54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

روز پیروں تلے روند دیتا ہوں. ..
پھر بھی سر پر سوار ہے یہ دنیا. ..
کیا ہوا علیزے.. آر یو آوکے. …. وکی نے اسے خود سے دور کرتے نرمی سے پوچھا تھا. ….
وائز اب بھی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا. ..
و وو لڑکے. … وہ روتی ہوئی اتنا ہی بولی تھی. ….
وکی نے سامنے کھڑے وائز کو دیکھا تھا. .جو لگ تو شریف سا ہی لگ رہا تھا. ..
کیا. ..اس لڑکے نے تنگ کیا ہے. … اسنے وائز کی طرف اشارہ کرتے کنفرم کرنا ضروری سمجھا تھا. ..
اسکی بات پر وائز نے جانجتی نظروں سے علیزے کو دیکھا تھا. .
ن. .نہیں. .. انہوں نے. ..کچھ نہیں کہا. ..ب بلکہ. .. گ گندے ل لڑکوں سے ب بچایا ہے. .. وکی کی بات پر ایک دم بولی تھی. .مگر ڈر سے اٹک اٹک کر ہی بول سکی تھی. …
ہیلوو. . آئے ایم وارث خان. .. کچھ قدم آگے بڑھ کر اسنے وائز کی طرف خوشدلی سے ہاتھ بڑھاتے بولا تھا. …
وائز مرزا. ..کچھ لمحیں اسے کے بڑھائے ہاتھ کو دیکھنے کے بعد … آخر مروّت ہی ہاتھ ملانے کہا. …
میٹ مائے سسٹر … علیزے ریان. راجپوت. … .. دو دن پہلے ہی پاکستان سے آئی ہے. … اور آج یونی آگئی. … آڈمیش کنفرم تو نہیں ہوا ابھی مگر پھر بھی آگئی. … بس تھوڑی ڈرپوک ہے. .. بائے دا وے تھینکس. … ڈری سہمی علیزے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..
جبکہ ..وائز. . سسٹر لفظ پر کچھ مطمئن تو ہوا تھا. ..مگر راجپوت اور خان سن کر کچھ الجھا بھی تھا. .
ہائے. … ہاتھ علیزے کی طرف بڑھاتا بولا تھا. ….
مگر علیزے خاموشی سے کھڑی اس کے بڑھائے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی. .. چہرے پر اب بھی مٹے مٹے آنسو کے نشان تھے. …
اسلام وعلیکم. … وکی کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہاں کا اشارہ کیا تھا. .جب ہی ڈرتی ہوئی کپکپاتا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملاتی بولی تھی. ..
وعلیکم السلام. .. بمشکل خود پر کنٹرول کرتا. .. مسکرا کر بولا تھا. .ساتھ ہی ایک نظر اپنے مضبوط ہاتھ میں اسکا نازک کانپتا ہاتھ دیکھا تھا. …
اوکے. .برو. ..اب ہم چلتے ہیں. … اسے میں نے کسی سے ملوانا بھی ہے. … وکی ان دونوں کے پاس آتا رکھائی سے بولا تھا. ..
تھوڑا سا دباتے وائز نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا. ..
اوکے. … وکی کی طرف دیکھتا بولا تھا. …
پھر وکی اس سے ملتا علیزے کا ہاتھ پکڑتا اسے لئے آگے بڑھا تھا. ….
علیزے راجپوت. … لیزاا. … اسکا نام زیر لب بڑبڑاتا اسے اپنے پاس سے ایک لقب دے گیا تھا. ….
وکی بھائی. ..کس سے ملوا رہے ہیں اب. .مجھے گھر جانا ہے. … علیزے نے تھوڑا دور جا کر پوچھا تھا. ..
علیزے میں یہاں جاب کرتا ہوں. .. اور تمہارے ساتھ ہو وقت نہیں ہوسکتا. … اس لئے یہاں. .تمہاری ہی کلاس میں میری ایک اچھی دوست ہے. … سونیہ. .. اب سے تم اسکے ساتھ ہی رہو گی. … وکی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا. ..
