سادہ سا حُلیہ، اُداس آنکھیں…🔥
ہم سےکوئی جو دل لگائے تو کیوں لگائے … 🖤
بلیک جینز پینٹ پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے. آنکھوں پر گاگلز لگائے…بلیک ہی.سنیکر شوز پہنے..وہ گاڑی سے باہر نکلی تھی. …
یہ ایک بہت بڑی پہاڑی تھی. .بڑے بڑے پتھر. …وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی. .اور سوچ رہی تھی کہ کارلوس نے اسے یہاں کیوں بلایا ہے. …
کچھ دیر پہلے ہی اسے کارلوس کی کال آئی تھی. … وہی باتیں بار بار سن کر وہ پک گئی تھی. . جبھی غصے سے کال بند کرنے لگی جب اسکی اگلی بات پر اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی. . جبھی بنا دیری کئے کارلوس کی بیجی گاڑی میں بیٹھے ادھر آگئی تھی. ….
جب اسے دور کوئی نظر آیا بنا دیری کئے بڑے بڑے قدم اٹھاتی وہ وہاں پہنچی. .مگر وہاں کی صورت حال دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا. ..
سامنے ہی آئش کو دو جاپانی نین نقوش کے ہٹے کٹے گنڈوں نے پکڑا ہوا تھا. .. مگر وہ بپھرے شیر کی طرح خود کو ان سے چھڑانے میں مگن تھا. بلیک شرٹ کے اوپری کچھ بٹن ٹوٹے ہوئے تھے. .کسرتی سینا نمایاں ہورہا تھا. …بکهرے بال. .لہو رنگ آنکھیں. .. .یہی نہیں. .چہرے پر جابجا زخموں کے نشان تھے. .منہ سے خون نکل رہا تھا. …. غصے. .تکلیف سے پورا چہرہ لال ہورہا تھا. …
یہی کوئی حال کارلوس کا بهی تھا. .گرے شرٹ جو آگے سے کھلی اسکا کسرتی سینا نمایاں کررہی تھی. …. ماتھے پر بکهرے ہوئے بال. .. پھٹا ہوا ہونٹ..جس سے خون رس رہا تھا. ..
شب کو شب نہیں، دن کو رات کہتے ہیں
ہم فقط اپنی مرضی کی بات کہتے ہیں
چھوڑو پیار کی باتیں، عشق کے قصے
ایسی باتوں کو ہم خرافات کہتے ہیں
وہ جو ہم نے کھایا وہ تو دھوکہ تھا
مگر جو آپ کو ملا اسے شہ مات کہتے ہیں
ہم نہیں رکھتے کسی سے وفا کی امید
ہم جہاں رہتے ہیں اسے اوقات کہتے ہیں
وہ جو وفا کہ بدلے جفا دیتا ہے
سادا لفظوں میں اسے بدزات کہتے ہیں
اسنے اپنا حال خود بگاڑا تھا. … جب کہیں سکون نا ملا تو اپنے ہی بندے سے کہہ رہا اسکے ساتھ پنچنگ باکس میں گیا تھا. .خود بس کھڑا رہا تھا. …ورن اسے مارنا تو نہیں چاہتا تھا. .مگر اسکی ضد پر ہی مارا تھا جب وہ بے حال ہوگیا تو خود ہی رکوا دیا. ….
تیری ہمت. .کیسے ہوئی اسکے بارے میں ایسا کہنے کی. .. تجھے میں مار دوں گا چھوڑ مجھے. …— آئش کی چیختی آواز اسکے کانوں کے پردے پھاڑنے کے در پر تھی. .. وہ مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتا چیخ رہا تھا. … کارلوس سب سٹاپ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا. ……
ی یہ. .چھوڑو اسے. .ہیر یکدم ہوش میں آتی بھاگی ہوئی اس تک پہنچی تھی. ..چیختے ہوئے کہتے وہ آئش تک جاتی جب کارلوس کی سخت گرفت میں قید ہوگئی تھی. ….