مگررر. .. چلیں. .جیسا آپکی سہی لگے. .. کچھ بولتے بولتے وہ چپ ہوگئی تھی. ..
○○○○○○○○
راجر ہاسپٹل لے گیا تھا اسے. …سر پر گہری چوٹ آئی تھی. .جس کی وجہ سے ابھی تک بہوش تھی. … 11 بج گئے تھے. .ادھر. …ہی خوار ہورہا تھا. …
اتنے ہی دیر میں راجر نے اسکی ڈیٹیلز نکلوا لی تھی. … نینا سلطان. … ماں باپ کچھ سال پہلے مر گئے تھے. ایک ایکسیڈنٹ میں. … اب وہ ادھر ہی جاپان میں اکیلی رہ رہی تھی. .. ایک ریسٹورنٹ میں ویٹر کی جاب کررہی تھی. .ساتھ ہی یونی بھی جاتی تھی. ..لاسٹ سمسٹر کی سٹوڈنٹ تھی. .. اور اب شاید یونی ہی جارہی تھی. ..اور وہ ایکسیڈنٹ ہوگیا. .. مگر راجر پریشان اسلئے تھا کہ وہ وہاں کر کیا رہی تھی. .. جہاں تک اسے انفارمیشن ملی تھی. .اسکے حساب سے تو وہ ایک بالکل اسے سے دوسرے راستے سے جاتی تھی. ..پھر صبح ادھر کیا کررہی تھی. .. اب یہ تو وہ ہی بتا سکتی تھی. …
وہ اسے چھوڑ کر جا بھی نہیں سک رہا تھا. .کیونکہ اسکا کوئی تھا نہیں جسے بتا کر جاسکتا. .. اور 1 بجے ایک بہت ضروری میٹنگ میں. .. اور 11 بج رہے تھے. ..
کچھ سوچ کر اسنے راج کو فان کیا تھا. … کچھ دیر میں ہی کال اٹھا لی گئی تھی. ..
ہاں ہیلو. .راج. … کدھر ہو اسوقت. . کال اٹھاتے ہی بولا تھا. ..
ادھر جو راج رات کے خواب میں دیکھی گئی رپینزل کا سکیچ بنا رہا تھا. .. راجر کی فون پر بدمزہ تو ہوا مگر کال اٹھانی بھی ضروری تھی. .. تب ہی اٹھا لی. ..
گھر ہی ہوں. .کیوں. .کوئی کام ہے. .. ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے دوسرے سے برش پیپر پر پھیرتا سرسری سا بولا تھا. .
ہاں. .. آج ایک بجے. ..تهامس بلٹ سے میٹنگ ہے. ..kintaikyo bridge کے پاس —ریسٹورنٹ میں. .. دن ایک بجے. . لنچ ان کے ساتھ ہی کرنا ہے. .. میں کام میں پهس گیا ہوں. .نہیں پہنچ سکتا. .. تو تم یاد سے دیکھ لینا. . باقی ضروری باتیں وکٹر سے پوچھ لینا اور ساتھ ہی جائے گا تمہارے. … اسکے پوچھتے ہی تفصیلی جواب دیا تھا. ..
اوکے. … بے زاری سے کہتا کال کاٹ چکا تھا. ….
○○○○○○○
وہ چاروں دبئی آئرپوٹ پر اتر گئے تھے. .. راستے پورے وہ دو دو منٹ کے وقفے سے لڑنے لگتے تھے. . ان دونوں کی تو تو میں میں، میں کناٹ پهسا ہوا تھا. .. جس کا سر اب درد سے پھٹ رہا تھا. ..
ایئرپورٹ آتے ہی بے ساختہ اسنے گارڈز کا شکر ادا کیا تھا. .. راکیل آگے تھی. . وہ پہلے ہی اتر گئی تھی. . اسلئے ابھی تک پریشانی جی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی. …
ہیرر. .. اسکو سوٹ کیس لئے کیب کی طرف جاتا دیکھ کر آئش آگے بڑھتے بولا تھا. ..