اگر اس کے قریب گئی. .میرا بندہ بنا پوچھے اسے اڑا دے گا. ..
وہ اسکے کان کے پاس جهکتا اپنے بندے کی طرف اشارہ کرتے سرد مہری سے گویا. …
پی پیچھے ہٹ. ..چھوڑ اسے. . آئش ہیر کو اسکی گرفت اور پهر اسکے کان کے پاس جهکتا دیکھ کر بےبسی سے چلا کر بولا تھا. .. ایک آنسو نے مول ہوا تھا. ..وہ تو ہیر کو کسی دوسرے کے ساتھ سوچ نہیں سکتا تھا کجا کہ اسکا اتنا قریب ہوا. …وہ پاگل ہورہا تھا. ..سانس پھول رہی تھی. .. اسے غصہ آرا تھا کہ وہ وہاں آئی ہی کیوں. ..
د دیکھو. ..اسکو. .چهڑوائو. . اسکا خون نکل رہا ہے. …پلیز. … وہ مسلسل آئش کو دیکھتی لب بهیچهے کرب سے بولی تھی. ….
کارلوس نے قہر آلود نظر آئش پر ڈالی. .. وہ اتنے دور سے دیکھ رہی تھی کہ اسکا خون نکل رہا اسے تکلیف ہورہی. .. اور قریب سے اسے کارلوس کی تکلیف نظر نہیں آررہی تھی. ….اسکے دماغ کی رگیں پھٹنے لگی تھی. ..دوسری طرف آئش کا بهی یہی حال تھا. ..ہیر کو کارلوس کی گرفت میں دیکھتے وہ پاگل ہورہا تھا. …
میں نے تم سے کہا تھا. …. تم میری ہو. …اسکی نہیں. ….ت تم کیوں نظر آئی مجھے اسکے ساتھ. …ت تمہیں سمجھ نہیں آتی. ….م میں پاگل ہوجاتا ہوں. .تمہیں اسکے ساتھ دیکھ کر. …ہیر کو بازو سے پکڑے جھنجھوڑتے ہوئے کہا . ..لہجے میں عجیب سا پاگل پن. ..عجیب سی دیوانگی تھی. …
نفرت. …بلکہ نفرت لفظ چھوٹا ہے. …مجھے لفظ نہیں مل رہا کیسے تم سے اپنی نفرت کا اظہار کروں. …بے تحاشا نفرت کرتی ہوں میں تم سے. ….بے تحاشا. …وہ نفرت آمیز لہجے میں کہتی اسکو گھائل کر گئی. . …سبز آنکھیں سیاہ آنکھوں میں ڈالی ہوئی تھی. ..کیا نا تھا سبز آنکھوں میں. .نفرت. .. اپنا بازو اسکی سخت گرفت سے نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی.
ب بھول جاؤ نا یار. ..بھول جاؤ. .ماضی کو. …میں تمہیں یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا. …ہ ہم نئی زندگی شروع کریں گے. …میں. .میں بہت محبت کرتا ہوں یار. ..بہت محبت کرتا ہوں. …پ پاگل ہو جاؤں …پاگل ہو جاؤں گا. …پ پاگل ہو جاؤں گا. م میں. .تمہارے لیے اسلام قبول کروں گا. ..ہ ہم نکاح کرلیں گے..ہیر کو اور قریب کرتے پیاسی نظریں اسکے چہرے پر ٹکائے بے بسی سے بولا تھا. …سیاہ آنکھوں میں نمی در آئی تھی. ..وہ مافیا کلنگ ہونے کے باوجود ایک نازک سی لڑکی کے لئے رو رہا تھا. .