ہیر کو دل ہی دل میں شکر کررہی تھی کہ. .چلو اب دفعہ ہوجائے گا. ..مگر دوبارہ اسکی آواز سن کر. . دانت پیس کر رکی تھی. .مڑنے کا تکلف کرنا شاید گوارا نہیں سمجھا تھا. .
یار. .نکچڑی. . کدھر جارہی. ….
واٹٹٹٹٹ. .. یہ تم نے مجھے دوبارہ نکچڑی کہاااا. .. اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی. .. اسکی طرف مڑتی گرین خوبصورت آنکھوں سے گاگلز اتارتی قدرے اونچی آواز میں بولی تھی. …
اچھا چھوڑو. ..نک. ..مطلب ہیر. .. کدھر جارہی ہو. .. کدھر سٹے کرو گی. .. دوبارہ نکچڑی بولتے بولتے رکتا قدرے سنجیدگی سے گویا ہوا. .
ہیر نے پہلے اسکے سنجیدہ چہرہ کو دیکھا تھا. .. پہلی بار اسنے آئش کو سنجیدہ دیکھا تھا. ..
بھاڑ میں جارہی ہوں. .. چلو گے. .. جلدی ہی واپس اپنی ٹون میں آتی جلے ہوئے لہجے میں بولی تھی ساتھ ہی واپس مڑی تھی. ..
ہیررر. .یار میرے ساتھ چل لو. … جواب جاننے کے باوجود وہ بول گیا تھا. .. وہ بس کسی نا کسی طرح چاہ رہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ ہی چلی جائے. ..ایک تو وہ اسے اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا. .. دوسرا جانتا تھا کہ وہ کسی ہوٹل میں سٹے کررہی ہو گی. . اور وہ نجانے کیوں. .مگر ایسا نہیں چاہتا تھا. ….
واٹٹٹٹٹ. .. مجھے لگتا ہے. .تمہارے لگتا ہے ڈانس کرتے کرتے تمہارے دماغ کا کوئی سیکرئو ڈھیلا ہوگیا ہے. .. آئش درانی. .. وقت رہے علاج کروا لینا. .. اسکی بات سن کر دماغ ہی تو خراب ہوگیا تھا. .. کچھ دیر جو اسنے برداشت کیا تھا وہ وہ ہی جانتی تھی. .کجا کہ اسکے ساتھ تین مہینے گزار لیتی. ….
دیکھو. .ہیر. .. یہاں تین مہینے کیسے ہوٹل. ……
آئش کدھر رہ گئے ہووو. .. اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی راکیل اسے ڈھونڈتی وہاں آکر بولی تھی. ..
اوو مائے گاڈ. . ہیر تم ادهررر. .. جیسے ہی اسکی نظر ہیر پر پڑی تھی. .. تب ہی خوشی اور حیرت ملے جلے تاثرات کے ساتھ اسکی طرف بڑھی تھی. ..
راکیللل. ..تم. .. ادهررر. .. کیسی ہو. .. خوشی سے اسکے گلے ملتی بولی تھی. …
وہ دونوں. .. بہت اچھی دوستیں تھی. .. دو سال لگاتا ان دونوں نے ایک ہی ڈانس اکیڈمی سے ڈانس کورس کیا تھا. .. اسکے بعد نجانے راکیل کدھر چلی گئی تھی. . اور اب مل رہی تھی. ..
ہاں. ..میں ٹھیک. .تم ادھر. .. اوور آئے سی. .. تمہیں تو ادھر ہی چاہیے تھا. . راکیل اسے الگ ہوتی بولی. …
اس چهچهوڑے بندر کو کیسے جانتی ہو. . ہیر نے آئش کی طرف اشارہ کرتے پوچھا تھا. .کیونکہ وہ اسے بلاتی ہی وہاں آئی تھی. ..
راکیللل حیرت سے پیچھے مڑی تھی. .جہاں کناٹ اور آئش دونوں کھڑے انہیں ہی دیکھ رہے تھے. ..
ارے یہ …. اچھا ملو. . ان سے. .یہ. ..آئ…….
بس بس دونوں بندروں کو جانتی ہوں. .. بلکہ کبھی بھول بھی نہیں سکتی. .. انوکھی مخلوق. … راکیل کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بولی تھی. …
ہاہاہاہہہ. … چلو اب اچھا ہوا مل لی. .. خیر بتاؤ. .جا کدھر رہی ہو. . آئے مین کدھر سٹے ہے. .. اسے دیکھی بولی تھی. ..
ہوٹل میں. .. مختصر جواب ہی دیا تھا. ..
خیر پہلے جارہی تھی. .ہوٹل اب ہمارے ساتھ تم. .ہمارے فلیٹ چل رہی ہو. … حکمیہ انداز میں کہتی وہ آگے ہو کر اسکے ہاتھ سے سوٹ کیس لے چکی تھی. ..
اسکی بات پر وہ دونوں پاگل ہونے والے تھے. . آئش خوشی سے. .جبکہ کناٹ صدمے سے. …
سوری راکیل. .میں نہیں جاسکوں. . ہیں تو ادھر ہی نا. ..ملتے رہیں گے. .. ہیر نے ایک نظر آئش کی باچهوں کو دیکھتے قدرے سنجیدگی سے بولی. ..
کوئی اکسیوز نہیں چلیں گے. .تم چل رہی ہو تو چل رہی ہو. … میں بچاری اکیلی ہوں گی لڑکی. … تم ساتھ ہو گی تو کمپنی مل جائے گی. .. سوٹ کیس کناٹ کی طرف بڑھاتے. .. بولی تھی. …
ہیر ابھی تو خاموش ہوگئی تھی. .کیونکہ ایک تو تهکی ہوئی تھی. .. دوسرا اسنے سوچا فلیٹ جا کر آرام سے سمجھائے گی. …
تب ہی وہ دونوں کناٹ کی رکوای ہوئی کیب کی طرف بڑھ گئے تھے. ..
پیچھے آئش میں خوشی میں کناٹ کو بهلائے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ان کے پیچھے بڑها تھا. ..
ہاں. .ہاں. .کناٹ. .. تو تو نمک حلال کرنے بیٹها ہے نا. .جو پچھلے جنم میں کھایا تھا. .. اب چل لگ جا نمک حلالی کرنے کے لیے … ہیر کا سوٹ کیس کھینچتا ان کے پیچھے پیچھے چلتا. .. جلے ہوئے لہجے میں خود سے ہی بولا تھا. ….
○○○○○
وہ صبح 9 بجے پہنچ آئے تھے nayago. کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ ابھی 12 بجے kintaikyo bridge پر الیانہ کی فرمائش پر آئے تھے. ..
سب ہی آگے پیچھے ہوگئے تھے. ..کیونکہ موبائل فون سب کے پاس تھا تب ہی کسی کو کسی کی فکر نہیں تھی. ….
الیانہ بھی سب کو چھوڑ کر bridge پر آگئی تھی. ..
تب ہی سامنے کئی گاڑیاں ایک ساتھ آکر رکی تھی. … دوسری گاڑی سے بھاگ کر نکل کر گارڈ نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا. …
بلیک تهری پیس پہنے. .بالوں کوجیل سے سیٹ کئے. .. گرین سرد آنکھوں کو بلیک گاگلز کے پیچھے چھپائے. .وہ گاڑی سے نکلا تھا. .. پیچھے ہی کئی گارڈز مئودب سے ہاتھ باهندے کھڑے تھے. ….