پیچھے. …ہٹو. ..چھونے کی کوشش نا کرنا..ہیر نے نفرت سے بولتے اسکے خود سے دور کیا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو. …
آئش لب بهیچهے دونوں کو دیکھ رہا تھا. …بهوری آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی. …اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کارلوس کو دس فٹ کی دوری پر رکھے ہیر سے. ..وہ بار بار ہیر کو چھو کر آئش کو پاگل کررہا تھا. سونے پر سہاگہ اسکی باتیں … وہ اب تک اسکے دانت توڑ چکا ہوتا. .اگر ان گنڈوں نے اسے پکڑا نا ہوتا. ….چھڑوانے کے نتیجے میں کافی چوٹیں لگ گئی تھی. …
ہاہاہاہا. … ہیر نے چہرے زرا آسمان کی طرف کئے قہقہہ لگایا تھا. ….
کیا خوب باتیں کرتے ہو. ..بھول جاؤں میں. …ہاں بول جاؤں. .وہ اسکا گریاں پکڑے چلاتے ہوئے بولی. …اور ماضی. …کون سا ماضی. … کل جو تم نے میرے بھائی کو منوں مٹی تلے سلا دیا ہے. .وہ ماضی. ..یا پھر ..وہ ہفتے پہلے کا ماضی جب تم نے موم ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ کروایا. …یا ..یا پھر آج کا ماضی جو وائز کا ایکسیڈنٹ کروایا. ..ہاں کون سا ماضی بهولوں. . بولتے بولتے…چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. …..ہچکیاں بند ہو رہی تھی. …
آئش اور کارلوس دونوں اسے دیکھ رہے تھے. …..وہ مضبوط نظر آنے والی لڑکی کتنی کمزور تھی. .کتنی حساس تھی. …..
آئش کو چھوڑو. ..اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے. .. ان دونوں کو خود کو دیکھتے اسے پتا چلا تھا کہ وہ رو رہی تھی. .جبھی الٹے ہاتھ کی پیشت سے بدری سے آنسوؤ صاف کرتی. .آئش کو دیکھتی سٹاپ انداز میں بولی. …
جس کے ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا. ..بکهرے بال. … شرٹ کے بٹن کهلے. .کتنا بکهرا ہوا لگ رہا تھا. .. حالت تو کارلوس کی بھی یہی تھی. .فرق اتنا تھا کہ اسنے اتنی حالت خود بگاڑی تھی. ..فرق اتنا تھا کہ ہیر کو اسے دیکھ کر بالکل برا نہیں لگا تھا بلکہ سکون مل رہا تھا. …
کارلوس نے نفرت سے آئش کی طرف دیکھا. …..جسکو اسپر فوقیت دی تھی. ..اسکی محبت نے. .اسکے عشق نے. ….
ہاتھ کے انگوٹھے کو چہرے کے قریب لے کر جاتا ہونٹ پر ملا تھا. …پھر انگوٹھے کو دیکھا جس پر خون لگ گیا تھا. ..پھر آئش کی طرف دیکھا جس کے ہونٹ سے بھی خون نکل رہا تھا. ..اس سے ہوتی نظریں ہیر پر گئی. .. جو بے قرار نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی. ..مگر کارلوس پر دوسری نظر ڈالنا گوارا نہیں کیا تھا. ..
کرب سے لب بهیچهے تھے. …گلے میں گھلٹی ابهر کر مدہم ہوئی. .. آنسوؤں کو اسنے ظائع ہونے سے بچا لیا تھا. …
ت تم اسے محبت ک کرتی ہو. … اسی لیے میرے. .میرے بارے میں نہیں سوچتی نا. …..دل میں ابھرتی تکلیف کو نظر انداز کرتا. .. کندھے سے پکڑے اپنی طرف موڑتا ..نفرت سے آئش کی طرف دیکھتا . بولا تھا. ….
اسکی بات پر ہیر نے بے اختیار ہی آئش کی طرف دیکھا. …
وہ جو کارلوس کو نفرت و غصے سے دیکھ رہا تھا. …اسکی بات سنتے ہی ہیر کی طرف دیکھا. ..پل میں.نظریں دو چار ہوئی تھی. ….