باہر نکلتا سوٹ پینٹ کے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے. . شان سے چلتا آگے بڑھا تھا. ..kintaikyo bridge کے سامنے بنے اپن ریسٹورنٹ کی طرف بڑھا. ..جدھر میٹنگ رکھی گئی تھی. … اسکے گارڈز بھی پیچھے پیچھے چل رہے تھے. ….
مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹهٹکا تھا. . بے اختیار الٹے ہاتھ چہرے پر لے جا کر گاگلز اتارے تھے. ….. جیسے سانسیں تهم سی گئی تھی. . دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا. …. اسے لگا رات کا خواب سچ ہوگیا ہو. … بلکل ویسا ہی. .. بلکل وہی منظر. …. ایک پل کو اسے لگا. .تین چار سالوں کے خوابوں کی طرح وہ بھی ایک خواب ہی ہوگا. … مگر نہیں وہ سچ تھا. … اسکی رپینزل اسکے سامنے ہی تھی. ..جس کے لئے وہ سالوں سے پاگل ہورہا تھا. … جسے ایک اسے خواب میں دیکھنے کے لئے اسے سونا پسند تھا. … وہ یک ٹک سامنے bridge پر اپنی رپینزل لو دیکھ رہا تھا. .گارڈز حیرت سے اپنے باس کو دیکھ رہے تھے. .جیسے کسی کا خیال ہی نہیں تھا. .. وہ بس سامنے دیکھے جا رہا تھا. ..کہ جیسے اس نے زرا سی پلک جھپکائی تو وہ غائب ہوجائے گی. …گارڈز بھی اب سامنے دیکھ رہے تھے. …
وہ وائیٹ کلر کے سلیو لیس شارٹ فراک پہنے. .بلو شارٹس. .پینے. .. سفید بازو اور ٹانگیں نظر آرہی تھی. کالے لمبے بال بلکل کھلے تھے… ایک ہاتھ میں ہائی ہیل پکڑے وہ ہنستی چہرہ اوپر کئے گول گول گھوم رہی تھی. .. جس سے بال بھی گھوم رہے تھے. ..
سر. … جب وہ کافی دیر تک ہر چیز سے بے خبر رپینزل کو دیکھ رہا تھا. .. تب ہی وکٹر نے تنگ آکر کہا تھا. … جو راج کے خوابوں کے بارے میں سب جانتا تھا. .. اور اب بلکل اسکے خوابوں جیسی لڑکی کو سامنے دیکھ کر وہ بھی حیران ہوا تھا. … مگر اب میٹنگ کے لئے لیٹ ہو رہے تھے. .. اور ان سب کو یوں راستے کے بیچ کھڑے سامنے دیکھتے دیکھ کر کافی لوگ اب الیانہ کی طرف متوجہ تھے. .جو سب سے بے نیاز اپنے میں مگن تھی. ….
ہ ہاں. .. وکٹر کی آواز سن کر وہ ہوش میں آیا تھا. .البتہ نظر اب بھی سامنے تھی. . … ایک ڈر تھا کہ کہیں وہ چلی نا جائے. ….
سر. ..میٹنگ کے لیے. …… اسکی بات شروع کرنے سے پہلے ہی راج اب bridge کی طرف بڑھ گیا تھا جدھر ہو تهی. … وکٹر دوسرے گارڈز کو وہیں رکنے کا کہہ کر راج کے پیچھے بھاگا تھا. ….
اب وہ دونوں بھی bridge پر تھے. .. وہ پری پیکر بلکل اسکے سامنے تهی. .. اسکی ہنسی کی آواز وہ با آسانی سن سکتا تھا. .. وہی آواز جو وہ تین سال سے صرف خواب میں ہی سنتا تھا. … آج حقیقت میں سن رہا تھا. … دل کی دھڑکنیں اب بھی بے ترتیب تهی. … کچھ سوچتا وہ اسکی طرف بڑھا تھا. ….
وہ جو گول گول گھوم رہی تھی. .. اچانک چکر اجانے پر لڑکهڑائی تهی. … جب ہی راج نے اسے سہارا دیا تھا. .. وہ اب ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھے دوسرے سے ماتهے کو مسل رہی تھی. ….
مگر راج تو ساکن تھا. … الیانہ کو اپنے سامنے. ..اتنے قریب .. حقیقت میں دیکھ کر وہ یقین بھی سہی سے نہیں کر پا رہا تھا. …….
اووووو مسٹر آئے ایم سوری. … یک دم اسے جیسے احساس ہوا تھا اپنی پوزیشن تھا. .جب ہی ایک دم پیچھے ہونے کی کوشش کی. …مگر تب تک وہ راج کی انتہائی سخت گرفت میں قید ہوچکی تھی. … گرفت اتنی سخت تهی کہ اسے راج کی انگلیاں کمر میں. دھنستی محسوس ہورہی تھی………
چھوڑو مجھے. … تکلیف سے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھی. …
رپینزل. .. راج ایک ہاتھ میں اسکے بال لپیٹتا. . انہیں ناک کے پاس کرتے. .ان کی خوشبو خود میں اتارتے بولا تھا. …
الیانہ نے حیرت سے اس لمبے چوڑے مرد کو دیکھا تھا. .. جو بلا وجہ ہی اسکے قریب ہورہا تھا. …..
چهوڑووو مجهےےے. … اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دور ہوئی تھی. … مگر بال اب بھی اسکی گرفت میں تھے. ..
وہ اسکے بالوں کی خوشبو انہیل کررہا تھا. .جیسے کوئی نشہ ہو، ….ہر چیز سے بیگانہ. ..
سرررر. .. اسے زیادہ ہی بے خود ہوتا. .. لوگوں کا ہجوم بنتا دیکھ کر وکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے ہوش دلایا تھا. …
ہہمممم اسکے بالوں کو ناک کے دور کرتا بولا تھا. … پیاسی نگاہیں اب بھی الیانہ نے حیرت سے سجے خوبصورت چہرے پر ٹکی ہوئی تھی. .
سررر. .. لیٹ ہوررہے ہیں. … رش بھی بڑھ رہا تھا. .. لوگ اپکو دیکھ کر رک رہے ہیں. .. وکٹر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے عجلت میں کہا تھا. …
ہممم اسکے بال جھٹکے سے چھوڑتا بولا تھا. …
.. شہزادی پینزل. … ..بہت جلد. .. دوبار. … ایک خوبصورت ملاقات ہوگی. … انتظار ختم ہوا. …. میں بہت جلد ملوں گا. ..تب تک کچھ جی لو. … اسکے بعد. .. صرف میری ہوجاوں گی. ..میں تمہیں تمہارا بھی نہیں رہنے دوں گا. .. اپنی چیزیں مجھ سے شیئر نہیں ہوتی. .. تھوڑا سا جھکتا الیانہ کے کان کے پاس دهمیی آواز میں خرگوشی کی تھی. .. ساتھ ہی اسکے گالوں پر محبت کی پہلی شدت بهری مہر ثبت کرتا پیچھا ہوگیا تھا. ..
وہ بت بن گئی تھی. . اتنا جلدی ہوا تھا کہ اسے سمجھ بھی نہیں آئی کہ ہوا کیا تھا اسکے ساتھ. …
ای ایک چھوڑی بڑی. .بس ڈیٹیلز. . کچھ دیر میں چاہئے مجھے. .. وکٹر کو کہتا. ..ایک نظر اس حیرت سے بت بنی کھڑی پری پیکر پر ڈال کر گاگلز گرین پرسرار آنکھوں پر لگاتا آگے بڑھ گیا تھا. …
وکٹر نے اس خوبصورت نازک کی لڑکی کو دیکھا تھا. .. جو راج کی آدھی تھی. .. اور بدقسمتی سے راج کے ہاتھ لگ گئی تھی. … اب اس کے لیے دعا ہی کرسکتا تھا. .. ابھی تو یہ نازک خوبصورت پری اسکی اپنے لئے پریشانی ہی لگی تھی. .. اب اسکی ڈیٹیلز کے لیے خوار جو ہونا تھا. …
ساری سوچوں کو جهڑکتا راج کے پیچھے چل دیا تھا. ….