آئش اور کارلوس دونوں ہی امید سے اسے دیکھ رہے تھے. ..دھڑکن تهم سی گئی تھی. …دونوں سی سانسیں روکے اسکے جواب کے منتظر تھے. ….ایک دعا کررہا تھا کہ وہ ہاں کردے. .دوسرا شدت سے چاہ رہا تھا کہ وہ نا کردے. .
ہاں کرتی ہوں. ..کرتی ہوں میں آئش سے محبت. …اسکی آنکھوں میں دیکھتی کهوئے ہوئے لہجے میں کہتی جہاں آئش کو سرشار کر گئی. .وہاں کارلوس نے بے ساختہ گہرا سانس لیا تھا. ..
دل درد سے پھٹے جا رہا تھا. …کاش. .کاش. .کاش وہ نا کردیتی. ….اسے آئش دنیا کا خوشنصیب شخص لگا تھا اس پل. … اسکی قسمت پر ناز ہوا تھا. …مگر صرف پل بھر کے لئے. …چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے. ..جہاں پہلے یقین پهر تکلیف تھی اب سرد مہری چها گئی تھی. ..وہ ہیر کے پاس سے گزرتا آئش تک آیا تھا. …آئش کو مسکرا کر ہیر کو دیکھ رہا تھا. ..کارلوس کے پاس آنے پر بھی نظریں نہیں بدلی تھی. ….
وہ میری ہے. ..نظریں نیچی کر. … آئش کے سامنے آکر کھڑے ہوتے اسکا چہرے ہیر کی طرف سے موڑتا نفرت سے پھنکارا تھا. …
نظریں نیچے کرنے کے بجائے وہ چیلنجنگ انداز میں اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا. …پا لینے کی خوشی چھپی نہیں تھی کارلوس سے. .اسکی خوشی اسکا سب سے برا دکھ تھا. ….
تمہیں مرنا ہوگا. …ہیر سے دستبرداری میرے لئے ناممکن ہے. …کارلوس نے آئش کو دیکھتے سٹاپ انداز میں کہا. ..اسکی بات سے آئش کو تو فرق نہیں پڑا تھا. .مگر ہیر کی سانسیں تهمی تھی. …
پیچھے ہٹوو. .چھوڑو اسے..ت تم اسے کچھ نہیں کہو گے. ..پل میں فاصلہ طے کرتی کارلوس کو آئش سے دور کیا تھا. …خود آئش کے سامنے کھڑی تھی. …جب کارلوس نے بازو سے پکڑتے آئش سے دور کرتے اپنے قریب کیا تھا. ….
چھوڑ تو دوں گا. .مگر اس پہاڑ سے نیچے. …مگر اس سے پہلے ایک سرپرائیز دیکھ لو تم دونوں. …ہیر کے چہرے پر پھونک مارتے بولا تھا. ..ساتھ ہی ایک آدمی کو اشارہ کیا تھا. .چہرے پر دلفریب مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی. ….ہیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا. .
آئش کے لب بهیچهے کارلوس کی گرفت میں ہیر کو دیکھا تھا. .غصے سے نتهے پھیل گئے تھے. …..
مگر سامنے پتھریلی زمین پر گرتی اس مومی گڑیا کو منہ کے بل گرتے دیکھتے وہ دونوں ساکت ہوگئے تھے. ..دھڑکنیں تهم سی گئی تھی. ……
وہ دونوں ساکت نظروں سے اس وجود کو دیکھ رہے تھے. …
سفید گھٹنوں تک آتا سلیو لیس فراک. .بلو شاٹس. .پہنے. ..سیاہ لمبے بال پورے وجود پر بکهرے ہوئے تھے. … دونوں ہاتھ کمر پر باندھے وہ منہ کے بل پتھریلی زمین پر گری ہوئی تھی. ….
الیانہہہہہ. … وہ دونوں ایک ساتھ چیخے تھے. ….
ہااہاہاہاہاہاہااہااہ. …. کارلوس کا مکرو قہقہہ پوری پہاڑی پر گونجا تھا. ..