الیانہ اب بھی ایک ہاتھ گال پر رکھے بے یقینی سے کھڑی تھی. …
(اسکا انتظار ختم ہونے والا ہے. …) …. ( انتظار ختم ہوا) وہ انہی سوچوں میں گم بے اختیار اپنے ہاتھ سیدھے کر کے دیکھنے لگی تھی. … اب اسے سچ میں ڈر لگا تها. …..یہ سوچ کر ہی کہ امبروز کی باتیں. .یا اس گرین آئیز مونسٹر کی باتیں سچ نا ہوجائئیں. ….
○○○○○○○
ٹک ٹک. … اسنے عالیہ کے روم کا دروازہ ناک کیا تھا. ..مگر دوسری دفعہ بھی کوئی جواب نا پا کر وہ اندر چلا گیا تھا. ….
سامنے ہی ریڈ نائیٹی پہنے. . بالوں کو جوڑے میں مقیم کئے. . رولنگ چیئر پر بیٹھی بیٹهی سو گئی تھی. ہاتھوں میں ایک درمیانے سائز کی فریم پکڑی سینے سے لگائ ہوئی تھی. …..چہرے پر آنسوؤں کے نشان واضح تھے. ..
وائز نے احتیاط سے ان کے ہاتھ سے فریم نکالی تھی. .. توقع کے عین مطابق وہ انہی سے فوٹو دیکھ رہی تھی. …
فریم میں لگی فوٹو میں. .. 5 لوگ تھے. .. تین بچے. . جبکہ ایک مرد اور ایک عورت. .. گرین آنکھوں والے مرد نے گود میں ایک بالکل اپنی جیسی آنکھوں والی خوبصورت سی بچی اٹھائ ہوئی تھی. ..
باقی کے دو سیم گرین آنکھوں والے بچے کهڑے تھے. ….
فوٹو کو دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا تھا. ..
بیٹا وہ. . عالیہ اٹهی ہی تهی کہ سامنے وائز کے ہاتھ میں وہ فریم دیکھ کر کچھ بولنا چاہا تھا. …
کیا موم. .. آپ بھول جائیں ان سب کو. .. انہی کو سوچ سوچ کر آپ بیمار ہوجائیں گی. … فریم واپس ٹیبل پر رکھتے قدرے خفگی میں گویا ہوا. ..
کیسے بھول جاؤں. . وائز بیٹا مجھے ایک دفعہ ملنا ہے آدیان سے. ..کیا پتا وہ دونوں کس حال میں ہوں. ..کیسے ہوں. .. بیٹا فیض سے چھپ کر مجھے ایک دفعہ ملوا دو .. عالیہ بیگم نے امید کے تحت بولا تھا. ..ایک امید تهی کے شاید وائز ملوا دے ….
سوری موم. ….اتنی مشکل سے آپ ہیر ڈیڈ نارمل ہوئے. .. ایک دفعہ پھر میں آپ لوگوں کو پریشان نہیں دیکھ سکتا. … آدیان سے میں ملا تھا کچھ مہینے پہلے. .ٹھیک ہیں وہ دونوں. ..آپ ٹینش نہ لیں. .. اور چلیں. … ڈیڈ ویٹ کررہیں …ساتھ چائے پیتے ہیں. .. وائز نے انہیں اٹھاتے ہوئے کہا. …
وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دفعہ پھر وہ ٹوٹ جائیں. .. اسے یاد تها کے پہلے کتنی مشکل سے سنبھالا تھا. .. وہ تها توتب چھوٹا،..مگر چیزوں کو سمجھتا تھا. … اور اب دوبارہ انہوں اسے تکلیف سے گزرتے نہیں دیکھ سکتا تھا. ….
○○○○○○